خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری۔ لقب: برہانِ ملت،برہان الدین، برہان السنت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، ممدوحِ اعلیٰ حضرت، مظہرِ شریعت۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری بن عید الاسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد السلام جبل پوری بن مولانا شاہ محمد عبد الکریم قادری نقشبندی بن مولانا شاہ محمد عبدالرحمن بن مولانا شاہ محمد عبدالرحیم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبدالوہاب صدیقی طائفی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ کا خاندانی تعلق حضرت سیدنا صدیق اکبر سےہے۔نویں پشت میں آپ کے جد اعلیٰ حضرت شاہ عبدالوہاب صدیقی سلطنتِ آصفیہ کے دورِ حکومت میں نواب صلابت جنگ بہادر کے ساتھ طائف سے ہندوستان تشریف لائے، اور حیدر آباد دکن میں سکونت اختیار کی۔ یہاں حکومتِ آصفیہ کی جانب سے مکہ مسجد کی امامت اور محکمۂ مذہبی امور کے جلیل القدر عہدے پر مامور ہوئے۔ آپ کے خاندان میں مسلسل پانچ پشتوں میں پانچویں آصف جاہ کے زمانے تک برابر قائم رہا۔
مولانا برہان الحق کے جد امجد مولانا شاہ عبد الکریم (م16/رمضان المبارک 1317ھ) اپنے وقت کے جید عالم اور شیخِ طریقت تھے۔تمام علومِ عقلیہ ونقلیہ کے ماہر کامل اور بالخصوص فقہ اور علم طب میں یگانۂ روزگار تھے۔ حضرت برہانِ ملت کے والد گرامی عید الاسلام حضرت شاہ عبدالسلام جبل پوری اعلیٰ حضرت کے محبوب خلیفہ تھے۔ اعلیٰ حضرت اور آپ کے شہزادگان کا اس خاندان سے جو قرب رہا وہ انہیں کاخاصہ ہے۔ کسی دوسرے گھرانے اور خاندان کو یہ شرف حاصل نہ ہوا۔ انہیں کی محبت میں اعلیٰ حضرت بریلی سے جبل پور تشریف لےگئے اور پھر مفتیِ اعظم ہند ایک ماہ سے زائد قیام فرماکر ان کو شرف بخشا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا پروفیسر مسعود احمد رقم طراز ہیں۔ ’’کہ یہ امتیاز صرف آپ کےخاندان کو حاصل ہےکہ آپ کے خاندان کے تین جلیل القدر شخصیات کو امام احمد رضاسے خلافت حاصل ہے،اور آپ کے خاندان کو یہ بھی امتیاز حاصل ہواکہ امام احمد رضا کے خاندان کے باہر پہلے خلیفہ حضرت عید الاسلام مولانا عبدالسلام قادری رضوی ہوئے اور حضرت مفتی برہان الحق قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے،جبکہ خاندان کے اندر یہ امتیاز صرف حجت الاسلام مولانا حامد رضا خان قادری رضوی کو حاصل ہوا کہ وہ پہلے خلیفہ اور حضرت مفتی اعظم ہند مصطفیٰ رضا خاں قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے‘‘۔(جذباتِ برہان:12)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 21/ربیع الاول 1310ھ مطابق 13/اکتوبر1894ء کو بعد نماز ِ فجر پیدا ہوئے۔آپ کے جد امجد مولانا شاہ محمد عبدالکریم نقشبندینماز فجر کےبعد قرآن مجید کی تلاوت فرمارہےتھے۔جب برہان ملت کی دادی محترمہ نے ولادت کی خبر سنائی تو اس وقت آیت کریمہ ’’قدجاءکم برھان من ربکم‘‘ جاری بزبان تھی۔خبر سنتے ہی فرمایا کہ ’’الحمد للہ! برھان آگیا‘‘۔(برھانِ ملت کی حیات و خدمات: 42)
تحصیلِ علم:
حضرت برہانِ ملت کی ولادت باسعادت ایک علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی۔جہاں شب و روز قال اللہ اور قال رسول اللہﷺکا درس جاری رہتا تھا۔جس گھرانے سے پورا عالم اسلام رشد و ہدایت حاصل کررہاتھا۔لہذا آپ پانچ سال کی عمر کو پہنچتے ہی کافی باشعور و صاحبِ فراست ہوگئےتھے۔اس کم عمری ہی میں آپ اپنے تمام ہم عمر بچوں میں بالکل ممتاز و منفرد اورایک نرالی شان رکھتےتھے۔
چونکہ آپ کی والدہ ماجدہ اپنے وقت کی ولیہ اور رابعہ بصریہ تھیں۔ سنت و شریعت کی عاملہ اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سرشار تھیں ۔ لہذا ان کی حسنِ تربیت نے علم کی محبت اور حصول ِعلم کا جذبہ آپ کے دل میں پیدا کردیا۔ پانچ برس کی عمر 21/ربیع الاول 1315ھ کو آپ کے جد امجد نے ’’بسم اللہ شریف‘‘ کی افتتاح فرمائی ۔ عربی والد ماجد سے، فارسی چچا حافظ بشیر الدین صاحب سےپڑھی۔ اسی طرح آپ نے ناظرہ سے لے کر علوم ِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اپنے آبائی مکان جبل پور میں کی۔
اعلیٰ حضرت سے شرفِ تلمذ:
حضرت برہانِ ملت فرماتے ہیں: ’’دورانِ درس، گفتگو کے درمیان اکثر و بیشتر اعلیٰ حضرتکا ذکرِ خیر ہوتا تو میرادل زیارت اور قدم بوسی کی تمنا میں بےتاب ہوجاتا‘‘۔تکمیلِ علوم کےبعد بھی ایک خواہش باقی تھی کہ مجددِ وقت امام اہل سنت کے بحرِ بےکنار سے کچھ موتی چُنوں۔بالآخرآپ کی یہ تمنا شوال المکرم 1332ھ کے دوسرے ہفتے میں پوری ہوئی ۔ جب آپ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پہلی مرتبہ حاضر ہوئے،تو انہوں نے آپ کے چہرے کے خدوخال اور آثار وقرائن سے اول ملاقات میں ہی آپ کی ذہانت و فطانت اور آثارِ سعادت کو محسوس فرمالیا تھا۔اس لئے پہلی ملاقات ہی میں فرمادیا تھا: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں برہان الحق،برہان الدین اور برہان السنت بنائے‘‘۔
نام و نسب:
اسم گرامی: خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری۔ لقب: برہانِ ملت،برہان الدین، برہان السنت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، ممدوحِ اعلیٰ حضرت، مظہرِ شریعت۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری بن عید الاسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد السلام جبل پوری بن مولانا شاہ محمد عبد الکریم قادری نقشبندی بن مولانا شاہ محمد عبدالرحمن بن مولانا شاہ محمد عبدالرحیم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبدالوہاب صدیقی طائفی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ کا خاندانی تعلق حضرت سیدنا صدیق اکبر سےہے۔نویں پشت میں آپ کے جد اعلیٰ حضرت شاہ عبدالوہاب صدیقی سلطنتِ آصفیہ کے دورِ حکومت میں نواب صلابت جنگ بہادر کے ساتھ طائف سے ہندوستان تشریف لائے، اور حیدر آباد دکن میں سکونت اختیار کی۔ یہاں حکومتِ آصفیہ کی جانب سے مکہ مسجد کی امامت اور محکمۂ مذہبی امور کے جلیل القدر عہدے پر مامور ہوئے۔ آپ کے خاندان میں مسلسل پانچ پشتوں میں پانچویں آصف جاہ کے زمانے تک برابر قائم رہا۔
مولانا برہان الحق کے جد امجد مولانا شاہ عبد الکریم (م16/رمضان المبارک 1317ھ) اپنے وقت کے جید عالم اور شیخِ طریقت تھے۔تمام علومِ عقلیہ ونقلیہ کے ماہر کامل اور بالخصوص فقہ اور علم طب میں یگانۂ روزگار تھے۔ حضرت برہانِ ملت کے والد گرامی عید الاسلام حضرت شاہ عبدالسلام جبل پوری اعلیٰ حضرت کے محبوب خلیفہ تھے۔ اعلیٰ حضرت اور آپ کے شہزادگان کا اس خاندان سے جو قرب رہا وہ انہیں کاخاصہ ہے۔ کسی دوسرے گھرانے اور خاندان کو یہ شرف حاصل نہ ہوا۔ انہیں کی محبت میں اعلیٰ حضرت بریلی سے جبل پور تشریف لےگئے اور پھر مفتیِ اعظم ہند ایک ماہ سے زائد قیام فرماکر ان کو شرف بخشا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا پروفیسر مسعود احمد رقم طراز ہیں۔ ’’کہ یہ امتیاز صرف آپ کےخاندان کو حاصل ہےکہ آپ کے خاندان کے تین جلیل القدر شخصیات کو امام احمد رضاسے خلافت حاصل ہے،اور آپ کے خاندان کو یہ بھی امتیاز حاصل ہواکہ امام احمد رضا کے خاندان کے باہر پہلے خلیفہ حضرت عید الاسلام مولانا عبدالسلام قادری رضوی ہوئے اور حضرت مفتی برہان الحق قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے،جبکہ خاندان کے اندر یہ امتیاز صرف حجت الاسلام مولانا حامد رضا خان قادری رضوی کو حاصل ہوا کہ وہ پہلے خلیفہ اور حضرت مفتی اعظم ہند مصطفیٰ رضا خاں قادری رضوی آخری خلیفہ ہوئے‘‘۔(جذباتِ برہان:12)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 21/ربیع الاول 1310ھ مطابق 13/اکتوبر1894ء کو بعد نماز ِ فجر پیدا ہوئے۔آپ کے جد امجد مولانا شاہ محمد عبدالکریم نقشبندینماز فجر کےبعد قرآن مجید کی تلاوت فرمارہےتھے۔جب برہان ملت کی دادی محترمہ نے ولادت کی خبر سنائی تو اس وقت آیت کریمہ ’’قدجاءکم برھان من ربکم‘‘ جاری بزبان تھی۔خبر سنتے ہی فرمایا کہ ’’الحمد للہ! برھان آگیا‘‘۔(برھانِ ملت کی حیات و خدمات: 42)
