🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
ह़ज व ज़ियारत / फ़क़ीहे मिल्लत
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/6305

बहारे शरीअ़त ह़ि.¹ ह़ज का बयान
ह़ज - मीक़ात - एह़राम - त़वाफ़ का
त़रीक़ा और दुआ़एं आबे ज़मज़म की
ह़ाज़़िरी - स़फ़ा व मरवह की सई़ सर
मुंडवाना बाल कतराना - अ़रफ़ात में
ज़ुहर व अ़स़र की नमाज़ मुज़दलिफ़ा
में नमाज़े मग़रिब व इ़शा — ह़ज की
क़ुरबानी ह़ज फ़ौत ह़ज बदल, ह़ाज़़िरी
सरकारे अअ़्ज़म ﷺ गुम्बदे ख़ज़़रा !!

https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/17175

रफ़ीक़ुल ह़रमैन / मौलाना इलयास
ह़ज व उ़मरे का मुफ़स़्स़ल त़रीक़ह
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9748

રફ઼ીક઼ુલ હ઼રમૈન , હ઼જ વ ઉમરે
કા ત઼રીક઼ા ઔર દુઆ઼એં ગુજરાતી

https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/3563

रफ़ीक़ुल मोअ़्तमिरीन
उ़मरे का त़रीक़ा और दुआ़एँ
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/4256

રફ઼ીક઼ુલ મુઅ઼્તમિરીન
ઉ઼મરે કા ત઼રીક઼ા ઔર દુઆ઼એં
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/3560

ह़ज व उ़मरह का मुख़तस़र त़रीक़ा
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9741

હ઼જ વ ઉ઼મરહ કા મુખ઼તસ઼ર ત઼રીક઼ા
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/3566

A brief method of Hajj
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/3036

ह़ज व उ़मरह मअ़् औक़ाते नमाज़
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9737

Hajj & Umrah including
Timing of Salah
📖 English
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/3033

एह़राम और ख़ुश्बूदार स़ाबुन
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Hindi/9917

હ઼જ શા માટે કરવી ? ह़ज क्यों करें ?
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/5137

હ઼જ કેવી રીતે કરશો ? ह़ज कैसे करें ?
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/5141

મિસ઼બાહ઼ુલ ઉ઼મરહ ઉ઼મરા
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/5185

19 मदनी इन्आ़मात
बराए उ़म्रह व सफ़रे मदीना
https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/3771

19 Madani inamat For Umra
Umrah And Journey To Madinah

https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/2737

19 Madani inamat For Hajj
And Journey To Madinah Eng

https://t.me/Ahlesunnat_HindiBooks/2734
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ह़ज ह़ज्ज Haj Hajj હ઼જ હ઼જ્જ
उ़मरह उ़मरा उ़म्रह उ़म्रा Umrah
Umra ઉ઼મરહ ઉ઼મરા ઉ઼મ્રહ ઉ઼મ્રા
حج عمرہ / الحج عمرہ / عمرھ

➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Qurbani Ka Bayan
Hadis / Bahare ShariAt
اضحیہ یعنی قربانی کا بیان
بَہارِ شریعت / صدر الشریعہ
https://t.me/islaamic_Knowledge
مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قربانی ہے اور کبھی اُس جانور کو بھی اضحیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذبح کیا جاتا ہے۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو اس امت کے لیے باقی رکھی گئی اور نبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا،

ارشاد فرمایا :
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ (۲)} (3)
’’تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘‘

اس کے متعلق پہلے چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں - پھر *فقہی مسائل* بیان ہوں  گے-
https://t.me/islaamic_Knowledge
حدیث ۱ :
ابو داود، ترمذی و ابن ماجہ ام المومنین عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ’’ یوم النحر (دسویں  ذی الحجہ) میں  ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پیارا نہیں  اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں  کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک مقام قبول میں  پہنچ جاتا ہے لہٰذا اس کو خوش دلی سے کرو۔ ‘‘(4)

حدیث ۲ :
طبرانی حضرت امام حسن بن علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماسے راوی کہ حضور( صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا:’’ جس نے خوشیِ دل سے طالب ثواب ہو کر قربانی کی وہ آتش جہنم سے حجاب (روک) ہو جائے گی۔ ‘‘(1)

حدیث ۳ :
طبرانی ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماسے راوی کہ حضور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:’’ جو روپیہ عید کے دن قربانی میں  خرچ کیا گیا اس سے زیادہ کوئی روپیہ پیارا نہیں ۔‘‘ (2)

حدیث ۴ :
ابن ماجہ ابوہریرہ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:’’ جس میں  وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ ‘‘(3)

حدیث ۵ :
ابن ماجہ نے زید بن ارقم  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت کی کہ صحابہ (رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم) نے عرض کی یارسول ﷲ (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) یہ قربانیاں کیا ہیں فرمایا کہ’’ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے‘‘ لوگوں  نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) ہمارے لیے اس میں  کیا ثواب ہے فرمایا:’’ ہر بال کے مقابل نیکی ہے عرض کی اُون کا کیا حکم ہے فرمایا:’’ اُون کے ہر بال کے بدلے میں  نیکی ہے۔ ‘‘(4)

