🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-03-1444 ᴴ | 14-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-03-1444 ᴴ | 14-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
17-03-1444 ᴴ | 14-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-03-1444 ᴴ | 14-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَ رَحْمَةُ اَللهِ وَ بَرَكاتُهُ‎،
بارگاہ علمائے کرام میں ایک سوال ہے کہ کیا عمرہ کے دوران احرام کے نیچے چڈّھی پہن سکتے ہیں یا نہیں ؟ یا کہ صرف احرام ہی پہن سکتے ہیں؟ ۔

سائل : مُحَمَّد پیغام انصاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* احرام کی حالت میں سلا ہوا کپڑا استعمال کرنا ممنوع ہے ہاں اگر معتمر کو کوئی پریشانی ہے تو چڈی کے بجائے لنگوٹ باندھ لے اس سے دم واجب نہیں ہوگا لیکن اگر پھر بھی چڈی پہننا مجبوری ہو تو پہن سکتا ہے لیکن اگر وہ پورے ایک دن یا ایک رات اس کو پہنے رہ گیا تھا تو دم دینا لازم ہوگا اور اگر اس سے کم پہنا تو صدقہ دینا ضروری ہوگا اور اگر ایک گھنٹہ سے بھی کم پہنا ہے تو ایک مٹھی گیہوں دینا کافی ہوگا حدیث شریف میں ہے کہ " عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما أن رجلا قال : يا رسول الله ما يلبس المحرم من الثياب قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يلبس القمص و لا العمائم و لا السراويلات و لا البرانس و لا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فليلبس خفين و لليقطعهما أسفل من الكعبين و لا تلبسوا من الثياب شيئا مسه الزعفران أو و رسوله رواه البخاري " اھ یعنی ایک شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! محرم کو کس طرح کا کپڑا پہننا چاہئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ کرت پہنے نہ عمامہ باندھے نہ پاجامہ پہنے نہ باران کوٹ نہ موزے لیکن اگر اس کے پاس جوتی نہ ہو تو وہ موزے اس وقت پہن سکتا ہے جب ٹخنوں کے نیچے سے ان کو کاٹ لیا ہو ۔ ( اور احرام میں ) کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگا ہوا ہو ۔ ابو عبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ محرم اپنا سر دھو سکتا ہے لیکن کنگھا نہ کرے ۔ بدن بھی نہ کھجلانا چاہئے او جوں سر اور بدن سے نکال کر زمین پر ڈالی جا سکتی ہے " اھ ( بخاری شریف ج 3 ص 401 رقم حدیث 1542 : کتاب الحج ، باب ما لا یلبس المحرم من الثیاب ) اور ھدایہ میں ہے کہ" و إن لبس ثوبا مخیطا أو غطی رأسه یوما کاملا فعلیه دم " اھ ( ھدایہ ج 1 ص 289 : کتاب الحج ) اور مجمع الانھر میں ہے کہ " و کذا لزمه دم لو لبس ثوباً مخیطا علی وجه المعتاد یوما کاملا أو لیلة کاملة لأن الارتفاق الکامل الحاصل في الیوم حاصل في اللیلة " اھ ( مجمع الأنهر ج 1ص431 / عنایة مع فتح القدیر ج 3 ص 26 ) اور فتاوی تاتار خانیہ میں ہے کہ " و الحاصل أن المحرم ممنوع عن لبس المخیط علی الوجه المعتاد حتی لو اتزر بالسراویل أو ارتدی بالقمیص أو اتشح به بأن أدخله تحت یده الیمنی و ألقاه علی کتفه الیسری فلا بأس به " اھ ( الفتاوی التاتار خانیة ج 3 ص 573 : مطبوعہ زکریا دیوبند ) اور بدائع الصنائع میں ہے کہ " اذا لبس المحرم اذا مرض او اصابته الحمى و هو يحتاج الى لبس الثوب فی وقت و يستغنى عنه فی وقت الحمى فعليه كفارۃ واحدۃ ما لم تزل عنه تلك العلة لحصول اللبس على جهة واحدۃ " اھ ( بدائع الصنائع ج 2 ص 188 ) اور در مختار میں ہے کہ " فاذا لبس مخیطاً یوماً کاملاً او لیلة کاملة فدم ، المراد مقدار احدهما فلو لبس من نصف النهار الی نصف اللیل من غیر انفصال او بالعکس لزمه دم و فی اقل من یوم و لیلة صدقة الخ ، و فی اقل من ساعة قبضة من بر او قبضتان من شعیر " اھ ( در مختار ج 3 ص 577 ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " مُحرِم نے سِلا کپڑا چار پہر ( چار پہر سے مراد ایک دن یا ایک رات کی مقدار ہے ،مثلاً طلوع آفتاب سے غروب آفتاب یا غروب آفتاب سے طلوع آفتاب یا دوپہر سے آدھی رات یا آدھی رات سے دوپہر تک ) کامل پہنا تو دَم واجب ہے اور اس سے کم تو صدقہ اگر چہ تھوڑی دیر پہنا اور لگاتار کئی دن تک پہنے رہا جب بھی ایک ہی دَم واجب ہے جب کہ یہ لگا تار پہننا ایک طرح کا ہو یعنی عُذر سے یا بلا عذر اور اگر مثلاً ایک دن بلاعذر تھا دوسرے دن بعذر یا بالعکس تو دو کفارے واجب ہوں گے ۔ سلا ہوا کپڑا پہننے میں یہ شرط نہیں کہ قصداً پہنے بلکہ بھول کر ہو یا نادانی میں بہرحال وہی حکم ہے ۔ یوہیں سر اور مونھ چھپانے میں، یہاں تک کہ مُحرِم نے سوتے میں سر یا مونھ چھپالیا تو کفارہ واجب ہے ۔ پہننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کپڑا اس طرح پہنے جیسے عادۃً پہنا جاتا ہے، ورنہ اگر کرتے کا تہبند باندھ لیا یا پاجامہ کو تہبند کی طرح لپیٹا پاؤں پائنچے میں نہ ڈالے تو کچھ نہیں۔ یوہیں انگر کھا پھیلا کر دونوں شانوں پر رکھ لیا آستینوں میں ہاتھ نہ ڈالے تو کفارہ نہیں مگر مکروہ ہے اور مونڈھوں پر سِلے کپڑے ڈال لیے تو کچھ نہیں " اھ ( بہار شریعت ج 1 ص 1167 : جرم اور ان کے کفارے کا بیان )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1