❶ Qurbani Ka Bayan
Masail / Bahare ShariAt
قربانی کا بیان / مَسَائِلِ فِقہیہ
بَہارِ شریعت = صدر الشریعہ
https://t.me/islaamic_Knowledge
قربانی کئی قسم کی ہے۔
غنیؔ۱ اور فقیر دونوں پر واجب،
فقیر ؔ۲ پر واجب ہو غنی پر واجب نہ ہو،
غنیؔ۳ پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو۔
دونوں پر واجب ہو
اُس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کی منت مانی یہ کہا کہ ﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر بکری یا گائے کی قربانی کرنا ہے یا اس بکری یا اس گائے کو قربانی کرنا ہے۔
فقیر پر واجب ہو غنی پر نہ ہو
اس کی صورت یہ ہے کہ فقیر نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے اور غنی اگر خریدتا تو اس خریدنے سے قربانی اوس پر واجب نہ ہوتی۔
غنی پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو
اس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کا وجوب نہ خریدنے سے ہو نہ منت ماننے سے بلکہ خدا نے جو اسے زندہ رکھا ہے اس کے شکریہ میں اور حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت کے اِحیا میں(5) جو قربانی واجب ہے وہ صرف غنی پر ہے۔ (6)(عالمگیری)
https://t.me/islaamic_Knowledge
مسئلہ ۱ :
مسافر پر قربانی واجب نہیں اگر مسافر نے قربانی کی یہ تطوّع (نفل) ہے اور فقیر نے اگر نہ منت مانی ہو نہ قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو اوس کا قربانی کرنا بھی تطوّع ہے۔(1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲ :
بکری کا مالک تھا اور اوس کی قربانی کی نیت کر لی یا خریدنے کے وقت قربانی کی نیت نہ تھی بعد میں نیت کر لی تو اس نیت سے قربانی واجب نہیں ہوگی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳ :
قربانی واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں ۔ اسلا ؔ۱ م یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں ، اقا ؔ ۲مت یعنی مقیم ہونا، مسافر پر واجب نہیں ، تونگریؔ ۳ یعنی مالک نصاب ہونا یہاں مالداری سے مراد وہی ہے جس سے صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، حر ؔ ۴ یت یعنی آزاد ہونا جو آزاد نہ ہو اوس پر قربانی واجب نہیں کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں لہٰذا عبادت مالیہ اوس پر واجب نہیں ۔ مرد ہونا اس کے لیے شرط نہیں ۔ عورتوں پر واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں پر واجب ہوتی ہے اس کے لیے بلوغ شرط ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور نابالغ پر واجب ہے تو آیا خود اوس کے مال سے قربانی کی جائے گی یا اوس کا باپ اپنے مال سے قربانی کرے گا۔ ظاہرالروایۃ یہ ہے کہ نہ خود نابالغ پر واجب ہے اور نہ اوس کی طرف سے اوس کے باپ پر واجب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ (3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴ :
مسافر پر اگرچہ واجب نہیں مگر نفل کے طور پر کرے تو کرسکتا ہے ثواب پائے گا۔ حج کرنے والے جو مسافر ہوں اون پر قربانی واجب نہیں اور مقیم ہوں تو واجب ہے جیسے کہ مکہ کے رہنے والے حج کریں تو چونکہ یہ مسافر نہیں ان پر واجب ہوگی۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵ :
شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں بلکہ قربانی کے لیے جو وقت مقرر ہے اوس کے کسی حصہ میں شرائط کا پایا جانا وجوب کے لیے کافی ہے مثلاً ایک شخص ابتدائے وقت قربانی میں کافر تھا پھر مسلمان ہوگیا اور ابھی قربانی کاوقت باقی ہے اوس پر قربانی واجب ہے جبکہ دوسرے شرائط بھی پائے جائیں اسی طرح اگر غلام تھا اور آزاد ہوگیا اوس کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ یوہیں اول وقت میں مسافر تھا اور اثنائے وقت میں مقیم ہوگیا اس پر بھی قربانی واجب ہوگئی یا فقیر تھا اوروقت کے اندر مالدار ہوگیا اس پر بھی قربانی واجب ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶ :
قربانی واجب ہونے کا سبب وقت ہے جب وہ وقت آیا اور شرائط وجوب پائے گئے قربانی واجب ہوگئی اور اس کا رکن اون مخصوص جانوروں میں کسی کو قربانی کی نیت سے ذبح کرنا ہے۔ قربانی کی نیت سے دوسرے جانور مثلاً مرغ کو ذبح کرنا ناجائز ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۷ :
جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دوسو درہم ہو وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے ان کے سوا جو چیزیں ہوں وہ حاجت سے زائد ہیں ۔(2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۸ :
اوس شخص پر دَین ہے اور اوس کے اموال سے دَین کی مقدارمُجرا کی جائے(3) تو نصاب نہیں باقی رہتی اوس پر قربانی واجب نہیں اور اگر اس کا مال یہاں موجود نہیں ہے اور ایامِ قربانی(4) گزرنے کے بعد وہ مال اوسے وصول ہوگا تو قربانی واجب نہیں ۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۹ :
ایک شخص کے پاس دو سو درہم تھے سال پورا ہوا اور ان میں سے پانچ درہم زکوٰۃ میں دیے ایک سو پچانوے باقی رہے اب قربانی کا دن آیا تو قربانی واجب ہے اور اگر اپنے ضروریات میں پانچ درہم خرچ کرتا تو قربانی واجب نہ ہوتی۔ (6)(عالمگیری)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Masail / Bahare ShariAt
قربانی کا بیان / مَسَائِلِ فِقہیہ
بَہارِ شریعت = صدر الشریعہ
https://t.me/islaamic_Knowledge
قربانی کئی قسم کی ہے۔
غنیؔ۱ اور فقیر دونوں پر واجب،
فقیر ؔ۲ پر واجب ہو غنی پر واجب نہ ہو،
غنیؔ۳ پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو۔
دونوں پر واجب ہو
اُس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کی منت مانی یہ کہا کہ ﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر بکری یا گائے کی قربانی کرنا ہے یا اس بکری یا اس گائے کو قربانی کرنا ہے۔
فقیر پر واجب ہو غنی پر نہ ہو
اس کی صورت یہ ہے کہ فقیر نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے اور غنی اگر خریدتا تو اس خریدنے سے قربانی اوس پر واجب نہ ہوتی۔
غنی پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو
اس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کا وجوب نہ خریدنے سے ہو نہ منت ماننے سے بلکہ خدا نے جو اسے زندہ رکھا ہے اس کے شکریہ میں اور حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت کے اِحیا میں(5) جو قربانی واجب ہے وہ صرف غنی پر ہے۔ (6)(عالمگیری)
https://t.me/islaamic_Knowledge
مسئلہ ۱ :
مسافر پر قربانی واجب نہیں اگر مسافر نے قربانی کی یہ تطوّع (نفل) ہے اور فقیر نے اگر نہ منت مانی ہو نہ قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو اوس کا قربانی کرنا بھی تطوّع ہے۔(1)(عالمگیری)
مسئلہ ۲ :
بکری کا مالک تھا اور اوس کی قربانی کی نیت کر لی یا خریدنے کے وقت قربانی کی نیت نہ تھی بعد میں نیت کر لی تو اس نیت سے قربانی واجب نہیں ہوگی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳ :
قربانی واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں ۔ اسلا ؔ۱ م یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں ، اقا ؔ ۲مت یعنی مقیم ہونا، مسافر پر واجب نہیں ، تونگریؔ ۳ یعنی مالک نصاب ہونا یہاں مالداری سے مراد وہی ہے جس سے صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، حر ؔ ۴ یت یعنی آزاد ہونا جو آزاد نہ ہو اوس پر قربانی واجب نہیں کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں لہٰذا عبادت مالیہ اوس پر واجب نہیں ۔ مرد ہونا اس کے لیے شرط نہیں ۔ عورتوں پر واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں پر واجب ہوتی ہے اس کے لیے بلوغ شرط ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور نابالغ پر واجب ہے تو آیا خود اوس کے مال سے قربانی کی جائے گی یا اوس کا باپ اپنے مال سے قربانی کرے گا۔ ظاہرالروایۃ یہ ہے کہ نہ خود نابالغ پر واجب ہے اور نہ اوس کی طرف سے اوس کے باپ پر واجب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ (3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴ :
مسافر پر اگرچہ واجب نہیں مگر نفل کے طور پر کرے تو کرسکتا ہے ثواب پائے گا۔ حج کرنے والے جو مسافر ہوں اون پر قربانی واجب نہیں اور مقیم ہوں تو واجب ہے جیسے کہ مکہ کے رہنے والے حج کریں تو چونکہ یہ مسافر نہیں ان پر واجب ہوگی۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵ :
