Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
🕯حضرت شاہ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اسم گرامی: شاہ کلیم اللہ۔
القابات: شیخ المشائخ، عالم و عارف، محدثِ کامل، مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ۔
سلسلہ نسب: حضرت شاہ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی بن حاجی نور اللہ صدیقی بن شیخ احمد صدیقی۔علیہم الرحمہ۔ آپ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تھے۔
خاندانی پس منظر: آپ کے دادا عہدِ شاہجہانی میں ’’خُجَند‘‘ ترکمانستان موجودہ تاجکستان سے دہلی آئے۔ وہ علوم عمارات، ہیئت، ریاضی، اور نجوم میں مہارت رکھتے تھے۔ اسی لئے شاہجہاں نے ان کو لال قلعہ، اور جامع مسجد دہلی کی تعمیر کے سلسلے میں بلایا تھا۔ تاج محل آگرہ اور محل آصف خان لاہور بھی انہیں کا تعمیر کردہ ہے۔ شاہجہاں نے ان کو ’’نادر العصر‘‘ کا خطاب دیاتھا۔ ان کی وفات 1649ء کو دہلی میں ہوئی۔ [1]
ولادت باسعادت: آپ کی ولادت 24 جمادی الثانی 1060ھ بمطابق 24 جون 1650ء بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: آپ کا تعلق ایک علمی و روحانی خانوادے سے تھا۔ بالخصوص فنِ تعمیر میں جہاں میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اس وقت دہلی علوم و فنون کا مرکز تھا۔ بڑے بڑے علماء و صوفیاء نے ظاہری و باطنی علوم کے میخانے سجا رکھے تھے۔ ان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بزرگ بھی تھے۔ دہلی کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ سندِ حدیث حضرت شیخ ابوالرضا ہندی قدس سرہ (تایا حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ) اور مولانا شیخ برہان الدین المعروف شیخ بہلول رحمہ اللہ سے حاصل کی۔ آپ تمام علوم و فنون میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔ دہلی کے متبحر علماء میں شمار کیے جاتے تھے۔
بیعت و خلافت: تحصیلِ علم کے بعد کسی برتر نسبت کی طلب ہوئی تو ایک بزرگ ’’رسول نما‘‘ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور بیعت کے خواستگار ہوئے۔ صاحبِ بصیرت و عرفان بزرگ نے جواب دیا کہ تمہارا حصہ یہاں نہیں، حضرت شیخ یحیٰ مدنی قدس سرہ کے پاس ہے۔ اور وہ مدینہ منورہ میں ہیں، وہاں جاؤ اور اس دستر خوانِ محبت و معرفت سے خوشہ چینی کرو۔ بس یہ سننا تھا کہ طالبِ صادق عازم حجاز مقدس ہوئے، اور مدینہ منورہ میں حضرت شیخ یحیٰ مدنی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، ان سے بیعت ہوئے، اور کچھ عرصہ تربیت میں رہے، مجاہدات و سلوک کے بعد خلافتِ عالیہ چشتیہ سے مشرف ہوئے۔ اسی طرح قیامِ حجاز میں ہی حضرت امیرِ محترم لاہوری رحمہ اللہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اور سید محمد کبریٰ رحمہ اللہ سے سلسلہ عالیہ قادریہ کی خلافت پائی۔ [2]
