🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-03-1444 ᴴ | 16-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-03-1444 ᴴ | 16-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-03-1444 ᴴ | 16-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-03-1444 ᴴ | 16-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌍دیوان لوح وقلم🌎 (Tarique Anwer)
مبسملا وحامدا::ومصلیا ومسلما
فریب میں مبتلا کرنے کی سازشیں
(1)اہل کفر کو یہ معلوم ہے کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی قوت ایمان ہے اور جنگوں میں صدیوں تک زور آزمائی کرنے اور شکست وریخت کے بعد دشمنان اسلام نے مسلمانوں کو ایمان سے محروم کرنے کی سازش رچی ہے۔شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے ایک صدی قبل ہی مسلمانوں کو اس سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا:
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدی اس کے بدن سے نکال دو
مسلمانوں کا ایمان کیسے تباہ کیا جا سکتا ہے۔دشمنان اسلام مستشرقین کی مدد سے اسباب کفر کو معلوم کر چکے ہیں۔اعدائے اسلام نے مسلمانوں کے درمیان کفریات وضلالات کی تبلیغ واشاعت کے واسطے حریص فطرت ملاؤں کو ذمہ داری تھی۔
ایک شاطر ملا ملت اسلامیہ کو تباہ وبرباد کرنے کے واسطے کافی ہے۔پھر بہت سے کلاہ پوش اس کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔اگر انہیں بھی کچھ دانے ڈالے جائیں تو انتہائی خشوع وخضوع کے ساتھ کفر وضلالت کی ترویج وتشہیر میں مشغول ہو جاتے ہیں۔عہد ماضی میں بھی بہت سے کلاہ پوش مال ودولت کے دلدادہ ہوئے ہیں۔
استعماری قوتوں نے ابن عبد الوہاب نجدی کے ذریعہ وہابی مذہب کی داغ بیل ڈالی۔برصغیر میں اسماعیل دہلوی کے ذریعہ وہابی مذہب کو فروغ دیا اور پھر اہل ندوہ کے ذریعہ حق وباطل کو مخلوط کرنے کی کوشش کی گئی۔کیوں کہ اس اختلاط کے سبب بھی مسلمان ایمان سے محروم ہو جاتے ہیں۔
اہل ندوہ ہر کلمہ گو کو مسلمان سمجھتے تھے,گرچہ وہ ضروریات دین کا منکر ہو۔ایسا نظریہ یقینا اسلام کے منافی اور دین ومذہب کو ملیامیٹ کرنے والا ہے۔
آج بھی بعض غیر مسلمین شعوری یا لاشعوری طور پر مسلمانوں کو اتحاد کا سبق پڑھاتے ہیں اور مسلمان بھائی ایسے غیر مسلمین کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر اتحاد کا نعرہ لگانے لگتے ہیں۔
بھارت ایک جمہوری ملک ہے۔یہاں کلمہ گویان اسلام کو سیاسی امور میں محض فکری اتحاد کی ضرورت ہے کہ کس پارٹی کو ووٹ دینا ہے یا حکومت کے کس فیصلے کے خلاف آواز بلند کرنا ہے اور کس انداز میں اپنی بات اہل حکومت کے سامنے رکھنا ہے۔وغیرہ
معاشرتی اتحاد یعنی ایک دوسرے کے ساتھ میل جول,شادی بیاہ,نشست وبرخاست,خورد ونوش,سلام وکلام,مصافحہ ومعانقہ اور اس قسم کے دیگر معاشرتی امور کو باہم نبھانے کی ضرورت وحاجت نہیں۔