شرائط کا پورے وقت میں پایا جانا ضروری نہیں بلکہ قربانی کے لیے جو وقت مقرر ہے اوس کے کسی حصہ میں شرائط کا پایا جانا وجوب کے لیے کافی ہے مثلاً ایک شخص ابتدائے وقت قربانی میں کافر تھا پھر مسلمان ہوگیا اور ابھی قربانی کاوقت باقی ہے اوس پر قربانی واجب ہے جبکہ دوسرے شرائط بھی پائے جائیں اسی طرح اگر غلام تھا اور آزاد ہوگیا اوس کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ یوہیں اول وقت میں مسافر تھا اور اثنائے وقت میں مقیم ہوگیا اس پر بھی قربانی واجب ہوگئی یا فقیر تھا اوروقت کے اندر مالدار ہوگیا اس پر بھی قربانی واجب ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶ :
قربانی واجب ہونے کا سبب وقت ہے جب وہ وقت آیا اور شرائط وجوب پائے گئے قربانی واجب ہوگئی اور اس کا رکن اون مخصوص جانوروں میں کسی کو قربانی کی نیت سے ذبح کرنا ہے۔ قربانی کی نیت سے دوسرے جانور مثلاً مرغ کو ذبح کرنا ناجائز ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۷ :
جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دوسو درہم ہو وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے ان کے سوا جو چیزیں ہوں وہ حاجت سے زائد ہیں ۔(2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۸ :
اوس شخص پر دَین ہے اور اوس کے اموال سے دَین کی مقدارمُجرا کی جائے(3) تو نصاب نہیں باقی رہتی اوس پر قربانی واجب نہیں اور اگر اس کا مال یہاں موجود نہیں ہے اور ایامِ قربانی(4) گزرنے کے بعد وہ مال اوسے وصول ہوگا تو قربانی واجب نہیں ۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۹ :
ایک شخص کے پاس دو سو درہم تھے سال پورا ہوا اور ان میں سے پانچ درہم زکوٰۃ میں دیے ایک سو پچانوے باقی رہے اب قربانی کا دن آیا تو قربانی واجب ہے اور اگر اپنے ضروریات میں پانچ درہم خرچ کرتا تو قربانی واجب نہ ہوتی۔ (6)(عالمگیری)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
❷ Qurbãni Kã Bayãn
Masayil / Bahaare ShareeAt
مسئلہ ۱۰ :
مالکِ نصاب نے قربانی کے لیے بکری خریدی تھی وہ گم ہوگئی اور اس شخص کا مال نصاب سے کم ہوگیا اب قربانی کا دن آیا تو اس پر یہ ضرور نہیں کہ دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے اور اگر وہ بکری قربانی ہی کے دنوں میں مل گئی اور یہ شخص اب بھی مالک نصاب نہیں ہے تو اوس پر اس بکری کی قربانی واجب نہیں ۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱ :
عورت کامَہر شوہر کے ذمہ باقی ہے اور شوہر مالدار ہے تو اس مَہر کی وجہ سے عورت کو مالک نصاب نہیں ماناجائے گا اگرچہ مَہر معجل ہو اور اگر عورت کے پاس اس کے سوا بقدر نصاب مال نہیں ہے تو عورت پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲ :
کسی کے پاس دو سو درہم کی قیمت کا مصحف شریف (قرآن مجید) ہے اگر وہ اوسے دیکھ کر اچھی طرح تلاوت کرسکتا ہے تو اوس پر قربانی واجب نہیں چاہے اوس میں تلاوت کرتا ہو یا نہ کرتا ہو اور اگر اچھی طرح اوسے دیکھ کر تلاوت نہ کرسکتا ہو تو واجب ہے۔ کتابوں کا بھی یہی حکم ہے کہ اوس کے کام کی ہیں تو قربانی واجب نہیں ورنہ ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳ :
ایک مکان جاڑے کے لیے(2) اور ایک گرمی کے لیے یہ حاجت میں داخل ہے ان کے علاوہ اس کے پاس تیسرا مکان ہو جو حاجت سے زائد ہے اگر یہ دو سو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے اسی طرح گرمی جاڑے کے بچھونے حاجت میں داخل ہیں اور تیسرا بچھونا جو حاجت سے زائد ہے اوس کا اعتبار ہوگا۔ غازی کے لیے دو گھوڑے حاجت میں ہیں تیسرا حاجت سے زائد ہے۔ اسلحہ غازی کی حاجت میں داخل ہیں ہاں اگر ہر قسم کے دو ہتھیار ہوں تو دوسرے کو حاجت سے زائد قرار دیا جائے گا۔ گاؤں کے زمیندار کے پاس ایک گھوڑا حاجت میں داخل ہے اور دو ہوں تو دوسرے کو زائد مانا جائے گا۔ گھر میں پہننے کے کپڑے اور کام کاج کے وقت پہننے کے کپڑے اور جمعہ و عید اور دوسرے موقعوں پر پہن کر جانے کے کپڑے یہ سب حاجت میں داخل ہیں اور ان تین کے سوا چوتھا جوڑا اگر دو سو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے۔(3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴ :
بالغ لڑکوں یا بی بی کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہے تو اون سے اجازت حاصل کرے بغیر اون کے کہے اگر کر دی تو اون کی طرف سے واجب ادا نہ ہوا اور نابالغ کی طرف سے اگرچہ واجب نہیں ہے مگر کر دینا بہتر ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵ :
قربانی کا حکم یہ ہے کہ اس کے ذمہ جو قربانی واجب ہے کر لینے سے بری الذمہ ہوگیا اور اچھی نیت سے کی ہے ریا وغیرہ کی مداخلت نہیں تو ﷲ (عزوجل) کے فضل سے امید ہے کہ آخرت میں اس کا ثواب ملے۔ (5)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۶ :
یہ ضرورنہیں کہ دسویں ہی کو قربانی کر ڈالے اس کے لیے گنجائش ہے کہ پورے وقت میں جب چاہے کرے لہٰذا اگر ابتدائے وقتمیں اس کا اہل نہ تھا وجوب کے شرائط نہیں پائے جاتے تھے اور آخر وقت میں اہل ہوگیا یعنی وجوب کے شرائط پائے گئے تو اوس پر واجب ہوگئی اور اگر ابتدائے وقت میں واجب تھی اور ابھی کی نہیں اور آخر وقت میں شرائط جاتے رہے تو واجب نہ رہی۔(6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۷ :
ایک شخص فقیر تھا مگر اوس نے قربانی کر ڈالی اس کے بعد ابھی وقت قربانی کا باقی تھا کہ غنی ہوگیا تو اوس کو پھر قربانی کرنی چاہیے کہ پہلے جو کی تھی وہ واجب نہ تھی اور اب واجب ہے بعض علماء نے فرمایا کہ وہ پہلی قربانی کافی ہے اور اگر باوجود مالک نصاب ہونے کے اوس نے قربانی نہ کی اور وقت ختم ہونے کے بعد فقیر ہوگیا تو اوس پر بکری کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے یعنی وقت گزرنے کے بعد قربانی ساقط نہیں ہوگی۔ اور اگر مالک نصاب بغیر قربانی کیے ہوئے انھیں دنوں میں مرگیا تو اوس کی قربانی ساقط ہوگئی۔(1)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۸ :
قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی مثلاً بجائے قربانی اوس نے بکری یا اس کی قیمت صدقہ کر دی یہ ناکافی ہے اس میں نیابت ہوسکتی ہے یعنی خود کرنا ضرور نہیں بلکہ دوسرے کو اجازت دے دی اوس نے کر دی یہ ہوسکتا ہے۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹ :
جب قربانی کے شرائط مذکورہ پائے جائیں تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے۔ ساتویں حصہ سے کم نہیں ہوسکتا بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکامیں اگر کسی شریک کا ساتویں حصہ سے کم ہے تو کسی کی قربانی نہیں ہوئی یعنی جس کا ساتواں حصہ یا اس سے زیادہ ہے اوس کی بھی قربانی نہیں ہوئی۔ گائے یا اونٹ میں ساتویں حصہ سے زیادہ کی قربانی ہوسکتی ہے۔ مثلاً گائے کو چھ یا پانچ یا چار شخصوں کی طرف سے قربانی کریں ہوسکتا ہے اور یہ ضرور نہیں کہ سب شرکا کے حصے برابر ہوں بلکہ کم و بیش بھی ہوسکتے ہیں ہاں یہ ضرورہے کہ جس کا حصہ کم ہے تو ساتویں حصہ سے کم نہ ہو۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Masayil / Bahaare ShareeAt
مسئلہ ۱۰ :
مالکِ نصاب نے قربانی کے لیے بکری خریدی تھی وہ گم ہوگئی اور اس شخص کا مال نصاب سے کم ہوگیا اب قربانی کا دن آیا تو اس پر یہ ضرور نہیں کہ دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے اور اگر وہ بکری قربانی ہی کے دنوں میں مل گئی اور یہ شخص اب بھی مالک نصاب نہیں ہے تو اوس پر اس بکری کی قربانی واجب نہیں ۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱ :
عورت کامَہر شوہر کے ذمہ باقی ہے اور شوہر مالدار ہے تو اس مَہر کی وجہ سے عورت کو مالک نصاب نہیں ماناجائے گا اگرچہ مَہر معجل ہو اور اگر عورت کے پاس اس کے سوا بقدر نصاب مال نہیں ہے تو عورت پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲ :
کسی کے پاس دو سو درہم کی قیمت کا مصحف شریف (قرآن مجید) ہے اگر وہ اوسے دیکھ کر اچھی طرح تلاوت کرسکتا ہے تو اوس پر قربانی واجب نہیں چاہے اوس میں تلاوت کرتا ہو یا نہ کرتا ہو اور اگر اچھی طرح اوسے دیکھ کر تلاوت نہ کرسکتا ہو تو واجب ہے۔ کتابوں کا بھی یہی حکم ہے کہ اوس کے کام کی ہیں تو قربانی واجب نہیں ورنہ ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳ :
ایک مکان جاڑے کے لیے(2) اور ایک گرمی کے لیے یہ حاجت میں داخل ہے ان کے علاوہ اس کے پاس تیسرا مکان ہو جو حاجت سے زائد ہے اگر یہ دو سو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے اسی طرح گرمی جاڑے کے بچھونے حاجت میں داخل ہیں اور تیسرا بچھونا جو حاجت سے زائد ہے اوس کا اعتبار ہوگا۔ غازی کے لیے دو گھوڑے حاجت میں ہیں تیسرا حاجت سے زائد ہے۔ اسلحہ غازی کی حاجت میں داخل ہیں ہاں اگر ہر قسم کے دو ہتھیار ہوں تو دوسرے کو حاجت سے زائد قرار دیا جائے گا۔ گاؤں کے زمیندار کے پاس ایک گھوڑا حاجت میں داخل ہے اور دو ہوں تو دوسرے کو زائد مانا جائے گا۔ گھر میں پہننے کے کپڑے اور کام کاج کے وقت پہننے کے کپڑے اور جمعہ و عید اور دوسرے موقعوں پر پہن کر جانے کے کپڑے یہ سب حاجت میں داخل ہیں اور ان تین کے سوا چوتھا جوڑا اگر دو سو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے۔(3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴ :
بالغ لڑکوں یا بی بی کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہے تو اون سے اجازت حاصل کرے بغیر اون کے کہے اگر کر دی تو اون کی طرف سے واجب ادا نہ ہوا اور نابالغ کی طرف سے اگرچہ واجب نہیں ہے مگر کر دینا بہتر ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵ :
قربانی کا حکم یہ ہے کہ اس کے ذمہ جو قربانی واجب ہے کر لینے سے بری الذمہ ہوگیا اور اچھی نیت سے کی ہے ریا وغیرہ کی مداخلت نہیں تو ﷲ (عزوجل) کے فضل سے امید ہے کہ آخرت میں اس کا ثواب ملے۔ (5)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۶ :
یہ ضرورنہیں کہ دسویں ہی کو قربانی کر ڈالے اس کے لیے گنجائش ہے کہ پورے وقت میں جب چاہے کرے لہٰذا اگر ابتدائے وقتمیں اس کا اہل نہ تھا وجوب کے شرائط نہیں پائے جاتے تھے اور آخر وقت میں اہل ہوگیا یعنی وجوب کے شرائط پائے گئے تو اوس پر واجب ہوگئی اور اگر ابتدائے وقت میں واجب تھی اور ابھی کی نہیں اور آخر وقت میں شرائط جاتے رہے تو واجب نہ رہی۔(6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۷ :
ایک شخص فقیر تھا مگر اوس نے قربانی کر ڈالی اس کے بعد ابھی وقت قربانی کا باقی تھا کہ غنی ہوگیا تو اوس کو پھر قربانی کرنی چاہیے کہ پہلے جو کی تھی وہ واجب نہ تھی اور اب واجب ہے بعض علماء نے فرمایا کہ وہ پہلی قربانی کافی ہے اور اگر باوجود مالک نصاب ہونے کے اوس نے قربانی نہ کی اور وقت ختم ہونے کے بعد فقیر ہوگیا تو اوس پر بکری کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے یعنی وقت گزرنے کے بعد قربانی ساقط نہیں ہوگی۔ اور اگر مالک نصاب بغیر قربانی کیے ہوئے انھیں دنوں میں مرگیا تو اوس کی قربانی ساقط ہوگئی۔(1)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۸ :
قربانی کے وقت میں قربانی کرنا ہی لازم ہے کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں ہوسکتی مثلاً بجائے قربانی اوس نے بکری یا اس کی قیمت صدقہ کر دی یہ ناکافی ہے اس میں نیابت ہوسکتی ہے یعنی خود کرنا ضرور نہیں بلکہ دوسرے کو اجازت دے دی اوس نے کر دی یہ ہوسکتا ہے۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹ :
جب قربانی کے شرائط مذکورہ پائے جائیں تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے۔ ساتویں حصہ سے کم نہیں ہوسکتا بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکامیں اگر کسی شریک کا ساتویں حصہ سے کم ہے تو کسی کی قربانی نہیں ہوئی یعنی جس کا ساتواں حصہ یا اس سے زیادہ ہے اوس کی بھی قربانی نہیں ہوئی۔ گائے یا اونٹ میں ساتویں حصہ سے زیادہ کی قربانی ہوسکتی ہے۔ مثلاً گائے کو چھ یا پانچ یا چار شخصوں کی طرف سے قربانی کریں ہوسکتا ہے اور یہ ضرور نہیں کہ سب شرکا کے حصے برابر ہوں بلکہ کم و بیش بھی ہوسکتے ہیں ہاں یہ ضرورہے کہ جس کا حصہ کم ہے تو ساتویں حصہ سے کم نہ ہو۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
❸ Qurbaani Kaa Bayaan
Masaail / Bahaare ShariAt
مسئلہ ۲۰ :
سات شخصوں نے پانچ گایوں کی قربانی کی یہ جائز ہے کہ ہر گائے میں ہر شخص کا ساتواں حصہ ہوا اور آٹھ شخصوں نے پانچ یا چھ گایوں میں بحصۂ مساوی شرکت کی یہ ناجائز ہے کہ ہر گائے میں ہر ایک کا ساتویں حصہ سے کم ہے۔ سات بکریوں کی سات شخصوں نے شریک ہو کر قربانی کی یعنی ہر ایک کا ہر بکری میں ساتواں حصہ ہے استحساناً قربانی ہو جائے گی یعنی ہر ایک کی ایک ایک بکری پوری قرار دی جائے گی۔ یوہیں دو شخصوں نے دو بکریوں میں شرکت کر کے قربانی کی تو بطور استحسان ہر ایک کی قربانی ہو جائے گی۔ (4)
مسئلہ ۲۱ :
شرکت میں گائے کی قربانی ہوئی تو ضرور ہے کہ گوشت وزن کر کے تقسیم کیا جائے اندازہ سے تقسیم نہ ہو
کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو زائد یا کم ملے اور یہ ناجائز ہے یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ کم و بیش ہوگا تو ہر ایک اس کو دوسرے کے لیے جائز کر دے گا کہہ دے گا کہ اگر کسی کو زائد پہنچ گیا ہے تو معاف کیا کہ یہاں عدم جواز حق شرع ہے اور ان کو اس کے معاف کرنے کا حق نہیں ۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲ :
قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کے طلوع صبح صادق سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے یعنی تین دن ، دوراتیں اور ان دنوں کو ایام نحر کہتے ہیں اور گیارہ سے تیرہ تک تین دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں لہٰذا بیچ کے دو دن ایام نحر وایام تشریق دونوں ہیں اور پہلا دن یعنی دسویں ذی الحجہ صرف یوم النحرہے اور پچھلا دن یعنی تیرہویں ذی الحجہ صرف یوم التشریق ہے۔(2)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۳ :
دسویں کے بعد کی دونوں راتیں ایام نحر میں داخل ہیں ان میں بھی قربانی ہوسکتی ہے مگر رات میں ذبح کرنا مکروہ ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۴ :
پہلا دن یعنی دسویں تاریخ سب میں افضل ہے پھر گیارہویں اور پچھلا دن یعنی بارہویں سب میں کم درجہ ہے اور اگر تاریخوں میں شک ہو یعنی تیس کا چاند مانا گیا ہے اور اونتیس کے ہونے کا بھی شبہہ ہے مثلاً گمان تھا کہ اونتیس کا چاند ہوگا مگر ابر وغیرہ کی وجہ سے نہ دکھایا شہادتیں گزریں مگر کسی وجہ سے قبول نہ ہوئیں ایسی حالت میں دسویں کے متعلق یہ شبہہ ہے کہ شاید آج گیارہویں ہو تو بہتر یہ ہے کہ قربانی کو بارہویں تک مؤخر نہ کرے یعنی بارہویں سے پہلے کر ڈالے کیونکہ بارہویں کے متعلق تیرہویں تاریخ ہونے کا شبہہ ہوگا تو یہ شبہہ ہوگا کہ وقت سے بعد میں ہوئی اور اس صورت میں اگر بارہویں کو قربانی کی جس کے متعلق تیرہویں ہونے کا شبہہ ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت صدقہ کر ڈالے بلکہ ذبح کی ہوئی بکری اور زندہ بکری میں قیمت کا تفاوت ہو کہ زندہ کی قیمت کچھ زائد ہو تو اس زیادتی کو بھی صدقہ کر دے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵ :
ایام نحر میں قربانی کرنا اتنی قیمت کے صدقہ کرنے سے افضل ہے کیونکہ قربانی واجب ہے یا سنت اور صدقہ کرنا تطوّع محض ہے(5) لہٰذا قربانی افضل ہوئی۔(6)(عالمگیری) اور وجوب کی صورت میں بغیر قربانی کیے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔(7)
مسئلہ ۲۶ :
شہر میں قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز ہوچکے لہٰذا نماز عید سے پہلے شہر میں قربانی نہیں ہوسکتی اور دیہات میں چونکہ نماز عید نہیں ہے یہاں طلوع فجر کے بعد سے ہی قربانی ہوسکتی ہے اور دیہات میں بہتر یہ ہے کہ بعد طلوع آفتاب قربانی کی جائے اور شہر میں بہتر یہ ہے کہ عید کا خطبہ ہوچکنے کے بعد قربانی کی جائے۔(1) (عالمگیری) یعنی نماز ہوچکی ہے اور ابھی خطبہ نہیں ہوا ہے اس صورت میں قربانی ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے-
مسئلہ ۲۷ :
یہ جو شہر و دیہات کا فرق بتایا گیا یہ مقام قربانی کے لحاظ سے ہے قربانی کرنے والے کے اعتبار سے نہیں یعنی دیہات میں قربانی ہو تو وہ وقت ہے اگرچہ قربانی کرنے والا شہر میں ہو اور شہر میں ہو تو نماز کے بعد ہو اگرچہ جس کی طرف سے قربانی ہے وہ دیہات میں ہو لہٰذا شہری آدمی اگر یہ چاہتا ہے کہ صبح ہی نماز سے پہلے قربانی ہو جائے تو جانور دیہات میں بھیج دے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲۸ :
اگر شہر میں متعدد جگہ عید کی نماز ہوتی ہو تو پہلی جگہ نماز ہوچکنے کے بعد قربانی جائز ہے یعنی یہ ضرور نہیں کہ عیدگاہ میں نماز ہو جائے جب ہی قربانی کی جائے بلکہ کسی مسجد میں ہوگئی اور عیدگاہ میں نہ ہوئی جب بھی ہوسکتی ہے۔(3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹ :
دسویں کو اگر عید کی نماز نہیں ہوئی تو قربانی کے لیے یہ ضرور ہے کہ وقت نماز جاتا رہے یعنی زوال کا وقت آجائے اب قربانی ہوسکتی ہے اور دوسرے یا تیسرے دن نماز عید سے قبل ہوسکتی ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۰ :