سیرت و خصائص: جامع العلوم، بحر العلوم، عارف باللہ، واصل باللہ، مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ حضرت علامہ مولانا خواجہ شاہ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کا شمار اکابر و اعظام اولیائے ہند میں ہوتا ہے۔ آپ کے خوارق عادات اور زہد و طاعت کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ بڑے نامور شیخ تھے۔ علم و فضل میں یگانہ روزگار تھے۔ بڑے بڑے علماء آپ کے تبحر علمی کے معترف تھے۔ مدینۃ المنورہ سے دہلی میں واپسی پر خانم بازار کی ایک مسجد میں قیام کیا اور تعلیمی بساط بچھائی۔ علمی استطاعت تو حد درجہ کی تھی۔ کیونکہ اپنے وقت کے عظیم محدثین اور شیوخ سے تحصیلِ علم کیا تھا۔ آپ کا درس علم و معرفت کا بحرِ مواج ہوتا تھا۔ دور دور سے طلبہ شریک درس ہوتے۔ کھانے پینے کا انتظام مفت تھا۔ حدیث کے درس کی شہرت عام ہوچکی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت مرزا جانِ جاناں قدس سرہ ملاقات کےلئے تشریف لائے تو آپ صحیح بخاری کا درس دے رہے تھے۔ [3]
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
🕯حضرت شاہ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اسم گرامی: شاہ کلیم اللہ۔
القابات: شیخ المشائخ، عالم و عارف، محدثِ کامل، مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ۔
سلسلہ نسب: حضرت شاہ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی بن حاجی نور اللہ صدیقی بن شیخ احمد صدیقی۔علیہم الرحمہ۔ آپ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تھے۔
خاندانی پس منظر: آپ کے دادا عہدِ شاہجہانی میں ’’خُجَند‘‘ ترکمانستان موجودہ تاجکستان سے دہلی آئے۔ وہ علوم عمارات، ہیئت، ریاضی، اور نجوم میں مہارت رکھتے تھے۔ اسی لئے شاہجہاں نے ان کو لال قلعہ، اور جامع مسجد دہلی کی تعمیر کے سلسلے میں بلایا تھا۔ تاج محل آگرہ اور محل آصف خان لاہور بھی انہیں کا تعمیر کردہ ہے۔ شاہجہاں نے ان کو ’’نادر العصر‘‘ کا خطاب دیاتھا۔ ان کی وفات 1649ء کو دہلی میں ہوئی۔ [1]
ولادت باسعادت: آپ کی ولادت 24 جمادی الثانی 1060ھ بمطابق 24 جون 1650ء بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: آپ کا تعلق ایک علمی و روحانی خانوادے سے تھا۔ بالخصوص فنِ تعمیر میں جہاں میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اس وقت دہلی علوم و فنون کا مرکز تھا۔ بڑے بڑے علماء و صوفیاء نے ظاہری و باطنی علوم کے میخانے سجا رکھے تھے۔ ان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بزرگ بھی تھے۔ دہلی کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ سندِ حدیث حضرت شیخ ابوالرضا ہندی قدس سرہ (تایا حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ) اور مولانا شیخ برہان الدین المعروف شیخ بہلول رحمہ اللہ سے حاصل کی۔ آپ تمام علوم و فنون میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔ دہلی کے متبحر علماء میں شمار کیے جاتے تھے۔