نیز سیاسی اتحاد بھی محض عقلی طور پر ممکن ہے۔اس کا وجود خارجی بہت مشکل ہے۔وہابیہ اور دیابنہ ہمیشہ ارباب حکومت اور اصحاب قوت کی تابعداری کرتے آئے ہیں اور بھارت کے روافض بھی فرقہ وہابیہ کی طرح اہل حکومت کا ساتھ دیتے ہیں۔ایسی صورت میں مذکورہ جماعتیں فکری اتحاد سے مانع ہوں گی۔
(2)اگر اہل ندوہ کی طرح باطل فرقوں کے ساتھ اتحاد ہو کہ ہر کلمہ گو کو اہل حق سمجھا جائے ,گرچہ وہ ضروریات دین کا منکر ہو,تب تو یہ اتحاد ایمان سے محروم کر دے گا۔
اگر شرعی حاجت وضرورت کے بغیر معاشرتی اتحاد ہو تو فسق وگناہ ہے اور ایسی صورت میں رحمت الہی کے نزول کی امید بھی غلط ہے۔کیا گناہ کے کاموں پر بھی نزول رحمت کی امید رکھی جا سکتی ہے؟ہرگز نہیں۔
اگر مفتیان ماجنین کسی تاویل فاسد کے سبب معاشرتی امور کا جواز بھی بتائیں تو حکم جواز ثابت نہیں ہو گا۔
سیاسی امور میں فکری اتحاد کی صورت بھی متوقع نہیں۔اس کا سبب ماقبل میں بیان کر دیا گیا ہے۔
(3)قوم ہنود میں بھی اتحاد مفقود ہے۔لیکن ان کی حکومت قائم ہے۔ڈھائی فی صد برہمن ملک پر قابض ہے۔
بھارت کے مول نواسی اقوام(شودر اقوام)اور اقلیتوں کی سب سے بڑی ملک گیر تحریک بام سیف(Bamcef) کے چیف وامن میشرام نے 06:اکتوبر 2022 کو برہمنوں کی سب سے بڑی تحریک آرایس ایس(RSS)کے ہیڈ آفس(ناگ پور)کا گھیراؤ ڈھائی لاکھ لوگوں کے ذریعہ کیا۔یعنی ہندؤں میں اتحاد نہیں,لیکن ان کی حکومت قائم ہے۔
مایاوتی نے اعلان کیا ہے کہ وہ دس کروڑ لوگوں کے ساتھ بدھ دھرم اختیار کر لے گی۔
دوسری جانب دیکھیں کہ نہ جانے کتنے کلاہ پوش معبودان ہنود کی تعریف ومدح سرائی کر کے اپنا اور اپنی قوم کا ایمان برباد کر چکے ہیں۔لوگوں کو معبودان ہنود کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور بعض لوگوں نے معبودان ہنود کو نبی وپیغمبر بھی بتایا ہے,حالاں کہ ہندو دھرم کی تعلیمات کے مطابق نبی ورسول کی آمد محال ہے۔
خبر کے مطابق اکھلیش یادو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے والد ملائم سنگھ کی تیرہویں نہیں منائے گا,کیوں کہ اس تقریب کی کاروائی برہمن انجام دیتے ہیں۔
دوسری جانب دیکھیں کہ کتنے کلاہ پوش بھارت کے مشہور برہمن اور آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کے دربار میں حاضری لگا چکے ہیں۔قوم مسلم کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا,بلکہ ان کلاہ پوشوں کو بھی کچھ فائدہ نہیں ملا:واللہ تعالی اعلم
طارق انور مصباحی
(کلکتہ)
جاری کردہ:16:اکتوبر 2022
فریب میں مبتلا کرنے کی سازشیں
(1)اہل کفر کو یہ معلوم ہے کہ مسلمانوں کی سب سے بڑی قوت ایمان ہے اور جنگوں میں صدیوں تک زور آزمائی کرنے اور شکست وریخت کے بعد دشمنان اسلام نے مسلمانوں کو ایمان سے محروم کرنے کی سازش رچی ہے۔شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے ایک صدی قبل ہی مسلمانوں کو اس سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا:
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدی اس کے بدن سے نکال دو