تحصیلِ علم:
حضرت برہانِ ملت کی ولادت باسعادت ایک علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی۔جہاں شب و روز قال اللہ اور قال رسول اللہﷺکا درس جاری رہتا تھا۔جس گھرانے سے پورا عالم اسلام رشد و ہدایت حاصل کررہاتھا۔لہذا آپ پانچ سال کی عمر کو پہنچتے ہی کافی باشعور و صاحبِ فراست ہوگئےتھے۔اس کم عمری ہی میں آپ اپنے تمام ہم عمر بچوں میں بالکل ممتاز و منفرد اورایک نرالی شان رکھتےتھے۔
چونکہ آپ کی والدہ ماجدہ اپنے وقت کی ولیہ اور رابعہ بصریہ تھیں۔ سنت و شریعت کی عاملہ اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے سرشار تھیں ۔ لہذا ان کی حسنِ تربیت نے علم کی محبت اور حصول ِعلم کا جذبہ آپ کے دل میں پیدا کردیا۔ پانچ برس کی عمر 21/ربیع الاول 1315ھ کو آپ کے جد امجد نے ’’بسم اللہ شریف‘‘ کی افتتاح فرمائی ۔ عربی والد ماجد سے، فارسی چچا حافظ بشیر الدین صاحب سےپڑھی۔ اسی طرح آپ نے ناظرہ سے لے کر علوم ِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل اپنے آبائی مکان جبل پور میں کی۔
اعلیٰ حضرت سے شرفِ تلمذ:
حضرت برہانِ ملت فرماتے ہیں: ’’دورانِ درس، گفتگو کے درمیان اکثر و بیشتر اعلیٰ حضرتکا ذکرِ خیر ہوتا تو میرادل زیارت اور قدم بوسی کی تمنا میں بےتاب ہوجاتا‘‘۔تکمیلِ علوم کےبعد بھی ایک خواہش باقی تھی کہ مجددِ وقت امام اہل سنت کے بحرِ بےکنار سے کچھ موتی چُنوں۔بالآخرآپ کی یہ تمنا شوال المکرم 1332ھ کے دوسرے ہفتے میں پوری ہوئی ۔ جب آپ اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پہلی مرتبہ حاضر ہوئے،تو انہوں نے آپ کے چہرے کے خدوخال اور آثار وقرائن سے اول ملاقات میں ہی آپ کی ذہانت و فطانت اور آثارِ سعادت کو محسوس فرمالیا تھا۔اس لئے پہلی ملاقات ہی میں فرمادیا تھا: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں برہان الحق،برہان الدین اور برہان السنت بنائے‘‘۔
👍3❤1
پھر آپ اعلیٰ حضرت کے دارالافتاء میں بیٹھ کر ارشادات نقل کرتے،اور دارالعلوم منظر الاسلام کے صدر مدرس مولانا ظہو الحسن رامپوری کے پاس بھی درس میں شریک ہوجاتے۔اسی طرح اعلیٰ حضرت کےصاحبزادے مفتیِ اعظم ہند اور حضرت صدرالشریعہکےساتھ دارالافتاء میں آپ کا وقت گزرتا۔یہ تینوں حضرات ساتھ ہی کھانا تناول فرماتے۔حضرت برہانِ ملتنے کم و بیش تین سال اعلیٰ حضرت کی خدمت میں گزارے تمام علوم وفنون میں مزید پختگی اور فتویٰ نویسی میں مہارت حاصل کرلی۔ آپ کو فقہ و فتویٰ میں اس قدر مہارت ہوگئی تھی کہ خود اعلیٰ حضرت آپ کی فقہ اور افتاء سےمطمئن و خوش تھے،اور آپ کی ذات پر کامل اعتماد فرمانےلگےتھے۔یہی وجہ تھی کہ جب اعلیٰ حضرت کو غیر منقسم ہندوستان کےلئے قاضیِ شرع اور مفتیِ شرع کی تقرری کرنا ہوئی تو حضرت صدرالشریعہ کو قاضیِ شرع اور حضور مفتیِ اعظم ہند اور حضرت برہانِ ملت علیہماالرحمہ دونوں کوان کامعاون مفتیان ِ شرع مقرر فرمایا۔فقہ اور فتاویٰ کے علاوہ امام اہل سے آپ نےہندسہ،ہیئت،زیجات،تکسیر،جفر،مقالہ،توقیت وغیرہ جیسےکثیر علوم وفنون حاصل کیے۔یہی وجہ ہےکہ اعلیٰ حضرت آپ کو پینتالیس علوم وفنون کی اجازت عطاء فرمائی۔(برہانِ ملت کی حیات وخدمات:46)
جن علمائے کرام سے تحصیل ِ علم کیا ان کے اسمائے گرامی: اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان،مولانا شاہ محمد عبدالکریم،مولانا شاہ محمد عبدالسلام،مولانا قاری بشیر الدین،مولانا عبدالرحمن افغانی،مولانا جلال امیر پشاوری۔ بیعت وخلافت: 1335ھ میں اعلیٰ حضرت سےبیعت کی سعادت حاصل کی،اور 26/جمادیُ الثانی 1337ھ کو جبل پور میں عیدگاہ کلاں کے جلسۂ عا م میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے آپ کو 45علوم اور 11سلسلوں کی اجازت عطاء فرمائی،اور آپ کے والد ماجد سے ارشاد فرمایا: ’’مولانا عید الاسلام صاحب! برہاں میاں آپ کے جسمانی فرزند ہیں اور میرے روحانی فرزند ہیں۔دورانِ قیام بریلی میں فقیر نے ان کا ذہنی،علمی، عملی جائزہ بخوبی لےلیا ہے۔اخلاق ،تقویٰ، فتویٰ،اتباعِ سنت و شریعت وغیرہا،ہر پہلو سے آزمالیا ہے۔میں اپنے اس روحانی فرزندِ سعادت مند ،برہان الحق کو دستارِ فضیلت سے مزین کرکے45؍علوم اور 11؍سلسلوں کی اجازت دیتا ہوں‘‘۔(ایضا: 54)
سیرت و خصائص:
برہانِ ملت،برہان الدین، برہان السنت،خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، ممدوحِ اعلیٰ حضرت،مظہرِ شریعت،آفتابِ طریقت،حامیِ سنت، ماحیِ بدعت،حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری۔آپکی خاندانی شرافت،علمی وجاہت،فقہی بصیرت کی گواہی مجدداعظم نے دی ہے۔اگر آپ کی زندگی کا خلاصہ نکالیں تو آپ حقیقۃً’’عکسِ رضا‘‘ تھے۔فقہ و افتاء وعزم واستقامت،تصلب فی الدین، احقاق حق، وابطال باطل،گیرائی و گہرائی،کلیات و جزئیات پر ملکہ و عبور،اسلاف کی عقیدت،سرکارِ دو عالمﷺسے سچی محبت۔الغرض ہر ہر وصف و خوبی میں اپنے پیر ومرشدکے سچےخلف تھے۔یہی وجہ تھی کہ بہت سے علماء و مفتیان کرام دور دراز علاقوں سے سفر کرکےآپ کی زیارت و استفادہ کےلئے حاضر ہوتے،جنہیں اعلیٰ حضرت کی زیارت یا صحبت حاصل ہوئی تھی وہی فرماتے تھے کہ حضرت برہانِ ملت کی زیارت سے اعلیٰ حضرت کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ سیاسی بصیرت: حضرت برہانِ ملت جہاں دینی و علمی اعتبار سےبلند پایہ عالم ِ دین تھے۔اس کےساتھ ساتھ ملی،ملکی،بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھتےتھے۔اسی طرح اہل سیاست کے مکر وفریب اور دنیاوی و سماجی مسائل کی نزاکت کو بخوبی سمجھتے۔اللہﷻ نے آپ کو ایسی سیاسی بصیرت عطاء فرمائی تھی کہ بڑے بڑے سیاسی لوگ اور حکام و افسران آپ کے سامنے تابِ گفتگو نہ رکھتےتھے۔آپ کے زمانے میں دوچار نہیں بلکہ بےشمار قومی و ملی مسائل آئے،اور بعض مسائل میں تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کفر وباطل کی تندو تیز ہوائیں اسلام کو لے اڑیں گی،اور مسلمانوں کو ان مسائل میں شکست ہوجائے گی۔لیکن حضرت برہان ملت نے ہر ایک مسئلہ کا جم کر مقابلہ کیااور اہل باطل کو مات دی۔گاؤ کشی کی بات ہو،یا مسلم پرسنل لاءکا مسئلہ،اوقاف کی باز یابی کی بات ہو ،یا فسادات جبل پورمیں شجاعت و بہادری کے کارنامے،ہندو مسلم اتحاد کی بات ہو،یا تحریک ِ پاکستان ہرجگہ اور ہر مسئلے میں آپ نے قوم وملت کی صحیح راہ نمائی فرمائی۔اللہﷻ کی مددسے کامیاب رہے۔ تحریکِ پاکستان میں خدمات: آپ نے مسلم لیگ کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔جبل پوراور اس کے نواح میں لوگ مسلم لیگ سے بالکل ناواقف تھے۔جو واقف تھےوہ بھی اس میں شمولیت پسند نہ کرتےتھے۔یہ حضرت کی کوششیں تھیں کہ لوگوں کو مسلم لیگ کا ممبر بنایا۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ قائد محمد علی جناح نے جبل پور میں پچاس ہزار کے مجمعِ عام میں خطاب کرتے ہوئے آپ کی بہت تعریف و توصیف فرمائی۔آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’حضرت مولانا صاحب نےہم پر احسانِ عظیم فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں مسلم لیگ کی محبت و اہمیت پیدا کردی۔اور جبل پور سے جانے کےبعد آپ کےنام ایک طویل خط تحریر کیاجس میں آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا اور شکریے کے