منیٰ میں چونکہ عید کی نماز نہیں ہوتی لہٰذا وہاں جو قربانی کرنا چاہے طلوع فجر کے بعد سے کرسکتا ہے اوس کے لیے وہی حکم ہے جو دیہات کا ہے کسی شہر میں اگر فتنہ کی وجہ سے نماز عید نہ ہو تو وہاں دسویں کی طلوع فجر کے بعد قربانی ہوسکتی ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Masaail / Bahaare ShariAt
مسئلہ ۲۰ :
سات شخصوں نے پانچ گایوں کی قربانی کی یہ جائز ہے کہ ہر گائے میں ہر شخص کا ساتواں حصہ ہوا اور آٹھ شخصوں نے پانچ یا چھ گایوں میں بحصۂ مساوی شرکت کی یہ ناجائز ہے کہ ہر گائے میں ہر ایک کا ساتویں حصہ سے کم ہے۔ سات بکریوں کی سات شخصوں نے شریک ہو کر قربانی کی یعنی ہر ایک کا ہر بکری میں ساتواں حصہ ہے استحساناً قربانی ہو جائے گی یعنی ہر ایک کی ایک ایک بکری پوری قرار دی جائے گی۔ یوہیں دو شخصوں نے دو بکریوں میں شرکت کر کے قربانی کی تو بطور استحسان ہر ایک کی قربانی ہو جائے گی۔ (4)
مسئلہ ۲۱ :
شرکت میں گائے کی قربانی ہوئی تو ضرور ہے کہ گوشت وزن کر کے تقسیم کیا جائے اندازہ سے تقسیم نہ ہو
کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو زائد یا کم ملے اور یہ ناجائز ہے یہاں یہ خیال نہ کیا جائے کہ کم و بیش ہوگا تو ہر ایک اس کو دوسرے کے لیے جائز کر دے گا کہہ دے گا کہ اگر کسی کو زائد پہنچ گیا ہے تو معاف کیا کہ یہاں عدم جواز حق شرع ہے اور ان کو اس کے معاف کرنے کا حق نہیں ۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲ :
قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کے طلوع صبح صادق سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے یعنی تین دن ، دوراتیں اور ان دنوں کو ایام نحر کہتے ہیں اور گیارہ سے تیرہ تک تین دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں لہٰذا بیچ کے دو دن ایام نحر وایام تشریق دونوں ہیں اور پہلا دن یعنی دسویں ذی الحجہ صرف یوم النحرہے اور پچھلا دن یعنی تیرہویں ذی الحجہ صرف یوم التشریق ہے۔(2)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۳ :
دسویں کے بعد کی دونوں راتیں ایام نحر میں داخل ہیں ان میں بھی قربانی ہوسکتی ہے مگر رات میں ذبح کرنا مکروہ ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۴ :
پہلا دن یعنی دسویں تاریخ سب میں افضل ہے پھر گیارہویں اور پچھلا دن یعنی بارہویں سب میں کم درجہ ہے اور اگر تاریخوں میں شک ہو یعنی تیس کا چاند مانا گیا ہے اور اونتیس کے ہونے کا بھی شبہہ ہے مثلاً گمان تھا کہ اونتیس کا چاند ہوگا مگر ابر وغیرہ کی وجہ سے نہ دکھایا شہادتیں گزریں مگر کسی وجہ سے قبول نہ ہوئیں ایسی حالت میں دسویں کے متعلق یہ شبہہ ہے کہ شاید آج گیارہویں ہو تو بہتر یہ ہے کہ قربانی کو بارہویں تک مؤخر نہ کرے یعنی بارہویں سے پہلے کر ڈالے کیونکہ بارہویں کے متعلق تیرہویں تاریخ ہونے کا شبہہ ہوگا تو یہ شبہہ ہوگا کہ وقت سے بعد میں ہوئی اور اس صورت میں اگر بارہویں کو قربانی کی جس کے متعلق تیرہویں ہونے کا شبہہ ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت صدقہ کر ڈالے بلکہ ذبح کی ہوئی بکری اور زندہ بکری میں قیمت کا تفاوت ہو کہ زندہ کی قیمت کچھ زائد ہو تو اس زیادتی کو بھی صدقہ کر دے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵ :
ایام نحر میں قربانی کرنا اتنی قیمت کے صدقہ کرنے سے افضل ہے کیونکہ قربانی واجب ہے یا سنت اور صدقہ کرنا تطوّع محض ہے(5) لہٰذا قربانی افضل ہوئی۔(6)(عالمگیری) اور وجوب کی صورت میں بغیر قربانی کیے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔(7)
مسئلہ ۲۶ :
شہر میں قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز ہوچکے لہٰذا نماز عید سے پہلے شہر میں قربانی نہیں ہوسکتی اور دیہات میں چونکہ نماز عید نہیں ہے یہاں طلوع فجر کے بعد سے ہی قربانی ہوسکتی ہے اور دیہات میں بہتر یہ ہے کہ بعد طلوع آفتاب قربانی کی جائے اور شہر میں بہتر یہ ہے کہ عید کا خطبہ ہوچکنے کے بعد قربانی کی جائے۔(1) (عالمگیری) یعنی نماز ہوچکی ہے اور ابھی خطبہ نہیں ہوا ہے اس صورت میں قربانی ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے-
مسئلہ ۲۷ :
یہ جو شہر و دیہات کا فرق بتایا گیا یہ مقام قربانی کے لحاظ سے ہے قربانی کرنے والے کے اعتبار سے نہیں یعنی دیہات میں قربانی ہو تو وہ وقت ہے اگرچہ قربانی کرنے والا شہر میں ہو اور شہر میں ہو تو نماز کے بعد ہو اگرچہ جس کی طرف سے قربانی ہے وہ دیہات میں ہو لہٰذا شہری آدمی اگر یہ چاہتا ہے کہ صبح ہی نماز سے پہلے قربانی ہو جائے تو جانور دیہات میں بھیج دے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲۸ :
اگر شہر میں متعدد جگہ عید کی نماز ہوتی ہو تو پہلی جگہ نماز ہوچکنے کے بعد قربانی جائز ہے یعنی یہ ضرور نہیں کہ عیدگاہ میں نماز ہو جائے جب ہی قربانی کی جائے بلکہ کسی مسجد میں ہوگئی اور عیدگاہ میں نہ ہوئی جب بھی ہوسکتی ہے۔(3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹ :
دسویں کو اگر عید کی نماز نہیں ہوئی تو قربانی کے لیے یہ ضرور ہے کہ وقت نماز جاتا رہے یعنی زوال کا وقت آجائے اب قربانی ہوسکتی ہے اور دوسرے یا تیسرے دن نماز عید سے قبل ہوسکتی ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۰ :
منیٰ میں چونکہ عید کی نماز نہیں ہوتی لہٰذا وہاں جو قربانی کرنا چاہے طلوع فجر کے بعد سے کرسکتا ہے اوس کے لیے وہی حکم ہے جو دیہات کا ہے کسی شہر میں اگر فتنہ کی وجہ سے نماز عید نہ ہو تو وہاں دسویں کی طلوع فجر کے بعد قربانی ہوسکتی ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
❹ Qurbani Ka Bayan
Masail / Bahare ShariAt
مسئلہ ۳۱ :
امام ابھی نماز ہی میں ہے اور کسی نے جانور ذبح کر لیا اگرچہ امام قعدہ میں ہو اور بقدر تشہد بیٹھ چکا ہو مگر ابھی سلام نہ پھیرا ہو تو قربانی نہیں ہوئی اور اگر امام نے ایک طرف سلام پھیر لیاہے دوسری طرف باقی تھا کہ اس نے ذبح کر دیا قربانی ہوگئی اور بہتر یہ ہے کہ خطبہ سے جب امام فارغ ہو جائے اوس وقت قربانی کی جائے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲ :
امام نے نماز پڑھ لی اس کے بعد قربانی ہوئی پھر معلوم ہوا کہ امام نے بغیر وضو نماز پڑھادی تو نماز کااعادہ کیا جائے قربانی کے اعادہ کی ضرورت نہیں ۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳۳ :
یہ گمان تھا کہ آج عرفہ کا دن (3)ہے اور کسی نے زوال آفتاب کے بعد قربانی کر لی پھر معلوم ہوا کہ عرفہ کا دن نہ تھا بلکہ دسویں تاریخ تھی تو قربانی جائز ہوگئی۔ یوہیں اگر دسویں کو نماز عید سے پہلے قربانی کر لی پھر معلوم ہوا کہ وہ دسویں نہ تھی بلکہ گیارہویں تھی تو اس کی بھی قربانی جائز ہوگئی۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴ :
نویں کے متعلق کچھ لوگوں نے گواہی دی کہ دسویں ہے اس بناپر اوسی روز نماز پڑھ کر قربانی کی پھر معلوم ہوا کہ گواہی غلط تھی وہ نویں تاریخ تھی تو نماز بھی ہوگئی اور قربانی بھی۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۳۵ :
ایامِ نحر گزر گئے اور جس پر قربانی واجب تھی اوس نے نہیں کی ہے تو قربانی فوت ہوگئی اب نہیں ہوسکتی پھر اگر اوس نے قربانی کا جانور معین کر رکھا ہے مثلاً معین جانور کے قربانی کی منت مان لی ہے وہ شخص غنی ہو یا فقیر بہرصورت اوسی معین جانور کو زندہ صدقہ کرے اور اگر ذبح کر ڈالا تو سارا گوشت صدقہ کرے اوس میں سے کچھ نہ کھائے اور اگر کچھ کھا لیا ہے تو جتنا کھایا ہے اوس کی قیمت صدقہ کرے اور اگر ذبح کیے ہوئے جانور کی قیمت زندہ جانور سے کچھ کم ہے تو جتنی کمی ہے اوسے بھی صدقہ کرے اور فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہے اور قربانی کے دن نکل گئے چونکہ اس پر بھی اسی معین جانور کی قربانی واجب ہے لہٰذااس جانور کو زندہ صدقہ کر دے اور اگر ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو منت میں مذکور ہوا۔ یہ حکم اوسی صورت میں ہے کہ قربانی ہی کے لیے خریدا ہو اور اگر اوس کے پاس پہلے سے کوئی جانور تھا اور اوس نے اوس کے قربانی کرنے کی نیت کر لی یا خریدنے کے بعد قربانی کی نیت کی تو اوس پر قربانی واجب نہ ہوئی۔ اور غنی نے قربانی کے لیے جانور خرید لیا ہے تو وہی جانور صدقہ کر دے اور ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو مذکور ہوا اور خریدا نہ ہو تو بکری کی قیمت صدقہ کرے۔(6) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۶ :
