بھارت کا آئین.pdf
7.2 MB
भारत का आईन उर्दू
بھارت کا آئین Urdu
Bharat Ka Aayeen
بھارت کا آئین Urdu
Bharat Ka Aayeen
بے جا تکفیر کا رونا رونے والے بَدمذہبوں
پر شہزادۂ اعلیٰ حضرت - حجۃ الاسلام
علامہحامدرضاخان عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡکاتازیانہ
" ان مسخروں کے نزدیک کفر کرنا
عیب نہیں، کفر کو کفر کہنا عیب ہے "
📖 سدالفرار صفحہ 136 📖
مطبوعہ مطبع اہل سنت وجماعت
بریلی شریف یوپی ۔ طبع 1333ھ
ایضاً ناشر دارالعلوم رضائے خواجہ
اجمیر شریف راجِستھان طبع 2009ء
✍ میثم قادری
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
پر شہزادۂ اعلیٰ حضرت - حجۃ الاسلام
علامہحامدرضاخان عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡکاتازیانہ
" ان مسخروں کے نزدیک کفر کرنا
عیب نہیں، کفر کو کفر کہنا عیب ہے "
📖 سدالفرار صفحہ 136 📖
مطبوعہ مطبع اہل سنت وجماعت
بریلی شریف یوپی ۔ طبع 1333ھ
ایضاً ناشر دارالعلوم رضائے خواجہ
اجمیر شریف راجِستھان طبع 2009ء
✍ میثم قادری
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
مالکِ نصاب کا اپنے نام سے قربانی نہ
کروا کر رسول اللہ ﷺ یا بزرگوں یا
کِـسِـی اور کے نام قربانی کرنا کیسا ؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فتاویٰ فیض الرَّسول جِلد¹ صَفحہ⁴⁴⁵
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کروا کر رسول اللہ ﷺ یا بزرگوں یا
کِـسِـی اور کے نام قربانی کرنا کیسا ؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فتاویٰ فیض الرَّسول جِلد¹ صَفحہ⁴⁴⁵
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 عید کے دِن کا وظیفہ 🌹
جو شخص عید کے دِن تِین سَو ³⁰⁰ مرتبہ ” سُبحٰنَ اللہ وَبِحَمدِہٖ “ پڑھے اور فوت شدہ مسلمانوں کی ارواح کو اس کا ایصالِ ثواب کرے تو ہَر مُسلمان کی قبر میں ایک ہزار ¹⁰⁰⁰ انوار داخِل ہُوتے ہَیں - اور جب وہ پڑھنے والا خود مرے گا , اللہ تعالیٰ ﷻ اس کی قبر میں بھی ایک ہزار ¹⁰⁰⁰ انوار داخِل فرمائےگا ‼️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✅ یہ وِرد دونوں عیدین (عید الفطر و عید الضحیٰ = عید و بقرعید ) میں کیا جا سکتا ہے ‼️
[ مکاشفۃ القلوب 📖 صفحہ 308 ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
جو شخص عید کے دِن تِین سَو ³⁰⁰ مرتبہ ” سُبحٰنَ اللہ وَبِحَمدِہٖ “ پڑھے اور فوت شدہ مسلمانوں کی ارواح کو اس کا ایصالِ ثواب کرے تو ہَر مُسلمان کی قبر میں ایک ہزار ¹⁰⁰⁰ انوار داخِل ہُوتے ہَیں - اور جب وہ پڑھنے والا خود مرے گا , اللہ تعالیٰ ﷻ اس کی قبر میں بھی ایک ہزار ¹⁰⁰⁰ انوار داخِل فرمائےگا ‼️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✅ یہ وِرد دونوں عیدین (عید الفطر و عید الضحیٰ = عید و بقرعید ) میں کیا جا سکتا ہے ‼️
[ مکاشفۃ القلوب 📖 صفحہ 308 ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 عِیدِ قرباں مُبارڪ ہُو 🌹
میری طـرف سـے آپ ڪو اور
آپ کے اہلِ خانہ کو عید الضحیٰ
کی بہت بہت مُبارڪ باد ‼ 🌹
اَللہ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ بَطُفَـیلِ مُـصـطَـفیٰ ﷺ
آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو عیدِ سعید
کی خوشِیُوں سے مالا مال فرمائے - آمِین
🌹تقبل اللہ منا ومنكم صالح الأعمال🌹
ْ مِنجانِب
عُـبَیۡدِ غَوۡثُؔوخَواجَہؔ، رَضَاؔ وَکُـل اَولِـیَآء
مُحَمَّدۡ جَمَالُالـدِّیۡنۡ خَانۡ قَادِرِیۡ رَضَـوِیۡ
ضِـلَـعۡ بَـہۡـرَائِـچ شَـرِیۡف یُوۡ. پِیۡ. اَلـہِـنۡـدۡ
مُوۡبَائِل نَمبَر +917860520899 📱
میری طـرف سـے آپ ڪو اور
آپ کے اہلِ خانہ کو عید الضحیٰ
کی بہت بہت مُبارڪ باد ‼ 🌹
اَللہ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ بَطُفَـیلِ مُـصـطَـفیٰ ﷺ
آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو عیدِ سعید
کی خوشِیُوں سے مالا مال فرمائے - آمِین
🌹تقبل اللہ منا ومنكم صالح الأعمال🌹
ْ مِنجانِب
عُـبَیۡدِ غَوۡثُؔوخَواجَہؔ، رَضَاؔ وَکُـل اَولِـیَآء
مُحَمَّدۡ جَمَالُالـدِّیۡنۡ خَانۡ قَادِرِیۡ رَضَـوِیۡ
ضِـلَـعۡ بَـہۡـرَائِـچ شَـرِیۡف یُوۡ. پِیۡ. اَلـہِـنۡـدۡ
مُوۡبَائِل نَمبَر +917860520899 📱
سُنِّیُوں کو عِیدِ قرباں مُبارڪ ہُو !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🌹 دُنیا بهر کے تَمام سُنِّی صَحیحُ
العقیدہ مُسَلمَانُوں کو عید الضحیٰ
🌹 خٗوب خٗوب مُبارڪ ہُو 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🌹 دُنیا بهر کے تَمام سُنِّی صَحیحُ
العقیدہ مُسَلمَانُوں کو عید الضحیٰ
🌹 خٗوب خٗوب مُبارڪ ہُو 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
دنبہ جنتی یا دنیاوی؟
ہم بچپن سے ہی یہ بات سنتے آ رہے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے ذبح کرنا چاہا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السلام ایک دنبہ لے کر آئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ وہ دنبہ ذبح ہوا۔ اس واقعے کو مختلف طریقوں سے الفاظ کی کمی و بیشی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، لیکن جب ہم کئی کتابوں میں اس واقعے پر غور کریں گے تو ذبح ہونے والے دنبے کے بارے میں کئی سوالات ذہن میں آئیں گے، مثال کے طور کچھ سوالات ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں:
(1) کیا ذبح ہونے والا دنبہ جنتی تھا؟
(2) اس کا گوشت کہاں گیا؟
(3) کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کا گوشت اس لیے نہیں پکایا گیا کیوں کہ جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے دور میں اس جنتی دنبے کی سینگ میں آگ کیسے لگی؟
(4) کئی کتابوں میں جب اس کے سینگ کے جلنے کی صراحت موجود ہے تو پھر اس کے جنتی ہونے پر حرف آئے گا یا نہیں؟
اس مختصر سے مضمون میں ہم اسی طرح کے کچھ سوالوں کے جوابات دلائل کی روشنی میں دینے کی کوشش کریں گے۔
حضرت علامہ مفتی محمد اسماعیل حسین نورانی لکھتے ہیں کہ حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جو دنبہ ذبح ہوا تھا وہ کہاں سے آیا تھا؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں، اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ وہ دنبہ جنت سے اتارا گیا تھا، جیسا کہ تفسیر خازن، تفسیر بغوی اور دیگر تفاسیر میں موجود ہے۔ (خازن، ج4، ص39)
اب رہا یہ سوال کہ اس دنبے کا گوشت کہاں گیا یا کیسے تقسیم ہوا؟ تو اس حوالے سے علامہ صاوی مالکی اور سید سلیمان جمل کی رائے یہ ہے کہ وہ دنبہ چوں کہ جنت سے اتارا گیا تھا اور جنت کی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی، اس لیے اس کا گوشت پکایا نہیں گیا اور نہ تو تقسیم کیا گیا بلکہ اسے پرندوں اور درندوں نے کھا لیا۔ علامہ صاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اس دنبے کے اجزا کو پرندوں اور درندوں نے کھا لیا کیوں کہ جنت کی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی اور علامہ سید سلیمان جمل رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
یہ بات ثابت ہے کہ جنت کی کسی بھی چیز پر آگ اثر نہیں کرتی، اس لیے اس دنبے کا گوشت پکایا نہیں گیا بلکہ اسے درندوں اور پرندوں نے کھا لیا۔ (حاشیۃ الجمل علی الجلالین، ج3، ص549)
(انظر: انوار الفتاوی، ج1، ص287، ط فرید بک سٹال لاہور)
اسی طرح حضرت علامہ مفتی محمد یونس رضا اویسی لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس جنتی مینڈھے کو ذبح کیا اس کا گوشت کس نے کھایا تھا؟ اس بارے میں کوئی روایت نظر سے نہ گزری البتہ یہ دیکھا کہ اس کے گوشت کو درندوں اور پرندوں نے کھایا تھا۔ تفسیر صاوی میں ہے کہ ذبح کے بعد مینڈھے کے گوشت کو درندوں اور پرندوں نے کھا لیا کیوں کہ آگ جنتی چیزوں پر اثر نہیں کرتی۔ (صاوی، ج3، ص322)
(انظر: فتاوی بریلی شریف، ص301، ط زاویہ پبلشرز لاہور)
مذکورہ عبارات سے معلوم ہوا کہ وہ دنبہ جنتی تھا اور اسی وجہ سے اس کا گوشت پکایا نہیں گیا لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی، ابھی ہمارے سامنے اور بھی کچھ اقوال ہیں جن سے الجھنیں مزید بڑھتی ہیں چناں چہ:
تفسیر کی کئی کتابیں مثلاً تفسیر کبیر، تفسیرات احمدیہ، تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی اور تفسیر روح البیان وغیرھم میں صراحتاً اس بات کا ذکر ہے کہ اس مینڈھے کی سینگ کعبہ شریف میں آویزاں تھی، یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں فتنۂ حجاج بن یوسف کے وقت کعبہ شریف میں آگ لگی اور وہ (سینگ) جل گئی۔ اب یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب اس مینڈھے کا گوشت اس وجہ سے نہیں پکایا گیا کہ وہ جنتی ہے اور جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی تو پھر اسی جنتی مینڈھے کی سینگوں میں آگ کیسے لگی اور وہ کیسے جل گئی؟ اب یا تو وہ جنتی نہیں اور اگر جنتی ہے تو سینگ کا جلنا ممکن نہیں۔ اسی گتھی کو سلجھانے کے لیے اب ہم مزید اقوال کو نقل کر رہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
جاری...