مسلمانوں کا ایمان کیسے تباہ کیا جا سکتا ہے۔دشمنان اسلام مستشرقین کی مدد سے اسباب کفر کو معلوم کر چکے ہیں۔اعدائے اسلام نے مسلمانوں کے درمیان کفریات وضلالات کی تبلیغ واشاعت کے واسطے حریص فطرت ملاؤں کو ذمہ داری تھی۔
ایک شاطر ملا ملت اسلامیہ کو تباہ وبرباد کرنے کے واسطے کافی ہے۔پھر بہت سے کلاہ پوش اس کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔اگر انہیں بھی کچھ دانے ڈالے جائیں تو انتہائی خشوع وخضوع کے ساتھ کفر وضلالت کی ترویج وتشہیر میں مشغول ہو جاتے ہیں۔عہد ماضی میں بھی بہت سے کلاہ پوش مال ودولت کے دلدادہ ہوئے ہیں۔
استعماری قوتوں نے ابن عبد الوہاب نجدی کے ذریعہ وہابی مذہب کی داغ بیل ڈالی۔برصغیر میں اسماعیل دہلوی کے ذریعہ وہابی مذہب کو فروغ دیا اور پھر اہل ندوہ کے ذریعہ حق وباطل کو مخلوط کرنے کی کوشش کی گئی۔کیوں کہ اس اختلاط کے سبب بھی مسلمان ایمان سے محروم ہو جاتے ہیں۔
اہل ندوہ ہر کلمہ گو کو مسلمان سمجھتے تھے,گرچہ وہ ضروریات دین کا منکر ہو۔ایسا نظریہ یقینا اسلام کے منافی اور دین ومذہب کو ملیامیٹ کرنے والا ہے۔
آج بھی بعض غیر مسلمین شعوری یا لاشعوری طور پر مسلمانوں کو اتحاد کا سبق پڑھاتے ہیں اور مسلمان بھائی ایسے غیر مسلمین کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر اتحاد کا نعرہ لگانے لگتے ہیں۔
بھارت ایک جمہوری ملک ہے۔یہاں کلمہ گویان اسلام کو سیاسی امور میں محض فکری اتحاد کی ضرورت ہے کہ کس پارٹی کو ووٹ دینا ہے یا حکومت کے کس فیصلے کے خلاف آواز بلند کرنا ہے اور کس انداز میں اپنی بات اہل حکومت کے سامنے رکھنا ہے۔وغیرہ
معاشرتی اتحاد یعنی ایک دوسرے کے ساتھ میل جول,شادی بیاہ,نشست وبرخاست,خورد ونوش,سلام وکلام,مصافحہ ومعانقہ اور اس قسم کے دیگر معاشرتی امور کو باہم نبھانے کی ضرورت وحاجت نہیں۔
نیز سیاسی اتحاد بھی محض عقلی طور پر ممکن ہے۔اس کا وجود خارجی بہت مشکل ہے۔وہابیہ اور دیابنہ ہمیشہ ارباب حکومت اور اصحاب قوت کی تابعداری کرتے آئے ہیں اور بھارت کے روافض بھی فرقہ وہابیہ کی طرح اہل حکومت کا ساتھ دیتے ہیں۔ایسی صورت میں مذکورہ جماعتیں فکری اتحاد سے مانع ہوں گی۔
(2)اگر اہل ندوہ کی طرح باطل فرقوں کے ساتھ اتحاد ہو کہ ہر کلمہ گو کو اہل حق سمجھا جائے ,گرچہ وہ ضروریات دین کا منکر ہو,تب تو یہ اتحاد ایمان سے محروم کر دے گا۔
اگر شرعی حاجت وضرورت کے بغیر معاشرتی اتحاد ہو تو فسق وگناہ ہے اور ایسی صورت میں رحمت الہی کے نزول کی امید بھی غلط ہے۔کیا گناہ کے کاموں پر بھی نزول رحمت کی امید رکھی جا سکتی ہے؟ہرگز نہیں۔
اگر مفتیان ماجنین کسی تاویل فاسد کے سبب معاشرتی امور کا جواز بھی بتائیں تو حکم جواز ثابت نہیں ہو گا۔
سیاسی امور میں فکری اتحاد کی صورت بھی متوقع نہیں۔اس کا سبب ماقبل میں بیان کر دیا گیا ہے۔
(3)قوم ہنود میں بھی اتحاد مفقود ہے۔لیکن ان کی حکومت قائم ہے۔ڈھائی فی صد برہمن ملک پر قابض ہے۔
