🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-04-1444 ᴴ | 17-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-04-1444 ᴴ | 17-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
اگر کسی کے سیِّد ہونے کا ثبوت نہ ہو تو کیا اس کی بھی تعظیم کی جائے گی؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تعظیم کے لیے نہ یقین دَرْکارہے اور نہ ہی کسی خاص سند کی حاجت لہٰذا جو لوگ سادات کہلاتے ہیں ان کی تعظیم کرنی چاہیے،ان کے حَسَب و نَسَب کی تحقیق میں پڑنے کی حاجت نہیں اور نہ ہی ہمیں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتسے ساداتِ کرام سے سیِّدہونے کی سند طلب کرنے اور نہ ملنے پر بُرا بھلا کہنے والے شخص کے بارے میں اِستفسار ہوا تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً اِرشاد فرمایا:فقیر بارہافتویٰ دے چکا ہے کہ کسی کو سید سمجھنے اور اس کی تعظیم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذاتی علم سے اسے سید جاننا ضروری نہیں، جو لوگ سید کہلائے جاتے ہیں ہم ان کی تعظیم کریں گے، ہمیں تحقیقات کی حاجت نہیں، نہ سیادت کی سند مانگنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اورخواہی نخواہی سند دِکھانے پر مجبور کرنا اور نہ دکھائیں تو بُرا کہنا،مَطْعُون کرنا ہر گز جائز نہیں۔اَلنَّاسُ اُمَنَاءُ عَلٰی اَنْسَابِھِم(لوگ اپنے نسب پر امین ہیں )۔ ہاں جس کی نسبت ہمیں خوب تحقیق معلوم ہو کہ یہ سید نہیں اور وہ سید بنے اس کی ہم تعظیم نہ کرینگے،نہ اسے سید کہیں گے اور مناسب ہو گا کہ ناواقفوں کو اس کے فریب سے مُطَّلع کر دیا جائے۔ میرے خیال میں ایک حکایت ہے جس پرمیرا عمل ہے کہ ایک شخص کسی سیِّد سے اُلجھا، انہوں نے فرمایا:میں سید ہوں،کہا: کیا سند ہے تمہارے سید ہونے کی؟ رات کو زیارتِ اَقدس سے مشرف ہوا کہ معرکۂ حشر ہے،یہ شفاعت خواہ ہوا، اِعراض فرمایا۔اس نے عرض کی: میں بھی حضور کا اُمتی ہوں۔ فرمایا: کیا سند ہے تیرے اُمتی ہونے کی؟
(فتاویٰ رضویہ، ٢٩/٥٨٧-٥٨٨)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02Tq5LC6RFDTUBUCKTKhibZVmUkzwTULr3ubcBBEJ9N5qC1WQw3Jt4pDZFwkfGMPPtl&id=100002760334407&mibextid=Nif5oz
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تعظیم کے لیے نہ یقین دَرْکارہے اور نہ ہی کسی خاص سند کی حاجت لہٰذا جو لوگ سادات کہلاتے ہیں ان کی تعظیم کرنی چاہیے،ان کے حَسَب و نَسَب کی تحقیق میں پڑنے کی حاجت نہیں اور نہ ہی ہمیں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتسے ساداتِ کرام سے سیِّدہونے کی سند طلب کرنے اور نہ ملنے پر بُرا بھلا کہنے والے شخص کے بارے میں اِستفسار ہوا تو آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً اِرشاد فرمایا:فقیر بارہافتویٰ دے چکا ہے کہ کسی کو سید سمجھنے اور اس کی تعظیم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذاتی علم سے اسے سید جاننا ضروری نہیں، جو لوگ سید کہلائے جاتے ہیں ہم ان کی تعظیم کریں گے، ہمیں تحقیقات کی حاجت نہیں، نہ سیادت کی سند مانگنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اورخواہی نخواہی سند دِکھانے پر مجبور کرنا اور نہ دکھائیں تو بُرا کہنا،مَطْعُون کرنا ہر گز جائز نہیں۔اَلنَّاسُ اُمَنَاءُ عَلٰی اَنْسَابِھِم(لوگ اپنے نسب پر امین ہیں )۔ ہاں جس کی نسبت ہمیں خوب تحقیق معلوم ہو کہ یہ سید نہیں اور وہ سید بنے اس کی ہم تعظیم نہ کرینگے،نہ اسے سید کہیں گے اور مناسب ہو گا کہ ناواقفوں کو اس کے فریب سے مُطَّلع کر دیا جائے۔ میرے خیال میں ایک حکایت ہے جس پرمیرا عمل ہے کہ ایک شخص کسی سیِّد سے اُلجھا، انہوں نے فرمایا:میں سید ہوں،کہا: کیا سند ہے تمہارے سید ہونے کی؟ رات کو زیارتِ اَقدس سے مشرف ہوا کہ معرکۂ حشر ہے،یہ شفاعت خواہ ہوا، اِعراض فرمایا۔اس نے عرض کی: میں بھی حضور کا اُمتی ہوں۔ فرمایا: کیا سند ہے تیرے اُمتی ہونے کی؟
(فتاویٰ رضویہ، ٢٩/٥٨٧-٥٨٨)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02Tq5LC6RFDTUBUCKTKhibZVmUkzwTULr3ubcBBEJ9N5qC1WQw3Jt4pDZFwkfGMPPtl&id=100002760334407&mibextid=Nif5oz
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
21-04-1444 ᴴ | 17-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-04-1444 ᴴ | 18-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
22-04-1444 ᴴ | 18-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
22-04-1444 ᴴ | 18-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1