عبد مصطفی
ہم بچپن سے ہی یہ بات سنتے آ رہے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے ذبح کرنا چاہا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السلام ایک دنبہ لے کر آئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ وہ دنبہ ذبح ہوا۔ اس واقعے کو مختلف طریقوں سے الفاظ کی کمی و بیشی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، لیکن جب ہم کئی کتابوں میں اس واقعے پر غور کریں گے تو ذبح ہونے والے دنبے کے بارے میں کئی سوالات ذہن میں آئیں گے، مثال کے طور کچھ سوالات ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں:
(1) کیا ذبح ہونے والا دنبہ جنتی تھا؟
(2) اس کا گوشت کہاں گیا؟
(3) کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کا گوشت اس لیے نہیں پکایا گیا کیوں کہ جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے دور میں اس جنتی دنبے کی سینگ میں آگ کیسے لگی؟
(4) کئی کتابوں میں جب اس کے سینگ کے جلنے کی صراحت موجود ہے تو پھر اس کے جنتی ہونے پر حرف آئے گا یا نہیں؟
اس مختصر سے مضمون میں ہم اسی طرح کے کچھ سوالوں کے جوابات دلائل کی روشنی میں دینے کی کوشش کریں گے۔
حضرت علامہ مفتی محمد اسماعیل حسین نورانی لکھتے ہیں کہ حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جو دنبہ ذبح ہوا تھا وہ کہاں سے آیا تھا؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں، اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ وہ دنبہ جنت سے اتارا گیا تھا، جیسا کہ تفسیر خازن، تفسیر بغوی اور دیگر تفاسیر میں موجود ہے۔ (خازن، ج4، ص39)
اب رہا یہ سوال کہ اس دنبے کا گوشت کہاں گیا یا کیسے تقسیم ہوا؟ تو اس حوالے سے علامہ صاوی مالکی اور سید سلیمان جمل کی رائے یہ ہے کہ وہ دنبہ چوں کہ جنت سے اتارا گیا تھا اور جنت کی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی، اس لیے اس کا گوشت پکایا نہیں گیا اور نہ تو تقسیم کیا گیا بلکہ اسے پرندوں اور درندوں نے کھا لیا۔ علامہ صاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اس دنبے کے اجزا کو پرندوں اور درندوں نے کھا لیا کیوں کہ جنت کی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی اور علامہ سید سلیمان جمل رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
یہ بات ثابت ہے کہ جنت کی کسی بھی چیز پر آگ اثر نہیں کرتی، اس لیے اس دنبے کا گوشت پکایا نہیں گیا بلکہ اسے درندوں اور پرندوں نے کھا لیا۔ (حاشیۃ الجمل علی الجلالین، ج3، ص549)
(انظر: انوار الفتاوی، ج1، ص287، ط فرید بک سٹال لاہور)
اسی طرح حضرت علامہ مفتی محمد یونس رضا اویسی لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس جنتی مینڈھے کو ذبح کیا اس کا گوشت کس نے کھایا تھا؟ اس بارے میں کوئی روایت نظر سے نہ گزری البتہ یہ دیکھا کہ اس کے گوشت کو درندوں اور پرندوں نے کھایا تھا۔ تفسیر صاوی میں ہے کہ ذبح کے بعد مینڈھے کے گوشت کو درندوں اور پرندوں نے کھا لیا کیوں کہ آگ جنتی چیزوں پر اثر نہیں کرتی۔ (صاوی، ج3، ص322)
(انظر: فتاوی بریلی شریف، ص301، ط زاویہ پبلشرز لاہور)
مذکورہ عبارات سے معلوم ہوا کہ وہ دنبہ جنتی تھا اور اسی وجہ سے اس کا گوشت پکایا نہیں گیا لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی، ابھی ہمارے سامنے اور بھی کچھ اقوال ہیں جن سے الجھنیں مزید بڑھتی ہیں چناں چہ:
تفسیر کی کئی کتابیں مثلاً تفسیر کبیر، تفسیرات احمدیہ، تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی اور تفسیر روح البیان وغیرھم میں صراحتاً اس بات کا ذکر ہے کہ اس مینڈھے کی سینگ کعبہ شریف میں آویزاں تھی، یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں فتنۂ حجاج بن یوسف کے وقت کعبہ شریف میں آگ لگی اور وہ (سینگ) جل گئی۔ اب یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب اس مینڈھے کا گوشت اس وجہ سے نہیں پکایا گیا کہ وہ جنتی ہے اور جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی تو پھر اسی جنتی مینڈھے کی سینگوں میں آگ کیسے لگی اور وہ کیسے جل گئی؟ اب یا تو وہ جنتی نہیں اور اگر جنتی ہے تو سینگ کا جلنا ممکن نہیں۔ اسی گتھی کو سلجھانے کے لیے اب ہم مزید اقوال کو نقل کر رہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
جاری...
عبد مصطفی
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
دنبہ جنتی یا دنیاوی؟
فتاوی فقیہ ملت میں ایک سوال ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس جنتی مینڈھے کو ذبح کیا تھا اس کو جانوروں نے کھا لیا اور اس کی سینگ کعبہ میں رکھ دی گئی جو کعبہ میں آگ لگنے کی وجہ سے جل گئی تو سوال یہ ہے کہ جب جنتی چیزوں کو آگ نہیں کھا سکتی تو اس کی سینگ کیسے جل گئی؟
جواب میں لکھا گیا ہے کہ جو مینڈھا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح ہوا تھا اس کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ وہ جنت سے آیا تھا اور بعض کے نزدیک یہ ہے کہ وہ منجانب اللہ شبیر پہاڑ سے اتارا گیا تھا اور اگر یہ صحیح ہے کہ یزیدی حملے کے وقت اس کی سینگ جل گئی تھی تو ظاہر یہی ہے کہ وہ شبیر پہاڑ ہی سے آیا تھا۔
(انظر: فتاوی فقیہ ملت، ج2، ص281، کتاب الخطر والاباحۃ، ط شبیر برادرز لاہور)
حضرت علامہ مفتی محمد وقارالدین رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ذبح ہونے والے دنبے کا گوشت کہاں گیا؟ بانٹ دیا گیا، آگ اٹھا کر لے گئی یا کوئی درندہ کھا گیا؟
آپ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ اس بارے میں تفاسیر میں مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں۔ اس پر تو اتفاق ہے کہ اس دنبے کے سینگ خانۂ کعبہ میں رکھے گئے تھے اور حضور اکرم ﷺ کی ظاہری حیات تک محفوظ تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں حجاج بن یوسف نے مکے پر حملہ کیا تھا جس سے خانۂ کعبہ میں آگ لگ گئی تھی تو سینگوں کا کیا ہوا؟ اس کا تذکرہ نہیں ملتا۔
گوشت کے متعلق زیادہ مشہور قول یہ ہے جسے علامہ صاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس کا گوشت جانور کھا گئے تھے۔ (صاوی میں وجہ بھی بیان کی گئی ہے جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں)
(انظر: وقار الفتاوی، ج1، ص70، ط باب متعلقہ انبیاے کرام)
مفتی محمد خلیل خان برکاتی سے سوال ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس دنبے کو ذبح فرمایا اس کی کھال کدھر گئی؟
جواب میں لکھتے ہیں کہ فقیر کے علم میں نہیں کہ وہ کھال کہاں گئی۔
(انظر: احسن الفتاوی المعروف بہ فتاوی خلیلیہ، ج1، ص399، ط ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)
مذکورہ تمام عبارات سے بھی مکمل طور پر بات سمجھ میں نہیں آتی لہذا اب ہم ایک آخری عبارت کو نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ اس عبارت کے بعد ہم کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
حضرت مولانا محمد عاصم رضا قادری سے اسی بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے تحقیقی جواب تحریر فرمایا جس کی تصدیق حضرت علامہ مفتی قاضی محمد عبد الرحیم بستوی نے فرمائی ہے۔
آپ جواب میں لکھتے ہیں کہ یہ بات تو صحیح ہے کہ جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی جیسا کہ علامہ صاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے اور مینڈھے کی سینگوں کے جلنے کی صراحت کتب تفاسیر میں موجود ہیں مثلاً تفسیر کبیر، تفسیرات احمدیہ، تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی اور تفسیر روح البیان وغیرھم۔
(مزید لکھتے ہیں کہ) اس مینڈھے کے جنتی ہونے میں اختلاف ہے، چناں چہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جو جانور ذبح کیا گیا وہ ایک پہاڑی بکرا تھا جو "شبیر پہاڑ" سے اترا تھا اور یہی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی قول ہے تو اس صورت میں کوئی اختلاف نہیں لیکن حضرت ابن عباس و علامہ سدی اور دیگر مفسرین کے کلاموں میں یہ ہے کہ وہ جنتی مینڈھا تھا جسے بہ حکم الٰہی حضرت جبریل علیہ السلام جنت سے لے کر آئے اور یہ وہی مینڈھا تھا جس کی حضرت آدم علیہ السلام کے لڑکے "ہابیل" نے قربانی کی تھی۔ یہ مینڈھا چالیس سال تک جنت میں چرتا رہا اور پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ قربان کیا گیا مگر اس سے فی نفسہ اس کا جنتی ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ تفسیر روح البیان کی روایت کے مطابق یہ وہی مینڈھا تھا جسے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے نے بارگاہ الہی میں پیش کیا تھا۔ (تفسیر روح البیان، ج2، ص379)
ان روایات سے اس کا جنتی ہونا ثابت نہیں ہوا تو اب اس کی سینگ کا جلنا دنیاوی چیز کا جلنا ہوا۔ بہرحال تفسیری روایات مختلف ہیں قطعی فیصلہ مشکل ہے۔
(انظر: فتاوی بریلی شریف، ص364، 365، 366، ط زاویہ پبلشرز لاہور)
عبد مصطفی
فتاوی فقیہ ملت میں ایک سوال ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس جنتی مینڈھے کو ذبح کیا تھا اس کو جانوروں نے کھا لیا اور اس کی سینگ کعبہ میں رکھ دی گئی جو کعبہ میں آگ لگنے کی وجہ سے جل گئی تو سوال یہ ہے کہ جب جنتی چیزوں کو آگ نہیں کھا سکتی تو اس کی سینگ کیسے جل گئی؟
