Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
ضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللّٰه علیہ اور حضرت شیخ نظام الدین بدایونی مقام محبوبی میں تھے یعنی دونوں حضرات روح احمد ﷺ کے مشرب پر تھے۔
مرتبہ محبوبیت کی خوشبو:
صاحب سیر الاولیاء لکھتے ہیں کہ جب ولئ کامل مراتب قطب قطبیّت و فردانیّت[1] طے کر کے مرتبۂ محبوبیت یعنی مرتبۂ معشوقی پر پہنچ جاتے ہیں تو انکی ذات پاک اسرار الٰہی کا مظہر بن جاتی ہے اور انکار ارادہ حق سبحانہٗ تعالیٰ کا ارادہ ہوجاتا ہے اور انکا جسم مبارک سراپا عطریات غیبی سےمعطر ہوجاتاہے اور جو شخص انکے قریب جاتا ہے وہ بھی اس خوشبو سے معتبر ہوجاتا ہے۔ بلکہ انکا پورا گھر عنبر و مشک بن جاتا ہے۔
اور جب وہ قبر میںجاتےہیں تو قبر بھی معطر ہوجاتی ہے۔ چنانچہ مرتبہ محبوبیت کی یہ علامت آج بھ ی حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کے مزار مبارک پر ظاہر ہے۔ طالب اس کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک دفعہ مولانا ظہیر الدین کو توال دہلی حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اسے عود کی خوشبو آنےلگی۔ اس نے خیالکیا کہ شاید حجرے کے اندر عود جل رہا ہے۔ جب خادم نے حجرہ کا دروازہ کھولا تو اندر کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر اُسے حیرت ہوئی تو حضرت اقدس نے اسکی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ مولانا یہ عود کی خوشب نہیں ہے یہ اور چیز کی خوشبو ہے؎
عطار رابگو کہ بہ بندو دکاں راکہ من زدوست بوئے کشیدہ ام کہ زمشک وعنبر نیست
(عطار سے کہو کہ اپنی دکان بند کرے کیونکہ مجھے اسکی خوشب کی ضرورت نہیں ہے میں نے دوست سے خوشبو حاصل کی ہے)
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک دفعہ حضرت سلطان المشائخ نے اپنی استعمال شدہ گلیم قاضی محی الدین کاشانی رحمۃ اللّٰه علیہ کو عنایت فرمائی۔ اس گلیم سے عطر کی خوشبو آتی تھی۔ انہوں نے اُسے سر اور آنکھوں پر رکھا اور گھر لے گئے اور جان کی طرح عزیز رکھا۔ اس سے سارا گھر معطر ہوگیا۔ قاضی صاحب نے خیال کیا کہ شاید یہ خوشبو عارضی ہے۔ جب مدت گزرگئی اور خوشبو میں ذرہ برابر فرق نہ آیا تو ایک دن آزمائش کے طور پر اسے دھوڈلا۔ لیکن خوشبو پھر بھی نہگ ئی اس سے وہ حٰرت زدہ ہوئے اور حضرت اقدس کی خدمت میں جاکر کیفیت بیان کی۔ آپن ے آبدیدہ ہوکر فرمایا کہ قاضی صاحب یہ محبت الٰہی کی خوشبو ہے جو محبان خدا کے اندر سرایت کیے ہوئے ہے۔
ایں بوئے نہ بوئے بوستاں
ایں بوئے زکوئے دوستانست
(یہ خوشبو بوستان (باغ) کی نہیں ہے دوستان (دوستوں) کی ہے)
حضرت محبوب الٰہی کے متعلق ایک درویش کا شاندار کشف
راقم الحروف کہتا ہے کہ میرے شیخ حضرت شیخ سوندہا قدس سرہٗ کے اصحاب میں سے ایک فقیر تھا جسے عالم ارواح سے کمال نسبت تھی (یعنی کشف قبور بہت ہوتا تھا) ایک دن وہ حضرت سلطان المشائخ کے مزار مقدس کے پاس بیٹھے شغل برزخ البرازخ کر رہے تھے کہ ناگاہ اُسے عالم غیب سے ایک لا محدود اور بے کنار دریا نظر آیا اس دریا میں بیشمار نوری فوارے موجیں مار رہے تھے اور پانی کے فوارے کی طرح ہر فوارے سےنور کےشعلے اوپر اٹھ رہے تھے اور جو شعلہ نکلتا تھا و ہ کبھی مرد صاحب جمال کی صورت کی صورت مشتمل ہوجاتا تھا (یعنی شکل اختیار کرلیتا تھا) اس دریا کے اندر ایک نورانی کشتی تھی جس میں ایک جواہرات سے مرصع تخت رکھا تھا اس تخت پر ایک نہایت ہی خوبصورت بے ریش نو جوان نورانی شکل میں بیٹھا تھا اس شخص کے سر پر آفتاب کی طرح چمکتا ہوا تاج تھا اور وہ تجلیات الٰہی جو مختلف صورتیں بنکر فواروں سے نکل رہی تھیں اس تخت نشین محبوب کے گرد جاکر جلوہ گر ہوتی تھیں اور اس فقیر کے حق میں سفارش کرتی تھ یں جو مراقبے میں یہ کشف دیکھ کر رہا تھا۔ حتیٰ کہ وہ فقیر تخت کے قریب پہ۰نچ گیا اور اسکی خوشبو سے مست ہوگیا۔ کچھ دیر کے بعد جب افاقہ ہوا تو اس تخت نشین محبوب سے دریافت کیا کہ حضور کا اسم گرامی کیاہے جواب ملا کہ میرا نام نظام الدین بد ایونی ہے اور میں حق تعالیٰ کا محبوب ہوں۔
اس کے بعد اس درویش کو ایک دستار عنایت کی گئی اور حکم ہوا کہ جاؤ تجھے بھی اس ولایت سے بہرہ ور کیا گیا ہے۔ جب وہ درویش مراقبے سے فارغ ہوا تو اسکے لباس اور جسم سے اس قدر اچھی خوشبو آرہی تھی کہ ساری دنیا کی خوشبوئیں اسکے سامنےذرہ برابر نہیں ہیں۔ بلکہ اس درویش کا پورا جسم خوشبو بن چکا تھا۔ اور یہ خوشبو ہمیشہ اسکے جسم میں درحیات و ممات رہی اور اہل دل حضرات اس کا مشاہدہ کرتے رہے۔
حضرت محبوب رحمۃ اللّٰه علیہ الٰہی کا سماع شیخ رکن الدین کے ساتھ:
کتاب بحر المعانی میں آیا ہے غیاث الدین تغلق بادشاہ کو حضرت سلطان المشائخ کے ساتھ سماع کی وجہ سے عناد ہوا اور ایزا رسانی کے در پے ہوا تو یہ بات ایک سیاح کے ذریعے حضرت شیخ رکن الدین ابو الفتح ملتانی قدس سرہٗ تک پہنچ گئی چونکہ آپ کو حضرت سلطان المشائخ کو اس کام سے منع کریں تاکہ آپ کو کوئی نقصان نہ ہو۔ جب مسافت طے کر کے دہلی پہنچے تو پہلا کام یہی کیا کہ حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کے پاس تشریف لے گئے اور ماجرا دریافت کیا اس اثنا میں صیامت ن
مرتبہ محبوبیت کی خوشبو:
صاحب سیر الاولیاء لکھتے ہیں کہ جب ولئ کامل مراتب قطب قطبیّت و فردانیّت[1] طے کر کے مرتبۂ محبوبیت یعنی مرتبۂ معشوقی پر پہنچ جاتے ہیں تو انکی ذات پاک اسرار الٰہی کا مظہر بن جاتی ہے اور انکار ارادہ حق سبحانہٗ تعالیٰ کا ارادہ ہوجاتا ہے اور انکا جسم مبارک سراپا عطریات غیبی سےمعطر ہوجاتاہے اور جو شخص انکے قریب جاتا ہے وہ بھی اس خوشبو سے معتبر ہوجاتا ہے۔ بلکہ انکا پورا گھر عنبر و مشک بن جاتا ہے۔
اور جب وہ قبر میںجاتےہیں تو قبر بھی معطر ہوجاتی ہے۔ چنانچہ مرتبہ محبوبیت کی یہ علامت آج بھ ی حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کے مزار مبارک پر ظاہر ہے۔ طالب اس کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک دفعہ مولانا ظہیر الدین کو توال دہلی حضرت سلطان المشائخ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اسے عود کی خوشبو آنےلگی۔ اس نے خیالکیا کہ شاید حجرے کے اندر عود جل رہا ہے۔ جب خادم نے حجرہ کا دروازہ کھولا تو اندر کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ دیکھ کر اُسے حیرت ہوئی تو حضرت اقدس نے اسکی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ مولانا یہ عود کی خوشب نہیں ہے یہ اور چیز کی خوشبو ہے؎
عطار رابگو کہ بہ بندو دکاں راکہ من زدوست بوئے کشیدہ ام کہ زمشک وعنبر نیست
(عطار سے کہو کہ اپنی دکان بند کرے کیونکہ مجھے اسکی خوشب کی ضرورت نہیں ہے میں نے دوست سے خوشبو حاصل کی ہے)
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک دفعہ حضرت سلطان المشائخ نے اپنی استعمال شدہ گلیم قاضی محی الدین کاشانی رحمۃ اللّٰه علیہ کو عنایت فرمائی۔ اس گلیم سے عطر کی خوشبو آتی تھی۔ انہوں نے اُسے سر اور آنکھوں پر رکھا اور گھر لے گئے اور جان کی طرح عزیز رکھا۔ اس سے سارا گھر معطر ہوگیا۔ قاضی صاحب نے خیال کیا کہ شاید یہ خوشبو عارضی ہے۔ جب مدت گزرگئی اور خوشبو میں ذرہ برابر فرق نہ آیا تو ایک دن آزمائش کے طور پر اسے دھوڈلا۔ لیکن خوشبو پھر بھی نہگ ئی اس سے وہ حٰرت زدہ ہوئے اور حضرت اقدس کی خدمت میں جاکر کیفیت بیان کی۔ آپن ے آبدیدہ ہوکر فرمایا کہ قاضی صاحب یہ محبت الٰہی کی خوشبو ہے جو محبان خدا کے اندر سرایت کیے ہوئے ہے۔
ایں بوئے نہ بوئے بوستاں
ایں بوئے زکوئے دوستانست
(یہ خوشبو بوستان (باغ) کی نہیں ہے دوستان (دوستوں) کی ہے)
حضرت محبوب الٰہی کے متعلق ایک درویش کا شاندار کشف
