🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-04-1444 ᴴ | 13-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-04-1444 ᴴ | 13-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-04-1444 ᴴ | 13-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-04-1444 ᴴ | 13-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین محمد اولیاء محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ🕯*


آپ شیخ فرید الدین گنج شکر کے خلفاء میں سے تھے، آپ کا نام محمد بن احمد بن علی بخاری اور آپ کا لقب سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء تھا، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محبوب اور مقرب تھے آپ کی برکات کے اثرات سے ہندوستان لبریز ہے، آپ کے دادا علی بخاری اور نانا خواجہ عرب دونوں اکٹھے بخارا سے لاہور تشریف لائے، یہاں ایک طویل عرصہ رہنے کے بعد بدایوں چلے گئے اور وہاں مستقل سکونت اختیار کی، آپ بہت کم عمر کے تھے۔ کہ آپ کے والد ماجد انتقال فرما گئے، جن کا مدفن بدایوں ہی میں ہے۔ شیخ نظام الدین اولیاء جب کچھ بڑے ہوئے تو آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کو ایک مدرسہ میں برائے حصول تعلیم داخل کردیا، جہاں آپ نے قرآن کریم اور اس کے علاوہ دوسری کتابیں پڑھنی شروع کیں، آپ کی عمر تقریباً بارہ برس کی ہوگی اس وقت آپ لغت علم ادب پڑھتے تھے، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملتان سے ایک غزل خواں بنام ابوبکر آپ کے استاد کے پاس آیا اس نے کہا کہ میں نے شیخ بہاء الدین زکریا کے سامنے مجلس سماع میں یہ شعر پڑھا تھا لقد لسعت حیتہ الھوی کبدی ترجمہ: (محبت کے سانپ نے میرے دل کو ڈس لیا ہے) اور کہنے لگا کہ مجھے اس شعر کا دوسرا مصرعہ یاد نہیں رہا شیخ نظام الدین اولیاء نے فوراً دوسرا مصرعہ پڑھ کر سنایا، لا طبیب لھا ولا مراتی ترجمہ: (اس کے لیے نہ کوئی طبیب ہے، جو علاج و معالجہ کرکے اسے دور کردے اور نہ کوئی منتری ہے جو جھاڑ پھونک کرکے اس کے اثرات کو دل سے دور کردے) اس کے بعد اس غزل خواں نے شیخ بہاء الدین زکریا کی تعریفوں کے پُل باندھ دیے اور کہنے لگا کہ ان کے ہاں ذکر و شغل کی یہ حالت ہے کہ آپ کے ہاں چکی پیسنے والے مرد اور عورتیں بھی ذکر میں مشغول رہتے ہیں اور اسی قسم کی بہت سی باتیں بیان کرتا رہا لیکن ان میں سے کسی بات نے بھی نظام الدین اولیاء کے دل پر اثر نہ کیا پھر اس غزل خواں نے کہا کہ میں وہاں سے اجودھن (موجودہ پال پتن) پہنچا، وہاں میں نے طریقت کا ایک بادشاہ دیکھا جو ایسا اچھا اور ایسا بہترین ہے (یعنی بابا گنج شکر کے مختلف قسم کے فضائل بیان کیے) غزل خواں کی یہ باتیں سنتے ہی خواجہ نظام الدین اولیاء کے دل میں شاہ اجودھن کی محبت و اردات نے جگہ کرلی اور ان کی طبیعت پر ایک کیف و خود رفتگی سی طاری ہوگئی اور اسی وقت سے خواجہ نظام الدین اولیاء کے دل میں شیخ فرید کی محبت پیوست ہوگئی اور ان کے دیدار کی پیاس روز بروز بڑھتی رہی، چنانچہ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے شیخ فرید کی ملاقات کا تصور ان کے ذہن میں رہنے لگا، پھر بدایوں سے آپ بغرض حصول تعلیم دہلی تشریف لائے اور صدر ولایت شمس الملک کے تلامذہ اور شاگردوں کے زمرہ میں داخل ہوکر مقامات حریری پڑھی، اسی طرح علم حدیث بھی آپ ہی سے حاصل کیا۔ (آپ چونکہ علم منطق میں بڑے ماہر تھے اس لیے) دوسرے طالب علم آپ کو نظام الدین منطقی کہا کرتے تھے، یہاں سے فراغت تعلیم کے بعد شیخ فریدالدین کے شوق ارادت میں آپ پاک پتن تشریف لے گئے اس وقت آپ کی عمر بیس سال کی تھی، پاک پتن پہنچ کر آپ نے شیخ فرید سے قرآن کریم کے چھ پارے تجوید کے ساتھ پڑھے، عوارف کے چھ باب کا درس لیا، تمہید ابوشکور سلمی اوربعض دیگر کتب بھی شیخ فریدالدین سے پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔

نظام الدین اولیاء فرمایا کرتے تھے کہ شیخ فرید الدین سے جب مجھے شرف پابوسی حاصل ہوا اس وقت اول ملاقات میں شیخ نے یہ شعر پڑھا تھا۔

اے آتش فراقت دلہا کباب کردہ
سیلاب اشتیاقت جانہا خراب کردہ

ترجمہ: (تیری فرقت اور جدائی کی آگ نے کئی دلوں کو کباب کردیا اور تیرے شوق کی آگ نے کئی جانیں خراب کردیں) اس کے بعد میں نے چاہا کہ آپ کی خدمت میں حاضری کے شوق کو ظاہر کروں لیکن آپ کا خوف مجھ پر اس طرح غالب آیا کہ صرف اتنا ہی کہہ سکا کہ ملاقات کا شوق بے انتہا غالب تھا، پھر مجھ پر خوف کے آثار دیکھ کر فرمایا ہر نئے آنے والے کو دہشت ہوتی ہے، اسی دن میں نے آپ سے بیعت کی اور پھر پوچھا کہ اب کیا ارشاد ہے؟ کیا پڑھنے کا سلسلہ ختم کرکے اب ورد و ظائف میں مشغول ہوجاؤں؟ فرمایا: ہم کسی کو حصول تعلیم سے منع نہیں کرتے وہ بھی کرو اور یہ بھی کرو، پھر دیکھو کون غالب آتا ہے، نیز فقیرا ور درویش کے لیے کچھ علم بھی ضروری ہے، اس کے بعد شیخ نظام الدین اولیاء نعمت خلافت حاصل کرکے دہلی واپس آگئے، پیر و مرشد شیخ فریدالدین گنج شکر کے پاس آپ دہلی سے پاکپتن تمام عمر میں تین مرتبہ ہو گئے، شیخ فریدالدین کے انتقال کے وقت خواجہ نظام الدین اولیاء اتفاقاً اسی طرح موجود نہ تھے جس طرح کہ شیخ فریدالدین کے انتقال کے وقت خواجہ نظام الدین بختیار کاکی کے وصال کے وقت ان کے پاس موجود نہ تھے اور اسی طرح خواجہ قطب الدین اپنے شیخ حضرت معین الدین چشتی کے انتقال کے وقت ان کے پاس موجود نہ تھ
1
ے اس واقعہ کے بعد باشارۂ غیبی خواجہ نظام الدین اولیاء دہلی چھوڑ کر اس کے قریب بستی غیاث میں قیام پذیر ہوگئے جہاں آپ کی خانقاہ بھی ہے۔

نظام الدین اولیاء نے ایک بار فرمایا کہ جب معز الدین کیقباد نے وہاں ایک نیا شہر آباد کرنا چاہا تو اس وقت لوگ بڑی کثرت سے میرے پاس آنے لگے، یہاں تک بادشاہ، رئیس و امیر سبھی لوگ میری طرف رجوع کرنے لگے تو میرے دل میں خیال آیا کہ اب یہاں سے بھی چلانا جانا چاہیے میں اسی خیال میں تھا کہ ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد میرے پاس ایک نازک اندام خوبصورت آدمی آیا اور اس نے یہ شعر پڑھا

