🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
بیعت و خلافت: آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت یعقوب چرخی رحمۃ اللّٰه علیہ (خلیفہ خواجۂ خواجگان حضرت بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللّٰہ علیہ) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔ حضرت خواجہ احرار رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں: جب آپ نے بیعت کےلئے ہاتھ بڑھایا۔ تو ان کی پیشانی مبارک پر کچھ سفیدی مشابہ برص تھی جو طبیعت کی نفرت کا موجب ہوتی ہے۔ اس لیے میری طبیعت اُن کے ہاتھ پکڑنے کی طرف مائل نہ ہوئی۔ وہ میری کراہت کو سمجھ گئے اور جلدی اپنا ہاتھ ہٹالیا اور صورت تبدیل کرکے ایسی خوب صورت شکل اور شاندار لباس میں ظاہر ہوئے کہ میں بے اختیار ہوگیا۔ قریب تھا کہ بے خود ہوکر آپ سے لپٹ جاؤں۔ آپ نے دوسری دفعہ اپنا دستِ مبارک بڑھایا اور فرمایا کہ حضرت خواجہ بہاء الدین قدس سرہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا تھا کہ تیرا ہاتھ ہمارا ہاتھ ہے جس نے تمہارا ہاتھ پکڑا اُس نے ہمارا ہاتھ پکڑا۔ خواجہ بہاء الدین کا ہاتھ پکڑ لو، میں نے بلا توقف اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔ حسبِ طریقہ حضراتِ خواجگان نقشبندیہ مجھے نفی و اثبات کے اذکار سکھائے اور فرمایا کہ جو کچھ ہمیں خواجہ نقشبند رحمۃ اللّٰہ علیہ سے پہنچا ہے یہی ہے اگر تم بطریقِ جذب طالبوں کی تربیت کرو تو تمہیں اختیار ہے، سلسلہ نقشبندیہ کی اشاعت میں کوشش کرنا اور کسی کا خوف مت کرنا۔ اہل لوگوں کی تربیت کرنا‘‘۔
حضرت خواجہ احرار رحمۃ اللّٰہ علیہ کو بیعت کے ساتھ خلافت و اجازت سے نواز دیا گیا۔ وہاں پہلے سے جو درویش موجود تھے ان کو غیرت آئی کہ ہمیں عرصۂ دراز ہو چکا ہے کہ کبھی ایسا لطف نہیں جو اس نووارد پر کیا ہے۔
مولانا عبدالرحمن جامیؔ رحمۃ اللّٰه علیہ لکھتے ہیں کہ: ’’مولانا خواجہ یعقوب چرخی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے تھے کہ جو طالب کسی بزرگ کی صحبت میں آنا چاہے تو اسے خواجہ عبید اللہ احرار کی طرح آنا چاہئے کہ چراغ، تیل، اور بتی سب تیار ہے، صرف دیا سلائی دکھانے کی دیر ہے‘‘۔

سیرت و خصائص: ناصر الاسلام والدین، شیخ الاسلام، قطب الوقت، سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے نیرِ تاباں، سید الاحرار، عارف باللہ، عاشقِ رسول اللہ، صاحبِ معارفِ و اسرار، حضرت خواجہ عبیداللہ احرار رحمۃ اللّٰہ علیہ۔
آپ مادر زاد ولی کامل تھے۔ خاندانی لحاظ سے بھی آپ کا تعلق ایک علمی و روحانی خانوادے سے تھا۔ لیکن آپ ہمارے زمانے کے اخلاف کی طرح ’’پدرم سلطان بود‘‘ کی طرح نہ تھے۔ بلکہ علم و عمل، تقویٰ و فضیلت کے اعلیٰ معیار پر فائز تھے۔ آپ کا لقب ’’احرار‘‘ ہے۔ اس لقب میں آپ کی بڑی منقبت ہے کیونکہ اہل اللہ کے نزدیک حر (واحد؛ احرار) اُسے کہتے ہیں، جو عبودیت کی حدود کو بدرجۂ کمال قائم کرے، اور ماسوی اللہ کی غلامی سے آزاد ہوجائے۔
بچپن ہی سے اہل اللہ سے سچی عقیدت تھی۔ کم سنی میں ہی مزاراتِ مشائخ پر حاضر ہوتے۔ جب سن بلوغ کو پہنچے تو تاشقند کے مزارات پر روزانہ حاضری دیتے۔ حضرت خواجہ عبیداللہ احرار رحمۃ اللّٰہ علیہ خواجہ یعقوب چرخی قدس سرہ کی خدمت سے رخصت ہوکر پھر ہرات میں آئے اور کم و بیش ایک سال وہاں رہے۔ انتیس سال کی عمر میں اپنے وطن کی طرف واپس آئے، اور تاشقند میں مقیم ہوکر اپنے معاش کےلئے زراعت کا کام شروع کیا اس کام میں اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت پیدا فرمائی، اور آپ کے ہاں مال و متاع، جانور و مویشی، اور اجناس وغیرہ کی فراوانی ہوگئی۔ یوں بظاہر آپ کی زندگی شاہانہ تھی، لیکن یہ سب کچھ درویشوں کی خدمت اور فقراء کے لئے تھا۔
مولانا عبدالرحمن جامیؔ رحمۃ اللّٰہ علیہ آپ کے ہم عصر اور نامور شاعر تھے۔ انہوں نے آپ کو پہلی دفعہ اس حالت میں دیکھا کہ آپ کی سواری جا رہی تھی اور آپ کے جلوس میں خدام کی ایک جماعت تھی۔ یہ ظاہری شان و شوکت، اور مال و اسباب اور گھوڑے دیکھ کر مولانا جامیؔ کی شاعری والی حس بیدار ہوئی اور ان کے دلی جذبات اس مصرعے کی صورت میں زبان پر آئے۔
"نہ مرد است آں کہ دنیا دوست دارد"
یعنی وہ مرد نہیں جو دنیا کو دوست رکھے۔
پھر جب مولانا جامی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ جامی تم نے صرف ایک مصرعہ کہا ہے، مکمل شعر نہیں کہا۔ دوسرا مصرعہ بھی کہو۔ مولانا آپ کی باطنی بصیرت دیکھ کر ششدر رہ گئے، اور خاموش رہے۔ چنانچہ حضرت نے خود ہی دوسرا مصرع بناتے ہوئے فرمایا کہ پورا شعر یوں ہونا چاہئے۔