جن علمائے کرام سے تحصیل ِ علم کیا ان کے اسمائے گرامی: اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان،مولانا شاہ محمد عبدالکریم،مولانا شاہ محمد عبدالسلام،مولانا قاری بشیر الدین،مولانا عبدالرحمن افغانی،مولانا جلال امیر پشاوری۔ بیعت وخلافت: 1335ھ میں اعلیٰ حضرت سےبیعت کی سعادت حاصل کی،اور 26/جمادیُ الثانی 1337ھ کو جبل پور میں عیدگاہ کلاں کے جلسۂ عا م میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے آپ کو 45علوم اور 11سلسلوں کی اجازت عطاء فرمائی،اور آپ کے والد ماجد سے ارشاد فرمایا: ’’مولانا عید الاسلام صاحب! برہاں میاں آپ کے جسمانی فرزند ہیں اور میرے روحانی فرزند ہیں۔دورانِ قیام بریلی میں فقیر نے ان کا ذہنی،علمی، عملی جائزہ بخوبی لےلیا ہے۔اخلاق ،تقویٰ، فتویٰ،اتباعِ سنت و شریعت وغیرہا،ہر پہلو سے آزمالیا ہے۔میں اپنے اس روحانی فرزندِ سعادت مند ،برہان الحق کو دستارِ فضیلت سے مزین کرکے45؍علوم اور 11؍سلسلوں کی اجازت دیتا ہوں‘‘۔(ایضا: 54)
سیرت و خصائص:
برہانِ ملت،برہان الدین، برہان السنت،خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، ممدوحِ اعلیٰ حضرت،مظہرِ شریعت،آفتابِ طریقت،حامیِ سنت، ماحیِ بدعت،حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری۔آپکی خاندانی شرافت،علمی وجاہت،فقہی بصیرت کی گواہی مجدداعظم نے دی ہے۔اگر آپ کی زندگی کا خلاصہ نکالیں تو آپ حقیقۃً’’عکسِ رضا‘‘ تھے۔فقہ و افتاء وعزم واستقامت،تصلب فی الدین، احقاق حق، وابطال باطل،گیرائی و گہرائی،کلیات و جزئیات پر ملکہ و عبور،اسلاف کی عقیدت،سرکارِ دو عالمﷺسے سچی محبت۔الغرض ہر ہر وصف و خوبی میں اپنے پیر ومرشدکے سچےخلف تھے۔یہی وجہ تھی کہ بہت سے علماء و مفتیان کرام دور دراز علاقوں سے سفر کرکےآپ کی زیارت و استفادہ کےلئے حاضر ہوتے،جنہیں اعلیٰ حضرت کی زیارت یا صحبت حاصل ہوئی تھی وہی فرماتے تھے کہ حضرت برہانِ ملت کی زیارت سے اعلیٰ حضرت کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ سیاسی بصیرت: حضرت برہانِ ملت جہاں دینی و علمی اعتبار سےبلند پایہ عالم ِ دین تھے۔اس کےساتھ ساتھ ملی،ملکی،بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھتےتھے۔اسی طرح اہل سیاست کے مکر وفریب اور دنیاوی و سماجی مسائل کی نزاکت کو بخوبی سمجھتے۔اللہﷻ نے آپ کو ایسی سیاسی بصیرت عطاء فرمائی تھی کہ بڑے بڑے سیاسی لوگ اور حکام و افسران آپ کے سامنے تابِ گفتگو نہ رکھتےتھے۔آپ کے زمانے میں دوچار نہیں بلکہ بےشمار قومی و ملی مسائل آئے،اور بعض مسائل میں تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کفر وباطل کی تندو تیز ہوائیں اسلام کو لے اڑیں گی،اور مسلمانوں کو ان مسائل میں شکست ہوجائے گی۔لیکن حضرت برہان ملت نے ہر ایک مسئلہ کا جم کر مقابلہ کیااور اہل باطل کو مات دی۔گاؤ کشی کی بات ہو،یا مسلم پرسنل لاءکا مسئلہ،اوقاف کی باز یابی کی بات ہو ،یا فسادات جبل پورمیں شجاعت و بہادری کے کارنامے،ہندو مسلم اتحاد کی بات ہو،یا تحریک ِ پاکستان ہرجگہ اور ہر مسئلے میں آپ نے قوم وملت کی صحیح راہ نمائی فرمائی۔اللہﷻ کی مددسے کامیاب رہے۔ تحریکِ پاکستان میں خدمات: آپ نے مسلم لیگ کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔جبل پوراور اس کے نواح میں لوگ مسلم لیگ سے بالکل ناواقف تھے۔جو واقف تھےوہ بھی اس میں شمولیت پسند نہ کرتےتھے۔یہ حضرت کی کوششیں تھیں کہ لوگوں کو مسلم لیگ کا ممبر بنایا۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ قائد محمد علی جناح نے جبل پور میں پچاس ہزار کے مجمعِ عام میں خطاب کرتے ہوئے آپ کی بہت تعریف و توصیف فرمائی۔آپ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’حضرت مولانا صاحب نےہم پر احسانِ عظیم فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں مسلم لیگ کی محبت و اہمیت پیدا کردی۔اور جبل پور سے جانے کےبعد آپ کےنام ایک طویل خط تحریر کیاجس میں آپ کو خراجِ تحسین پیش کیا اور شکریے کے
الفاظ بارباردہرائے‘‘۔ یہ خط آج بھی محفوظ ہے۔آپ1940ء تا قیام ِ پاکستان جبل پور وغیرہ میں ’’مسلم لیگ‘‘کے صدر تھے۔1940ء میں قرار دادِ پاکستان کی منظوری کےبعد آپ نے ملک کےطول و عرض میں دورےکئے۔سرحد،پنجاب،سندھ میں تحریکِ پاکستان کی حمایت میں زوردار تقریریں کیں۔اس کےلئے کئی دورےکیے۔(تخلیقِ پاکستان میں علماء اہل سنت کاکردار: 123)
یہی وجہ ہے کہ خلفاءِ اعلیٰ حضرت میں بعض حیثیتوں سے آپ کو ممتاز مقام حاصل تھا۔ حضرت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی اور حضرت برہان ِ ملت سیاسی بصیرت اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے نمایاں تھے۔ آپ دونوں ہی تحریک ِ پاکستان کے قائدین میں سے تھے۔ لیکن قیام ِ پاکستان کے بعد اس کے حالات سے نالاں تھے، اور اس کے کسی منصب کی نظرِ التفات بھی نہ فرمائی۔ کیونکہ یہ ملک جس مقصد کے لئے حاصل کیا گیا تھا۔ وہ تھا اسلام۔لیکن ستر سال ہو گئے نظامِ مصطفیٰ ﷺ اس ملک میں نافذ نہ ہوا۔ وہی جاگیر دار، سرمایہ دار، چوہدری اس پر قابض ہو گئے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ قیام ِ پاکستان میں علماء ِاہل سنت اور مشائخِ اہل سنت کا کردار بہت اہم ہے۔اگر یہ حضرات تحریکِ پاکستان کی حمایت نہ کرتے تو پاکستان کاخواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوتا۔دوسری طرف کانگریسی ملاں تھے۔جن کی ضمیر فروشی اور ملت فروشی اور ابن الوقتی کا زمانہ معترف ہے۔ حضرت برہانِ ملت جیسی جامع کمالات شخصیت کے لئے یہ چند صفحات ناکافی ہیں۔آپ کے تمام علمی کمالات اور کارناموں کے لئے کئی صفحات درکار ہیں
تصنیفاتِ برہانِ ملت:
حضرت برہانِ ملت علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ درجنوں کتابیں ہیں ۔ صرف فتاویٰ کی 19 ضخیم جلدیں ہیں ۔ بہت سی کتب ابھی غیر مطبوعہ ہیں ۔درجنوں کتب، ہزاروں تلامذہ و مریدین و خلفاء کے علاوہ آپ نے چار صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں یاد گار چھوڑے ہیں ۔ آپ کے مزید حالات کے لئے ’’برہان ِ ملت کی حیات و خدمات، تالیف: مولانا عبد الوحید مصباحی دام ظلہ ‘‘ کا مطالعہ نہایت مفید ہے ۔
تاریخِ وصال:
26؍ ربیع الاول 1405ھ، مطابق 20؍ دسمبر 1984ء، شبِ جمعہ، شام سوا چھ بجے واصل باللہ ہوئے۔ خانقاہ ِسلامیہ جبل پور مدھیہ پردیش ( انڈیا ) میں مدفون ہیں۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-burhan-ul-haq-jabalpuri
Copyright © Zia-e-Taiba