قربانی کے دن گزر گئے اور اوس نے قربانی نہیں کی اور جانور یا اوس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں کیا یہاں تک کہ دوسری بقر عید آگئی اب یہ چاہتا ہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضا اس سال کر لے یہ نہیں ہوسکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اوس کی قیمت صدقہ کرے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷ :
جس جانور کی قربانی واجب تھی ایامِ نحر گزرنے کے بعد اوسے بیچ ڈالا تو ثمن کا صدقہ کرنا واجب ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۸ :
کسی شخص نے یہ وصیت کی کہ اوس کی طرف سے قربانی کر دی جائے اور یہ نہیں بتایا کہ گائے یا بکری کس جانور کی قربانی کی جائے اور نہ قیمت بیان کی کہ اتنے کا جانور خرید کر قربانی کی جائے یہ وصیت جائز ہے اور بکری قربان کر دینے سے وصیت پوری ہوگئی اور اگر کسی کو وکیل کیا کہ میری طرف سے قربانی کر دینا اور گائے یا بکری کا تعین نہ کیا اور قیمت بھی بیان نہیں کی تو یہ توکیل صحیح نہیں ۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹ :
قربانی کی منت مانی اور یہ معین نہیں کیا کہ گائے کی قربانی کرے گا یا بکری کی تو منت صحیح ہے بکری کی قربانی کر دینا کافی ہے اور اگر بکری کی قربانی کی منت مانی تو اونٹ یا گائے قربانی کر دینے سے بھی منت پوری ہو جائے گی منت کی قربانی میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کر دے اور کچھ کھا لیا تو جتنا کھایا اوس کی قیمت صدقہ کرے۔(4) (عالمگیری)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Masail / Bahare ShariAt
مسئلہ ۳۱ :
امام ابھی نماز ہی میں ہے اور کسی نے جانور ذبح کر لیا اگرچہ امام قعدہ میں ہو اور بقدر تشہد بیٹھ چکا ہو مگر ابھی سلام نہ پھیرا ہو تو قربانی نہیں ہوئی اور اگر امام نے ایک طرف سلام پھیر لیاہے دوسری طرف باقی تھا کہ اس نے ذبح کر دیا قربانی ہوگئی اور بہتر یہ ہے کہ خطبہ سے جب امام فارغ ہو جائے اوس وقت قربانی کی جائے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲ :
امام نے نماز پڑھ لی اس کے بعد قربانی ہوئی پھر معلوم ہوا کہ امام نے بغیر وضو نماز پڑھادی تو نماز کااعادہ کیا جائے قربانی کے اعادہ کی ضرورت نہیں ۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳۳ :
یہ گمان تھا کہ آج عرفہ کا دن (3)ہے اور کسی نے زوال آفتاب کے بعد قربانی کر لی پھر معلوم ہوا کہ عرفہ کا دن نہ تھا بلکہ دسویں تاریخ تھی تو قربانی جائز ہوگئی۔ یوہیں اگر دسویں کو نماز عید سے پہلے قربانی کر لی پھر معلوم ہوا کہ وہ دسویں نہ تھی بلکہ گیارہویں تھی تو اس کی بھی قربانی جائز ہوگئی۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴ :
نویں کے متعلق کچھ لوگوں نے گواہی دی کہ دسویں ہے اس بناپر اوسی روز نماز پڑھ کر قربانی کی پھر معلوم ہوا کہ گواہی غلط تھی وہ نویں تاریخ تھی تو نماز بھی ہوگئی اور قربانی بھی۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۳۵ :
ایامِ نحر گزر گئے اور جس پر قربانی واجب تھی اوس نے نہیں کی ہے تو قربانی فوت ہوگئی اب نہیں ہوسکتی پھر اگر اوس نے قربانی کا جانور معین کر رکھا ہے مثلاً معین جانور کے قربانی کی منت مان لی ہے وہ شخص غنی ہو یا فقیر بہرصورت اوسی معین جانور کو زندہ صدقہ کرے اور اگر ذبح کر ڈالا تو سارا گوشت صدقہ کرے اوس میں سے کچھ نہ کھائے اور اگر کچھ کھا لیا ہے تو جتنا کھایا ہے اوس کی قیمت صدقہ کرے اور اگر ذبح کیے ہوئے جانور کی قیمت زندہ جانور سے کچھ کم ہے تو جتنی کمی ہے اوسے بھی صدقہ کرے اور فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہے اور قربانی کے دن نکل گئے چونکہ اس پر بھی اسی معین جانور کی قربانی واجب ہے لہٰذااس جانور کو زندہ صدقہ کر دے اور اگر ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو منت میں مذکور ہوا۔ یہ حکم اوسی صورت میں ہے کہ قربانی ہی کے لیے خریدا ہو اور اگر اوس کے پاس پہلے سے کوئی جانور تھا اور اوس نے اوس کے قربانی کرنے کی نیت کر لی یا خریدنے کے بعد قربانی کی نیت کی تو اوس پر قربانی واجب نہ ہوئی۔ اور غنی نے قربانی کے لیے جانور خرید لیا ہے تو وہی جانور صدقہ کر دے اور ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو مذکور ہوا اور خریدا نہ ہو تو بکری کی قیمت صدقہ کرے۔(6) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۳۶ :
قربانی کے دن گزر گئے اور اوس نے قربانی نہیں کی اور جانور یا اوس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں کیا یہاں تک کہ دوسری بقر عید آگئی اب یہ چاہتا ہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضا اس سال کر لے یہ نہیں ہوسکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اوس کی قیمت صدقہ کرے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷ :
جس جانور کی قربانی واجب تھی ایامِ نحر گزرنے کے بعد اوسے بیچ ڈالا تو ثمن کا صدقہ کرنا واجب ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۸ :
کسی شخص نے یہ وصیت کی کہ اوس کی طرف سے قربانی کر دی جائے اور یہ نہیں بتایا کہ گائے یا بکری کس جانور کی قربانی کی جائے اور نہ قیمت بیان کی کہ اتنے کا جانور خرید کر قربانی کی جائے یہ وصیت جائز ہے اور بکری قربان کر دینے سے وصیت پوری ہوگئی اور اگر کسی کو وکیل کیا کہ میری طرف سے قربانی کر دینا اور گائے یا بکری کا تعین نہ کیا اور قیمت بھی بیان نہیں کی تو یہ توکیل صحیح نہیں ۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹ :
قربانی کی منت مانی اور یہ معین نہیں کیا کہ گائے کی قربانی کرے گا یا بکری کی تو منت صحیح ہے بکری کی قربانی کر دینا کافی ہے اور اگر بکری کی قربانی کی منت مانی تو اونٹ یا گائے قربانی کر دینے سے بھی منت پوری ہو جائے گی منت کی قربانی میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کر دے اور کچھ کھا لیا تو جتنا کھایا اوس کی قیمت صدقہ کرے۔(4) (عالمگیری)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Forwarded from 📚تحقیقات📚
🔥فتنہ قادیانیت🔥
کے رد میں علماء اہلسنت کی کتب
فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں
👉🏻 http://ataunnabi.blogspot.com/search?q=Radd+e+Qadiyaniat+&m=1
👍🏻دوسروں کو بھی شئیر کریں
🤲🏻طالب دعا🤲🏻
زوہیب حسن عطاری
کے رد میں علماء اہلسنت کی کتب
فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں
👉🏻 http://ataunnabi.blogspot.com/search?q=Radd+e+Qadiyaniat+&m=1
👍🏻دوسروں کو بھی شئیر کریں
🤲🏻طالب دعا🤲🏻
زوہیب حسن عطاری
Blogspot
Islamic PDF Books
Your Blog Description here!
Forwarded from 📚تحقیقات📚
🔥رد قادیانیت🔥
پر علماء اہلسنت کی کتب
فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں
👉🏻 https://ataunnabi.blogspot.com/search?q=Radd+e+Qadiyaniat&m=1
🤲🏻طالب دعا🤲🏻
ذوہیب حسن عطاری
پر علماء اہلسنت کی کتب
فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں
👉🏻 https://ataunnabi.blogspot.com/search?q=Radd+e+Qadiyaniat&m=1
🤲🏻طالب دعا🤲🏻
ذوہیب حسن عطاری
{{ataunnabi }}Islamic PDF Books
Search results for Radd e Qadiyaniat
Books Of Ahlesunnat freeislamicbooks.ahlesunnats.com
Forwarded from 📚تحقیقات📚
🔥شیعہ مذہب🔥
کے رد میں
📚 علماء اہلسنت کی کتب
🌹فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں
👉🏻 http://ataunnabi.blogspot.com/search?q=Radd+e+Shia&m=1
دوسروں کو بھی شئیر کریں
کے رد میں
📚 علماء اہلسنت کی کتب
🌹فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں
👉🏻 http://ataunnabi.blogspot.com/search?q=Radd+e+Shia&m=1
دوسروں کو بھی شئیر کریں
Forwarded from 📚تحقیقات📚
🔥 فرقہ دیوبندیت🔥
کے رد میں
🌹 علماء اہلسنت کی
150 سے زائد کتب📚
فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں
👉🏻 http://ataunnabi.blogspot.com/search?q=Radd+e+Deoband&m=1
کے رد میں
🌹 علماء اہلسنت کی
150 سے زائد کتب📚
فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں
👉🏻 http://ataunnabi.blogspot.com/search?q=Radd+e+Deoband&m=1
{{ataunnabi }}Islamic PDF Books
Search results for Radd e Deoband
Books Of Ahlesunnat freeislamicbooks.ahlesunnats.com
بھارت کا آئین.pdf
7.2 MB
भारत का आईन उर्दू
بھارت کا آئین Urdu
Bharat Ka Aayeen
بھارت کا آئین Urdu
Bharat Ka Aayeen
بے جا تکفیر کا رونا رونے والے بَدمذہبوں
پر شہزادۂ اعلیٰ حضرت - حجۃ الاسلام
علامہحامدرضاخان عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡکاتازیانہ
" ان مسخروں کے نزدیک کفر کرنا
عیب نہیں، کفر کو کفر کہنا عیب ہے "
📖 سدالفرار صفحہ 136 📖
