🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 عید کے دِن کا وظیفہ 🌹
جو شخص عید کے دِن تِین سَو ³⁰⁰ مرتبہ ” سُبحٰنَ اللہ وَبِحَمدِہٖ “ پڑھے اور فوت شدہ مسلمانوں کی ارواح کو اس کا ایصالِ ثواب کرے تو ہَر مُسلمان کی قبر میں ایک ہزار ¹⁰⁰⁰ انوار داخِل ہُوتے ہَیں - اور جب وہ پڑھنے والا خود مرے گا , اللہ تعالیٰ ﷻ اس کی قبر میں بھی ایک ہزار ¹⁰⁰⁰ انوار داخِل فرمائےگا ‼️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یہ وِرد دونوں عیدین (عید الفطر و عید الضحیٰ = عید و بقرعید ) میں کیا جا سکتا ہے ‼️
[ مکاشفۃ القلوب 📖 صفحہ 308 ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 عِیدِ قرباں مُبارڪ ہُو 🌹

میری طـرف سـے آپ ڪو اور
آپ کے اہلِ خانہ کو عید الضحیٰ
کی بہت بہت مُبارڪ باد 🌹

اَللہ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ بَطُفَـیلِ مُـصـطَـفیٰ ﷺ
آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو عیدِ سعید
کی خوشِیُوں سے مالا مال فرمائے - آمِین


🌹تقبل اللہ منا ومنكم صالح الأعمال🌹

ْ مِنجانِب
عُـبَیۡدِ غَوۡثُ‌ؔوخَواجَہؔ، رَضَاؔ وَکُـل اَولِـیَآء
مُحَمَّدۡ جَمَالُ‌الـدِّیۡنۡ خَانۡ قَادِرِیۡ رَضَـوِیۡ
ضِـلَـعۡ بَـہۡـرَائِـچ شَـرِیۡف یُوۡ. پِیۡ. اَلـہِـنۡـدۡ
مُوۡبَائِل نَمبَر +917860520899 📱
سُنِّیُوں کو عِیدِ قرباں مُبارڪ ہُو !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🌹 دُنیا بهر کے تَمام سُنِّی صَحیحُ
العقیدہ مُسَلمَانُوں کو عید الضحیٰ
🌹 خٗوب خٗوب مُبارڪ ہُو 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
دنبہ جنتی یا دنیاوی؟

ہم بچپن سے ہی یہ بات سنتے آ رہے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے ذبح کرنا چاہا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السلام ایک دنبہ لے کر آئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ وہ دنبہ ذبح ہوا۔ اس واقعے کو مختلف طریقوں سے الفاظ کی کمی و بیشی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، لیکن جب ہم کئی کتابوں میں اس واقعے پر غور کریں گے تو ذبح ہونے والے دنبے کے بارے میں کئی سوالات ذہن میں آئیں گے، مثال کے طور کچھ سوالات ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں:

(1) کیا ذبح ہونے والا دنبہ جنتی تھا؟
(2) اس کا گوشت کہاں گیا؟
(3) کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کا گوشت اس لیے نہیں پکایا گیا کیوں کہ جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے دور میں اس جنتی دنبے کی سینگ میں آگ کیسے لگی؟
(4) کئی کتابوں میں جب اس کے سینگ کے جلنے کی صراحت موجود ہے تو پھر اس کے جنتی ہونے پر حرف آئے گا یا نہیں؟

اس مختصر سے مضمون میں ہم اسی طرح کے کچھ سوالوں کے جوابات دلائل کی روشنی میں دینے کی کوشش کریں گے۔

حضرت علامہ مفتی محمد اسماعیل حسین نورانی لکھتے ہیں کہ حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جو دنبہ ذبح ہوا تھا وہ کہاں سے آیا تھا؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں، اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ وہ دنبہ جنت سے اتارا گیا تھا، جیسا کہ تفسیر خازن، تفسیر بغوی اور دیگر تفاسیر میں موجود ہے۔ (خازن، ج4، ص39)

اب رہا یہ سوال کہ اس دنبے کا گوشت کہاں گیا یا کیسے تقسیم ہوا؟ تو اس حوالے سے علامہ صاوی مالکی اور سید سلیمان جمل کی رائے یہ ہے کہ وہ دنبہ چوں کہ جنت سے اتارا گیا تھا اور جنت کی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی، اس لیے اس کا گوشت پکایا نہیں گیا اور نہ تو تقسیم کیا گیا بلکہ اسے پرندوں اور درندوں نے کھا لیا۔ علامہ صاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اس دنبے کے اجزا کو پرندوں اور درندوں نے کھا لیا کیوں کہ جنت کی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی اور علامہ سید سلیمان جمل رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
یہ بات ثابت ہے کہ جنت کی کسی بھی چیز پر آگ اثر نہیں کرتی، اس لیے اس دنبے کا گوشت پکایا نہیں گیا بلکہ اسے درندوں اور پرندوں نے کھا لیا۔ (حاشیۃ الجمل علی الجلالین، ج3، ص549)

(انظر: انوار الفتاوی، ج1، ص287، ط فرید بک سٹال لاہور)

اسی طرح حضرت علامہ مفتی محمد یونس رضا اویسی لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس جنتی مینڈھے کو ذبح کیا اس کا گوشت کس نے کھایا تھا؟ اس بارے میں کوئی روایت نظر سے نہ گزری البتہ یہ دیکھا کہ اس کے گوشت کو درندوں اور پرندوں نے کھایا تھا۔ تفسیر صاوی میں ہے کہ ذبح کے بعد مینڈھے کے گوشت کو درندوں اور پرندوں نے کھا لیا کیوں کہ آگ جنتی چیزوں پر اثر نہیں کرتی۔ (صاوی، ج3، ص322)

(انظر: فتاوی بریلی شریف، ص301، ط زاویہ پبلشرز لاہور)

مذکورہ عبارات سے معلوم ہوا کہ وہ دنبہ جنتی تھا اور اسی وجہ سے اس کا گوشت پکایا نہیں گیا لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی، ابھی ہمارے سامنے اور بھی کچھ اقوال ہیں جن سے الجھنیں مزید بڑھتی ہیں چناں چہ:

تفسیر کی کئی کتابیں مثلاً تفسیر کبیر، تفسیرات احمدیہ، تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی اور تفسیر روح البیان وغیرھم میں صراحتاً اس بات کا ذکر ہے کہ اس مینڈھے کی سینگ کعبہ شریف میں آویزاں تھی، یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں فتنۂ حجاج بن یوسف کے وقت کعبہ شریف میں آگ لگی اور وہ (سینگ) جل گئی۔ اب یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب اس مینڈھے کا گوشت اس وجہ سے نہیں پکایا گیا کہ وہ جنتی ہے اور جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی تو پھر اسی جنتی مینڈھے کی سینگوں میں آگ کیسے لگی اور وہ کیسے جل گئی؟ اب یا تو وہ جنتی نہیں اور اگر جنتی ہے تو سینگ کا جلنا ممکن نہیں۔ اسی گتھی کو سلجھانے کے لیے اب ہم مزید اقوال کو نقل کر رہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

جاری...

عبد مصطفی
دنبہ جنتی یا دنیاوی؟

فتاوی فقیہ ملت میں ایک سوال ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس جنتی مینڈھے کو ذبح کیا تھا اس کو جانوروں نے کھا لیا اور اس کی سینگ کعبہ میں رکھ دی گئی جو کعبہ میں آگ لگنے کی وجہ سے جل گئی تو سوال یہ ہے کہ جب جنتی چیزوں کو آگ نہیں کھا سکتی تو اس کی سینگ کیسے جل گئی؟

جواب میں لکھا گیا ہے کہ جو مینڈھا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح ہوا تھا اس کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ وہ جنت سے آیا تھا اور بعض کے نزدیک یہ ہے کہ وہ منجانب اللہ شبیر پہاڑ سے اتارا گیا تھا اور اگر یہ صحیح ہے کہ یزیدی حملے کے وقت اس کی سینگ جل گئی تھی تو ظاہر یہی ہے کہ وہ شبیر پہاڑ ہی سے آیا تھا۔

(انظر: فتاوی فقیہ ملت، ج2، ص281، کتاب الخطر والاباحۃ، ط شبیر برادرز لاہور)