یہی وجہ ہے کہ خلفاءِ اعلیٰ حضرت میں بعض حیثیتوں سے آپ کو ممتاز مقام حاصل تھا۔ حضرت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی اور حضرت برہان ِ ملت سیاسی بصیرت اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے نمایاں تھے۔ آپ دونوں ہی تحریک ِ پاکستان کے قائدین میں سے تھے۔ لیکن قیام ِ پاکستان کے بعد اس کے حالات سے نالاں تھے، اور اس کے کسی منصب کی نظرِ التفات بھی نہ فرمائی۔ کیونکہ یہ ملک جس مقصد کے لئے حاصل کیا گیا تھا۔ وہ تھا اسلام۔لیکن ستر سال ہو گئے نظامِ مصطفیٰ ﷺ اس ملک میں نافذ نہ ہوا۔ وہی جاگیر دار، سرمایہ دار، چوہدری اس پر قابض ہو گئے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ قیام ِ پاکستان میں علماء ِاہل سنت اور مشائخِ اہل سنت کا کردار بہت اہم ہے۔اگر یہ حضرات تحریکِ پاکستان کی حمایت نہ کرتے تو پاکستان کاخواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہوتا۔دوسری طرف کانگریسی ملاں تھے۔جن کی ضمیر فروشی اور ملت فروشی اور ابن الوقتی کا زمانہ معترف ہے۔ حضرت برہانِ ملت جیسی جامع کمالات شخصیت کے لئے یہ چند صفحات ناکافی ہیں۔آپ کے تمام علمی کمالات اور کارناموں کے لئے کئی صفحات درکار ہیں
تصنیفاتِ برہانِ ملت:
حضرت برہانِ ملت علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ درجنوں کتابیں ہیں ۔ صرف فتاویٰ کی 19 ضخیم جلدیں ہیں ۔ بہت سی کتب ابھی غیر مطبوعہ ہیں ۔درجنوں کتب، ہزاروں تلامذہ و مریدین و خلفاء کے علاوہ آپ نے چار صاحبزادے اور چار صاحبزادیاں یاد گار چھوڑے ہیں ۔ آپ کے مزید حالات کے لئے ’’برہان ِ ملت کی حیات و خدمات، تالیف: مولانا عبد الوحید مصباحی دام ظلہ ‘‘ کا مطالعہ نہایت مفید ہے ۔
تاریخِ وصال:
26؍ ربیع الاول 1405ھ، مطابق 20؍ دسمبر 1984ء، شبِ جمعہ، شام سوا چھ بجے واصل باللہ ہوئے۔ خانقاہ ِسلامیہ جبل پور مدھیہ پردیش ( انڈیا ) میں مدفون ہیں۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-burhan-ul-haq-jabalpuri
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ عبد الحق محدث دہلوی۔ کنیت: ابو المجد ۔ لقب: محقق علی الاطلاق، شیخِ محقق، خاتم المحدثین، افضل المحدثین، امام الہند ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ عبد الحق محدث دہلوی بن سیف الدین بن سعد اللہ بن فیروز بن ملک موسیٰ بن ملک معز الدین بن آغا محمد ترک بخاری ۔ علیہم الرحمہ
حضرت شیخ کے اجداد کا وطن بخارا تھا سب سے پہلے آغاز محمد ترک سلطان علاء الدین خلجی کے زمانہ 1296ء میں ترک وطن کر کے دہلی آئے، ان کے ساتھ اعزہ و احباب اور مریدین کی ایک بڑی تعداد بھی واردِ ہندوستان ہوئی ۔ شاہان دہلی اس خاندان کی ہمیشہ تعظیم و توقیر کرتے اور شاہانہ عنایتوں سے نوازتے رہتے۔ اور یہ خانوادہ دہلی میں علوم و معارف کی شمعیں روشن کرتا رہا۔(محدثین عظام حیات وخدمات:621)
اسی طرح آپ کا ننھیال بھی علم و تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھا۔ شیخ کی والدہ محترمہ مولانا زین العابدین المعروف بہ شیخ ادھنؔ دہلوی کی بیٹی تھیں ۔ شیخ سیف الدین (والد گرامی حضرت محقق) فرماتے تھے: حضرت شیخ ادھن بڑے دانش مند، اور عابد و زاہد تھے ۔
بے حد خشوع و خضوع، خاکساری، ادب و تہذیب اور وقار ودبدبہ والے بزرگ تھے۔میں نے کوئی ایسا نہیں دیکھا جس کا حال ظاہر وباطن یکساں ہو، سوائے شیخ ادھن کے۔ الغرض یہ کہ حضرت شیخ کے ددھیال اور ننھیال دونوں علم وفضل، تقویٰ ودیانت میں ممتاز تھے۔ ان کا دینی احساس بھی بیدار تھا،اپنے دامن کو دنیا کی آلائشوں سے پاک وصاف رکھا، اور اپنے دیگر معاصرین کی طرح دنیوی عزت وحشمت کی خاطر علم ودیانت کو بےآبرو نہیں کیا۔ (شیخ عبد الحق محدث دہلوی:91)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت یکم محرم الحرام 958ھ، مطابق 9 جنوری 1551ء بروز منگل بمقام دہلی (ہند) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
حضرت شیخ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے والد شیخ سیف الدین کی آغوش ِشفقت میں کیا۔ شیخ اتنے ذہین اور طباع واقع ہوئے تھے کہ صرف تین ماہ میں قرآنِ حکیم مکمل کرلیا ارو ایک ماہ کی قلیل مدت میں لکھنا سیکھا لیا۔ پھر فارسی ادبیات اور عربی کتابیں پڑھنی شروع کیں۔ فارسی میں گلستاں، بوستاں، دیوانِ حافظ، ابتدائی عربی، میزان، مصباح، کافیہ کا درس والد صاحب سے لیا۔
آپ فرماتے ہیں:
میں نے قلیل عرصے میں تمام کتابوں پر عبور حاصل کرلیا اور ادب و عربیت، منطق وکلام کی کتابوں پر مکمل دستگاہ ہو جانے کے بعد سات آٹھ برس بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ عرصہ تک بعض ماوراء لنہری علماء سے اس طرح درس لیا کہ شب و روز میں صرف دو تین ساعت کے لیے مطالعہٗ غور و فکر اور مشغولیت سے فارغ رہتا۔ (اخبار الاخیار:291)۔
حضرت شیخ عبد الوہاب متقی سے حدیث اور تصوف کا درس لیا،اور سند حاصل کی۔ شیخ کے نامور اساتذہ یہ ہیں: شیخ سیف الدین، شیخ محمد مقیم، شیخ عبدالوہاب متقی، قاضی علی بن جار اللہ ،شیخ ابی الحزم مدنی، شیخ عبدالوہاب،شیخ محمد بہنسی،شیخ حاجی نظر بدخشی، سید جعفر سمرقندی۔ علیہم الرحمہ ۔ (شیخ عبدالحق محدث دہلوی: 99)
حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی کا شوقِ علم: آپ اپنی کتب بینی کا حال بیان ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’ مطالعہ کرنا میرا شب وروز کا مشغلہ تھا ۔ بچپن ہی سے میرا یہ حال تھا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ کھیل کود کیا ہے؟ آرام وآسائش کے کیا معانی ہیں ؟ سیر کیا ہوتی ہے ؟ بارہا ایسا ہوا کہ مطالعہ کرتے کرتے آدھی رات ہوگئی تو والد ِ محترم سمجھاتے : ’’بابا! کیا کرتے ہو؟ ’’یہ سنتے ہی میں فوراً لیٹ جاتا اور جواب دیتا :’’سونے لگا ہوں‘‘ پھر جب کچھ دیر گزر جاتی تو اٹھ بیٹھتا اور پھر سے مطالعے میں مصروف ہوجاتا۔ بسا اوقات یوں بھی ہوا کہ دوران ِ مطالعہ سر کے بال اور عمامہ وغیرہ چراغ سے چھو کر جھلس جاتے لیکن مطالعہ میں مگن ہونے کی وجہ سے پتانہ چلتا‘‘۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اوّل ،مقدمہ ، ص72)۔
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
میرے والدین ہر چند کہتے تھے کہ تھوڑی دیر کے لیے محلہ کے لڑکوں کے ساتھ کھیل لو اور وقت پر سوجاؤ میں کہتا تھا کہ آخر کھیلنے سے مقصد دل کا خوش کرنا ہی تو ہے۔ میری طبیعت اسی سے خوش ہوتی ہے کہ کچھ پڑھوں یا لکھوں۔ عام طور پر ماں باپ بچوں کو پڑھنے اور مکتب جانے کی تاکید اور تنبیہ کیا کرتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس مجھے کھیل کود کی ترغیب دیتے تھے۔ (اخبار الاخیار: 302)
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ قادریہ میں اپنے والدِ گرامی سے بیعت ومجاز ہوئے۔ آپ فرماتے ہیں: والدم را برمن حق پدری، واستادی، ودوستی،وپیری جمع است۔ پھر آپ نے بعمر 27 سال، 6 شوال 985ھ کی صبح حضرت سید موسیٰ پاک شہید سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔ ان کے علاوہ حضرت شیخ باقی بااللہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ سے اجازت حاصل ہوئی ۔ شیخ عبد الوہاب متقی نے آپ کو سلسلہ قادریہ جیلانیہ متقیہ کے ساتھ قادریہ، شاذلیہ، مدینیہ اور چشتیہ کاخرقہ تصوف پہنایا۔(شیخ عبد الحق:95)
نام و نسب:
اسم گرامی: شیخ عبد الحق محدث دہلوی۔ کنیت: ابو المجد ۔ لقب: محقق علی الاطلاق، شیخِ محقق، خاتم المحدثین، افضل المحدثین، امام الہند ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
شیخ عبد الحق محدث دہلوی بن سیف الدین بن سعد اللہ بن فیروز بن ملک موسیٰ بن ملک معز الدین بن آغا محمد ترک بخاری ۔ علیہم الرحمہ
