🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-04-1444 ᴴ | 13-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-04-1444 ᴴ | 13-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-04-1444 ᴴ | 13-11-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-04-1444 ᴴ | 13-11-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین محمد اولیاء محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ🕯*


آپ شیخ فرید الدین گنج شکر کے خلفاء میں سے تھے، آپ کا نام محمد بن احمد بن علی بخاری اور آپ کا لقب سلطان المشائخ نظام الدین اولیاء تھا، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محبوب اور مقرب تھے آپ کی برکات کے اثرات سے ہندوستان لبریز ہے، آپ کے دادا علی بخاری اور نانا خواجہ عرب دونوں اکٹھے بخارا سے لاہور تشریف لائے، یہاں ایک طویل عرصہ رہنے کے بعد بدایوں چلے گئے اور وہاں مستقل سکونت اختیار کی، آپ بہت کم عمر کے تھے۔ کہ آپ کے والد ماجد انتقال فرما گئے، جن کا مدفن بدایوں ہی میں ہے۔ شیخ نظام الدین اولیاء جب کچھ بڑے ہوئے تو آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کو ایک مدرسہ میں برائے حصول تعلیم داخل کردیا، جہاں آپ نے قرآن کریم اور اس کے علاوہ دوسری کتابیں پڑھنی شروع کیں، آپ کی عمر تقریباً بارہ برس کی ہوگی اس وقت آپ لغت علم ادب پڑھتے تھے، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ملتان سے ایک غزل خواں بنام ابوبکر آپ کے استاد کے پاس آیا اس نے کہا کہ میں نے شیخ بہاء الدین زکریا کے سامنے مجلس سماع میں یہ شعر پڑھا تھا لقد لسعت حیتہ الھوی کبدی ترجمہ: (محبت کے سانپ نے میرے دل کو ڈس لیا ہے) اور کہنے لگا کہ مجھے اس شعر کا دوسرا مصرعہ یاد نہیں رہا شیخ نظام الدین اولیاء نے فوراً دوسرا مصرعہ پڑھ کر سنایا، لا طبیب لھا ولا مراتی ترجمہ: (اس کے لیے نہ کوئی طبیب ہے، جو علاج و معالجہ کرکے اسے دور کردے اور نہ کوئی منتری ہے جو جھاڑ پھونک کرکے اس کے اثرات کو دل سے دور کردے) اس کے بعد اس غزل خواں نے شیخ بہاء الدین زکریا کی تعریفوں کے پُل باندھ دیے اور کہنے لگا کہ ان کے ہاں ذکر و شغل کی یہ حالت ہے کہ آپ کے ہاں چکی پیسنے والے مرد اور عورتیں بھی ذکر میں مشغول رہتے ہیں اور اسی قسم کی بہت سی باتیں بیان کرتا رہا لیکن ان میں سے کسی بات نے بھی نظام الدین اولیاء کے دل پر اثر نہ کیا پھر اس غزل خواں نے کہا کہ میں وہاں سے اجودھن (موجودہ پال پتن) پہنچا، وہاں میں نے طریقت کا ایک بادشاہ دیکھا جو ایسا اچھا اور ایسا بہترین ہے (یعنی بابا گنج شکر کے مختلف قسم کے فضائل بیان کیے) غزل خواں کی یہ باتیں سنتے ہی خواجہ نظام الدین اولیاء کے دل میں شاہ اجودھن کی محبت و اردات نے جگہ کرلی اور ان کی طبیعت پر ایک کیف و خود رفتگی سی طاری ہوگئی اور اسی وقت سے خواجہ نظام الدین اولیاء کے دل میں شیخ فرید کی محبت پیوست ہوگئی اور ان کے دیدار کی پیاس روز بروز بڑھتی رہی، چنانچہ اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے شیخ فرید کی ملاقات کا تصور ان کے ذہن میں رہنے لگا، پھر بدایوں سے آپ بغرض حصول تعلیم دہلی تشریف لائے اور صدر ولایت شمس الملک کے تلامذہ اور شاگردوں کے زمرہ میں داخل ہوکر مقامات حریری پڑھی، اسی طرح علم حدیث بھی آپ ہی سے حاصل کیا۔ (آپ چونکہ علم منطق میں بڑے ماہر تھے اس لیے) دوسرے طالب علم آپ کو نظام الدین منطقی کہا کرتے تھے، یہاں سے فراغت تعلیم کے بعد شیخ فریدالدین کے شوق ارادت میں آپ پاک پتن تشریف لے گئے اس وقت آپ کی عمر بیس سال کی تھی، پاک پتن پہنچ کر آپ نے شیخ فرید سے قرآن کریم کے چھ پارے تجوید کے ساتھ پڑھے، عوارف کے چھ باب کا درس لیا، تمہید ابوشکور سلمی اوربعض دیگر کتب بھی شیخ فریدالدین سے پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔

نظام الدین اولیاء فرمایا کرتے تھے کہ شیخ فرید الدین سے جب مجھے شرف پابوسی حاصل ہوا اس وقت اول ملاقات میں شیخ نے یہ شعر پڑھا تھا۔

اے آتش فراقت دلہا کباب کردہ
سیلاب اشتیاقت جانہا خراب کردہ

ترجمہ: (تیری فرقت اور جدائی کی آگ نے کئی دلوں کو کباب کردیا اور تیرے شوق کی آگ نے کئی جانیں خراب کردیں) اس کے بعد میں نے چاہا کہ آپ کی خدمت میں حاضری کے شوق کو ظاہر کروں لیکن آپ کا خوف مجھ پر اس طرح غالب آیا کہ صرف اتنا ہی کہہ سکا کہ ملاقات کا شوق بے انتہا غالب تھا، پھر مجھ پر خوف کے آثار دیکھ کر فرمایا ہر نئے آنے والے کو دہشت ہوتی ہے، اسی دن میں نے آپ سے بیعت کی اور پھر پوچھا کہ اب کیا ارشاد ہے؟ کیا پڑھنے کا سلسلہ ختم کرکے اب ورد و ظائف میں مشغول ہوجاؤں؟ فرمایا: ہم کسی کو حصول تعلیم سے منع نہیں کرتے وہ بھی کرو اور یہ بھی کرو، پھر دیکھو کون غالب آتا ہے، نیز فقیرا ور درویش کے لیے کچھ علم بھی ضروری ہے، اس کے بعد شیخ نظام الدین اولیاء نعمت خلافت حاصل کرکے دہلی واپس آگئے، پیر و مرشد شیخ فریدالدین گنج شکر کے پاس آپ دہلی سے پاکپتن تمام عمر میں تین مرتبہ ہو گئے، شیخ فریدالدین کے انتقال کے وقت خواجہ نظام الدین اولیاء اتفاقاً اسی طرح موجود نہ تھے جس طرح کہ شیخ فریدالدین کے انتقال کے وقت خواجہ نظام الدین بختیار کاکی کے وصال کے وقت ان کے پاس موجود نہ تھے اور اسی طرح خواجہ قطب الدین اپنے شیخ حضرت معین الدین چشتی کے انتقال کے وقت ان کے پاس موجود نہ تھ
1
ے اس واقعہ کے بعد باشارۂ غیبی خواجہ نظام الدین اولیاء دہلی چھوڑ کر اس کے قریب بستی غیاث میں قیام پذیر ہوگئے جہاں آپ کی خانقاہ بھی ہے۔

نظام الدین اولیاء نے ایک بار فرمایا کہ جب معز الدین کیقباد نے وہاں ایک نیا شہر آباد کرنا چاہا تو اس وقت لوگ بڑی کثرت سے میرے پاس آنے لگے، یہاں تک بادشاہ، رئیس و امیر سبھی لوگ میری طرف رجوع کرنے لگے تو میرے دل میں خیال آیا کہ اب یہاں سے بھی چلانا جانا چاہیے میں اسی خیال میں تھا کہ ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد میرے پاس ایک نازک اندام خوبصورت آدمی آیا اور اس نے یہ شعر پڑھا

آں روز کہ مہ شدی نمی دانستی
کانگشت نمائے عالمے خواہی شد

ترجمہ: (یعنی جب آپ ماہتاب بنے تھے اس وقت یہ کیوں نہ سمجھا کہ تم دنیا کے انگشت نما بنو گے) پھر اس جوان نے کہا کہ طریقہ یہ ہے کہ اول تو مشہور ہی نہ ہونا چاہیے، اور اگر شہرت عام ہوجائے تو پھر اس طرح رہنا چاہیے کہ کل کو محشر کے میدان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے، پھر فرمایا کہ یہ قوت اور حوصلہ کی بات نہیں کی مخلوق اللہ سے پوشیدہ ہوکر خدا کی یاد کی جائے، بلکہ قوت اور حوصلہ تو یہ ہے کہ مخلوق اللہ میں رہ کر خدا کی یاد کی جائے، جب اس سیم تن نے اپنی تمام باتیں کہہ لیں تو میں اس کے لیے کچھ کھانا لایا لیکن اس نے کچھ نہ کھایا، اس وقت میں نے اپنے دل سے عہد لیا کہ اب یہاں سے کسی اور جگہ نہ جاؤں گا، پھر اس نے تھوڑا سا پانی پیا اور چلا گیا، اس روز کے بعد آج تک پھر میں نے اس کو کبھی نہیں دیکھا، غرض یہ کہ نظام الدین اولیا نے جب وہاں رہنے کا پختہ ارادہ کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں کافی مقبولیت دی، عام و خاص سب لوگ آپ کی طرف رجوع کرنے لگے، اس کے بعد دست غیب اور فتوحات کے دروازے آپ پر کھلے گئے اور ایک جہاں اللہ تعالیٰ کے احسان و انعام کی مدد سے آپ کے ذریعہ سے فائدہ حاصل کرنے لگا، آپ کا اپنا حال یہ تھا کہ تمام اوقات ریاضت اور مجاہدۂ میں گزارتے، ہمیشہ روزہ رکھتے اور افطار کے وقت تھوڑا سا پانی پی لیتے، بوقت سحری عام طور پر کچھ نہ کھاتے، خادم جب کہتے کہ آپ نے افطار کے وقت بھی تھوڑا سا چکھا تھا اگر سحری میں بھی نہ کھائیں گے تو کیا حال ہوگا، ضعف اور کمزوری میں روز بروز اضافہ ہوتا جائے گا، خادموں کی یہ باتیں سننے کے بعد رو کر فرماتے، بہت سے مسکین اور درویش مسجدوں اور بازاروں میں بھوکے پڑے فاقے کر رہے ہیں، اب بتاؤ ان کی حالت دیکھ کر یہ کھانا میرے حلق سے نیچے کیسے اُترے گا، تب خادم مجبوراً آپ کے سامنے سے سحری کا کھانا اٹھالیتے تھے۔