راقم الحروف کہتا ہے کہ میرے شیخ حضرت شیخ سوندہا قدس سرہٗ کے اصحاب میں سے ایک فقیر تھا جسے عالم ارواح سے کمال نسبت تھی (یعنی کشف قبور بہت ہوتا تھا) ایک دن وہ حضرت سلطان المشائخ کے مزار مقدس کے پاس بیٹھے شغل برزخ البرازخ کر رہے تھے کہ ناگاہ اُسے عالم غیب سے ایک لا محدود اور بے کنار دریا نظر آیا اس دریا میں بیشمار نوری فوارے موجیں مار رہے تھے اور پانی کے فوارے کی طرح ہر فوارے سےنور کےشعلے اوپر اٹھ رہے تھے اور جو شعلہ نکلتا تھا و ہ کبھی مرد صاحب جمال کی صورت کی صورت مشتمل ہوجاتا تھا (یعنی شکل اختیار کرلیتا تھا) اس دریا کے اندر ایک نورانی کشتی تھی جس میں ایک جواہرات سے مرصع تخت رکھا تھا اس تخت پر ایک نہایت ہی خوبصورت بے ریش نو جوان نورانی شکل میں بیٹھا تھا اس شخص کے سر پر آفتاب کی طرح چمکتا ہوا تاج تھا اور وہ تجلیات الٰہی جو مختلف صورتیں بنکر فواروں سے نکل رہی تھیں اس تخت نشین محبوب کے گرد جاکر جلوہ گر ہوتی تھیں اور اس فقیر کے حق میں سفارش کرتی تھ یں جو مراقبے میں یہ کشف دیکھ کر رہا تھا۔ حتیٰ کہ وہ فقیر تخت کے قریب پہ۰نچ گیا اور اسکی خوشبو سے مست ہوگیا۔ کچھ دیر کے بعد جب افاقہ ہوا تو اس تخت نشین محبوب سے دریافت کیا کہ حضور کا اسم گرامی کیاہے جواب ملا کہ میرا نام نظام الدین بد ایونی ہے اور میں حق تعالیٰ کا محبوب ہوں۔
اس کے بعد اس درویش کو ایک دستار عنایت کی گئی اور حکم ہوا کہ جاؤ تجھے بھی اس ولایت سے بہرہ ور کیا گیا ہے۔ جب وہ درویش مراقبے سے فارغ ہوا تو اسکے لباس اور جسم سے اس قدر اچھی خوشبو آرہی تھی کہ ساری دنیا کی خوشبوئیں اسکے سامنےذرہ برابر نہیں ہیں۔ بلکہ اس درویش کا پورا جسم خوشبو بن چکا تھا۔ اور یہ خوشبو ہمیشہ اسکے جسم میں درحیات و ممات رہی اور اہل دل حضرات اس کا مشاہدہ کرتے رہے۔
حضرت محبوب رحمۃ اللّٰه علیہ الٰہی کا سماع شیخ رکن الدین کے ساتھ:
کتاب بحر المعانی میں آیا ہے غیاث الدین تغلق بادشاہ کو حضرت سلطان المشائخ کے ساتھ سماع کی وجہ سے عناد ہوا اور ایزا رسانی کے در پے ہوا تو یہ بات ایک سیاح کے ذریعے حضرت شیخ رکن الدین ابو الفتح ملتانی قدس سرہٗ تک پہنچ گئی چونکہ آپ کو حضرت سلطان المشائخ کو اس کام سے منع کریں تاکہ آپ کو کوئی نقصان نہ ہو۔ جب مسافت طے کر کے دہلی پہنچے تو پہلا کام یہی کیا کہ حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کے پاس تشریف لے گئے اور ماجرا دریافت کیا اس اثنا میں صیامت ن
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
امی قوال آ نکلا اور قوالی شروع کردی۔ سماع میں حضرت سلطان المشائخ پر وجد طاری ہوا اور رقص کرنے لگے شیخ رکن الدین نے آپ کا آستین مبارک پکڑ کربٹھادیا۔ جب دوسری بار کھڑے ہو کر رقص کرنے لگے تو انہوں نے آپکا دامن پکڑ کر بٹھادیا۔ جب تیسری بار آپ نے رقص کیا تو حضرت شیخ رکن الدین قدس سرہٗ نے نوافل شروع کردیں۔ سماع کے بعد جب مولانا محمد شاہ امام نےشیخ رکن الدین رحمہ اللہ سے سوال کیا آستین پکڑنے، دامن پکڑنےاور نماز پڑھنےمیں کیا راز تھا۔ تو انہوں نےجواب دیا کہ اے مولانا پہلی بار جب شیخ نظام الدین وجد کی حالت میں کھڑے ہوئے تو آپکا قدم ساتویں آسمان پر تھا۔ چنانچہ میں نے آپکا آستین پکڑ کر بٹھادیا۔ دوسری بار جب آپ اٹھے تو آپکا پاؤں عرش معلیٰ کی چھت پر تھا میرا ہاتھ آپ کی آستین تک نہ پہنچا اس لیے میں نے انکا دامن پکڑ کر بٹھادیا۔ تیسری بار جب مجھے معلوم نہیں کہاں پہنچ گئے اس لیے ناامید ہوکر عالم ناسوت میں مشغول ہوگیا۔
وصال پر سماع کی وصیت:
اسرار السالکین میں لکھا ہے کہ حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کے وصال کے وقت حضرت شیخ رکن الدین ابو الفتح دہلی میں تھے۔ ایک دن آپکی عیادت کے لیے تشریف لےگئے آپ نے چاہا کہ نیچے بیٹھ جائیں لیکن حضرت سلطان المشائخ نے فرمایا کہ چار پائی پر تشریف رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ قطب کی چارپائی پر کون بیٹھ سکتا ہے چنانچہ آپ نے اصحاب سے فرمایا کہ کرسی لاؤ۔ کرسی لائی گئی اور حضرت شیخ رکن الدین قدس سرہٗ اس پر بیٹھ گئے۔ خیریت دریافت کرنے بعد انہوں نے کہا انبیاء اور اولیاء اللہ کو حیات و ممات میں اختیار ہوتا ہے اگر آپ چند روز مزید اس دنیا میں رُک جائیں تو خلق خدا کو بہت فائدہ ہوگا اور جن لوگوں کا سلوک اب تک نا تمام ہے وہ درجہ کمال تک پہنچ جائیں گے۔ آپ نے جواب دیا کہ دوست سے ملنے کا شوق اس قدر غالب ہے کہ ایک گھنتہ باقی ہے وہ بھی بہت مشکل سے گذر رہا ہے۔ نیز فرمایا کہ میں رسول اللہﷺ کی ہر رات عالم معاملہ میں زیارت کرتا ہوں اور آپ فرماتے ہیں کہ اے نظام تمہارے ملنے کا بے حد اشتیاق ہےجلدی آؤ اور ہمارے ہاں آرام کرو۔ یہ سنکر حضرت شیخ رکن الدین اور دیگر حاضرین پر گریہ طاری ہوگیا اور زار زار روئے اس کے بعد شیخ رکن الدین نے کہا کہ کوئی وصیّت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا کہ مشائخ چشت میں سے ایک بزرگ نےوصیت کی تھی کہ میری موت کے بعد میرےجنازہ پر سماع کرانا اور پھر دفن کردینا۔ جب انکا وصال ہوا تو ان کےاصحاب نے قوالوں کو بلاکر سماع شروع کرادیا۔ سماع سنتےہی وہ بزرگ اٹھ بیٹھے سات دن تک سماع سنتے رہے۔ سات دن کے بعد انہوں نے سماع سننا بند کیا اور مریدین نے انکو دفن کیا۔ سلطان المشائخ نےفرمایا کہ میں ان مشائخ کا متبع ہوں۔ میری موت کے بعد بھی قوالوں کو بُلاکر جنازے کے قریب سماع کرانا اور بعد میں مجھے دفن کردینا۔ جب حضرت اقدس کا وصال ہوا تو جنازے کی امامت حضرت شیخ رکن الدین قدس سرہٗ نے کی اور نماز کے بعد فرمایا کہ آج مجھے معلوم ہوا کہ مجھے چار سال تک دہلی میں اسی کام کے لیے رکھا گیا تھا کہ حضرت شیخ کی نماز جنازہ کی امامت کا شرف حاصل کروں اسکے بعد اصحاب نے درخواست کی کہ قوالوں کو بلایا جائے لیکن شیخ رکن الدین رحمہ اللہ نے منع فرماتے ہوئے کہا کہ اگر تم نے قوال بلائے اور قوالی شروع ہوئی تو بزرگ تو سات روز کے بعد باز آگئے لیکن حضرت سلطان المشائخ قوالی سنتے ہی رقص کرنے لگیں گے اور قیامت تک باز نہیں آئیں گے۔ جس سے جہاں میں فتنہ برپا ہوگا۔ غرضیکہ نماز جنازہ پڑھ کر جنازہ لیے جارہے تھےکہ راستے میں ایک عورت اپنےگھر بیٹھی گارہی تھی[2]۔ اسکی آواس سنتے ہی حضرت اقدس کا ہاتھ کفن سے باہر آگیا یہ دیکھ کر حضرت شیخ رکن الدین دورے اور عورت کو منع کیا اور جب دفن کرنے لگے تو ہاتھ اسی طرح نکلا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت شیخ نصیر الدین چراغ دہلی قدس سرہٗ نے عرض کیا کہ حضور آپ کی عظمت کی علامتیں اس سے کہیںزیادہ ظاہر ہیں۔ بہتر ہےکہ حضور ہاتھ ہٹالیں۔ یہ سنتے ہی آپ نے ہاتھ اندر کرلیا۔ اسکے بعد حضرت شیخ رکن الدین رحمہ اللہ نے آپکو قبر میں اُتارا۔ جب آپ قبر سے باہر آئے تو بے ہوش ہوگئے۔ بعد میں جب آپ سے دریافت کیا گیا کہ بے ہوشی کی وجہ کیا تھی تو آپ نے جواب دیا کہ جب میں نے سلطان المشائخ کو قبر میں اتارا تو آنحضرتﷺ کی روحانیت موجود تھی اور قبر میں جاتے ہی حضرت رسالت مآب نے ان کو اپنے آغوش میں لے لیا اور مجھےنورِ نبوت کے مشاہدی کی طاقت نہ رہی جس سے بیہوش ہوگیا۔
تاریخ ولادت، خلافت و وصال:
کتاب سیر الاولیاء میں لکھا ہے کہ حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کی ولادت طلوع آفتاب کے بعد ماہ صفر کے آخری چہار شنبہ بتاریخ ستائیس صفر ۶۳۶ھ ہوئی، پندرہ ماہ رجب بروز چہار شنبہ ۶۵۵ھ کو حضرت شیخ فرید الدین گنجشکر قدس سرہٗ سے اجودھن میں شرف بیعت حاصل کیا۔ بروز چہار شنبہ دو ماہِ ربیع الاوّل ۶۵۶ھ حضرت شیخ نے آپکو مشائخ چشت کا خرقۂ خلافت عطا فرمایا اورجب آپکی عمر چرانوے سال آٹھ ماہ کو پہنچی تو بی
وصال پر سماع کی وصیت:
اسرار السالکین میں لکھا ہے کہ حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کے وصال کے وقت حضرت شیخ رکن الدین ابو الفتح دہلی میں تھے۔ ایک دن آپکی عیادت کے لیے تشریف لےگئے آپ نے چاہا کہ نیچے بیٹھ جائیں لیکن حضرت سلطان المشائخ نے فرمایا کہ چار پائی پر تشریف رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ قطب کی چارپائی پر کون بیٹھ سکتا ہے چنانچہ آپ نے اصحاب سے فرمایا کہ کرسی لاؤ۔ کرسی لائی گئی اور حضرت شیخ رکن الدین قدس سرہٗ اس پر بیٹھ گئے۔ خیریت دریافت کرنے بعد انہوں نے کہا انبیاء اور اولیاء اللہ کو حیات و ممات میں اختیار ہوتا ہے اگر آپ چند روز مزید اس دنیا میں رُک جائیں تو خلق خدا کو بہت فائدہ ہوگا اور جن لوگوں کا سلوک اب تک نا تمام ہے وہ درجہ کمال تک پہنچ جائیں گے۔ آپ نے جواب دیا کہ دوست سے ملنے کا شوق اس قدر غالب ہے کہ ایک گھنتہ باقی ہے وہ بھی بہت مشکل سے گذر رہا ہے۔ نیز فرمایا کہ میں رسول اللہﷺ کی ہر رات عالم معاملہ میں زیارت کرتا ہوں اور آپ فرماتے ہیں کہ اے نظام تمہارے ملنے کا بے حد اشتیاق ہےجلدی آؤ اور ہمارے ہاں آرام کرو۔ یہ سنکر حضرت شیخ رکن الدین اور دیگر حاضرین پر گریہ طاری ہوگیا اور زار زار روئے اس کے بعد شیخ رکن الدین نے کہا کہ کوئی وصیّت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا کہ مشائخ چشت میں سے ایک بزرگ نےوصیت کی تھی کہ میری موت کے بعد میرےجنازہ پر سماع کرانا اور پھر دفن کردینا۔ جب انکا وصال ہوا تو ان کےاصحاب نے قوالوں کو بلاکر سماع شروع کرادیا۔ سماع سنتےہی وہ بزرگ اٹھ بیٹھے سات دن تک سماع سنتے رہے۔ سات دن کے بعد انہوں نے سماع سننا بند کیا اور مریدین نے انکو دفن کیا۔ سلطان المشائخ نےفرمایا کہ میں ان مشائخ کا متبع ہوں۔ میری موت کے بعد بھی قوالوں کو بُلاکر جنازے کے قریب سماع کرانا اور بعد میں مجھے دفن کردینا۔ جب حضرت اقدس کا وصال ہوا تو جنازے کی امامت حضرت شیخ رکن الدین قدس سرہٗ نے کی اور نماز کے بعد فرمایا کہ آج مجھے معلوم ہوا کہ مجھے چار سال تک دہلی میں اسی کام کے لیے رکھا گیا تھا کہ حضرت شیخ کی نماز جنازہ کی امامت کا شرف حاصل کروں اسکے بعد اصحاب نے درخواست کی کہ قوالوں کو بلایا جائے لیکن شیخ رکن الدین رحمہ اللہ نے منع فرماتے ہوئے کہا کہ اگر تم نے قوال بلائے اور قوالی شروع ہوئی تو بزرگ تو سات روز کے بعد باز آگئے لیکن حضرت سلطان المشائخ قوالی سنتے ہی رقص کرنے لگیں گے اور قیامت تک باز نہیں آئیں گے۔ جس سے جہاں میں فتنہ برپا ہوگا۔ غرضیکہ نماز جنازہ پڑھ کر جنازہ لیے جارہے تھےکہ راستے میں ایک عورت اپنےگھر بیٹھی گارہی تھی[2]۔ اسکی آواس سنتے ہی حضرت اقدس کا ہاتھ کفن سے باہر آگیا یہ دیکھ کر حضرت شیخ رکن الدین دورے اور عورت کو منع کیا اور جب دفن کرنے لگے تو ہاتھ اسی طرح نکلا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت شیخ نصیر الدین چراغ دہلی قدس سرہٗ نے عرض کیا کہ حضور آپ کی عظمت کی علامتیں اس سے کہیںزیادہ ظاہر ہیں۔ بہتر ہےکہ حضور ہاتھ ہٹالیں۔ یہ سنتے ہی آپ نے ہاتھ اندر کرلیا۔ اسکے بعد حضرت شیخ رکن الدین رحمہ اللہ نے آپکو قبر میں اُتارا۔ جب آپ قبر سے باہر آئے تو بے ہوش ہوگئے۔ بعد میں جب آپ سے دریافت کیا گیا کہ بے ہوشی کی وجہ کیا تھی تو آپ نے جواب دیا کہ جب میں نے سلطان المشائخ کو قبر میں اتارا تو آنحضرتﷺ کی روحانیت موجود تھی اور قبر میں جاتے ہی حضرت رسالت مآب نے ان کو اپنے آغوش میں لے لیا اور مجھےنورِ نبوت کے مشاہدی کی طاقت نہ رہی جس سے بیہوش ہوگیا۔
تاریخ ولادت، خلافت و وصال:
کتاب سیر الاولیاء میں لکھا ہے کہ حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کی ولادت طلوع آفتاب کے بعد ماہ صفر کے آخری چہار شنبہ بتاریخ ستائیس صفر ۶۳۶ھ ہوئی، پندرہ ماہ رجب بروز چہار شنبہ ۶۵۵ھ کو حضرت شیخ فرید الدین گنجشکر قدس سرہٗ سے اجودھن میں شرف بیعت حاصل کیا۔ بروز چہار شنبہ دو ماہِ ربیع الاوّل ۶۵۶ھ حضرت شیخ نے آپکو مشائخ چشت کا خرقۂ خلافت عطا فرمایا اورجب آپکی عمر چرانوے سال آٹھ ماہ کو پہنچی تو بی
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
مار ہوئے اور چالیس روز مرض میں مبتلا رہ کر بروز چہار شنبہ بعد طلوع آفتاب بتاریخ اٹھارہ ماہ ربیع الآخر ۷۲۵ھ جان عزیزی مشاہدۂ حق میں تسلیم کردی اور موضع غیاث پورہ میں جو دہلی کے نواح میں ہے ظہر کی نماز کے بعد دفن ہوئے۔ تاریخ وصال یہ ہے؎
نظام دوگیتی شہ ماوطین
سراج دو عالم شدہ بالیقین
چو تاریخ فوتش بہ جستم زغیب
ندا داد ہاتف شہنشاہ ۷۲۵ دین
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب حضرت سلطان المشائخ کو دفن کیا گیا تو آپ کی وصیت کے مطابق خرقۂ خلافت جو آپکو حضرت شیخ فرید الدین گنجشکر رحمہ اللہ سے ملا تھا بھی آپ کے جسم مبارک پر رکھا گیا اور خواجہ گنجشکر رحمہ اللہ سے جو مصلّی آپ کو ملا تھا اُسے مشائخ کے دستور کے مطابق حضرت اقدس کے سر کے نیچے رکھا گیا۔ اکثر مشائخ عظام کا یہی دستور رہا ہے کہ خرۂ خلافت یا تو اپنے فرزند صالح کو عطاکرتےہیں یا اپنے ساتھ قبر میں لےجاتے ہیں۔
صاحب مراۃ الاسرار لکھتےہیں کہ حضرت سلطان المشائخ ان مشائخ میں سے ہیں جو قبر میں بیٹھ کر تصرف کر رہےہیں۔ چنانچہ آپ کا روضۃ المتبرکہ خلائق کے لیے قبلۂ حاجات ہے۔ یہ ذرّہ بے مقدار ۱۰۵۲ھ میں جب اس شاہِ کونین کے آستانہ پر حاضر ہوا تو آنحضرت کی روحانیت کےفیض سے اس قدر نعمتیں اور نوازشیں عطا ہوئیں کہ تحریر سے باہر ہیں۔ سبحان اللہ! آج تک آپکی ولایت کے تصرفات ظاہر ہیں اور قیام قیامت تک جاری رہیں گے اگر چہ شہر دہلی میں کوئی ہزار اولیاء کبار آرام فرماہیں لیکن جب اس فقیر نے عالم معنوی م یںن گاہ کی تو سوائے ولایت کے دو خیموں کےنظر کہیں نہ پڑی یعنی ایک حضرت خواجہ قطب الدین بختیار قدس سرہٗ کا مزار مقدس اور دوسرا حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کا۔
[1] ۔ فرد اُسے کہتے ہیں جو زات حق میں لی طور پر فنا ہوکر ذات حق کے ساتھ ایک ہوجاتا ہے یہ مقام عام طور پر مشائخ اس وقت اختیار کرتے ہیں۔ جب خلفاء تیار کر کے ان کو ہدایت حق کے منصب پر لگاکر خود فارغ ہوجاتے ہیں اور مکمل طور پر ذات حق کے ساتھ ایک ہوجاتےہیں اور خود نہیں رہتے یعنی فنا کے بعد بقا میں آتے ہی مناصب ہدایت ادا کرتے ہیں اور پھر فارغ ہوکر ذات میں گم ہوجاتے ہیں۔
[2] ۔ ایک روایت ہے کہ جب اس عورت نے حضرت محبوب الٰہی کا جنازہ دیکھا تو یہ شعر گانے لگی
اے تماشا گاہ عالم روئے تو
تو کجا بہر تماشامے روی
(سارے جہان کیلئے تو تیرا رخ انور زیارت گاہ ہے تو کس کی زیارت کو جارہا ہے)
(اقتباس الانوار)
شیخ نظام الدین اولیاء بداؤنی دہلوی: آپ کا نامی محی محمد بن احمد بن علی بخاری اور لقب سلطان المشائخ و سلطان الاولیاء سلطان السلاطین اور خطاب محبوب الٰہی اور نظام الملتہ والدین تھا آپ جیسے اسرار طریقت و حقیقت میں اولیاء کامل و مکمل تھے ویسے ہی علوم فقہ و حدیث و تفسیر و صرف و نحو،منطق،معانی،ادب میں فاضل اجل عالم اکمل تھے۔آپ کے دادا شیخ علی اور ناناخواجہ عرب بخارا سے پنجاب میں آکر لاہور میں سکونت پذیر ہوئےپھر بدایوں میں مع آپ کے والد ماجد شیخ احمد کے جاکر قیام کیا جہاں آپ ۶۳۴ھ میں جب پانچ سال کا سن شریف ہوا تو آپ کے والد فوت ہوئے۔آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو مکتب میں بٹھایا اور آپ نے کلام مجید کو ختم کر کے کتابیں پڑھنی شروع کیں۔
ابھی سن شریف بارہ سال کو نہ پہنچا تھا کہ آپ لغت کی کتاب پڑھتے تھے اور قدوری کو مولانا علاء الدین اصولی بدا ؤنی سے ختم کیا،پھر بہ اردۂ تعلیم دہلی میں آئے اور شمس الملک سے مقامات حریری کو پڑھا اور حدیث کو یاد کیا اور مولانا تھے۔پھر آپ بیس سال کی عمر میں اجود ھن میں جاکر شیخ فرید الدین علیہ الرحمہ کی خدمت میں مشرف ہوئے اور ان سے قرآن شریف تجوید کیا اور چھ باب عوارف کے سند کیے اور تمہید ابو شکور سلمی وغیرہ کتابیں پڑھیں بعد ازاں چند سال کی محنت و ریاضت و عبادت میں تکمیل کو پہنچ کر خرقۂ خلافت حاصل کیا اور دہلی میں تشریف لاکر غیاث پور میں جہاں آپ کا مزار ہے اور اب بستی نظام الدین اولیاء کے نام سے مشہور ہے،سکونت پذیر ہوئے اور ہدایت خلق اور افادہ وافاضہ میں وہ فروغ حاصل کیا کہ کسی کو اس وقت کے اولیاء میں سے نصیب نہیں ہوا۔