جواب میں لکھا گیا ہے کہ جو مینڈھا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح ہوا تھا اس کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ وہ جنت سے آیا تھا اور بعض کے نزدیک یہ ہے کہ وہ منجانب اللہ شبیر پہاڑ سے اتارا گیا تھا اور اگر یہ صحیح ہے کہ یزیدی حملے کے وقت اس کی سینگ جل گئی تھی تو ظاہر یہی ہے کہ وہ شبیر پہاڑ ہی سے آیا تھا۔
(انظر: فتاوی فقیہ ملت، ج2، ص281، کتاب الخطر والاباحۃ، ط شبیر برادرز لاہور)
حضرت علامہ مفتی محمد وقارالدین رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ذبح ہونے والے دنبے کا گوشت کہاں گیا؟ بانٹ دیا گیا، آگ اٹھا کر لے گئی یا کوئی درندہ کھا گیا؟
آپ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ اس بارے میں تفاسیر میں مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں۔ اس پر تو اتفاق ہے کہ اس دنبے کے سینگ خانۂ کعبہ میں رکھے گئے تھے اور حضور اکرم ﷺ کی ظاہری حیات تک محفوظ تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں حجاج بن یوسف نے مکے پر حملہ کیا تھا جس سے خانۂ کعبہ میں آگ لگ گئی تھی تو سینگوں کا کیا ہوا؟ اس کا تذکرہ نہیں ملتا۔
گوشت کے متعلق زیادہ مشہور قول یہ ہے جسے علامہ صاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس کا گوشت جانور کھا گئے تھے۔ (صاوی میں وجہ بھی بیان کی گئی ہے جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں)
(انظر: وقار الفتاوی، ج1، ص70، ط باب متعلقہ انبیاے کرام)
مفتی محمد خلیل خان برکاتی سے سوال ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس دنبے کو ذبح فرمایا اس کی کھال کدھر گئی؟
جواب میں لکھتے ہیں کہ فقیر کے علم میں نہیں کہ وہ کھال کہاں گئی۔
(انظر: احسن الفتاوی المعروف بہ فتاوی خلیلیہ، ج1، ص399، ط ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)
مذکورہ تمام عبارات سے بھی مکمل طور پر بات سمجھ میں نہیں آتی لہذا اب ہم ایک آخری عبارت کو نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ اس عبارت کے بعد ہم کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
حضرت مولانا محمد عاصم رضا قادری سے اسی بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے تحقیقی جواب تحریر فرمایا جس کی تصدیق حضرت علامہ مفتی قاضی محمد عبد الرحیم بستوی نے فرمائی ہے۔
آپ جواب میں لکھتے ہیں کہ یہ بات تو صحیح ہے کہ جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی جیسا کہ علامہ صاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے اور مینڈھے کی سینگوں کے جلنے کی صراحت کتب تفاسیر میں موجود ہیں مثلاً تفسیر کبیر، تفسیرات احمدیہ، تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی اور تفسیر روح البیان وغیرھم۔
(مزید لکھتے ہیں کہ) اس مینڈھے کے جنتی ہونے میں اختلاف ہے، چناں چہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جو جانور ذبح کیا گیا وہ ایک پہاڑی بکرا تھا جو "شبیر پہاڑ" سے اترا تھا اور یہی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی قول ہے تو اس صورت میں کوئی اختلاف نہیں لیکن حضرت ابن عباس و علامہ سدی اور دیگر مفسرین کے کلاموں میں یہ ہے کہ وہ جنتی مینڈھا تھا جسے بہ حکم الٰہی حضرت جبریل علیہ السلام جنت سے لے کر آئے اور یہ وہی مینڈھا تھا جس کی حضرت آدم علیہ السلام کے لڑکے "ہابیل" نے قربانی کی تھی۔ یہ مینڈھا چالیس سال تک جنت میں چرتا رہا اور پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ قربان کیا گیا مگر اس سے فی نفسہ اس کا جنتی ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ تفسیر روح البیان کی روایت کے مطابق یہ وہی مینڈھا تھا جسے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے نے بارگاہ الہی میں پیش کیا تھا۔ (تفسیر روح البیان، ج2، ص379)
ان روایات سے اس کا جنتی ہونا ثابت نہیں ہوا تو اب اس کی سینگ کا جلنا دنیاوی چیز کا جلنا ہوا۔ بہرحال تفسیری روایات مختلف ہیں قطعی فیصلہ مشکل ہے۔
(انظر: فتاوی بریلی شریف، ص364، 365، 366، ط زاویہ پبلشرز لاہور)
عبد مصطفی
عرس مبارک خلیفۂ سوم امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی = عثمان بن عفان
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ شہادت = ¹⁸ ذی الحجہ ۵۳ ھ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ شہادت = ¹⁸ ذی الحجہ ۵۳ ھ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سیدنا عثمان غنی رضیاللہعنہ
ذُوالْحِجَّۃِ الحرام کا مہینہ ہمارے درمیان اپنی رحمتوں اور برکتوں کی بارش برسا رہا ہے، اس ماہ کی 18 تاریخ کو تیسرے خلیفۂ راشد،رسولِ کریم، محبوبِ ربِّ عظیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک کے بعد دُوسری شہزادی سے نکاح کا شرف پانے والے،بہت زیادہ سخاوت فرمانے والے،صبر و شفقت فرمانے والے،بہت زیادہ شرم وحیا کرنے اور غریبوں سے بہت مَحَبَّت فرمانے والے،اللہ پاک اور اس کے رسول عَلَیْہِ الصلوۃ و السَّلَام کے پیارے اَمِیْرُالمؤمنین حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا یومِ شہادت ہے، ان کے فضائل پر مبنی چند باتیں ملاحظہ ہوں
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ اُن خوش نصیب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں شامل ہیں جو شروعِ اسلام میں ایمان لائے تھے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دومرتبہ راہِ خدا میں ہجرت کاشرف حاصل کیا
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ ِغنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ وہ شخصیت ہیں جنہیں جامع القرآن ہونے کاشرف حاصل ہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنِیَ اللہُ عَنْہ کا نام ان صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی فہرست میں شامل ہے جو رشتہ داروں کی تمام تر تکالیف سہنے کے باوجود ایمان پر ثابت قدم رہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ سراپانُور، شافعِ یوم النُّشور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دو شَہزادیاں یکے بعد دِیگرے ان کے نکاح میں آئیں
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سیرت میں بھی بے مثال تھے، صورت میں بھی بے مثال تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا شمار اللہ کریم کے ان مقرب بندوں میں ہوتا ہے جو ساری ساری رات عبادت و بندگی میں گزار دیتے تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ان لوگوں میں شامل تھے جو ہر وقت خوفِ خدا اور تقویٰ وپرہیزگاری سے رہتے تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایسے تحمل مزاج تھے کہ خود جامِ شہادت نوش کر لیا مگر رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شہرِ مبارک کو خون آلود نہیں ہونے دیا
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سخاوت میں اپنی مثال آپ تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ حِلْم اورصبر و شفقت میں بھی اپنی مثال آپ تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ عاجزی و انکساری والے بزرگ تھے۔
*حضور نبیِ کریم، رسولِ رحیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ* نےآپ رضی اللہ عنہ کی شان میں جو تعریفی کلمات ارشاد فرمائے ان میں سے 5 *فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ*
🔶 *”عثمان مجھ سے ہے اور میں عثمان سے ہوں۔"*
🔷 *”جَنَّت میں ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرے رفیق عثمان بن عَفّان ہیں۔“*
🔶 *”بروزِ قِیامت عثمان کی شفاعت سے سَتّر ہزار (70000)ایسےآدمی بِلاحساب جَنَّت میں داخل ہوں گے جن پر جَہنَّم واجب ہو چکی ہو گی۔"*
🔹 *’’ میری اُمّت میں سب سے زیادہ پیکرشرم و حیا اور معزز ومکرم عثمان بن عفّان ہیں۔"*
🔸 *’’ میری امت میں سب سے زیادہ با حیا انسان عثمان بن عفّان ہیں۔‘‘*
*(15 اگست کے ہفتہ وار اجتماع کے بیان سے ماخوذ)*
اللہ کریم ہمیں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فیضان سے مالا مال فرمائے
ایک بار سورۃ الفاتحہ اور تین بار سورۃ الاخلاص پڑھ کر ایصال ثواب کیجئے
✍🏻 ابو بنتین محمد فراز عطاری
مدنی عفی عنہ +92-321-2094919
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
ذُوالْحِجَّۃِ الحرام کا مہینہ ہمارے درمیان اپنی رحمتوں اور برکتوں کی بارش برسا رہا ہے، اس ماہ کی 18 تاریخ کو تیسرے خلیفۂ راشد،رسولِ کریم، محبوبِ ربِّ عظیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک کے بعد دُوسری شہزادی سے نکاح کا شرف پانے والے،بہت زیادہ سخاوت فرمانے والے،صبر و شفقت فرمانے والے،بہت زیادہ شرم وحیا کرنے اور غریبوں سے بہت مَحَبَّت فرمانے والے،اللہ پاک اور اس کے رسول عَلَیْہِ الصلوۃ و السَّلَام کے پیارے اَمِیْرُالمؤمنین حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا یومِ شہادت ہے، ان کے فضائل پر مبنی چند باتیں ملاحظہ ہوں