بھارت کے مول نواسی اقوام(شودر اقوام)اور اقلیتوں کی سب سے بڑی ملک گیر تحریک بام سیف(Bamcef) کے چیف وامن میشرام نے 06:اکتوبر 2022 کو برہمنوں کی سب سے بڑی تحریک آرایس ایس(RSS)کے ہیڈ آفس(ناگ پور)کا گھیراؤ ڈھائی لاکھ لوگوں کے ذریعہ کیا۔یعنی ہندؤں میں اتحاد نہیں,لیکن ان کی حکومت قائم ہے۔
مایاوتی نے اعلان کیا ہے کہ وہ دس کروڑ لوگوں کے ساتھ بدھ دھرم اختیار کر لے گی۔
دوسری جانب دیکھیں کہ نہ جانے کتنے کلاہ پوش معبودان ہنود کی تعریف ومدح سرائی کر کے اپنا اور اپنی قوم کا ایمان برباد کر چکے ہیں۔لوگوں کو معبودان ہنود کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور بعض لوگوں نے معبودان ہنود کو نبی وپیغمبر بھی بتایا ہے,حالاں کہ ہندو دھرم کی تعلیمات کے مطابق نبی ورسول کی آمد محال ہے۔
خبر کے مطابق اکھلیش یادو نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے والد ملائم سنگھ کی تیرہویں نہیں منائے گا,کیوں کہ اس تقریب کی کاروائی برہمن انجام دیتے ہیں۔
دوسری جانب دیکھیں کہ کتنے کلاہ پوش بھارت کے مشہور برہمن اور آر ایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کے دربار میں حاضری لگا چکے ہیں۔قوم مسلم کو کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا,بلکہ ان کلاہ پوشوں کو بھی کچھ فائدہ نہیں ملا:واللہ تعالی اعلم
طارق انور مصباحی
(کلکتہ)
جاری کردہ:16:اکتوبر 2022
❤1
خلیفۂ حضور مفتئ اعظم ہند
مفتی وقار الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمد وقار الدین ۔ لقب: فقیہ العصر، مفتیِ اعظم پاکستان، وقار الملت والدین ۔ والد کا اسم گرامی: حافظ حمید الدین ۔
حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کے آباؤ اجداد زراعت سے وابستہ اور زمیندار تھے ۔ مذہب کے اعتبار سے سب صوم و صلوٰۃ کے پابند ،اور عقیدتاً سنی تھے ۔ آپ کے والد اور چچا حافظ قرآن تھے ۔ اسی طرح آپ کے خاندان میں حفاظِ کرام کافی تعداد میں تھے۔ (حیات وقار الملت:4)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت بروز جمعۃ المبارک، 14 / صفر المظفر 1333ھ مطابق یکم جنوری / 1915ء کو قصبہ’’کھمریہ‘‘ضلع پیلی بھیت (انڈیا) میں ہوئی ۔ (ایضا: 4)
تحصیلِ علم:
اسکول کی ابتدائی تعلیم چوتھی کلاس تک اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ پانچویں کلاس میں بریلی شریف کے اسکول میں داخلہ لیا۔ پانچویں کلاس کا امتحان ہوا تو ضلع بھر میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی اور انعام بھی ملا ۔ آپ کے بے حد اصرار پر آپ کے والد صاحب نے آپ کو پیلی بھیت میں مدرسہ ’’آستانہ شیریہ ‘‘ میں دینی تعلیم کیلئے داخل کروایا۔ اس مدرسہ میں آپ کے اساتذہ میں ایک مولانا حبیب الرحمن تھے جو کہ حضرت مولانا مفتی وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے
اور دوسرے مولانا عبدالحق تھے جن کو اکثر کتابوں کی عبارات زبانی یاد تھیں ۔ چار سال اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ ایک روز آپ کے استاد محترم مولانا حبیب الرحمن نے آپ کو مشورہ دیا کہ مزید تعلیم کیلئے بریلی شریف چلے جائیں ، چنانچہ مولانا حبیب الرحمن نے آپ کو خانقاہ رضویہ بریلی شریف کے مدرسہ ’’جامعہ رضویہ منظر الاسلام ‘‘ میں داخلہ دلوایا۔ وہیں آپ نے صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی، محدث اعظم پاکستان مولانا سر دار احمد، شیخ الحدیث علامہ تقدس علی خان رضوی ، مولانا سردار علی خان رضوی ، مولانا احسان الہی وغیرہ اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی ۔ جب مفتی امجد علی اعظمی بریلی شریف سے ’’دادوں‘‘ چلے گئے تو آپ صدر الشریعہ کی خدمت میں دادوں حاضر ہو گئے اور مزید تین سال تک وہیں تعلیم حاصل کی۔ 1938ء میں دورہ حدیث شریف مکمل کیا اور اسی سال دستار بندی ہوئی۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ: 1008)
حضرت مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ کو اللہ جل شانہ نے قوت حافظہ کی نعمت عطاء فرمائی تھی۔جو بات ایک بار پڑھ لیتے وہ ذہن میں نقش ہوجاتی۔کتبِ فقہ کی عبارات اور اختلاف آئمہ سب ذہن میں محفوظ تھا۔آپ نے خود بیان کیا کہ: ’’صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمیفرماتےتھے، کہ اساتذہ سےپوچھا کرو ،آج اگر شرم کروگے تو پھر کب سیکھوگے۔اس لیے کلاس میں سب سےزیادہ سوالات میں ہی کرتاتھا۔بعض دوسرے ساتھی جو صدرالشریعہ کے رعب کی وجہ سے گھبراتےتھے،وہ بھی مجھے کہتےتھے کہ میرا سوال حضرت سےپوچھو،چنانچہ میں پوچھ لیا کرتاتھا‘‘۔(مقدمہ وقارالفتاویٰ جلد اول)
ساری رات مطالعہ کرنا:
حضرت مولانا مفتی وقار الدین اکثر پوری پوری رات مطالعے میں گزار دیتےتھے۔بخاری شریف پڑھنے کےلیے’’عینی‘‘ کا مطالعہ کرنا اپنے اوپر لازم کرلیا تھا۔روزانہ بخاری شریف کے آٹھ صفحات پڑھنے ہوتے تھے،اور بخاری کے ایک صفحہ کی تشریح عینی کے کئی صفحات بن جاتے ہیں۔آپ کی محنت اور صلاحیت کی بناء پر فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں تدریس کےلئے منتخب کیا گیا۔
بیعت و خلافت:
آپ بعد فراغت ِ تحصیلِ علم حجۃ الاسلام حضرت علامہ مولانا حامد رضا خان بریلوی کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور ان کے چھوٹے بھائی مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی مصطفی رضا خان بریلوی نے خلافت سے نوازا۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول،حاوی الفروع والاصول، فقیہ العصر،مفتیِ اعظم پاکستان،وقار الملت والدین حضرت علامہ مولانا مفتی وقار الدین ۔
مفتی صاحب علماء اہل سنت میں ایک علمی مقام رکھتے ہیں،آپ کی تدریسی، تصنیفی،قومی و ملی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ آپ تمام علوم و فنون پر کامل مہارت رکھتےتھے۔بالخصوص فقہ میں تو فقیہ العصر اور اپنے وقت کے مفتیِ اعظم پاکستان تھے۔یہ سب کچھ آپ کی زمانۂ طالب علمی کی محنت،اور خداد صلاحیت، اور حضرت صدرالشریعہ کی تربیت و محنت کی بدولت تھا۔دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف، کے پرنور ماحول میں طلباء کی ایسی ہی تربیت ہوا کرتی تھی،کہ ان کو دین و مسلک اور ملک و ملت کا درد ملتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس دار العلوم کے فیض یافتگان کی فہرست پر نظر کریں کہ ایک ایک طالب علم یہاں سے ایسا منور ہوا، کہ اس نے پھر ایک جہان کو منور کردیا۔