فیض باطنی کا یہ حال تھا کہ جو شخص صدق اعتقاد سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا نظر کیمیا اثر کی تاثیر سے ولی کامل ہوجاتا۔ آپ کی کرامات و خوارق و عادات سے کتب بھری پڑی ہیں۔ اکیانوے سال کی عمر میں چار شنبہ کے روز ۱۸ ربیع الآخر ۷۲۵ھ میں وفات پائی۔ ’’ کعبہ تحقیقی‘‘ تاریخ وفات ہے۔
*(حدائق الحنفیہ)*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب📝 شمـــس تبـــریز نـــوری امجـــدی بانی گروپ فیضـــانِ دارالعـــلوم امجـــدیہ ناگپور 966551830750+📲*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نظام دوگیتی شہ ماوطین
سراج دو عالم شدہ بالیقین
چو تاریخ فوتش بہ جستم زغیب
ندا داد ہاتف شہنشاہ ۷۲۵ دین
اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب حضرت سلطان المشائخ کو دفن کیا گیا تو آپ کی وصیت کے مطابق خرقۂ خلافت جو آپکو حضرت شیخ فرید الدین گنجشکر رحمہ اللہ سے ملا تھا بھی آپ کے جسم مبارک پر رکھا گیا اور خواجہ گنجشکر رحمہ اللہ سے جو مصلّی آپ کو ملا تھا اُسے مشائخ کے دستور کے مطابق حضرت اقدس کے سر کے نیچے رکھا گیا۔ اکثر مشائخ عظام کا یہی دستور رہا ہے کہ خرۂ خلافت یا تو اپنے فرزند صالح کو عطاکرتےہیں یا اپنے ساتھ قبر میں لےجاتے ہیں۔
صاحب مراۃ الاسرار لکھتےہیں کہ حضرت سلطان المشائخ ان مشائخ میں سے ہیں جو قبر میں بیٹھ کر تصرف کر رہےہیں۔ چنانچہ آپ کا روضۃ المتبرکہ خلائق کے لیے قبلۂ حاجات ہے۔ یہ ذرّہ بے مقدار ۱۰۵۲ھ میں جب اس شاہِ کونین کے آستانہ پر حاضر ہوا تو آنحضرت کی روحانیت کےفیض سے اس قدر نعمتیں اور نوازشیں عطا ہوئیں کہ تحریر سے باہر ہیں۔ سبحان اللہ! آج تک آپکی ولایت کے تصرفات ظاہر ہیں اور قیام قیامت تک جاری رہیں گے اگر چہ شہر دہلی میں کوئی ہزار اولیاء کبار آرام فرماہیں لیکن جب اس فقیر نے عالم معنوی م یںن گاہ کی تو سوائے ولایت کے دو خیموں کےنظر کہیں نہ پڑی یعنی ایک حضرت خواجہ قطب الدین بختیار قدس سرہٗ کا مزار مقدس اور دوسرا حضرت سلطان المشائخ قدس سرہٗ کا۔
[1] ۔ فرد اُسے کہتے ہیں جو زات حق میں لی طور پر فنا ہوکر ذات حق کے ساتھ ایک ہوجاتا ہے یہ مقام عام طور پر مشائخ اس وقت اختیار کرتے ہیں۔ جب خلفاء تیار کر کے ان کو ہدایت حق کے منصب پر لگاکر خود فارغ ہوجاتے ہیں اور مکمل طور پر ذات حق کے ساتھ ایک ہوجاتےہیں اور خود نہیں رہتے یعنی فنا کے بعد بقا میں آتے ہی مناصب ہدایت ادا کرتے ہیں اور پھر فارغ ہوکر ذات میں گم ہوجاتے ہیں۔
[2] ۔ ایک روایت ہے کہ جب اس عورت نے حضرت محبوب الٰہی کا جنازہ دیکھا تو یہ شعر گانے لگی
اے تماشا گاہ عالم روئے تو
تو کجا بہر تماشامے روی
(سارے جہان کیلئے تو تیرا رخ انور زیارت گاہ ہے تو کس کی زیارت کو جارہا ہے)
(اقتباس الانوار)
شیخ نظام الدین اولیاء بداؤنی دہلوی: آپ کا نامی محی محمد بن احمد بن علی بخاری اور لقب سلطان المشائخ و سلطان الاولیاء سلطان السلاطین اور خطاب محبوب الٰہی اور نظام الملتہ والدین تھا آپ جیسے اسرار طریقت و حقیقت میں اولیاء کامل و مکمل تھے ویسے ہی علوم فقہ و حدیث و تفسیر و صرف و نحو،منطق،معانی،ادب میں فاضل اجل عالم اکمل تھے۔آپ کے دادا شیخ علی اور ناناخواجہ عرب بخارا سے پنجاب میں آکر لاہور میں سکونت پذیر ہوئےپھر بدایوں میں مع آپ کے والد ماجد شیخ احمد کے جاکر قیام کیا جہاں آپ ۶۳۴ھ میں جب پانچ سال کا سن شریف ہوا تو آپ کے والد فوت ہوئے۔آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو مکتب میں بٹھایا اور آپ نے کلام مجید کو ختم کر کے کتابیں پڑھنی شروع کیں۔
ابھی سن شریف بارہ سال کو نہ پہنچا تھا کہ آپ لغت کی کتاب پڑھتے تھے اور قدوری کو مولانا علاء الدین اصولی بدا ؤنی سے ختم کیا،پھر بہ اردۂ تعلیم دہلی میں آئے اور شمس الملک سے مقامات حریری کو پڑھا اور حدیث کو یاد کیا اور مولانا تھے۔پھر آپ بیس سال کی عمر میں اجود ھن میں جاکر شیخ فرید الدین علیہ الرحمہ کی خدمت میں مشرف ہوئے اور ان سے قرآن شریف تجوید کیا اور چھ باب عوارف کے سند کیے اور تمہید ابو شکور سلمی وغیرہ کتابیں پڑھیں بعد ازاں چند سال کی محنت و ریاضت و عبادت میں تکمیل کو پہنچ کر خرقۂ خلافت حاصل کیا اور دہلی میں تشریف لاکر غیاث پور میں جہاں آپ کا مزار ہے اور اب بستی نظام الدین اولیاء کے نام سے مشہور ہے،سکونت پذیر ہوئے اور ہدایت خلق اور افادہ وافاضہ میں وہ فروغ حاصل کیا کہ کسی کو اس وقت کے اولیاء میں سے نصیب نہیں ہوا۔
فیض باطنی کا یہ حال تھا کہ جو شخص صدق اعتقاد سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا نظر کیمیا اثر کی تاثیر سے ولی کامل ہوجاتا۔ آپ کی کرامات و خوارق و عادات سے کتب بھری پڑی ہیں۔ اکیانوے سال کی عمر میں چار شنبہ کے روز ۱۸ ربیع الآخر ۷۲۵ھ میں وفات پائی۔ ’’ کعبہ تحقیقی‘‘ تاریخ وفات ہے۔
*(حدائق الحنفیہ)*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب📝 شمـــس تبـــریز نـــوری امجـــدی بانی گروپ فیضـــانِ دارالعـــلوم امجـــدیہ ناگپور 966551830750+📲*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
❤1
محبوب الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء
حیات وتعلیمات
سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہٗ جنھیں پیارسے ’’سلطان جی‘‘ اور عظمت شان کی وجہ سے ’’محبوب الٰہی‘‘بھی کہاجاتاہے،آپ ہندوستان میں چشتیہ سلسلہ طریقت کے چوتھے عظیم بزرگ ہیں۔سوانح نگاروں کے مطابق خواجہ فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ معروف بہ’’ بابافرید‘‘ نے سلسلہ چشتیہ کو منظم کیا اور محبوب الٰہی قدس سرہٗ نے اس سلسلے کو ترقی اور بلندی عطاکی
نام ونسب:
محبوب الٰہی کا اصل نام ’’محمد ‘‘اورلقب ’’نظام الدین‘‘ ہے، جب کہ والد مکرم کا نام’’ احمد‘‘اور والدہ ماجدہ کا نام ’’بی بی زلیخا‘‘ہے۔ آپ نجیب الطرفین سیدہیںاورآپ کا سلسلہ نسب سید حسن بن میر علی بن میراحمد کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔
آپ کے آباواجداد، بخاراکے رہنے والے تھے جو چنگیزی حملے کے وقت لاہورآئے،اسی لاہور شہر میں آپ کے والدین پیدا ہوئے۔کچھ دنوںبعد آپ کے داداخواجہ علی بخاری اور ناناخواجہ عرب دونوںشہر بدایوں پہنچے اوروہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
ولادت باسعادت:
محبوب الٰہی کی ولادت ہندوستان کے اِسی مشہور شہر بدایوں میں24؍صفرسنہ 636ہجری مطابق 4؍اکتوبر1238 عیسوی میں ہوئی۔آپ جب پیدا ہوئے اس وقت شہر بدایوں علم وفضل کامرکز بھی تھااورمذہبی وروحانی اعتبارسے مشہورِ عالم بھی۔ وہاں کے علما وفضلا عالمی سطح پر قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھیاور یہ شہربدایوں’’ قبۃ الاسلام‘‘کے نام جانا جاتاتھا۔
تعلیم وتربیت:
محبوب الٰہی نے ابھی زندگی کی چھ بہاریں ہی دیکھی تھیں کہ شفقت پدری سے محروم ہوگئے۔ اس کے بعد آپ کی تعلیم وتربیت کی تمام تر ذمہ داری والدہ ماجدہ بی بی زلیخانے بحسن وخوبی انجام دی۔والدہ ماجدہ دین دار ہونے کے ساتھ انتہائی باہمت اور باحوصلہ خاتون تھیں،جس کا ثبوت یہ ہے کہ غربت و افلاس اور اقتصادی ومالی دقتوں کے باوجوداُنھوں نے آپ کی تعلیم وتربیت کاانتظام کیااورحصول تعلیم میں آپ کا ہر ممکن تعاون دیا۔
