🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*📚 « مختصــر ســیرتِ رسولِ اکــرمﷺ » 📚*
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
🌹حضرت سید الانبیاء رحمۃ اللعالمین سیدنا محمد مصطفیﷺ🌹
───────────────

حضور امامُ الاولیاء، سرورِ انبیاء، باعثِ ایجاد عالم، فخر موجودات، محبوب رب العالمین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، منبع فیض انبیاء و مرسلین، معدن علوم اولین و آخرین، واسطہ ہر فضل و کمال، مظہر ہر حسن و جمال اور خلیفہ مطلق و نائب کل حضرت باری تعالیٰ جل جلالہ کے ہیں۔

اوّل تخلیق: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپﷺ کے نور کو پیدا کیا۔ پھر اسی نور کو واسطہ خلقِ عالم ٹھہرایا۔ عالم ارواح ہی میں اس نور کو خلعتِ نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اسی عالم میں دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کی روحوں سے عہد لیا گیا کہ اگر وہ حضور اقدس ﷺ کے زمانہ کو پائیں تو ان پر ضرور ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ جیسا کہ وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِینَ الآیہ میں مذکور ہے۔ اسی واسطے تمام انبیائے کرام علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کو حضور ﷺ کی آمد کی بشارت دیتے رہے ہیں۔

نورِ مصطفیٰﷺ کی منتقلی: جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو اپنے حبیب پاکﷺ کا نور ان کی پشت مبارک میں بطور ودیعت رکھا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے وہ نور حضرت حواء کے رحم پاک میں منتقل ہوا۔ پھر حضرت حواء سے حضرت شیث علیہ السلام کی پشت میں منتقل ہوا۔ اس طرح یہ نور انور پاک پشتوں سے پاک رحموں کی طرف منتقل ہوتا ہوا حضوراکرمﷺ کے والد ماجد حضرت عبداللہ کی پشت مبارک میں منتقل ہوا۔ اور حضرت عبداللہ سے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک میں منتقل ہوا۔

برکاتِ نورِ مصطفیٰ ﷺ: اسی نور کی برکت سے حضرت آدم علیہ السلام مسجودِ ملائکہ بنے۔ اور اسی نور کے وسیلہ سے ان کی توبہ قبول ہوئی۔ اسی نور کی برکت سے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی غرق ہونے سے بچی۔ اسی نور کی برکت سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آتشِ نمرود گلزار ہوگئی۔ اسی نور کی برکت سے حضرت ایوب علیہ السلام کی مصیبت دور ہوگئی۔ اور اسی نور کی برکت سے حضرات انبیائے سابقین علیہم السلام پر اللہ تعالیٰ کی عنایات بغایت ہوئیں۔ حضورﷺ اپنی والدہ ماجدہ کے بطن مبارک میں ہی تھے کہ آپ کے والد حضرت عبداللہ نے انتقال فرمایا۔

ولادتِ مصطفیٰﷺ: آپﷺ کی ولادت باسعادت 12ربیع الاول بروز پیر بمطابق 20 اپریل 571ء کو ہوئی۔ اس تاریخ کو دنیا بھر میں مسلمان میلاد شریف مناتے ہیں۔ اہل مکہ کا بھی اسی پر عمل رہا ہے کہ وہ لوگ بارہویں ربیع الاول ہی کو کاشانۂ نبوت کی زیارت کے لیے جاتے ہیں، اور وہاں میلاد شریف کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔ (السیرۃ النبویة لابن کثیر۔ البدایة والنھایة۔ شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیة۔ فتاوىٰ رضویه ملخصاً ج 26، ص 411 تا 414 رضا فاؤنڈیشن لاہور۔ مدارج النبوۃ،جلد 2، 14۔)

تاریخ عالم میں یہ وہ نرالا اور عظمت والا دن ہے کہ اسی روز عالم ہستی کے ایجاد کا باعث، گردش لیل و نہار کا مطلوب، خلق آدم کا رمز ، کشتی نوح کی حفاظت کا راز، بانیِ کعبہ کی دعا، ابن مریم کی بشارت کا ظہور ہوا۔ کائنات کے وجود کے الجھے ہوئے گیسوؤں کو سنوارنے والا، تمام جہان کے بگڑے نظاموں کو سدھارنے والا یعنی ؎

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا مرادیں غریبوں کی برلانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ماوٰی، ضعیفو ں کا ملجا
یتیموں کا والی، غلاموں کا مولیٰ