نہ مرد است آں کہ دنیا دوست دارد
اگر دارد برائے دوست دارد

پھر مولانا جامی رحمۃ اللّٰه علیہ آپ کے ایسے معتقد ہوئے کہ آپ کے ہی ہوکر رہ گئے۔ آپ کے زیرِ تربیت سلوک کی منازل طے کیں، اور آپ کی شان میں ’’تحفۃ الاحرار‘‘ کتاب لکھ کر عقیدت کا اظہار کیا۔
1👍1
سلسلہ نقشبندیہ کی اشاعت: حضرت خواجہ عبید اللہ احرار رحمۃ اللّٰہ علیہ کی بدولت مختلف قبائل میں اسلام وسیع پیمانے پر پھیلا۔ خاص طور پر ازبک قبائل نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا۔ اسی طرح آپ کے ذریعے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی وسیع ترویج و اشاعت ہوئی۔ وسط ایشیاء کے قدیم شہر مرکز تھے۔ اس میں سمرقند، مرو، خیوا، تاشقند، بخارا، ہرات، کے شہر اہم روحانی مراکز تھے۔ اسی طرح مغرب میں آپ کے خلیفہ عارف باللہ شیخ عبداللہ سماؤ رحمۃ اللّٰه علیہ کے ذریعے مغرب میں اناطولیہ اور ترکی میں اشاعت۔ یاد رہے کہ اناطولیہ بر اعظموں کے وسط میں واقع ہے۔ اس کے اثرات کوہِ قاف اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک پھیلے، اور امام شامل رحمہ اللّٰه جیسا عظیم مجاہد پیدا کیا۔ (امام مجاہد رحمہ اللّٰه سلسلہ نقشبندیہ کے شیخِ طریقت، اور اسم بامسمیّٰ تھے۔ وسط ایشیائی ریاستوں میں ان کا کردار ہندوستان، کے ٹیپو سلطان شہید، اور الجزائر کے عبدالقادر الجزائری جیسا تھا)