حدیث ۶ :
صحیح بخاری میں  براء  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے مروی نبی کریمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمنے فرمایا:’’سب سے پہلے جو کام آج ہم کریں  گے وہ یہ ہے کہ نماز پڑھیں  پھر اوس کے بعد قربانی کریں  گے جس نے ایسا کیا اوس نے ہماری سنت (طریقہ) کو پالیا اور جس نے پہلے ذبح کر لیا وہ گوشت ہے جو اوس نے پہلے سے اپنے گھر والوں  کے لیے طیار کر لیا قربانی سے اوسے کچھ تعلق نہیں ۔‘‘ ابوبردہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کھڑے ہوئے اور یہ پہلے ہی ذبح کرچکے تھے(اس خیال سے کہ پروس کے لوگ غریب تھے انھوں  نے چاہا کہ اون کو گوشت مل جائے) اور عرض کی یارسول اﷲ (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میرے پاس بکری کا چھ ماہہ ایک بچہ ہے فرمایا:’’ تم اوسے ذبح کر لو اور تمہارے سوا کسی کے لیے چھ ماہہ بچہ کفایت نہیں  کرے گا۔ ‘‘(5)

حدیث ۷ :
امام احمد وغیرہ براء  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمنے فرمایا کہ’’ آج کے دن جو کام ہم کو پہلے کرنا ہے وہ نماز ہے اوس کے بعد قربانی کرنا ہے جس نے ایسا کیا وہ ہماری سنت کو پہنچا اور جس نے پہلے ذبح کر ڈالا وہ گوشت ہے جو اوس نے اپنے گھر والوں  کے لیے پہلے ہی سے کر لیا۔ نسک یعنی قربانی سے اوس کو کچھ تعلق نہیں ۔ ‘‘(6)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Qurbaani Kaa Bayaan
Hadees / Bahaare ShareeAt
حدیث ۸ :
امام مسلم حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے راوی کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے حکم فرمایا کہ’’ سینگ والا مینڈھا لایا جائے جو سیاہی میں  چلتا ہو اور سیاہی میں  بیٹھتا ہو اور سیاہی میں  نظر کرتا ہو یعنی اوس کے پاؤں  سیاہ ہوں اور پیٹ سیاہ ہو اور آنکھیں  سیاہ ہوں  وہ قربانی کے لیے حاضر کیا گیا حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا:’’ عائشہ چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کر لو پھر حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے چھری لی اور مینڈھے کو لٹایا اور اوسے ذبح کیا پھر فرمایا:’’بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُّحَمَّدٍ۔وَاٰلِ مُحَمَّدٍ۔وَمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ۔‘‘(1)
                الٰہی تو اس کو محمد صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی طرف سے اور اون کی آل اور امت کی طرف سے قبول فرما۔

حدیث ۹ :
امام احمد و ابو داود و ابن ماجہ و دارمی جابررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں  کہ’’ نبی کریمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمنے ذبح کے دن دو مینڈھے سینگ والے چت کبرے خصی کیے ہوئے ذبح کیے جب اون کا مونھ قبلہ کو کیا یہ پڑھا : اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ(۷۹) اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْكَ لَهٗۚ-وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ عَنْ مُّحَمّدٍ وَّاُمَّتِہٖ بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ۔(2)
                اس کو پڑھ کر ذبح فرمایا ‘‘(3)اور ایک روایت میں ہے کہ حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے یہ فرمایا کہ’’الٰہی یہ میری طرف سے ہے اور میری امت میں اوس کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی۔ ‘‘(4)

حدیث ۱۰ :
امام بخاری و مسلم نے انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے روایت کی کہ’’ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمنے دو مینڈھے چت کبرے سینگ والوں  کی قربانی کی اونھیں  اپنے دست مبارک سے ذبح کیا اوربِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَر کہا ،کہتے ہیں  میں  نے حضور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کو دیکھا کہ اپنا پاؤں  ان کے پہلوؤں  پر رکھا اور بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَر کہا۔‘‘(5)

حدیث ۱۱ :
ترمذی میں حنش سے مروی وہ کہتے ہیں  میں  نے حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو دیکھا کہ دو مینڈھے کی قربانی کرتے ہیں  میں  نے کہا یہ کیا اونھوں  نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں  حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی طرف سے قربانی کروں  لہٰذا میں  حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی طرف سے قربانی کرتا ہوں ۔ (1)

حدیث ۱۲ :
ابو داود و نسائی عبد   اﷲبن عَمْرْورضی اللّٰہ تعالٰی عنہماسے راوی کہ رسول ﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:’’ مجھے یوم اضحی کا حکم دیا گیا اس دن کو خدا نے اس امت کے لیے عید بنایا ایک شخص نے عرض کی یارسولاﷲ(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) یہ بتایے اگر میرے پاس منیحہ(2) کے سوا کوئی جانور نہ ہو تو کیا اوسی کی قربانی کر دوں  فرمایا:’’ نہیں ۔ ہاں  تم اپنے بال اور ناخن ترشواؤ اور مونچھیں  ترشواؤ اور موئے زیر ناف کو مونڈو اسی میں  تمہاری قربانی خدا کے نزدیک پوری ہو جائے گی ‘‘(3)یعنی جس کو قربانی کی توفیق نہ ہو اوسے ان چیزوں  کے کرنے سے قربانی کا ثواب حاصل ہو جائے گا -

حدیث ۱۳ :
مسلم و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ ام المومنین ام سلمہرضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے راوی کہ حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا :’’جس نے ذی الحجہ کا چاند دیکھ لیا اور اوس کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے تو جب تک قربانی نہ کر لے بال اور ناخنوں  سے نہ لے یعنی نہ ترشوائے۔ (4)

حدیث ۱۴ :
طبرانی عبداﷲبن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہسے راوی کہ حضور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا:’’ قربانی میں  گائے سات کی طرف سے اور اونٹ سات کی طرف سے ہے۔ ‘‘(5)