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ اُن خوش نصیب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں شامل ہیں جو شروعِ اسلام میں ایمان لائے تھے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دومرتبہ راہِ خدا میں ہجرت کاشرف حاصل کیا
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ ِغنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ وہ شخصیت ہیں جنہیں جامع القرآن ہونے کاشرف حاصل ہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنِیَ اللہُ عَنْہ کا نام ان صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی فہرست میں شامل ہے جو رشتہ داروں کی تمام تر تکالیف سہنے کے باوجود ایمان پر ثابت قدم رہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ سراپانُور، شافعِ یوم النُّشور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دو شَہزادیاں یکے بعد دِیگرے ان کے نکاح میں آئیں
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سیرت میں بھی بے مثال تھے، صورت میں بھی بے مثال تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا شمار اللہ کریم کے ان مقرب بندوں میں ہوتا ہے جو ساری ساری رات عبادت و بندگی میں گزار دیتے تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ان لوگوں میں شامل تھے جو ہر وقت خوفِ خدا اور تقویٰ وپرہیزگاری سے رہتے تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایسے تحمل مزاج تھے کہ خود جامِ شہادت نوش کر لیا مگر رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شہرِ مبارک کو خون آلود نہیں ہونے دیا
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سخاوت میں اپنی مثال آپ تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ حِلْم اورصبر و شفقت میں بھی اپنی مثال آپ تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ عاجزی و انکساری والے بزرگ تھے۔
*حضور نبیِ کریم، رسولِ رحیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ* نےآپ رضی اللہ عنہ کی شان میں جو تعریفی کلمات ارشاد فرمائے ان میں سے 5 *فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ*
🔶 *”عثمان مجھ سے ہے اور میں عثمان سے ہوں۔"*
🔷 *”جَنَّت میں ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرے رفیق عثمان بن عَفّان ہیں۔“*
🔶 *”بروزِ قِیامت عثمان کی شفاعت سے سَتّر ہزار (70000)ایسےآدمی بِلاحساب جَنَّت میں داخل ہوں گے جن پر جَہنَّم واجب ہو چکی ہو گی۔"*
🔹 *’’ میری اُمّت میں سب سے زیادہ پیکرشرم و حیا اور معزز ومکرم عثمان بن عفّان ہیں۔"*
🔸 *’’ میری امت میں سب سے زیادہ با حیا انسان عثمان بن عفّان ہیں۔‘‘*
*(15 اگست کے ہفتہ وار اجتماع کے بیان سے ماخوذ)*
اللہ کریم ہمیں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فیضان سے مالا مال فرمائے
ایک بار سورۃ الفاتحہ اور تین بار سورۃ الاخلاص پڑھ کر ایصال ثواب کیجئے
✍🏻 ابو بنتین محمد فراز عطاری
مدنی عفی عنہ +92-321-2094919
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
احباب! أبو عاتکہ أزھار أحمد أمجدی أزھری غفرلہ کے اکثر مقالات پڑھنے کے لئے:
(۱) إطلالة على حياة فقيه الملة رحمه الله (۲) جامعہ ازہر شریف اور اس کے کلیات کا مختصر تعارف (۳) حدیث معلول کا فنی جائزہ (٤) حدیث: حب الوطن من الإيمان ایک تحقیقی جائزہ (٥) مشہور حدیث: اطلبوا العلم و لو بالصین تحقیقق کے آئینہ میں (٦) مضمون: بابا رتن ہندی بحیثیت صحابی رسول" آخری قسط کا منصفانہ جائزہ (٧) حدیث ضعیف محدثین کی نظر میں ایک تجزیاتی مطالعہ (٨) حدیث: ما بین قبری و منبری روضۃ من ریاض الجنۃ کی تحقیق (٩) نماز کی حالت میں سینے پر ہاتھ رکھنے والی روایات تحقیق و تنقید کی روشنی میں (۱۰) نقابت اور ہماری ذمہ داریاں (۱۱) مفتی مالوا مفتی حبیب یار خاں رحمہ الله (۱۲) مصالحت برائے اختلافات اکسیر اعظم (١٣) مدارس اسلامیہ کی زبوں حالی (١٤) محدث بریلوی رحمہ اللہ اور علم اصول حدیث ۱ (١٥) محدث بریلوی رحمہ اللہ اور علم اصول حدیث ۲ (١٦) فقہ حنفی میں احادیث کا مقام (١٧) علامہ خوشتر اور دعوت فکر و عمل (١٨) عالم با عمل امین شریعت (١٩) شیعہ امامیہ اور اصول روایت عرض و نقد (۲۰) سید عبد الشکور شاہ جیلانی رحمہ اللہ کی زندگی چند اہم گوشے (٢١) رمضان میں آواز (٢٢) دینی و عصری علوم کی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت (٢٣) خاموشی بہ از گفتن (٢٤) حضور فقیہ ملت اور سراج الفقہاء کچھ یادیں کچھ باتیں (٢٥) حضور تاج الشریعہ کی تحقیقی کتاب: الصحابة نجوم الاھتداء پر ایک نظر (٢٦) چالیس احادیث یاد کرنے کی فضیلت و تحقیق (٢٧) تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز (٢٨) ایں سعادت بزور بازو نیست (٢٩) ایک مجلس میں تین طلاق ایک (٢٩) افضلیت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ (٣٠) اصلاح خودی کا عملی فقدان (٣١) احادیث صحیحہ کے صحاح ستہ میں منحصر ہونے کا منصفانہ جائزہ (٣٢) ابدال کے وجود کی تحقیق احادیث کی روشنی میں (٣٣) آداب دعا اور اسباب کا استعمال (٣٤) آداب اختلاف فقہا۔
مندرجہ ذیل بلاگ پر وزٹ کریں:
http://aamjadiazhari.blogspot.com/?m=0http://aamjadiazhari.blogspot.com/?m=0
(۱) إطلالة على حياة فقيه الملة رحمه الله (۲) جامعہ ازہر شریف اور اس کے کلیات کا مختصر تعارف (۳) حدیث معلول کا فنی جائزہ (٤) حدیث: حب الوطن من الإيمان ایک تحقیقی جائزہ (٥) مشہور حدیث: اطلبوا العلم و لو بالصین تحقیقق کے آئینہ میں (٦) مضمون: بابا رتن ہندی بحیثیت صحابی رسول" آخری قسط کا منصفانہ جائزہ (٧) حدیث ضعیف محدثین کی نظر میں ایک تجزیاتی مطالعہ (٨) حدیث: ما بین قبری و منبری روضۃ من ریاض الجنۃ کی تحقیق (٩) نماز کی حالت میں سینے پر ہاتھ رکھنے والی روایات تحقیق و تنقید کی روشنی میں (۱۰) نقابت اور ہماری ذمہ داریاں (۱۱) مفتی مالوا مفتی حبیب یار خاں رحمہ الله (۱۲) مصالحت برائے اختلافات اکسیر اعظم (١٣) مدارس اسلامیہ کی زبوں حالی (١٤) محدث بریلوی رحمہ اللہ اور علم اصول حدیث ۱ (١٥) محدث بریلوی رحمہ اللہ اور علم اصول حدیث ۲ (١٦) فقہ حنفی میں احادیث کا مقام (١٧) علامہ خوشتر اور دعوت فکر و عمل (١٨) عالم با عمل امین شریعت (١٩) شیعہ امامیہ اور اصول روایت عرض و نقد (۲۰) سید عبد الشکور شاہ جیلانی رحمہ اللہ کی زندگی چند اہم گوشے (٢١) رمضان میں آواز (٢٢) دینی و عصری علوم کی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت (٢٣) خاموشی بہ از گفتن (٢٤) حضور فقیہ ملت اور سراج الفقہاء کچھ یادیں کچھ باتیں (٢٥) حضور تاج الشریعہ کی تحقیقی کتاب: الصحابة نجوم الاھتداء پر ایک نظر (٢٦) چالیس احادیث یاد کرنے کی فضیلت و تحقیق (٢٧) تاج الشریعہ کی مقبولیت کا راز (٢٨) ایں سعادت بزور بازو نیست (٢٩) ایک مجلس میں تین طلاق ایک (٢٩) افضلیت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ (٣٠) اصلاح خودی کا عملی فقدان (٣١) احادیث صحیحہ کے صحاح ستہ میں منحصر ہونے کا منصفانہ جائزہ (٣٢) ابدال کے وجود کی تحقیق احادیث کی روشنی میں (٣٣) آداب دعا اور اسباب کا استعمال (٣٤) آداب اختلاف فقہا۔
مندرجہ ذیل بلاگ پر وزٹ کریں:
http://aamjadiazhari.blogspot.com/?m=0http://aamjadiazhari.blogspot.com/?m=0
*صدرالافاضل: اعلیٰ حضرت کی نگاہ میں!*
73ویں عرس صدرالافاضل پر خصوصی تحریر
غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
gmnaimi@gmal.com
صدرالافاضل حضرت مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی(پ:۱۳۰۰ھ؍۱۸۸۳ء)برٹش انڈیاکے نامور عالم دین گزرے ہیں۔جن کی خداداد صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف رہا ہے۔تدریس وتحریر ہوکہ تقریر وتنظیم،کون سا میدان ہے جس میں اس مرد قلندر نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر نہ بکھیرے ہوں۔آپ کی صلاحیت واستعداد کا اندازہ لگانے کے لئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری (پ:۱۲۷۲ھ؍1856ء) کے دو تبصرے ملاحظہ فرمائیں جس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ صدرالافاضل کا علمی مقام ومرتبہ کیا تھا؟
*صدرالافاضل کی پہلی تصنیف پراعلیٰ حضرت کا تبصرہ:*
ریاست رامپور کی سرزمین پر حضرت مولانا شاہ سلامت اللہ رامپوری علیہ الرحمہ نے عقائد اہل سنت کی حمایت اور وہابیت کی بیخ کنی کے لیے ایک معرکۃ الآرا کتاب "اعلام الاذکیاء" تحریر فرمائی تھی،اس کتاب کے منصہ شہود پر آتے ہی ایوان وہابیت میں زلزلہ طاری ہو گیا. عوام اہل سنت پر ظاہر ہوگیا کہ حنفیت کی آڑ میں اسماعیلی فکر کو بڑھاوا دے کر ابن عبدالوہاب نجدی کے گمراہ نظریات کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔اس لیے علمائے دیوبند نے اپنی خفت مٹانے اور عوام کی نگاہ میں اپنی عزت کو بچانے کے لیے رامپور کے ہی ایک دیوبندی عالم مولوی واحد نور کو آگے بڑھا کر شاہ صاحب کی کتاب کی تردید میں "اعلائے کلمۃ الحق" نامی کتاب لکھوائی اور بزعم خود "اعلام الاذکیاء" کا رد کیا گیا ،حالانکہ شاہ صاحب کی جلالت علمی کے سامنے وہ کتاب کہیں نہیں ٹھہرتی مگر چند بے سرو پا سوالات قائم کر کے عوام پر یہ دھونس جمائی کہ دیکھو ہم نے شاہ سلامت اللہ صاحب کا علمی رد کر دیا۔حافظ واحد نور کی کتاب جب حضرت صدر الافاضل کے مطالعہ میں آئی تو آپ نے کوئی خاص توجہ نہیں دی مگر مرادآباد کی ایک مشہور شخصیت،محب اعلیٰ حضرت، الحاج ملاّ اشرف شاذلی صاحب نے اس کے ردکااصرارکیا کہ آپ ضرور اس کتاب کا رد فرمائیں کہ وہابیہ شور کرتے ہیں کہ ہم نے شاہ سلامت اللہ صاحب کی کتاب کا رد کر دیا اور کوئی سنی عالم ہمارا جواب نہیں دے پا رہا ہے۔