آں روز کہ مہ شدی نمی دانستی
کانگشت نمائے عالمے خواہی شد

ترجمہ: (یعنی جب آپ ماہتاب بنے تھے اس وقت یہ کیوں نہ سمجھا کہ تم دنیا کے انگشت نما بنو گے) پھر اس جوان نے کہا کہ طریقہ یہ ہے کہ اول تو مشہور ہی نہ ہونا چاہیے، اور اگر شہرت عام ہوجائے تو پھر اس طرح رہنا چاہیے کہ کل کو محشر کے میدان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے، پھر فرمایا کہ یہ قوت اور حوصلہ کی بات نہیں کی مخلوق اللہ سے پوشیدہ ہوکر خدا کی یاد کی جائے، بلکہ قوت اور حوصلہ تو یہ ہے کہ مخلوق اللہ میں رہ کر خدا کی یاد کی جائے، جب اس سیم تن نے اپنی تمام باتیں کہہ لیں تو میں اس کے لیے کچھ کھانا لایا لیکن اس نے کچھ نہ کھایا، اس وقت میں نے اپنے دل سے عہد لیا کہ اب یہاں سے کسی اور جگہ نہ جاؤں گا، پھر اس نے تھوڑا سا پانی پیا اور چلا گیا، اس روز کے بعد آج تک پھر میں نے اس کو کبھی نہیں دیکھا، غرض یہ کہ نظام الدین اولیا نے جب وہاں رہنے کا پختہ ارادہ کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں کافی مقبولیت دی، عام و خاص سب لوگ آپ کی طرف رجوع کرنے لگے، اس کے بعد دست غیب اور فتوحات کے دروازے آپ پر کھلے گئے اور ایک جہاں اللہ تعالیٰ کے احسان و انعام کی مدد سے آپ کے ذریعہ سے فائدہ حاصل کرنے لگا، آپ کا اپنا حال یہ تھا کہ تمام اوقات ریاضت اور مجاہدۂ میں گزارتے، ہمیشہ روزہ رکھتے اور افطار کے وقت تھوڑا سا پانی پی لیتے، بوقت سحری عام طور پر کچھ نہ کھاتے، خادم جب کہتے کہ آپ نے افطار کے وقت بھی تھوڑا سا چکھا تھا اگر سحری میں بھی نہ کھائیں گے تو کیا حال ہوگا، ضعف اور کمزوری میں روز بروز اضافہ ہوتا جائے گا، خادموں کی یہ باتیں سننے کے بعد رو کر فرماتے، بہت سے مسکین اور درویش مسجدوں اور بازاروں میں بھوکے پڑے فاقے کر رہے ہیں، اب بتاؤ ان کی حالت دیکھ کر یہ کھانا میرے حلق سے نیچے کیسے اُترے گا، تب خادم مجبوراً آپ کے سامنے سے سحری کا کھانا اٹھالیتے تھے۔

منقول ہے کہ شیخ نظام الدین اولیاء نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں اپنے شیخ کے ساتھ کشتی میں سوار تھا، شیخ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ میرے سامنے آؤ مجھے تم سے کچھ کہنا ہے، سنو، جب دہلی پہنچو، مجاہدہ کرتے رہنا بےکار رہنےمیں کوئی فائدہ نہیں، روزہ رکھنا آدھی منزل ہے، اور بقیہ اعمال مثلاً نماز، حج، یہ دوسری آدھی منزل ہیں، پھر ایک مرتبہ شیخ فرید نے فرمایا کہ میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ آپ اللہ سے جو مانگیں گے وہ مل جائے گا، ایک مرتبہ یہ بھی فرمایا کہ اے نظام الدین ہم نے تمہارے لیے اللہ سے دنیاوی قوت بھی مانگ لی ہے۔ خلیفہ بناتے وقت شیخ فریدالدین گنج شکر اپنے کمرے میں ننگے سر بیٹھے ہوئے تھے چہرۂ مبارک کا رنگ متغیر تھا اور یہ شعر پڑھ رہے تھے۔

رباعی

خوا ہم کہ ہمیشہ در رضائے تو زیم
خاکی شوم و بزیر پائے تو زیم
مقصود من خستہ زکونین توی
از بہرِ تو میرم و برائے تو زیم