حضرت شیخ کے اجداد کا وطن بخارا تھا سب سے پہلے آغاز محمد ترک سلطان علاء الدین خلجی کے زمانہ 1296ء میں ترک وطن کر کے دہلی آئے، ان کے ساتھ اعزہ و احباب اور مریدین کی ایک بڑی تعداد بھی واردِ ہندوستان ہوئی ۔ شاہان دہلی اس خاندان کی ہمیشہ تعظیم و توقیر کرتے اور شاہانہ عنایتوں سے نوازتے رہتے۔ اور یہ خانوادہ دہلی میں علوم و معارف کی شمعیں روشن کرتا رہا۔(محدثین عظام حیات وخدمات:621)
اسی طرح آپ کا ننھیال بھی علم و تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھا۔ شیخ کی والدہ محترمہ مولانا زین العابدین المعروف بہ شیخ ادھنؔ دہلوی کی بیٹی تھیں ۔ شیخ سیف الدین (والد گرامی حضرت محقق) فرماتے تھے: حضرت شیخ ادھن بڑے دانش مند، اور عابد و زاہد تھے ۔
بے حد خشوع و خضوع، خاکساری، ادب و تہذیب اور وقار ودبدبہ والے بزرگ تھے۔میں نے کوئی ایسا نہیں دیکھا جس کا حال ظاہر وباطن یکساں ہو، سوائے شیخ ادھن کے۔ الغرض یہ کہ حضرت شیخ کے ددھیال اور ننھیال دونوں علم وفضل، تقویٰ ودیانت میں ممتاز تھے۔ ان کا دینی احساس بھی بیدار تھا،اپنے دامن کو دنیا کی آلائشوں سے پاک وصاف رکھا، اور اپنے دیگر معاصرین کی طرح دنیوی عزت وحشمت کی خاطر علم ودیانت کو بےآبرو نہیں کیا۔ (شیخ عبد الحق محدث دہلوی:91)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت یکم محرم الحرام 958ھ، مطابق 9 جنوری 1551ء بروز منگل بمقام دہلی (ہند) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
حضرت شیخ نے ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے والد شیخ سیف الدین کی آغوش ِشفقت میں کیا۔ شیخ اتنے ذہین اور طباع واقع ہوئے تھے کہ صرف تین ماہ میں قرآنِ حکیم مکمل کرلیا ارو ایک ماہ کی قلیل مدت میں لکھنا سیکھا لیا۔ پھر فارسی ادبیات اور عربی کتابیں پڑھنی شروع کیں۔ فارسی میں گلستاں، بوستاں، دیوانِ حافظ، ابتدائی عربی، میزان، مصباح، کافیہ کا درس والد صاحب سے لیا۔
آپ فرماتے ہیں:
میں نے قلیل عرصے میں تمام کتابوں پر عبور حاصل کرلیا اور ادب و عربیت، منطق وکلام کی کتابوں پر مکمل دستگاہ ہو جانے کے بعد سات آٹھ برس بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ عرصہ تک بعض ماوراء لنہری علماء سے اس طرح درس لیا کہ شب و روز میں صرف دو تین ساعت کے لیے مطالعہٗ غور و فکر اور مشغولیت سے فارغ رہتا۔ (اخبار الاخیار:291)۔
حضرت شیخ عبد الوہاب متقی سے حدیث اور تصوف کا درس لیا،اور سند حاصل کی۔ شیخ کے نامور اساتذہ یہ ہیں: شیخ سیف الدین، شیخ محمد مقیم، شیخ عبدالوہاب متقی، قاضی علی بن جار اللہ ،شیخ ابی الحزم مدنی، شیخ عبدالوہاب،شیخ محمد بہنسی،شیخ حاجی نظر بدخشی، سید جعفر سمرقندی۔ علیہم الرحمہ ۔ (شیخ عبدالحق محدث دہلوی: 99)
حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی کا شوقِ علم: آپ اپنی کتب بینی کا حال بیان ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’ مطالعہ کرنا میرا شب وروز کا مشغلہ تھا ۔ بچپن ہی سے میرا یہ حال تھا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ کھیل کود کیا ہے؟ آرام وآسائش کے کیا معانی ہیں ؟ سیر کیا ہوتی ہے ؟ بارہا ایسا ہوا کہ مطالعہ کرتے کرتے آدھی رات ہوگئی تو والد ِ محترم سمجھاتے : ’’بابا! کیا کرتے ہو؟ ’’یہ سنتے ہی میں فوراً لیٹ جاتا اور جواب دیتا :’’سونے لگا ہوں‘‘ پھر جب کچھ دیر گزر جاتی تو اٹھ بیٹھتا اور پھر سے مطالعے میں مصروف ہوجاتا۔ بسا اوقات یوں بھی ہوا کہ دوران ِ مطالعہ سر کے بال اور عمامہ وغیرہ چراغ سے چھو کر جھلس جاتے لیکن مطالعہ میں مگن ہونے کی وجہ سے پتانہ چلتا‘‘۔ (اشعۃ اللمعات، جلد اوّل ،مقدمہ ، ص72)۔
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
میرے والدین ہر چند کہتے تھے کہ تھوڑی دیر کے لیے محلہ کے لڑکوں کے ساتھ کھیل لو اور وقت پر سوجاؤ میں کہتا تھا کہ آخر کھیلنے سے مقصد دل کا خوش کرنا ہی تو ہے۔ میری طبیعت اسی سے خوش ہوتی ہے کہ کچھ پڑھوں یا لکھوں۔ عام طور پر ماں باپ بچوں کو پڑھنے اور مکتب جانے کی تاکید اور تنبیہ کیا کرتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس مجھے کھیل کود کی ترغیب دیتے تھے۔ (اخبار الاخیار: 302)
بیعت و خلافت:
سلسلہ عالیہ قادریہ میں اپنے والدِ گرامی سے بیعت ومجاز ہوئے۔ آپ فرماتے ہیں: والدم را برمن حق پدری، واستادی، ودوستی،وپیری جمع است۔ پھر آپ نے بعمر 27 سال، 6 شوال 985ھ کی صبح حضرت سید موسیٰ پاک شہید سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خرقۂ خلافت حاصل کیا ۔ ان کے علاوہ حضرت شیخ باقی بااللہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ سے اجازت حاصل ہوئی ۔ شیخ عبد الوہاب متقی نے آپ کو سلسلہ قادریہ جیلانیہ متقیہ کے ساتھ قادریہ، شاذلیہ، مدینیہ اور چشتیہ کاخرقہ تصوف پہنایا۔(شیخ عبد الحق:95)
❤1
سیرت و خصائص:
محقق علی الاطلاق، شیخ المحققین، خاتم المحدثین، افضل المحدثین، امام الہند، برکتُ الہند،محسن الامت، فخرِ ملت، نابغۂ روزگار، عالم و عارف، فقیہ، محدث، محقق، مدقق، حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی۔ آپ علیہ الرحمہ کی ثقاہت، فقاہت، علمی دیانت، اور فضیلت، کا نہیں انکار کرےگا مگر اندھا متعصب، اور جاہل۔ تمام طبقات میں آپ کی ذات مُسَلَّم ہے۔
آپ ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے سب سے پہلے علمِ حدیث حرمین شریفین سے حاصل کرکے، اس خطۂ ہندوستان کوعلم ِ نبوی سے منور کیا،اور اس علم کو عام کیا۔حدیث کی شروحات فارسی زبان میں تحریر کرکے اور ان کی وسیع پیمانے پر طباعت کروا کر پورے خطے میں عام کروائیں،تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ علوم نبوی سےفیض یاب ہوں۔صِغرسِنی میں ہی آپ کی شہرت عام ہوگئی تھی۔جب تکمیلِ علم کے بعد آپ نے ہندوستان کی راجدھانی فتح پوری سیکری کا قصد کیا۔ جو اس وقت علماء و فضل کا مرکزتھا۔ شیخ کے تعلقات ملک الشعراء فیضی سے تھے چنانچہ شیخ جب فتح پور سیکری پہنچے تو آپ کا شایانِ شان استقبال کیا گیا اور دربار شاہی میں خوب پذیرائی ہوئی۔ خود فرماتے ہیں: ’’جب اللہ کے فضل و کرم سے مجھے علم کا خاصہ حصہ مل گیا تو بعض اہل ِحقوق نے مجھے اہل دنیا کی طرف بلایا اور میں بادشاہ وقت اور امراء کے پاس گیا انہوں نے میری طرف بہت توجہ کی اور عزت سے پیش آئے ‘‘۔(المکاتیب والرسائل: 279)
یہ وہ دور تھا جب اکبر کے الحادی رجحانات شروع ہوچکے تھے اور علماء ِسُوء کا ایک بہت بڑا گروہ اس کےگرد جمع ہوگیا تھا۔ جن کی مدد سے اکبر اپنی لادینی تحریک کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ شیخ کو بھی آلۂ کار بنانے کی کوشش کی گئی مگر وہ عالم ربانی جس نے بچپن سے لے کر فتح پور سکری پہنچنے تک خالص دینی ماحول میں تعلیم و تربیت پائی تھی ۔جنہیں قدرت نے علم کی اشاعت اور حق کی حمایت کے لیے پیدا کیا تھا وہ بھلا ایسے ملحدانہ ماحول میں رہنا کیوں کر پسند کرسکتے تھے۔اس درباری ماحول میں بہت جلد ان کی طبیعت اچاٹ ہوگئی۔اگر زمانہ سازی پر ان کی طبیعت ذرا بھی راضی ہوجاتی تو دولت و ثروت اوردنیاوی جاہ و حشمت ان کے قدم چومتی۔ لیکن ان کا مذہبی شعور بیدار تھا اوروہ کسی قیمت پر اپنے ضمیر کی آواز کو دبانے کے لیے تیار نہ تھے۔ اکبر کے سیاسی اقتدار نے اتنی قوت پالی تھی کہ اس کے خلاف انفرادی جدوجہد کامیاب نہیں ہوسکتی تھی اس پر آشوب ماحول میں آپ نے ترک وطن کا ارادہ کرلیا اور حجاز مقدس کی راہ لی۔آپ فرماتے ہیں: 996ھ میں جذبہ غیب سے پیدا ہوگیا اور دل پر وحشت طاری ہوگئی دیوانگی کی حالت میں سفر کا ارادہ کرنے کے علاوہ میرے لیے کوئی اور چارہ نہ رہا۔ (مقدمہ زاد المتقین) مکہ مکرمہ میں اس وقت حضرت شیخ عبدالوہاب متقی کا فیض عام تھا،آپ ان کی خدمت میں پہنچے۔آپ فرماتے ہیں: ’’تمام اہلِ حرمین اور کل مشائخِ یمن، اور مشائخ مصر و شام سے جس نے حضرت کو دیکھا ہے ان کا معتقد ہے اور ان کی ولایت اور علوشان کا قائل ہے۔ (اخبار الاخیار، ص263)