حاجی صاحب کے پیہم اصرار پر آپ نے حافظ واحد نور کی "اعلائے کلمۃالحق" کے رد میں یہ بلند پایہ کتاب
*"الکلمۃ العلیا لاعلاء علم المصطفیٰ"* تحریر فرمائی۔
جب یہ کتاب مستطاب مکمل ہو گئی تو حاجی اشرف صاحب اس کتاب کو لیکر مجدد دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ مفتی غلام معین الدین نعیمی فرماتے ہیں:
"حاجی صاحب نے اعلیٰ حضرت کی خدمت اقدس میں کتاب پیش کی۔اعلیٰ حضرت نے اس کو ملاحظہ کر کے فرمایا:
*"ماشاء اللہ بڑی عمدہ،نفیس کتاب ہے،یہ نو عمری اور اتنے احسن دلائل کے ساتھ اتنی بلند پایہ کتاب مصنف کے ہونہار ہونے پر دال ہے‘"*۔
(حیات صدرالافاضل،ص۴۷)
یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ اس کتاب کی تصنیف کے وقت صدرالافاضل محض بیس سال کے نوعمر جوان تھے اور اُسی سال آپ نے مروجہ علوم سے فراغت حاصل کی تھی۔باوجودیکہ یہ کتاب آپ کی پہلی تصنیف اور نو عمری کی کاوش ہے مگر علم وتحقیق کی دنیا میں اس کتاب کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا،اپنے ہوں یا بیگانے سب نے اس کے طرز تحریر،زورِ استدلال،حوالہ جات کی کثرت اوراس کے ہمہ گیر اثرات کا اعتراف کیا۔علم غیب مصطفی پر برّ صغیر ہندوستان میں اتنے مدلل ومفصل انداز میں لکھی جانے والی چند اہم کتابوں میں سے یہ ایک نمایاں تصنیف ہے ۔جس نے سرکارِمصطفی علیہ التحیۃ والثنا کے علم پاک پر سوال اٹھانے والوں کو عاجز وساکت کر دیا۔
اس طرح بارگاہ اعلیٰ حضرت میں صدرالافاضل کا چرچا تو پہنچ گیا لیکن ابھی تک بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔جلد ہی ایک ایسا موقع بھی آیا کہ تاریخ کی ان دو عظیم شخصیتوں کی ملاقات ہوئی ،اور ملاقات بھی ایک ایسے جذبہ دینی کے سبب ہوئی جس کی آج بڑی ضرورت ہے۔بحرالعلوم حضرت مفتی عبدالمنان اعظمی نے اعلیٰ حضرت اور صدرالافاضل کی ملاقات کی جو روداد قلم بند فرمائی ہے ہم اسے یہاں من وعن نقل کرتے ہیں:
*تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئے:*
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خاں صاحب رضی اللہ عنہ کی کتابوں کے مطالعہ سے آپ [صدرالافاضل] کے دل میں ان کی غائبانہ محبت وعقیدت پیدا ہوچکی تھی مگر ابھی ملاقات کا کوئی موقع فراہم نہ ہوا تھا ۔ اس کی تقریب یہ ہوئی کہ جودھپور کے ادریس نامی وہابی نے مرادآباد کے اخبار "نظام الملک" میں اعلیٰ حضرت کے خلاف ایک مضمون شائع کیا ، جو سب وشتم اور لغویات سے بھرا ہوا تھا آپ نے اسے ملاحظہ فرمایا تو بقول حضرت مولانا محمد عمر صاحب نعیمی کے صدرالافاضل کو بخار چڑھ آیا اسی رات اس کے رد میں مضمون تیار کیا اور صبح نفس نفیس خود اخبار کے دفتر جاکر اخبار کے ایڈیٹر سے اس کی اشاعت کے لئے کہا وہ آپ کا جواب شائع کرنے کے لئے تیار نہ تھا ۔ آپ نے فرمایا تم میرا مضمون چھاپو،اس سے سُن
73ویں عرس صدرالافاضل پر خصوصی تحریر
غلام مصطفیٰ نعیمی
مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی
gmnaimi@gmal.com
صدرالافاضل حضرت مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی(پ:۱۳۰۰ھ؍۱۸۸۳ء)برٹش انڈیاکے نامور عالم دین گزرے ہیں۔جن کی خداداد صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف رہا ہے۔تدریس وتحریر ہوکہ تقریر وتنظیم،کون سا میدان ہے جس میں اس مرد قلندر نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر نہ بکھیرے ہوں۔آپ کی صلاحیت واستعداد کا اندازہ لگانے کے لئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری (پ:۱۲۷۲ھ؍1856ء) کے دو تبصرے ملاحظہ فرمائیں جس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ صدرالافاضل کا علمی مقام ومرتبہ کیا تھا؟
*صدرالافاضل کی پہلی تصنیف پراعلیٰ حضرت کا تبصرہ:*
ریاست رامپور کی سرزمین پر حضرت مولانا شاہ سلامت اللہ رامپوری علیہ الرحمہ نے عقائد اہل سنت کی حمایت اور وہابیت کی بیخ کنی کے لیے ایک معرکۃ الآرا کتاب "اعلام الاذکیاء" تحریر فرمائی تھی،اس کتاب کے منصہ شہود پر آتے ہی ایوان وہابیت میں زلزلہ طاری ہو گیا. عوام اہل سنت پر ظاہر ہوگیا کہ حنفیت کی آڑ میں اسماعیلی فکر کو بڑھاوا دے کر ابن عبدالوہاب نجدی کے گمراہ نظریات کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔اس لیے علمائے دیوبند نے اپنی خفت مٹانے اور عوام کی نگاہ میں اپنی عزت کو بچانے کے لیے رامپور کے ہی ایک دیوبندی عالم مولوی واحد نور کو آگے بڑھا کر شاہ صاحب کی کتاب کی تردید میں "اعلائے کلمۃ الحق" نامی کتاب لکھوائی اور بزعم خود "اعلام الاذکیاء" کا رد کیا گیا ،حالانکہ شاہ صاحب کی جلالت علمی کے سامنے وہ کتاب کہیں نہیں ٹھہرتی مگر چند بے سرو پا سوالات قائم کر کے عوام پر یہ دھونس جمائی کہ دیکھو ہم نے شاہ سلامت اللہ صاحب کا علمی رد کر دیا۔حافظ واحد نور کی کتاب جب حضرت صدر الافاضل کے مطالعہ میں آئی تو آپ نے کوئی خاص توجہ نہیں دی مگر مرادآباد کی ایک مشہور شخصیت،محب اعلیٰ حضرت، الحاج ملاّ اشرف شاذلی صاحب نے اس کے ردکااصرارکیا کہ آپ ضرور اس کتاب کا رد فرمائیں کہ وہابیہ شور کرتے ہیں کہ ہم نے شاہ سلامت اللہ صاحب کی کتاب کا رد کر دیا اور کوئی سنی عالم ہمارا جواب نہیں دے پا رہا ہے۔
حاجی صاحب کے پیہم اصرار پر آپ نے حافظ واحد نور کی "اعلائے کلمۃالحق" کے رد میں یہ بلند پایہ کتاب
*"الکلمۃ العلیا لاعلاء علم المصطفیٰ"* تحریر فرمائی۔
جب یہ کتاب مستطاب مکمل ہو گئی تو حاجی اشرف صاحب اس کتاب کو لیکر مجدد دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ مفتی غلام معین الدین نعیمی فرماتے ہیں:
"حاجی صاحب نے اعلیٰ حضرت کی خدمت اقدس میں کتاب پیش کی۔اعلیٰ حضرت نے اس کو ملاحظہ کر کے فرمایا:
*"ماشاء اللہ بڑی عمدہ،نفیس کتاب ہے،یہ نو عمری اور اتنے احسن دلائل کے ساتھ اتنی بلند پایہ کتاب مصنف کے ہونہار ہونے پر دال ہے‘"*۔
(حیات صدرالافاضل،ص۴۷)
یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ اس کتاب کی تصنیف کے وقت صدرالافاضل محض بیس سال کے نوعمر جوان تھے اور اُسی سال آپ نے مروجہ علوم سے فراغت حاصل کی تھی۔باوجودیکہ یہ کتاب آپ کی پہلی تصنیف اور نو عمری کی کاوش ہے مگر علم وتحقیق کی دنیا میں اس کتاب کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا،اپنے ہوں یا بیگانے سب نے اس کے طرز تحریر،زورِ استدلال،حوالہ جات کی کثرت اوراس کے ہمہ گیر اثرات کا اعتراف کیا۔علم غیب مصطفی پر برّ صغیر ہندوستان میں اتنے مدلل ومفصل انداز میں لکھی جانے والی چند اہم کتابوں میں سے یہ ایک نمایاں تصنیف ہے ۔جس نے سرکارِمصطفی علیہ التحیۃ والثنا کے علم پاک پر سوال اٹھانے والوں کو عاجز وساکت کر دیا۔
اس طرح بارگاہ اعلیٰ حضرت میں صدرالافاضل کا چرچا تو پہنچ گیا لیکن ابھی تک بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔جلد ہی ایک ایسا موقع بھی آیا کہ تاریخ کی ان دو عظیم شخصیتوں کی ملاقات ہوئی ،اور ملاقات بھی ایک ایسے جذبہ دینی کے سبب ہوئی جس کی آج بڑی ضرورت ہے۔بحرالعلوم حضرت مفتی عبدالمنان اعظمی نے اعلیٰ حضرت اور صدرالافاضل کی ملاقات کی جو روداد قلم بند فرمائی ہے ہم اسے یہاں من وعن نقل کرتے ہیں:
*تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئے:*
امام اہل سنت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی مولانا احمد رضا خاں صاحب رضی اللہ عنہ کی کتابوں کے مطالعہ سے آپ [صدرالافاضل] کے دل میں ان کی غائبانہ محبت وعقیدت پیدا ہوچکی تھی مگر ابھی ملاقات کا کوئی موقع فراہم نہ ہوا تھا ۔ اس کی تقریب یہ ہوئی کہ جودھپور کے ادریس نامی وہابی نے مرادآباد کے اخبار "نظام الملک" میں اعلیٰ حضرت کے خلاف ایک مضمون شائع کیا ، جو سب وشتم اور لغویات سے بھرا ہوا تھا آپ نے اسے ملاحظہ فرمایا تو بقول حضرت مولانا محمد عمر صاحب نعیمی کے صدرالافاضل کو بخار چڑھ آیا اسی رات اس کے رد میں مضمون تیار کیا اور صبح نفس نفیس خود اخبار کے دفتر جاکر اخبار کے ایڈیٹر سے اس کی اشاعت کے لئے کہا وہ آپ کا جواب شائع کرنے کے لئے تیار نہ تھا ۔ آپ نے فرمایا تم میرا مضمون چھاپو،اس سے سُن
نائب بزرگ‘‘ ہی ہوتا ہے۔
اعلیٰ حضرت کے دوتبصروں سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ صدرالافاضل کا علمی اٹھان کس درجے پر تھا۔یہاں یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ وہ زمانہ صدرالافاضل کے عنفوان شباب کا زمانہ تھا،ابتدائی عمرمیں یہ عالم تھا تو پختہ عمرکے علمی مقام کا کیا عالم رہا ہوگا؟
اسی لئے اعلیٰ حضرت نے آپ کو "صدرالافاضل" جیسا خطاب عطافرمایا جوافاضلین زمانہ کی بھیڑمیں آپ ہی کی قامت زیبا پر جچتا تھا۔
اللہ تعالیٰ اس مرد قلندر کی تربت پرانوار وتجلیات کی بارشیں برسائے اور ہمیں ان کے علمی فیضان سے خوب خوب سیراب فرمائے،آمین۔
*نوٹ*
18 ذوالحجہ کو آپ کا عرس ہوتا ہے.