مطبوعہ مطبع اہل سنت وجماعت
بریلی شریف یوپی ۔ طبع 1333ھ
ایضاً ناشر دارالعلوم رضائے خواجہ
اجمیر شریف راجِستھان طبع 2009ء
✍ میثم قادری
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
پر شہزادۂ اعلیٰ حضرت - حجۃ الاسلام
علامہحامدرضاخان عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡکاتازیانہ
" ان مسخروں کے نزدیک کفر کرنا
عیب نہیں، کفر کو کفر کہنا عیب ہے "
📖 سدالفرار صفحہ 136 📖
مطبوعہ مطبع اہل سنت وجماعت
بریلی شریف یوپی ۔ طبع 1333ھ
ایضاً ناشر دارالعلوم رضائے خواجہ
اجمیر شریف راجِستھان طبع 2009ء
✍ میثم قادری
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
مالکِ نصاب کا اپنے نام سے قربانی نہ
کروا کر رسول اللہ ﷺ یا بزرگوں یا
کِـسِـی اور کے نام قربانی کرنا کیسا ؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فتاویٰ فیض الرَّسول جِلد¹ صَفحہ⁴⁴⁵
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کروا کر رسول اللہ ﷺ یا بزرگوں یا
کِـسِـی اور کے نام قربانی کرنا کیسا ؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فتاویٰ فیض الرَّسول جِلد¹ صَفحہ⁴⁴⁵
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 عید کے دِن کا وظیفہ 🌹
جو شخص عید کے دِن تِین سَو ³⁰⁰ مرتبہ ” سُبحٰنَ اللہ وَبِحَمدِہٖ “ پڑھے اور فوت شدہ مسلمانوں کی ارواح کو اس کا ایصالِ ثواب کرے تو ہَر مُسلمان کی قبر میں ایک ہزار ¹⁰⁰⁰ انوار داخِل ہُوتے ہَیں - اور جب وہ پڑھنے والا خود مرے گا , اللہ تعالیٰ ﷻ اس کی قبر میں بھی ایک ہزار ¹⁰⁰⁰ انوار داخِل فرمائےگا ‼️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✅ یہ وِرد دونوں عیدین (عید الفطر و عید الضحیٰ = عید و بقرعید ) میں کیا جا سکتا ہے ‼️
[ مکاشفۃ القلوب 📖 صفحہ 308 ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
جو شخص عید کے دِن تِین سَو ³⁰⁰ مرتبہ ” سُبحٰنَ اللہ وَبِحَمدِہٖ “ پڑھے اور فوت شدہ مسلمانوں کی ارواح کو اس کا ایصالِ ثواب کرے تو ہَر مُسلمان کی قبر میں ایک ہزار ¹⁰⁰⁰ انوار داخِل ہُوتے ہَیں - اور جب وہ پڑھنے والا خود مرے گا , اللہ تعالیٰ ﷻ اس کی قبر میں بھی ایک ہزار ¹⁰⁰⁰ انوار داخِل فرمائےگا ‼️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✅ یہ وِرد دونوں عیدین (عید الفطر و عید الضحیٰ = عید و بقرعید ) میں کیا جا سکتا ہے ‼️
[ مکاشفۃ القلوب 📖 صفحہ 308 ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 عِیدِ قرباں مُبارڪ ہُو 🌹
میری طـرف سـے آپ ڪو اور
آپ کے اہلِ خانہ کو عید الضحیٰ
کی بہت بہت مُبارڪ باد ‼ 🌹
اَللہ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ بَطُفَـیلِ مُـصـطَـفیٰ ﷺ
آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو عیدِ سعید
کی خوشِیُوں سے مالا مال فرمائے - آمِین
🌹تقبل اللہ منا ومنكم صالح الأعمال🌹
ْ مِنجانِب
عُـبَیۡدِ غَوۡثُؔوخَواجَہؔ، رَضَاؔ وَکُـل اَولِـیَآء
مُحَمَّدۡ جَمَالُالـدِّیۡنۡ خَانۡ قَادِرِیۡ رَضَـوِیۡ
ضِـلَـعۡ بَـہۡـرَائِـچ شَـرِیۡف یُوۡ. پِیۡ. اَلـہِـنۡـدۡ
مُوۡبَائِل نَمبَر +917860520899 📱
میری طـرف سـے آپ ڪو اور
آپ کے اہلِ خانہ کو عید الضحیٰ
کی بہت بہت مُبارڪ باد ‼ 🌹
اَللہ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ بَطُفَـیلِ مُـصـطَـفیٰ ﷺ
آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو عیدِ سعید
کی خوشِیُوں سے مالا مال فرمائے - آمِین
🌹تقبل اللہ منا ومنكم صالح الأعمال🌹
ْ مِنجانِب
عُـبَیۡدِ غَوۡثُؔوخَواجَہؔ، رَضَاؔ وَکُـل اَولِـیَآء
مُحَمَّدۡ جَمَالُالـدِّیۡنۡ خَانۡ قَادِرِیۡ رَضَـوِیۡ
ضِـلَـعۡ بَـہۡـرَائِـچ شَـرِیۡف یُوۡ. پِیۡ. اَلـہِـنۡـدۡ
مُوۡبَائِل نَمبَر +917860520899 📱
سُنِّیُوں کو عِیدِ قرباں مُبارڪ ہُو !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🌹 دُنیا بهر کے تَمام سُنِّی صَحیحُ
العقیدہ مُسَلمَانُوں کو عید الضحیٰ
🌹 خٗوب خٗوب مُبارڪ ہُو 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🌹 دُنیا بهر کے تَمام سُنِّی صَحیحُ
العقیدہ مُسَلمَانُوں کو عید الضحیٰ
🌹 خٗوب خٗوب مُبارڪ ہُو 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
دنبہ جنتی یا دنیاوی؟
ہم بچپن سے ہی یہ بات سنتے آ رہے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے ذبح کرنا چاہا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السلام ایک دنبہ لے کر آئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ وہ دنبہ ذبح ہوا۔ اس واقعے کو مختلف طریقوں سے الفاظ کی کمی و بیشی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، لیکن جب ہم کئی کتابوں میں اس واقعے پر غور کریں گے تو ذبح ہونے والے دنبے کے بارے میں کئی سوالات ذہن میں آئیں گے، مثال کے طور کچھ سوالات ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں:
(1) کیا ذبح ہونے والا دنبہ جنتی تھا؟
(2) اس کا گوشت کہاں گیا؟
(3) کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کا گوشت اس لیے نہیں پکایا گیا کیوں کہ جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے دور میں اس جنتی دنبے کی سینگ میں آگ کیسے لگی؟
(4) کئی کتابوں میں جب اس کے سینگ کے جلنے کی صراحت موجود ہے تو پھر اس کے جنتی ہونے پر حرف آئے گا یا نہیں؟
اس مختصر سے مضمون میں ہم اسی طرح کے کچھ سوالوں کے جوابات دلائل کی روشنی میں دینے کی کوشش کریں گے۔
حضرت علامہ مفتی محمد اسماعیل حسین نورانی لکھتے ہیں کہ حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جو دنبہ ذبح ہوا تھا وہ کہاں سے آیا تھا؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں، اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ وہ دنبہ جنت سے اتارا گیا تھا، جیسا کہ تفسیر خازن، تفسیر بغوی اور دیگر تفاسیر میں موجود ہے۔ (خازن، ج4، ص39)
اب رہا یہ سوال کہ اس دنبے کا گوشت کہاں گیا یا کیسے تقسیم ہوا؟ تو اس حوالے سے علامہ صاوی مالکی اور سید سلیمان جمل کی رائے یہ ہے کہ وہ دنبہ چوں کہ جنت سے اتارا گیا تھا اور جنت کی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی، اس لیے اس کا گوشت پکایا نہیں گیا اور نہ تو تقسیم کیا گیا بلکہ اسے پرندوں اور درندوں نے کھا لیا۔ علامہ صاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اس دنبے کے اجزا کو پرندوں اور درندوں نے کھا لیا کیوں کہ جنت کی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی اور علامہ سید سلیمان جمل رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
یہ بات ثابت ہے کہ جنت کی کسی بھی چیز پر آگ اثر نہیں کرتی، اس لیے اس دنبے کا گوشت پکایا نہیں گیا بلکہ اسے درندوں اور پرندوں نے کھا لیا۔ (حاشیۃ الجمل علی الجلالین، ج3، ص549)
(انظر: انوار الفتاوی، ج1، ص287، ط فرید بک سٹال لاہور)
اسی طرح حضرت علامہ مفتی محمد یونس رضا اویسی لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس جنتی مینڈھے کو ذبح کیا اس کا گوشت کس نے کھایا تھا؟ اس بارے میں کوئی روایت نظر سے نہ گزری البتہ یہ دیکھا کہ اس کے گوشت کو درندوں اور پرندوں نے کھایا تھا۔ تفسیر صاوی میں ہے کہ ذبح کے بعد مینڈھے کے گوشت کو درندوں اور پرندوں نے کھا لیا کیوں کہ آگ جنتی چیزوں پر اثر نہیں کرتی۔ (صاوی، ج3، ص322)
(انظر: فتاوی بریلی شریف، ص301، ط زاویہ پبلشرز لاہور)
مذکورہ عبارات سے معلوم ہوا کہ وہ دنبہ جنتی تھا اور اسی وجہ سے اس کا گوشت پکایا نہیں گیا لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی، ابھی ہمارے سامنے اور بھی کچھ اقوال ہیں جن سے الجھنیں مزید بڑھتی ہیں چناں چہ:
تفسیر کی کئی کتابیں مثلاً تفسیر کبیر، تفسیرات احمدیہ، تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی اور تفسیر روح البیان وغیرھم میں صراحتاً اس بات کا ذکر ہے کہ اس مینڈھے کی سینگ کعبہ شریف میں آویزاں تھی، یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں فتنۂ حجاج بن یوسف کے وقت کعبہ شریف میں آگ لگی اور وہ (سینگ) جل گئی۔ اب یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب اس مینڈھے کا گوشت اس وجہ سے نہیں پکایا گیا کہ وہ جنتی ہے اور جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی تو پھر اسی جنتی مینڈھے کی سینگوں میں آگ کیسے لگی اور وہ کیسے جل گئی؟ اب یا تو وہ جنتی نہیں اور اگر جنتی ہے تو سینگ کا جلنا ممکن نہیں۔ اسی گتھی کو سلجھانے کے لیے اب ہم مزید اقوال کو نقل کر رہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
جاری...
