🌳 بریلوی !! 🌳
ایک ہندستانی بادشاہ کو ” سنگترے “ کے نام پراعتراض ہوا ۔
اس کے مطابق:
چوں کہ ” سنگ “ پتھر کو کہتے ہیں ، اس لیے پھل کے لیے یہ نام غیر موزوں ہے !
اس نے منادی کروا دی کہ آئندہ سے سنگترے کو رَنگترہ کہا جائے گا ۔
چوں کہ وہ بادشاہ تھا ( اس کا حکم نافذ ہوا اور ) اس کی زندگی تک لوگ سنگترہ کو رنگترہ کہتے رہے ، لیکن اس کی موت کے بعد رنگترہ دوبارہ سنگترہ ہوگیا ۔
( دیکھیے: تیسراجنم ، ت ڈاکٹر خالد جمیل اختر ، ص 52 ، م زیب پبلشرز لاہور ، س 2015 ء)
اسی طرح پاکستان میں نعرہ تحقیق: حق چار یار لگایاجاتا ہے ۔
کچھ عرصہ پہلے اس نعرے کا شَد و مَد سے ، یہ کَہ کر انکار کیا گیا کہ:
یہ دیوبندیوں کا وضع کردہ ہے ۔
اس پر مناظر ے ہوئے ، مباحثے ہوئے ، لیکن نعرہ جوں کا توں ہی رہا ۔
جو الفاظ ، خاص مفاہیم کے لیے عوام وخواص میں رائج ہوجاتے ہیں ، وہ جہاں سے بھی آئے ہوں ، وقت ان پر مہر تصدیق ثبت کر دیتا ہے ۔
انھیں بدلنے والے منطقی ، فلسفی خود بدل جاتے ہیں لیکن وہ نہیں بدل پاتے ۔
نمک دانی کو نمک دانی اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں نمک ہوتا ہے ، اور صابن دانی کا نام اس لیے صابن دانی پڑا کہ اس میں صابن رکھا جاتا ہے ۔
مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مچھر دانی تو مچھر رکھنے کے لیے استعمال نہیں ہوتی ، اسے کیوں مچھر دانی کہا جاتاہے؟؟ !!
کوئی منطقی جتنا چاہے سرکھپالے ، مچھر دانی ، مچھر دانی ہی رہے گی ۔
سچے مسلمانوں کو اہل سنت کہا جائے اور سچے اہل سنت کو بریلوی ؛ تو کوئی جتنا چاہے اعتراض کرلے ، یہ اصطلاحیں بدلنے والی نہیں ؛ وقت نے ان پر مہر جو لگادی ہے ۔
آج ایک پورا فرقہ معرض وجود میں آگیا ، جو کہتاہے:
خود کو صرف مسلمان کہو ، جب اللہ نے” سَمّٰكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ “ کَہ کر تمھارا نام مسلمان رکھا تو تم خود کو سنی وغیرہ کیوں کہتے ہو!
اور اسی طرح اہل سنت میں کچھ ” ذی شعور “ ایسے ہیں جو لفظِ بریلوی کو اہل سنت کی ضد سمجھے بیٹھے ہیں ۔
یہ محض لفظی نزاع ہے ، جو بے کار پر اصرار ہے ۔
آپ نہر پر کھڑے ہوں اور کوئی ” ذی شعور “ آکر پوچھے:
میاں یہ نہر کہاں جاتی ہے؟
آپ کہیں: دریا میں ۔
تو وہ کہے گا: عقل سے کام لو ، نہر کہیں بھی نہیں جاتی ، اس کا پانی دریا میں جاتا ہے ۔
اسی طرح سڑک پر کھڑے شخص سے پوچھے کہ یہ سڑک کہاں جاتی ہے ، اور وہ کہے: اسلام آباد ۔
تو ” ذی شعور “ صاحب کہیں گے:
سڑک تو جب سے بنی ہے یہیں ٹھہری ہے ، کہیں نہیں گئی ؛ اپنے الفاظ درست کرو! سڑک پر صرف مسافر اسلام آباد جاتے ہیں ۔
اب آپ ایسے ” ذی شعور “ کو کیا کہیں گے!!
جو نام اس ذی شعور کے شعور کو دیں گے ، وہی نام لفظِ بریلوی سے چِڑ کھانے والوں کو دے کر ، سلام پیش کردیں۔
لقمان شاہد ، سُنی بریلوی
23/6/2019 ء
ایک ہندستانی بادشاہ کو ” سنگترے “ کے نام پراعتراض ہوا ۔
اس کے مطابق:
چوں کہ ” سنگ “ پتھر کو کہتے ہیں ، اس لیے پھل کے لیے یہ نام غیر موزوں ہے !
اس نے منادی کروا دی کہ آئندہ سے سنگترے کو رَنگترہ کہا جائے گا ۔
چوں کہ وہ بادشاہ تھا ( اس کا حکم نافذ ہوا اور ) اس کی زندگی تک لوگ سنگترہ کو رنگترہ کہتے رہے ، لیکن اس کی موت کے بعد رنگترہ دوبارہ سنگترہ ہوگیا ۔
( دیکھیے: تیسراجنم ، ت ڈاکٹر خالد جمیل اختر ، ص 52 ، م زیب پبلشرز لاہور ، س 2015 ء)
اسی طرح پاکستان میں نعرہ تحقیق: حق چار یار لگایاجاتا ہے ۔
کچھ عرصہ پہلے اس نعرے کا شَد و مَد سے ، یہ کَہ کر انکار کیا گیا کہ:
یہ دیوبندیوں کا وضع کردہ ہے ۔
اس پر مناظر ے ہوئے ، مباحثے ہوئے ، لیکن نعرہ جوں کا توں ہی رہا ۔
جو الفاظ ، خاص مفاہیم کے لیے عوام وخواص میں رائج ہوجاتے ہیں ، وہ جہاں سے بھی آئے ہوں ، وقت ان پر مہر تصدیق ثبت کر دیتا ہے ۔
انھیں بدلنے والے منطقی ، فلسفی خود بدل جاتے ہیں لیکن وہ نہیں بدل پاتے ۔
نمک دانی کو نمک دانی اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں نمک ہوتا ہے ، اور صابن دانی کا نام اس لیے صابن دانی پڑا کہ اس میں صابن رکھا جاتا ہے ۔
مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مچھر دانی تو مچھر رکھنے کے لیے استعمال نہیں ہوتی ، اسے کیوں مچھر دانی کہا جاتاہے؟؟ !!
کوئی منطقی جتنا چاہے سرکھپالے ، مچھر دانی ، مچھر دانی ہی رہے گی ۔
سچے مسلمانوں کو اہل سنت کہا جائے اور سچے اہل سنت کو بریلوی ؛ تو کوئی جتنا چاہے اعتراض کرلے ، یہ اصطلاحیں بدلنے والی نہیں ؛ وقت نے ان پر مہر جو لگادی ہے ۔
آج ایک پورا فرقہ معرض وجود میں آگیا ، جو کہتاہے:
خود کو صرف مسلمان کہو ، جب اللہ نے” سَمّٰكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ “ کَہ کر تمھارا نام مسلمان رکھا تو تم خود کو سنی وغیرہ کیوں کہتے ہو!