حضرت علامہ مفتی محمد وقارالدین رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ذبح ہونے والے دنبے کا گوشت کہاں گیا؟ بانٹ دیا گیا، آگ اٹھا کر لے گئی یا کوئی درندہ کھا گیا؟
آپ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ اس بارے میں تفاسیر میں مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں۔ اس پر تو اتفاق ہے کہ اس دنبے کے سینگ خانۂ کعبہ میں رکھے گئے تھے اور حضور اکرم ﷺ کی ظاہری حیات تک محفوظ تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں حجاج بن یوسف نے مکے پر حملہ کیا تھا جس سے خانۂ کعبہ میں آگ لگ گئی تھی تو سینگوں کا کیا ہوا؟ اس کا تذکرہ نہیں ملتا۔
گوشت کے متعلق زیادہ مشہور قول یہ ہے جسے علامہ صاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس کا گوشت جانور کھا گئے تھے۔ (صاوی میں وجہ بھی بیان کی گئی ہے جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں)

(انظر: وقار الفتاوی، ج1، ص70، ط باب متعلقہ انبیاے کرام)

مفتی محمد خلیل خان برکاتی سے سوال ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس دنبے کو ذبح فرمایا اس کی کھال کدھر گئی؟
جواب میں لکھتے ہیں کہ فقیر کے علم میں نہیں کہ وہ کھال کہاں گئی۔

(انظر: احسن الفتاوی المعروف بہ فتاوی خلیلیہ، ج1، ص399، ط ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)

مذکورہ تمام عبارات سے بھی مکمل طور پر بات سمجھ میں نہیں آتی لہذا اب ہم ایک آخری عبارت کو نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ اس عبارت کے بعد ہم کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

حضرت مولانا محمد عاصم رضا قادری سے اسی بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے تحقیقی جواب تحریر فرمایا جس کی تصدیق حضرت علامہ مفتی قاضی محمد عبد الرحیم بستوی نے فرمائی ہے۔
آپ جواب میں لکھتے ہیں کہ یہ بات تو صحیح ہے کہ جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی جیسا کہ علامہ صاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے اور مینڈھے کی سینگوں کے جلنے کی صراحت کتب تفاسیر میں موجود ہیں مثلاً تفسیر کبیر، تفسیرات احمدیہ، تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی اور تفسیر روح البیان وغیرھم۔

(مزید لکھتے ہیں کہ) اس مینڈھے کے جنتی ہونے میں اختلاف ہے، چناں چہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جو جانور ذبح کیا گیا وہ ایک پہاڑی بکرا تھا جو "شبیر پہاڑ" سے اترا تھا اور یہی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی قول ہے تو اس صورت میں کوئی اختلاف نہیں لیکن حضرت ابن عباس و علامہ سدی اور دیگر مفسرین کے کلاموں میں یہ ہے کہ وہ جنتی مینڈھا تھا جسے بہ حکم الٰہی حضرت جبریل علیہ السلام جنت سے لے کر آئے اور یہ وہی مینڈھا تھا جس کی حضرت آدم علیہ السلام کے لڑکے "ہابیل" نے قربانی کی تھی۔ یہ مینڈھا چالیس سال تک جنت میں چرتا رہا اور پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ قربان کیا گیا مگر اس سے فی نفسہ اس کا جنتی ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ تفسیر روح البیان کی روایت کے مطابق یہ وہی مینڈھا تھا جسے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے نے بارگاہ الہی میں پیش کیا تھا۔ (تفسیر روح البیان، ج2، ص379)

ان روایات سے اس کا جنتی ہونا ثابت نہیں ہوا تو اب اس کی سینگ کا جلنا دنیاوی چیز کا جلنا ہوا۔ بہرحال تفسیری روایات مختلف ہیں قطعی فیصلہ مشکل ہے۔

(انظر: فتاوی بریلی شریف، ص364، 365، 366، ط زاویہ پبلشرز لاہور)

عبد مصطفی
عرس مبارک خلیفۂ سوم امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی = عثمان بن عفان
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ شہادت = ¹⁸ ذی الحجہ ۵۳؁ ھ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سیدنا عثمان غنی رضی‌اللہ‌عنہ

ذُوالْحِجَّۃِ الحرام کا مہینہ ہمارے درمیان اپنی رحمتوں اور برکتوں کی بارش برسا رہا ہے، اس ماہ کی 18 تاریخ  کو تیسرے خلیفۂ راشد،رسولِ کریم، محبوبِ ربِّ عظیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک کے بعد دُوسری شہزادی سے نکاح کا شرف پانے والے،بہت زیادہ سخاوت فرمانے والے،صبر و شفقت فرمانے والے،بہت زیادہ شرم وحیا کرنے اور غریبوں سے بہت مَحَبَّت فرمانے والے،اللہ پاک اور اس کے رسول عَلَیْہِ الصلوۃ و السَّلَام کے پیارے  اَمِیْرُالمؤمنین حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کا یومِ شہادت ہے، ان کے فضائل پر مبنی چند باتیں ملاحظہ ہوں

حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ اُن خوش نصیب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں شامل ہیں جو شروعِ اسلام میں ایمان لائے تھے
حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے  دومرتبہ راہِ خدا میں ہجرت کاشرف حاصل کیا 

حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ ِغنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ وہ شخصیت ہیں جنہیں جامع القرآن ہونے کاشرف حاصل ہے

حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے

حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنِیَ اللہُ عَنْہ  کا نام ان صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی فہرست میں شامل ہے جو رشتہ داروں کی تمام تر تکالیف سہنے کے باوجود ایمان پر ثابت قدم رہے

حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ سراپانُور، شافعِ یوم النُّشور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دو شَہزادیاں یکے بعد دِیگرے ان کے نکاح میں آئیں

حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سیرت میں بھی بے مثال تھے، صورت میں بھی بے مثال تھے

حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا شمار اللہ کریم کے ان مقرب بندوں میں ہوتا ہے جو ساری ساری رات عبادت و بندگی میں گزار دیتے تھے

حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ان لوگوں میں شامل تھے جو ہر وقت خوفِ خدا اور تقویٰ وپرہیزگاری سے رہتے تھے

حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایسے تحمل مزاج تھے کہ خود جامِ شہادت نوش کر لیا مگر رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شہرِ مبارک کو خون آلود نہیں ہونے دیا

حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سخاوت میں اپنی مثال آپ تھے

حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ حِلْم اورصبر و شفقت میں بھی اپنی مثال آپ تھے

حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ  عاجزی و انکساری والے بزرگ تھے۔

*حضور نبیِ کریم، رسولِ رحیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ* نےآپ رضی اللہ عنہ کی شان میں جو تعریفی کلمات ارشاد فرمائے ان میں سے  5 *فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ*
 
🔶 *”عثمان مجھ سے ہے اور میں عثمان سے ہوں۔"*

🔷 *”جَنَّت میں ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرے رفیق عثمان بن عَفّان ہیں۔“*

🔶 *”بروزِ قِیامت عثمان کی شفاعت سے سَتّر ہزار (70000)ایسےآدمی بِلاحساب جَنَّت میں داخل ہوں گے جن پر جَہنَّم واجب ہو چکی ہو گی۔"*

🔹 *’’ میری اُمّت میں سب سے زیادہ پیکرشرم و حیا اور معزز ومکرم عثمان بن عفّان ہیں۔"*

🔸 *’’ میری امت میں سب سے زیادہ با حیا انسان عثمان بن عفّان ہیں۔‘‘*

*(15 اگست کے ہفتہ وار اجتماع کے بیان سے ماخوذ)*

اللہ کریم ہمیں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فیضان سے مالا مال فرمائے

ایک بار سورۃ الفاتحہ اور تین بار سورۃ الاخلاص پڑھ کر ایصال ثواب کیجئے

✍🏻 ابو بنتین محمد فراز عطاری
مدنی عفی عنہ
+92-321-2094919
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
احباب! أبو عاتکہ أزھار أحمد أمجدی أزھری غفرلہ کے اکثر مقالات پڑھنے کے لئے:

(۱) إطلالة على حياة فقيه الملة رحمه الله (۲) جامعہ ازہر شریف اور اس کے کلیات کا مختصر تعارف (۳) حدیث معلول کا فنی جائزہ (٤) حدیث: حب الوطن من الإيمان ایک تحقیقی جائزہ (٥) مشہور حدیث: اطلبوا العلم و لو بالصین تحقیقق کے آئینہ میں (٦) مضمون: بابا رتن ہندی بحیثیت صحابی رسول" آخری قسط کا منصفانہ جائزہ (٧) حدیث ضعیف محدثین کی نظر میں ایک تجزیاتی مطالعہ (٨) حدیث: ما بین قبری و منبری روضۃ من ریاض الجنۃ کی تحقیق (٩) نماز کی حالت میں سینے پر ہاتھ رکھنے والی روایات تحقیق و تنقید کی روشنی میں (۱۰) نقابت اور ہماری ذمہ داریاں (۱۱) مفتی مالوا مفتی حبیب یار خاں رحمہ الله (۱۲) مصالحت برائے اختلافات اکسیر اعظم (١٣) مدارس اسلامیہ کی زبوں حالی (١٤) محدث بریلوی رحمہ اللہ اور علم اصول حدیث ۱ (١٥) محدث بریلوی رحمہ اللہ اور علم اصول حدیث ۲ (١٦) فقہ حنفی میں احادیث کا مقام (١٧) علامہ خوشتر اور دعوت فکر و عمل (١٨) عالم با عمل امین شریعت (١٩) شیعہ امامیہ اور اصول روایت عرض و نقد (۲۰) سید عبد الشکور شاہ جیلانی رحمہ اللہ کی زندگی چند اہم گوشے (٢١) رمضان میں آواز (٢٢) دینی و عصری علوم کی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت (٢٣) خاموشی بہ از گفتن (٢٤) حضور فقیہ ملت اور سراج الفقہاء کچھ یادیں کچھ باتیں (٢٥) حضور تاج الشریعہ کی تحقیقی کتاب: الصحابة نجوم الاھتداء پر ایک نظر (٢٦) چالیس احادیث یاد کرنے کی فضیلت و تحقیق (٢٧) تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز (٢٨) ایں سعادت بزور بازو نیست (٢٩) ایک مجلس میں تین طلاق ایک (٢٩) افضلیت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ (٣٠) اصلاح خودی کا عملی فقدان (٣١) احادیث صحیحہ کے صحاح ستہ میں منحصر ہونے کا منصفانہ جائزہ (٣٢) ابدال کے وجود کی تحقیق احادیث کی روشنی میں (٣٣) آداب دعا اور اسباب کا استعمال (٣٤) آداب اختلاف فقہا۔

مندرجہ ذیل بلاگ پر وزٹ کریں:
http://aamjadiazhari.blogspot.com/?m=0http://aamjadiazhari.blogspot.com/?m=0
*صدرالافاضل: اعلیٰ حضرت کی نگاہ میں!*
73ویں عرس صدرالافاضل پر خصوصی تحریر

غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
gmnaimi@gmal.com

صدرالافاضل حضرت مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی(پ:۱۳۰۰ھ؍۱۸۸۳ء)برٹش انڈیاکے نامور عالم دین گزرے ہیں۔جن کی خداداد صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف رہا ہے۔تدریس وتحریر ہوکہ تقریر وتنظیم،کون سا میدان ہے جس میں اس مرد قلندر نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر نہ بکھیرے ہوں۔آپ کی صلاحیت واستعداد کا اندازہ لگانے کے لئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری (پ:۱۲۷۲ھ؍1856ء) کے دو تبصرے ملاحظہ فرمائیں جس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ صدرالافاضل کا علمی مقام ومرتبہ کیا تھا؟

*صدرالافاضل کی پہلی تصنیف پراعلیٰ حضرت کا تبصرہ:*

ریاست رامپور کی سرزمین پر حضرت مولانا شاہ سلامت اللہ رامپوری علیہ الرحمہ نے عقائد اہل سنت کی حمایت اور وہابیت کی بیخ کنی کے لیے ایک معرکۃ الآرا کتاب "اعلام الاذکیاء" تحریر فرمائی تھی،اس کتاب کے منصہ شہود پر آتے ہی ایوان وہابیت میں زلزلہ طاری ہو گیا. عوام اہل سنت پر ظاہر ہوگیا کہ حنفیت کی آڑ میں اسماعیلی فکر کو بڑھاوا دے کر ابن عبدالوہاب نجدی کے گمراہ نظریات کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔اس لیے علمائے دیوبند نے اپنی خفت مٹانے اور عوام کی نگاہ میں اپنی عزت کو بچانے کے لیے رامپور کے ہی ایک دیوبندی عالم مولوی واحد نور کو آگے بڑھا کر شاہ صاحب کی کتاب کی تردید میں "اعلائے کلمۃ الحق" نامی کتاب لکھوائی اور بزعم خود "اعلام الاذکیاء" کا رد کیا گیا ،حالانکہ شاہ صاحب کی جلالت علمی کے سامنے وہ کتاب کہیں نہیں ٹھہرتی مگر چند بے سرو پا سوالات قائم کر کے عوام پر یہ دھونس جمائی کہ دیکھو ہم نے شاہ سلامت اللہ صاحب کا علمی رد کر دیا۔حافظ واحد نور کی کتاب جب حضرت صدر الافاضل کے مطالعہ میں آئی تو آپ نے کوئی خاص توجہ نہیں دی مگر مرادآباد کی ایک مشہور شخصیت،محب اعلیٰ حضرت، الحاج ملاّ اشرف شاذلی صاحب نے اس کے ردکااصرارکیا کہ آپ ضرور اس کتاب کا رد فرمائیں کہ وہابیہ شور کرتے ہیں کہ ہم نے شاہ سلامت اللہ صاحب کی کتاب کا رد کر دیا اور کوئی سنی عالم ہمارا جواب نہیں دے پا رہا ہے۔
حاجی صاحب کے پیہم اصرار پر آپ نے حافظ واحد نور کی "اعلائے کلمۃالحق" کے رد میں یہ بلند پایہ کتاب
*"الکلمۃ العلیا لاعلاء علم المصطفیٰ"* تحریر فرمائی۔
جب یہ کتاب مستطاب مکمل ہو گئی تو حاجی اشرف صاحب اس کتاب کو لیکر مجدد دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ مفتی غلام معین الدین نعیمی فرماتے ہیں:
"حاجی صاحب نے اعلیٰ حضرت کی خدمت اقدس میں کتاب پیش کی۔اعلیٰ حضرت نے اس کو ملاحظہ کر کے فرمایا:
*"ماشاء اللہ بڑی عمدہ،نفیس کتاب ہے،یہ نو عمری اور اتنے احسن دلائل کے ساتھ اتنی بلند پایہ کتاب مصنف کے ہونہار ہونے پر دال ہے‘"*۔
(حیات صدرالافاضل،ص۴۷)

یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ اس کتاب کی تصنیف کے وقت صدرالافاضل محض بیس سال کے نوعمر جوان تھے اور اُسی سال آپ نے مروجہ علوم سے فراغت حاصل کی تھی۔باوجودیکہ یہ کتاب آپ کی پہلی تصنیف اور نو عمری کی کاوش ہے مگر علم وتحقیق کی دنیا میں اس کتاب کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا،اپنے ہوں یا بیگانے سب نے اس کے طرز تحریر،زورِ استدلال،حوالہ جات کی کثرت اوراس کے ہمہ گیر اثرات کا اعتراف کیا۔علم غیب مصطفی پر برّ صغیر ہندوستان میں اتنے مدلل ومفصل انداز میں لکھی جانے والی چند اہم کتابوں میں سے یہ ایک نمایاں تصنیف ہے ۔جس نے سرکارِمصطفی علیہ التحیۃ والثنا کے علم پاک پر سوال اٹھانے والوں کو عاجز وساکت کر دیا۔
اس طرح بارگاہ اعلیٰ حضرت میں صدرالافاضل کا چرچا تو پہنچ گیا لیکن ابھی تک بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔جلد ہی ایک ایسا موقع بھی آیا کہ تاریخ کی ان دو عظیم شخصیتوں کی ملاقات ہوئی ،اور ملاقات بھی ایک ایسے جذبہ دینی کے سبب ہوئی جس کی آج بڑی ضرورت ہے۔بحرالعلوم حضرت مفتی عبدالمنان اعظمی نے اعلیٰ حضرت اور صدرالافاضل کی ملاقات کی جو روداد قلم بند فرمائی ہے ہم اسے یہاں من وعن نقل کرتے ہیں:

*تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئے:*

امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خاں صاحب رضی اللہ عنہ کی کتابوں کے مطالعہ سے آپ [صدرالافاضل] کے دل میں ان کی غائبانہ محبت وعقیدت پیدا ہوچکی تھی مگر ابھی ملاقات کا کوئی موقع فراہم نہ ہوا تھا ۔ اس کی تقریب یہ ہوئی کہ جودھپور کے ادریس نامی وہابی نے مرادآباد کے اخبار "نظام الملک" میں اعلیٰ حضرت کے خلاف ایک مضمون شائع کیا ، جو سب وشتم اور لغویات سے بھرا ہوا تھا آپ نے اسے ملاحظہ فرمایا تو بقول حضرت مولانا محمد عمر صاحب نعیمی کے صدرالافاضل کو بخار چڑھ آیا اسی رات اس کے رد میں مضمون تیار کیا اور صبح نفس نفیس خود اخبار کے دفتر جاکر اخبار کے ایڈیٹر سے اس کی اشاعت کے لئے کہا وہ آپ کا جواب شائع کرنے کے لئے تیار نہ تھا ۔ آپ نے فرمایا تم میرا مضمون چھاپو،اس سے سُن
نائب بزرگ‘‘ ہی ہوتا ہے۔
اعلیٰ حضرت کے دوتبصروں سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ صدرالافاضل کا علمی اٹھان کس درجے پر تھا۔یہاں یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ وہ زمانہ صدرالافاضل کے عنفوان شباب کا زمانہ تھا،ابتدائی عمرمیں یہ عالم تھا تو پختہ عمرکے علمی مقام کا کیا عالم رہا ہوگا؟
اسی لئے اعلیٰ حضرت نے آپ کو "صدرالافاضل" جیسا خطاب عطافرمایا جوافاضلین زمانہ کی بھیڑمیں آپ ہی کی قامت زیبا پر جچتا تھا۔
اللہ تعالیٰ اس مرد قلندر کی تربت پرانوار وتجلیات کی بارشیں برسائے اور ہمیں ان کے علمی فیضان سے خوب خوب سیراب فرمائے،آمین۔
*نوٹ*
18 ذوالحجہ کو آپ کا عرس ہوتا ہے.
ّی بھی تمہارے پرچے کے خریدار ہوجائیں گے ، پھر جودھپوری اگرمیرے مضمون کا رد لکھے اس کو بھی چھاپو، پھر میرا جواب الجواب بھی شائع کرو ،اس طرح تمہارے پرچے کی خریداری ایک دم بڑھ جائے گی ، یہ کاروباری لائن اس کے سمجھ میں آگئی اور اس نے اس سلسلہ کے کئی مضامین شائع کئے ۔
مختلف جگہ سے اعلیٰ حضرت معتقدین نے ان کے پاس یہ خط لکھا کہ "نظام الملک" میں آپ کے جو مضامین شائع ہوئے ہیں وہ آپ ہمیں بھیج دیجئے۔
آپ کو حیرت تو ہوئی کہ میں نے کچھ شائع نہیں کرایا ہے پھر بھی آپ نے مرادآباد کے ایک شاذلی بزرگ الحاج محمد اشرف کو جو آپ کی خدمت میں آتے جاتے رہتے تھے، لکھ بھیجا کہ "نظام الملک" کے ایک ماہ کے پرچے فراہم کرکے ساتھ لائیں۔
وہ پرچے جب اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے صدرالافاضل کے مضمون کا زور بیان ، اس کی صاف ستھری زبان ، حسن ترتیب ، اور قوت استدلال ملاحظہ فرمایا،بے حدخوش ہوئے اور پوچھا :
*"یہ مولانا نعیم الدین صاحب کون بزرگ ہیں"؟*
حاجی صاحب نے عرض کی۔یہ مرادآباد کے ہی ایک نوجوان فاضل اور اعلیٰ قابلیت کے سنی عالم ہیں ۔ آپ نے ملاقات کی خواہش ظاہر فرمائی ۔ حاجی صاحب نے اپنے ساتھ لے جاکر ملاقات کرائی ۔
اعلیٰ حضرت نے آپ کا بڑا اعزاز واکرام فرمایا ۔ پھر تو ہر مہینہ آپ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتے تھے ۔ اس طرح علم ودانش کے ایک پر شور دریائے عظیم کو معارف الٰہیہ کے ایک بحر ذخار کی آغوش راحت نصیب ہوئی. (مفتی عبد المنان اعظمی:المیزان امام احمد رضا نمبر، ص۱۸۸)
مذکورہ اقتباس کو پڑھ کر سطح ذہن پر اصاغرنوازی،علم دوستی اور اعتراف صلاحیت کے خوب صورت مناظر دکھائی دیتے ہیں،یہاں ہم چند اہم نکات بھی قارئین کی نگاہوں کے سامنے رکھتے ہیں:
🔹 اعلیٰ حضرت(پیدائش ۱۲۷۲ھ) صدرالافاضل(پیدائش۱۳۰۰ھ) سے 28سال بڑے تھے۔
🔹 جس وقت صدرالافاضل کی پہلی ملاقات ہوئی اس وقت آپ اکیس سال کے ابھرتے ہوئے نوجوان تھے۔
🔹 اس نوعمری میں آپ کے قلم کی کاٹ،زور بیان،حسن ترتیب ،ستھری زبان اور قوت استدلال کا عالم تھا کہ لوگوں نے اسے اعلیٰ حضرت کی تحریر سمجھا۔
🔹 صدرالافاضل کے مضامین کاایسا معیاری ہونا کہ لوگ اعلیٰ حضرت کی تحریر سمجھ بیٹھیں، یقیناً یہ صدرالافاضل کے خداداد علم پر بڑی شہادت ہے۔
🔹 جس وقت صدرالافاضل کے مضامین کو دیکھ کر اعلیٰ نے آپ کو بلاوا بھیجا اس وقت تک اعلیٰ حضرت دو سو سے زائد کتابیں تصنیف فرما چکے تھے،اور آپ کے علم وفضل کا شہرہ عام ہوچکا تھا۔لیکن پھر بھی ایک نوعمر عالم دین کے اٹھتے ہوئے علمی شباب اور فکری اٹھان کو دیکھ کر بلاوا دینا حضور پاک ﷺ کے فرمان عالیشان "رحم اصاغر" پر عمل ہے اور آپ کی اصاغرنوازی کی خوب صورت مثال ہے۔موجودہ وقت میں ایسی مثالیں عنقا ہوچکی ہیں۔
🔹 اعلیٰ حضرت کے خلاف ادریس نامی وہابی کی تحریر پڑھ کر صدرالافاضل کو بخار آجاتا ہے۔حالانکہ اس وقت تک اعلیٰ حضرت سے آپ کی کوئی شناسائی نہیں تھی اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی تعلق تھا لیکن ایسی بے لوث محبت کہ شدت الفت کے باعث بخار آگیا،یہ یقینا صدرالافاضل کی گہری اسلامی محبت اور جذبہ اخوت کا روشن وبیّن ثبوت ہے۔حالانکہ "المعاصرۃ وجہ المغایرۃ" کا مقولہ بڑا مشہور ہے لیکن جہاں جذبات اسلامی ہوں،فکرخالص ہو وہاں اپنی جماعت کے سرخیل عالم سے ایسا ہی عشق ہونا چاہیے جیسا صدرالافاضل کے عمل سے ظاہر ہوا۔
🔹 بخار کے باوجود صدرالافاضل رات میں ہی اس وہابی کا رد بھی تحریر فرماتے ہیں،یعنی کسی مصیبت کو دیکھ کر بستر پکڑ لینا بھی کارِ دانشمندی نہیں ہے بلکہ اس مصیبت کو دفع کرنا اصل کمال ہے جیسا کہ صدرالافاضل نے شدت بخار کے باوجود بلا تاخیر اس وہابی کا رد تحریر کیا۔
🔹 اخبار کے ایڈیٹر کے مضمون کی اشاعت سے انکار پر جس حسن تکلم کے ساتھ اسے اشاعت پر آمادہ کیا یہ صدرالافاضل کی زمانہ شناسی اور مردم شناسی کی ایک بے حد چمکدار ،روشن مثال اور "کلموا الناس علیٰ قدر عقولھم" کا شاندار مظاہرہ ہے۔
🔹 بعدہ جب ان مضامینِ صدرالافاضل کو اعلیٰ حضرت نے ملاحظہ فرمایا تو پوچھا:
*"یہ مولانا نعیم الدین کون بزرگ ہیں۔‘"*
یہاں اعلیٰ حضرت کے اس قول’"مولانا نعیم الدین کون بزرگ ہیں"کے دو معانی ہوسکتے ہیں:
1۔صدرالافاضل کا معیار تحریر واقعی اتنا اعلیٰ تھا کہ کسی بزرگ کا ہی ہوسکتا تھا۔ایک نوجوان سے ایسی معیاری تحریر کی امید نہیں ہوتی۔
2۔یا پھر امام احمد رضا اپنے ممدوحین کو یہ بتارہے ہیں کہ صاحب تحریرایک بزرگ ہیں۔ اس لئے جب ملنے آئیں تو ان کی نو عمری کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھانا۔
فقیر کے فہم ناقص کے مطابق دوسرا معنی زیادہ قرین قیاس ہے کیوں کہ بعد میں زمانے نے دیکھا کہ اعلیٰ حضرت جیسی عبقری شخصیت نے صدرالافاضل کو اپنی بارگاہ میں وہ "مقام خاص" عطا کیا جو ان کے کسی شاگرد،خلیفہ اور قریبی کو نہ ملا۔یہی وہ "مقام خاص" تھا کہ اعلیٰ حضرت نہایت اہم معاملات میں صدرالافاضل سے مشاورت فرمایا کرتے اور اہم مقامات پر اپنا نائب بنایا کرتے تھے اور کسی ’’بزرگ کا
ماہ محرم الحرام اور من گھڑت واقعات
----- قسط ششم -------------
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
---------------------------------
قارئین آپ نے سیدنا امام مسلم رضی اللہ عنہ کے پیارے بچے محمد و ابراہیم کے بارے میں اکثر تقاریر میں اور کچھ کتابوں میں پڑھا ہوگا کہ وہ سیدنا امام مسلم کے ساتھ کوفہ تشریف لے گیے قاضی شریح کے یہاں تھے بعد شہادتِ امام مسلم ان بچوں کو قاضی شریح نے ایک قافلے کے ساتھ کر دیا مگر شومئی قسمت وہ بچے قافلے سے نہ مل سکے آخر کار بے پناہ مصائب برداشت کرتے ہوئے ایک مقام پر پہنچے کچھ لوگوں نے مشکور نامی داروغہ کے حوالے کیا اور پھر وہ محب اہلبیت تھا اس نے خاطر تواضع کرنے کے بعد ایک انگوٹھی بطور نشانی دے کر آگے بھیجا مگر حارث نامی شخص کے گھر آپ پہنچے ..... ایک لمبی تفصیل ..... پھر حارث نے ان دونوں بچوں کو بڑی بے دردی سے شہید کیا اور ان کی لاشوں کو نہر فرات میں پھینک دیا آل نبی اس پانی کو کیسے پیتے جس میں ان کے گھر کا خون شامل ہو .....