ترجمہ: (میری تمنا یہ ہے کہ ہمیشہ تیری رضا میں رہوں اور خاک ہوکر تیرے پاؤں میں زندگی گزاروں دونوں جہانوں میں مجھ خستہ حال کا مطلوب تو ہی ہے، میرا مرنا بھی تیرے لیے اور جینا بھی تیرے لیے ہے) شیخ فریدالدین ان اشعار کو پڑھنے کے بعد اللہ کے حُضور سجدہ ریز ہوئے، جب متعدد بار آپ نے اسی طرح کیا تو میں آپ کے حجرے میں داخل ہوا اور آپ کے قدموں میں اپنا سر رکھا آپ نے فرمایا کیا چاہتے ہو، میں نے کچھ دینی اور مذہبی امور طلب کیے، سو آپ نے وہ امور مجھے عطا فرمادیے، اس کے بعد مجھے افسوس ہوا کہ میں نے محفل سماع میں مرنے کی خواہش کیوں نہ کی۔

شیخ فریدالدین ہمیشہ اپنے کمرے میں اکیلے رہا کرتے تھے، کمرے کا دروازہ اندر سے بند فرماکر تمام شب راز و نیاز میں مشغول رہتے صبح کو آپ کے درخشندہ چہرے کو جو کوئی دیکھتا تو یہی کہتا کہ شب بیداری کی وجہ سے آپ کی آنکھیں سرخ ہیں، لوگوں کا بیان ہے کہ میر خسر و دہلوی نے اپنے پیر و مرشد خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی کی تعریف میں یہ شعر کہا ہے

تو شبانہ می نمائی ببر کہ بودے اشب
کہ ہنوز چشم مستت اثرے خما ر دارد



ترجمہ: (آپ ہمیشہ رات کو دیدار کرتے ہیں، مگر آج رات کوئی خاص بات ہوئی ہے جس کی وجہ سے اب تک آپ کی آنکھوں میں خمار کے اثرات موجود ہیں)

ایک مرتبہ محبوب سبحانی خواجہ نظام الدین اولیاء نے فرمایا کہ ایک واقعہ میں مجھے ایک خط دیا گیا جس میں لکھ
ا تھا کہ جب تک اور جتنا ممکن ہو لوگوں کے دلوں کو آرام پہنچاؤ کیونکہ مسلمان کا دل حقیقت میں خدا کے ظہور کا مقام ہے، قیمت کے بازار میں کوئی سامان اتنا مقبول نہ ہوگا جتنا دلوں کو آرام پہنچانا مقبول ہے۔

ایک روز خواجہ نظام الدین اولیاء دوپہر کو آرام فرما رہے تھے، اسی دوران ایک درویش آیا جس کو آپ کے ایک خادم نے واپس کردیا، محبوبِ سبحانی نے اسی قیلولہ کی حالت میں اپنے شیخ فریدالدین گنج شکر کو خواب میں دیکھا جو فرما رہے تھے کہ اگر آپ کے گھر میں کوئی چیز نہیں ہے تو کم از کم آنے والے کے ساتھ حُسنِ سلوک کی تو رعایت کیا کریں، یہ کہاں کا قاعدہ ہے کہ ایک خستہ دل، مجبور اور معذو رکو یو ں ہی لوٹا دیا جائے چنانچہ محبوبِ سبحانی نے بیدار ہوکر اس واقعہ کی تحقیق کی اور جس خادم نے آنے والے درویش کو لَوٹادیا تھا اس پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ میرے مرشد شیخ فریدالدین اس واقعہ سے مجھ پر بہت ناراض ہوئے ہیں اور مجھ پر خفگی کا اظہار فرمایا ہے، اس کے بعد محبوبِ سبحانی نے یہ دستور بنالیا تھا کہ قیلولہ کے بعد جب بیدار ہوتے تو پوچھتے کہ کوئی آیا تھا یا نہیں؟

