🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-03-1444 ᴴ | 15-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-03-1444 ᴴ | 15-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-03-1444 ᴴ | 15-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
18-03-1444 ᴴ | 15-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ جس طرح ایک آدمی دوسرے آدمی کا ستر بلا ضرورت نہیں دیکھ سکتا  حرام ہے ۔ کیا اسی طرح ایک خاتون بھی دوسرے خاتون کا ستر بلا ضرورت دیکھے تو کیا حرام ہے یا نہیں ؟اس کا جواب عنایت فرمائیں ۔
المستفتی : شیخ رضوان احمد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
جواب جس طرح ایک مرد کا دوسرے آدمی کے ستر کو بلا ضرورت دیکھنا حرام ہے اسی طرح ایک عورت کا بھی دوسرے عورت کے کا ستر کو بلا ضرورت دیکھنا حرام ہے ہاں اگر کوئی مجبوری ہو تو ضرورت کے مقدار اپنا ستر دکھانا جائز ہے جیسے ران وغیرہ میں پھوڑا ہو جائے تو ڈاکٹر وغیرہ کے سامنے صرف اسی جگہ کو کھولا جائے زیادہ ہرگز نہ کھولے اس کے علاوہ کسی اور کے لئے اس کو دیکھنا جائز نہیں نہ کسی عورت کے لئے نہ کسی مرد کے لئے البتہ اگر وہ ناف اور گھٹنوں کے درمیان نہ ہو کہیں اور ہو تو عورت کو دکھانا درست ہے اور یہی حکم دائی اور لیڈی ڈاکٹر کا ہے کہ ضرورت کے وقت اس کے سامنے ستر کھولنا درست ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ " عن الحسن مرسلا قال : بلغنی ان رسول الله صلی الله عليه وسلم قال : لعن الله الناظر و المنظور اليه " اھ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ستر دیکھنے والے اور دکھانے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہو " اھ ( مشكوة المصابيح ص 270 ) اور در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " و تنظر المرأة المسلمة من المرأة کالرجل من الرجل و قیل کالرجل لمحرمه و الأول أصح " اھ (در مختار مع رد المحتار ج 9 ص 533 : مطبوعہ زکریا دیوبند ) اور طحطاوی میں ہے کہ " و تنظر المرأۃ المسلمة من المرأۃ کالرجل من الرجل ( قوله کالرجل من الرجل ) لوجود المجانسة و انعدام الشهوۃ غالباً لان المرأۃ لاتشتهی المرأۃ کما لایشتهی الرجل الرجل و لان الضرورۃ داعیة الی الانکشاف بینهما و لا یجوز للمرأۃ ان تنظر الی بطن امرأۃ بشهوۃ " اھ ( الطحطاوی ج 4 ص 185 ) اور در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " لا يحل للمسلمة أن تنكشف بين يدی يهودية أو نصرانية أو مشركة إلا أن تكون أمة لها كما فی السراج و نصاب الاحتساب " اھ ( در المختار مع رد المحتار 6 ص 371 : دار الفکر بیروت ) اور فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " و يجوز النظر الی الفرج للخاتن و القابلة و الطبيب عند المعالجة و يغض بصره ما استطاع " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 6 ص 220 ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " مرد مرد کے ہر حصۂ بدن کی طرف نظر کرسکتا ہے سوا ان اعضا کے جن کا ستر ضروری ہے ۔ وہ ناف کے نیچے سے گھٹنے کے نیچے تک ہے کہ اس حصۂ بدن کا چھپانا فرض ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عورت کا عورت کو دیکھنا اس کا وہی حکم ہے جو مرد کو مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے یعنی ناف کے نیچے سے گھٹنے تک نہیں دیکھ سکتی باقی اعضا کی طرف نظر کرسکتی ہے بشرطیکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو " اھ ( بہار شریعت ج 3 ص 443 / 447 : دیکھنے اور چھونے کا بیان )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-03-1444 ᴴ | 15-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-03-1444 ᴴ | 16-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1