بیعت و خلافت: تحصیلِ علم کے بعد کسی برتر نسبت کی طلب ہوئی تو ایک بزرگ ’’رسول نما‘‘ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور بیعت کے خواستگار ہوئے۔ صاحبِ بصیرت و عرفان بزرگ نے جواب دیا کہ تمہارا حصہ یہاں نہیں، حضرت شیخ یحیٰ مدنی قدس سرہ کے پاس ہے۔ اور وہ مدینہ منورہ میں ہیں، وہاں جاؤ اور اس دستر خوانِ محبت و معرفت سے خوشہ چینی کرو۔ بس یہ سننا تھا کہ طالبِ صادق عازم حجاز مقدس ہوئے، اور مدینہ منورہ میں حضرت شیخ یحیٰ مدنی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، ان سے بیعت ہوئے، اور کچھ عرصہ تربیت میں رہے، مجاہدات و سلوک کے بعد خلافتِ عالیہ چشتیہ سے مشرف ہوئے۔ اسی طرح قیامِ حجاز میں ہی حضرت امیرِ محترم لاہوری رحمہ اللہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اور سید محمد کبریٰ رحمہ اللہ سے سلسلہ عالیہ قادریہ کی خلافت پائی۔ [2]
سیرت و خصائص: جامع العلوم، بحر العلوم، عارف باللہ، واصل باللہ، مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ حضرت علامہ مولانا خواجہ شاہ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کا شمار اکابر و اعظام اولیائے ہند میں ہوتا ہے۔ آپ کے خوارق عادات اور زہد و طاعت کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ بڑے نامور شیخ تھے۔ علم و فضل میں یگانہ روزگار تھے۔ بڑے بڑے علماء آپ کے تبحر علمی کے معترف تھے۔ مدینۃ المنورہ سے دہلی میں واپسی پر خانم بازار کی ایک مسجد میں قیام کیا اور تعلیمی بساط بچھائی۔ علمی استطاعت تو حد درجہ کی تھی۔ کیونکہ اپنے وقت کے عظیم محدثین اور شیوخ سے تحصیلِ علم کیا تھا۔ آپ کا درس علم و معرفت کا بحرِ مواج ہوتا تھا۔ دور دور سے طلبہ شریک درس ہوتے۔ کھانے پینے کا انتظام مفت تھا۔ حدیث کے درس کی شہرت عام ہوچکی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت مرزا جانِ جاناں قدس سرہ ملاقات کےلئے تشریف لائے تو آپ صحیح بخاری کا درس دے رہے تھے۔ [3]
❤1👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ: آپ کو مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ کیونکہ جس وقت آپ دہلی میں مسند آرا ہوئے اس وقت سلسلہ عالیہ چشتیہ کا خانقاہی نظام زوال پذیر تھا۔ خانقاہیں ویرانی کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ آپ ہی کی ذاتِ مبارکہ ہے جن کی وجہ سے سلسلہ عالیہ کو پھر سے عروج نصیب ہوا۔ دورِ انحطاط کو دورِ عروج میں بدلنے کا سہرا آپ کے سر ہے۔ شیخ الاسلام حضرت خواجہ نصیر الدین چراغ دہلوی قدس سرہ کے بعد ایک خلا پیدا ہوگیا تھا۔ اس خلا کو آپ نے ہی پر کیا۔ آپ نے خانقاہی نظام کی ایسی بنیاد رکھی جس نے بالخصوص اسلامیانِ ہند کو پھر سے ایمان و ایقان کی قوت اور علم و حکمت اور معرفت کے خزینے عطا کیے۔ وہ خانقاہیں پھر ایسی نہ رہیں جن میں صرف ہر وقت لنگر چلتا رہے، اور درویش صرف نعرے لگاتے رہیں۔ ملت اسلامیہ اور تعلیم اسلام سے کوئی سروکار نہ ہو۔بلکہ آپ نے ایسی خانقاہ کی بنیاد رکھی کہ جس میں ہر مرید و خلیفہ پر لازم تھا کہ وہ پہلے علومِ ظاہری میں مہارت ِ تامہ حاصل کرے، تاکہ دینِ اسلام کے تمام شعبہ جات کی بنیادی معلومات حاصل ہوں، اور وسیع بنیادوں پر دین کی خدمت کرسکے۔ پھر عوام میں جاہل صوفیاء نے جو غلط فہمی پھیلادی تھی کہ اصل صوفی وہ ہوتا ہے کہ جس کا علم و شریعت سے دور کا واسطہ بھی نہ ہو۔حضرت شاہ صاحب نے تمام علومِ نقلیہ و عقلیہ کا درس دے کر اس غلط فہمی کا ازالہ کر دیا۔
