🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-03-1444 ᴴ | 20-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-03-1444 ᴴ | 20-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
23-03-1444 ᴴ | 20-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
23-03-1444 ᴴ | 20-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
🕯حضرت شاہ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ🕯


اسم گرامی: شاہ کلیم اللہ۔
القابات: شیخ المشائخ، عالم و عارف، محدثِ کامل، مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ۔
سلسلہ نسب: حضرت شاہ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی بن حاجی نور اللہ صدیقی بن شیخ احمد صدیقی۔علیہم الرحمہ۔ آپ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تھے۔
خاندانی پس منظر: آپ کے دادا عہدِ شاہجہانی میں ’’خُجَند‘‘ ترکمانستان موجودہ تاجکستان سے دہلی آئے۔ وہ علوم عمارات، ہیئت، ریاضی، اور نجوم میں مہارت رکھتے تھے۔ اسی لئے شاہجہاں نے ان کو لال قلعہ، اور جامع مسجد دہلی کی تعمیر کے سلسلے میں بلایا تھا۔ تاج محل آگرہ اور محل آصف خان لاہور بھی انہیں کا تعمیر کردہ ہے۔ شاہجہاں نے ان کو ’’نادر العصر‘‘ کا خطاب دیاتھا۔ ان کی وفات 1649ء کو دہلی میں ہوئی۔ [1]

ولادت باسعادت: آپ کی ولادت 24 جمادی الثانی 1060ھ بمطابق 24 جون 1650ء بروز جمعۃ المبارک دہلی میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: آپ کا تعلق ایک علمی و روحانی خانوادے سے تھا۔ بالخصوص فنِ تعمیر میں جہاں میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ اس وقت دہلی علوم و فنون کا مرکز تھا۔ بڑے بڑے علماء و صوفیاء نے ظاہری و باطنی علوم کے میخانے سجا رکھے تھے۔ ان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بزرگ بھی تھے۔ دہلی کے مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ سندِ حدیث حضرت شیخ ابوالرضا ہندی قدس سرہ (تایا حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ) اور مولانا شیخ برہان الدین المعروف شیخ بہلول رحمہ اللہ سے حاصل کی۔ آپ تمام علوم و فنون میں مہارتِ تامہ حاصل تھی۔ دہلی کے متبحر علماء میں شمار کیے جاتے تھے۔

بیعت و خلافت: تحصیلِ علم کے بعد کسی برتر نسبت کی طلب ہوئی تو ایک بزرگ ’’رسول نما‘‘ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور بیعت کے خواستگار ہوئے۔ صاحبِ بصیرت و عرفان بزرگ نے جواب دیا کہ تمہارا حصہ یہاں نہیں، حضرت شیخ یحیٰ مدنی قدس سرہ کے پاس ہے۔ اور وہ مدینہ منورہ میں ہیں، وہاں جاؤ اور اس دستر خوانِ محبت و معرفت سے خوشہ چینی کرو۔ بس یہ سننا تھا کہ طالبِ صادق عازم حجاز مقدس ہوئے، اور مدینہ منورہ میں حضرت شیخ یحیٰ مدنی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، ان سے بیعت ہوئے، اور کچھ عرصہ تربیت میں رہے، مجاہدات و سلوک کے بعد خلافتِ عالیہ چشتیہ سے مشرف ہوئے۔ اسی طرح قیامِ حجاز میں ہی حضرت امیرِ محترم لاہوری رحمہ اللہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اور سید محمد کبریٰ رحمہ اللہ سے سلسلہ عالیہ قادریہ کی خلافت پائی۔ [2]

سیرت و خصائص: جامع العلوم، بحر العلوم، عارف باللہ، واصل باللہ، مجدد سلسلہ عالیہ چشتیہ حضرت علامہ مولانا خواجہ شاہ کلیم اللہ شاہجہاں آبادی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کا شمار اکابر و اعظام اولیائے ہند میں ہوتا ہے۔ آپ کے خوارق عادات اور زہد و طاعت کا شہرہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ بڑے نامور شیخ تھے۔ علم و فضل میں یگانہ روزگار تھے۔ بڑے بڑے علماء آپ کے تبحر علمی کے معترف تھے۔ مدینۃ المنورہ سے دہلی میں واپسی پر خانم بازار کی ایک مسجد میں قیام کیا اور تعلیمی بساط بچھائی۔ علمی استطاعت تو حد درجہ کی تھی۔ کیونکہ اپنے وقت کے عظیم محدثین اور شیوخ سے تحصیلِ علم کیا تھا۔ آپ کا درس علم و معرفت کا بحرِ مواج ہوتا تھا۔ دور دور سے طلبہ شریک درس ہوتے۔ کھانے پینے کا انتظام مفت تھا۔ حدیث کے درس کی شہرت عام ہوچکی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت مرزا جانِ جاناں قدس سرہ ملاقات کےلئے تشریف لائے تو آپ صحیح بخاری کا درس دے رہے تھے۔ [3]
1👍1