اعلیٰ حضرت کے دوتبصروں سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ صدرالافاضل کا علمی اٹھان کس درجے پر تھا۔یہاں یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ وہ زمانہ صدرالافاضل کے عنفوان شباب کا زمانہ تھا،ابتدائی عمرمیں یہ عالم تھا تو پختہ عمرکے علمی مقام کا کیا عالم رہا ہوگا؟
اسی لئے اعلیٰ حضرت نے آپ کو "صدرالافاضل" جیسا خطاب عطافرمایا جوافاضلین زمانہ کی بھیڑمیں آپ ہی کی قامت زیبا پر جچتا تھا۔
اللہ تعالیٰ اس مرد قلندر کی تربت پرانوار وتجلیات کی بارشیں برسائے اور ہمیں ان کے علمی فیضان سے خوب خوب سیراب فرمائے،آمین۔
*نوٹ*
18 ذوالحجہ کو آپ کا عرس ہوتا ہے.
ّی بھی تمہارے پرچے کے خریدار ہوجائیں گے ، پھر جودھپوری اگرمیرے مضمون کا رد لکھے اس کو بھی چھاپو، پھر میرا جواب الجواب بھی شائع کرو ،اس طرح تمہارے پرچے کی خریداری ایک دم بڑھ جائے گی ، یہ کاروباری لائن اس کے سمجھ میں آگئی اور اس نے اس سلسلہ کے کئی مضامین شائع کئے ۔
مختلف جگہ سے اعلیٰ حضرت معتقدین نے ان کے پاس یہ خط لکھا کہ "نظام الملک" میں آپ کے جو مضامین شائع ہوئے ہیں وہ آپ ہمیں بھیج دیجئے۔
آپ کو حیرت تو ہوئی کہ میں نے کچھ شائع نہیں کرایا ہے پھر بھی آپ نے مرادآباد کے ایک شاذلی بزرگ الحاج محمد اشرف کو جو آپ کی خدمت میں آتے جاتے رہتے تھے، لکھ بھیجا کہ "نظام الملک" کے ایک ماہ کے پرچے فراہم کرکے ساتھ لائیں۔
وہ پرچے جب اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے صدرالافاضل کے مضمون کا زور بیان ، اس کی صاف ستھری زبان ، حسن ترتیب ، اور قوت استدلال ملاحظہ فرمایا،بے حدخوش ہوئے اور پوچھا :
*"یہ مولانا نعیم الدین صاحب کون بزرگ ہیں"؟*
حاجی صاحب نے عرض کی۔یہ مرادآباد کے ہی ایک نوجوان فاضل اور اعلیٰ قابلیت کے سنی عالم ہیں ۔ آپ نے ملاقات کی خواہش ظاہر فرمائی ۔ حاجی صاحب نے اپنے ساتھ لے جاکر ملاقات کرائی ۔
اعلیٰ حضرت نے آپ کا بڑا اعزاز واکرام فرمایا ۔ پھر تو ہر مہینہ آپ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتے تھے ۔ اس طرح علم ودانش کے ایک پر شور دریائے عظیم کو معارف الٰہیہ کے ایک بحر ذخار کی آغوش راحت نصیب ہوئی. (مفتی عبد المنان اعظمی:المیزان امام احمد رضا نمبر، ص۱۸۸)
مذکورہ اقتباس کو پڑھ کر سطح ذہن پر اصاغرنوازی،علم دوستی اور اعتراف صلاحیت کے خوب صورت مناظر دکھائی دیتے ہیں،یہاں ہم چند اہم نکات بھی قارئین کی نگاہوں کے سامنے رکھتے ہیں:
🔹 اعلیٰ حضرت(پیدائش ۱۲۷۲ھ) صدرالافاضل(پیدائش۱۳۰۰ھ) سے 28سال بڑے تھے۔
🔹 جس وقت صدرالافاضل کی پہلی ملاقات ہوئی اس وقت آپ اکیس سال کے ابھرتے ہوئے نوجوان تھے۔
🔹 اس نوعمری میں آپ کے قلم کی کاٹ،زور بیان،حسن ترتیب ،ستھری زبان اور قوت استدلال کا عالم تھا کہ لوگوں نے اسے اعلیٰ حضرت کی تحریر سمجھا۔
🔹 صدرالافاضل کے مضامین کاایسا معیاری ہونا کہ لوگ اعلیٰ حضرت کی تحریر سمجھ بیٹھیں، یقیناً یہ صدرالافاضل کے خداداد علم پر بڑی شہادت ہے۔
🔹 جس وقت صدرالافاضل کے مضامین کو دیکھ کر اعلیٰ نے آپ کو بلاوا بھیجا اس وقت تک اعلیٰ حضرت دو سو سے زائد کتابیں تصنیف فرما چکے تھے،اور آپ کے علم وفضل کا شہرہ عام ہوچکا تھا۔لیکن پھر بھی ایک نوعمر عالم دین کے اٹھتے ہوئے علمی شباب اور فکری اٹھان کو دیکھ کر بلاوا دینا حضور پاک ﷺ کے فرمان عالیشان "رحم اصاغر" پر عمل ہے اور آپ کی اصاغرنوازی کی خوب صورت مثال ہے۔موجودہ وقت میں ایسی مثالیں عنقا ہوچکی ہیں۔
🔹 اعلیٰ حضرت کے خلاف ادریس نامی وہابی کی تحریر پڑھ کر صدرالافاضل کو بخار آجاتا ہے۔حالانکہ اس وقت تک اعلیٰ حضرت سے آپ کی کوئی شناسائی نہیں تھی اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی تعلق تھا لیکن ایسی بے لوث محبت کہ شدت الفت کے باعث بخار آگیا،یہ یقینا صدرالافاضل کی گہری اسلامی محبت اور جذبہ اخوت کا روشن وبیّن ثبوت ہے۔حالانکہ "المعاصرۃ وجہ المغایرۃ" کا مقولہ بڑا مشہور ہے لیکن جہاں جذبات اسلامی ہوں،فکرخالص ہو وہاں اپنی جماعت کے سرخیل عالم سے ایسا ہی عشق ہونا چاہیے جیسا صدرالافاضل کے عمل سے ظاہر ہوا۔
🔹 بخار کے باوجود صدرالافاضل رات میں ہی اس وہابی کا رد بھی تحریر فرماتے ہیں،یعنی کسی مصیبت کو دیکھ کر بستر پکڑ لینا بھی کارِ دانشمندی نہیں ہے بلکہ اس مصیبت کو دفع کرنا اصل کمال ہے جیسا کہ صدرالافاضل نے شدت بخار کے باوجود بلا تاخیر اس وہابی کا رد تحریر کیا۔
🔹 اخبار کے ایڈیٹر کے مضمون کی اشاعت سے انکار پر جس حسن تکلم کے ساتھ اسے اشاعت پر آمادہ کیا یہ صدرالافاضل کی زمانہ شناسی اور مردم شناسی کی ایک بے حد چمکدار ،روشن مثال اور "کلموا الناس علیٰ قدر عقولھم" کا شاندار مظاہرہ ہے۔
🔹 بعدہ جب ان مضامینِ صدرالافاضل کو اعلیٰ حضرت نے ملاحظہ فرمایا تو پوچھا:
*"یہ مولانا نعیم الدین کون بزرگ ہیں۔‘"*
یہاں اعلیٰ حضرت کے اس قول’"مولانا نعیم الدین کون بزرگ ہیں"کے دو معانی ہوسکتے ہیں:
1۔صدرالافاضل کا معیار تحریر واقعی اتنا اعلیٰ تھا کہ کسی بزرگ کا ہی ہوسکتا تھا۔ایک نوجوان سے ایسی معیاری تحریر کی امید نہیں ہوتی۔
2۔یا پھر امام احمد رضا اپنے ممدوحین کو یہ بتارہے ہیں کہ صاحب تحریرایک بزرگ ہیں۔ اس لئے جب ملنے آئیں تو ان کی نو عمری کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھانا۔
فقیر کے فہم ناقص کے مطابق دوسرا معنی زیادہ قرین قیاس ہے کیوں کہ بعد میں زمانے نے دیکھا کہ اعلیٰ حضرت جیسی عبقری شخصیت نے صدرالافاضل کو اپنی بارگاہ میں وہ "مقام خاص" عطا کیا جو ان کے کسی شاگرد،خلیفہ اور قریبی کو نہ ملا۔یہی وہ "مقام خاص" تھا کہ اعلیٰ حضرت نہایت اہم معاملات میں صدرالافاضل سے مشاورت فرمایا کرتے اور اہم مقامات پر اپنا نائب بنایا کرتے تھے اور کسی ’’بزرگ کا
مختلف جگہ سے اعلیٰ حضرت معتقدین نے ان کے پاس یہ خط لکھا کہ "نظام الملک" میں آپ کے جو مضامین شائع ہوئے ہیں وہ آپ ہمیں بھیج دیجئے۔
آپ کو حیرت تو ہوئی کہ میں نے کچھ شائع نہیں کرایا ہے پھر بھی آپ نے مرادآباد کے ایک شاذلی بزرگ الحاج محمد اشرف کو جو آپ کی خدمت میں آتے جاتے رہتے تھے، لکھ بھیجا کہ "نظام الملک" کے ایک ماہ کے پرچے فراہم کرکے ساتھ لائیں۔
وہ پرچے جب اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے صدرالافاضل کے مضمون کا زور بیان ، اس کی صاف ستھری زبان ، حسن ترتیب ، اور قوت استدلال ملاحظہ فرمایا،بے حدخوش ہوئے اور پوچھا :
*"یہ مولانا نعیم الدین صاحب کون بزرگ ہیں"؟*
حاجی صاحب نے عرض کی۔یہ مرادآباد کے ہی ایک نوجوان فاضل اور اعلیٰ قابلیت کے سنی عالم ہیں ۔ آپ نے ملاقات کی خواہش ظاہر فرمائی ۔ حاجی صاحب نے اپنے ساتھ لے جاکر ملاقات کرائی ۔
اعلیٰ حضرت نے آپ کا بڑا اعزاز واکرام فرمایا ۔ پھر تو ہر مہینہ آپ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں ضرور حاضر ہوتے تھے ۔ اس طرح علم ودانش کے ایک پر شور دریائے عظیم کو معارف الٰہیہ کے ایک بحر ذخار کی آغوش راحت نصیب ہوئی. (مفتی عبد المنان اعظمی:المیزان امام احمد رضا نمبر، ص۱۸۸)