حدیث ۱۵ :
ابو داود و نسائی و ابن ماجہ مجاشع بن مسعودرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایا:’’ بھیڑ کا جذع (چھ مہینے کا بچہ) سال بھر والی بکری کے قائم مقام ہے۔‘‘(6)

حدیث ۱۶ :
امام احمد نے روایت کی کہ حضور اقدس  صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ’’ افضل قربانی وہ ہے جو باعتبار قیمت اعلیٰ ہو اور خوب فربہ ہو۔ (7)

حدیث ۱۷ :
طبرانی ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے راوی کہ حضور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے رات میں  قربانی کرنے سے منع فرمایا۔ (8)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Qurbãni Kã Bayãn
Hadîs / Bahãre SharîAt
حدیث ۱۸ :
امام احمد وغیرہ حضرت علی سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّمنے فرمایا:’’ چار قسم کے جانور قربانی کے لیے درست نہیں ۔ کانا  ؔ ۱  جس کا کانا پن ظاہر ہے اور بیمارؔ۲  جس کی بیماری ظاہر ہو اور لنگڑا   ؔ۳جس کا لنگ ظاہرہے اور ایسا لاغر  ؔ ۴   جس کی ہڈیوں  میں  مغز نہ ہو‘‘(1) اسی کی مثل امام مالک و احمد و ترمذی و ابو داود و نسائی و ابن ماجہ و دارمی براء بن عازب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے راوی۔

حدیث ۱۹ :
امام احمد و ابن ماجہ حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  سے روایت کرتے ہیں  کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے کان کٹے ہوئے اور سینگ ٹوٹے ہوئے کی قربانی سے منع فرمایا۔(2)

حدیث ۲۰ :
ترمذی و ابو داود و نسائی و دارمی حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ’’ ہم جانوروں  کے کان اور آنکھیں  غور سے دیکھ لیں  اور اوس کی قربانی نہ کریں  جس کے کان کا اگلا حصہ کٹا ہو اور نہ اوس کی جس کے کان کا پچھلا حصہ کٹا ہو نہ اوس کی جس کا کان پھٹا ہو یا کان میں  سوراخ ہو۔‘‘ (3)

حدیث ۲۱ :
امام بخاری ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماسے راوی کہ رسول اﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم عیدگاہ میں  نحر و ذبح فرماتے تھے۔ (4)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Qurbani Ka Bayan
Masail / Bahare ShariAt
قربانی کا بیان / مَسَائِلِ فِقہیہ
بَہارِ شریعت = صدر الشریعہ

https://t.me/islaamic_Knowledge
قربانی کئی قسم کی ہے۔
غنیؔ۱ اور فقیر دونوں پر واجب،
فقیر ؔ۲ پر واجب ہو غنی پر واجب نہ ہو،
غنیؔ۳ پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو۔

دونوں  پر واجب ہو
اُس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کی منت مانی یہ کہا کہ ﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر بکری یا گائے کی قربانی کرنا ہے یا اس بکری یا اس گائے کو قربانی کرنا ہے۔

فقیر پر واجب ہو غنی پر نہ ہو
اس کی صورت یہ ہے کہ فقیر نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے اور غنی اگر خریدتا تو اس خریدنے سے قربانی اوس پر واجب نہ ہوتی۔

غنی پر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو
اس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کا وجوب نہ خریدنے سے ہو نہ منت ماننے سے بلکہ خدا نے جو اسے زندہ رکھا ہے اس کے شکریہ میں  اور حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت کے اِحیا میں(5) جو قربانی واجب ہے وہ صرف غنی پر ہے۔ (6)(عالمگیری)
https://t.me/islaamic_Knowledge
مسئلہ ۱ :
مسافر پر قربانی واجب نہیں  اگر مسافر نے قربانی کی یہ تطوّع (نفل) ہے اور فقیر نے اگر نہ منت مانی ہو نہ قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو اوس کا قربانی کرنا بھی تطوّع ہے۔(1)(عالمگیری)

مسئلہ ۲ :
بکری کا مالک تھا اور اوس کی قربانی کی نیت کر لی یا خریدنے کے وقت قربانی کی نیت نہ تھی بعد میں  نیت کر لی تو اس نیت سے قربانی واجب نہیں  ہوگی۔ (2)(عالمگیری)

مسئلہ ۳ :
قربانی واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں ۔ اسلا  ؔ۱  م یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں ، اقا  ؔ ۲مت یعنی مقیم ہونا، مسافر پر واجب نہیں ، تونگریؔ  ۳   یعنی مالک نصاب ہونا یہاں  مالداری سے مراد وہی ہے جس سے صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں  جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، حر  ؔ ۴ یت یعنی آزاد ہونا جو آزاد نہ ہو اوس پر قربانی واجب نہیں  کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں  لہٰذا عبادت مالیہ اوس پر واجب نہیں ۔ مرد ہونا اس کے لیے شرط نہیں ۔ عورتوں  پر واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں  پر واجب ہوتی ہے اس کے لیے بلوغ شرط ہے یا نہیں  اس میں  اختلاف ہے اور نابالغ پر واجب ہے تو آیا خود اوس کے مال سے قربانی کی جائے گی یا اوس کا باپ اپنے مال سے قربانی کرے گا۔ ظاہرالروایۃ یہ ہے کہ نہ خود نابالغ پر واجب ہے اور نہ اوس کی طرف سے اوس کے باپ پر واجب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔ (3)(درمختار وغیرہ)