اور اسی طرح اہل سنت میں کچھ ” ذی شعور “ ایسے ہیں جو لفظِ بریلوی کو اہل سنت کی ضد سمجھے بیٹھے ہیں ۔
یہ محض لفظی نزاع ہے ، جو بے کار پر اصرار ہے ۔
آپ نہر پر کھڑے ہوں اور کوئی ” ذی شعور “ آکر پوچھے:
میاں یہ نہر کہاں جاتی ہے؟
آپ کہیں: دریا میں ۔
تو وہ کہے گا: عقل سے کام لو ، نہر کہیں بھی نہیں جاتی ، اس کا پانی دریا میں جاتا ہے ۔
اسی طرح سڑک پر کھڑے شخص سے پوچھے کہ یہ سڑک کہاں جاتی ہے ، اور وہ کہے: اسلام آباد ۔
تو ” ذی شعور “ صاحب کہیں گے:
سڑک تو جب سے بنی ہے یہیں ٹھہری ہے ، کہیں نہیں گئی ؛ اپنے الفاظ درست کرو! سڑک پر صرف مسافر اسلام آباد جاتے ہیں ۔
اب آپ ایسے ” ذی شعور “ کو کیا کہیں گے!!
جو نام اس ذی شعور کے شعور کو دیں گے ، وہی نام لفظِ بریلوی سے چِڑ کھانے والوں کو دے کر ، سلام پیش کردیں۔
لقمان شاہد ، سُنی بریلوی
23/6/2019 ء
🌹 عورت کا گھر کے اَندر
نماز پڑھنا سَب سے افضل ہَے !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Join 🆔 @FikreRazaLadies
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
نماز پڑھنا سَب سے افضل ہَے !
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Join 🆔 @FikreRazaLadies
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
Madani Muzakra
Ameer-e-AhleSunnat (Damat Barakatuhumul Aaliya)
📖 شمعِ شبستان رضا 📖
یہ کِتاب مستند نہیں ہے ‼
بلکہ انتہائی غیر معتبر کتاب ہے
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙امیرِ اہلسنت حضرت علامہ
مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار
قادِری رضوی دامتبرکاتہمالعالیہ
یہ کِتاب مستند نہیں ہے ‼
بلکہ انتہائی غیر معتبر کتاب ہے
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙امیرِ اہلسنت حضرت علامہ
مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار
قادِری رضوی دامتبرکاتہمالعالیہ
21 February 2010
Mufti Akhtar Rida al-Qadiri
📖 شمعِ شبستان رضا 📖
یہ کِتاب معتبر نہیں ہے ‼
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙 حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
Huzoor TajushShareeah
Ne Farmaya Ki Yeh Kitab
Mo'atabar Naheen Hai ‼
(Bharosey Ke Laiq Nahin)
یہ کِتاب معتبر نہیں ہے ‼
🆔 @islaamic_Knowledge
🎙 حضور تاج الشریعہ
مفتی اختر رَضا خان ازہری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَنۡہۡ
Huzoor TajushShareeah
Ne Farmaya Ki Yeh Kitab
Mo'atabar Naheen Hai ‼
(Bharosey Ke Laiq Nahin)
رسالے کا نام : بہار تحریر (حصہ1)
کاوش✍ محمد صابر اسماعیلی
قادری رَضوی ( عبد مصطفیٰ )
زبان : اردو = صفحات : 32
ناشر : عبدِ مصطفیٰ آفیشل 🌐
سنہ و ماہِ اِشاعت : شوال 1440ھ
✶✶✶✶✶✶✶✶✶✶✶✶✶✶
یہ رسالہ 25 علمی، تحقیقی اور اصلاحی تحریروں پر مشتمل ہے۔ اس کے مزید حصوں پر بھی کام چل رہا ہے۔ ہر حصے میں 25 تحریروں کو جمع کیا گیا ہے۔
======================
اِس ڪِتاب ڪو نِیچے دِی گئی لِنڪ
سے بھی ڈاؤن لوڈ ڪر سَڪتے ہَیں :
https://archive.org/details/1_20190628_20190628_0548
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa = عبد مصطفیٰ
Jᴏɪɴ @AbdeMustafaOfficial
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
کاوش✍ محمد صابر اسماعیلی
قادری رَضوی ( عبد مصطفیٰ )
زبان : اردو = صفحات : 32
ناشر : عبدِ مصطفیٰ آفیشل 🌐
سنہ و ماہِ اِشاعت : شوال 1440ھ
✶✶✶✶✶✶✶✶✶✶✶✶✶✶
یہ رسالہ 25 علمی، تحقیقی اور اصلاحی تحریروں پر مشتمل ہے۔ اس کے مزید حصوں پر بھی کام چل رہا ہے۔ ہر حصے میں 25 تحریروں کو جمع کیا گیا ہے۔
======================
اِس ڪِتاب ڪو نِیچے دِی گئی لِنڪ
سے بھی ڈاؤن لوڈ ڪر سَڪتے ہَیں :
https://archive.org/details/1_20190628_20190628_0548
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
@AbdeMustafa = عبد مصطفیٰ
Jᴏɪɴ @AbdeMustafaOfficial
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
بہار تحریر (حصہ1).pdf
22.8 MB
نام رِسَالہ : بہارِ تحریر [ حِصَّہ¹ ]
کاوِش✍ محمد صابِر اِسمَاعِیلی
قادِری رَضوی { عبدِ مصطفیٰ }
زبان : اُردو 🆕 صَفحات : 32
🆔 @AbdeMustafaOfficial
@islaamic_Knowledge 🆔
کاوِش✍ محمد صابِر اِسمَاعِیلی
قادِری رَضوی { عبدِ مصطفیٰ }
زبان : اُردو 🆕 صَفحات : 32
🆔 @AbdeMustafaOfficial
@islaamic_Knowledge 🆔
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
ہماری پسند
ہر لڑکا چاہتا ہے کہ اسے اچھی لڑکی ملے جو زندگی بھر اُس کا ساتھ نبھائے، اِسی لیے رشتہ ڈھونڈتے وقت کافی چھان بین بھی کی جاتی ہے۔ لڑکی بھی چاہتی ہے کہ اُسے ڈھیر سارا پیار دینے والا شوہر ملے جو اس کا ہمیشہ خیال رکھے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کیوں کہ ہم اِن چیزوں کو حُسن اور دولت کے بازار میں تلاش کرتے ہیں۔
لڑکی کے گھر والے لڑکے کی آمدنی، گھر اور دولت میں خوشی ڈھونڈتے ہیں تو لڑکے والوں کو بھی دولت اور حُسن میں خوشیوں کی بہار نظر آتی ہے لیکن جب یہ چیزیں وقت کے ساتھ چلی جاتی ہیں تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔
یہ چیزیں ہمیں صرف "دین داری" میں مل سکتی ہیں جسے آج کل بہت کم لوگ دیکھتے ہیں۔
عبد مصطفی
ہر لڑکا چاہتا ہے کہ اسے اچھی لڑکی ملے جو زندگی بھر اُس کا ساتھ نبھائے، اِسی لیے رشتہ ڈھونڈتے وقت کافی چھان بین بھی کی جاتی ہے۔ لڑکی بھی چاہتی ہے کہ اُسے ڈھیر سارا پیار دینے والا شوہر ملے جو اس کا ہمیشہ خیال رکھے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کیوں کہ ہم اِن چیزوں کو حُسن اور دولت کے بازار میں تلاش کرتے ہیں۔
لڑکی کے گھر والے لڑکے کی آمدنی، گھر اور دولت میں خوشی ڈھونڈتے ہیں تو لڑکے والوں کو بھی دولت اور حُسن میں خوشیوں کی بہار نظر آتی ہے لیکن جب یہ چیزیں وقت کے ساتھ چلی جاتی ہیں تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔
یہ چیزیں ہمیں صرف "دین داری" میں مل سکتی ہیں جسے آج کل بہت کم لوگ دیکھتے ہیں۔
عبد مصطفی
ایک لڑکی چاہیے
ایک لڑکا ہے، جسے آپ "مولوی ٹائپ" کَہ سکتے ہیں کیوں کہ وہ داڑھی نہیں منڈواتا، کوٹ پینٹ نہیں پہنتا، سنیما گھروں میں فلم دیکھنے نہیں جاتا، گانے نہیں سنتا، لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا، سگریٹ، تمباکو وغیرہ کو ہاتھ تک نہیں لگاتا، گالیاں بھی دینی نہیں آتی اور اِس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں ہیں جو اُس میں نہیں پائی جاتیں۔ اب اس لڑکے کو اپنی اِس لطف و لذت (انٹرٹینمنٹ) سے خالی زندگی میں ایک لڑکی چاہیے جس سے وہ نکاح کر کے اُسے "بور" کر سکے اور اپنی طرح اسے بھی "بلیک اینڈ وائٹ" بنا سکے۔
ایک تو ایسے لڑکے سے نکاح کرنا ہی بہت بڑی بات ہے اوپر سے جناب کے نخرے تو دیکھیے کہ شرائط اور فرمائشوں کی ایک لمبی چوڑی فہرست بھی تیار کر رکھی ہے جسے ہم یہاں نقل کر رہے ہیں۔ قارئین بتائیں کہ ایسے لڑکے سے کون نکاح کرے گی؟
ایک لڑکی چاہیے جو :
(1) اہل سنت کے عقائد سے پوری طرح واقف ہو اور اپنی ضرورت کے مسائل کو بنا کسی کی مدد کے از خود کتابوں سے نکال سکے۔ اس کے پاس سند (ڈگری) ہو یا نہ ہو، اس سے کوئی غرض نہیں، بس علم ہونا چاہیے۔ اگر مدرسے میں پڑھائی نہ بھی کی ہو تب بھی کوئی بات نہیں۔
(2) صحت مند ہو اور عمر بیس سے تیس کے درمیان ہو اور رہی بات خوب صورت ہونے کی تو اصل خوب صورتی انسان کے اخلاق ہیں۔
لڑکی کے گھر والوں سے مطالبات (ڈیمانڈز)
(3) کسی بھی طرح کی لین دین نہیں ہوگی؛ اب چاہے وہ نقدی ہو، جہیز ہو، منھ دکھائی ہو یا کوئی نذرانہ وغیرہ ہو۔
(4) جہیز میں قیمتی سامان، مثلاً: گاڑی، فرِج، کولر، اے سی، پنکھا، ٹی وی، پلنگ، سوفا، گدے، کرسی، ٹیبل، زیورات، برتن، مکسر مشین، گرائنڈر مشین، واشنگ مشین اور موبائل وغیرہ ہرگز قبول نہیں کیے جائیں گے اور ان کے علاوہ کچھ دینے کے بجائے لڑکی کو کچھ دینی کتابیں دے سکتے ہیں۔
(5) گانا بجانا بالکل نہیں ہونا چاہیے؛ نہ تو محفل نکاح میں، نہ بارات میں اور نہ کسی اور حوالے سے۔ اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کے گیت وغیرہ گانے پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔
(6) غیر شرعی اور غیر ضروری رسم و رواج کی سخت مناہی ہے۔ ہلدی کی رسم، گانے اور ڈھول بجانے کی رسم، لگن لگانے اور صندل اتارنے چڑھانے کی رسم، سیندور لگانے کی رسم، گالیاں دینے کی رسم، منھ دکھائی اور جیب بھرائی کی رسم، رات کو جاگنے اور صبح میں شادی کی رسم، کپڑوں کی ٹوکری بدلنے کی رسم، کسی کو گود میں اٹھانے تو کسی کو دھاگے سے ناپنے کی رسم، کسی کو میٹھا کھلانے تو کسی کا جوتا چرانے کی رسم، دودھ میں انگوٹھی ڈھونڈنے کی رسم اور وداعی کے وقت کی چھتیس قسم کی رسمیں، سب پر سختی سے پابندی عائد ہونی چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ صرف نکاح ہوگا۔
(7) عورتوں اور لڑکیوں کی بھیڑ بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ اگر آپ نے دعوت دی ہے تو اُن کے لیے بالکل الگ انتظام ہونا چاہیے تاکہ مرد و عورت ایک محفل میں بے پردہ جمع نہ ہوں۔ بہتر ہوگا کہ عورتوں کو دعوت نہ دیں اور رہی بات بارات کی تو اس میں دو یا تین سے زیادہ عورتیں نہیں ہوں گی۔
(8) کُل باراتیوں کی تعداد بیس سے بھی کم ہوگی جن کے لیے کھانا تیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
(9) بارات دن میں آئے گی اور (چند گھنٹوں بعد) دن ہی میں واپسی ہوگی۔
(10) لڑکے کے استاذ گرامی نکاح پڑھائیں گے اور بتانے کا مقصد یہ ہے کہ وقت نکاح کسی طرح کی بات نہ ہو۔ آپ کے علاقے میں اگر کوئی انجمن، کمیٹی یا تنظیم ہے جو لڑکے والوں سے مخصوص رقم (مسجد، مدرسہ اور قبرستان کے لیے) لیتی ہے تو وہ پہلے ہی ادا کر دیے جائیں گے لیکن نکاح میں ان کی کسی بھی قسم کی کوئی دخل اندازی نہیں ہونی چاہیے۔
اب بتائیں کہ نکاح کے لیے کون تیار ہوگا؟ لڑکے کا کہنا ہے کہ اس میں اضافہ بھی کرنا ہے؛ یہ کیا کم تھا جو اضافے کی ضرورت آن پڑی؟
دوستوں نے سمجھایا کہ ان شرائط کو دیکھ کر کوئی تیار نہیں ہوگا لیکن لڑکا ہے کہ ضد پر قائم ہے اور کہتا ہے کہ ہر لڑکے کی سوچ ایسی ہی ہونی چاہیے۔
اب آپ ہی سمجھائیں کہ یہ دور ڈی جے، پارٹی، مستی اور فُل انٹرٹینمنٹ کا ہے۔ ایسے رنگین زمانے میں کون آپ کی بلیک اینڈ وائٹ پر توجہ دے گا۔
اگر ہر لڑکے کی سوچ ایسی ہو گئی تو..............