مفتی صاحب بھی منظر اسلام کے خوشہ چیں تھے۔یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت،اور ملک وملت کی خدمت میں گزری۔ درس و تدریس:بعد فراغت منظر الاسلام بریلی شریف میں مدرس مقرر ہوئے اور ساتھ ہی ناظم تعلیمات کا عہدہ بھی سونپا گیا۔ اس طرح آپ تقریبا دس سال تک خدمات سر انجام دیتے رہے۔
مفتی وقار الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمد وقار الدین ۔ لقب: فقیہ العصر، مفتیِ اعظم پاکستان، وقار الملت والدین ۔ والد کا اسم گرامی: حافظ حمید الدین ۔
حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ کے آباؤ اجداد زراعت سے وابستہ اور زمیندار تھے ۔ مذہب کے اعتبار سے سب صوم و صلوٰۃ کے پابند ،اور عقیدتاً سنی تھے ۔ آپ کے والد اور چچا حافظ قرآن تھے ۔ اسی طرح آپ کے خاندان میں حفاظِ کرام کافی تعداد میں تھے۔ (حیات وقار الملت:4)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت بروز جمعۃ المبارک، 14 / صفر المظفر 1333ھ مطابق یکم جنوری / 1915ء کو قصبہ’’کھمریہ‘‘ضلع پیلی بھیت (انڈیا) میں ہوئی ۔ (ایضا: 4)
تحصیلِ علم:
اسکول کی ابتدائی تعلیم چوتھی کلاس تک اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ پانچویں کلاس میں بریلی شریف کے اسکول میں داخلہ لیا۔ پانچویں کلاس کا امتحان ہوا تو ضلع بھر میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی اور انعام بھی ملا ۔ آپ کے بے حد اصرار پر آپ کے والد صاحب نے آپ کو پیلی بھیت میں مدرسہ ’’آستانہ شیریہ ‘‘ میں دینی تعلیم کیلئے داخل کروایا۔ اس مدرسہ میں آپ کے اساتذہ میں ایک مولانا حبیب الرحمن تھے جو کہ حضرت مولانا مفتی وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے
اور دوسرے مولانا عبدالحق تھے جن کو اکثر کتابوں کی عبارات زبانی یاد تھیں ۔ چار سال اس مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ ایک روز آپ کے استاد محترم مولانا حبیب الرحمن نے آپ کو مشورہ دیا کہ مزید تعلیم کیلئے بریلی شریف چلے جائیں ، چنانچہ مولانا حبیب الرحمن نے آپ کو خانقاہ رضویہ بریلی شریف کے مدرسہ ’’جامعہ رضویہ منظر الاسلام ‘‘ میں داخلہ دلوایا۔ وہیں آپ نے صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی، محدث اعظم پاکستان مولانا سر دار احمد، شیخ الحدیث علامہ تقدس علی خان رضوی ، مولانا سردار علی خان رضوی ، مولانا احسان الہی وغیرہ اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی ۔ جب مفتی امجد علی اعظمی بریلی شریف سے ’’دادوں‘‘ چلے گئے تو آپ صدر الشریعہ کی خدمت میں دادوں حاضر ہو گئے اور مزید تین سال تک وہیں تعلیم حاصل کی۔ 1938ء میں دورہ حدیث شریف مکمل کیا اور اسی سال دستار بندی ہوئی۔ (انوار علمائے اہل سنت سندھ: 1008)