اشاعتِ اسلام: آپ کے عہد میں وسط ایشیا سیاسی انتشار کی لپیٹ میں تھا۔ امیر تیمور نے 1405ء کو وفات پائی، اور اس کے بعد اس کی اولاد کے باہمی اختلاف کی وجہ سے سلطنت میں انتشار پیدا ہوگیا، اور خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔یہی حال برصغیر کا تھا۔ مرکزی حکومت کمزور ہوچکی تھی۔ امراء و حکام کی طرف سے رعایا پر بے پناہ ظلم ڈھایا جاتا۔ عدل و انصاف، دین داری کے تصورات ناپید تھے۔ مزید مغرب یعنی اندلس میں عیسائی حکمرانوں نے 1492ء کو غرناطہ پر قبضہ کرکے انتہائی بربریت سے کام لیتے ہوئے مسلم تہذیب و تمدن کے نام و نشان تک مٹادئیے۔ اس وقت عالم اسلام کی حالت بعینہ اسی طرح تھی جیسے ہمارے زمانے اکیسویں صدی میں ہے۔ اُس وقت حکمران مطلق العنان آمر و جابر ہوتے تھے۔ کسی کو ان کے خلاف حق بات تک کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ ان کے درباری وزراء جان کی معافی مانگ کر شاہ سے بات کرتے تھے۔
ایسے ماحول میں صرف ایسی عظیم شخصیات تھیں، جن کے دلوں میں ماسوی اللہ کسی کا خوف کا نہ ہوتا تھا۔ وہی ان کو للکارتے تھے، اور ان کے ظلم و جبر کی خوب خبر لیتے تھے۔ حضرت امام حسین، حضرت امام اعظم، امام احمد بن حنبل، امام غزالی، شیخ عبدالقادر جیلانی، خواجہ عبید اللہ احرار، امام شامل، مجدد الفِ ثانی، علامہ فضلِ حق خیر آبادی، وغیرہ رحمۃ اللّٰه علیہم اجمعین کی سیرت کا مطالعہ کریں، تو یہ حضرات صرف خانقاہوں کے خرقہ پوش صوفی ہی نہ تھے، بلکہ مردِ میدان اور حق کی آواز بھی تھے۔ ہمارے زمانے میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ عوام کے ذہن میں ’’غیر سیاسی دین‘‘ کی ایک نئی اصطلاح ڈال دی گئی ہے کہ اہل اللہ کا اربابِ اقتدار اور حکومت سےکوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ چاہے وہ حدود اللہ کو پامال کریں، حقوق العباد کی خلاف ورزی کریں، انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہو، عدل و انصاف کے ضابطے امیر و غریب کے الگ الگ ہوں، اللہﷻ کے دین؛ دینِ اسلام کے مقابلے میں لبرل ازم، سیکولر ازم کے قوانین ملک میں رائج ہوں۔ ان کے خلاف آواز نہ اٹھانا، نہ یہ تصوف ہے، اور نہ ہی شریعت ہے۔

خواجہ عبید اللہ احرار رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اگر ہم محض پیری مریدی کرتے، تو اس زمانے میں کسی اور پیر کو کوئی مرید نہ ملتا۔ لیکن ہمارے ذمے ایک اور کام لگایا گیا ہے کہ ظالم کے شر سے مسلمانوں کی حفاظت کریں۔ اس مقصد کے لئے بادشاہوں سے تعلق پیدا کرنا اور ان کے نفوس کو مسخر کرنا، اور اس طریقے سے مسلمانوں کے مقاصد پورا کرنا ضروری ہے‘‘۔

نفاذِ اسلام کے لئے عملی کوشش: مولانا ناصرالدین اتراری رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں کہ "حضرت خواجہ عبیداللہ رحمۃ اللّٰه علیہ سمرقند تشریف لےگئے، جو اس وقت تیموری حکمرانوں کا دارالخلافہ تھا۔ تاکہ حاکم سے ملاقات کرکے رعایا پر ظلم و جبر اور شریعت کی پاسدرای پر بات کریں۔ اس وقت امیر تیمور کا پڑپوتا مرزا عبداللہ حاکم تھا۔حاکمِ کے عہدیداران میں سے ایک سے آپ کی ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا ہم تمھارے سلطان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ اگر تمھارے ذریعے سے ایسا ہو جائے تو اچھا ہے۔ اس نے ایک درویش سمجھتے ہوئے لاپرواہی سے جواب دیا کہ ہمارا حاکم ایک لاپرواہ نوجوان ہے۔ اس سے ملاقات مشکل ہے، اور ویسے بھی درویشوں کو بادشاہ سے ملاقاتوں سے کیا مطلب؟ آپ کو اس کے اس بے تکے سے جواب سے جلال آگیا۔
فرمایا: اگر تمھارے مرزا کو پرواہ نہیں تو اس کی جگہ دوسرا حاکم لائیں گے جسے پرواہ ہوگی۔ وہیں سے واپس تاشقند آگئے۔ ایک دیوار پر اس کا نام لکھ کر مٹا دیا۔ ایک ہفتے کے بعد وہ مرگیا۔ اس کی جگہ ابوسعید مرزا تخت نشین ہوا، جو حضرت کا معتقد اور شریعت کا پاسدار تھا۔" یہ 855ھ کا واقعہ ہے۔

وصال: آپ کا وصال 29 ربیع الاول 895ھ بمطابق 21 فروری 1490ء کو شبِ ہفتہ، مغرب اور عشاء کے مابین ہوا۔ مزار مبارک سمرقند میں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذ و مراجع: تاریخ مشائخِ نقشبند، از مولانا صادق قصوری۔ تاریخ مشائخِ نقشبندیہ، از پروفیسر عبدالرسول للہی۔
https://t.
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
28-03-1444 ᴴ | 25-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-03-1444 ᴴ | 26-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-03-1444 ᴴ | 26-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-03-1444 ᴴ | 26-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1