سندالاصفیاء، اشرف الانبیاء، احمد مجتبیٰ، حضرت محمد مصطفےٰﷺ وجود کائنات میں رونق افروز ہوئے تو پاکیزہ بدن، ناف بریدہ، ختنہ کئے ہوئے، خوشبو میں بسے ہوئے، بحالت سجدہ، مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین میں اپنے والد ماجد کے مکان کے اندر پیدا ہوئے، باپ کہاں تھے جو بلائے جاتے اور اپنے نو نہال کو دیکھ کر نہال ہوتے، وہ تو پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ دادا بلائے گئے جو اس وقت طواف کعبہ میں مشغول تھے۔ یہ خوشخبری سن کر دادا ’’حضرت عبدالمطلب‘‘ خوش خوش حرم کعبہ سے اپنے گھر آئے اور والہانہ جوشِ محبت میں اپنے پوتے کو کلیجے سے لگایا۔ پھر کعبہ میں لے جا کر خیر و برکت کی دعا مانگی اور ’’محمد(ﷺ)‘‘ نام رکھا۔ آپ کے چچا ابولہب کے پاس لونڈی ’’ثویبہ‘‘ خوشی میں دوڑتی ہوئی گئی۔ اور ’’ابو لہب‘‘ کو بھتیجا پیدا ہونے کی خوشخبری دی تو اس نے اس خوشی میں شہادت کی انگلی کا اشارہ سے ثویبہ کو آزاد کر دیا۔ جس کا ثمرہ ابولہب کو یہ ملا کہ اس کی موت کے بعد اس کے گھر والوں نے اس کو خواب میں دیکھا اور حال پوچھا تو اس نے اپنی انگلی اٹھا کر یہ کہا کہ :
’’تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعد مجھے کچھ کھانے پینے کو نہیں ملا بجز اس کے کہ ثویبہ کو آزاد کرنے کے سبب سے اس انگلی کے ذریعہ کچھ پانی پلا دیا جاتا ہوں‘‘
(بخاری جلد 2، باب و امہاتکم التی ارضعنکم)
1
اس موقع پر حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ نے ایک بہت ہی فکر انگیز اور بصیرت افروز بات تحریر فرمائی ہے جو اہل محبت کے لیے نہایت ہی لذت بخش ہے آپ لکھتے ہیں: اس جگہ میلاد کرنے والوں کے لیے ایک سند ہے کہ یہ آنحضرتﷺ کی شب ولادت میں خوشی مناتے ہیں اور اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب ابو لہب کو جو کافر تھا اور اس کی مذمت میں قرآن نازل ہوا ۔ آنحضرتﷺ کی ولادت پر خوشی منانے اور باندی کا دودھ خرچ کرنے پر جزا دی گئی تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا آنحضرتﷺ محبت میں سرشار ہوکر خوشی مناتا ہے اور اپنا مال خرچ کرتا ہے۔ (مدارج النبوۃ جلد2، ص 19)

حلیۂ مصطفیٰ ﷺ: عاشقِ صادق حضرت شاہ ابو المعالی قادری کرمانی اہوری رحمۃ اللہ علیہ حضور اکرمﷺ کے حلیہ مبارک کی تعریف میں یوں فرماتے ہیں:
ھو اسمر بیاض اللون و واسع الجبھۃ وازج الحاحبین واقلج الاسنان واسود العینین وملیح واقنا انف وازج الحواجب وطویل الیدین وثمام القد ومجتمع اللحیۃ ورفیق الانامل وضیق الغماد ولیس فی بدنہ شعر الا لخط الصدر الی الثرۃ وصورتہ احسن الصور وحسنہ حسن القمر ونورہ نور الشمس وکلامہ کلام روح القدس وقالہ قال الشریعۃ وحالہٗ حال الحقیقۃ وعلمہٗ علم الیقین ولسانہٗ لسان الذاکر وقلبہٗ عین المعرفۃ وذاتہٗ ذات انوار الحق ودینہ اکرام الادیان ملتہ اشرف الملل وخلقہ احسن الاخلاق وعملہٗ امر اللہ ونعلہ عبادۃ اللہ وجسمہٗ خیر الاجسام واسمہٗ خیرالانام صلی اللہ علیہ واٰلہٖ واصحابہ اجمعین.
"حضور اکرم ﷺکا رنگ گندمی سرخ یا سفید ملا ہوا تھا۔ فراخ پیشانی، باریک ابرو، کشادہ دندان، سیاہ چشم، حیا دار ملیح نظر والی بلند ناک، بھرے ہوئے لمبے بازو، سر و قد (یعنی سیدھا جیسے مناسب ہوتا ہے) اور گنجان ریش مبارک، باریک بال، تنگ دہان تھا۔ آپ کے بدن مبارک پر بال نہیں تھے مگر سینۂ اقدس کے خط سے ناف تک اور آپ کی نازنین صورت تمام صورتوں سے احسن ہے، آپ کا حسن چاند کے حسن سے بڑھکر اور آپ کا نور، نورِ خورشید سے افضل۔ آپ کا کلام روح القدس کا کلام اور آپ کی گفتگو رازِ شریعت اور آپ کا حال حقیقت کی صورت ہے۔ آپ کا علم، علمِ یقین اور آپ کی زبان خدا کا ذکر کرنے والی زبان ہے۔ آپ کادل معرفت کا چشمہ، آپ کی ذات انوارِ حق کا کرشمہ، آپ کا دین تمام دنیا کے مذہبوں سے بلند اور آپ کی ملّت تمام ملّتوں سے برگزیدہ ہے۔ آپ کا خلقِ عظیم اخلاقِ حسنہ کا نچوڑ، آپ کا عمل خدا کا حکم، آپ کا کام اللہ کی عبادت، آپ کا جسم مخلوق میں خیر و سعادت اور آپ کا اسمِ گرامی ’’خیرالانام‘‘ ہے صلی اللہ علیہ وآلہٖ واصحابہٖ اجمعین۔"

نسب پاک مصطفیٰﷺ: حضور اقدسﷺ کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے یہ ہے۔ حضرت محمدﷺ، بن عبداللہ، بن عبدالمطلب، بن ہاشم، بن عبدمناف، بن قصی، بن کلاب، بن کعب، بن لوی، بن غالب، بن فہر، بن مالک، بن نضر، بن کنانہ، بن خزیمہ، بن مدرکہ، بن الیاس، بن مضر، بن نزار، بن معد، بن عدنان۔ (بخاری جلد 1،ص باب مبعث النبی ﷺ)