عبد مصطفی
ایک لڑکا ہے، جسے آپ "مولوی ٹائپ" کَہ سکتے ہیں کیوں کہ وہ داڑھی نہیں منڈواتا، کوٹ پینٹ نہیں پہنتا، سنیما گھروں میں فلم دیکھنے نہیں جاتا، گانے نہیں سنتا، لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرتا، سگریٹ، تمباکو وغیرہ کو ہاتھ تک نہیں لگاتا، گالیاں بھی دینی نہیں آتی اور اِس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں ہیں جو اُس میں نہیں پائی جاتیں۔ اب اس لڑکے کو اپنی اِس لطف و لذت (انٹرٹینمنٹ) سے خالی زندگی میں ایک لڑکی چاہیے جس سے وہ نکاح کر کے اُسے "بور" کر سکے اور اپنی طرح اسے بھی "بلیک اینڈ وائٹ" بنا سکے۔
ایک تو ایسے لڑکے سے نکاح کرنا ہی بہت بڑی بات ہے اوپر سے جناب کے نخرے تو دیکھیے کہ شرائط اور فرمائشوں کی ایک لمبی چوڑی فہرست بھی تیار کر رکھی ہے جسے ہم یہاں نقل کر رہے ہیں۔ قارئین بتائیں کہ ایسے لڑکے سے کون نکاح کرے گی؟
ایک لڑکی چاہیے جو :
(1) اہل سنت کے عقائد سے پوری طرح واقف ہو اور اپنی ضرورت کے مسائل کو بنا کسی کی مدد کے از خود کتابوں سے نکال سکے۔ اس کے پاس سند (ڈگری) ہو یا نہ ہو، اس سے کوئی غرض نہیں، بس علم ہونا چاہیے۔ اگر مدرسے میں پڑھائی نہ بھی کی ہو تب بھی کوئی بات نہیں۔
(2) صحت مند ہو اور عمر بیس سے تیس کے درمیان ہو اور رہی بات خوب صورت ہونے کی تو اصل خوب صورتی انسان کے اخلاق ہیں۔
لڑکی کے گھر والوں سے مطالبات (ڈیمانڈز)
(3) کسی بھی طرح کی لین دین نہیں ہوگی؛ اب چاہے وہ نقدی ہو، جہیز ہو، منھ دکھائی ہو یا کوئی نذرانہ وغیرہ ہو۔
(4) جہیز میں قیمتی سامان، مثلاً: گاڑی، فرِج، کولر، اے سی، پنکھا، ٹی وی، پلنگ، سوفا، گدے، کرسی، ٹیبل، زیورات، برتن، مکسر مشین، گرائنڈر مشین، واشنگ مشین اور موبائل وغیرہ ہرگز قبول نہیں کیے جائیں گے اور ان کے علاوہ کچھ دینے کے بجائے لڑکی کو کچھ دینی کتابیں دے سکتے ہیں۔
(5) گانا بجانا بالکل نہیں ہونا چاہیے؛ نہ تو محفل نکاح میں، نہ بارات میں اور نہ کسی اور حوالے سے۔ اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کے گیت وغیرہ گانے پر بھی پابندی ہونی چاہیے۔
(6) غیر شرعی اور غیر ضروری رسم و رواج کی سخت مناہی ہے۔ ہلدی کی رسم، گانے اور ڈھول بجانے کی رسم، لگن لگانے اور صندل اتارنے چڑھانے کی رسم، سیندور لگانے کی رسم، گالیاں دینے کی رسم، منھ دکھائی اور جیب بھرائی کی رسم، رات کو جاگنے اور صبح میں شادی کی رسم، کپڑوں کی ٹوکری بدلنے کی رسم، کسی کو گود میں اٹھانے تو کسی کو دھاگے سے ناپنے کی رسم، کسی کو میٹھا کھلانے تو کسی کا جوتا چرانے کی رسم، دودھ میں انگوٹھی ڈھونڈنے کی رسم اور وداعی کے وقت کی چھتیس قسم کی رسمیں، سب پر سختی سے پابندی عائد ہونی چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ صرف نکاح ہوگا۔
(7) عورتوں اور لڑکیوں کی بھیڑ بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ اگر آپ نے دعوت دی ہے تو اُن کے لیے بالکل الگ انتظام ہونا چاہیے تاکہ مرد و عورت ایک محفل میں بے پردہ جمع نہ ہوں۔ بہتر ہوگا کہ عورتوں کو دعوت نہ دیں اور رہی بات بارات کی تو اس میں دو یا تین سے زیادہ عورتیں نہیں ہوں گی۔
(8) کُل باراتیوں کی تعداد بیس سے بھی کم ہوگی جن کے لیے کھانا تیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
(9) بارات دن میں آئے گی اور (چند گھنٹوں بعد) دن ہی میں واپسی ہوگی۔
(10) لڑکے کے استاذ گرامی نکاح پڑھائیں گے اور بتانے کا مقصد یہ ہے کہ وقت نکاح کسی طرح کی بات نہ ہو۔ آپ کے علاقے میں اگر کوئی انجمن، کمیٹی یا تنظیم ہے جو لڑکے والوں سے مخصوص رقم (مسجد، مدرسہ اور قبرستان کے لیے) لیتی ہے تو وہ پہلے ہی ادا کر دیے جائیں گے لیکن نکاح میں ان کی کسی بھی قسم کی کوئی دخل اندازی نہیں ہونی چاہیے۔
اب بتائیں کہ نکاح کے لیے کون تیار ہوگا؟ لڑکے کا کہنا ہے کہ اس میں اضافہ بھی کرنا ہے؛ یہ کیا کم تھا جو اضافے کی ضرورت آن پڑی؟
دوستوں نے سمجھایا کہ ان شرائط کو دیکھ کر کوئی تیار نہیں ہوگا لیکن لڑکا ہے کہ ضد پر قائم ہے اور کہتا ہے کہ ہر لڑکے کی سوچ ایسی ہی ہونی چاہیے۔
اب آپ ہی سمجھائیں کہ یہ دور ڈی جے، پارٹی، مستی اور فُل انٹرٹینمنٹ کا ہے۔ ایسے رنگین زمانے میں کون آپ کی بلیک اینڈ وائٹ پر توجہ دے گا۔
اگر ہر لڑکے کی سوچ ایسی ہو گئی تو..............
عبد مصطفی
خوشی سے
لڑکی کے باپ نے جہیز میں لڑکے کو خوشی سے ایک لاکھ روپے نقدی دی،
پھر خوشی سے ایک گاڑی دی،
پھر خوشی سے ایک لاکھ روپے کا سامان دیا،
پھر خوشی سے دو تین سو باراتیوں کو کھانا کھلایا،
پھر خوشی سے لڑکی دی.......،
اور ان کے لیے لاکھوں روپے قرض لیے، وہ بھی خوشی سے!
یہ خوشی ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ یہ انھی کو سمجھ میں آتی ہے جو نقدی اور جہیز کا مطالبہ (ڈیمانڈ) تو نہیں کرتے لیکن پھر بھی "خوشی" کے نام پر سب کچھ لے ہی لیتے ہیں۔ لاکھوں روپے لینے کے بعد کہتے ہیں کہ ہم نے تو نہیں مانگا تھا، انھوں نے خوشی سے دیا تو ہم نے رکھ لیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اگرچہ صراحتاً مانگ نہ بھی کی جائے تو بھی ایسا ماحول بن چکا ہے کہ دینا ہی پڑتا ہے (خوشی سے) اور اگر نہ دے تو پھر دیکھیے کہ کون کتنا خوش ہوتا ہے۔
بولو یا نہ بولو، یہ تو طے ہے کہ کچھ نہ کچھ ملے گا اور دینا تو پڑے گا۔ ایک مزے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ ڈیمانڈ نہیں کرتے وہ ڈیمانڈ کرنے والوں سے بھی خطرناک ہوتے ہیں۔ جی ہاں! ڈیمانڈ کرنے والے بالکل کلیر بتا دیتے ہیں کہ ہمیں اتنا چاہیے لیکن ڈیمانڈ نہ کرنے والے لڑکی والوں کو پریشانی میں ڈال دیتے ہیں اور وہ یہ کہ جب ڈیمانڈ نہ کی جائے تو لڑکی والوں کے دل و دماغ میں کئی طرح کی باتیں آ رہی ہوتی ہیں، مثلاً: لڑکے والوں نے ڈیمانڈ نہیں کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں کچھ نہیں دینا ہے بلکہ ہمیں اچھے سے سامان وغیرہ دینا ہوگا اور جب انھوں نے نقدی کی ڈیمانڈ نہیں کی ہے تو سامان ذرا بڑھا کر دینا چاہیے اور باراتیوں کے لیے کھانے پینے کا انتظام بھی اچھی طرح کرنا ہو گا ورنہ کہا جائے گا کہ ایک تو ہم نے ڈیمانڈ نہیں کی پھر بھی خاطر داری اچھی طرح نہیں ہوئی۔
اب ڈیمانڈ کرنے والے یا نہ کرنے والے دونوں ہی کسی نہ کسی طرح سے غلط ہیں لہذا ہونا یہ چاہیے کہ بالکل صراحت کے ساتھ انکار کیا جائے کہ ہم نہ تو نقدی لیں گے اور نہ جہیز اور اگر آپ نے کوئی قیمتی چیز جہیز میں دی تو وہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ ڈیمانڈ نہ کرنا اور بالکل انکار کرنا یا منع کر دینا، ان میں فرق ہے۔ اس طرح بھی کیا جا سکتا ہے کہ لڑکی والوں سے اس بات کی ڈیمانڈ کی جائے کہ کسی بھی طرح کی کوئی لین دین نہیں ہونی چاہیے۔
ڈیمانڈ نہ کر کے اپنی خاموشی کو بولنے کا موقع نہ دیجیے بلکہ صراحتاً (تفصیل کے ساتھ) منع کر کے شبہات کو ختم کر دیجیے۔
عبد مصطفی
لڑکی کے باپ نے جہیز میں لڑکے کو خوشی سے ایک لاکھ روپے نقدی دی،
پھر خوشی سے ایک گاڑی دی،
پھر خوشی سے ایک لاکھ روپے کا سامان دیا،
پھر خوشی سے دو تین سو باراتیوں کو کھانا کھلایا،
پھر خوشی سے لڑکی دی.......،
اور ان کے لیے لاکھوں روپے قرض لیے، وہ بھی خوشی سے!
یہ خوشی ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ یہ انھی کو سمجھ میں آتی ہے جو نقدی اور جہیز کا مطالبہ (ڈیمانڈ) تو نہیں کرتے لیکن پھر بھی "خوشی" کے نام پر سب کچھ لے ہی لیتے ہیں۔ لاکھوں روپے لینے کے بعد کہتے ہیں کہ ہم نے تو نہیں مانگا تھا، انھوں نے خوشی سے دیا تو ہم نے رکھ لیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اگرچہ صراحتاً مانگ نہ بھی کی جائے تو بھی ایسا ماحول بن چکا ہے کہ دینا ہی پڑتا ہے (خوشی سے) اور اگر نہ دے تو پھر دیکھیے کہ کون کتنا خوش ہوتا ہے۔
بولو یا نہ بولو، یہ تو طے ہے کہ کچھ نہ کچھ ملے گا اور دینا تو پڑے گا۔ ایک مزے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ ڈیمانڈ نہیں کرتے وہ ڈیمانڈ کرنے والوں سے بھی خطرناک ہوتے ہیں۔ جی ہاں! ڈیمانڈ کرنے والے بالکل کلیر بتا دیتے ہیں کہ ہمیں اتنا چاہیے لیکن ڈیمانڈ نہ کرنے والے لڑکی والوں کو پریشانی میں ڈال دیتے ہیں اور وہ یہ کہ جب ڈیمانڈ نہ کی جائے تو لڑکی والوں کے دل و دماغ میں کئی طرح کی باتیں آ رہی ہوتی ہیں، مثلاً: لڑکے والوں نے ڈیمانڈ نہیں کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں کچھ نہیں دینا ہے بلکہ ہمیں اچھے سے سامان وغیرہ دینا ہوگا اور جب انھوں نے نقدی کی ڈیمانڈ نہیں کی ہے تو سامان ذرا بڑھا کر دینا چاہیے اور باراتیوں کے لیے کھانے پینے کا انتظام بھی اچھی طرح کرنا ہو گا ورنہ کہا جائے گا کہ ایک تو ہم نے ڈیمانڈ نہیں کی پھر بھی خاطر داری اچھی طرح نہیں ہوئی۔
اب ڈیمانڈ کرنے والے یا نہ کرنے والے دونوں ہی کسی نہ کسی طرح سے غلط ہیں لہذا ہونا یہ چاہیے کہ بالکل صراحت کے ساتھ انکار کیا جائے کہ ہم نہ تو نقدی لیں گے اور نہ جہیز اور اگر آپ نے کوئی قیمتی چیز جہیز میں دی تو وہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ ڈیمانڈ نہ کرنا اور بالکل انکار کرنا یا منع کر دینا، ان میں فرق ہے۔ اس طرح بھی کیا جا سکتا ہے کہ لڑکی والوں سے اس بات کی ڈیمانڈ کی جائے کہ کسی بھی طرح کی کوئی لین دین نہیں ہونی چاہیے۔
ڈیمانڈ نہ کر کے اپنی خاموشی کو بولنے کا موقع نہ دیجیے بلکہ صراحتاً (تفصیل کے ساتھ) منع کر کے شبہات کو ختم کر دیجیے۔
عبد مصطفی
🌹 اِنتِقالِ پُر ملال 🌹
مفتی حبیب یار خان قادِری
اِنَّا لِـلّٰـهِ وَ اِنَّاۤ اِلَـیۡهِ رٰجِعُوۡنَ ﴿۱۵٦﴾ؕ
یومِ وِصال ²⁷ شوال المکرم ۰۴۴۱ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پاسبانِ قوم و ملت مفتئ مالوہ حضرت علامہ مفتی محمد حبیب یار خان صاحب قِبلہ قادِری رَحۡمَةُ اللّٰهِ تَعَالیٰ عَلَیۡه کا آج ★ بتاریخ ²⁷ شوال المکرم ۰۴۴۱ھ ★ مطابق ¹ جُولائِی ۹۱۰۲ء ★ بروز پیر ★ صبح ساڑھے آٹھ (08:30am) بَجے اِنتقال پر ملال ہُو گیا ہَے - اِنَّا لِـلّٰـهِ وَ اِنَّاۤ اِلَـیۡهِ رٰجِعُوۡنَ 🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ْ نمازِ جنازہ :