کچھ لوگوں نے محبوبِ سبحانی سے ملاقات کرنے کا ارادہ کیا اور آتے وقت انہوں نے شیخ کو بطور تحفہ پیش کرنے کے لیے کچھ چیزیں خرید لیں، ان لوگوں میں ایک طالب علم بھی تھا اس نے کہا ان تمام تحفوں کو ایک ساتھ ہی پیش کردیں گے تاکہ خادم کو گھر لے جانے میں آسانی رہے ، اس طالب علم نے یہ حرکت کی کہ تھوڑی سی مٹی اٹھاکر ایک کاغذ میں باندھ دی، سب نے محبوبِ سبحانی کی خدمت میں حاضری دی اور ہر ایک نے شیخ کی خدمت میں اپنا اپنا تحفہ پیش کیا اور اس طالب علم نے وہ مٹی کی پڑیا پیش کی، شیخ کے خادم نے وہ تمام اٹھانے شروع کردیے اور جب وہ پڑیا اٹھانے لگا تو شیخ نے فرمایا اس کو یہیں رہنے دو اس کے اندر ہماری آنکھوں میں ڈالنے کا سرمہ ہے جب طالب علم نے یہ بات سنی تو اس نے اپنی حرکت سے توبہ کی، پھر شیخ نے اس طالب علم سے فرمایا کہ تمہیں کھانے وغیرہ کی جب ضرورت ہو تو میرے پاس آجایا کرو۔

ہر جمعہ کی شب خانہ کعبہ میں:

ایک آدمی اپنے گاؤں سے محبوبِ سبحانی کی ملاقات کے ارادہ سے اپنے گھر سے روانہ ہوا، اثنائے سفر میں جب وہ قصبہ بوندی پہنچا تو وہاں ایک بزرگ رہتے تھے اور لوگ ان بزرگ کو شیخ مومن کہتے تھے، یہ آدمی ان بزرگ سے بھی ملنے چلا گیا، (جب یہ ان کے پاس پہنچا) تو انہوں نے فرمایا، کہاں جانے کاارادہ ہے؟ اس نے کہا شیخ نظام الدین کے پاس جانے کا، شیخ مومن نے فرمایا کہ محبوبِ سبحانی کو میرا سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ جمعہ کی ہر شب کو میں آپ سے خانہ کعبہ میں ملا کرتا ہوں ، اس آدمی نے محبوبِ سبحانی کی خدمت میں حاضری دی اور کہا کہ قصبہ بوندی کے درویش نے آپ کو سلام کہا ہے اور یہ باتیں کہی ہیں، محبوبِ سبحانی کچھ بے چین ہوئے اور فرمایا کہ وہ بہت بلند درجہ بزرگ ہے مگر اپنے قول پر قائم نہیں رہتا۔

ایک دفعہ سلطان علاؤ الدین خلیجی نے بطور امتحان امور مملکت کے انتظام کے لیے محبوب سبحانی کی خدمت میں چند فصلیں لکھ بھیجیں جن میں ایک فصل کا مضمون تھا۔ ’’حضرت شیخ کونین کے مخدوم ہیں لوگوں کی دینی اور دنیاوی اکثر حاجتیں آپ کے دربار سے پوری ہوتی ہیں اور اللہ نے دنیا کی مملکت کی باگ ڈور ہمارے ہاتھ میں دی ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ مملکت کے مسئلے آپ کے سپرد کردیے جائیں تاکہ جس امر میں مملکت کی بھلائی اور ہماری بہتری ہوآپ اس سے ہم لوگوں کو آگاہ فرمادیا کریں۔ا سی کے متعلق چند متعلقہ مرتبہ فصلیں جناب والا کی خدمت میں پیش ہیں، جس امر میں بھلائی اور خیر ہو اس کے نیچے تحریر فرمادیں تاکہ ہم اس پرعمل کراسکیں‘‘۔

سلطان علاؤالدین خلجی نے یہ فرمان اپنے محبوب فرزند خضر جاں کے ذریعہ جو خواجہ نظام الدین کا مرید بھی تھا ارسال خدمت کیا۔ خضر خاں نے جب یہ فرمان سر بمہر شیخ محبوب سبحانی کے دستِ اقدس میں دیا تو آپ نے اسے کھولے بغیر حاضرین مجلس سے فرمایا آؤ فاتحہ پڑھیں اس کے بعد فرمایا شاہی معاملات اور امور سے فقیروں کا کیا واسطہ، میں ایک فقیر، شہر کے ایک کونے میں پڑا ہوا بادشاہ اور دیگر مسلمانوں کے لیے دعا کر رہا ہوں، اگر مجھے اس شہر میں رہنے کی وجہ سے پھر کچھ کہا گیا تو اس شہر کو چھوڑ کر کسی اور جگہ چلا جاؤں گا، کیونکہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے، سلطان علاؤ الدین خلجی کو جب یہ خبر پہنچی تو بہت خوش ہوا اور اس کے بعد آپ کا عقیدت مند ہوگیا اور کہلا بھیجا کہ اگر جناب والا اجازت دیں تو حاضر ہوں جس کے جواب میں محبوبِ سبحانی نے کہلا بھیجا کہ آنے کی کوئی ضرورت نہیں میں آپ کی غیوبت میں آپ کے لیے دعا کرتا ہوں کیونکہ عدم موجودگی میں جو دعا کی جاتی ہے وہ پر تاثر ہوتی ہے۔ سلطان نے اس کے بعد پھر ملنے کے لیے من و سماجت کی تو آپ نے کہلا بھیجا کہ فقیر کے گھر کے دو دروازے ہیں اگر بادشاہ سلامت ایک دروازے سے آئیں گے تو میں دوسرے دروازے سے نکل کر باہر چلا جاؤں گا۔