مسئلہ ۴ :
مسافر پر اگرچہ واجب نہیں  مگر نفل کے طور پر کرے تو کرسکتا ہے ثواب پائے گا۔ حج کرنے والے جو مسافر ہوں  اون پر قربانی واجب نہیں  اور مقیم ہوں  تو واجب ہے جیسے کہ مکہ کے رہنے والے حج کریں  تو چونکہ یہ مسافر نہیں  ان پر واجب ہوگی۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۵ :
شرائط کا پورے وقت میں  پایا جانا ضروری نہیں  بلکہ قربانی کے لیے جو وقت مقرر ہے اوس کے کسی حصہ میں شرائط کا پایا جانا وجوب کے لیے کافی ہے مثلاً ایک شخص ابتدائے وقت قربانی میں  کافر تھا پھر مسلمان ہوگیا اور ابھی قربانی کاوقت باقی ہے اوس پر قربانی واجب ہے جبکہ دوسرے شرائط بھی پائے جائیں  اسی طرح اگر غلام تھا اور آزاد ہوگیا اوس کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ یوہیں  اول وقت میں  مسافر تھا اور اثنائے وقت میں  مقیم ہوگیا اس پر بھی قربانی واجب ہوگئی یا فقیر تھا اوروقت کے اندر مالدار ہوگیا اس پر بھی قربانی واجب ہے۔(5) (عالمگیری)

مسئلہ ۶ :
قربانی واجب ہونے کا سبب وقت ہے جب وہ وقت آیا اور شرائط وجوب پائے گئے قربانی واجب ہوگئی اور اس کا رکن اون مخصوص جانوروں  میں  کسی کو قربانی کی نیت سے ذبح کرنا ہے۔ قربانی کی نیت سے دوسرے جانور مثلاً مرغ کو ذبح کرنا ناجائز ہے۔ (1)(درمختار)

مسئلہ ۷ :
جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دوسو درہم ہو وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے ان کے سوا جو چیزیں  ہوں  وہ حاجت سے زائد ہیں ۔(2) (عالمگیری وغیرہ)

مسئلہ ۸ :
اوس شخص پر دَین ہے اور اوس کے اموال سے دَین کی مقدارمُجرا کی جائے(3)  تو نصاب نہیں  باقی رہتی اوس پر قربانی واجب نہیں  اور اگر اس کا مال یہاں  موجود نہیں  ہے اور ایامِ قربانی(4)  گزرنے کے بعد وہ مال اوسے وصول ہوگا تو قربانی واجب نہیں ۔ (5)(عالمگیری)

مسئلہ ۹ :
ایک شخص کے پاس دو سو درہم تھے سال پورا ہوا اور ان میں  سے پانچ درہم زکوٰۃ میں  دیے ایک سو پچانوے باقی رہے اب قربانی کا دن آیا تو قربانی واجب ہے اور اگر اپنے ضروریات میں  پانچ درہم خرچ کرتا تو قربانی واجب نہ ہوتی۔ (6)(عالمگیری)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Qurbãni Kã Bayãn
Masayil / Bahaare ShareeAt
مسئلہ ۱۰ :
مالکِ نصاب نے قربانی کے لیے بکری خریدی تھی وہ گم ہوگئی اور اس شخص کا مال نصاب سے کم ہوگیا اب قربانی کا دن آیا تو اس پر یہ ضرور نہیں  کہ دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے اور اگر وہ بکری قربانی ہی کے دنوں  میں مل گئی اور یہ شخص اب بھی مالک نصاب نہیں  ہے تو اوس پر اس بکری کی قربانی واجب نہیں ۔ (7)(عالمگیری)

مسئلہ ۱۱ :
عورت کامَہر شوہر کے ذمہ باقی ہے اور شوہر مالدار ہے تو اس مَہر کی وجہ سے عورت کو مالک نصاب نہیں  ماناجائے گا اگرچہ مَہر معجل ہو اور اگر عورت کے پاس اس کے سوا بقدر نصاب مال نہیں  ہے تو عورت پر قربانی واجب نہیں  ہوگی۔ (8)(عالمگیری)

مسئلہ ۱۲ :
کسی کے پاس دو سو درہم کی قیمت کا مصحف شریف (قرآن مجید) ہے اگر وہ اوسے دیکھ کر اچھی طرح تلاوت کرسکتا ہے تو اوس پر قربانی واجب نہیں  چاہے اوس میں  تلاوت کرتا ہو یا نہ کرتا ہو اور اگر اچھی طرح اوسے دیکھ کر تلاوت نہ کرسکتا ہو تو واجب ہے۔ کتابوں  کا بھی یہی حکم ہے کہ اوس کے کام کی ہیں  تو قربانی واجب نہیں  ورنہ ہے۔(1) (عالمگیری)

مسئلہ ۱۳ :
ایک مکان جاڑے کے لیے(2) اور ایک گرمی کے لیے یہ حاجت میں  داخل ہے ان کے علاوہ اس کے پاس تیسرا مکان ہو جو حاجت سے زائد ہے اگر یہ دو سو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے اسی طرح گرمی جاڑے کے بچھونے حاجت میں  داخل ہیں  اور تیسرا بچھونا جو حاجت سے زائد ہے اوس کا اعتبار ہوگا۔ غازی کے لیے دو گھوڑے حاجت میں  ہیں  تیسرا حاجت سے زائد ہے۔ اسلحہ غازی کی حاجت میں  داخل ہیں  ہاں  اگر ہر قسم کے دو ہتھیار ہوں  تو دوسرے کو حاجت سے زائد قرار دیا جائے گا۔ گاؤں  کے زمیندار کے پاس ایک گھوڑا حاجت میں  داخل ہے اور دو ہوں  تو دوسرے کو زائد مانا جائے گا۔ گھر میں  پہننے کے کپڑے اور کام کاج کے وقت پہننے کے کپڑے اور جمعہ و عید اور دوسرے موقعوں  پر پہن کر جانے کے کپڑے یہ سب حاجت میں  داخل ہیں  اور ان تین کے سوا چوتھا جوڑا اگر دو سو درہم کا ہے تو قربانی واجب ہے۔(3) (عالمگیری، ردالمحتار)