شیخ عبدالوہاب کی علمی و روحانی تعلیم و تربیت نے شیخ عبدالحق کی ذات کو علم و عمل، زہد و ورع کا روشن مینار بنادیا۔ آپ نے حجاز کے دورانِ قیام متعدد حج کیے اور مکہ سے مدینہ منورہ کا سفر بھی کیا۔ وہ حضرت رسالت مآبﷺ سے بےکراں محبت رکھتے تھے۔ یہی عشق رسول ﷺان کا سرمایۂ حیات تھا۔ چنانچہ جب دیار حبیب میں پہنچے تو برہنہ پا ہوگئے۔ مدینہ منورہ میں کبھی جوتیاں نہ پہنیں۔ اپنے جذبۂ عقیدت و محبت کو سلک نظم میں پروکر بارگاہ رسالت ﷺ میں ایک قصیدہ پیش کیا ۔ بیا اے دل قدم نہ برسرِکوئے وفا آنگہ۔۔۔۔ زِراہِ صدق ِجاں راخاک راہِ آں کف ِپاکُن خرابم درغمِ ہجرِ جمالت یا رسول اللہ۔۔۔۔۔۔ جمالِ خود نُما رحمے بجان زارِ شیدا کن سرکارﷺ کی نظرِ کرم: آپرسول اللہﷺکے عاشقِ صادق تھے۔ہروقت آپﷺکی محبت میں تڑپتےرہتےتھے، اور میرے آقا ﷺاپنے محبین پر خاص کرم فرماتے ہیں۔حضرت شیخ نے چار بار زیارت رسولﷺ کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے 21 ذی الحجہ 998ھ میں ایک خواب دیکھا جو اس طرح بیان کرتے ہیں: ’’میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ ایک تخت پر بیٹھے ہوئے حدث شریف کا درس دے رہے ہیں اور جمال و جلال کے وہ انوار ان کے چہرۂ مبارک سے چمک رہے ہیں جن سے زیادہ تصور ہی نہیں کیے جاسکتے‘‘۔ اسی شب یہ خواب بھی دیکھا کہ حضرت امام حسین اعداء ِدین سے لڑنے کے لیے لشکر تیار کر رہے ہیں۔ شیخ عبدالحق کی پوری زندگی حقیقت میں اسی خواب کی تعبیر بن گئی وہ آخری سانس تک حدیث کی نشرو اشاعت میں سرگرم اور اعداء دین کے خلاف نبرد آزمائی میں مصروف رہے۔ مراجعتِ ہندوستان: شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے جن پریشان کن حالات میں ہندوستان چھوڑا تھا اور حجازِ مقدس کی علمی و روحانی فضاؤں میں انہیں اطمینان خاطر نصیب ہوا اور ان کی علمی و روحانی شخصیت کی تعمیر و تشکیل ہوئی انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ شہر امن ہی کو اپنا مسکن بنا لیں گے مگر رہبر کامل شیخ عبدالوہاب متقی نے
محقق علی الاطلاق، شیخ المحققین، خاتم المحدثین، افضل المحدثین، امام الہند، برکتُ الہند،محسن الامت، فخرِ ملت، نابغۂ روزگار، عالم و عارف، فقیہ، محدث، محقق، مدقق، حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی۔ آپ علیہ الرحمہ کی ثقاہت، فقاہت، علمی دیانت، اور فضیلت، کا نہیں انکار کرےگا مگر اندھا متعصب، اور جاہل۔ تمام طبقات میں آپ کی ذات مُسَلَّم ہے۔
آپ ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے سب سے پہلے علمِ حدیث حرمین شریفین سے حاصل کرکے، اس خطۂ ہندوستان کوعلم ِ نبوی سے منور کیا،اور اس علم کو عام کیا۔حدیث کی شروحات فارسی زبان میں تحریر کرکے اور ان کی وسیع پیمانے پر طباعت کروا کر پورے خطے میں عام کروائیں،تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ علوم نبوی سےفیض یاب ہوں۔صِغرسِنی میں ہی آپ کی شہرت عام ہوگئی تھی۔جب تکمیلِ علم کے بعد آپ نے ہندوستان کی راجدھانی فتح پوری سیکری کا قصد کیا۔ جو اس وقت علماء و فضل کا مرکزتھا۔ شیخ کے تعلقات ملک الشعراء فیضی سے تھے چنانچہ شیخ جب فتح پور سیکری پہنچے تو آپ کا شایانِ شان استقبال کیا گیا اور دربار شاہی میں خوب پذیرائی ہوئی۔ خود فرماتے ہیں: ’’جب اللہ کے فضل و کرم سے مجھے علم کا خاصہ حصہ مل گیا تو بعض اہل ِحقوق نے مجھے اہل دنیا کی طرف بلایا اور میں بادشاہ وقت اور امراء کے پاس گیا انہوں نے میری طرف بہت توجہ کی اور عزت سے پیش آئے ‘‘۔(المکاتیب والرسائل: 279)
یہ وہ دور تھا جب اکبر کے الحادی رجحانات شروع ہوچکے تھے اور علماء ِسُوء کا ایک بہت بڑا گروہ اس کےگرد جمع ہوگیا تھا۔ جن کی مدد سے اکبر اپنی لادینی تحریک کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ شیخ کو بھی آلۂ کار بنانے کی کوشش کی گئی مگر وہ عالم ربانی جس نے بچپن سے لے کر فتح پور سکری پہنچنے تک خالص دینی ماحول میں تعلیم و تربیت پائی تھی ۔جنہیں قدرت نے علم کی اشاعت اور حق کی حمایت کے لیے پیدا کیا تھا وہ بھلا ایسے ملحدانہ ماحول میں رہنا کیوں کر پسند کرسکتے تھے۔اس درباری ماحول میں بہت جلد ان کی طبیعت اچاٹ ہوگئی۔اگر زمانہ سازی پر ان کی طبیعت ذرا بھی راضی ہوجاتی تو دولت و ثروت اوردنیاوی جاہ و حشمت ان کے قدم چومتی۔ لیکن ان کا مذہبی شعور بیدار تھا اوروہ کسی قیمت پر اپنے ضمیر کی آواز کو دبانے کے لیے تیار نہ تھے۔ اکبر کے سیاسی اقتدار نے اتنی قوت پالی تھی کہ اس کے خلاف انفرادی جدوجہد کامیاب نہیں ہوسکتی تھی اس پر آشوب ماحول میں آپ نے ترک وطن کا ارادہ کرلیا اور حجاز مقدس کی راہ لی۔آپ فرماتے ہیں: 996ھ میں جذبہ غیب سے پیدا ہوگیا اور دل پر وحشت طاری ہوگئی دیوانگی کی حالت میں سفر کا ارادہ کرنے کے علاوہ میرے لیے کوئی اور چارہ نہ رہا۔ (مقدمہ زاد المتقین) مکہ مکرمہ میں اس وقت حضرت شیخ عبدالوہاب متقی کا فیض عام تھا،آپ ان کی خدمت میں پہنچے۔آپ فرماتے ہیں: ’’تمام اہلِ حرمین اور کل مشائخِ یمن، اور مشائخ مصر و شام سے جس نے حضرت کو دیکھا ہے ان کا معتقد ہے اور ان کی ولایت اور علوشان کا قائل ہے۔ (اخبار الاخیار، ص263)
شیخ عبدالوہاب کی علمی و روحانی تعلیم و تربیت نے شیخ عبدالحق کی ذات کو علم و عمل، زہد و ورع کا روشن مینار بنادیا۔ آپ نے حجاز کے دورانِ قیام متعدد حج کیے اور مکہ سے مدینہ منورہ کا سفر بھی کیا۔ وہ حضرت رسالت مآبﷺ سے بےکراں محبت رکھتے تھے۔ یہی عشق رسول ﷺان کا سرمایۂ حیات تھا۔ چنانچہ جب دیار حبیب میں پہنچے تو برہنہ پا ہوگئے۔ مدینہ منورہ میں کبھی جوتیاں نہ پہنیں۔ اپنے جذبۂ عقیدت و محبت کو سلک نظم میں پروکر بارگاہ رسالت ﷺ میں ایک قصیدہ پیش کیا ۔ بیا اے دل قدم نہ برسرِکوئے وفا آنگہ۔۔۔۔ زِراہِ صدق ِجاں راخاک راہِ آں کف ِپاکُن خرابم درغمِ ہجرِ جمالت یا رسول اللہ۔۔۔۔۔۔ جمالِ خود نُما رحمے بجان زارِ شیدا کن سرکارﷺ کی نظرِ کرم: آپرسول اللہﷺکے عاشقِ صادق تھے۔ہروقت آپﷺکی محبت میں تڑپتےرہتےتھے، اور میرے آقا ﷺاپنے محبین پر خاص کرم فرماتے ہیں۔حضرت شیخ نے چار بار زیارت رسولﷺ کا شرف حاصل کیا۔ انہوں نے 21 ذی الحجہ 998ھ میں ایک خواب دیکھا جو اس طرح بیان کرتے ہیں: ’’میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ ایک تخت پر بیٹھے ہوئے حدث شریف کا درس دے رہے ہیں اور جمال و جلال کے وہ انوار ان کے چہرۂ مبارک سے چمک رہے ہیں جن سے زیادہ تصور ہی نہیں کیے جاسکتے‘‘۔ اسی شب یہ خواب بھی دیکھا کہ حضرت امام حسین اعداء ِدین سے لڑنے کے لیے لشکر تیار کر رہے ہیں۔ شیخ عبدالحق کی پوری زندگی حقیقت میں اسی خواب کی تعبیر بن گئی وہ آخری سانس تک حدیث کی نشرو اشاعت میں سرگرم اور اعداء دین کے خلاف نبرد آزمائی میں مصروف رہے۔ مراجعتِ ہندوستان: شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے جن پریشان کن حالات میں ہندوستان چھوڑا تھا اور حجازِ مقدس کی علمی و روحانی فضاؤں میں انہیں اطمینان خاطر نصیب ہوا اور ان کی علمی و روحانی شخصیت کی تعمیر و تشکیل ہوئی انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ شہر امن ہی کو اپنا مسکن بنا لیں گے مگر رہبر کامل شیخ عبدالوہاب متقی نے