مختصر یہ کہ یہ واقعہ انتہائی درد ناک انداز میں چند کتابوں میں موجود بھی یے اور مقررین خوب بڑھا چڑھا کر رونے اور رلانے کے لیے بیان بھی کرتے ہیں -

اس واقعہ کی حقیقت کیا یے ؟

1) تاریخ کی کسی معتبر کتاب
میں اس واقعہ کا نام و نشان نہیں -

2) پہلے مورخین میں سب سے پہلے عاصم کوفی نے اس کا ذِکر کیا وہ بھی بغیر نام لیے - مگر شہادت کا اس میں بھی کوئی ذکر نہیں -

3) شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد گرفتار شدہ اہلبیت میں امام مسلم کے صاحبزادے بھی تھے -

4) روضۃ الشہداء ملا معین کاشفی اور اس کی اتباع میں حبیب السیر نے اس واقعہ کو لکھا -

5) واقعہ شہادت کو صاحب روضۃ الشہداء نے پہلے لکھا مگر اس کا انداز نوحہ خوانی کا نہ تھا بعد میں حبیب السیر نامی کتاب میں اسے مزید افسانوی رنگ دیا گیا -

6) امام مسلم رضی اللہ عنہ کی جو وصیتیں کتب تاریخ میں ملتی ہیں ان میں بھی اس واقعہ کا نام و نشان نہیں

ناسخ التاریخ '' الکامل فی التاریخ ''
البدایہ والنہایہ وغیرہ حتی کہ کتب شیعہ میں بھی اس کا پتہ نہیں -

ماخوذ 📖 میزان الکتب محقق اہلسنت
علامہ محمد علی نقشبندی عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ
-----17/09/2017--------------
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
صرف ام المومنین

نبی کریم ﷺ کی بیویاں صرف مسلمان مَردوں کی مائیں ہیں عورتوں کی نہیں!

ایک عورت نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا سے کہا: اے ماں! تو حضرت عائشہ نے فرمایا:

انا ام رجالکم و لست ام نسائكم
"میں تمھارے مَردوں کی ماں ہوں، تمھاری عورتوں کی ماں نہیں ہوں"

(انظر: در منثور للسیوطی، ج5، ص183؛
و تفسیر در منثور اردو، ج5، ص525؛
و السنن الکبری، ج7، ص70، ر12570؛
و طبقات ابن سعد، ج8، ص67؛
و سبل الھدی والرشاد، ج11، ص146؛
و زاد المسیر، ج6، ص182؛
و تفسیر قرطبی، ج14، ص123؛
و فتح القدیر، ج4، ص263)

امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ازواج مطہرات امہات المومنین ہیں امہات المومنات نہیں؛ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ میں تمہارے مَردوں کی ماں ہوں عورتوں کی ماں نہیں ہوں۔

(انظر: فتاوی رضویہ، ج12، ص176)

عبد مصطفی
Sirf Ummul Momineen

Nabiye Kareem ﷺ Ki Biwiya Sirf Musalman Mardo Ki Maayein Hain Aurato Ki Nahin!

Ek Aurat Ne Hazrate Ayesha Siddiqa Radiallaho Ta'ala Anha Se Kaha: Aye Maa! To Hazrate Ayesha Ne Farmaya:

انا ام رجالکم و لست ام نسائكم
"Main Tumhare Mardo Ki Maa Hoon, Tumhari Aurato Ki Maa Nahin Hoon"

(انظر: در منثور للسیوطی، ج5، ص183؛
و تفسیر در منثور اردو، ج5، ص525؛
و السنن الکبری، ج7، ص70، ر12570؛
و طبقات ابن سعد، ج8، ص67؛
و سبل الھدی والرشاد، ج11، ص146؛
و زاد المسیر، ج6، ص182؛
و تفسیر قرطبی، ج14، ص123؛
و فتح القدیر، ج4، ص263)

Imam -e- Ahle Sunnat, Aala Hazrat Rahimahullah Likhte Hain Ke Azwaaj -e- Mutah'haraat Ummahaatul Momineen Hain Ummahaatul Mominaat Nahin, Ummul Momineen Hazrate Ayesha Radiallaho Ta'ala Anha Farmati Hain Ke Main Tumhare Mardo Ki Maa Hoon Aurato Ki Maa Nahin Hoon

(انظر: فتاوی رضویہ، ج12، ص176)

Abde Mustafa
सिर्फ उम्मुल मुमिनीन

नबी -ए- करीम ﷺ की बीवियाँ सिर्फ मुसलमान मर्दों की मायें हैं औरतों की नहीं!