محبوب سبحانی
1
فرمایا کرتے تھے کہ میں نے سماع کے جتنے اوصاف سنے ہیں، ان تمام اوصاف سے زائد اخلاق حمیدہ کے اعتبار سے شیخ کبیر کو محمول کرتا ہوں، ایک دن میں نے اپنے شیخ کی زندگی میں بھری مجلس میں ایک کہنے والے سے یہ شعر سنا تھا

مخرام بدین صفت مبادا
کز چشم بدت رسد گزندے

ترجمہ: (دنیا کی زندگی میں اس طرح نہ رہو کہ کہیں خدانخواستہ تمہیں نظر بد لگ کر تکلیف پہنچے) آج مجھے شیخ کے اخلاق حمیدہ اور بزرگی اور مہربانی یاد آتی ہیں جس کے وہ مجسمہ اور پیکر تھے اتنا کچھ فرمانے کے بعد محبوب سبحانی کی آنکھوں میں آنسو آگئے پھر فرمایا کہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد میرے شیخ نے جان جانِ آفریں کے حوالے کی۔

ایک آدمی نے حضرت محبوبِ سبحانی کی مجلس میں کہا کہ فلاں جگہ پر آپ کے دوست جمع ہیں اور مختلف قسم کے باجے بجا رہے ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے تو ان کو گانے باجے اور محرمات سے دور رہنے کا حکم دیا تھا انہوں نے اچھا نہیں کیا اور پھر ان کے اس طرز عمل کی بڑی شد و مد سے تردید کی کہ ان لوگوں نے غلو سے کام لیا ہے، شریعت میں قوالی وغیرہ اور مزامیر کی کوئی اجازت نہیں، اس کے بعد فرمایا کہ شیخ اوحد الدین کرمانی ایک مرتبہ شیخ شہاب الدین کے پاس آئے، چنانچہ شیخ شہاب الدین نے اپنی جا نماز اکٹھی کرکے اپنے زانو کے نیچے رکھ لی اس سے مطلب آنے والے کی تعظیم کرنا ہوتی ہے جب رات ہوئی تو شیخ اوحدالدین نے سماع سننے کی خواہش ظاہر کی، شیخ شہاب الدین نے محفل سماع کے لیے ایک جگہ منتخب کی اور اسے خوب صاف و ستھرا کرایا اور اس کے بعد غزل خواں کو بلوایا اور خود گھر کے ایک کونے میں جاکر عبادت الٰہی میں مشغول ہوگئے۔

شیخ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حکایت اس تحریر کے خلاف ہے جو نفحات الانس میں ہے جس میں لکھا ہے کہ مولانا شہاب الدین کے پاس اگر کوئی شیخ اوحدالدین کا ذکر کرتا تو مولانا فرمایا کرتے کہ ہمارے سامنے اس بدعتی کا ذکر نہ کیا کرو، ساتھ ہی شیخ رکن الدین علاؤ الدین کا بیان ہے کہ یہ قصہ صحیح ہے اور مختلف اوقات پر محمول ہے باقی اللہ ہی زیادہ بہتر جاننے والا ہے۔