والدہ ماجدہ کی طرف سے: حضرت محمدﷺ بن آمنہ، بنت وہب، بن عبدمناف، بن زہرہ، بن کلاب، بن مرہ۔
حضور علیہ السلام کے والدین کا نسب نامہ’’کلاب بن مرہ‘‘ پر مل جاتا ہے اور آگے چل کر دونوں سلسلے ایک ہوجاتے ہیں ’’عدنان‘‘ تک آپ کا نسب نامہ صحیح سندوں کے ساتھ باتفاق مورخین ثابت ہے۔ اس کے بعد ناموں میں بہت کچھ اختلاف ہے اور حضورﷺ جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو ’’عدنان‘‘ تک ہی ذکر فرماتے تھے۔ (کرمانی بحوالہ حاشیہ بخاری جلد1 ص 543)
مگر اس پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ ’’عدنان‘‘ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند ارجمند ہیں۔

خاندانی شرافت: حضور اکرمﷺ کا خاندان نسب و نجابت اور شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے اشرف و اعلیٰ ہے اور یہ وہ حقیقت ہے کہ آپ کے بدترین دشمن کفار مکہ بھی کبھی اس کا انکار نہ کرسکے چنانچہ حضرت ابو سفیان نے جب انہوں نے اسلام قبول نہ فرمایا تھا۔ بادشاہ ِروم ہرقل کے بھرے دربار میں اس حقیقیت کا اقرار کیا کہ ’’ھو فینا ذونسب‘‘ یعنی نبیﷺ ہم سب میں عالی خاندان والے ہیں۔ (بخاری جلد1ص 4)
حالانکہ اس وقت وہ آپ (ﷺ) کے بدترین دشمن تھے اور چاہتے تھے کہ اگر ذرا بھی کوئی گنجائش ملے تو آپ کی ذات پاک پر کوئی عیب لگا کر بادشاہ روم کی نظروں میں وقار گرادیں۔ مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ‘‘کنانہ’’ کو برگزیدہ بنایا۔ اور ‘‘بنی ہاشم’’ میں سے مجھ کو چن لیا۔ (مشکوٰۃ باب فضائل سیدالمرسلینﷺ)

بہر حال یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ؎
لہ النسب العالی فلیس کمثلہ
حسیب نسیب منعم متکرم
یعنی حضور انورﷺ کا خاندان اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ کوئی بھی جسب و نسب والا، اور نعمت و بزرگی والا آپ کے مثل نہیں ہے۔
1
بچپن کے واقعات: سب سے پہلے آپﷺ کو آپ کی والدہ ماجدہ نے کچھ دن دودھ پلایا۔ پھر آپ نے چند روز ابولہب کی آزاد کی ہوئی لونڈی ثویبہ کا دودھ پیا۔ بعد ازاں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا آپ کو اپنے قبیلے بنی سعد میں لے گئیں۔ وہیں پہلی بار حضور کا شق صدر ہوا۔ دوسرا شق صدر دس برس کی عمر شریف میں اور تیسرا غارِ حراء میں بعثت کے وقت اور چوتھا شبِ معراج میں ہوا۔ جب آپﷺ کی عمر شریف چھ سال کی ہوئی تو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ انتقال فرما گئیں۔ اور آپ کے دادا جناب عبدالمطلب آپ کی پرورش کے کفیل ہوئے۔ جب آٹھ سال کے ہوئے تو جناب عبدالمطلب نے بھی وفات پائی۔ پھر حضور اپنے چچا جناب ابوطالب کے ہاں پرورش پاتے رہے۔ بارہ سال کی عمر شریف میں آپ جناب ابوطالب کے ساتھ ملک شام کو تشریف لے گئے۔ اس سفر میں بحیرہ راہب نے آپ کو دیکھ کر کہا کہ یہ رسول رب العالمین ہیں۔ چودہ سال کی عمر میں آپﷺ نے اپنے چچاؤں کے ساتھ حربِِ فجّار میں شرکت فرمائی۔ پچیس سال کی عمر شریف میں آپﷺ حضرت خدیجہ کی طرف سے بغرض تجارت شام کو تشریف لے گئے۔ اس سفر میں نسطور راہب نے آپ کی نسبت کہا کہ یہ آخر الانبیاء ہیں۔ اس سفر سے واپسی کے تقریباً تین ماہ بعد حضورﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوگیا۔ جب آپ کی عمر مبارک 35 سال کی ہوئی تو قریش نے عمارتِ کعبہ کو از سرِ نو بنایا۔ اس تعمیر میں حضورﷺ بھی شریک تھے۔ اور اپنے چچا حضرت عباس کے ساتھ کندھے پر پتھر اٹھاکر لا رہے تھے۔

خفیہ دعوتِ اسلام: جب عمر مبارک چالیس سال کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو (اظہارِ) اعلانِ نبوت کا حکم دیا۔ چنانچہ آپﷺ خفیہ طور پر چند لوگوں کو دعوت اسلام دینے لگے۔ اس دعوت پر کئی مرد و زن آپ پر ایمان لائے۔
چنانچہ مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ۔ لڑکوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، عورتوں میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا۔ آزاد کیے ہوئے غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور غلاموں میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔

اعلانِیہ دعوت اسلام: خفیہ دعوت کے تین سال بعد اعلانیہ دعوتِ اسلام کا حکم آیا۔ تبلیغ علی الاعلان پر قریش برا فروختہ ہوگئے اور آپﷺ کو اور آپ کے اصحاب کو اذیت دیتے رہے۔ نبوت کے پانچویں سال حضورﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم میں سے جو چاہیں ہجرت کرکے حبشہ چلے جائیں۔ چنانچہ پہلے پہل گیارہ مردوں اور چار عورتوں نے ہجرت کی۔ اعلان نبوت کے چھٹے سال حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ ایمان لائے اور ان کے تین دن بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی مشرف باسلام ہوئے۔ اسلام کی ترقی پر قریش مسلمانوں کو اور ایذائیں دینے لگے۔ اس لیے 83 مرد اور 18 عورتوں نے دوسری بار حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ قریش نے نجاشی کے پاس اپنے بھیجے کہ مہاجرین کو واپس کردو۔ مگر وہ سفیر بے نیل و مرام واپس آئے۔ اس لیے قریش نے اب بالاتفاق یہ قرار دیا کہ (حضرت) محمدﷺ کو اعلانیہ قتل کردیا جائے۔ بنو ہاشم و بنو مطلب حضورﷺ کو بغرضِ حفاظت شعبِ ابی طالب میں لے گئے۔ اس پر قریش نے بنو ہاشم و بنو مطلب سے مقاطعہ کردیا تاکہ تنگ آکر حضورﷺ کو ان کے حوالہ کردیں۔ اور اس بارے میں ایک تحریری معاہدہ لکھ کر خانہ کعبہ کی چھت میں لٹکا دیا۔ قریش نے نہایت سختی سے اس معاہدہ کی پابندی کی۔ تین سال کے بعد حضورﷺ نے خبر دی کہ اس معاہدہ کو دیمک چاٹ گئی ہے اور سوائے اللہ کے نام کے کچھ نہیں چھوڑا۔ جب معاہدہ کو دیکھا گیا تو حضورﷺ کا ارشاد صحیح نکلا۔ مگر مخالفین بجائے روبراہ ہونے کے اور درپے ایذا ہوگئے۔
ماہ رمضان (10 اعلان نبوی) میں جناب ابو طالب کا انتقال ہوگیا اور اس کے تین دن بعد سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے بھی انتقال فرمایا۔ حضورﷺ نے پریشانی کی حالت میں طائف کا سفر کیا۔ مگر اشرافِ ثقیف نے آپ کی دعوت کا بری طرح سے جواب دیا۔ اور واپسی پر اس قدر پتھر برسائے کہ نعلین شریفین خون سے آلودہ ہوگئیں۔

واقعہ معراج: آپﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ ہر سال موسم حج میں تمام قبائل عرب کو جو مکہ اور نواح مکہ میں موجود ہوتے دعوت اسلام دیا کرتے تھے اور میلوں میں بھی اسی غرض سے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اعلان نبوت کے گیارہویں سال آپﷺ نے حسبِ عادت منیٰ میں عقبہ کے نزدیک جہاں اب مسجد عقبہ ہے۔ قبیلہ خزرج کے چھ آدمیوں کو دعوت اسلام دی۔ وہ مسلمان ہوگئے۔ انہوں نے مدینہ میں اپنے بھائیوں کو اسلام کی دعوت دی۔ اس لیے آئندہ سال بارہ مرد ایامِ حج میں مکہ آئے اور حضور ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ بقولِ مشہور اسی سال ماہ رجب کی ستائیسویں رات حضورﷺ کو حالتِ بیداری میں جسد شریف کے ساتھ معراج عطا ہوا اور پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔ اعلان نبوت کے تیرہویں سال انصار میں سے 73 مرد اور عورتوں نے حضورﷺ کی بیعت کی۔
1
ہجرتِ مدینہ منورہ: قریش کی ایذاء رسانی سے اب مسلمانوں کا قیام مکہ میں دشوار ہوگیا۔ اس لیے حضورﷺ کی اجازت سے صحابہ کرام متفرق طور پر رفتہ رفتہ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ اور مکہ میں حضورﷺ کے علاوہ حضرات ابوبکر، علی رضی اللہ عنہما اور کچھ بیمار وغیرہ رہ گئے۔
قریش نے جب دیکھا کہ آنحضرتﷺ کے مددگار مکہ سے باہر مدینہ میں بھی ہوگئے ہیں۔ تو وہ ڈرے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ بھی وہاں چلے جائیں اور اپنے مددگاروں کو ساتھ لے کر مکہ پر حملہ آور ہوں۔ اس لیے انہوں نے دارالندوہ میں جمع ہوکر شیخ نجدی کے مشورہ سے یہ قرار دیا کہ رات کو حضورﷺ کو قتل کر دیا جائے۔ حضور کو بذریعہ وحی خبر ہوگئی۔ کفار نے حسب قرار داد رات ہوتے ہی حضورﷺ کے دولت خانہ کو گھیر لیا۔ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ا پنے بستر پر چھوڑا اور ایک مشت خاک لے کر سورہ یٰسین شریف کی شروع کی آیات پڑھ کر کفار پر پھینک دی۔ کفار کو کچھ نظر نہ آیا اور آپ وہاں سے نکل کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ تین رات غار ثور میں رہے۔ قدید کے قریب سراقہ بن مالک آپ کے تعاقب میں آیا۔ آپ کی دعاء سے اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ اور وہ معافی مانگ کر واپس چلا آیا۔ قدید ہی میں حضورﷺ کا گزر اُمِّ مَعبد کے خیمہ پر ہوا۔