مذکورہ اقتباس کو پڑھ کر سطح ذہن پر اصاغرنوازی،علم دوستی اور اعتراف صلاحیت کے خوب صورت مناظر دکھائی دیتے ہیں،یہاں ہم چند اہم نکات بھی قارئین کی نگاہوں کے سامنے رکھتے ہیں:
🔹 اعلیٰ حضرت(پیدائش ۱۲۷۲ھ) صدرالافاضل(پیدائش۱۳۰۰ھ) سے 28سال بڑے تھے۔
🔹 جس وقت صدرالافاضل کی پہلی ملاقات ہوئی اس وقت آپ اکیس سال کے ابھرتے ہوئے نوجوان تھے۔
🔹 اس نوعمری میں آپ کے قلم کی کاٹ،زور بیان،حسن ترتیب ،ستھری زبان اور قوت استدلال کا عالم تھا کہ لوگوں نے اسے اعلیٰ حضرت کی تحریر سمجھا۔
🔹 صدرالافاضل کے مضامین کاایسا معیاری ہونا کہ لوگ اعلیٰ حضرت کی تحریر سمجھ بیٹھیں، یقیناً یہ صدرالافاضل کے خداداد علم پر بڑی شہادت ہے۔
🔹 جس وقت صدرالافاضل کے مضامین کو دیکھ کر اعلیٰ نے آپ کو بلاوا بھیجا اس وقت تک اعلیٰ حضرت دو سو سے زائد کتابیں تصنیف فرما چکے تھے،اور آپ کے علم وفضل کا شہرہ عام ہوچکا تھا۔لیکن پھر بھی ایک نوعمر عالم دین کے اٹھتے ہوئے علمی شباب اور فکری اٹھان کو دیکھ کر بلاوا دینا حضور پاک ﷺ کے فرمان عالیشان "رحم اصاغر" پر عمل ہے اور آپ کی اصاغرنوازی کی خوب صورت مثال ہے۔موجودہ وقت میں ایسی مثالیں عنقا ہوچکی ہیں۔
🔹 اعلیٰ حضرت کے خلاف ادریس نامی وہابی کی تحریر پڑھ کر صدرالافاضل کو بخار آجاتا ہے۔حالانکہ اس وقت تک اعلیٰ حضرت سے آپ کی کوئی شناسائی نہیں تھی اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی تعلق تھا لیکن ایسی بے لوث محبت کہ شدت الفت کے باعث بخار آگیا،یہ یقینا صدرالافاضل کی گہری اسلامی محبت اور جذبہ اخوت کا روشن وبیّن ثبوت ہے۔حالانکہ "المعاصرۃ وجہ المغایرۃ" کا مقولہ بڑا مشہور ہے لیکن جہاں جذبات اسلامی ہوں،فکرخالص ہو وہاں اپنی جماعت کے سرخیل عالم سے ایسا ہی عشق ہونا چاہیے جیسا صدرالافاضل کے عمل سے ظاہر ہوا۔
🔹 بخار کے باوجود صدرالافاضل رات میں ہی اس وہابی کا رد بھی تحریر فرماتے ہیں،یعنی کسی مصیبت کو دیکھ کر بستر پکڑ لینا بھی کارِ دانشمندی نہیں ہے بلکہ اس مصیبت کو دفع کرنا اصل کمال ہے جیسا کہ صدرالافاضل نے شدت بخار کے باوجود بلا تاخیر اس وہابی کا رد تحریر کیا۔
🔹 اخبار کے ایڈیٹر کے مضمون کی اشاعت سے انکار پر جس حسن تکلم کے ساتھ اسے اشاعت پر آمادہ کیا یہ صدرالافاضل کی زمانہ شناسی اور مردم شناسی کی ایک بے حد چمکدار ،روشن مثال اور "کلموا الناس علیٰ قدر عقولھم" کا شاندار مظاہرہ ہے۔
🔹 بعدہ جب ان مضامینِ صدرالافاضل کو اعلیٰ حضرت نے ملاحظہ فرمایا تو پوچھا:
*"یہ مولانا نعیم الدین کون بزرگ ہیں۔‘"*
یہاں اعلیٰ حضرت کے اس قول’"مولانا نعیم الدین کون بزرگ ہیں"کے دو معانی ہوسکتے ہیں:
1۔صدرالافاضل کا معیار تحریر واقعی اتنا اعلیٰ تھا کہ کسی بزرگ کا ہی ہوسکتا تھا۔ایک نوجوان سے ایسی معیاری تحریر کی امید نہیں ہوتی۔
2۔یا پھر امام احمد رضا اپنے ممدوحین کو یہ بتارہے ہیں کہ صاحب تحریرایک بزرگ ہیں۔ اس لئے جب ملنے آئیں تو ان کی نو عمری کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھانا۔
فقیر کے فہم ناقص کے مطابق دوسرا معنی زیادہ قرین قیاس ہے کیوں کہ بعد میں زمانے نے دیکھا کہ اعلیٰ حضرت جیسی عبقری شخصیت نے صدرالافاضل کو اپنی بارگاہ میں وہ "مقام خاص" عطا کیا جو ان کے کسی شاگرد،خلیفہ اور قریبی کو نہ ملا۔یہی وہ "مقام خاص" تھا کہ اعلیٰ حضرت نہایت اہم معاملات میں صدرالافاضل سے مشاورت فرمایا کرتے اور اہم مقامات پر اپنا نائب بنایا کرتے تھے اور کسی ’’بزرگ کا
ماہ محرم الحرام اور من گھڑت واقعات
----- قسط ششم -------------
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
---------------------------------
قارئین آپ نے سیدنا امام مسلم رضی اللہ عنہ کے پیارے بچے محمد و ابراہیم کے بارے میں اکثر تقاریر میں اور کچھ کتابوں میں پڑھا ہوگا کہ وہ سیدنا امام مسلم کے ساتھ کوفہ تشریف لے گیے قاضی شریح کے یہاں تھے بعد شہادتِ امام مسلم ان بچوں کو قاضی شریح نے ایک قافلے کے ساتھ کر دیا مگر شومئی قسمت وہ بچے قافلے سے نہ مل سکے آخر کار بے پناہ مصائب برداشت کرتے ہوئے ایک مقام پر پہنچے کچھ لوگوں نے مشکور نامی داروغہ کے حوالے کیا اور پھر وہ محب اہلبیت تھا اس نے خاطر تواضع کرنے کے بعد ایک انگوٹھی بطور نشانی دے کر آگے بھیجا مگر حارث نامی شخص کے گھر آپ پہنچے ..... ایک لمبی تفصیل ..... پھر حارث نے ان دونوں بچوں کو بڑی بے دردی سے شہید کیا اور ان کی لاشوں کو نہر فرات میں پھینک دیا آل نبی اس پانی کو کیسے پیتے جس میں ان کے گھر کا خون شامل ہو .....
مختصر یہ کہ یہ واقعہ انتہائی درد ناک انداز میں چند کتابوں میں موجود بھی یے اور مقررین خوب بڑھا چڑھا کر رونے اور رلانے کے لیے بیان بھی کرتے ہیں -
اس واقعہ کی حقیقت کیا یے ؟
1) تاریخ کی کسی معتبر کتاب
میں اس واقعہ کا نام و نشان نہیں -
2) پہلے مورخین میں سب سے پہلے عاصم کوفی نے اس کا ذِکر کیا وہ بھی بغیر نام لیے - مگر شہادت کا اس میں بھی کوئی ذکر نہیں -
3) شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد گرفتار شدہ اہلبیت میں امام مسلم کے صاحبزادے بھی تھے -
4) روضۃ الشہداء ملا معین کاشفی اور اس کی اتباع میں حبیب السیر نے اس واقعہ کو لکھا -
5) واقعہ شہادت کو صاحب روضۃ الشہداء نے پہلے لکھا مگر اس کا انداز نوحہ خوانی کا نہ تھا بعد میں حبیب السیر نامی کتاب میں اسے مزید افسانوی رنگ دیا گیا -
6) امام مسلم رضی اللہ عنہ کی جو وصیتیں کتب تاریخ میں ملتی ہیں ان میں بھی اس واقعہ کا نام و نشان نہیں
ناسخ التاریخ '' الکامل فی التاریخ ''
البدایہ والنہایہ وغیرہ حتی کہ کتب شیعہ میں بھی اس کا پتہ نہیں -
ماخوذ 📖 میزان الکتب محقق اہلسنت
علامہ محمد علی نقشبندی عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ
-----17/09/2017--------------
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
----- قسط ششم -------------
📝 حسن نوری وزیر گنج گونڈہ یوپی +918485880123
---------------------------------
قارئین آپ نے سیدنا امام مسلم رضی اللہ عنہ کے پیارے بچے محمد و ابراہیم کے بارے میں اکثر تقاریر میں اور کچھ کتابوں میں پڑھا ہوگا کہ وہ سیدنا امام مسلم کے ساتھ کوفہ تشریف لے گیے قاضی شریح کے یہاں تھے بعد شہادتِ امام مسلم ان بچوں کو قاضی شریح نے ایک قافلے کے ساتھ کر دیا مگر شومئی قسمت وہ بچے قافلے سے نہ مل سکے آخر کار بے پناہ مصائب برداشت کرتے ہوئے ایک مقام پر پہنچے کچھ لوگوں نے مشکور نامی داروغہ کے حوالے کیا اور پھر وہ محب اہلبیت تھا اس نے خاطر تواضع کرنے کے بعد ایک انگوٹھی بطور نشانی دے کر آگے بھیجا مگر حارث نامی شخص کے گھر آپ پہنچے ..... ایک لمبی تفصیل ..... پھر حارث نے ان دونوں بچوں کو بڑی بے دردی سے شہید کیا اور ان کی لاشوں کو نہر فرات میں پھینک دیا آل نبی اس پانی کو کیسے پیتے جس میں ان کے گھر کا خون شامل ہو .....