ایک شخص نے ایک مرتبہ ایک خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ مجھ سے خطا ہوئی اور ایک نامعقول کام کا مرتکب ہوا ہوں اور یہ رقعہ محبوبِ سبحانی کو دیدیا، خط پڑھنے میں محبوب سبحانی کو قدرے دیر ہوگئی، آپ نے خط کو پڑھا نہیں اور فرمایا کہ مولانا یہ خط آپ کا ہے؟ مولانا معذرت خواہی کے ساتھ آگے بڑھے اور کہا جی ہاں یہ خط بندۂ طبعی کا ہے آپ نے مسکراکر فرمایا خوب طبیعت خوب۔

محبوبِ سبحانی نے وصال سے چالیس دن پہلے کھانا ترک فرمادیا تھا اور آخری وقت جب اس دنیا سے جا رہے تھے تو پوچھنے لگے کہ نماز کا وقت ہوگیا اور کیا میں نے نماز پڑھ لی ہے؟ اس پر لوگ جواب دیتے کہ جی ہاں آپ نماز ادا فرما چکے ہیں تو ارشاد فرماتے کہ میں دوبارہ پھر پڑھتا ہوں، غرض یہ کہ ہر نماز کو تکرار سے پڑھتے اور فرماتے کہ ہم جا رہے ہیں ہم جا رہے ہیں، ہم جا رہے ہیں، پھر خادم کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ اگر گھر میں کسی قسم کا کوئی سامان رہا تو کل قیامت کے روز اس کے متعلق جواب دینا پڑے گا چنانچہ خادم نے سب کچھ لوگوں میں تقسیم کردیا، البتہ وہ غلہ رہنے دیا جو درویشوں کے کھانے کے لیے تھا (آپ نے خادم سے) پھر فرمایا کہ مُردہ مال کیوں رکھ چھوڑا ہےا س کو بھی نکال پھینکو اور گھر میں جھاڑو دیدو، تب خادم نے غلہ خانے کے دروازے کھول دیے اور لینے والے لوگوں کا ایک ہجوم جمع ہوگیا ور تمام غلہ لے گئے، اس کے بعد دوسرے خادموں نے عرض کیا کہ آپ کے بعد ہم غریبوں کا کیا حال ہوگا، آپ نے فرمایا (کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں) ہمارے روضہ سے تمہیں اتنا مل جایا کرے گا جو تمہاری ضروریات کے لیے کافی ہوگا۔ ان خادموں نے پھر عرض کیا کہ ہم میں سے آمدنی کو کون تقسیم کیا کرے گا؟ آپ نے فرمایا، تقسیم کرنے کا حقدار وہ ہے جو اپنے حصہ سے دستبردار ہوجایا کرے گا، بعد طلوع آفتاب بروز چہار شنبہ، 18؍ربیع الاول 725ھ میں آپ نے وفات پائی، حضرت محبوب سبحانی کا ارشاد ہے کہ چلنے والا کمال کی طرف متوجہ رہتا ہے، یعنی سالک جب تک سلوک کے مراحل طے کرتا رہتا ہے تو کمال کا اُمید وار رہتا ہے۔

امیدوار کی تین قسمیں ہیں؟ سالک، واقف، راجع، سالک وہ ہے جو راہ سلوک میں مسلسل چلتا رہے۔ واقف وہ ہے جس کی راہ سلوک میں کوئی وقفہ پیش آئے، اس مقام پر لوگوں نے عرض کیا کہ کیا سالک کو بھی اس راہ میں وقفہ پیش آجاتا ہے؟ فرمایا ہاں! اس وقت جب سالک کو عبادت کرنے میں کوئی کمی اور لغزش ہوجائے جس سے عبادت کا ذوق و لطف ختم ہوجائے تو اس وقت سالک کے لیے بھی وقفہ پیدا ہوجاتا ہے، اس حالت میں اگر سالک فوراً کوئی تدبیر کرکے اللہ کے حضور توبہ کرلے تو اپنی اصلی حالت پر رہ سکتا ہے اور اگر خدانخواستہ وہ اپنی موجودہ حالت پر ہی رہے تو پھر اس بات کا سخت خطرہ ہے کہ کہیں راجع نہ بن جائے اس کے بعد سالک سے جو سلوک کے راستہ پر چلتے ہوئے لغزشیں ہوجاتی ہیں ان کو بیان کیا کہ وہ کل سا
1