سلسلۃ الذہب: آپ کی ذات والا صفات سے سلسلہ عالیہ چشتیہ کو ایک اور منہج ملا۔ آپ کے خلیفہ حضرت شاہ نظام الدین اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ جید عالم دین کے ساتھ شیخِ طریقت بھی تھے۔ اسی طرح ان کے صاحبزادے و جانشین حضرت فخرالدین فخرِ جہاں رحمہ اللہ اپنے زمانے کے تمام علماء میں ممتاز مقام کے حامل تھے۔ پھر ان کے خلیفہ حضرت قبلۂ عالم خواجہ نور محمد مہاروی، اور شاہ نیاز بریلوی وغیرہ رحمہم اللہ، اور پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء، حضرت خواجہ نور محمد نارو والا، حضرت قاضی عاقل محمد کوٹ مٹھن شریف، حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی، حضرت خواجہ حافظ محمد جمال اللہ ملتانی، (رحمہم اللہ) پھر ان سے حضرت خواجہ خدا بخش خیر پوری، حضرت خواجہ عبیداللہ ملتانی، مولانا عبدالعزیز پرہاروی، حضرت خواجہ شمس العارفین، حضرت شیخ الاسلام پیر مہر علی شاہ، حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی۔(رحمہم اللہ) یہ سب حضرات اور پھر ان کے خلفاء در خلفاء سب آفتابِ شریعت اور ماہتابِ طریقت تھے۔ اپنے وقت میں یہ ہستیاں علم و معرفت میں اپنا ثانی نہ رکھتی تھیں۔ اس نظام کی بنیاد رکھنے والے حضرت شاہ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔
فیضِ عام: آپ کی خدمت میں مخلوقِ خدا جوق در جوق حاضر ہونے لگی۔ حتیٰ کہ امراء و وزراء اور اورنگ زیب عالمگیر حاضر ہوئے، اور پھر باربار حاضر ہوتے رہے۔آپ سے فیض حاصل کرتے رہے۔ اورنگ زیب عالمگیر کے بعد ان کے فرزند بھی عاجزانہ حاضر ہوتے رہے، اور محمد شاہ بادشاہ تک جتنے سلاطین بھی تختِ دہلی پر متمکن ہوئے سب ہی اس آستانہ کے غلام تھے۔ [4]
توکل و استغناء: دہلی میں حضرت شاہ صاحب کی مالی حالت اچھی نہ تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو توکل اور قناعت کی بے پناہ دولت دے رکھی تھی۔ کبھی کبھار تو فاقے بھی ہو جاتے تھے، لیکن اس مردِ قلندر نے کبھی کسی حاکم سے نذرانہ نہیں لیا۔ (ہمارے زمانے (1444ھ/2022) میں، میں نے کوئی ایسا پیر نہیں دیکھا جس کا رہن سہن ٹھاٹھ باٹھ، کسی بادشاہ یا وزیر سے کم ہو۔ الا ماشاء اللہ۔ اور پھر عوام کا بھی یہی نظریہ بن چکا ہے کہ جو خود بھوکا بیٹھا ہے وہ ہمیں کیا دے گا۔ بلکہ جس کا لنگر اچھا ہوتا ہے وہاں ہجوم بھی زیادہ ہوتا ہے۔)
کئی مرتبہ شاہِ دہلی فخر سیر نے بڑی عاجزی سے اصرار کیا کہ حضرت اپنی ضروریات کےلئے سرکاری خزانے سے رقم لے لیا کریں۔ لیکن آپ نے ہر بار پیشکش مسترد کردی اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اتنا دیا ہےکہ مجھے زیادہ کی حاجت ہی نہیں ہے‘‘۔ اسی نے ایک بڑی حویلی دینے کی پیشکش کی، آپ نہ مانے۔ اس نے حاضری کی اجازت چاہی مگر آپ نے ٹال دیا اور فرمایا: تمھارے آنے سے ہمارے معاملات متأثر ہوں گے۔ لہذا بذاتِ خود آنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ بادشاہ نے اس کے بعد یہ طریقہ اختیار کر لیا تھا کہ جمعۃ المبارک کے دن جامع مسجد میں حضرت بھی تشریف لے جاتے تھے، اور بادشاہ بھی اسی مسجد میں جمعہ ادا کرتا تھا۔ پھر بھی وہ اجازت لے بڑی عاجزی اور تعظیم سے آپ کی قدم بوسی کر لیتا تھا۔ [5]