एक औरत ने हज़रते आइशा सिद्दीक़ा रदिअल्लाहु त'आला अन्हा से कहा : ए माँ! तो हज़रते आइशा ने फरमाया :

انا ام رجالکم و لست ام نسائكم
"मैं तुम्हारे मर्दों की माँ हूँ, तुम्हारी औरतों की माँ नहीं हूँ।"

(انظر: در منثور للسیوطی، ج5، ص183؛
و تفسیر در منثور اردو، ج5، ص525؛
و السنن الکبری، ج7، ص70، ر12570؛
و طبقات ابن سعد، ج8، ص67؛
و سبل الھدی والرشاد، ج11، ص146؛
و زاد المسیر، ج6، ص182؛
و تفسیر قرطبی، ج14، ص123؛
و فتح القدیر، ج4، ص263)

इमामे अहले सुन्नत, आला हज़रत रहीमहुल्लाह लिखते हैं कि अज़वाज -ए- मुतह्हरात उम्म्हातुल मुमिनीन हैं, उम्महातुल मुमिनात नहीं, उम्मुल मुमिनीन हज़रते आइशा रदिअल्लाहु त'आला अन्हा फरमाती हैं कि मैं तुम्हारे मर्दों की माँ हूँ औरतों की माँ नहीं हूँ।

(انظر: فتاوی رضویہ، ج12، ص176)

अ़ब्दे मुस्तफ़ा
फातिमा सुगरा का झूटा किस्सा
(सिलसिला "करबला के मुतल्लिक़ कुछ झूटे वाक़ियात" से मुन्सलिक)

वाक़िया -ए- करबला को लिखने और बयान करने वालों में से बेशतर ने बगैर तहक़ीक़ किये महज़ नाक़िलाना रवैय्या इख्तियार किया है और कुछ ने तो गिरे पड़े क़िस्से कहानियों को भी नहीं छोड़ा और वाक़िया -ए- करबला के साथ जोड़ दिया। हज़रते फातिमा सुगरा की तरफ मंसूब क़िस्सा भी उन्हीं में से एक है।

इमाम हुसैन रदिअल्लाहु त'आला अन्हु की बेटी हज़रते फातिमा सुगरा के मुतल्लिक़ बयान किया जाता है कि जब इमाम हुसैन मदीना से रवाना हुये तो अपनी बेटी को यानी हज़रते फातिमा सुगरा को अकेला छोड़ दिया और मक्का -ए- मुकर्रमा फिर वहाँ से करबला तशरीफ़ ले गये।
इधर हज़रते फातिमा सुगरा मदीने में अकेली, बीमारी में मुब्तिला थीं और अपने बाबा के इंतिज़ार में रोती रहती थीं फिर इस क़िस्से को दर्दनाक बनाने के लिये कुछ लिखने वालों ने काफी मेहनत की और इस अंदाज़ से लिखा कि पढ़ने और सुनने वाला अपने आँसुओं पर क़ाबू ना रख सके।

खाक -ए- करबला और शहीद इब्ने शहीद नामी किताब में ये वाक़िया जिस ढंग से लिखा गया है, अगर उसे जू का तू महफिल में बयान कर दिया जाये तो लोग बिना मातम किये नहीं उठेंगे और अगर किसी मुक़र्रिर ने थोड़ा सा और नमक मिर्च लगा कर बयान किया तो अन्देशा है कि लोग अपने कपड़े चाक कर लें।
इन किताबों में सिर्फ एक यही वाक़िया नहीं बल्कि दूसरे वाक़ियात को भी इस अंदाज़ में लिखा गया है कि जिसे पढ़ कर लोग खूब रोयें।
इस तरह की किताबों और इन के लिखने वालों पर हम दूसरे मज़ामीन में तफसील से कलाम करेंगे, अब आइये देखते हैं कि हज़रते फातिमा सुगरा के इस क़िस्से की हक़ीक़त क्या है?

वाक़िया -ए- करबला पर लिखी जाने वाली मशहूर कुतुब में से एक "शहादत नवासा -ए- सैय्यदुल अबरार" है।
साहिब -ए- किताब, हज़रत अल्लामा अब्दुस्सलाम क़ादरी ने इस में एक उनवान लिखा है "वाक़िया -ए- सैय्यिदा फातिमा सुगरा बिन्ते हुसैन तहक़ीक़ की कसौटी पर" और इस उनवान के तहत लिखते हैं कि इमाम हुसैन की दो शहज़ादियों में से एक हज़रते सकीना और दूसरी हज़रते फातिमा सुगरा हैं, दूसरी शहज़ादी के मुतल्लिक़ जो क़िस्सा मशहूर किया गया है वो अरबी की मुअतबर कुतुब -ए- तवारीख वगैरा में कहीं नहीं है और उर्दू में लिखी गयी मुअतबर किताबों में भी इस की कोई अस्ल नहीं है।
अगर इस वाक़िये को तहक़ीक़ की कसौटी पर रखा जाये तो बिल्कुल बे असल है।
हज़रते फातिमा सुगरा की शादी इमाम हसन के बेटे हज़रते हसन मुसन्ना से हो चुकी थी और इमाम हुसैन की रवानगी के वक़्त आप अपने शौहर के घर में मदीना -ए- तैय्यिबा में मौजूद थीं।

(ملخصاً و ملتقطاً: شہادت نواسۂ سید الابرار، ص357)

इस मे ये तो सही है के हज़रते फातिमा सुगरा का जो किस्सा मशहूर है वो झूठ और मनघढ़त है लेकिन ये बात तहक़ीक़ की कसौटी पर खरी नही उतरती कि हज़रते फातिमा सुगरा अपने शौहर के साथ मदीना -ए- तैय्यबा में मौजूद थी। दुरुस्त तहक़ीक़ ये है कि हज़रते फातिमा सुगरा मैदान -ए- करबला में मौजूद थी और इस पर गुफ़्तगू करते हुए शैखुल हदीस, हज़रते अल्लामा मुहम्मद अली नक्शबंदी रहीमहुल्लाह लिखते है :

हज़रते फातिमा सुगरा मैदान -ए- करबला में मौजूद थी और सुन्नी व शिया, दोनों की क़ुतुब से ये साबित है।

शिआ मुसन्निफ़ हाशिम खुरासानी ने लिखा है कि इमाम हुसैन ने अपनी शहादत के वक़्त वसीयत नामा अपनी बेटी फातिमा सुगरा को अता फरमाया।

(منتخب التواريخ، باب و فصل پنجم، ص243، مطبوعہ تہران)

एक और शिया मुहम्मद तक़ी लिसान ने लिखा है कि (जब अहले बैत का काफिला यज़ीद के पास पहुँचा तो) तो एक शामी उठा और यज़ीद की तरफ मुँह कर के कहने लगा : ए अमीरुल मुमिनीन! ये लड़की मुझे इनायत कर दो, वो फातिमा बिन्ते हुसैन को माँग रहा था।
जब सैय्यिदा फातिमा ने ये सुना तो उन पर कपकपी तारी हो गयी और अपनी फूफी सैय्यिदा ज़ैनब का का दामन थाम लिया।

(ناسخ التواریخ، ج3، ص141، مطبوعہ تہران جدید)

जारी...

अ़ब्दे मुस्तफ़ा
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
फातिमा सुगरा का झूटा किस्सा
(सिलसिला "करबला के मुतल्लिक़ कुछ झूटे वाक़ियात" से मुन्सलिक)

मशहूर शिया मुहम्मद बक़ीर मज्लिसी ने लिखा है कि यज़ीद के सामने हज़रते फातिमा सुगरा ने कहा कि ए यज़ीद! क्या रसूलुल्लाह ﷺ की बेटियाँ क़ैदी बनायी जायेंगीं? पस (ये सुन कर) लोग भी रो पड़े और घर वाले भी रो पड़े।

(بحار الانوار، ج11، ص250، مطبوعہ ایران قدیم)

अल्लामा इब्ने कसीर लिखते हैं कि जब मस्तूरात -ए- अहले बैत यज़ीद के दरबार में आयीं तो फातिमा बिन्ते हुसैन जो सकीना से बड़ी थीं, ने कहा ए यज़ीद! रसूलुल्लाह ﷺ की बेटियाँ क़ैदी?
यज़ीद कहने लगा कि ए भतीजी मैं भी इसे पसंद नहीं करता।

(البدایۃ والنھایۃ، ج8، ص196، مطبوعہ بیروت)

अल्लामा इब्ने असीर जज़री लिखते हैं कि फिर इमाम हुसैन के खानदान की औरतें अन्दर आयीं तो इमाम का सर उन के सामने था तो सैय्यिदा फातिमा और सकीना बिन्ते हुसैन आगे बढ़ने लगीं ताकि सर को देख सकें।
फातिमा बिन्ते हुसैन जो सकीना से बड़ी थीं, उन्होने कहा कि ए यज़ीद! रसूलुल्लाह ﷺ की बेटियाँ क़ैदी? कहने लगा कि ए भतीजी मैं भी इसे नापसंद समझता हूँ फिर एक शामी मर्द खड़ा हुआ और कहने लगा कि ये फातिमा मुझे दे दो।

(کامل ابن اثیر، ج4، ص85، 86، مطبوعہ بیروت)

कुतुब -ए- अहले सुन्नत वा अहले तशय्यू से साबित है कि इमाम हुसैन की बेटी हज़रते फातिमा सुगरा मैदान -ए- करबला में मौजूद थीं, ये भी साबित हो गया कि उन की तरफ मंसूब क़िस्सा बे असल है। फातिमा सुगरा के क़ासिद और खुतूत वगैरा की कोई हक़ीक़त नहीं है, ये सब जाहिल वाइज़ीन के मनघढ़त अफसाने हैं जिस का हक़ीक़त से कोई ताल्लुक़ नहीं है। लोगों को रुलाने और अपना बाज़ार चमकाने के लिये ऐसे क़िस्से कहानियों का सहारा लिया जाता है।