عبد مصطفی
ہم بچپن سے ہی یہ بات سنتے آ رہے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے ذبح کرنا چاہا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السلام ایک دنبہ لے کر آئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ وہ دنبہ ذبح ہوا۔ اس واقعے کو مختلف طریقوں سے الفاظ کی کمی و بیشی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، لیکن جب ہم کئی کتابوں میں اس واقعے پر غور کریں گے تو ذبح ہونے والے دنبے کے بارے میں کئی سوالات ذہن میں آئیں گے، مثال کے طور کچھ سوالات ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں:
(1) کیا ذبح ہونے والا دنبہ جنتی تھا؟
(2) اس کا گوشت کہاں گیا؟
(3) کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کا گوشت اس لیے نہیں پکایا گیا کیوں کہ جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے دور میں اس جنتی دنبے کی سینگ میں آگ کیسے لگی؟
(4) کئی کتابوں میں جب اس کے سینگ کے جلنے کی صراحت موجود ہے تو پھر اس کے جنتی ہونے پر حرف آئے گا یا نہیں؟
اس مختصر سے مضمون میں ہم اسی طرح کے کچھ سوالوں کے جوابات دلائل کی روشنی میں دینے کی کوشش کریں گے۔
حضرت علامہ مفتی محمد اسماعیل حسین نورانی لکھتے ہیں کہ حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جو دنبہ ذبح ہوا تھا وہ کہاں سے آیا تھا؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں، اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ وہ دنبہ جنت سے اتارا گیا تھا، جیسا کہ تفسیر خازن، تفسیر بغوی اور دیگر تفاسیر میں موجود ہے۔ (خازن، ج4، ص39)
اب رہا یہ سوال کہ اس دنبے کا گوشت کہاں گیا یا کیسے تقسیم ہوا؟ تو اس حوالے سے علامہ صاوی مالکی اور سید سلیمان جمل کی رائے یہ ہے کہ وہ دنبہ چوں کہ جنت سے اتارا گیا تھا اور جنت کی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی، اس لیے اس کا گوشت پکایا نہیں گیا اور نہ تو تقسیم کیا گیا بلکہ اسے پرندوں اور درندوں نے کھا لیا۔ علامہ صاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اس دنبے کے اجزا کو پرندوں اور درندوں نے کھا لیا کیوں کہ جنت کی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی اور علامہ سید سلیمان جمل رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
یہ بات ثابت ہے کہ جنت کی کسی بھی چیز پر آگ اثر نہیں کرتی، اس لیے اس دنبے کا گوشت پکایا نہیں گیا بلکہ اسے درندوں اور پرندوں نے کھا لیا۔ (حاشیۃ الجمل علی الجلالین، ج3، ص549)
(انظر: انوار الفتاوی، ج1، ص287، ط فرید بک سٹال لاہور)
اسی طرح حضرت علامہ مفتی محمد یونس رضا اویسی لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس جنتی مینڈھے کو ذبح کیا اس کا گوشت کس نے کھایا تھا؟ اس بارے میں کوئی روایت نظر سے نہ گزری البتہ یہ دیکھا کہ اس کے گوشت کو درندوں اور پرندوں نے کھایا تھا۔ تفسیر صاوی میں ہے کہ ذبح کے بعد مینڈھے کے گوشت کو درندوں اور پرندوں نے کھا لیا کیوں کہ آگ جنتی چیزوں پر اثر نہیں کرتی۔ (صاوی، ج3، ص322)
(انظر: فتاوی بریلی شریف، ص301، ط زاویہ پبلشرز لاہور)
مذکورہ عبارات سے معلوم ہوا کہ وہ دنبہ جنتی تھا اور اسی وجہ سے اس کا گوشت پکایا نہیں گیا لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی، ابھی ہمارے سامنے اور بھی کچھ اقوال ہیں جن سے الجھنیں مزید بڑھتی ہیں چناں چہ:
تفسیر کی کئی کتابیں مثلاً تفسیر کبیر، تفسیرات احمدیہ، تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی اور تفسیر روح البیان وغیرھم میں صراحتاً اس بات کا ذکر ہے کہ اس مینڈھے کی سینگ کعبہ شریف میں آویزاں تھی، یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں فتنۂ حجاج بن یوسف کے وقت کعبہ شریف میں آگ لگی اور وہ (سینگ) جل گئی۔ اب یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب اس مینڈھے کا گوشت اس وجہ سے نہیں پکایا گیا کہ وہ جنتی ہے اور جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی تو پھر اسی جنتی مینڈھے کی سینگوں میں آگ کیسے لگی اور وہ کیسے جل گئی؟ اب یا تو وہ جنتی نہیں اور اگر جنتی ہے تو سینگ کا جلنا ممکن نہیں۔ اسی گتھی کو سلجھانے کے لیے اب ہم مزید اقوال کو نقل کر رہے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
جاری...
عبد مصطفی
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
دنبہ جنتی یا دنیاوی؟
فتاوی فقیہ ملت میں ایک سوال ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس جنتی مینڈھے کو ذبح کیا تھا اس کو جانوروں نے کھا لیا اور اس کی سینگ کعبہ میں رکھ دی گئی جو کعبہ میں آگ لگنے کی وجہ سے جل گئی تو سوال یہ ہے کہ جب جنتی چیزوں کو آگ نہیں کھا سکتی تو اس کی سینگ کیسے جل گئی؟
جواب میں لکھا گیا ہے کہ جو مینڈھا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح ہوا تھا اس کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ وہ جنت سے آیا تھا اور بعض کے نزدیک یہ ہے کہ وہ منجانب اللہ شبیر پہاڑ سے اتارا گیا تھا اور اگر یہ صحیح ہے کہ یزیدی حملے کے وقت اس کی سینگ جل گئی تھی تو ظاہر یہی ہے کہ وہ شبیر پہاڑ ہی سے آیا تھا۔
(انظر: فتاوی فقیہ ملت، ج2، ص281، کتاب الخطر والاباحۃ، ط شبیر برادرز لاہور)
حضرت علامہ مفتی محمد وقارالدین رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ذبح ہونے والے دنبے کا گوشت کہاں گیا؟ بانٹ دیا گیا، آگ اٹھا کر لے گئی یا کوئی درندہ کھا گیا؟
آپ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ اس بارے میں تفاسیر میں مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں۔ اس پر تو اتفاق ہے کہ اس دنبے کے سینگ خانۂ کعبہ میں رکھے گئے تھے اور حضور اکرم ﷺ کی ظاہری حیات تک محفوظ تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں حجاج بن یوسف نے مکے پر حملہ کیا تھا جس سے خانۂ کعبہ میں آگ لگ گئی تھی تو سینگوں کا کیا ہوا؟ اس کا تذکرہ نہیں ملتا۔
گوشت کے متعلق زیادہ مشہور قول یہ ہے جسے علامہ صاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس کا گوشت جانور کھا گئے تھے۔ (صاوی میں وجہ بھی بیان کی گئی ہے جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں)
(انظر: وقار الفتاوی، ج1، ص70، ط باب متعلقہ انبیاے کرام)
مفتی محمد خلیل خان برکاتی سے سوال ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس دنبے کو ذبح فرمایا اس کی کھال کدھر گئی؟
جواب میں لکھتے ہیں کہ فقیر کے علم میں نہیں کہ وہ کھال کہاں گئی۔
(انظر: احسن الفتاوی المعروف بہ فتاوی خلیلیہ، ج1، ص399، ط ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)
مذکورہ تمام عبارات سے بھی مکمل طور پر بات سمجھ میں نہیں آتی لہذا اب ہم ایک آخری عبارت کو نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ اس عبارت کے بعد ہم کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
حضرت مولانا محمد عاصم رضا قادری سے اسی بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے تحقیقی جواب تحریر فرمایا جس کی تصدیق حضرت علامہ مفتی قاضی محمد عبد الرحیم بستوی نے فرمائی ہے۔
آپ جواب میں لکھتے ہیں کہ یہ بات تو صحیح ہے کہ جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی جیسا کہ علامہ صاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے اور مینڈھے کی سینگوں کے جلنے کی صراحت کتب تفاسیر میں موجود ہیں مثلاً تفسیر کبیر، تفسیرات احمدیہ، تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی اور تفسیر روح البیان وغیرھم۔
(مزید لکھتے ہیں کہ) اس مینڈھے کے جنتی ہونے میں اختلاف ہے، چناں چہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جو جانور ذبح کیا گیا وہ ایک پہاڑی بکرا تھا جو "شبیر پہاڑ" سے اترا تھا اور یہی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی قول ہے تو اس صورت میں کوئی اختلاف نہیں لیکن حضرت ابن عباس و علامہ سدی اور دیگر مفسرین کے کلاموں میں یہ ہے کہ وہ جنتی مینڈھا تھا جسے بہ حکم الٰہی حضرت جبریل علیہ السلام جنت سے لے کر آئے اور یہ وہی مینڈھا تھا جس کی حضرت آدم علیہ السلام کے لڑکے "ہابیل" نے قربانی کی تھی۔ یہ مینڈھا چالیس سال تک جنت میں چرتا رہا اور پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ قربان کیا گیا مگر اس سے فی نفسہ اس کا جنتی ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ تفسیر روح البیان کی روایت کے مطابق یہ وہی مینڈھا تھا جسے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے نے بارگاہ الہی میں پیش کیا تھا۔ (تفسیر روح البیان، ج2، ص379)
ان روایات سے اس کا جنتی ہونا ثابت نہیں ہوا تو اب اس کی سینگ کا جلنا دنیاوی چیز کا جلنا ہوا۔ بہرحال تفسیری روایات مختلف ہیں قطعی فیصلہ مشکل ہے۔
(انظر: فتاوی بریلی شریف، ص364، 365، 366، ط زاویہ پبلشرز لاہور)
عبد مصطفی
فتاوی فقیہ ملت میں ایک سوال ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس جنتی مینڈھے کو ذبح کیا تھا اس کو جانوروں نے کھا لیا اور اس کی سینگ کعبہ میں رکھ دی گئی جو کعبہ میں آگ لگنے کی وجہ سے جل گئی تو سوال یہ ہے کہ جب جنتی چیزوں کو آگ نہیں کھا سکتی تو اس کی سینگ کیسے جل گئی؟
جواب میں لکھا گیا ہے کہ جو مینڈھا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح ہوا تھا اس کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ وہ جنت سے آیا تھا اور بعض کے نزدیک یہ ہے کہ وہ منجانب اللہ شبیر پہاڑ سے اتارا گیا تھا اور اگر یہ صحیح ہے کہ یزیدی حملے کے وقت اس کی سینگ جل گئی تھی تو ظاہر یہی ہے کہ وہ شبیر پہاڑ ہی سے آیا تھا۔
(انظر: فتاوی فقیہ ملت، ج2، ص281، کتاب الخطر والاباحۃ، ط شبیر برادرز لاہور)
حضرت علامہ مفتی محمد وقارالدین رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ذبح ہونے والے دنبے کا گوشت کہاں گیا؟ بانٹ دیا گیا، آگ اٹھا کر لے گئی یا کوئی درندہ کھا گیا؟
آپ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ اس بارے میں تفاسیر میں مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں۔ اس پر تو اتفاق ہے کہ اس دنبے کے سینگ خانۂ کعبہ میں رکھے گئے تھے اور حضور اکرم ﷺ کی ظاہری حیات تک محفوظ تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانے میں حجاج بن یوسف نے مکے پر حملہ کیا تھا جس سے خانۂ کعبہ میں آگ لگ گئی تھی تو سینگوں کا کیا ہوا؟ اس کا تذکرہ نہیں ملتا۔
گوشت کے متعلق زیادہ مشہور قول یہ ہے جسے علامہ صاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس کا گوشت جانور کھا گئے تھے۔ (صاوی میں وجہ بھی بیان کی گئی ہے جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں)