تصانیف: آپ صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔تیس کے قریب تصانیف کا نام ملتا ہے۔ کچھ کے نام یہ ہیں:
1۔قرآن القرآن۔ 2۔عشرہ کاملہ۔ 3۔سواء السبیل۔ 4۔کشکول۔ 5۔مرقع۔ 6۔تسنیم۔ 7۔الہاماتِ کلیمی۔ 8۔رسالہ تشریح الافلاک۔ 9۔شرح القانون۔ رد رافض میں بھی بعض کتب تھیں، اور اسی طرح شاعری کا مجموعہ بھی تاریخ میں ملتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ہنگاموں اور اپنوں کی بے اعتنائی کی نذر ہوگیا ہے۔
سلسلۃ الذہب: آپ کی ذات والا صفات سے سلسلہ عالیہ چشتیہ کو ایک اور منہج ملا۔ آپ کے خلیفہ حضرت شاہ نظام الدین اورنگ آبادی رحمۃ اللہ علیہ جید عالم دین کے ساتھ شیخِ طریقت بھی تھے۔ اسی طرح ان کے صاحبزادے و جانشین حضرت فخرالدین فخرِ جہاں رحمہ اللہ اپنے زمانے کے تمام علماء میں ممتاز مقام کے حامل تھے۔ پھر ان کے خلیفہ حضرت قبلۂ عالم خواجہ نور محمد مہاروی، اور شاہ نیاز بریلوی وغیرہ رحمہم اللہ، اور پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء، حضرت خواجہ نور محمد نارو والا، حضرت قاضی عاقل محمد کوٹ مٹھن شریف، حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی، حضرت خواجہ حافظ محمد جمال اللہ ملتانی، (رحمہم اللہ) پھر ان سے حضرت خواجہ خدا بخش خیر پوری، حضرت خواجہ عبیداللہ ملتانی، مولانا عبدالعزیز پرہاروی، حضرت خواجہ شمس العارفین، حضرت شیخ الاسلام پیر مہر علی شاہ، حضرت خواجہ فیض محمد شاہ جمالی۔(رحمہم اللہ) یہ سب حضرات اور پھر ان کے خلفاء در خلفاء سب آفتابِ شریعت اور ماہتابِ طریقت تھے۔ اپنے وقت میں یہ ہستیاں علم و معرفت میں اپنا ثانی نہ رکھتی تھیں۔ اس نظام کی بنیاد رکھنے والے حضرت شاہ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔
فیضِ عام: آپ کی خدمت میں مخلوقِ خدا جوق در جوق حاضر ہونے لگی۔ حتیٰ کہ امراء و وزراء اور اورنگ زیب عالمگیر حاضر ہوئے، اور پھر باربار حاضر ہوتے رہے۔آپ سے فیض حاصل کرتے رہے۔ اورنگ زیب عالمگیر کے بعد ان کے فرزند بھی عاجزانہ حاضر ہوتے رہے، اور محمد شاہ بادشاہ تک جتنے سلاطین بھی تختِ دہلی پر متمکن ہوئے سب ہی اس آستانہ کے غلام تھے۔ [4]
توکل و استغناء: دہلی میں حضرت شاہ صاحب کی مالی حالت اچھی نہ تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو توکل اور قناعت کی بے پناہ دولت دے رکھی تھی۔ کبھی کبھار تو فاقے بھی ہو جاتے تھے، لیکن اس مردِ قلندر نے کبھی کسی حاکم سے نذرانہ نہیں لیا۔ (ہمارے زمانے (1444ھ/2022) میں، میں نے کوئی ایسا پیر نہیں دیکھا جس کا رہن سہن ٹھاٹھ باٹھ، کسی بادشاہ یا وزیر سے کم ہو۔ الا ماشاء اللہ۔ اور پھر عوام کا بھی یہی نظریہ بن چکا ہے کہ جو خود بھوکا بیٹھا ہے وہ ہمیں کیا دے گا۔ بلکہ جس کا لنگر اچھا ہوتا ہے وہاں ہجوم بھی زیادہ ہوتا ہے۔)