अ़ब्दे मुस्तफ़ा
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Fatima Sughra Ka Jhoota Qissa
(Silsila "Karbala Ke Mutalliq Kuchh Jhoote Waqiyaat" Se Munsalik)

Waqiya -e- Karbala Ko Likhne Aur Bayaan Karne Waalo Mein Se Beshtar Ne Baghair Tehqeeq Kiye Mahaz Naqilana Rawaiyya Ikhteyar Kiya Hai Aur Kuchh Ne To Gire Pade Qisse Kahaniyo Ko Bhi Nahin Chhoda Aur Waqiya -e- Karbala Ke Saath Jod Diya
Hazrate Fatima Sughra Ki Taraf Mansoob Qissa Bhi Unhi Mein Se Ek Hai

Imam Husain Radiallaho Ta'ala Anho Ki Beti Hazrate Fatima Sughra Ke Mutalliq Bayaan Kiya Jaata Hai Ke Jab Imam Husain Madina Se Rawana Huye To Apni Beti Ko Yaani Hazrate Fatima Sughra Ko Akela Chhod Diya Aur Makka -e- Mukarrama Phir Wahan Se Karbala Tashreef Le Gaye
Idhar Hazrate Fatima Sughra Madine Mein Akeli, Beemari Mein Mubtala Thee'n Aur Apne Baba Ke Intezar Mein Roti Rehti Thee'n, Phir Is Qisse Ko Dardnak Banane Ke Liye Kuchh Likhne Waalo Ne Kaafi Mehnat Ki Aur Is Andaz Se Likha Ke Padhne Aur Sunne Waala Apne Aansuo Par Qaabu Na Rakh Sake

Khaak -e- Karbala Aur Shaheed Ibne Shaheed Naami Kitab Mein Ye Waqiya Jis Dhang Se Likha Gaya Hai, Agar Use Ju Ka Tu Mahafil Mein Bayaan Kar Diya Jaaye To Log Bina Maatam Kiye Nahin Uthenge Aur Agar Kisi Muqarrir Ne Thoda Sa Aur Namak Mirch Laga Kar Bayaan Kiya To Andesha Hai Ke Log Apne Kapde Chaak Kar Lein
In Kitabo Mein Sirf Ek Yahi Waqiya Nahin Balki Dusre Waqiyaat Ko Bhi Is Andaaz Mein Likha Gaya Hai Ke Jise Padh Kar Log Khoob Royein
Is Tarah Ki Kitabo Aur In Ke Likhne Waalo Par Hum Dusre Mazameen Mein Tafseel Se Kalaam Karenge, Ab Aaiye Dekhte Hain Ke Hazrate Fatima Sughra Ke Is Qisse Ki Haqeeqat Kya Hai?

Waqiya -e- Karbala Par Likhi Jaane Waali Mash'hoor Kutub Mein Se Ek "Shahadat Nawasa -e- Syedul Abraar" Hai
Saahib -e- Kitab, Hazrat Allama Abdus Salam Qadri Ne Is Mein Ek Unwaan Likha Hai "Waqiya -e- Syeda Fatima Sughra Binte Husain Tehqeeq Ki Kasauti Par" Aur Is Unwaan Ke Tehat Likhte Hain Ke Imam Husain Ki Do Shehzadiyo Mein Se Ek Hazrate Sakina Aur Dusri Hazrate Fatima Sughra Hain, Dusri Shehzadi Ke Mutalliq Jo Qissa Mash'hoor Kiya Gaya Hai Wo Arabi Ki Motabar Kutub -e- Tawarikh Waghaira Mein Kahin Nahin Hai Aur Urdu Mein Likhi Gayi Motabar Kitabo Mein Bhi Is Ki Koi Asal Nahin Hai
Agar Is Waqiye Ko Tehqeeq Ki Kasauti Par Rakha Jaaye To Bilkul Be Asal Hai
Hazrate Fatima Sughra Ki Shadi Imam Hasan Ke Bete Hazrate Hasan Musanna Se Ho Chuki Thi Aur Imam Husain Ki Rawangi Ke Waqt Aap Apne Shauhar Ke Ghar Mein Madina -e- Tayyiba Mein Maujood Thee'n

(ملخصاً و ملتقطاً: شہادت نواسۂ سید الابرار، ص357)

Is Mein Ye To Sahih Hai Ke Hazrate Fatima Sughra Ka Qissa Jo Mash'hoor Hai Wo Jhoot Aur Manghadat Hai Lekin Ye Baat Tehqeeq Ki Kasauti Par Khari Nahin Utarti Ke Hazrate Fatima Sughra Apne Shauhar Ke Saath Madina -e- Tayyiba Mein Maujood Thee'n
Durust Tehqeeq Ye Hai Ke Hazrate Fatima Sughra Maidan -e- Karbala Mein Maujood Thee'n Aur Is Par Guftagu Karte Huye Shaykhul Hadees, Hazrate Allama Muhammad Ali Naqshbandi Rahimahullah Likhte Hain :

Hazrate Fatima Sughra Maidan -e- Karbala Mein Maujood Thee'n Aur Sunni Wa Shia, Dono Ki Kutub Se Ye Saabit Hai
Shia Musannif Hashim Khurasani Ne Likha Hai Ke Imam Husain Ne Apni Shahadat Ke Waqt Wasiyat Naama Apni Beti Hazrate Fatima Sughra Ko Ata Farmaya

(منتخب التواريخ، باب و فصل پنجم، ص243، مطبوعہ تہران)

Ek Aur Shia Muhammad Taqi Lisaan Ne Likha Hai Ke (Jab Ahle Bait Ka Qafila Yazeed Ke Paas Pahuncha To) Ek Shaami Utha Aur Yazeed Ki Taraf Moonh Kar Ke Kehne Laga : Aye Ameerul Momineen! Ye Ladki Mujhe Inayat Kar Do, Wo Fatima Binte Husain Ko Maang Raha Tha
Jab Syeda Fatima Ne Ye Suna To Un Par Kapkapi Taari Ho Gayi Aur Apni Phoopi Syeda Zainab Ka Daaman Thaam Liya

(ناسخ التواریخ، ج3، ص141، مطبوعہ تہران جدید)

Continue...

Abde Mustafa
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Fatima Sughra Ka Jhoota Qissa
(Silsila "Karbala Ke Mutalliq Kuchh Jhoote Waqiyaat" Se Munsalik)

Mash'hoor Shia Muhammad Baqir Majlisi Ne Likha Hai Ke Yazeed Ke Saamne Hazrate Fatima Sughra Ne Kaha Ke Aye Yazeed! Kya Rasoolullah ﷺ Ki Betiya Qaidi Banayi Jayengi? Pas (Ye Sun Kar) Log Bhi Ro Pade Aur Ghar Waale Bhi Ro Pade

(بحار الانوار، ج11، ص250، مطبوعہ ایران قدیم)

Allama Ibne Kaseer Likhte Hain Ke Jab Mastooraat -e- Ahle Bait Yazeed Ke Darbaar Mein Aayee'n To Fatima Binte Husain Jo Sakina Se Badi Thee'n, Ne Kaha Aye Yazeed! Rasoolullah ﷺ Ki Betiya Qaidi?
Yazeed Kehne Laga Ke Aye Bhateeji Main Bhi Ise Pasand Nahin Karta

(البدایۃ والنھایۃ، ج8، ص196، مطبوعہ بیروت)

Allama Ibne Aseer Jazari Likhte Hain Ke Phir Imam Husain Ke Khandan Ki Auratein Andar Aayee'n To Imam Ka Sar Un Ke Saamne Tha To Syeda Fatima Aur Sakina Binte Husain Aage Badhne Lagee'n Taaki Sar Ko Dekh Sakein
Fatima Binte Husain Jo Sakina Se Badi Thee'n, Unhone Kaha Ke Aye Yazeed! Rasoolullah ﷺ Ki Betiya Qaidi? Kehne Laga Ke Aye Bhateeji Main Bhi Ise Napasand Samajhta Hoon Phir Ek Shaami Mard Khada Hua Aur Kehne Laga Ke Ye Fatima Mujhe De Do

(کامل ابن اثیر، ج4، ص85، 86، مطبوعہ بیروت)