مسئلہ ۱۴ :
بالغ لڑکوں  یا بی بی کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہے تو اون سے اجازت حاصل کرے بغیر اون کے کہے اگر کر دی تو اون کی طرف سے واجب ادا نہ ہوا اور نابالغ کی طرف سے اگرچہ واجب نہیں  ہے مگر کر دینا بہتر ہے۔ (4)(عالمگیری)

مسئلہ ۱۵ :
قربانی کا حکم یہ ہے کہ اس کے ذمہ جو قربانی واجب ہے کر لینے سے بری الذمہ ہوگیا اور اچھی نیت سے کی ہے ریا وغیرہ کی مداخلت نہیں تو ﷲ (عزوجل) کے فضل سے امید ہے کہ آخرت میں  اس کا ثواب ملے۔ (5)(درمختار وغیرہ)

مسئلہ ۱۶ :
یہ ضرورنہیں  کہ دسویں  ہی کو قربانی کر ڈالے اس کے لیے گنجائش ہے کہ پورے وقت میں جب چاہے کرے لہٰذا اگر ابتدائے وقتمیں  اس کا اہل نہ تھا وجوب کے شرائط نہیں  پائے جاتے تھے اور آخر وقت میں  اہل ہوگیا یعنی وجوب کے شرائط پائے گئے تو اوس پر واجب ہوگئی اور اگر ابتدائے وقت میں  واجب تھی اور ابھی کی نہیں  اور آخر وقت میں  شرائط جاتے رہے تو واجب نہ رہی۔(6)(عالمگیری)

مسئلہ ۱۷ :
ایک شخص فقیر تھا مگر اوس نے قربانی کر ڈالی اس کے بعد ابھی وقت قربانی کا باقی تھا کہ غنی ہوگیا تو اوس کو پھر قربانی کرنی چاہیے کہ پہلے جو کی تھی وہ واجب نہ تھی اور اب واجب ہے بعض علماء نے فرمایا کہ وہ پہلی قربانی کافی ہے اور اگر باوجود مالک نصاب ہونے کے اوس نے قربانی نہ کی اور وقت ختم ہونے کے بعد فقیر ہوگیا تو اوس پر بکری کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے یعنی وقت گزرنے کے بعد قربانی ساقط نہیں  ہوگی۔ اور اگر مالک نصاب بغیر قربانی کیے ہوئے انھیں  دنوں  میں  مرگیا تو اوس کی قربانی ساقط ہوگئی۔(1)(عالمگیری، درمختار)

مسئلہ ۱۸ :
قربانی کے وقت میں  قربانی کرنا ہی لازم ہے کوئی دوسری چیز اس کے قائم مقام نہیں  ہوسکتی مثلاً بجائے قربانی اوس نے بکری یا اس کی قیمت صدقہ کر دی یہ ناکافی ہے اس میں  نیابت ہوسکتی ہے یعنی خود کرنا ضرور نہیں  بلکہ دوسرے کو اجازت دے دی اوس نے کر دی یہ ہوسکتا ہے۔(2)(عالمگیری)

مسئلہ ۱۹ :
جب قربانی کے شرائط مذکورہ پائے جائیں  تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یا گائے کا ساتواں  حصہ واجب ہے۔ ساتویں  حصہ سے کم نہیں  ہوسکتا بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکامیں  اگر کسی شریک کا ساتویں  حصہ سے کم ہے تو کسی کی قربانی نہیں  ہوئی یعنی جس کا ساتواں  حصہ یا اس سے زیادہ ہے اوس کی بھی قربانی نہیں ہوئی۔ گائے یا اونٹ میں  ساتویں حصہ سے زیادہ کی قربانی ہوسکتی ہے۔ مثلاً گائے کو چھ یا پانچ یا چار شخصوں کی طرف سے قربانی کریں  ہوسکتا ہے اور یہ ضرور نہیں کہ سب شرکا کے حصے برابر ہوں بلکہ کم و بیش بھی ہوسکتے ہیں ہاں یہ ضرورہے کہ جس کا حصہ کم ہے تو ساتویں حصہ سے کم نہ ہو۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Qurbaani Kaa Bayaan
Masaail / Bahaare ShariAt
مسئلہ ۲۰ :
سات شخصوں نے پانچ گایوں کی قربانی کی یہ جائز ہے کہ ہر گائے میں ہر شخص کا ساتواں حصہ ہوا اور آٹھ شخصوں نے پانچ یا چھ گایوں میں بحصۂ مساوی شرکت کی یہ ناجائز ہے کہ ہر گائے میں ہر ایک کا ساتویں حصہ سے کم ہے۔ سات بکریوں کی سات شخصوں نے شریک ہو کر قربانی کی یعنی ہر ایک کا ہر بکری میں ساتواں حصہ ہے استحساناً قربانی ہو جائے گی یعنی ہر ایک کی ایک ایک بکری پوری قرار دی جائے گی۔ یوہیں  دو شخصوں نے دو بکریوں میں شرکت کر کے قربانی کی تو بطور استحسان ہر ایک کی قربانی ہو جائے گی۔ (4)