کئی مرتبہ شاہِ دہلی فخر سیر نے بڑی عاجزی سے اصرار کیا کہ حضرت اپنی ضروریات کےلئے سرکاری خزانے سے رقم لے لیا کریں۔ لیکن آپ نے ہر بار پیشکش مسترد کردی اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اتنا دیا ہےکہ مجھے زیادہ کی حاجت ہی نہیں ہے‘‘۔ اسی نے ایک بڑی حویلی دینے کی پیشکش کی، آپ نہ مانے۔ اس نے حاضری کی اجازت چاہی مگر آپ نے ٹال دیا اور فرمایا: تمھارے آنے سے ہمارے معاملات متأثر ہوں گے۔ لہذا بذاتِ خود آنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ بادشاہ نے اس کے بعد یہ طریقہ اختیار کر لیا تھا کہ جمعۃ المبارک کے دن جامع مسجد میں حضرت بھی تشریف لے جاتے تھے، اور بادشاہ بھی اسی مسجد میں جمعہ ادا کرتا تھا۔ پھر بھی وہ اجازت لے بڑی عاجزی اور تعظیم سے آپ کی قدم بوسی کر لیتا تھا۔ [5]
تصانیف: آپ صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔تیس کے قریب تصانیف کا نام ملتا ہے۔ کچھ کے نام یہ ہیں:
1۔قرآن القرآن۔ 2۔عشرہ کاملہ۔ 3۔سواء السبیل۔ 4۔کشکول۔ 5۔مرقع۔ 6۔تسنیم۔ 7۔الہاماتِ کلیمی۔ 8۔رسالہ تشریح الافلاک۔ 9۔شرح القانون۔ رد رافض میں بھی بعض کتب تھیں، اور اسی طرح شاعری کا مجموعہ بھی تاریخ میں ملتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ہنگاموں اور اپنوں کی بے اعتنائی کی نذر ہوگیا ہے۔
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
وصال: آپ کا وصال 24 ربیع الاول 1142ھ کو ہوا۔ دہلی میں قلعہ اور جامع مسجد کے درمیان اپنی خانقاہ میں دفن ہوئے۔
ماخذ و مراجع: [1] چشتی خانقاہیں اور سربراہانِ برصغیر: 142۔ [2] (بہارِ چشت:117۔ [3]اردو دائرہ معارف اسلامیہ:17/280۔ [4]شانِ اولیاء:469۔ [5] بہارِ چشت:118۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
◈◈⊰──────⊱◈◈◈⊰──────⊱◈◈
*مرتبیـن📝 شمـس تبـریز نـوری امجـدی، محمـد یـوسف رضـا رضـوی امجـدی "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 966551830750+/ 9604397443+*
◈◈⊰──────⊱◈◈◈⊰──────⊱◈◈
ماخذ و مراجع: [1] چشتی خانقاہیں اور سربراہانِ برصغیر: 142۔ [2] (بہارِ چشت:117۔ [3]اردو دائرہ معارف اسلامیہ:17/280۔ [4]شانِ اولیاء:469۔ [5] بہارِ چشت:118۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
◈◈⊰──────⊱◈◈◈⊰──────⊱◈◈
*مرتبیـن📝 شمـس تبـریز نـوری امجـدی، محمـد یـوسف رضـا رضـوی امجـدی "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 966551830750+/ 9604397443+*
◈◈⊰──────⊱◈◈◈⊰──────⊱◈◈
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-03-1444 ᴴ | 20-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-03-1444 ᴴ | 21-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
24-03-1444 ᴴ | 21-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
24-03-1444 ᴴ | 21-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1