🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
12-03-1444 ᴴ | 09-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-03-1444 ᴴ | 10-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-03-1444 ᴴ | 10-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
13-03-1444 ᴴ | 10-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯شیخ الاسلام خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* سید محمد بختیار۔
*لقب:* قطب الدین، کاکی۔
*مکمل نام:* سید محمد قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
آپ کا خاندانی تعلق حسینی ساداتِ کرام سے ہے۔
*سلسلۂ نسب اس طرح ہے:* خواجہ قطب الدین سید بختیار کاکی بن سید کمال الدین احمد بن سید موسیٰ بن سید محمد بن سید احمد بن سید اسحاق حسن بن سید معروف بن سید احمد بن سید رضی الدین بن سید حسام الدین بن سید رشیدالدین بن سید جعفر بن امام تقی بن امام علی رضا بن بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہم اجمعین)
*(سیر الاقطاب:168/ اقتباس الانوار:392/ خزینۃ الاصفیاء:77)*
*کاکی کی وجہ تسمیہ:* اس لقب کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتےہیں: کاک ’’کُلچے‘‘ کو کہتے ہیں۔
حضرت کو ایک مرتبہ چند(دن) فاقے ہوئے تھے اور گھر بھر میں کسی کے پاس کچھ کھانے کو نہ تھا، اُس وقت آسمان سے آپ کے واسطے کاکیں آئی تھیں یوں کاکی مشہور ہوگئے۔
*(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت: 482)*
اسی طرح سیر الاقطاب میں ہے:
کہ آپ جب دہلی میں تشریف لائے تو کوئی نذرانہ وغیرہ قبول نہیں فرماتے تھے۔ ایک مسلمان دوکاندار شرف الدین نامی آپ کا ہمسایہ تھا اس سے قرض لیتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا، ایک دو دن کے فاقے بھی ہو چکے تھے۔ حضرت کی اہلیہ نے شرف الدین کی بیوی سے نصف ٹکہ قرض لیا۔ ایک دن اس نے طعن آمیز لہجے میں کہا کہ اگر ہم تمہیں قرض نہ دیں تو تم بھوکے مرجاؤ۔ یہ بات حضرت کی اہلیہ کو نا گوار گزری، اور دل ہی دل میں عہد کر لیا کہ آئندہ کسی سے قرض نہیں لوں گی، اور یہ بات حضرت کی خدمت میں بھی عرض کردی۔ حضرت نے فرمایا کہ جب تمہیں کھانے کی ضرورت ہو اس طاق سے بسم اللہ پڑھ کر کاک (روٹی) نکال لیا کرو۔
*(سیرالاقطاب:174)*
*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت بوقت نصف شب، بروز پیر 582ھ مطابق 1186ء کو بمقام ’’اوش‘‘ وادیِ ’’فرغانہ‘‘ موجودہ (کرغیزستان) میں ہوئی۔
*(تذکرہ اولیائے برصغیر: 48/انسائیکلو پیڈیا)*
*ولادت سے قبل بشارت:*
آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں: پیدائش کے وقت انوار و برکات کا اس قدر نزول ہوا کہ میں نے سمجھا کہ آفتاب طلوع ہوگیا ہے، اور فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا پیدا ہوتے ہی آپ سجدہ میں چلے گئے اور اللہ اللہ کہہ رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر میں حیران ہوئی اور ڈرنے بھی لگی۔ اس کے بعد آپ نے سر اوپر اٹھایا اور رفتہ رفتہ وہ نور کم ہوگیا۔ غیب سے آواز آئی کہ یہ نور جو تم نے دیکھا ہے ہمارے رازوں میں سے ایک راز تھا جو ہم نے تمہارے بیٹے کے قلب میں رکھا ہے۔
پھر فرماتی ہیں: کہ جب حضرت خواجہ میرے پیٹ میں تھے تو میں تہجد کے وقت اٹھتی تھی اور نماز پڑھتی تھی اور میرے پیٹ میں جنبش ہوتی تھی اور ذکر کی آواز آتی تھی۔
*(اقتباس الانوار: 392/سیر الاقطاب169)*