❤2
علوم و معارف کی تمام وادیوں کی سیر کرادی اور مرد کامل بنا دیا تو ہندوستان لوٹ جانے کا حکم دیا۔آپ فرماتے ہیں: میرے دل میں حضرت غوثِ اعظم کی زیارت کااشتیاق تھا کہ یہاں سے بغداد جاؤں گا،لیکن شیخ نے اس سےبھی منع کردیا،اور فرمایا:’’اب تمہیں یہاں رہنے یا وطن اصلی کے علاوہ دوسری جگہ جانے کی اجازت نہیں۔ حضرت غوث اعظم تمہارے ساتھ ہیں جس جگہ بھی رہو ان سے محبت اور اعتقادکے ساتھ ان کی طرف توجہ رکھو ان کی پیروی کی کوشش کرو ان کے حکم پر چلو ‘‘۔اور شیخ عبدالوہاب نے بوقت روانگی حضرت غوث پاک کا ایک پیراہن مبارک عطا کیا اور فرمایا: ’’آپ بیکار نہ بیٹھیے گا ان شاء اللہ اس طرف سے امداد انوار مسلسل ہوتی رہے گی۔ شیخ عبدالحق کا مدرسۂ علم و ارشاد: شیخ حجاز مقدس سے جب ہندوستان وارد ہوئے تو یہاں کی فضا پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوچکی تھی۔ اکبر اور اس کے حاشیۂ نشینوں نے اپنے الحادی مشن نام نہاد دین الہیٰ کی اشاعت کھلم کھلا شروع کردی تھی۔ اسلامی شریعت اور دینی روایات کا برملا مذاق اڑایا جاتا۔ اکبر کوظلِّ اِلٰہ کہنے والوں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا:’’مرتبۂ سلطان ِعادل عنداللہ زیادہ از مرتبۂ مجتہداست‘‘۔اس محضر کی رو سے اکبر کو معاذ اللہ پیغمبر کا درجہ دینے کی ناپاک جسارت کی گئی۔ قرآن و سنت کے احکام سے بے اعتنائی عام ہونے لگی تھی۔ عوامی زندگی اور مدارس و خانقاہ اس تحریک کے مضر اثرات سے محفوظ نہ رہ سکے۔ صوفیا نے شریعت کو طریقت سے علیحدہ کرکے اپنے غیر شرعی اعمال کا جواز تلاش کرلیا۔ علماء سوء نے فقہ کو اپنی بہانہ جو فطرت کا آلہ بنایا،اور حیلہ بازی کا وہ دور شروع ہوا کہ بقول ملا عبدالقادر بدایونی’’حِیَلِ بنی اسرائیل پیش آں شرمندہ‘‘۔ (منتخب التواریخ، ج2 ص203)۔
شیخ نے انہیں روح فرسا حالات سے متاثر ہوکر ہندوستان چھوڑا تھا کیوں کہ اس فتنہ کے تدارک کی قوت ان کے اندر موجود نہ تھی۔مگر اب وہ علوم دینی کا بیکراں سرمایہ اپنے سینے میں لےکر لوٹے تھے،اور فتنوں کی مدافعت کی بھرپورتوانائی ان کے اندر پیدا ہوچکی تھی جسے بروئے کار لاکر علم نبوت کی اشاعت باطل کی تردید اور دین حق کے احیاء کا کام لینا تھا۔چناں چہ دہلی واپس آکر 1000ھ میں حلقۂ درس قائم کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دین ِالہیٰ مُسلم معاشرےکو پانی لپیٹ میں لینے کے لیے زورمار رہا تھا۔ اکبر کے زیر اثر علماء سوء اور مفاد پرست صوفیوں کا ایک ایسا گروہ پیدا ہوگیا تھا جو دین کی حقیقی روح کو ختم کردینے کے لیے آمادہ تھا ایسے نازک اور پر آشوب ماحول میں حضرت شیخ نے ایسا مدرسہ قائم کیا جس نے صرف شریعت و سنت کی حقیقی روح کو اجاگر ہی نہیں کیا بلکہ باطل پرستوں کی ایسی سرکوبی کی کہ دوبارہ پنپنے کا موقع بھی نہ ملا دوسری درسگاہوں کے برخلاف اس مدرسہ میں قرآن و حدیث کو تمام علوم دینی کا مرکزی نقطۂ نظر قرار دے کر تعلیم دی جاتی تھی ۔ فنِ حدیث میں شیخ کی خدمات و کمالات کا دائرہ کافی وسیع ہے ان کا سب سے بڑا اور اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں علم حدیث کو غیر معمولی فروغ دیا۔ چوں کہ شیخ کے زمانہ میں حدیث شریف سے غفلت برتی جارہی تھی اور دین کی اصل سے بے اعتنائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین کی حقیقی روح ماند پڑنے لگی اپنے وقت میں شیخ نے پوری قوت کے ساتھ حدیث و سنت کی تعلیم کا بیڑا اٹھا یا اور سنت ِرسول ﷺکے ذریعہ اسلامی معاشرہ کی عروق مردہ میں روح ڈال دی۔ آپ زندگی بھر کتاب و سنت کی تعلیم دیتے رہے اور پورے ہندوستان میں آپ کی درسگاہ امتیازی شان کی مالک تھی جہاں صدہا طالب علم بیک وقت تعلیم پاتے اور شیخ کے علاوہ متعدد باصلاحیت علماء مدرس تھے اس طرح شیخ کے ہزاروں ایسے باکمال مخلص تلامذہ پیدا ہوگئے جنہوں نے شیخ کی تحریک احیاء شریعت و سنت کے آگے بڑھایا۔شیخ اپنے مدرسہ میں صرف عالم ہی پیدا نہ کرتے تھے بلکہ وہ ایسے مردمجاہد تیار کرتے جو باطل کے خلاف صف آراء ہوسکیں اور دین و شریعت کی بقاء و تحفظ کے لیے پوری عمر سرگرم عمل رہیں۔حضرت شیخ کی عبقری ذات مرجع ِ خلائق بن گئی تھی۔ آپ کے علمی و روحانی کمالات سے مستفیض ہونے کے لیے صرف عوام اور طلبہ ہی نہیں علماء و مشائخ، امراء و سلاطین بارگاہِ عالی میں حاضر ہوکر سرنیاز خم کرتے اور قدم بوسی کی سعادت حاصل کرتے۔ بادشاہ ہندوستان شاہجہاں زیارت کے لیے حاضر ہوا اور نیازمندی کا ظہار کیا۔ 1028ھ میں جب وہ کشمیر کی مہم پر روانہ ہونے لگا تو شیخ سے دعاؤں کا طالب ہوا۔اس مختصر تذکرے میں حضرت محقق کی سیرتِ پاک کا احاطہ ناممکن ہے۔
تصانیف:
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی صرف بلند پایہ مدرس اور روحانی مربی ہی نہ تھے بلکہ وہ اپنے زمانہ کے بڑے باکمال صاحب قلم مصنف بھی تھے اور انہوں نے عمر بھر درس و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالف کا شغل بھی جاری رکھا جس طرح وہ ہندوستان کے عظیم محدث ہیں اسی طرح وہ ممتاز مصنف بھی ہیں ان کی تصانیف کی تعداد ایک سو سے زیادہ بتائی جاتی ہے جو حدیث، تفسیر، عقائد، تصوف و اخلاق، فقہ، اعمال و اوراد،
شیخ نے انہیں روح فرسا حالات سے متاثر ہوکر ہندوستان چھوڑا تھا کیوں کہ اس فتنہ کے تدارک کی قوت ان کے اندر موجود نہ تھی۔مگر اب وہ علوم دینی کا بیکراں سرمایہ اپنے سینے میں لےکر لوٹے تھے،اور فتنوں کی مدافعت کی بھرپورتوانائی ان کے اندر پیدا ہوچکی تھی جسے بروئے کار لاکر علم نبوت کی اشاعت باطل کی تردید اور دین حق کے احیاء کا کام لینا تھا۔چناں چہ دہلی واپس آکر 1000ھ میں حلقۂ درس قائم کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دین ِالہیٰ مُسلم معاشرےکو پانی لپیٹ میں لینے کے لیے زورمار رہا تھا۔ اکبر کے زیر اثر علماء سوء اور مفاد پرست صوفیوں کا ایک ایسا گروہ پیدا ہوگیا تھا جو دین کی حقیقی روح کو ختم کردینے کے لیے آمادہ تھا ایسے نازک اور پر آشوب ماحول میں حضرت شیخ نے ایسا مدرسہ قائم کیا جس نے صرف شریعت و سنت کی حقیقی روح کو اجاگر ہی نہیں کیا بلکہ باطل پرستوں کی ایسی سرکوبی کی کہ دوبارہ پنپنے کا موقع بھی نہ ملا دوسری درسگاہوں کے برخلاف اس مدرسہ میں قرآن و حدیث کو تمام علوم دینی کا مرکزی نقطۂ نظر قرار دے کر تعلیم دی جاتی تھی ۔ فنِ حدیث میں شیخ کی خدمات و کمالات کا دائرہ کافی وسیع ہے ان کا سب سے بڑا اور اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے ہندوستان میں علم حدیث کو غیر معمولی فروغ دیا۔ چوں کہ شیخ کے زمانہ میں حدیث شریف سے غفلت برتی جارہی تھی اور دین کی اصل سے بے اعتنائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین کی حقیقی روح ماند پڑنے لگی اپنے وقت میں شیخ نے پوری قوت کے ساتھ حدیث و سنت کی تعلیم کا بیڑا اٹھا یا اور سنت ِرسول ﷺکے ذریعہ اسلامی معاشرہ کی عروق مردہ میں روح ڈال دی۔ آپ زندگی بھر کتاب و سنت کی تعلیم دیتے رہے اور پورے ہندوستان میں آپ کی درسگاہ امتیازی شان کی مالک تھی جہاں صدہا طالب علم بیک وقت تعلیم پاتے اور شیخ کے علاوہ متعدد باصلاحیت علماء مدرس تھے اس طرح شیخ کے ہزاروں ایسے باکمال مخلص تلامذہ پیدا ہوگئے جنہوں نے شیخ کی تحریک احیاء شریعت و سنت کے آگے بڑھایا۔شیخ اپنے مدرسہ میں صرف عالم ہی پیدا نہ کرتے تھے بلکہ وہ ایسے مردمجاہد تیار کرتے جو باطل کے خلاف صف آراء ہوسکیں اور دین و شریعت کی بقاء و تحفظ کے لیے پوری عمر سرگرم عمل رہیں۔حضرت شیخ کی عبقری ذات مرجع ِ خلائق بن گئی تھی۔ آپ کے علمی و روحانی کمالات سے مستفیض ہونے کے لیے صرف عوام اور طلبہ ہی نہیں علماء و مشائخ، امراء و سلاطین بارگاہِ عالی میں حاضر ہوکر سرنیاز خم کرتے اور قدم بوسی کی سعادت حاصل کرتے۔ بادشاہ ہندوستان شاہجہاں زیارت کے لیے حاضر ہوا اور نیازمندی کا ظہار کیا۔ 1028ھ میں جب وہ کشمیر کی مہم پر روانہ ہونے لگا تو شیخ سے دعاؤں کا طالب ہوا۔اس مختصر تذکرے میں حضرت محقق کی سیرتِ پاک کا احاطہ ناممکن ہے۔