محبوب الٰہی کی ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہوئی۔مثلاًوہاں آپ نے ناظرہ قرآن کریم اور صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں اور مولانا علاء الدین اصولی سے قدوری کادرس لیا۔پھر والدہ ماجدہ کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے دہلی کارخ کیا جو بدایوں کے بعد علم وفضل کامرکز بناہوا تھا۔ یہاں آپ نے خواجہ شمس الدین خوارزمی سے علمی استفادہ کیا اور اُن سے مقامات حریری پڑھی، جب کہ استاذِعصر حضرت مولانا کمال الدین سے علم حدیث میں استفادہ کیا اور اُن سے مشارق الانوار پڑھی۔ اس کے علاوہ کچھ کتابوں کادرس شیخ الاسلام فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ سے بھی لیا۔
محبوب الٰہی خود بیان فرماتے ہیں کہ میں نے چھ پارے کلام اللہ کی تفسیر،تین کتابیں جن میں سے ایک میں پہلے بھی پڑھ چکاتھااوردو کتابیں شیخ الاسلام کے حلقہ درس میں سنیں۔نیزچھ باب ’’عوارف‘‘ کے اور ابوشکورسالمی کی تمہیدیہ سب میں نے اُنھیں سے پڑھیں۔
علمی لیاقت اورحدیث فہمی:
محبوب الٰہی اپنی علمی صلاحیت ،زودفہمی اوراپنی دانشوری کی وجہ سے معاصرطلباوعلمامیں ’’بحاث‘‘ ا ور’’محفل شکن‘‘ سے مشہور تھے۔ جب آپ نے بیشتر علوم وفنون جیسے زبان وادب، علم فقہ اورعلم حدیث میں کامل مہارت اور کلی دست گاہ حاصل کرلی تو اپنے وقت کے جیدمحدّث سیدکمال الدین زاہد سے مشارق الانوار پر مباحثہ کیا اور علم حدیث میں صحت سند،واقعات وروایات کی باریکیوں سے آگاہی حاصل کی اورتحقیق کا فن سیکھا۔
محبوب الٰہی کی حدیث فہمی کااندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے ایک بارمولانا وجیہ الدین پائلی سے پوچھاکہ حدیث میں ہے:اصْنَعُوا کُلَّ شَیْء ٍ إِلَّا النِّکَاحَ۔یعنی نکاح کے سوا ہر چیز کرو ۔(مسلم،جواز غسل الحائض)
اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتاہے کہ نکاح حرام ہے۔ مجھے بتائیں کہ اس کا مطلب کیاہے؟مولانا وجیہ الدین پائلی کچھ دیر سوچتے رہے،پھر فرمایاکہ پہلے آپ بیان کریں کہ آپ نے کیا سمجھا؟آپ نے کہا کہ صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیاکہ جب عورتیں حائضہ ہوجائیں تو کیا ہم ان کا بستر الگ کردیں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصْنَعُوا کُلَّ شَیْء ٍ إِلَّا النِّکَاحَ۔ آپ کے اس ارشادکا مطلب یہ ہے کہ کمرکے نچلے حصے میں تصرف نہ کرو،ہاں!اوپر ی حصے میں تصرف کرسکتے ہو۔
بیعت وخلافت:
محبوب الٰہی فرماتےہیں کہ جب میری عمردس یابارہ سال تھی،اس وقت ابوبکرقوال نامی ایک شخص میرے استاذ کے پاس آیااور شیخ بہاء الدین زکریاملتانی کے فضائل ومناقب بیان کرنے لگا۔ اس کے بعدشیخ فریدالدین گنج شکر کے اوصاف ومحامد بیان کرناشروع کیا۔یہ سن کر شیخ فریدالدین گنج شکرکی محبت وعقیدت میرے دل میںگھر کرگئی،یہاں تک کہ ہرنماز کے بعد ان کے نام کا وظیفہ میرا معمول بن گیا۔لیکن لاکھ کوشش کے بعد بھی بابافرید سے ملاقات کی کوئی سبیل نہ نکل رہی تھی،کیوں کہ ایک تووالدہ ماجدہ ضعیفی کے عالم میں تھیں اور دوسرا یہ کہ بہن
حیات وتعلیمات
سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیا قدس سرہٗ جنھیں پیارسے ’’سلطان جی‘‘ اور عظمت شان کی وجہ سے ’’محبوب الٰہی‘‘بھی کہاجاتاہے،آپ ہندوستان میں چشتیہ سلسلہ طریقت کے چوتھے عظیم بزرگ ہیں۔سوانح نگاروں کے مطابق خواجہ فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ معروف بہ’’ بابافرید‘‘ نے سلسلہ چشتیہ کو منظم کیا اور محبوب الٰہی قدس سرہٗ نے اس سلسلے کو ترقی اور بلندی عطاکی
نام ونسب:
محبوب الٰہی کا اصل نام ’’محمد ‘‘اورلقب ’’نظام الدین‘‘ ہے، جب کہ والد مکرم کا نام’’ احمد‘‘اور والدہ ماجدہ کا نام ’’بی بی زلیخا‘‘ہے۔ آپ نجیب الطرفین سیدہیںاورآپ کا سلسلہ نسب سید حسن بن میر علی بن میراحمد کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔
آپ کے آباواجداد، بخاراکے رہنے والے تھے جو چنگیزی حملے کے وقت لاہورآئے،اسی لاہور شہر میں آپ کے والدین پیدا ہوئے۔کچھ دنوںبعد آپ کے داداخواجہ علی بخاری اور ناناخواجہ عرب دونوںشہر بدایوں پہنچے اوروہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
ولادت باسعادت:
محبوب الٰہی کی ولادت ہندوستان کے اِسی مشہور شہر بدایوں میں24؍صفرسنہ 636ہجری مطابق 4؍اکتوبر1238 عیسوی میں ہوئی۔آپ جب پیدا ہوئے اس وقت شہر بدایوں علم وفضل کامرکز بھی تھااورمذہبی وروحانی اعتبارسے مشہورِ عالم بھی۔ وہاں کے علما وفضلا عالمی سطح پر قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھیاور یہ شہربدایوں’’ قبۃ الاسلام‘‘کے نام جانا جاتاتھا۔
تعلیم وتربیت:
محبوب الٰہی نے ابھی زندگی کی چھ بہاریں ہی دیکھی تھیں کہ شفقت پدری سے محروم ہوگئے۔ اس کے بعد آپ کی تعلیم وتربیت کی تمام تر ذمہ داری والدہ ماجدہ بی بی زلیخانے بحسن وخوبی انجام دی۔والدہ ماجدہ دین دار ہونے کے ساتھ انتہائی باہمت اور باحوصلہ خاتون تھیں،جس کا ثبوت یہ ہے کہ غربت و افلاس اور اقتصادی ومالی دقتوں کے باوجوداُنھوں نے آپ کی تعلیم وتربیت کاانتظام کیااورحصول تعلیم میں آپ کا ہر ممکن تعاون دیا۔
محبوب الٰہی کی ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہوئی۔مثلاًوہاں آپ نے ناظرہ قرآن کریم اور صرف ونحو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں اور مولانا علاء الدین اصولی سے قدوری کادرس لیا۔پھر والدہ ماجدہ کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے دہلی کارخ کیا جو بدایوں کے بعد علم وفضل کامرکز بناہوا تھا۔ یہاں آپ نے خواجہ شمس الدین خوارزمی سے علمی استفادہ کیا اور اُن سے مقامات حریری پڑھی، جب کہ استاذِعصر حضرت مولانا کمال الدین سے علم حدیث میں استفادہ کیا اور اُن سے مشارق الانوار پڑھی۔ اس کے علاوہ کچھ کتابوں کادرس شیخ الاسلام فرید الدین گنج شکر قدس سرہٗ سے بھی لیا۔
محبوب الٰہی خود بیان فرماتے ہیں کہ میں نے چھ پارے کلام اللہ کی تفسیر،تین کتابیں جن میں سے ایک میں پہلے بھی پڑھ چکاتھااوردو کتابیں شیخ الاسلام کے حلقہ درس میں سنیں۔نیزچھ باب ’’عوارف‘‘ کے اور ابوشکورسالمی کی تمہیدیہ سب میں نے اُنھیں سے پڑھیں۔
علمی لیاقت اورحدیث فہمی:
محبوب الٰہی اپنی علمی صلاحیت ،زودفہمی اوراپنی دانشوری کی وجہ سے معاصرطلباوعلمامیں ’’بحاث‘‘ ا ور’’محفل شکن‘‘ سے مشہور تھے۔ جب آپ نے بیشتر علوم وفنون جیسے زبان وادب، علم فقہ اورعلم حدیث میں کامل مہارت اور کلی دست گاہ حاصل کرلی تو اپنے وقت کے جیدمحدّث سیدکمال الدین زاہد سے مشارق الانوار پر مباحثہ کیا اور علم حدیث میں صحت سند،واقعات وروایات کی باریکیوں سے آگاہی حاصل کی اورتحقیق کا فن سیکھا۔
محبوب الٰہی کی حدیث فہمی کااندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے ایک بارمولانا وجیہ الدین پائلی سے پوچھاکہ حدیث میں ہے:اصْنَعُوا کُلَّ شَیْء ٍ إِلَّا النِّکَاحَ۔یعنی نکاح کے سوا ہر چیز کرو ۔(مسلم،جواز غسل الحائض)
اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتاہے کہ نکاح حرام ہے۔ مجھے بتائیں کہ اس کا مطلب کیاہے؟مولانا وجیہ الدین پائلی کچھ دیر سوچتے رہے،پھر فرمایاکہ پہلے آپ بیان کریں کہ آپ نے کیا سمجھا؟آپ نے کہا کہ صحابہ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیاکہ جب عورتیں حائضہ ہوجائیں تو کیا ہم ان کا بستر الگ کردیں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصْنَعُوا کُلَّ شَیْء ٍ إِلَّا النِّکَاحَ۔ آپ کے اس ارشادکا مطلب یہ ہے کہ کمرکے نچلے حصے میں تصرف نہ کرو،ہاں!اوپر ی حصے میں تصرف کرسکتے ہو۔
بیعت وخلافت:
محبوب الٰہی فرماتےہیں کہ جب میری عمردس یابارہ سال تھی،اس وقت ابوبکرقوال نامی ایک شخص میرے استاذ کے پاس آیااور شیخ بہاء الدین زکریاملتانی کے فضائل ومناقب بیان کرنے لگا۔ اس کے بعدشیخ فریدالدین گنج شکر کے اوصاف ومحامد بیان کرناشروع کیا۔یہ سن کر شیخ فریدالدین گنج شکرکی محبت وعقیدت میرے دل میںگھر کرگئی،یہاں تک کہ ہرنماز کے بعد ان کے نام کا وظیفہ میرا معمول بن گیا۔لیکن لاکھ کوشش کے بعد بھی بابافرید سے ملاقات کی کوئی سبیل نہ نکل رہی تھی،کیوں کہ ایک تووالدہ ماجدہ ضعیفی کے عالم میں تھیں اور دوسرا یہ کہ بہن