Kutub -e- Ahle Sunnat Wa Ahle Tashayyu Se Saabit Hai Ke Imam Husain Ki Beti Hazrate Fatima Sughra Maidan -e- Karbala Mein Maujood Thee'n, Ye Bhi Saabit Ho Gaya Ke Un Ki Taraf Mansoob Qissa Be Asal Hai
Fatima Sughra Ke Qasid Aur Khutoot Waghaira Ki Koi Haqeeqat Nahin Hai, Ye Sab Jahil Wayizeen Ke Manghadat Afsane Hain Jis Ka Haqeeqat Se Koi Talluq Nahin Hai
Logon Ko Rulane Aur Apna Bazaar Chamkane Ke Liye Aise Qisse Kahaniyo Ka Sahara Liya Jaata Hai

Abde Mustafa
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
فاطمہ صغری کا جھوٹا قصہ
(سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)

واقعۂ کربلا کو لکھنے اور بیان کرنے والوں میں سے بیشتر نے بغیر تحقیق کیے محض ناقلانہ رویہ اختیار کیا ہے اور کچھ نے تو گرے پڑے قصے کہانیوں کو بھی نہیں چھوڑا اور واقعۂ کربلا کے ساتھ جوڑ دیا۔ حضرت فاطمہ صغری کی طرف منسوب قصہ بھی انھی میں سے ایک ہے۔

امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی حضرت فاطمہ صغری کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ جب امام حسین مدینہ سے روانہ ہوئے تو اپنی بیٹی کو یعنی حضرت فاطمہ صغری کو اکیلا چھوڑ دیا اور مکۂ مکرمہ پھر وہاں سے کربلا تشریف لے گئے۔ اِدھر حضرت فاطمہ صغری مدینے میں اکیلی، بیماری میں مبتلا تھیں اور اپنے بابا کے انتظار میں روتی رہتی تھیں۔ پھر اس قصے کو دردناک بنانے کے لیے کچھ لکھنے والوں نے کافی محنت کی اور اس انداز سے لکھا کہ پڑھنے اور سننے والا اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکے۔

خاک کربلا اور شہید ابن شہید نامی کتاب میں یہ واقعہ جس ڈھنگ سے لکھا گیا ہے، اگر اسے جوں کا توں محافل میں بیان کر دیا جائے تو لوگ بنا ماتم کیے نہیں اٹھیں گے اور اگر کسی مقرر نے تھوڑا سا اور نمک مرچ لگا کر بیان کیا تو اندیشہ ہے کہ لوگ اپنے کپڑے چاک کر لیں۔ ان کتابوں میں صرف ایک یہی واقعہ نہیں بلکہ دوسرے واقعات کو بھی اس انداز میں لکھا گیا ہے کہ جسے پڑھ کر لوگ خوب روئیں۔ اس طرح کی کتابوں اور ان کے لکھنے والوں پر ہم دوسرے مضامین میں تفصیل سے کلام کریں گے، اب آئیے دیکھتے ہیں کہ حضرت فاطمہ صغری کے اس قصے کی حقیقت کیا ہے؟

واقعۂ کربلا پر لکھی جانے والی مشہور کتب میں سے ایک "شہادت نواسۂ سید الابرار" ہے۔ صاحب کتاب، حضرت علامہ عبد السلام قادری نے اس میں ایک عنوان لکھا ہے "واقعۂ سیدہ فاطمہ صغری بنت حسین تحقیق کی کسوٹی پر" اور اس عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ امام حسین کی دو شہزادیوں میں سے ایک حضرت سکینہ اور دوسری حضرت فاطمہ صغری ہیں۔ دوسری شہزادی کے متعلق جو قصہ مشہور کیا گیا ہے وہ عربی کی معتبر کتب تواریخ وغیرہ میں کہیں نہیں ہے اور اردو میں لکھی گئی معتبر کتابوں میں بھی اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اگر اس واقعے کو تحقیق کی کسوٹی پر رکھا جائے تو بالکل بے اصل ہے۔
حضرت فاطمہ صغری کی شادی امام حسن کے بیٹے حضرت حسن مثنی سے ہو چکی تھی اور امام حسین کی روانگی کے وقت آپ اپنے شوہر کے گھر میں مدینۂ طیبہ میں موجود تھیں۔

(ملخصاً و ملتقطاً: شہادت نواسۂ سید الابرار، ص357)

اس میں یہ تو صحیح ہے کہ حضرت فاطمہ صغری کا قصہ جو مشہور ہے وہ جھوٹ اور من گھڑت ہے لیکن یہ بات تحقیق کی کسوٹی پر کھری نہیں اترتی کہ حضرت فاطمہ صغری اپنے شوہر کے ساتھ مدینۂ طیبہ میں موجود تھیں۔ درست تحقیق یہ ہے کہ حضرت فاطمہ صغری میدان کربلا میں موجود تھیں اور اس پر گفتگو کرتے ہوئے شیخ الحدیث، حضرت علامہ محمد علی نقشبندی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

حضرت فاطمہ صغری میدان کربلا میں موجود تھیں اور سنی و شیعہ، دونوں کی کتب سے یہ ثابت ہے۔
شیعہ مصنف ہاشم خراسانی نے لکھا ہے کہ امام حسین نے اپنی شہادت کے وقت وصیت نامہ اپنی بیٹی حضرت فاطمہ صغری کو عطا فرمایا۔
(منتخب التواريخ، باب و فصل پنجم، ص243، مطبوعہ تہران)

ایک اور شیعہ محمد تقی لسان نے لکھا ہے کہ (جب اہل بیت کا قافلہ یزید کے پاس پہنچا تو) ایک شامی اٹھا اور یزید کی طرف منھ کر کے کہنے لگا: اے امیر المومنین! یہ لڑکی مجھے عنایت کر دو؛ وہ فاطمہ بنت حسین کو مانگ رہا تھا۔ جب سیدہ فاطمہ نے یہ سنا تو ان پر کپکپی طاری ہو گئی اور اپنی پھوپی سیدہ زینب کا دامن تھام لیا۔
(ناسخ التواریخ، ج3، ص141، مطبوعہ تہران جدید)

جاری...

عبد مصطفی
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa عبد مصطفی
Channel @AbdeMustafaOfficial
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
فاطمہ صغری کا جھوٹا قصہ
(سلسلہ "کربلا سے متعلق کچھ جھوٹے واقعات" سے منسلک)

مشہور شیعہ محمد باقر مجلسی نے لکھا ہے کہ یزید کے سامنے حضرت فاطمہ صغری نے کہا کہ اے یزید! کیا رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں قیدی بنائی جائیں گی؟ پس (یہ سن کر) لوگ بھی رو پڑے اور گھر والے بھی رو پڑے۔
(بحار الانوار، ج11، ص250، مطبوعہ ایران قدیم)

علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب مستورات اہل بیت یزید کے دربار میں آئیں تو فاطمہ بنت حسین جو سکینہ سے بڑی تھیں، نے کہا اے یزید! رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں قیدی؟ یزید کہنے لگا کہ اے بھتیجی میں بھی اسے پسند نہیں کرتا ہوں۔
(البدایۃ والنھایۃ، ج8، ص196، مطبوعہ بیروت)

علامہ ابن اثیر جزری لکھتے ہیں کہ پھر امام حسین کے خاندان کی عورتیں اندر آئیں اور امام کا سر ان کے سامنے تھا تو سیدہ فاطمہ اور سکینہ بنت حسین آگے بڑھنے لگیں تاکہ سر کو دیکھ سکیں۔ فاطمہ بنت حسین جو سکینہ سے بڑی تھیں، انھوں نے کہا کہ اے یزید! رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں قیدی؟ کہنے لگا اے بھتیجی میں بھی اسے ناپسند سمجھتا ہوں پھر ایک شامی مرد کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ یہ فاطمہ مجھے دے دو۔
(کامل ابن اثیر، ج4، ص85، 86، مطبوعہ بیروت)

کتب اہل سنت و اہل تشیع سے ثابت ہے کہ امام حسین کی بیٹی حضرت فاطمہ صغری میدان کربلا میں موجود تھیں۔ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ ان کی طرف منسوب قصہ بے اصل ہے۔ فاطمہ صغری کے قاصد اور خطوط وغیرہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ سب جاہل واعظین کے من گھڑت افسانے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لوگوں کو رلانے اور اپنا بازار چمکانے کے لیے ایسے قصے کہانیوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔

عبد مصطفی