مسجد قباء کی بنیاد: رسول اللہﷺ قباء میں 12 ربیع الاول دو شنبہ کے دن پہنچے۔ یہی اسلامی تاریخ کی ابتداء بنی۔ آپ نے بستی قباء میں مسجد ِقباء کی بنیاد رکھی۔ جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔
مدینہ میں آپﷺ کی تشریف آوری سے مسلمانوں کو جو خوشی ہوئی وہ بیان نہیں ہو سکتی۔ آپﷺ نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر قیام فرمایا۔ اسی سال مسجد نبوی۔ ازواج مطہرات کے لیے حجرے اور مہاجرین کے لیے مکانات بن کر تیار ہوگئے۔ اذان مشروع ہوگئی۔ حضورﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔

غزوات کا آغاز: ہجرت کے دوسرے سال قبلۂ نماز بجائے بیت المقدس کے کعبہ شریف ہوگیا۔ رمضان کے روزے فرض ہوگئے۔ اور غزوات و سرایا کا آغاز ہوا۔ غزوات تعداد میں 27 ہیں اور سرایا 47۔ بڑے بڑے غزوات جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے سات ہیں۔ بدر، احد، خندق، خیبر، فتح مکہ، حنین، تبوک۔
جن غزوات میں حضور اقدسﷺ نے قتال فرمایا وہ یہ ہیں۔ بدر، احد، خندق، مصطلق، خیبر، فتح مکہ، حنین، طائف۔ غزوات میں سب سے اخیر غزوہ تبوک ماہ رجب 9ھ میں تھا۔

حکمرانوں کے نام خطوط: ہجرت کے ساتویں سال کے شروع میں آنحضرتﷺ نے والیان ِملک (قیصر و کسریٰ و نجاشی وغیرہ) کے نام دعوت اسلام کے خطوط روانہ فرمائے۔ اور 9ھ میں غزوہ تبوک سے واپسی پر مسجد ضرار جو منافقین نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی غرض سے بنائی تھی آپ کے حکم سے جلادی گئی۔

سالِ وفود: اسی سال وفود ِعرب، دربارِ رسالتﷺ میں اس کثرت سے حاضر ہوئے کہ اسے سالِ وفود کہا جاتا ہے۔ یہ وفود بالعموم نعمتِ ایمان سے مالا مال ہو کر واپس گئے۔
10ھ میں بھی وفود عرب خدمت اقدس میں حاضر ہوتے رہے۔ اہل یمن و ملوک حمیرا ایمان لائے۔ اور رسول اللہﷺ نے آخری حج کیا جسے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔

نکاح و اَزواجِ مُطہَّرَات: آپﷺ نے چار سے زائد نکاح فرمائے جو آپ کی خصوصیت ہے۔ پہلا نکاح پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا اور جب تک وہ حیات رہیں دوسرا نکاح نہ فرمایا۔ آپ کی گیارہ اَزواجِ مُطَہَّرَات کے اَسمائے گرامی یہ ہیں: (1)حضرتِ خدیجۃُ الکبریٰ (2)حضرتِ سَودَہ (3)حضرتِ عائشہ (4)حضرتِ حَفْصہ (5)حضرتِ اُمِّ سَلَمہ (6)حضرتِ اُمِّ حبیبہ (7)حضرتِ زینب بنتِ جَحش (8)حضرتِ زینب بنتِ خُز یمہ (9) حضرت ِمیمونہ (10)حضرتِ جُویریہ (11) حضرتِ صَفِیّہ رضی اللہ تعالٰی عَنْہُنَّ۔

آپ کی تین باندیوں کے نام یہ ہیں : (1)حضرتِ مارِیہ قِبْطِیَّہ (2) حضرتِ رَیحانہ (3)حضرتِ نفیسہ رضی اللہ تعالٰی عَنْہُنَّ۔

اولاد مبارک:
آپ کے تین شہزادے : (1)حضرت قاسم (2)حضرت عبدُاللہ(طیب وطاہر) اور (3)حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالٰی عنہم اور چار شہزادیاں ہیں: (1)حضرتِ زینب (2) حضرتِ رُقیّہ (3)حضرتِ اُمّ کُلثوم (4)حضرتِ فاطمۃُ الزّہراء رضی اللہ تعالٰی عَنْہُنَّ۔ آپ کی تمام اولاد مبارک حضرتِ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوئی البتہ حضرتِ ابراہیم رضی اللہ عنہ حضرتِ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے شکم سے پیدا ہوئے۔

رشتہ دار:
چار مشہور چچا : (1) حضرتِ حمزہ (2)حضرتِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما (3) ابو طالِب (4)ابولہب۔
چار پھوپھیاں : (1) حضرتِ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (2) عاتِکہ (3)اُمیمہ (4)اُمّ حکیم۔
1👍1
وصالِ مبارک: حضورﷺ کی بعثت کے وقت تمام دنیا بالخصوص عرب پر حد سے زیادہ جہالت و گمراہی چھائی ہوئی تھی۔ ان کی اخلاقی و مذہبی پستی حد غایت کو پہنچی ہوئی تھی۔ موافق و مخالف سب کو معلوم ہے کہ حضورﷺ امی تھے۔ امیوں میں آپﷺ نے پرورش پائی۔ کسی سے تعلّم و تلمّذ نہ کیا اور نہ لکھنا پڑھنا سیکھا۔ مگر آپﷺ نے بتعلیم الٰہی اپنے اصحاب کرام کو وہ تعلیم روحانی دی کہ وہ معارف ربانی کے عارف اور اسرار فرقانی کے ماہر بن گئے۔ جس کسی نے دولت ایمان سے سرفراز ہوکر کچھ وقت بھی شرف ملازمت حاصل کرلیا۔ وہی عالم ربانی، اور عارف ِیزدانی بن گیا۔ آپ کی صحبت میں صحابہ کرام میں سے ہر ایک کو نسبت خاصہ اور قوت قدسیہ مبدأ فیاض سے عطا ہوگئی۔ قصہ کوتاہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام کو اسلام و ایمان اور احسان سے مالا مال کرکے اور سچے دین کے ظاہری و باطنی علوم سکھا کر 12 ربیع الاول 11ھ بمطابق 12 جون 632ء میں دو شنبہ کے دن الرفیق الاعلیٰ پکارتے ہوئے اعلیٰ علیین قرب العالمین میں تشریف لے گئے۔ علیہ وعلیٰ الہ واصحابہ افضل الصلوات واکمل التحیات۔