❤1
اوراُن کے بچوں کی دیکھ بھال کی ذمے داری بھی آپ کے سرتھی۔
ایک صبح نمازِفجر کے بعد کسی نے بڑی خوش الحانی کے ساتھ یہ آیت تلاوت کی کہ اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُہُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ حدید تودل میں دبی عشق کی چنگاری شعلہ کی شکل اختیارکرگئی اوراس طرح آپ سنہ655 ہجری مطابق سنہ1257 عیسوی میں’’ اجودھن‘‘(موجودہ پاکستان) کے لیے روانہ ہوئے، اور سال کی عمر میں بیعت سے شرف یاب ہوئے۔ پھر24؍ سال کی عمرمیں یعنی بیعت کے ٹھیک چار سال بعدسنہ659 ہجری مطابق سنہ1261 عیسوی میں سندخلافت سے بھی نوازے گئے۔
درس وتدریس:
بیعت کے بعد محبوب الٰہی دہلی واپس آگئے اور اپنی معاشی ضرورت پوری کرنے کے لیے درس وتدریس کا مشغلہ اختیارفرمایا۔آپ کے شاگردوں میں امیرخسرو ،امیرحسن سجزی اور قطب الدین منور مشہورہیں،جنھیں آپ نے تعلیم وتربیت بھی دی تھی،اور پھر اپنی مریدی میں بھی داخل کرلیا۔
مزید آپ کے درس وتدریس میں مصروف ہونے کی تائیداس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ جب شیخ گنج شکر سے اجازت وخلامت مل گئی توآپ نے اپنے شیخ سے پوچھا :میرا شغل درس وتدریس ہے،اس کو جاری رکھوں یا ترک کردوں؟
یہ سن کر شیخ الاسلام گنج شکرنے فرمایاکہ درویش کے لیے علم بہت ضروری ہے ،تم تعلیم دینے کا شغل جاری رکھو۔ اس کے بعد جوچیز غالب آجائے گی اس کی وجہ سے مغلوب چیز خود بخود ترک ہوجائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہواکہ جب معتقدین ومریدین کا ہجوم بڑھنے لگا اور مجاہدات کی کثرت ہونے لگی تو تعلیم وتعلم کا مشغلہ بھی خودبخودبندہوتا چلاگیا۔
ممتازمریدین وخلفا:
محبوب الٰہی کے مریدین میں امیروغریب ،محتاج ونادار،وزیروکوتوال اورشاہ وگداہر طرح کے لوگ شامل تھے ،اس لیے آپ کے مریدین کاشمارایک مشکل امر ہے۔البتہ!کچھ تذکرہ نگاروںنے تقریباً 54؍مشہورونامور مریدین وخلفاکاذکرکیا ہے،ان میںسے چند منتخب مریدین وخلفا کے اسمایہاںبھی ذکر کیے جاتے ہیں:۱۔شیخ نصیرالدین محمودچراغ دہلی،۲۔امیر خسرو،۳۔امیر حسن سجزی،۴۔سید رفیع الدین ہارون،۵۔سید حسین کرمانی،۶۔خواجہ سید محمد امام،۷۔شیخ قطب الدین منور،۸۔مولانا حسام الدین ملتانی، ۹۔مولانا فخرالدین زرادی،۱۰۔مولاناعلاء الدین نیلی،۱۱۔مولانا برہان الدین غریب،۱۲۔مولانا وجیہ الدین یوسف،۱۳۔مولانا سراج الدین عثمان معروف بہ اخی سراج،۱۴۔مولانا شمس الدین یحیٰ وغیرہ۔
بادشاہوں سے بے تعلقی:
محبوب الٰہی نے دوشاہی خاندانوں کا عہد پایا:ایک غلام حکمرانوں کاعہد، جس میں آپ کے ابتدائی ایام بسر ہوئے ، اور دوسرا خلجی عہدحکومت ،جس میں آپ فضل وکمال کے اعلیٰ مقام پر فائزتھے،پھر بھی حکمرانوں سے لاتعلق رہے۔حالاں کہ شاہانِ وقت کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی آپ ان سے گہرے روابط رکھیں ،لیکن آپ نے ان کی طرف کبھی بھی کوئی توجہ نہیں دی۔
ایک دفعہ بادشاہ نے امتحان کے ارادے سے چندسوال لکھ کر اپنے بڑے بیٹے خضرخاں کے ذریعے محبوب الٰہی کی خدمت میں بھیجااور ان سے جواب کاطلب گار ہوا۔جب وہ سوال نامہ آپ تک پہنچاتو آپ نے اُسے کھولابھی نہیں اور فرمایا:درویشوں کوبادشاہ سے کیا کام۔
جب بادشاہ کو اِس بات کی خبر ہوئی تو وہ خود خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی مگر آپ نے کہلا بھیجاکہ میں غائبانہ دعاکرتاہوں اور غائبانہ دعامیں بڑا اثر ہے۔اس کے بعد بھی بادشاہ نے اصرار کیاتو آپ نے فرمایاکہ اس فقیر کے مکان کے دو دروازے ہیں،اگر بادشاہ ایک دروازے سے داخل ہوگا تو میں دوسرے دروازے سے نکل جاؤں گا۔
خدمت خلق اوربخشش وعنایات:محبوب الٰہی کی خدمت میںکثرت سے تحفے تحائف آتے تھے مگر ان میں سے کچھ بھی بچاکرنہیں رکھتے تھے ،بلکہ سب ضرورت مندوں میں تقسیم کروادیاکرتے تھے۔ روزانہ لاکھوں روپے اور قیمتی سازوسامان آتے تھے لیکن آپ اسی اعتبارسے خرچ بھی کردیتے تھے۔آپ کی عنایات وبخشش کاحال یہ تھا کہ مانوعطاوبخشش کا دریا بہہ ہو۔
ایک بار ایک طالب علم آیا اور اپنی حاجت بیان کی، اس وقت خانقاہ میں اُسے دینے کے لیے ایک بیل کے سواکچھ بھی نہ تھا۔آپ نے وہی بیل اس طالب علم کو نذرکردی۔ محبوب الٰہی نے باقاعدہ اپناایک اصول بنارکھاتھاکہ کس کو کتناوظیفہ دیاجائے۔چنانچہ آ پ غیاث پوراورقرب وجوار میں رہنے والے کو روزوظیفہ دیتے تھے۔ شہرمیں رہنے والے کو ہفتہ واروظیفہ دیتے تھے۔آس پاس کے قصبوں میں رہنے والے کو ماہانہ وظیفہ دیتے تھے اور دوردراز سے آنے والوں کے لیے ششماہی یا سالانہ وظیفہ مقرر کررکھے تھے۔ یہاں تک کہ وفات کے وقت بھی جب لنگرخانے میں کچھ غلہ تقسیم ہونے سے رہ گیاتوآپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا:
انبار خانوں کے دروازے توڑڈالو،یہ غلہ زمین کی مٹی ہے اس کو کیوں رکھاہے۔فقیروں کو بلاو اور اُن سے کہوکہ یہ سب غلہ لے لیںاور ایک تنکابھی باقی نہ چھوڑیں۔
ایک صبح نمازِفجر کے بعد کسی نے بڑی خوش الحانی کے ساتھ یہ آیت تلاوت کی کہ اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُہُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ حدید تودل میں دبی عشق کی چنگاری شعلہ کی شکل اختیارکرگئی اوراس طرح آپ سنہ655 ہجری مطابق سنہ1257 عیسوی میں’’ اجودھن‘‘(موجودہ پاکستان) کے لیے روانہ ہوئے، اور سال کی عمر میں بیعت سے شرف یاب ہوئے۔ پھر24؍ سال کی عمرمیں یعنی بیعت کے ٹھیک چار سال بعدسنہ659 ہجری مطابق سنہ1261 عیسوی میں سندخلافت سے بھی نوازے گئے۔
درس وتدریس:
بیعت کے بعد محبوب الٰہی دہلی واپس آگئے اور اپنی معاشی ضرورت پوری کرنے کے لیے درس وتدریس کا مشغلہ اختیارفرمایا۔آپ کے شاگردوں میں امیرخسرو ،امیرحسن سجزی اور قطب الدین منور مشہورہیں،جنھیں آپ نے تعلیم وتربیت بھی دی تھی،اور پھر اپنی مریدی میں بھی داخل کرلیا۔
مزید آپ کے درس وتدریس میں مصروف ہونے کی تائیداس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ جب شیخ گنج شکر سے اجازت وخلامت مل گئی توآپ نے اپنے شیخ سے پوچھا :میرا شغل درس وتدریس ہے،اس کو جاری رکھوں یا ترک کردوں؟
یہ سن کر شیخ الاسلام گنج شکرنے فرمایاکہ درویش کے لیے علم بہت ضروری ہے ،تم تعلیم دینے کا شغل جاری رکھو۔ اس کے بعد جوچیز غالب آجائے گی اس کی وجہ سے مغلوب چیز خود بخود ترک ہوجائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہواکہ جب معتقدین ومریدین کا ہجوم بڑھنے لگا اور مجاہدات کی کثرت ہونے لگی تو تعلیم وتعلم کا مشغلہ بھی خودبخودبندہوتا چلاگیا۔
ممتازمریدین وخلفا:
محبوب الٰہی کے مریدین میں امیروغریب ،محتاج ونادار،وزیروکوتوال اورشاہ وگداہر طرح کے لوگ شامل تھے ،اس لیے آپ کے مریدین کاشمارایک مشکل امر ہے۔البتہ!کچھ تذکرہ نگاروںنے تقریباً 54؍مشہورونامور مریدین وخلفاکاذکرکیا ہے،ان میںسے چند منتخب مریدین وخلفا کے اسمایہاںبھی ذکر کیے جاتے ہیں:۱۔شیخ نصیرالدین محمودچراغ دہلی،۲۔امیر خسرو،۳۔امیر حسن سجزی،۴۔سید رفیع الدین ہارون،۵۔سید حسین کرمانی،۶۔خواجہ سید محمد امام،۷۔شیخ قطب الدین منور،۸۔مولانا حسام الدین ملتانی، ۹۔مولانا فخرالدین زرادی،۱۰۔مولاناعلاء الدین نیلی،۱۱۔مولانا برہان الدین غریب،۱۲۔مولانا وجیہ الدین یوسف،۱۳۔مولانا سراج الدین عثمان معروف بہ اخی سراج،۱۴۔مولانا شمس الدین یحیٰ وغیرہ۔
بادشاہوں سے بے تعلقی:
محبوب الٰہی نے دوشاہی خاندانوں کا عہد پایا:ایک غلام حکمرانوں کاعہد، جس میں آپ کے ابتدائی ایام بسر ہوئے ، اور دوسرا خلجی عہدحکومت ،جس میں آپ فضل وکمال کے اعلیٰ مقام پر فائزتھے،پھر بھی حکمرانوں سے لاتعلق رہے۔حالاں کہ شاہانِ وقت کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی آپ ان سے گہرے روابط رکھیں ،لیکن آپ نے ان کی طرف کبھی بھی کوئی توجہ نہیں دی۔
ایک دفعہ بادشاہ نے امتحان کے ارادے سے چندسوال لکھ کر اپنے بڑے بیٹے خضرخاں کے ذریعے محبوب الٰہی کی خدمت میں بھیجااور ان سے جواب کاطلب گار ہوا۔جب وہ سوال نامہ آپ تک پہنچاتو آپ نے اُسے کھولابھی نہیں اور فرمایا:درویشوں کوبادشاہ سے کیا کام۔
جب بادشاہ کو اِس بات کی خبر ہوئی تو وہ خود خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی مگر آپ نے کہلا بھیجاکہ میں غائبانہ دعاکرتاہوں اور غائبانہ دعامیں بڑا اثر ہے۔اس کے بعد بھی بادشاہ نے اصرار کیاتو آپ نے فرمایاکہ اس فقیر کے مکان کے دو دروازے ہیں،اگر بادشاہ ایک دروازے سے داخل ہوگا تو میں دوسرے دروازے سے نکل جاؤں گا۔
خدمت خلق اوربخشش وعنایات:محبوب الٰہی کی خدمت میںکثرت سے تحفے تحائف آتے تھے مگر ان میں سے کچھ بھی بچاکرنہیں رکھتے تھے ،بلکہ سب ضرورت مندوں میں تقسیم کروادیاکرتے تھے۔ روزانہ لاکھوں روپے اور قیمتی سازوسامان آتے تھے لیکن آپ اسی اعتبارسے خرچ بھی کردیتے تھے۔آپ کی عنایات وبخشش کاحال یہ تھا کہ مانوعطاوبخشش کا دریا بہہ ہو۔
ایک بار ایک طالب علم آیا اور اپنی حاجت بیان کی، اس وقت خانقاہ میں اُسے دینے کے لیے ایک بیل کے سواکچھ بھی نہ تھا۔آپ نے وہی بیل اس طالب علم کو نذرکردی۔ محبوب الٰہی نے باقاعدہ اپناایک اصول بنارکھاتھاکہ کس کو کتناوظیفہ دیاجائے۔چنانچہ آ پ غیاث پوراورقرب وجوار میں رہنے والے کو روزوظیفہ دیتے تھے۔ شہرمیں رہنے والے کو ہفتہ واروظیفہ دیتے تھے۔آس پاس کے قصبوں میں رہنے والے کو ماہانہ وظیفہ دیتے تھے اور دوردراز سے آنے والوں کے لیے ششماہی یا سالانہ وظیفہ مقرر کررکھے تھے۔ یہاں تک کہ وفات کے وقت بھی جب لنگرخانے میں کچھ غلہ تقسیم ہونے سے رہ گیاتوآپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا:
انبار خانوں کے دروازے توڑڈالو،یہ غلہ زمین کی مٹی ہے اس کو کیوں رکھاہے۔فقیروں کو بلاو اور اُن سے کہوکہ یہ سب غلہ لے لیںاور ایک تنکابھی باقی نہ چھوڑیں۔
❤1
تزکیہ واصلاحات:
محبوب الٰہی نے صرف محتاجوں،ضرورت مندوں اور بیکسوں کی خبرگیری کرنے پر ہی اکتفانہیں کیابلکہ ان کے اندر درآئی عملی خرابیوں اور اخلاقی بیماریوں کو بھی دورکیا اور ان کی اصلاح فرمائی۔آپ نے ایک طرف قلبوروح کوپاکیزگی عطاکی تو دوسری طرف سیرت واخلاق کی درستگی بھی فرمائی،اور اس تعلق سے آپ کے نزدیک شاہ وگدا،علماوفقہا،سلاطین و حکمران،عوام وخواص،نوکر پیشہ واہل صنعت سب برابر تھے، کسی کوکسی پر کوئی فوقیت اورامتیاز حاصل نہ تھا۔ایک ایسے ماحول میں جب کہ دین بیزاری اورنفس پرستی عام ہوچکی تھی ،آپ نے لوگوں کے دلوں میں دینی اورعرفانی لہر دوڑا دی جسے ہر کسی محسوس کیااور اس سے متاثر ہوئے بغیر کوئی نہ رہ سکا۔یہی وجہ تھی کہ آپ کی اصلاحی کوششوں کیباعث آس پاس کاماحول حیرت انگیز طورپر اسلام،ایمان، احسان کے رنگ میں رنگ گیاتھا۔
اس کا اثر یہ ہواکہ لوگ مشائخ کی تعلیمات سے اپنی تاریک زندگی کومنورکرنے لگے۔ دنیا اور دنیا داروں کا ذکر اُن کی زبان پرآنابند ہوگیا۔ سلطان علاء الدین بھی اپنے تمام گھر والوں کے ساتھ شیخ کا معتقد اور مخلص ہو گیا۔ کبیرہ گناہوں کو لوگ کفر کے مشابہ تصورکرنے لگے ۔شرم کی وجہ سے مسلمان سود خوری اور کالابازی سے پرہیزکرنے لگے ۔ جھوٹ بولنے اور کم تولنے کا رواج اٹھ گیا۔عوام وخواص کوتصوف اورمشائخ کی کتابوں میں لطف آنے لگااورہرمحفل ومجلس میں ذوق وشوق سے قوت القلوب،رسالہ قشیریہ،احیاء العلوم، عوارف المعارف جیسی کتابیںپڑھی جانے لگیں۔سنت رسول اوراحکام شریعت کی پاسداری کا اہتمام لوگوں کا معمول بن گیا۔ غرض کہ ایک بار پھرسے جنید وشبلی اوربایزید بسطامی کے عہد کی یاد تازہ ہوگئی تھی۔
تعلیمات وارشادات:
محبوب الٰہی فرماتے ہیں:
۱۔ مرد کاکمال چارچیزوں سے ظاہر ہوتاہے:کم کھانا،کم بولنا،کم سونا اورلوگوں سے میل جول کم رکھنا۔
۲۔ ترک دنیایہ نہیں ہے کہ کوئی اپنے آپ کوننگا کرلے، مثلاً لنگوٹی باندھ کر بیٹھ جائے،ترک دنیایہ ہے کہ لباس پہنے اور کھانا کھائے۔البتہ!جو کچھ آئے اسے خرچ کرتارہے،جمع نہ کرے ،اس سے رغبت نہ رکھے اوردل کو کسی چیزسے لگائے نہ رکھے۔
۳۔جب تک تائب توبہ میں سچاہے تونہ اس کاذکرکوئی معصیت کے ساتھ کرسکتاہے اور نہ فسق کے ساتھ اس کانام زبان پر لاسکتا ہے۔ البتہ!اگروہ اس گناہ کی طرف مائل ہوگا تواس کو طلب کرنے میں یقیناًوہ فسق وفجورکرے گا اورلوگ بھی اس کاذکر فسق وفجور کے ساتھ کریں گے۔
۴۔ شروع میں جب لوگ طاعت کاآغازکرتے ہیں تو یقیناًنفس پر گراں گزرتاہے اور مشکل نظرآتاہے لیکن جب کوئی دل سے اس میں لگ جاتاہے تو اللہ تعالیٰ تو فیق عطا فرماتا ہے اوراُس کام کوآسان فرمادیتاہے۔
۵۔ ادب یہ ہے کہ جوبھی آئے مجلس میں جہاں جگہ خالی پائے،بیٹھ جائے اوراگر جگہ نہ ہوتو حلقے کے پیچھے بیٹھے،بیچ میں نہیں بیٹھناچاہیے، جو بیچ میں بیٹھتاہے وہ ملعون ہے۔
۶۔عوام میں یہ دستورہے کہ اچھوں کے ساتھ اچھااور بروں کے ساتھ برا۔لیکن درویشوں کا یہ طریقہ ہیکہ اچھوں کے ساتھ بھی اچھے اوربروں کے ساتھ بھی اچھے۔
۷۔ اللہ تعالیٰ کامعاملہ مخلوق کے ساتھ دوطرح کاہے اور مخلوق کا معاملہ آپس میں تین طرح کاہے۔اللہ تعالیٰ کابرتاو مخلوق کے ساتھ عدل کاہوتاہے یا فضل کا،لیکن مخلوق آپس میں عدل کرتی ہے،یا فضل یاپھرظلم۔اگر مخلوق ایک دوسرے کے ساتھ عدل یافضل کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنافضل فرماتاہے اوراگر مخلوق ایک دوسرے پر ظلم کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے عدل فرماتاہے اور جس سے اللہ عدل فرماتاہے اس کو عذاب میں گرفتارکرتاہے چاہے۔
۸۔اگرکوئی شخص کسی کو نصیحت کرے تو اس کوچاہیے کہ سب کے سامنے نہ کرے کہ یہ فضیحت(رسوائی ) ہوجاتی ہے، اس لییملامت اورنصیحت جو بھی کرنی ہو،وہ اکیلے میں کرے سب کے سامنے نہیں۔ وصال مبارک:خواجہ نظام الدین اولیاقدس سرہٗ نے بتاریخ 17؍ربیع الآخر سنہ 725ہجری مطابق2؍ اپریل سنہ 1325عیسوی دہلی میں وصال فرمایا،اوربستی حضرت نظام الدین دہلی میں مدفون ہوئے۔جہاں سے آج بھی نظامی چشتی فیضان جاری وساری ہے۔(فوائد الفواد،سیرالاولیاء ،نظامی بنسری،تاریخ فرشتہ، تاریخ مشائخ چشت، تاریخ فیروزشاہی، آب کوثر)
ڈاکٹر جہاں گیرحسن مصباحی
(ایڈیٹر ماہنامہ خضرراہ ،الہ آباد)
https://t.me/islaamic_Knowledge/10257
محبوب الٰہی نے صرف محتاجوں،ضرورت مندوں اور بیکسوں کی خبرگیری کرنے پر ہی اکتفانہیں کیابلکہ ان کے اندر درآئی عملی خرابیوں اور اخلاقی بیماریوں کو بھی دورکیا اور ان کی اصلاح فرمائی۔آپ نے ایک طرف قلبوروح کوپاکیزگی عطاکی تو دوسری طرف سیرت واخلاق کی درستگی بھی فرمائی،اور اس تعلق سے آپ کے نزدیک شاہ وگدا،علماوفقہا،سلاطین و حکمران،عوام وخواص،نوکر پیشہ واہل صنعت سب برابر تھے، کسی کوکسی پر کوئی فوقیت اورامتیاز حاصل نہ تھا۔ایک ایسے ماحول میں جب کہ دین بیزاری اورنفس پرستی عام ہوچکی تھی ،آپ نے لوگوں کے دلوں میں دینی اورعرفانی لہر دوڑا دی جسے ہر کسی محسوس کیااور اس سے متاثر ہوئے بغیر کوئی نہ رہ سکا۔یہی وجہ تھی کہ آپ کی اصلاحی کوششوں کیباعث آس پاس کاماحول حیرت انگیز طورپر اسلام،ایمان، احسان کے رنگ میں رنگ گیاتھا۔