مسئلہ ۲۱ :
شرکت میں گائے کی قربانی ہوئی تو ضرور ہے کہ گوشت وزن کر کے تقسیم کیا جائے اندازہ سے تقسیم نہ ہو
کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو زائد یا کم ملے اور یہ ناجائز ہے یہاں  یہ خیال نہ کیا جائے کہ کم و بیش ہوگا تو ہر ایک اس کو دوسرے کے لیے جائز کر دے گا کہہ دے گا کہ اگر کسی کو زائد پہنچ گیا ہے تو معاف کیا کہ یہاں عدم جواز حق شرع ہے اور ان کو اس کے معاف کرنے کا حق نہیں ۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۲۲ :
قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کے طلوع صبح صادق سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے یعنی تین دن ، دوراتیں  اور ان دنوں کو ایام نحر کہتے ہیں اور گیارہ سے تیرہ تک تین دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں لہٰذا بیچ کے دو دن ایام نحر وایام تشریق دونوں ہیں اور پہلا دن یعنی دسویں ذی الحجہ صرف یوم النحرہے اور پچھلا دن یعنی تیرہویں  ذی الحجہ صرف یوم التشریق ہے۔(2)(درمختار وغیرہ)

مسئلہ ۲۳ :
دسویں کے بعد کی دونوں راتیں ایام نحر میں داخل ہیں ان میں بھی قربانی ہوسکتی ہے مگر رات میں  ذبح کرنا مکروہ ہے۔ (3)(عالمگیری)

مسئلہ ۲۴ :
پہلا دن یعنی دسویں تاریخ سب میں  افضل ہے پھر گیارہویں  اور پچھلا دن یعنی بارہویں سب میں کم درجہ ہے اور اگر تاریخوں میں شک ہو یعنی تیس کا چاند مانا گیا ہے اور اونتیس کے ہونے کا بھی شبہہ ہے مثلاً گمان تھا کہ اونتیس کا چاند ہوگا مگر ابر وغیرہ کی وجہ سے نہ دکھایا شہادتیں گزریں مگر کسی وجہ سے قبول نہ ہوئیں ایسی حالت میں دسویں کے متعلق یہ شبہہ ہے کہ شاید آج گیارہویں ہو تو بہتر یہ ہے کہ قربانی کو بارہویں تک مؤخر نہ کرے یعنی بارہویں سے پہلے کر ڈالے کیونکہ بارہویں کے متعلق تیرہویں تاریخ ہونے کا شبہہ ہوگا تو یہ شبہہ ہوگا کہ وقت سے بعد میں ہوئی اور اس صورت میں  اگر بارہویں کو قربانی کی جس کے متعلق تیرہویں  ہونے کا شبہہ ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت صدقہ کر ڈالے بلکہ ذبح کی ہوئی بکری اور زندہ بکری میں قیمت کا تفاوت ہو کہ زندہ کی قیمت کچھ زائد ہو تو اس زیادتی کو بھی صدقہ کر دے۔(4) (عالمگیری)

مسئلہ ۲۵ :
ایام نحر میں قربانی کرنا اتنی قیمت کے صدقہ کرنے سے افضل ہے کیونکہ قربانی واجب ہے یا سنت اور صدقہ کرنا تطوّع محض ہے(5) لہٰذا قربانی افضل ہوئی۔(6)(عالمگیری) اور وجوب کی صورت میں بغیر قربانی کیے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔(7)

مسئلہ ۲۶ :
شہر میں قربانی کی جائے تو شرط یہ ہے کہ نماز ہوچکے لہٰذا نماز عید سے پہلے شہر میں قربانی نہیں ہوسکتی اور دیہات میں چونکہ نماز عید نہیں ہے یہاں طلوع فجر کے بعد سے ہی قربانی ہوسکتی ہے اور دیہات میں بہتر یہ ہے کہ بعد طلوع آفتاب قربانی کی جائے اور شہر میں بہتر یہ ہے کہ عید کا خطبہ ہوچکنے کے بعد قربانی کی جائے۔(1) (عالمگیری) یعنی نماز ہوچکی ہے اور ابھی خطبہ نہیں ہوا ہے اس صورت میں  قربانی ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے-

مسئلہ ۲۷ :
یہ جو شہر و دیہات کا فرق بتایا گیا یہ مقام قربانی کے لحاظ سے ہے قربانی کرنے والے کے اعتبار سے نہیں یعنی دیہات میں قربانی ہو تو وہ وقت ہے اگرچہ قربانی کرنے والا شہر میں ہو اور شہر میں ہو تو نماز کے بعد ہو اگرچہ جس کی طرف سے قربانی ہے وہ دیہات میں  ہو لہٰذا شہری آدمی اگر یہ چاہتا ہے کہ صبح ہی نماز سے پہلے قربانی ہو جائے تو جانور دیہات میں  بھیج دے۔(2) (درمختار)

مسئلہ ۲۸ :
اگر شہر میں متعدد جگہ عید کی نماز ہوتی ہو تو پہلی جگہ نماز ہوچکنے کے بعد قربانی جائز ہے یعنی یہ ضرور نہیں  کہ عیدگاہ میں نماز ہو جائے جب ہی قربانی کی جائے بلکہ کسی مسجد میں  ہوگئی اور عیدگاہ میں نہ ہوئی جب بھی ہوسکتی ہے۔(3)(درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ ۲۹ :
دسویں کو اگر عید کی نماز نہیں ہوئی تو قربانی کے لیے یہ ضرور ہے کہ وقت نماز جاتا رہے یعنی زوال کا وقت آجائے اب قربانی ہوسکتی ہے اور دوسرے یا تیسرے دن نماز عید سے قبل ہوسکتی ہے۔ (4)(درمختار)