مختصر یہ کہ یہ واقعہ انتہائی درد ناک انداز میں چند کتابوں میں موجود بھی یے اور مقررین خوب بڑھا چڑھا کر رونے اور رلانے کے لیے بیان بھی کرتے ہیں -
اس واقعہ کی حقیقت کیا یے ؟
1) تاریخ کی کسی معتبر کتاب
میں اس واقعہ کا نام و نشان نہیں -
2) پہلے مورخین میں سب سے پہلے عاصم کوفی نے اس کا ذِکر کیا وہ بھی بغیر نام لیے - مگر شہادت کا اس میں بھی کوئی ذکر نہیں -
3) شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کے بعد گرفتار شدہ اہلبیت میں امام مسلم کے صاحبزادے بھی تھے -
4) روضۃ الشہداء ملا معین کاشفی اور اس کی اتباع میں حبیب السیر نے اس واقعہ کو لکھا -
5) واقعہ شہادت کو صاحب روضۃ الشہداء نے پہلے لکھا مگر اس کا انداز نوحہ خوانی کا نہ تھا بعد میں حبیب السیر نامی کتاب میں اسے مزید افسانوی رنگ دیا گیا -
6) امام مسلم رضی اللہ عنہ کی جو وصیتیں کتب تاریخ میں ملتی ہیں ان میں بھی اس واقعہ کا نام و نشان نہیں
ناسخ التاریخ '' الکامل فی التاریخ ''
البدایہ والنہایہ وغیرہ حتی کہ کتب شیعہ میں بھی اس کا پتہ نہیں -
ماخوذ 📖 میزان الکتب محقق اہلسنت
علامہ محمد علی نقشبندی عَلَیۡہِ الرَّحۡمَہۡ
-----17/09/2017--------------
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
صرف ام المومنین
نبی کریم ﷺ کی بیویاں صرف مسلمان مَردوں کی مائیں ہیں عورتوں کی نہیں!
ایک عورت نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا سے کہا: اے ماں! تو حضرت عائشہ نے فرمایا:
انا ام رجالکم و لست ام نسائكم
"میں تمھارے مَردوں کی ماں ہوں، تمھاری عورتوں کی ماں نہیں ہوں"
(انظر: در منثور للسیوطی، ج5، ص183؛
و تفسیر در منثور اردو، ج5، ص525؛
و السنن الکبری، ج7، ص70، ر12570؛
و طبقات ابن سعد، ج8، ص67؛
و سبل الھدی والرشاد، ج11، ص146؛
و زاد المسیر، ج6، ص182؛
و تفسیر قرطبی، ج14، ص123؛
و فتح القدیر، ج4، ص263)
امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ازواج مطہرات امہات المومنین ہیں امہات المومنات نہیں؛ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ میں تمہارے مَردوں کی ماں ہوں عورتوں کی ماں نہیں ہوں۔
(انظر: فتاوی رضویہ، ج12، ص176)
عبد مصطفی
نبی کریم ﷺ کی بیویاں صرف مسلمان مَردوں کی مائیں ہیں عورتوں کی نہیں!
ایک عورت نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا سے کہا: اے ماں! تو حضرت عائشہ نے فرمایا:
انا ام رجالکم و لست ام نسائكم
"میں تمھارے مَردوں کی ماں ہوں، تمھاری عورتوں کی ماں نہیں ہوں"
(انظر: در منثور للسیوطی، ج5، ص183؛
و تفسیر در منثور اردو، ج5، ص525؛
و السنن الکبری، ج7، ص70، ر12570؛
و طبقات ابن سعد، ج8، ص67؛
و سبل الھدی والرشاد، ج11، ص146؛
و زاد المسیر، ج6، ص182؛
و تفسیر قرطبی، ج14، ص123؛
و فتح القدیر، ج4، ص263)
امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ازواج مطہرات امہات المومنین ہیں امہات المومنات نہیں؛ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ میں تمہارے مَردوں کی ماں ہوں عورتوں کی ماں نہیں ہوں۔
(انظر: فتاوی رضویہ، ج12، ص176)
عبد مصطفی
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
Sirf Ummul Momineen
Nabiye Kareem ﷺ Ki Biwiya Sirf Musalman Mardo Ki Maayein Hain Aurato Ki Nahin!
Ek Aurat Ne Hazrate Ayesha Siddiqa Radiallaho Ta'ala Anha Se Kaha: Aye Maa! To Hazrate Ayesha Ne Farmaya:
انا ام رجالکم و لست ام نسائكم
"Main Tumhare Mardo Ki Maa Hoon, Tumhari Aurato Ki Maa Nahin Hoon"
(انظر: در منثور للسیوطی، ج5، ص183؛
و تفسیر در منثور اردو، ج5، ص525؛
و السنن الکبری، ج7، ص70، ر12570؛
و طبقات ابن سعد، ج8، ص67؛
و سبل الھدی والرشاد، ج11، ص146؛
و زاد المسیر، ج6، ص182؛
و تفسیر قرطبی، ج14، ص123؛
و فتح القدیر، ج4، ص263)
Imam -e- Ahle Sunnat, Aala Hazrat Rahimahullah Likhte Hain Ke Azwaaj -e- Mutah'haraat Ummahaatul Momineen Hain Ummahaatul Mominaat Nahin, Ummul Momineen Hazrate Ayesha Radiallaho Ta'ala Anha Farmati Hain Ke Main Tumhare Mardo Ki Maa Hoon Aurato Ki Maa Nahin Hoon
(انظر: فتاوی رضویہ، ج12، ص176)
Abde Mustafa
Nabiye Kareem ﷺ Ki Biwiya Sirf Musalman Mardo Ki Maayein Hain Aurato Ki Nahin!
Ek Aurat Ne Hazrate Ayesha Siddiqa Radiallaho Ta'ala Anha Se Kaha: Aye Maa! To Hazrate Ayesha Ne Farmaya:
انا ام رجالکم و لست ام نسائكم
"Main Tumhare Mardo Ki Maa Hoon, Tumhari Aurato Ki Maa Nahin Hoon"
(انظر: در منثور للسیوطی، ج5، ص183؛
و تفسیر در منثور اردو، ج5، ص525؛
و السنن الکبری، ج7، ص70، ر12570؛
و طبقات ابن سعد، ج8، ص67؛
و سبل الھدی والرشاد، ج11، ص146؛
و زاد المسیر، ج6، ص182؛
و تفسیر قرطبی، ج14، ص123؛
و فتح القدیر، ج4، ص263)
Imam -e- Ahle Sunnat, Aala Hazrat Rahimahullah Likhte Hain Ke Azwaaj -e- Mutah'haraat Ummahaatul Momineen Hain Ummahaatul Mominaat Nahin, Ummul Momineen Hazrate Ayesha Radiallaho Ta'ala Anha Farmati Hain Ke Main Tumhare Mardo Ki Maa Hoon Aurato Ki Maa Nahin Hoon
(انظر: فتاوی رضویہ، ج12، ص176)
Abde Mustafa
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
सिर्फ उम्मुल मुमिनीन
नबी -ए- करीम ﷺ की बीवियाँ सिर्फ मुसलमान मर्दों की मायें हैं औरतों की नहीं!
एक औरत ने हज़रते आइशा सिद्दीक़ा रदिअल्लाहु त'आला अन्हा से कहा : ए माँ! तो हज़रते आइशा ने फरमाया :
انا ام رجالکم و لست ام نسائكم
"मैं तुम्हारे मर्दों की माँ हूँ, तुम्हारी औरतों की माँ नहीं हूँ।"
(انظر: در منثور للسیوطی، ج5، ص183؛
و تفسیر در منثور اردو، ج5، ص525؛
و السنن الکبری، ج7، ص70، ر12570؛
و طبقات ابن سعد، ج8، ص67؛
و سبل الھدی والرشاد، ج11، ص146؛
و زاد المسیر، ج6، ص182؛
و تفسیر قرطبی، ج14، ص123؛
و فتح القدیر، ج4، ص263)
इमामे अहले सुन्नत, आला हज़रत रहीमहुल्लाह लिखते हैं कि अज़वाज -ए- मुतह्हरात उम्म्हातुल मुमिनीन हैं, उम्महातुल मुमिनात नहीं, उम्मुल मुमिनीन हज़रते आइशा रदिअल्लाहु त'आला अन्हा फरमाती हैं कि मैं तुम्हारे मर्दों की माँ हूँ औरतों की माँ नहीं हूँ।
(انظر: فتاوی رضویہ، ج12، ص176)
अ़ब्दे मुस्तफ़ा
नबी -ए- करीम ﷺ की बीवियाँ सिर्फ मुसलमान मर्दों की मायें हैं औरतों की नहीं!
एक औरत ने हज़रते आइशा सिद्दीक़ा रदिअल्लाहु त'आला अन्हा से कहा : ए माँ! तो हज़रते आइशा ने फरमाया :
انا ام رجالکم و لست ام نسائكم
"मैं तुम्हारे मर्दों की माँ हूँ, तुम्हारी औरतों की माँ नहीं हूँ।"
(انظر: در منثور للسیوطی، ج5، ص183؛
و تفسیر در منثور اردو، ج5، ص525؛
و السنن الکبری، ج7، ص70، ر12570؛
و طبقات ابن سعد، ج8، ص67؛
و سبل الھدی والرشاد، ج11، ص146؛
و زاد المسیر، ج6، ص182؛
و تفسیر قرطبی، ج14، ص123؛
و فتح القدیر، ج4، ص263)
इमामे अहले सुन्नत, आला हज़रत रहीमहुल्लाह लिखते हैं कि अज़वाज -ए- मुतह्हरात उम्म्हातुल मुमिनीन हैं, उम्महातुल मुमिनात नहीं, उम्मुल मुमिनीन हज़रते आइशा रदिअल्लाहु त'आला अन्हा फरमाती हैं कि मैं तुम्हारे मर्दों की माँ हूँ औरतों की माँ नहीं हूँ।
(انظر: فتاوی رضویہ، ج12، ص176)
अ़ब्दे मुस्तफ़ा