حضرت مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ کو اللہ جل شانہ نے قوت حافظہ کی نعمت عطاء فرمائی تھی۔جو بات ایک بار پڑھ لیتے وہ ذہن میں نقش ہوجاتی۔کتبِ فقہ کی عبارات اور اختلاف آئمہ سب ذہن میں محفوظ تھا۔آپ نے خود بیان کیا کہ: ’’صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمیفرماتےتھے، کہ اساتذہ سےپوچھا کرو ،آج اگر شرم کروگے تو پھر کب سیکھوگے۔اس لیے کلاس میں سب سےزیادہ سوالات میں ہی کرتاتھا۔بعض دوسرے ساتھی جو صدرالشریعہ کے رعب کی وجہ سے گھبراتےتھے،وہ بھی مجھے کہتےتھے کہ میرا سوال حضرت سےپوچھو،چنانچہ میں پوچھ لیا کرتاتھا‘‘۔(مقدمہ وقارالفتاویٰ جلد اول)
ساری رات مطالعہ کرنا:
حضرت مولانا مفتی وقار الدین اکثر پوری پوری رات مطالعے میں گزار دیتےتھے۔بخاری شریف پڑھنے کےلیے’’عینی‘‘ کا مطالعہ کرنا اپنے اوپر لازم کرلیا تھا۔روزانہ بخاری شریف کے آٹھ صفحات پڑھنے ہوتے تھے،اور بخاری کے ایک صفحہ کی تشریح عینی کے کئی صفحات بن جاتے ہیں۔آپ کی محنت اور صلاحیت کی بناء پر فراغت کے بعد دارالعلوم منظر اسلام میں تدریس کےلئے منتخب کیا گیا۔
بیعت و خلافت:
آپ بعد فراغت ِ تحصیلِ علم حجۃ الاسلام حضرت علامہ مولانا حامد رضا خان بریلوی کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور ان کے چھوٹے بھائی مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی مصطفی رضا خان بریلوی نے خلافت سے نوازا۔
سیرت و خصائص:
جامع المنقول والمعقول،حاوی الفروع والاصول، فقیہ العصر،مفتیِ اعظم پاکستان،وقار الملت والدین حضرت علامہ مولانا مفتی وقار الدین ۔
مفتی صاحب علماء اہل سنت میں ایک علمی مقام رکھتے ہیں،آپ کی تدریسی، تصنیفی،قومی و ملی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ آپ تمام علوم و فنون پر کامل مہارت رکھتےتھے۔بالخصوص فقہ میں تو فقیہ العصر اور اپنے وقت کے مفتیِ اعظم پاکستان تھے۔یہ سب کچھ آپ کی زمانۂ طالب علمی کی محنت،اور خداد صلاحیت، اور حضرت صدرالشریعہ کی تربیت و محنت کی بدولت تھا۔دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف، کے پرنور ماحول میں طلباء کی ایسی ہی تربیت ہوا کرتی تھی،کہ ان کو دین و مسلک اور ملک و ملت کا درد ملتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس دار العلوم کے فیض یافتگان کی فہرست پر نظر کریں کہ ایک ایک طالب علم یہاں سے ایسا منور ہوا، کہ اس نے پھر ایک جہان کو منور کردیا۔
مفتی صاحب بھی منظر اسلام کے خوشہ چیں تھے۔یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت،اور ملک وملت کی خدمت میں گزری۔ درس و تدریس:بعد فراغت منظر الاسلام بریلی شریف میں مدرس مقرر ہوئے اور ساتھ ہی ناظم تعلیمات کا عہدہ بھی سونپا گیا۔ اس طرح آپ تقریبا دس سال تک خدمات سر انجام دیتے رہے۔
❤1