مسئلہ ۳۰ :
منیٰ میں چونکہ عید کی نماز نہیں ہوتی لہٰذا وہاں جو قربانی کرنا چاہے طلوع فجر کے بعد سے کرسکتا ہے اوس کے لیے وہی حکم ہے جو دیہات کا ہے کسی شہر میں اگر فتنہ کی وجہ سے نماز عید نہ ہو تو وہاں دسویں کی طلوع فجر کے بعد قربانی ہوسکتی ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Qurbani Ka Bayan
Masail / Bahare ShariAt
مسئلہ ۳۱ :
امام ابھی نماز ہی میں  ہے اور کسی نے جانور ذبح کر لیا اگرچہ امام قعدہ میں  ہو اور بقدر تشہد بیٹھ چکا ہو مگر ابھی سلام نہ پھیرا ہو تو قربانی نہیں  ہوئی اور اگر امام نے ایک طرف سلام پھیر لیاہے دوسری طرف باقی تھا کہ اس نے ذبح کر دیا قربانی ہوگئی اور بہتر یہ ہے کہ خطبہ سے جب امام فارغ ہو جائے اوس وقت قربانی کی جائے۔(1) (عالمگیری)

مسئلہ ۳۲ :
امام نے نماز پڑھ لی اس کے بعد قربانی ہوئی پھر معلوم ہوا کہ امام نے بغیر وضو نماز پڑھادی تو نماز کااعادہ کیا جائے قربانی کے اعادہ کی ضرورت نہیں ۔ (2)(درمختار)

مسئلہ ۳۳ :
یہ گمان تھا کہ آج عرفہ کا دن (3)ہے اور کسی نے زوال آفتاب کے بعد قربانی کر لی پھر معلوم ہوا کہ عرفہ کا دن نہ تھا بلکہ دسویں  تاریخ تھی تو قربانی جائز ہوگئی۔ یوہیں  اگر دسویں  کو نماز عید سے پہلے قربانی کر لی پھر معلوم ہوا کہ وہ دسویں  نہ تھی بلکہ گیارہویں  تھی تو اس کی بھی قربانی جائز ہوگئی۔ (4)(عالمگیری)

مسئلہ ۳۴ :
نویں کے متعلق کچھ لوگوں  نے گواہی دی کہ دسویں  ہے اس بناپر اوسی روز نماز پڑھ کر قربانی کی پھر معلوم ہوا کہ گواہی غلط تھی وہ نویں  تاریخ تھی تو نماز بھی ہوگئی اور قربانی بھی۔(5) (درمختار)

مسئلہ ۳۵ :
ایامِ نحر گزر گئے اور جس پر قربانی واجب تھی اوس نے نہیں  کی ہے تو قربانی فوت ہوگئی اب نہیں  ہوسکتی پھر  اگر اوس نے قربانی کا جانور معین کر رکھا ہے مثلاً معین جانور کے قربانی کی منت مان لی ہے وہ شخص غنی ہو یا فقیر بہرصورت اوسی معین جانور کو زندہ صدقہ کرے اور اگر ذبح کر ڈالا تو سارا گوشت صدقہ کرے اوس میں  سے کچھ نہ کھائے اور اگر کچھ کھا لیا ہے تو جتنا کھایا ہے اوس کی قیمت صدقہ کرے اور اگر ذبح کیے ہوئے جانور کی قیمت زندہ جانور سے کچھ کم ہے تو جتنی کمی ہے اوسے بھی صدقہ کرے اور فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہے اور قربانی کے دن نکل گئے چونکہ اس پر بھی اسی معین جانور کی قربانی واجب ہے لہٰذااس جانور کو زندہ صدقہ کر دے اور اگر ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو منت میں  مذکور ہوا۔ یہ حکم اوسی صورت میں  ہے کہ قربانی ہی کے لیے خریدا ہو اور اگر اوس کے پاس پہلے سے کوئی جانور تھا اور اوس نے اوس کے قربانی کرنے کی نیت کر لی یا خریدنے کے بعد قربانی کی نیت کی تو اوس پر قربانی واجب نہ ہوئی۔ اور غنی نے قربانی کے لیے جانور خرید لیا ہے تو وہی جانور صدقہ کر دے اور ذبح کر ڈالا تو وہی حکم ہے جو مذکور ہوا اور خریدا نہ ہو تو بکری کی قیمت صدقہ کرے۔(6) (درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)

مسئلہ ۳۶ :
قربانی کے دن گزر گئے اور اوس نے قربانی نہیں  کی اور جانور یا اوس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں  کیا یہاں  تک کہ دوسری بقر عید آگئی اب یہ چاہتا ہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضا اس سال کر لے یہ نہیں  ہوسکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اوس کی قیمت صدقہ کرے۔(1) (عالمگیری)

مسئلہ ۳۷ :
جس جانور کی قربانی واجب تھی ایامِ نحر گزرنے کے بعد اوسے بیچ ڈالا تو ثمن کا صدقہ کرنا واجب ہے۔ (2)(عالمگیری)

مسئلہ ۳۸ :
کسی شخص نے یہ وصیت کی کہ اوس کی طرف سے قربانی کر دی جائے اور یہ نہیں  بتایا کہ گائے یا بکری کس جانور کی قربانی کی جائے اور نہ قیمت بیان کی کہ اتنے کا جانور خرید کر قربانی کی جائے یہ وصیت جائز ہے اور بکری قربان کر دینے سے وصیت پوری ہوگئی اور اگر کسی کو وکیل کیا کہ میری طرف سے قربانی کر دینا اور گائے یا بکری کا تعین نہ کیا اور قیمت بھی بیان نہیں  کی تو یہ توکیل صحیح نہیں ۔ (3)(عالمگیری)

