🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-03-1444 ᴴ | 23-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-03-1444 ᴴ | 23-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-03-1444 ᴴ | 23-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-03-1444 ᴴ | 23-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from ✰محمد التمش انصاری مصباحی✰
🌹آتش بازی کا حکم🌹
عبد اللہ مہاجری:
السلام علیکم
ہندوؤں کے تہوار دیوالی کے موقع پر اگر کوئی مسلمان آتش بازی کرے تو اس پر کیا حکم شرع ہوگا؟
عبد اللہ مہاجری
💥💥💥💥
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب: آتش بازی کرنا حرام ہے، خواہ کفار کے تیوہار کے موقع پر ہو یا کسی دوسرے موقع پر، سب کا حکم یکساں ہیں کہ اس میں اضاعت مال ہے۔رب کریم ارشاد فرماتا ہے:ولا تبذر تبذیرا o ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین وکان الشیطان لربہ کفورا ۔( القران، آیت: ۲۶_۲۷)
ترجمہ: بے جا خرچ نہ کرو کیونکہ بے جا اور فضول خرچ کرنیوالے شیاطین کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔
نبی کریم اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ان اﷲ تعالٰی حرم علیکم عقوق الامھات و وأدالبنات ومنع و ھات وکرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السؤال واضاعۃ المال۔(صحیح البخاری، ج: ۲، ص: ۸۸۴، کتاب الادب، باب: عقوق الوالدین الخ)
(صحیح مسلم، ج: ۲، ص: ۷۵_۷۶،کتاب الاقضیۃ، باب: النہی من کثرۃ المسائل)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالی نے تم پر ماؤں کی نافرمانی حرام کردی اور بچیوں کو زندہ درگور کرنا اور بخل کرنا اور گدا گری کرنا اور ادھر ادھر کی فضول باتیں کرنا تم پر حرام کردیا ہے۔ اور فرمایا زیادہ سوال کرنا اور مال کو ضائع کرنا بھی حرام کردیا گیا ہے۔
ہاں اگر کوئی ضروری اعلان وغیرہ مقصود ہو تو بقدر ضرورت اجازت ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
🖌 کتبہ محمد التمش الانصاری المصباحی
۲۳/ صفر المظفر ۱۴۴۰
عبد اللہ مہاجری:
السلام علیکم
ہندوؤں کے تہوار دیوالی کے موقع پر اگر کوئی مسلمان آتش بازی کرے تو اس پر کیا حکم شرع ہوگا؟
عبد اللہ مہاجری
💥💥💥💥
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب: آتش بازی کرنا حرام ہے، خواہ کفار کے تیوہار کے موقع پر ہو یا کسی دوسرے موقع پر، سب کا حکم یکساں ہیں کہ اس میں اضاعت مال ہے۔رب کریم ارشاد فرماتا ہے:ولا تبذر تبذیرا o ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین وکان الشیطان لربہ کفورا ۔( القران، آیت: ۲۶_۲۷)
ترجمہ: بے جا خرچ نہ کرو کیونکہ بے جا اور فضول خرچ کرنیوالے شیاطین کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔
نبی کریم اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:ان اﷲ تعالٰی حرم علیکم عقوق الامھات و وأدالبنات ومنع و ھات وکرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السؤال واضاعۃ المال۔(صحیح البخاری، ج: ۲، ص: ۸۸۴، کتاب الادب، باب: عقوق الوالدین الخ)
(صحیح مسلم، ج: ۲، ص: ۷۵_۷۶،کتاب الاقضیۃ، باب: النہی من کثرۃ المسائل)
ترجمہ: بے شک اللہ تعالی نے تم پر ماؤں کی نافرمانی حرام کردی اور بچیوں کو زندہ درگور کرنا اور بخل کرنا اور گدا گری کرنا اور ادھر ادھر کی فضول باتیں کرنا تم پر حرام کردیا ہے۔ اور فرمایا زیادہ سوال کرنا اور مال کو ضائع کرنا بھی حرام کردیا گیا ہے۔
ہاں اگر کوئی ضروری اعلان وغیرہ مقصود ہو تو بقدر ضرورت اجازت ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
🖌 کتبہ محمد التمش الانصاری المصباحی
۲۳/ صفر المظفر ۱۴۴۰
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام و علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ میرا بھائی حامد ہندو کے آفیس میں نوکری کرتا ہے اس کے ہندو سیٹھ نے دیوالی کے موقع پر تحفتاٙٙ تین ہزار روپئے دیے اور اس نے اس کو قبول کر لیا تو شرعاٙٙ کیا حکم ہوگا ؟ جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل : محمد علی شیر حنفی (یو پی )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب جائز ہے کافر کا مال ہر طریقے سے کھانا جائز ہے بشرطیکہ دھوکہ دے کر حاصل نہ کیا گیا ہو ، مال موذی نصیب غازی جیسا کہ ھدایہ آخرین میں ہے کہ " ولان مالھم مباح فی دراھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم یکن فیه غدر بخلاف المستامن " اھ ( ھدایہ آخرین ص 70 : ناشر مجلس برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پور ) اور فتاوی شارح بخاری میں ہے کہ " مٹھائی پرشاد سمجھ کر نہ لے نہ پرشاد سمجھ کرلینا جاٸز نہ پرشاد سمجھ کر کھانا جاٸز بلکہ جو اسے پرشاد سمجھے یعنی اسے تبرک جانے اس پر توبہ اور تجدید ایمان اور اگر بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح لازم ۔ہاں بغیر پرشاد سمجھے اور روپیہ پیسہ ”مال موذی نصیب غازی “ سمجھ کر لینے میں کوٸی حرج نہیں ۔ لیکن ان کی پوجا کے دن نہ لے " اھ ( ماخوذ فتاوی شارح بخاری ج 3 ص 139 ) اور اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے سوال ہوا ہنود جو اپنے معبودان باطل کو ذبیحہ کے سوا اور قسم طعام وشیرنی وغیرہ چڑھاتے ہیں اور اسے بھوگ یا پرشاد نام رکھتے ہیں اس کا کھانا شرعاً حلال ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں حلال ہے ۔ مگر مسلمان کو احتراز چاہیے " اھ ( فتاوی رضویہ ج 9 ص 6 )
واللہ اعلم باالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام و علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ میرا بھائی حامد ہندو کے آفیس میں نوکری کرتا ہے اس کے ہندو سیٹھ نے دیوالی کے موقع پر تحفتاٙٙ تین ہزار روپئے دیے اور اس نے اس کو قبول کر لیا تو شرعاٙٙ کیا حکم ہوگا ؟ جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل : محمد علی شیر حنفی (یو پی )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب جائز ہے کافر کا مال ہر طریقے سے کھانا جائز ہے بشرطیکہ دھوکہ دے کر حاصل نہ کیا گیا ہو ، مال موذی نصیب غازی جیسا کہ ھدایہ آخرین میں ہے کہ " ولان مالھم مباح فی دراھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم یکن فیه غدر بخلاف المستامن " اھ ( ھدایہ آخرین ص 70 : ناشر مجلس برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پور ) اور فتاوی شارح بخاری میں ہے کہ " مٹھائی پرشاد سمجھ کر نہ لے نہ پرشاد سمجھ کرلینا جاٸز نہ پرشاد سمجھ کر کھانا جاٸز بلکہ جو اسے پرشاد سمجھے یعنی اسے تبرک جانے اس پر توبہ اور تجدید ایمان اور اگر بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح لازم ۔ہاں بغیر پرشاد سمجھے اور روپیہ پیسہ ”مال موذی نصیب غازی “ سمجھ کر لینے میں کوٸی حرج نہیں ۔ لیکن ان کی پوجا کے دن نہ لے " اھ ( ماخوذ فتاوی شارح بخاری ج 3 ص 139 ) اور اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے سوال ہوا ہنود جو اپنے معبودان باطل کو ذبیحہ کے سوا اور قسم طعام وشیرنی وغیرہ چڑھاتے ہیں اور اسے بھوگ یا پرشاد نام رکھتے ہیں اس کا کھانا شرعاً حلال ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں حلال ہے ۔ مگر مسلمان کو احتراز چاہیے " اھ ( فتاوی رضویہ ج 9 ص 6 )
واللہ اعلم باالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ✩ ندیم ابن علیم المصبور العینی ✩
دیوالی میں آتش بازیاں بیچنا کافروں کے لہو ولعب میں ان کی مدد کرنے جیسا ہے. لہذا ہندؤں کو بیچنے کی نیت سے یہ پیشہ جائز نہیں ہے. نیت عمدہ رکھے تو عمل بھی عمدہ ہے بشرطیکہ اس کا کوئی جائز پہلو بھی موجود ہو. جس طرح طوائفوں اور شراب فروش کو گھر کرایے پر دینے میں حرج نہیں اگر نیت صحیح ہو.
جن امور پر شریعت اجازت دیتی ہے ان امور کی نیت سے پٹاخے بیچنا جائز ہے یعنی وہ صورت خاصہ جو لہو ولعب وتبذیر واسراف سے خالی ہو اس کے علاوہ جائز نہیں یعنی حرام کاموں اور لہو ولعب اور فضول خرچی میں.
جائز امور: مثلا:
١. اعلان ہلال کے لئے (اگر ثبوت شرع ہوگیا اور حکام شریعت نے حکم دیا)
٢. جنگل میں یا وقت حاجت شہر میں بھی موذی جانوروں کے دفع کے لئے
٣. کھیت یا میوے کے درختوں سے جانوروں کے بھگانے کے لئے.
٤. شادی کے اعلان کے لئے.
جن امور پر شریعت اجازت دیتی ہے ان امور کی نیت سے پٹاخے بیچنا جائز ہے یعنی وہ صورت خاصہ جو لہو ولعب وتبذیر واسراف سے خالی ہو اس کے علاوہ جائز نہیں یعنی حرام کاموں اور لہو ولعب اور فضول خرچی میں.
جائز امور: مثلا:
١. اعلان ہلال کے لئے (اگر ثبوت شرع ہوگیا اور حکام شریعت نے حکم دیا)
٢. جنگل میں یا وقت حاجت شہر میں بھی موذی جانوروں کے دفع کے لئے
٣. کھیت یا میوے کے درختوں سے جانوروں کے بھگانے کے لئے.
٤. شادی کے اعلان کے لئے.