مگر حضور سراپا نور رحمۃ للعالمینﷺ حیات ہیں۔ قیامت تک حضورﷺ کی امت مرحومہ کو حضور سے وہی فیضان بواسطہ خواص امت علمائے کرام و صوفیہ عظام پہنچتا رہے گا جو حضورﷺ کی ظاہری زندگی میں پہنچتا تھا۔ حضورﷺ کی امت میں وقتاً فوقتاً اولیاء، و صلحاء پیدا ہوتے رہیں گے۔ اور ان اولیائے کرام کے ذریعے حضور ختم المرسلین رحمۃ اللعالمینﷺ کی نبوت کی تصدیق ہوتی رہے گی۔
چنانچہ حضرت امام وقت سیدنا مخدوم علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کشف المحجوب میں یوں فرماتےہیں:
’’خداوند تعالیٰ برہان نبوی را تا امروز باقی گردانیدہ است و اولیاء را سبب اظہار آں کردہ۔ تاپیوستہ آیاتِ حق و حجت صدق سیدنا محمد مصطفےٰ ﷺظاہر مے باشند۔ ومرایشاں راوالیان عالم گردانیدہ تا محرم وے گشتہ اندو راہ متابعت نفس رادر نوشتہ از آسمان باراں برکت اقدام ایساں آید۔ واز زمین نباتات ببر کات صفائی احوال ایشاں روید‘‘۔
حضرت خواجہ انبالوی روحی و قلبی فداہ فرماتے ہیں: حقیقتِ محمدیہ کا تعلق جس طرح ذات رسول اللہﷺ کے ساتھ حیات میں تھا بعینہ وہی تعلق اب بعد وصال بھی بدن مبارک کے ساتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے دین کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ اور جس طرح حضور پر نورﷺ کی حیات میں آپ کے تصرفات جاری تھے ویسے ہی اب بھی جاری ہیں۔ یہی معنٰی ہیں حیات النبیﷺ ہونے کے اور اسی وجہ سے قطب، غوث، ابدال، اوتاد وغیرہ رسول اللہﷺ کی امت میں ہوتے رہیں گے۔‘‘ (ذکر خیر)۔

ارشاداتِ عالیہ: حضور اقدسﷺ کے ارشادات قدسیہ کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے متعلق آپﷺ کے ارشادات قدسیہ نہ پائے جاتے ہوں۔

اللهم صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على ابراهيم وعلى ال ابراهيم انك حميد مجيد.

ماخذ و مراجع: سیرت سیدالانبیاء۔ سیرت مصطفیٰ۔ دیگر کتب سیرت۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
◈◈⊰──────⊱◈◈◈⊰──────⊱◈◈
*مرتبیـن📝 شمـس تبـریز نـوری امجـدی، محمـد یـوسف رضـا رضـوی امجـدی "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 966551830750+/ 9604397443+*
◈◈⊰──────⊱◈◈◈⊰──────⊱◈◈
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت مخدوم علاء الدین علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللہ علیہ🕯*


*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* سید علی احمد۔
*لقب:* علاء الدین صابر، بانیِ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ۔
*سلسلہ نسب اس طرح ہے:* سید علاء الدین علی احمد صابر بن سید عبدالرحیم بن سید عبدالسلام بن سید سیف الدین بن سید عبد الوہاب بن غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی۔(علیہم الرحمۃ والرضوان)

آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰه علیہ کی ہمشیرہ تھیں، اور سلسلہ نسب امیر المؤمنین حضرت فاروقِ اعظم رضی ﷲ عنہ تک منتہی ہوتاہے۔
(تذکرہ اولیائے بر صغیر، جلد دوم:207)

*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت بروز جمعرات 19/ربیع الاول 592ھ مطابق 22/فروری 1196ء کو بوقتِ تہجد ’’ہرات‘‘ (افغانستان) میں ہوئی۔آپ کا وجود ایسا تھا کہ دایہ کو بے وضو غسل کرانے کی ہمت نہ ہوئی۔

*بشارت قبل از ولادت:* آپ کی ولادت سے قبل حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے خواب میں ’’علی‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا۔ نبیِّ مُکرَّمﷺ نے خواب میں تشریف لاکر ’’احمد‘‘ نام رکھنے کا حکم فرمایا۔ آپ کی ولادت کے بعد ایک بزرگ آپ کے والد گرامی سے ملاقات کے لئے تشریف لائے، اور آپ کو دیکھ کر فرمایا: ’’یہ بچہ علاءالدین کہلائے گا‘‘۔ آپ کے ماموں حضرت فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ آپ کو ’’صابر‘‘ کا لقب عطاء فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو’’علاء الدین علی احمد صابر‘‘ کے نام سے شہرت ہوئی۔
آپ کی زبان سے جو پہلا لفظ نکلا وہ ’’لا موجود الا اللہ‘‘ تھا۔
(تذکرہ اولیائے پاک وہند: 63)