حضرت مفتئ مالوہ علیہ الرحمہ کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ عشاء حج ہاؤس صدر بازار اِندَور مدھیہ پردیش میں اَدا کی جائےگی - إِنۡ شَاءَ اللّٰه تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ ﷻ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مدفن : بڑوالی چوکی جامع مسجد
(صحن) میں سپردِ خاک کیا جائےگا
إِنۡ شَاءَ اللّٰه تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ ﷻ 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
مفتی حبیب یار خان قادِری
اِنَّا لِـلّٰـهِ وَ اِنَّاۤ اِلَـیۡهِ رٰجِعُوۡنَ ﴿۱۵٦﴾ؕ
یومِ وِصال ²⁷ شوال المکرم ۰۴۴۱ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پاسبانِ قوم و ملت مفتئ مالوہ حضرت علامہ مفتی محمد حبیب یار خان صاحب قِبلہ قادِری رَحۡمَةُ اللّٰهِ تَعَالیٰ عَلَیۡه کا آج ★ بتاریخ ²⁷ شوال المکرم ۰۴۴۱ھ ★ مطابق ¹ جُولائِی ۹۱۰۲ء ★ بروز پیر ★ صبح ساڑھے آٹھ (08:30am) بَجے اِنتقال پر ملال ہُو گیا ہَے - اِنَّا لِـلّٰـهِ وَ اِنَّاۤ اِلَـیۡهِ رٰجِعُوۡنَ 🌹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ْ نمازِ جنازہ :
حضرت مفتئ مالوہ علیہ الرحمہ کی نمازِ جنازہ بعد نمازِ عشاء حج ہاؤس صدر بازار اِندَور مدھیہ پردیش میں اَدا کی جائےگی - إِنۡ شَاءَ اللّٰه تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ ﷻ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
مدفن : بڑوالی چوکی جامع مسجد
(صحن) میں سپردِ خاک کیا جائےگا
إِنۡ شَاءَ اللّٰه تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ ﷻ 🌹
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
🌹 اِنتِقالِ پُر ملال 🌹
مفتی حبیب یار خان قادِری
اِنَّا لِـلّٰـهِ وَ اِنَّاۤ اِلَـیۡهِ رٰجِعُوۡنَ ﴿۱۵٦﴾ؕ
یومِ وِصال ²⁷ شوال المکرم ۰۴۴۱ھ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
مفتی حبیب یار خان قادِری
اِنَّا لِـلّٰـهِ وَ اِنَّاۤ اِلَـیۡهِ رٰجِعُوۡنَ ﴿۱۵٦﴾ؕ
یومِ وِصال ²⁷ شوال المکرم ۰۴۴۱ھ
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ایمان ابوطالب
ابوطالب کے عدم ایمان کے قول کو بریلوی تحقیق کا نام دے کر اپنا اُلُّو سیدھا کرنے والے میر جعفروں کے لیے !!
اُن ائمہ دین و علمائے معتمدین کے اسمائے طیبہ جنہوں نے کفر ابی طالب کی تصریح و تصحیح فرمائی ہے :
" فمن الصحابۃ "
(۱) امیر المومنین صدیقِ اکبر
(۲) امیر المومنین فاروق اعظم
(۳) امیر المومنین علی مرتضٰی
(۴) حبر الامتہ سیدنا عبداﷲ بن عباس
(٥) حافظ الصحابہ سیدنا ابوہریرہ
(۶)صحابی ابن صحابی سیدنا مسیّب بن حزن قریشی مخزومی
(۷) حضرت سیدنا عباس عم رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
(۸) سیدنا ابوسعید خدری
(۹) سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاری
(۱۰) حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر فاروق
(۱۱) سیدنا انس بن مالک خادم رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
(۱۲)حضرت سیدتنا ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین
ومن التابعین :
(۱۳) آدم آل عبازین العابدین علی بن حسین بن علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہم و کرم وجوھہم
(۱۴)امام عطابن ابی رباح استاذ سیّدنا الامام الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما
(۱۵) امام محمد بن کعب قرظی کہ اجلّہ ائمہ محدثین و مفسرین تابعین سے ہیں۔
(۱۶) سعید بن محمد ابوالسفرتابعی ابن التابعی ابن الصحابی نبیرہ سیّدنا جبیرین مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
(۱۷) امام الائمہ سراج الاُمہ سیّدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ومن تبع تابعین :
(۱۸) عالم المدینہ امام دارالہجرۃ سیّدنا امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
(۱۹) محررالمذہب مرجع الدنیا فی الفقہ والعلم سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ
(۲۰)امام تفسیر مقاتل بلخی
(۲۱)سلطان اسلام خلیفۃ المسلمین امام ابوجعفر منصور نبیرزادہ ابن عم رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
ومن اتباع التبع ومن یلیھم :
(۲۲) امام الدنیا فی الحفظ والحدیث ابوعبداﷲ محمد بن اسمعیل بخاری ۔
(۲۳) امام اجل ابوداؤد سلیمان بن اشعت سجستانی
(۲۴) امام عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی۔
(۲۵) امام ابو عبداﷲ بن یزید ابن ماجہ قزوینی۔
وممن بعد ھم من المفسرین :
(۲۶) امام محی السنہ ابومحمد حسین بن مسعود فّراء بغوی
(۲۷) امام ابواسحٰق زجاج ابراہیم بن السری۔
(۲۸) جار اﷲ محمود بن عمر خوار زمی زمخشری
(۲۹) ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشاپوری صاحبِ بسیط ووسیط و وجیز۔
(۳۰) امام اجل محمد بن عمر فخر الدین رازی۔
(۳۱) قاضی القضاۃ شہاب الدین بن خلیل خوبی دمشقی مکمل الکبیر۔
(۳۲) علامہ قطب الدین محمد بن مسعود بن محمود بن ابن ابی الفتح سیرافی شفار صاحبِ تقریب۔
(۳۳) امام ناصر الدین ابوسعید عبداﷲ بن عمر بیضاوی۔
(۳۴) امام علامۃ الوجود مفتی ممالک رومیہ ابوالسعود بن محمد عمادی۔
(۳۵) علامہ علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم بغدادی صوفی صاحبِ تفسیر لباب شہیربہ خازن ۔(۳۶) امام جلال الدین محمد بن احمد محلی۔