مسئلہ ۳۹ :
قربانی کی منت مانی اور یہ معین نہیں  کیا کہ گائے کی قربانی کرے گا یا بکری کی تو منت صحیح ہے بکری کی قربانی کر دینا کافی ہے اور اگر بکری کی قربانی کی منت مانی تو اونٹ یا گائے قربانی کر دینے سے بھی منت پوری ہو جائے گی منت کی قربانی میں  سے کچھ نہ کھائے بلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کر دے اور کچھ کھا لیا تو جتنا کھایا اوس کی قیمت صدقہ کرے۔(4) (عالمگیری)
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
Forwarded from 📚تحقیقات📚
🔥فتنہ قادیانیت🔥
کے رد میں علماء اہلسنت کی کتب
فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں

👉🏻 http://ataunnabi.blogspot.com/search?q=Radd+e+Qadiyaniat+&m=1

👍🏻دوسروں کو بھی شئیر کریں

🤲🏻طالب دعا🤲🏻
زوہیب حسن عطاری
Forwarded from 📚تحقیقات📚
🔥رد قادیانیت🔥
پر علماء اہلسنت کی کتب
فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں

👉🏻 https://ataunnabi.blogspot.com/search?q=Radd+e+Qadiyaniat&m=1

🤲🏻طالب دعا🤲🏻
ذوہیب حسن عطاری
Forwarded from 📚تحقیقات📚
🔥شیعہ مذہب🔥
کے رد میں
📚 علماء اہلسنت کی کتب
🌹فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں


👉🏻 http://ataunnabi.blogspot.com/search?q=Radd+e+Shia&m=1

دوسروں کو بھی شئیر کریں
Forwarded from 📚تحقیقات📚
🔥 فرقہ دیوبندیت🔥
کے رد میں
🌹 علماء اہلسنت کی
150 سے زائد کتب📚
فری آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کریں

👉🏻 http://ataunnabi.blogspot.com/search?q=Radd+e+Deoband&m=1
Bharat Ka Aain 📖Urdu Men
The Constitution of INDIA
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
بھارت کا آئین.pdf
7.2 MB
भारत का आईन उर्दू
بھارت کا آئین Urdu
Bharat Ka Aayeen
بے جا تکفیر کا رونا رونے والے بَدمذہبوں
پر شہزادۂ اعلیٰ حضرت - حجۃ الاسلام
علامہ‌حامدرضاخان عَلَیۡہِ‌الرَّحۡمَہۡ‌کاتازیانہ

" ان مسخروں کے نزدیک کفر کرنا
عیب نہیں، کفر کو کفر کہنا عیب ہے
"

📖 سدالفرار صفحہ 136 📖
مطبوعہ مطبع اہل سنت وجماعت
بریلی شریف یوپی ۔ طبع 1333ھ
ایضاً ناشر دارالعلوم رضائے خواجہ
اجمیر شریف راجِستھان طبع 2009ء

میثم قادری
➻════════════➻
🅣🅣🅢Aʜʟᴇ Sᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ 🆔 @islaamic_Knowledge
➻════════════➻
مالکِ نصاب کا اپنے نام سے قربانی نہ
کروا کر رسول اللہ ﷺ یا بزرگوں یا
کِـسِـی اور کے نام قربانی کرنا کیسا ؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فتاویٰ فیض الرَّسول جِلد¹ صَفحہ⁴⁴⁵
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 عید کے دِن کا وظیفہ 🌹
جو شخص عید کے دِن تِین سَو ³⁰⁰ مرتبہ ” سُبحٰنَ اللہ وَبِحَمدِہٖ “ پڑھے اور فوت شدہ مسلمانوں کی ارواح کو اس کا ایصالِ ثواب کرے تو ہَر مُسلمان کی قبر میں ایک ہزار ¹⁰⁰⁰ انوار داخِل ہُوتے ہَیں - اور جب وہ پڑھنے والا خود مرے گا , اللہ تعالیٰ ﷻ اس کی قبر میں بھی ایک ہزار ¹⁰⁰⁰ انوار داخِل فرمائےگا ‼️
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یہ وِرد دونوں عیدین (عید الفطر و عید الضحیٰ = عید و بقرعید ) میں کیا جا سکتا ہے ‼️
[ مکاشفۃ القلوب 📖 صفحہ 308 ]
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 عِیدِ قرباں مُبارڪ ہُو 🌹

میری طـرف سـے آپ ڪو اور
آپ کے اہلِ خانہ کو عید الضحیٰ
کی بہت بہت مُبارڪ باد 🌹

اَللہ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ بَطُفَـیلِ مُـصـطَـفیٰ ﷺ
آپ کو اور آپ کے اہلِ خانہ کو عیدِ سعید
کی خوشِیُوں سے مالا مال فرمائے - آمِین


🌹تقبل اللہ منا ومنكم صالح الأعمال🌹

ْ مِنجانِب
عُـبَیۡدِ غَوۡثُ‌ؔوخَواجَہؔ، رَضَاؔ وَکُـل اَولِـیَآء
مُحَمَّدۡ جَمَالُ‌الـدِّیۡنۡ خَانۡ قَادِرِیۡ رَضَـوِیۡ
ضِـلَـعۡ بَـہۡـرَائِـچ شَـرِیۡف یُوۡ. پِیۡ. اَلـہِـنۡـدۡ
مُوۡبَائِل نَمبَر +917860520899 📱
سُنِّیُوں کو عِیدِ قرباں مُبارڪ ہُو !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🌹 دُنیا بهر کے تَمام سُنِّی صَحیحُ
العقیدہ مُسَلمَانُوں کو عید الضحیٰ
🌹 خٗوب خٗوب مُبارڪ ہُو 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