*تحصیلِ علم:* ڈیڑھ سال کی عمر تھی کہ والد گرامی کا انتقال ہوگیا۔ پرورش کی ساری ذمہ داری والدہ محترمہ کو سنبھالنا پڑی۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہ معاملہ حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی ﷲ عنہ کے ساتھ بھی پیش آیا تھا اور یہ بھی تاریخی صداقت ہے کہ مائیں تقویٰ شناس ہوں تو اولاد ولی کامل بنتی ہے۔
یتیمی کی مشکلات واضح ہیں، مگر ماں نے ان چیزوں کو رکاوٹ نہ بننے دیا، بلکہ بعد میں آنے والی ماؤں کو پیغام دیا کہ تمھاری آغوش سے بھی غوث و قطب پیدا ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی تعلیم و تربیت سیرتِ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سائے میں کی جائے۔جب پانچ سال کے ہوئے تو والدہ ماجدہ نے ایک ہمسایہ کے ساتھ بھیج دیا کہ کسی قابل و صالح مُعلم کے حوالے کر آؤ۔ راستے میں ایک بزرگ نے کہا بچے کو ابوحفص اوشی کی خدمت میں لے جاؤ۔ پھر خود بھی بچے کے ساتھ شیخ ابو حفص کے ہاں آگئے۔ ان سے فرمایا: ’’احکم الحاکمین کا حکم ہے کہ اس بچے کو توجہ کے ساتھ پڑھائیں، اور یہ کہ کر وہ واپس چلے گئے۔استاد نے آپ کو پیار کیا اور فرمایا تم خوش نصیب ہو، کہ حضرت خضر علیہ السلام تمہیں میرے حوالے کر گئے ہیں‘‘۔
*(اقتباس الانوار:394)*
سبع سنابل اور سیرالاقطاب میں ہے: کہ جب استاذ ابتداء سے پڑھانے لگے تو عرض کیا کہ مجھے پندرہ پارے یاد ہیں۔ استاذ نے پوچھا یہ پارے کہاں سے یاد کیے ہیں۔ جواب دیا کہ میری والدہ کو پندرہ پارے یاد تھے، وہ اکثر انہیں کی تلاوت کرتی رہتی تھیں، ان سے سن سن کر میں نے شکمِ مادر میں ہی یہ پارے حفظ کرلئے ہیں۔
*(سیرالاقطاب:169)*
آپ تمام علوم ِ مروجہ کے عالم ِکامل تھے۔
*بیعت و خلافت:* آپ علوم ِ ظاہری کی تحصیل کے بعد سلسلہ عالیہ چشتیہ بہشتیہ میں خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰه علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سترہ سال کی عمر میں خلافت س
-----------------------------------------------------------
*🕯شیخ الاسلام خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* سید محمد بختیار۔
*لقب:* قطب الدین، کاکی۔
*مکمل نام:* سید محمد قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
آپ کا خاندانی تعلق حسینی ساداتِ کرام سے ہے۔
*سلسلۂ نسب اس طرح ہے:* خواجہ قطب الدین سید بختیار کاکی بن سید کمال الدین احمد بن سید موسیٰ بن سید محمد بن سید احمد بن سید اسحاق حسن بن سید معروف بن سید احمد بن سید رضی الدین بن سید حسام الدین بن سید رشیدالدین بن سید جعفر بن امام تقی بن امام علی رضا بن بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہم اجمعین)
*(سیر الاقطاب:168/ اقتباس الانوار:392/ خزینۃ الاصفیاء:77)*
*کاکی کی وجہ تسمیہ:* اس لقب کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتےہیں: کاک ’’کُلچے‘‘ کو کہتے ہیں۔
حضرت کو ایک مرتبہ چند(دن) فاقے ہوئے تھے اور گھر بھر میں کسی کے پاس کچھ کھانے کو نہ تھا، اُس وقت آسمان سے آپ کے واسطے کاکیں آئی تھیں یوں کاکی مشہور ہوگئے۔
*(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت: 482)*
اسی طرح سیر الاقطاب میں ہے:
کہ آپ جب دہلی میں تشریف لائے تو کوئی نذرانہ وغیرہ قبول نہیں فرماتے تھے۔ ایک مسلمان دوکاندار شرف الدین نامی آپ کا ہمسایہ تھا اس سے قرض لیتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا، ایک دو دن کے فاقے بھی ہو چکے تھے۔ حضرت کی اہلیہ نے شرف الدین کی بیوی سے نصف ٹکہ قرض لیا۔ ایک دن اس نے طعن آمیز لہجے میں کہا کہ اگر ہم تمہیں قرض نہ دیں تو تم بھوکے مرجاؤ۔ یہ بات حضرت کی اہلیہ کو نا گوار گزری، اور دل ہی دل میں عہد کر لیا کہ آئندہ کسی سے قرض نہیں لوں گی، اور یہ بات حضرت کی خدمت میں بھی عرض کردی۔ حضرت نے فرمایا کہ جب تمہیں کھانے کی ضرورت ہو اس طاق سے بسم اللہ پڑھ کر کاک (روٹی) نکال لیا کرو۔
*(سیرالاقطاب:174)*
*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت بوقت نصف شب، بروز پیر 582ھ مطابق 1186ء کو بمقام ’’اوش‘‘ وادیِ ’’فرغانہ‘‘ موجودہ (کرغیزستان) میں ہوئی۔
*(تذکرہ اولیائے برصغیر: 48/انسائیکلو پیڈیا)*
*ولادت سے قبل بشارت:*
آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں: پیدائش کے وقت انوار و برکات کا اس قدر نزول ہوا کہ میں نے سمجھا کہ آفتاب طلوع ہوگیا ہے، اور فرماتی ہیں کہ میں نے دیکھا پیدا ہوتے ہی آپ سجدہ میں چلے گئے اور اللہ اللہ کہہ رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر میں حیران ہوئی اور ڈرنے بھی لگی۔ اس کے بعد آپ نے سر اوپر اٹھایا اور رفتہ رفتہ وہ نور کم ہوگیا۔ غیب سے آواز آئی کہ یہ نور جو تم نے دیکھا ہے ہمارے رازوں میں سے ایک راز تھا جو ہم نے تمہارے بیٹے کے قلب میں رکھا ہے۔
پھر فرماتی ہیں: کہ جب حضرت خواجہ میرے پیٹ میں تھے تو میں تہجد کے وقت اٹھتی تھی اور نماز پڑھتی تھی اور میرے پیٹ میں جنبش ہوتی تھی اور ذکر کی آواز آتی تھی۔
*(اقتباس الانوار: 392/سیر الاقطاب169)*
*تحصیلِ علم:* ڈیڑھ سال کی عمر تھی کہ والد گرامی کا انتقال ہوگیا۔ پرورش کی ساری ذمہ داری والدہ محترمہ کو سنبھالنا پڑی۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہ معاملہ حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی ﷲ عنہ کے ساتھ بھی پیش آیا تھا اور یہ بھی تاریخی صداقت ہے کہ مائیں تقویٰ شناس ہوں تو اولاد ولی کامل بنتی ہے۔
یتیمی کی مشکلات واضح ہیں، مگر ماں نے ان چیزوں کو رکاوٹ نہ بننے دیا، بلکہ بعد میں آنے والی ماؤں کو پیغام دیا کہ تمھاری آغوش سے بھی غوث و قطب پیدا ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کی تعلیم و تربیت سیرتِ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کے سائے میں کی جائے۔جب پانچ سال کے ہوئے تو والدہ ماجدہ نے ایک ہمسایہ کے ساتھ بھیج دیا کہ کسی قابل و صالح مُعلم کے حوالے کر آؤ۔ راستے میں ایک بزرگ نے کہا بچے کو ابوحفص اوشی کی خدمت میں لے جاؤ۔ پھر خود بھی بچے کے ساتھ شیخ ابو حفص کے ہاں آگئے۔ ان سے فرمایا: ’’احکم الحاکمین کا حکم ہے کہ اس بچے کو توجہ کے ساتھ پڑھائیں، اور یہ کہ کر وہ واپس چلے گئے۔استاد نے آپ کو پیار کیا اور فرمایا تم خوش نصیب ہو، کہ حضرت خضر علیہ السلام تمہیں میرے حوالے کر گئے ہیں‘‘۔
*(اقتباس الانوار:394)*
سبع سنابل اور سیرالاقطاب میں ہے: کہ جب استاذ ابتداء سے پڑھانے لگے تو عرض کیا کہ مجھے پندرہ پارے یاد ہیں۔ استاذ نے پوچھا یہ پارے کہاں سے یاد کیے ہیں۔ جواب دیا کہ میری والدہ کو پندرہ پارے یاد تھے، وہ اکثر انہیں کی تلاوت کرتی رہتی تھیں، ان سے سن سن کر میں نے شکمِ مادر میں ہی یہ پارے حفظ کرلئے ہیں۔
*(سیرالاقطاب:169)*
آپ تمام علوم ِ مروجہ کے عالم ِکامل تھے۔
*بیعت و خلافت:* آپ علوم ِ ظاہری کی تحصیل کے بعد سلسلہ عالیہ چشتیہ بہشتیہ میں خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللّٰه علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور سترہ سال کی عمر میں خلافت س
❤1