*تحصیلِ علم:* بچپن میں ہی آثارِ سعادت واضح تھے۔ آپ انتہائی ذہین و فطین، اور عام بچوں سے بالکل مختلف تھے۔ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی۔ پانچ سال کی عمر تھی کہ والدِ گرامی کا وصال ہوگیا۔
تعلیم و تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آگئی۔ آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ آپ کو اپنے بھائی زہد الانبیاء حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ آپ نے اپنی حیرت انگیز صلاحیت کی بنا پر صرف تین سال کے مختصر عرصے میں تمام علومِ منقول و معقول کی مکمل تحصیل و تکمیل فرما لی۔
حضرت شیخ العالم رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے: علاء الدین علی احمد نے تین سال میں عربی و فارسی کی کتبِ متداولہ، تفسیر، حدیث، فقہ، معانی، اور منطق و فلسفہ وغیرہا علوم کی تکمیل کرلی۔ یہ تمام علوم اتنے جلدی حاصل کر لئے کہ کوئی دوسرا بچہ پندرہ سال میں بھی حاصل نہیں کر سکتا۔
(مخدوم علاء الدین احمد صابر:48)

*بیعت و خلافت:* آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ میں شیخ شیوخُ العالم، زُہدالانبیاء، حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، مجاہدات و ریاضات کے بعد خلافت سے مشرف ہوئے۔

*خلافت کی عظیم الشان محفل:* حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ ماہِ رمضان المبارک میں بعد نمازِ تہجد کچھ دیر کےلئے آرام فرما ہوئے تو آپ کی آنکھ لگ گئی۔ آپ نے دیکھا کہ ایک ایسے مقام پر جمع ہیں کہ جہاں ہر طرف نور ہی نور ہے۔ ایک عالی شان دربار سجا ہے کہ جہاں امام الانبیاءﷺ تشریف فرما ہیں، اور سلسلہ عالیہ چشتیہ کے تمام اکابرین حسبِ مراتب اپنی اپنی نشستوں پر موجود ہیں۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللّٰه علیہ نے حکم دیا: ’’مخدوم علی احمد صابر کو سرور عالمﷺ کی بارگاہ میں پیش کیجئے۔ آپ نے حسبِ ارشاد حضرت صابرکلیری رحمۃ اللّٰه علیہ کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں پیش کردیا۔ آپﷺ نے حضرت علی احمد صابر رحمۃ اللّٰه علیہ کی پشت پر سیدھے کندھے کی جانب بوسہ دیا اور فرمایا: ’’ہذا ولیُّ اللہ‘‘ اس کے بعد وہاں موجود تمام بزرگوں اور ملائکہ نے آپ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے اسی مقام پر بوسہ دیا اور یہ کہا ’’ہذا ولی اللہ‘‘ پھر ہر طرف سے مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اسی مبارک کی صداؤں میں حضرت شیخ العالم کی آنکھ کُھل گئی‘‘۔
اگلے روز حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ نے ایک عالی شان محفل کا انعقاد فرمایا جس میں حضرت ابوالحسن شاذلی، شیخ حمید الدین ناگوری، شاہ منور علی الہ آبادی، شیخ بہاء الدین زکریا ملتانی، شیخ ابوالقاسم گرگانی (رحمۃ اللہ علیہم اجمعین) وغیرہ بڑے بڑے علماء و اولیاء شریک ہوئے۔ ان تمام کی موجودگی میں حضرت شیخ فرید الدین رحمہ اللّٰه نے اپنا خؤاب بیان فرمایا، جسے سنتے ہی وہاں موجود تمام بزرگوں نے یکے بعد دیگرے آپ کی مُہرِ ولایت کو بوسہ دیا اور ’’ھٰذا وَلی ُّاللہ‘‘ کہ کر مبارک باد دی۔اس کے بعد حضرت شیخ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ نے شیخ علی احمد صابر رحمۃ اللّٰہ علیہ کو سلسلہ عالیہ چشتیہ کی خلافت عطا فرما کر اپنے دستِ مبارک سے اپنی ٹوپی پہنائی اور سبز عمامے سے آپ کی دستار بندی فرمائی، اور پھر علا
1
قہ کلیر کی ولایت کی آپ کو عطاء فرمائی۔
(تذکرہ حضرت صابر کلیر:47)

*سیرت و خصائص:* پروردۂ آغوشِ ولایت، گنجینۂ علم و معرفت، وارثِ علوم و معارفِ شیخ العالم، جگر گوشۂ غوث الاعظم، آفتابِ چشتیاں، تاج الاولیاء، سلطان الاصفیاء، منبعِ جود و سخا، عاشقِ ذاتِ الٰہ، حضرت شیخ علاء الدین سید علی احمد صابر کلیری رحمۃ اللّٰه علیہ۔
آپ شیخ العالم حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کے خلیفۂ اعظم، تلمیذِ ارشد، حقیقی بھانجے، اور داماد اور سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ کے بانی ہیں۔
حضرت غوث الاعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے نسبی تعلق ہے۔ آپ مادر زاد ولی اللہ تھے۔ زندگی کے پہلے سال میں آپ ایک دن دودھ پیتےتھے اور دوسرے دن دودھ نہیں پیتے تھے، گویا اس دن روزہ رکھتے تھے۔ جب زندگی کا دوسرا سال شروع ہوا تو تیسرے دن دودھ پیتے تھے اور دو روز دودھ نہیں پیتے تھے گویا دو دن روزہ رکھتے تھے۔ جب آپ دو سال کے ہوگئے تو دودھ پینا چھوڑ دیا، جب چوتھا سال شروع ہوا اور آپ کی زبان کھلی تو سب سے پہلا کلمہ جو آپ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا۔ لَامَوجُودَاِلَّااللّٰہ۔
جب چھ سال کے ہوئے تو کھانا پینا برائے نام رہ گیا۔ رات کا زیادہ حصہ عبادت میں گزارنے لگے۔ جب ساتواں سال شروع ہوا تو آپ نے نمازِ تہجد پابندی سے پڑھنا شروع کر دی۔
(تذکرہ اولیاءِ پاک وہند: 63)