(انظر: وقار الفتاوی، ج1، ص70، ط باب متعلقہ انبیاے کرام)
مفتی محمد خلیل خان برکاتی سے سوال ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس دنبے کو ذبح فرمایا اس کی کھال کدھر گئی؟
جواب میں لکھتے ہیں کہ فقیر کے علم میں نہیں کہ وہ کھال کہاں گئی۔
(انظر: احسن الفتاوی المعروف بہ فتاوی خلیلیہ، ج1، ص399، ط ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)
مذکورہ تمام عبارات سے بھی مکمل طور پر بات سمجھ میں نہیں آتی لہذا اب ہم ایک آخری عبارت کو نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ اس عبارت کے بعد ہم کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
حضرت مولانا محمد عاصم رضا قادری سے اسی بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے تحقیقی جواب تحریر فرمایا جس کی تصدیق حضرت علامہ مفتی قاضی محمد عبد الرحیم بستوی نے فرمائی ہے۔
آپ جواب میں لکھتے ہیں کہ یہ بات تو صحیح ہے کہ جنتی چیزوں پر آگ اثر نہیں کرتی جیسا کہ علامہ صاوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے اور مینڈھے کی سینگوں کے جلنے کی صراحت کتب تفاسیر میں موجود ہیں مثلاً تفسیر کبیر، تفسیرات احمدیہ، تفسیر طبری، تفسیر ابن کثیر، تفسیر قرطبی اور تفسیر روح البیان وغیرھم۔
(مزید لکھتے ہیں کہ) اس مینڈھے کے جنتی ہونے میں اختلاف ہے، چناں چہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ جو جانور ذبح کیا گیا وہ ایک پہاڑی بکرا تھا جو "شبیر پہاڑ" سے اترا تھا اور یہی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی قول ہے تو اس صورت میں کوئی اختلاف نہیں لیکن حضرت ابن عباس و علامہ سدی اور دیگر مفسرین کے کلاموں میں یہ ہے کہ وہ جنتی مینڈھا تھا جسے بہ حکم الٰہی حضرت جبریل علیہ السلام جنت سے لے کر آئے اور یہ وہی مینڈھا تھا جس کی حضرت آدم علیہ السلام کے لڑکے "ہابیل" نے قربانی کی تھی۔ یہ مینڈھا چالیس سال تک جنت میں چرتا رہا اور پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ قربان کیا گیا مگر اس سے فی نفسہ اس کا جنتی ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ تفسیر روح البیان کی روایت کے مطابق یہ وہی مینڈھا تھا جسے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے نے بارگاہ الہی میں پیش کیا تھا۔ (تفسیر روح البیان، ج2، ص379)
ان روایات سے اس کا جنتی ہونا ثابت نہیں ہوا تو اب اس کی سینگ کا جلنا دنیاوی چیز کا جلنا ہوا۔ بہرحال تفسیری روایات مختلف ہیں قطعی فیصلہ مشکل ہے۔
(انظر: فتاوی بریلی شریف، ص364، 365، 366، ط زاویہ پبلشرز لاہور)
عبد مصطفی
عرس مبارک خلیفۂ سوم امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی = عثمان بن عفان
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ شہادت = ¹⁸ ذی الحجہ ۵۳ ھ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَـ وَ تَــعَــالیٰ عَــنۡـہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ شہادت = ¹⁸ ذی الحجہ ۵۳ ھ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
حضرت سیدنا عثمان غنی رضیاللہعنہ
ذُوالْحِجَّۃِ الحرام کا مہینہ ہمارے درمیان اپنی رحمتوں اور برکتوں کی بارش برسا رہا ہے، اس ماہ کی 18 تاریخ کو تیسرے خلیفۂ راشد،رسولِ کریم، محبوبِ ربِّ عظیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک کے بعد دُوسری شہزادی سے نکاح کا شرف پانے والے،بہت زیادہ سخاوت فرمانے والے،صبر و شفقت فرمانے والے،بہت زیادہ شرم وحیا کرنے اور غریبوں سے بہت مَحَبَّت فرمانے والے،اللہ پاک اور اس کے رسول عَلَیْہِ الصلوۃ و السَّلَام کے پیارے اَمِیْرُالمؤمنین حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا یومِ شہادت ہے، ان کے فضائل پر مبنی چند باتیں ملاحظہ ہوں
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ اُن خوش نصیب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں شامل ہیں جو شروعِ اسلام میں ایمان لائے تھے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دومرتبہ راہِ خدا میں ہجرت کاشرف حاصل کیا
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ ِغنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ وہ شخصیت ہیں جنہیں جامع القرآن ہونے کاشرف حاصل ہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنِیَ اللہُ عَنْہ کا نام ان صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی فہرست میں شامل ہے جو رشتہ داروں کی تمام تر تکالیف سہنے کے باوجود ایمان پر ثابت قدم رہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ سراپانُور، شافعِ یوم النُّشور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دو شَہزادیاں یکے بعد دِیگرے ان کے نکاح میں آئیں
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سیرت میں بھی بے مثال تھے، صورت میں بھی بے مثال تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا شمار اللہ کریم کے ان مقرب بندوں میں ہوتا ہے جو ساری ساری رات عبادت و بندگی میں گزار دیتے تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ان لوگوں میں شامل تھے جو ہر وقت خوفِ خدا اور تقویٰ وپرہیزگاری سے رہتے تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایسے تحمل مزاج تھے کہ خود جامِ شہادت نوش کر لیا مگر رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شہرِ مبارک کو خون آلود نہیں ہونے دیا
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سخاوت میں اپنی مثال آپ تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ حِلْم اورصبر و شفقت میں بھی اپنی مثال آپ تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ عاجزی و انکساری والے بزرگ تھے۔
*حضور نبیِ کریم، رسولِ رحیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ* نےآپ رضی اللہ عنہ کی شان میں جو تعریفی کلمات ارشاد فرمائے ان میں سے 5 *فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ*
🔶 *”عثمان مجھ سے ہے اور میں عثمان سے ہوں۔"*
🔷 *”جَنَّت میں ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرے رفیق عثمان بن عَفّان ہیں۔“*
🔶 *”بروزِ قِیامت عثمان کی شفاعت سے سَتّر ہزار (70000)ایسےآدمی بِلاحساب جَنَّت میں داخل ہوں گے جن پر جَہنَّم واجب ہو چکی ہو گی۔"*
🔹 *’’ میری اُمّت میں سب سے زیادہ پیکرشرم و حیا اور معزز ومکرم عثمان بن عفّان ہیں۔"*
🔸 *’’ میری امت میں سب سے زیادہ با حیا انسان عثمان بن عفّان ہیں۔‘‘*
*(15 اگست کے ہفتہ وار اجتماع کے بیان سے ماخوذ)*
اللہ کریم ہمیں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فیضان سے مالا مال فرمائے
ایک بار سورۃ الفاتحہ اور تین بار سورۃ الاخلاص پڑھ کر ایصال ثواب کیجئے
✍🏻 ابو بنتین محمد فراز عطاری
مدنی عفی عنہ +92-321-2094919
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
ذُوالْحِجَّۃِ الحرام کا مہینہ ہمارے درمیان اپنی رحمتوں اور برکتوں کی بارش برسا رہا ہے، اس ماہ کی 18 تاریخ کو تیسرے خلیفۂ راشد،رسولِ کریم، محبوبِ ربِّ عظیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک کے بعد دُوسری شہزادی سے نکاح کا شرف پانے والے،بہت زیادہ سخاوت فرمانے والے،صبر و شفقت فرمانے والے،بہت زیادہ شرم وحیا کرنے اور غریبوں سے بہت مَحَبَّت فرمانے والے،اللہ پاک اور اس کے رسول عَلَیْہِ الصلوۃ و السَّلَام کے پیارے اَمِیْرُالمؤمنین حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا یومِ شہادت ہے، ان کے فضائل پر مبنی چند باتیں ملاحظہ ہوں
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ اُن خوش نصیب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں شامل ہیں جو شروعِ اسلام میں ایمان لائے تھے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دومرتبہ راہِ خدا میں ہجرت کاشرف حاصل کیا
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ ِغنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ وہ شخصیت ہیں جنہیں جامع القرآن ہونے کاشرف حاصل ہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنِیَ اللہُ عَنْہ کا نام ان صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی فہرست میں شامل ہے جو رشتہ داروں کی تمام تر تکالیف سہنے کے باوجود ایمان پر ثابت قدم رہے
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ سراپانُور، شافعِ یوم النُّشور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دو شَہزادیاں یکے بعد دِیگرے ان کے نکاح میں آئیں
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سیرت میں بھی بے مثال تھے، صورت میں بھی بے مثال تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا شمار اللہ کریم کے ان مقرب بندوں میں ہوتا ہے جو ساری ساری رات عبادت و بندگی میں گزار دیتے تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ان لوگوں میں شامل تھے جو ہر وقت خوفِ خدا اور تقویٰ وپرہیزگاری سے رہتے تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایسے تحمل مزاج تھے کہ خود جامِ شہادت نوش کر لیا مگر رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شہرِ مبارک کو خون آلود نہیں ہونے دیا
◽حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سخاوت میں اپنی مثال آپ تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ حِلْم اورصبر و شفقت میں بھی اپنی مثال آپ تھے
◽ حَضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ عاجزی و انکساری والے بزرگ تھے۔
*حضور نبیِ کریم، رسولِ رحیم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ* نےآپ رضی اللہ عنہ کی شان میں جو تعریفی کلمات ارشاد فرمائے ان میں سے 5 *فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ*
🔶 *”عثمان مجھ سے ہے اور میں عثمان سے ہوں۔"*
🔷 *”جَنَّت میں ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرے رفیق عثمان بن عَفّان ہیں۔“*
🔶 *”بروزِ قِیامت عثمان کی شفاعت سے سَتّر ہزار (70000)ایسےآدمی بِلاحساب جَنَّت میں داخل ہوں گے جن پر جَہنَّم واجب ہو چکی ہو گی۔"*
🔹 *’’ میری اُمّت میں سب سے زیادہ پیکرشرم و حیا اور معزز ومکرم عثمان بن عفّان ہیں۔"*
🔸 *’’ میری امت میں سب سے زیادہ با حیا انسان عثمان بن عفّان ہیں۔‘‘*
*(15 اگست کے ہفتہ وار اجتماع کے بیان سے ماخوذ)*
اللہ کریم ہمیں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فیضان سے مالا مال فرمائے
ایک بار سورۃ الفاتحہ اور تین بار سورۃ الاخلاص پڑھ کر ایصال ثواب کیجئے
✍🏻 ابو بنتین محمد فراز عطاری
مدنی عفی عنہ +92-321-2094919
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