منقول ہے کہ شیخ نظام الدین اولیاء نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں اپنے شیخ کے ساتھ کشتی میں سوار تھا، شیخ نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ میرے سامنے آؤ مجھے تم سے کچھ کہنا ہے، سنو، جب دہلی پہنچو، مجاہدہ کرتے رہنا بےکار رہنےمیں کوئی فائدہ نہیں، روزہ رکھنا آدھی منزل ہے، اور بقیہ اعمال مثلاً نماز، حج، یہ دوسری آدھی منزل ہیں، پھر ایک مرتبہ شیخ فرید نے فرمایا کہ میں نے اللہ سے دعا کی ہے کہ آپ اللہ سے جو مانگیں گے وہ مل جائے گا، ایک مرتبہ یہ بھی فرمایا کہ اے نظام الدین ہم نے تمہارے لیے اللہ سے دنیاوی قوت بھی مانگ لی ہے۔ خلیفہ بناتے وقت شیخ فریدالدین گنج شکر اپنے کمرے میں ننگے سر بیٹھے ہوئے تھے چہرۂ مبارک کا رنگ متغیر تھا اور یہ شعر پڑھ رہے تھے۔

رباعی

خوا ہم کہ ہمیشہ در رضائے تو زیم
خاکی شوم و بزیر پائے تو زیم
مقصود من خستہ زکونین توی
از بہرِ تو میرم و برائے تو زیم



ترجمہ: (میری تمنا یہ ہے کہ ہمیشہ تیری رضا میں رہوں اور خاک ہوکر تیرے پاؤں میں زندگی گزاروں دونوں جہانوں میں مجھ خستہ حال کا مطلوب تو ہی ہے، میرا مرنا بھی تیرے لیے اور جینا بھی تیرے لیے ہے) شیخ فریدالدین ان اشعار کو پڑھنے کے بعد اللہ کے حُضور سجدہ ریز ہوئے، جب متعدد بار آپ نے اسی طرح کیا تو میں آپ کے حجرے میں داخل ہوا اور آپ کے قدموں میں اپنا سر رکھا آپ نے فرمایا کیا چاہتے ہو، میں نے کچھ دینی اور مذہبی امور طلب کیے، سو آپ نے وہ امور مجھے عطا فرمادیے، اس کے بعد مجھے افسوس ہوا کہ میں نے محفل سماع میں مرنے کی خواہش کیوں نہ کی۔

شیخ فریدالدین ہمیشہ اپنے کمرے میں اکیلے رہا کرتے تھے، کمرے کا دروازہ اندر سے بند فرماکر تمام شب راز و نیاز میں مشغول رہتے صبح کو آپ کے درخشندہ چہرے کو جو کوئی دیکھتا تو یہی کہتا کہ شب بیداری کی وجہ سے آپ کی آنکھیں سرخ ہیں، لوگوں کا بیان ہے کہ میر خسر و دہلوی نے اپنے پیر و مرشد خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی کی تعریف میں یہ شعر کہا ہے

تو شبانہ می نمائی ببر کہ بودے اشب
کہ ہنوز چشم مستت اثرے خما ر دارد



ترجمہ: (آپ ہمیشہ رات کو دیدار کرتے ہیں، مگر آج رات کوئی خاص بات ہوئی ہے جس کی وجہ سے اب تک آپ کی آنکھوں میں خمار کے اثرات موجود ہیں)

ایک مرتبہ محبوب سبحانی خواجہ نظام الدین اولیاء نے فرمایا کہ ایک واقعہ میں مجھے ایک خط دیا گیا جس میں لکھ