(۳۷) علامہ سلیمان جمل وغیرہم ممن یاتی
ومن المحدثین والشارحین
(۳۸) امام اجل احمد بن حسین بیہقی
(۳۹) حافظ الشام ابوالقاسم علی بن حسین بن ہبتہ اﷲ دمشقی شہیر بابن عساکر ۔
(۴۰) امام ابوالحسن علی بن خلف معروف بابن بطال مغربی شارح صحیح بخاری۔
(۴۱) امام ابوالقاسم عبدالرحمن بن احمد سہیلی۔
(۴۲) امام حافظ الحدیث علامۃ الفقہ ابوزکریا یحیٰی بن شرف نووی۔
(۴۳) امام ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم قرطبی شارح صحیح مسلم۔
(۴۴) امام ابوالسعادات مبارک بن محمد ابی الکرم معروف بابن اثیر جزری صاحبِ نہایہ وجامع الاصول ۔
(۴۵) امام جلیل محب الدین احمد بن عبداللہ الطبری۔
(۴۶) امام شرف الدین حسن بن محمد طیبی شارح مشکوۃ
(۴۷) امام شمس الدین محمد بن یوسف بن علی کرمانی شارح صحیح بخاری۔
(۴۸) علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی صاحب القاموس۔
(۴۹) امام حافظ الشان ابوالفضل شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی۔
(۵۰) امام جلیل بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی ۔
(۵۱) امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن ادریس قرافی صاحبِ تنقیح الاصول۔
(۵۲) امام خاتم الحفاظ جلال الملتہ والدین ابوالفضل عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی۔
(۵۳) امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن خطیب قسطلانی شارح صحیح بخاری۔
(۵۴) علامہ عبدالرحمن بن علی شیبانی تلمیذ امام شمس الدین سخاوی۔
(۵۵) علامہ قاضی حسین بن محمد بن حسین دیار بکری مکی۔
(۵۶) مولانا الفاضل علی بن سلطان محمد قاری ہروی مکی۔
(۵۷) علامہ زین العابدین عبدالروف محمد شمس الدین مناوی۔
(۵۸) امام شہاب الدین احمد بن حجر مکی۔
(۵۹) شیخ تقی الدین احمد بن علی مقریزی اخباری۔
(۶۱) امام عارف باﷲ سیدی علاء الملۃ والدین علی بن حسام الدین متقی مکی۔
(۶۲) علامہ شہاب الدین احمد خفا جی شارح شفاء
(۶۳) علامہ علی بن احمد بن محمد بن ابراہیم عزیزی۔
(۶۴ ) علامہ محمد حفنی محشی افضل القرٰی
(۶۵) علامہ طاہر فتنی صاحبِ مجمع بحارالانوار
(۶۶) شیخ محقق مولانا عبدالحق بن سیف الدین بخاری
(۶۷) علامہ محمد بن عبدالباقی بن یوسف زرقانی مصری
(۶۸) فاضل محمد بن علی صبان مصری صاحبف اسعاف الراغبین وغیرہم ممن مضی و
ابوطالب کے عدم ایمان کے قول کو بریلوی تحقیق کا نام دے کر اپنا اُلُّو سیدھا کرنے والے میر جعفروں کے لیے !!
اُن ائمہ دین و علمائے معتمدین کے اسمائے طیبہ جنہوں نے کفر ابی طالب کی تصریح و تصحیح فرمائی ہے :
" فمن الصحابۃ "
(۱) امیر المومنین صدیقِ اکبر
(۲) امیر المومنین فاروق اعظم
(۳) امیر المومنین علی مرتضٰی
(۴) حبر الامتہ سیدنا عبداﷲ بن عباس
(٥) حافظ الصحابہ سیدنا ابوہریرہ
(۶)صحابی ابن صحابی سیدنا مسیّب بن حزن قریشی مخزومی
(۷) حضرت سیدنا عباس عم رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
(۸) سیدنا ابوسعید خدری
(۹) سیدنا جابر بن عبداﷲ انصاری
(۱۰) حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر فاروق
(۱۱) سیدنا انس بن مالک خادم رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
(۱۲)حضرت سیدتنا ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین
ومن التابعین :
(۱۳) آدم آل عبازین العابدین علی بن حسین بن علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہم و کرم وجوھہم
(۱۴)امام عطابن ابی رباح استاذ سیّدنا الامام الاعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما
(۱۵) امام محمد بن کعب قرظی کہ اجلّہ ائمہ محدثین و مفسرین تابعین سے ہیں۔
(۱۶) سعید بن محمد ابوالسفرتابعی ابن التابعی ابن الصحابی نبیرہ سیّدنا جبیرین مطعم رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔
(۱۷) امام الائمہ سراج الاُمہ سیّدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ومن تبع تابعین :
(۱۸) عالم المدینہ امام دارالہجرۃ سیّدنا امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
(۱۹) محررالمذہب مرجع الدنیا فی الفقہ والعلم سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ
(۲۰)امام تفسیر مقاتل بلخی
(۲۱)سلطان اسلام خلیفۃ المسلمین امام ابوجعفر منصور نبیرزادہ ابن عم رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
ومن اتباع التبع ومن یلیھم :
(۲۲) امام الدنیا فی الحفظ والحدیث ابوعبداﷲ محمد بن اسمعیل بخاری ۔
(۲۳) امام اجل ابوداؤد سلیمان بن اشعت سجستانی
(۲۴) امام عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی۔
(۲۵) امام ابو عبداﷲ بن یزید ابن ماجہ قزوینی۔
وممن بعد ھم من المفسرین :
(۲۶) امام محی السنہ ابومحمد حسین بن مسعود فّراء بغوی
(۲۷) امام ابواسحٰق زجاج ابراہیم بن السری۔
(۲۸) جار اﷲ محمود بن عمر خوار زمی زمخشری
(۲۹) ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشاپوری صاحبِ بسیط ووسیط و وجیز۔
(۳۰) امام اجل محمد بن عمر فخر الدین رازی۔
(۳۱) قاضی القضاۃ شہاب الدین بن خلیل خوبی دمشقی مکمل الکبیر۔
(۳۲) علامہ قطب الدین محمد بن مسعود بن محمود بن ابن ابی الفتح سیرافی شفار صاحبِ تقریب۔
(۳۳) امام ناصر الدین ابوسعید عبداﷲ بن عمر بیضاوی۔
(۳۴) امام علامۃ الوجود مفتی ممالک رومیہ ابوالسعود بن محمد عمادی۔
(۳۵) علامہ علاء الدین علی بن محمد بن ابراہیم بغدادی صوفی صاحبِ تفسیر لباب شہیربہ خازن ۔(۳۶) امام جلال الدین محمد بن احمد محلی۔