اس کا اثر یہ ہواکہ لوگ مشائخ کی تعلیمات سے اپنی تاریک زندگی کومنورکرنے لگے۔ دنیا اور دنیا داروں کا ذکر اُن کی زبان پرآنابند ہوگیا۔ سلطان علاء الدین بھی اپنے تمام گھر والوں کے ساتھ شیخ کا معتقد اور مخلص ہو گیا۔ کبیرہ گناہوں کو لوگ کفر کے مشابہ تصورکرنے لگے ۔شرم کی وجہ سے مسلمان سود خوری اور کالابازی سے پرہیزکرنے لگے ۔ جھوٹ بولنے اور کم تولنے کا رواج اٹھ گیا۔عوام وخواص کوتصوف اورمشائخ کی کتابوں میں لطف آنے لگااورہرمحفل ومجلس میں ذوق وشوق سے قوت القلوب،رسالہ قشیریہ،احیاء العلوم، عوارف المعارف جیسی کتابیںپڑھی جانے لگیں۔سنت رسول اوراحکام شریعت کی پاسداری کا اہتمام لوگوں کا معمول بن گیا۔ غرض کہ ایک بار پھرسے جنید وشبلی اوربایزید بسطامی کے عہد کی یاد تازہ ہوگئی تھی۔
تعلیمات وارشادات:
محبوب الٰہی فرماتے ہیں:
۱۔ مرد کاکمال چارچیزوں سے ظاہر ہوتاہے:کم کھانا،کم بولنا،کم سونا اورلوگوں سے میل جول کم رکھنا۔
۲۔ ترک دنیایہ نہیں ہے کہ کوئی اپنے آپ کوننگا کرلے، مثلاً لنگوٹی باندھ کر بیٹھ جائے،ترک دنیایہ ہے کہ لباس پہنے اور کھانا کھائے۔البتہ!جو کچھ آئے اسے خرچ کرتارہے،جمع نہ کرے ،اس سے رغبت نہ رکھے اوردل کو کسی چیزسے لگائے نہ رکھے۔
۳۔جب تک تائب توبہ میں سچاہے تونہ اس کاذکرکوئی معصیت کے ساتھ کرسکتاہے اور نہ فسق کے ساتھ اس کانام زبان پر لاسکتا ہے۔ البتہ!اگروہ اس گناہ کی طرف مائل ہوگا تواس کو طلب کرنے میں یقیناًوہ فسق وفجورکرے گا اورلوگ بھی اس کاذکر فسق وفجور کے ساتھ کریں گے۔
۴۔ شروع میں جب لوگ طاعت کاآغازکرتے ہیں تو یقیناًنفس پر گراں گزرتاہے اور مشکل نظرآتاہے لیکن جب کوئی دل سے اس میں لگ جاتاہے تو اللہ تعالیٰ تو فیق عطا فرماتا ہے اوراُس کام کوآسان فرمادیتاہے۔
۵۔ ادب یہ ہے کہ جوبھی آئے مجلس میں جہاں جگہ خالی پائے،بیٹھ جائے اوراگر جگہ نہ ہوتو حلقے کے پیچھے بیٹھے،بیچ میں نہیں بیٹھناچاہیے، جو بیچ میں بیٹھتاہے وہ ملعون ہے۔
۶۔عوام میں یہ دستورہے کہ اچھوں کے ساتھ اچھااور بروں کے ساتھ برا۔لیکن درویشوں کا یہ طریقہ ہیکہ اچھوں کے ساتھ بھی اچھے اوربروں کے ساتھ بھی اچھے۔
۷۔ اللہ تعالیٰ کامعاملہ مخلوق کے ساتھ دوطرح کاہے اور مخلوق کا معاملہ آپس میں تین طرح کاہے۔اللہ تعالیٰ کابرتاو مخلوق کے ساتھ عدل کاہوتاہے یا فضل کا،لیکن مخلوق آپس میں عدل کرتی ہے،یا فضل یاپھرظلم۔اگر مخلوق ایک دوسرے کے ساتھ عدل یافضل کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنافضل فرماتاہے اوراگر مخلوق ایک دوسرے پر ظلم کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے عدل فرماتاہے اور جس سے اللہ عدل فرماتاہے اس کو عذاب میں گرفتارکرتاہے چاہے۔
۸۔اگرکوئی شخص کسی کو نصیحت کرے تو اس کوچاہیے کہ سب کے سامنے نہ کرے کہ یہ فضیحت(رسوائی ) ہوجاتی ہے، اس لییملامت اورنصیحت جو بھی کرنی ہو،وہ اکیلے میں کرے سب کے سامنے نہیں۔ وصال مبارک:خواجہ نظام الدین اولیاقدس سرہٗ نے بتاریخ 17؍ربیع الآخر سنہ 725ہجری مطابق2؍ اپریل سنہ 1325عیسوی دہلی میں وصال فرمایا،اوربستی حضرت نظام الدین دہلی میں مدفون ہوئے۔جہاں سے آج بھی نظامی چشتی فیضان جاری وساری ہے۔(فوائد الفواد،سیرالاولیاء ،نظامی بنسری،تاریخ فرشتہ، تاریخ مشائخ چشت، تاریخ فیروزشاہی، آب کوثر)
ڈاکٹر جہاں گیرحسن مصباحی
(ایڈیٹر ماہنامہ خضرراہ ،الہ آباد)
https://t.me/islaamic_Knowledge/10257
❤1
یادِ نظام الدین اولیاء
محبوب الٰہی، سلطان المشائخ، بہارِ چمنستانِ سادات ، گل باغِ چشتیت ، خلیفہ وتلمیذِ گنج شکر،مخزن علم و عرفان ، زری زربخش ، حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی شان ...
تاریخ وصال 18 ربیع الثانی بروز بدھ 725ھ دہلی انڈیا
تم کو اگر سمجھنا ہے جِیوَن نظام کا
"خُسرو" کی آنکھ سے کرو دَرشن نظام کا
مرشد کے آگے سارے نظارے جہاں کے ہیچ
یوں اُن کی روح سے ہوا بندھن نظام کا
حضرت کا آستانہ ، عطاے نبی کا باغ
فِردوسِ اہلِ عشق ہے مَسکَن نظام کا
نبضِ حیات میں رَگِ حسنین کا لہو
نسبت کا رنگ کتنا ہے روشن نظام کا
وہ جلوہ گر ہیں دلّی کے روحانی تخت پر
جَپتی ہے نام، وقت کی دھڑکن نظام کا
درگاہِ پاک، جن و بشر کی طواف گاہ
منزل ملائکہ کی ہے ، آنگن نظام کا
ہیں جس میں"بختیار و فرید ومُعیں" کے رنگ
مجموعۂ فیوض ہے گلشن نظام کا
ہے اُن کے دَم سے نور، "چراغِ نَصیر" میں
لبریز ہے اجالوں سے مَخزَن نظام کا
دن رات سوزِ عشقِ نبی میں جلے ہیں وہ
کردار ، تَپ کے بن گیا کُندَن نظام کا
چشم جہاں کا نور ہے دہلیز کی چمک
برکات سے بھرا ہے نشیمن نظام کا
قائم ہے اب بھی اُس گلِ عرفاں کی تازگی
جَوبَن نہ کم ہوا ، پَسِ مُردن نظام کا
فَقرِ "جنید" مستئ "منصور"کے ہیں جام
میخانۂ سُلوک ہے تن من نظام کا
جس پر سجی ہے عظمتِ ملت کی کہکشاں
چرخ تَجلّیات ہے مَدفَن نظام کا
کردار پنجتن کی عطاؤں کا شاہکار
ہر رخ ہے لا جواب یقینا نظام کا
جس سے بہارِ چشت، جہانگیربن گئ
روحانیت کا باغ ہے اَحسن نظام کا
دیوانو ! آؤ دستِ عقیدت سے تھام لو
پروانۂ نجات ہے دامن نظام کا
ذرے ہوئے قریب تو مہتاب بن گئے
نقشِ حیات اِتنا ہے روشن نظام کا
سلطان اولیا ہیں ، وہ شیخ الشیوخ ہیں
اونچا ہے بزمِ دیں میں سِنگھاسَن نظام کا
ہم سب کے کام آئیں گے وہ آخرت میں بھی
شاہوں کا یہ نہیں ، یہ ہے بندھن نظام کا
اپنے، پرائے، سب پہ لٹائے کرم کے پھول
گُن گارہے ہیں شیخ و برہمن نظام کا
روشن ہوا فریدئِ خَستہ سخن کا دل
دیکھا جو چشمِ فکر نے دَرپن نظام کا
از فریدی صدیقی مصباحی مدینۃ العرفان مسقط عمان
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0WodHKMbpGsxmSjzK3ytbnxQivPV7EGKfBE38gHBwZNsCTD43p97UUJkvNoZ2girbl&id=100004579304922
محبوب الٰہی، سلطان المشائخ، بہارِ چمنستانِ سادات ، گل باغِ چشتیت ، خلیفہ وتلمیذِ گنج شکر،مخزن علم و عرفان ، زری زربخش ، حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی شان ...
تاریخ وصال 18 ربیع الثانی بروز بدھ 725ھ دہلی انڈیا
تم کو اگر سمجھنا ہے جِیوَن نظام کا
"خُسرو" کی آنکھ سے کرو دَرشن نظام کا
مرشد کے آگے سارے نظارے جہاں کے ہیچ
یوں اُن کی روح سے ہوا بندھن نظام کا
حضرت کا آستانہ ، عطاے نبی کا باغ
فِردوسِ اہلِ عشق ہے مَسکَن نظام کا
نبضِ حیات میں رَگِ حسنین کا لہو
نسبت کا رنگ کتنا ہے روشن نظام کا
وہ جلوہ گر ہیں دلّی کے روحانی تخت پر
جَپتی ہے نام، وقت کی دھڑکن نظام کا
درگاہِ پاک، جن و بشر کی طواف گاہ
منزل ملائکہ کی ہے ، آنگن نظام کا
ہیں جس میں"بختیار و فرید ومُعیں" کے رنگ
مجموعۂ فیوض ہے گلشن نظام کا
ہے اُن کے دَم سے نور، "چراغِ نَصیر" میں
لبریز ہے اجالوں سے مَخزَن نظام کا
دن رات سوزِ عشقِ نبی میں جلے ہیں وہ
کردار ، تَپ کے بن گیا کُندَن نظام کا
چشم جہاں کا نور ہے دہلیز کی چمک
برکات سے بھرا ہے نشیمن نظام کا
قائم ہے اب بھی اُس گلِ عرفاں کی تازگی
جَوبَن نہ کم ہوا ، پَسِ مُردن نظام کا
فَقرِ "جنید" مستئ "منصور"کے ہیں جام
میخانۂ سُلوک ہے تن من نظام کا
جس پر سجی ہے عظمتِ ملت کی کہکشاں
چرخ تَجلّیات ہے مَدفَن نظام کا
کردار پنجتن کی عطاؤں کا شاہکار
ہر رخ ہے لا جواب یقینا نظام کا
جس سے بہارِ چشت، جہانگیربن گئ
روحانیت کا باغ ہے اَحسن نظام کا
دیوانو ! آؤ دستِ عقیدت سے تھام لو
پروانۂ نجات ہے دامن نظام کا
ذرے ہوئے قریب تو مہتاب بن گئے
نقشِ حیات اِتنا ہے روشن نظام کا
سلطان اولیا ہیں ، وہ شیخ الشیوخ ہیں
اونچا ہے بزمِ دیں میں سِنگھاسَن نظام کا
ہم سب کے کام آئیں گے وہ آخرت میں بھی
شاہوں کا یہ نہیں ، یہ ہے بندھن نظام کا
اپنے، پرائے، سب پہ لٹائے کرم کے پھول
گُن گارہے ہیں شیخ و برہمن نظام کا
روشن ہوا فریدئِ خَستہ سخن کا دل
دیکھا جو چشمِ فکر نے دَرپن نظام کا
از فریدی صدیقی مصباحی مدینۃ العرفان مسقط عمان
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0WodHKMbpGsxmSjzK3ytbnxQivPV7EGKfBE38gHBwZNsCTD43p97UUJkvNoZ2girbl&id=100004579304922
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-04-1444 ᴴ | 13-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-04-1444 ᴴ | 14-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1