تصانیف:
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی صرف بلند پایہ مدرس اور روحانی مربی ہی نہ تھے بلکہ وہ اپنے زمانہ کے بڑے باکمال صاحب قلم مصنف بھی تھے اور انہوں نے عمر بھر درس و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالف کا شغل بھی جاری رکھا جس طرح وہ ہندوستان کے عظیم محدث ہیں اسی طرح وہ ممتاز مصنف بھی ہیں ان کی تصانیف کی تعداد ایک سو سے زیادہ بتائی جاتی ہے جو حدیث، تفسیر، عقائد، تصوف و اخلاق، فقہ، اعمال و اوراد،
❤2
منطق و فلسفہ، تاریخ، سیرو تذکرہ، نحو ادب کا احاطہ کرتی ہیں۔ بالخصوص علم ِ حدیث کے حوالےسےجو خدمات ہیں وہ رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ آپ کی تعلیمات آپ کی کتب سے عیاں ہیں۔آپ کی کتب سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ فی زمانہ اکابرین کےنقش قدم پر کون عمل پیرا ہے۔
تصانیف:
اجازۃ الحدیث فی القدیم والحدیث اجوبۃ اثنا عشر فی توجیہ الصلاۃ علٰی سیّد البشر احوال ائمۃ اثنا عشر خلاصۂ اولاد سیّد البشر اخبار الاخیار فی احوال الابرار آداب الصالحین آداب اللباس آداب المطالعۃ والمناظرۃ (مثنوی) اسمآء الاستاذین اسمآء الرجال والرواۃ المذکورین فی کتاب المشکٰوۃ اشعۃ اللمعات فی شرح المشکٰوۃ افکار الصافیۃ فی ترجمۃ کتاب الکافیۃ انتخاب المثنوی المولوی المعنوی انوار الجلیۃ فی احوال مشائخ الشاذلیۃ بناء المرفوع فی ترصیص مباحث الموضوع تحصیل التعرّف فی معرفۃ الفقہ والتصوّف تحصیل الغنآئم والبرکات بہ تفسیر سورۃ والعادیت تحقیق الاشارۃ الٰی تعمیم البشارۃ ترجمۃ الاحادیث الاربعین فی نصیحۃ الملوک والسلاطین ترجمۃ زبدۃ الآثار منتخب بہجۃ الاسرار ترغیب اہل السعادات علٰی تکثیر الصلاۃ علٰی سیّد الکائنات تسلیۃ المصاب لنیل الاجر والثواب تعلیق الحاوی علٰی تفسیر البیضاوی تکمیل الایمان وتقویۃ الایقان تنبیہ العارف بما وقع فی العوارف توصیل المرید الی المراد بہ بیان الاحزاب والاوراد جامع البرکات منتخب شرح المشکٰوۃ جمع الاحادیث الاربعین فی ابواب علوم الدین جواب بعض کلمات شیخ احمد سرہندی حاشیۃ الفوائد الضیائیۃ حسن الاشعار فی جمع الاشعار(دیوان) درۃ البھیۃ فی اختصار الرسالۃ الشمسیۃ درۃ الفرید فی قواعد التجوید ذکر ملوک (تاریخ سلاطین ہند) رسالۂ شبِ برات رسالۂ صلاۃ الاسرار رسالۂ عقد انامل رسالۂ نورانیہ سلطانیہ رسالۂ اقسام حدیث رسالۂ وجودیہ رسالۂ وظائف زاد المتقین زبدۃ الآثار منتخب بہجۃ الاسرار شرح سفرالسعادت شرح شمسیہ شرح صدور تفسیر اٰیت النور شرح فتوح الغیب شرح القصیدۃ الجزریۃ صحیفۃ المودّۃ فتح المنّان فی تائید مذھب النعمان فصول الخطب فھرس التوالیف (تالیف قلب الالیف) لمعات التنقیح فی شرح مشکٰوۃ المصابیح ما ثبت بالسُّنّۃ فی ایّام السَّنۃ مدارج النبوۃ مرج البحرین مطلب الاعلٰی فی شرح اسمآء اللہ مطلع الانوار البھیۃ فی الحلیۃ النبویۃ نکات الحق والحقیقت نکات العشق والمحبّت وصیت نامہ ھدایۃ المناسک الٰی طریق المناسک ـ
تاریخِ وصال:
21 ربیع الاول 1052ھ مطابق 19 جون 1642ء، بروز جمعرات کو آفتابِ علم ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا مگر اس کی علمی شعائیں صبح قیامت تک تابندہ رہیں گی۔ حوضِ شمسی (دہلی) کے قریب مقبرہ میں دفن ہوئے۔مزار پاک زیارت گاہِ عوام و خواص ہے۔
ماخذ و مراجع:
محدثینِ عظام حیات و خدمات ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی موضوعاتی مطالعہ ۔ زاد المتقین ۔ اخبار الاخیار ۔ منتخب التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-haq-muhaddith-dehlvi
تصانیف:
اجازۃ الحدیث فی القدیم والحدیث اجوبۃ اثنا عشر فی توجیہ الصلاۃ علٰی سیّد البشر احوال ائمۃ اثنا عشر خلاصۂ اولاد سیّد البشر اخبار الاخیار فی احوال الابرار آداب الصالحین آداب اللباس آداب المطالعۃ والمناظرۃ (مثنوی) اسمآء الاستاذین اسمآء الرجال والرواۃ المذکورین فی کتاب المشکٰوۃ اشعۃ اللمعات فی شرح المشکٰوۃ افکار الصافیۃ فی ترجمۃ کتاب الکافیۃ انتخاب المثنوی المولوی المعنوی انوار الجلیۃ فی احوال مشائخ الشاذلیۃ بناء المرفوع فی ترصیص مباحث الموضوع تحصیل التعرّف فی معرفۃ الفقہ والتصوّف تحصیل الغنآئم والبرکات بہ تفسیر سورۃ والعادیت تحقیق الاشارۃ الٰی تعمیم البشارۃ ترجمۃ الاحادیث الاربعین فی نصیحۃ الملوک والسلاطین ترجمۃ زبدۃ الآثار منتخب بہجۃ الاسرار ترغیب اہل السعادات علٰی تکثیر الصلاۃ علٰی سیّد الکائنات تسلیۃ المصاب لنیل الاجر والثواب تعلیق الحاوی علٰی تفسیر البیضاوی تکمیل الایمان وتقویۃ الایقان تنبیہ العارف بما وقع فی العوارف توصیل المرید الی المراد بہ بیان الاحزاب والاوراد جامع البرکات منتخب شرح المشکٰوۃ جمع الاحادیث الاربعین فی ابواب علوم الدین جواب بعض کلمات شیخ احمد سرہندی حاشیۃ الفوائد الضیائیۃ حسن الاشعار فی جمع الاشعار(دیوان) درۃ البھیۃ فی اختصار الرسالۃ الشمسیۃ درۃ الفرید فی قواعد التجوید ذکر ملوک (تاریخ سلاطین ہند) رسالۂ شبِ برات رسالۂ صلاۃ الاسرار رسالۂ عقد انامل رسالۂ نورانیہ سلطانیہ رسالۂ اقسام حدیث رسالۂ وجودیہ رسالۂ وظائف زاد المتقین زبدۃ الآثار منتخب بہجۃ الاسرار شرح سفرالسعادت شرح شمسیہ شرح صدور تفسیر اٰیت النور شرح فتوح الغیب شرح القصیدۃ الجزریۃ صحیفۃ المودّۃ فتح المنّان فی تائید مذھب النعمان فصول الخطب فھرس التوالیف (تالیف قلب الالیف) لمعات التنقیح فی شرح مشکٰوۃ المصابیح ما ثبت بالسُّنّۃ فی ایّام السَّنۃ مدارج النبوۃ مرج البحرین مطلب الاعلٰی فی شرح اسمآء اللہ مطلع الانوار البھیۃ فی الحلیۃ النبویۃ نکات الحق والحقیقت نکات العشق والمحبّت وصیت نامہ ھدایۃ المناسک الٰی طریق المناسک ـ
تاریخِ وصال:
21 ربیع الاول 1052ھ مطابق 19 جون 1642ء، بروز جمعرات کو آفتابِ علم ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا مگر اس کی علمی شعائیں صبح قیامت تک تابندہ رہیں گی۔ حوضِ شمسی (دہلی) کے قریب مقبرہ میں دفن ہوئے۔مزار پاک زیارت گاہِ عوام و خواص ہے۔
ماخذ و مراجع:
محدثینِ عظام حیات و خدمات ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی موضوعاتی مطالعہ ۔ زاد المتقین ۔ اخبار الاخیار ۔ منتخب التواریخ ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-haq-muhaddith-dehlvi
scholars.pk
Hazrat Shah Abdul Haq Muhaddith Dehlvi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
20-03-1444 ᴴ | 17-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
21-03-1444 ᴴ | 18-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1