(۳۷) علامہ سلیمان جمل وغیرہم ممن یاتی
ومن المحدثین والشارحین
(۳۸) امام اجل احمد بن حسین بیہقی
(۳۹) حافظ الشام ابوالقاسم علی بن حسین بن ہبتہ اﷲ دمشقی شہیر بابن عساکر ۔
(۴۰) امام ابوالحسن علی بن خلف معروف بابن بطال مغربی شارح صحیح بخاری۔
(۴۱) امام ابوالقاسم عبدالرحمن بن احمد سہیلی۔
(۴۲) امام حافظ الحدیث علامۃ الفقہ ابوزکریا یحیٰی بن شرف نووی۔
(۴۳) امام ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم قرطبی شارح صحیح مسلم۔
(۴۴) امام ابوالسعادات مبارک بن محمد ابی الکرم معروف بابن اثیر جزری صاحبِ نہایہ وجامع الاصول ۔
(۴۵) امام جلیل محب الدین احمد بن عبداللہ الطبری۔
(۴۶) امام شرف الدین حسن بن محمد طیبی شارح مشکوۃ
(۴۷) امام شمس الدین محمد بن یوسف بن علی کرمانی شارح صحیح بخاری۔
(۴۸) علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی صاحب القاموس۔
(۴۹) امام حافظ الشان ابوالفضل شہاب الدین احمد بن حجر عسقلانی۔
(۵۰) امام جلیل بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی ۔
(۵۱) امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن ادریس قرافی صاحبِ تنقیح الاصول۔
(۵۲) امام خاتم الحفاظ جلال الملتہ والدین ابوالفضل عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی۔
(۵۳) امام شہاب الدین ابوالعباس احمد بن خطیب قسطلانی شارح صحیح بخاری۔
(۵۴) علامہ عبدالرحمن بن علی شیبانی تلمیذ امام شمس الدین سخاوی۔
(۵۵) علامہ قاضی حسین بن محمد بن حسین دیار بکری مکی۔
(۵۶) مولانا الفاضل علی بن سلطان محمد قاری ہروی مکی۔
(۵۷) علامہ زین العابدین عبدالروف محمد شمس الدین مناوی۔
(۵۸) امام شہاب الدین احمد بن حجر مکی۔
(۵۹) شیخ تقی الدین احمد بن علی مقریزی اخباری۔
(۶۱) امام عارف باﷲ سیدی علاء الملۃ والدین علی بن حسام الدین متقی مکی۔
(۶۲) علامہ شہاب الدین احمد خفا جی شارح شفاء
(۶۳) علامہ علی بن احمد بن محمد بن ابراہیم عزیزی۔
(۶۴ ) علامہ محمد حفنی محشی افضل القرٰی
(۶۵) علامہ طاہر فتنی صاحبِ مجمع بحارالانوار
(۶۶) شیخ محقق مولانا عبدالحق بن سیف الدین بخاری
(۶۷) علامہ محمد بن عبدالباقی بن یوسف زرقانی مصری
(۶۸) فاضل محمد بن علی صبان مصری صاحبف اسعاف الراغبین وغیرہم ممن مضی و
یجیئ۔
ومن الفقہاء والاصُولیین :
(۶۹) امام اجل شیخ الاسلام والمسلمین علی بن ابی بکر برہان الدین فرغانی صاحبِ ہدایہ
(۷۰) امام ابوالبرکات عبداللہ بن احمد حافظ الدین نسفی صاحبِ کنز۔
(۷۱) امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام۔
(۷۲) امام جلال الدین کرلالی صاحبِ کفایہ۔
(۷۳) امام محقق محمد بن محمد بن محمد ابن امیر الحاج حلبی۔
(۷۴) امام ابراہیم بن موسٰی طرابلسی مصری صاحبِ مواہب الرحمن۔
(۷۵) علامہ ابراہیم بن محمد حلبی شارح منیہ
(۷۶) علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی۔
(۷۷) علامہ محقق زین بن نجیم مصری صاحبِ بحر۔
(۷۸) ملک العلماء بحر العلوم عبدالعلی محمد لکھنوی۔
(۷۹) علامہ سید احمد مصری طحطاوی۔
(۸۰) علامہ سید محمد افندی ابن عابدین شامی وغیر ھم ممن تقدم رحم اﷲ تعالٰی علمائنا جمیعا من تاخر منھم ومن تقدم اٰمین
🖊 تحریر لقمان شاہد
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
ومن الفقہاء والاصُولیین :
(۶۹) امام اجل شیخ الاسلام والمسلمین علی بن ابی بکر برہان الدین فرغانی صاحبِ ہدایہ
(۷۰) امام ابوالبرکات عبداللہ بن احمد حافظ الدین نسفی صاحبِ کنز۔
(۷۱) امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام۔
(۷۲) امام جلال الدین کرلالی صاحبِ کفایہ۔
(۷۳) امام محقق محمد بن محمد بن محمد ابن امیر الحاج حلبی۔
(۷۴) امام ابراہیم بن موسٰی طرابلسی مصری صاحبِ مواہب الرحمن۔
(۷۵) علامہ ابراہیم بن محمد حلبی شارح منیہ
(۷۶) علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی۔
(۷۷) علامہ محقق زین بن نجیم مصری صاحبِ بحر۔
(۷۸) ملک العلماء بحر العلوم عبدالعلی محمد لکھنوی۔
(۷۹) علامہ سید احمد مصری طحطاوی۔
(۸۰) علامہ سید محمد افندی ابن عابدین شامی وغیر ھم ممن تقدم رحم اﷲ تعالٰی علمائنا جمیعا من تاخر منھم ومن تقدم اٰمین
🖊 تحریر لقمان شاہد
➻═══════════➻
TTS AʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛ Kɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
منقبت در شانِ حضور صدر الشریعہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🌹 فخر اہلِ حق رئیس الفقہاء سید
الاساتذہ، خلیفۂ سرکارِ اعلیٰ حضرت
حضور صدر الشریعہ🌹 بدر الطریقہ
حضرتعلامَہمُفتی محمد امجد علی
اعظمی گھوسی مُصنفِ بہارِ شریعت
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ۰۰۳۱ ھ = مطابق ۲۸۸۱ ء
یومِ وصال ۲ ذیقعدہ ۷۶۳۱ھ ⁶دِسمبر
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🌹 فخر اہلِ حق رئیس الفقہاء سید
الاساتذہ، خلیفۂ سرکارِ اعلیٰ حضرت
حضور صدر الشریعہ🌹 بدر الطریقہ
حضرتعلامَہمُفتی محمد امجد علی
اعظمی گھوسی مُصنفِ بہارِ شریعت
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَـعَـالیٰ عَــنۡــہۡ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
یومِ ولادت ۰۰۳۱ ھ = مطابق ۲۸۸۱ ء
یومِ وصال ۲ ذیقعدہ ۷۶۳۱ھ ⁶دِسمبر
➻═══════════➻
TTSAʜʟᴇSᴜɴɴᴀᴛKɴᴏᴡʟᴇᴅɢᴇ
Jᴏɪɴ @islaamic_Knowledge
➻═══════════➻