*صابر کی وجہ تسمیہ:* سیرالاقطاب میں ہے کہ بارہ سال تک حضرت شیخ علاء الدین صابر رحمۃ اللّٰہ علیہ نے حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کے لشکر اور درویشوں کے لنگر کی خدمات انجام دی، لیکن چونکہ آپ کو کھانا کھانے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بارہ سال تک دربار اور لنگر سے کھانا نہیں کھایا اور جنگل کی جڑی بوٹیوں سے گزارہ کرتے رہے۔ بارہ سال بعد حضرت بابا فرید نے وجہ پوچھی تو آپ نے عرض کیا آپ نے لنگر کی تیاری اور اہتمام کا حکم دیا تھا کھانے کی اجازت تو نہ دی تھی۔ آپ کی اجازت کے بغیر میری کیا مجال تھی کہ مطبخ (باورچی خانہ ) سے ایک دانہ بھی کھاتا، حضرت فریدالدین رحمۃ اللّٰه علیہ نے آپ کے اس صبر کی وجہ سے آپ کو ’’صابر‘‘ کا خطاب دیا۔
(خزینۃ الاصفیاء: 153)

شیخ علاء الدین حضرت شیخ فرید الدین کے باطنی علوم کے وارث ہیں:
’’علم ِ سینہ من در ذاتِ شیخ نظام الدین بدایونی، وعلمِ دل من ذاتِ شیخ علاء الدین احمد سرایت کردہ‘‘۔
یعنی حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنجِ شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ فرمایا کرتےتھے: ’’میرے سینے کا علم نظام الدین (محبوبِ الہی) کے پاس ہے، اور میرے دل کا علم علاء الدین (علی احمد صابر) کے پاس ہے‘‘۔
(تذکرہ اولیائے پاک و ہند:67/ خزینۃ الاصفیاء:154/اقتباس الانوار: 499)

شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللّٰہ علیہ کے خلفاء میں یہ دونوں ہستیاں باکمال ہیں۔ جب ایک مرتبہ آپ کے قوالوں نے دونوں حضرات کی خوش اخلاقی، تواضع و انکساری، اور مہمان نوازی کی بابا صاحب کو خبر دی۔ تو آپ نے خوش ہو کر فرمایا:
نظام الدین محبوبِ الہ ہیں، اور علاء الدین عاشقِ الہ ہیں۔
(حضرت علی احمد صابر کلیری: 89)

آپ ایک درویش کی طرح کلیر میں داخل ہوئے تھے۔ نہ آپ نے کسی سے اپنا تعارف کرایا، اور نہ کسی نے ان کی بات پوچھی، اپنے مرشد کی طرح ایک درخت کے نیچے ڈیرہ جما لیا۔ آپ کی خوراک بے نمک ابلے ہوئےگُولڑ تھے۔ قلتِ طعام، قلتِ منام، اور قلتِ صحبت ان کی خصوصیات تھیں۔ لباس میں کرتہ، تہبند، اور عمامے کے علاوہ ایک رومال بھی تھا جو زیبِ گلو رہتا تھا۔ آپ اخلاقِ محمدیﷺ سے آراستہ تھے۔ باطن ظاہر سے زیادہ رشن تھا۔ ان کی روحانیت و حسنِ سلوک کی کشش نے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ بہت کم گفتگو فرماتے۔ اکثر استغراق کی کیفیت جاری رہتی۔ لیکن اس حالت میں ایک نماز بھی قضاء نہ ہوئی۔ جب نماز کےلئے ہوشیار کیے جاتے تو فرماتے:
’’شریعت بھی کیا چیز ہے، جو حضوری سے دربار میں لے آتی ہے‘‘۔
اسی طرح جب غذا پیش کی جاتی تو کہتے کہ ’’بندہ کھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کھانے سے بے نیاز ہے‘‘۔
بندگی اور الوہیت کی اس سادہ سی تعریف پر ہزاروں فلسفے قربان کیے جاسکتے ہیں۔ ہر حال میں شریعت کی پاسداری مقدم تھی۔ آپ کا روحانی فیض آج بھی جاری ہے۔ بڑے اکابرین اولیاء و علماء سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ سے منسلک ہوکر واصل با اللہ ہوئے۔

اکثر تذکرہ نگاروں نے آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو ایک کامل ولی کی شایانِ شان نہیں ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ آپ کی سوانح کئی صدیوں بعد مرتب کی گئی، تو اس میں رطب و یابس جمع ہوگیا۔ انہوں نے آپ کو جلالی اور حضرت اسرافیل و موسیٰ علیہ السلام کے نقشِ قدم پر لکھا ہے۔ آپ نے مسجد نمازیوں پر گرادی، اور اسی طرح کلیر میں ہر طرف بارہ بارہ میل تک آگ لگادی، وغیرہ۔
لیکن یہ تو سب جانتے ہیں جس نے حضرت شیخ فرید الدین رحمہ اللّٰه کے لنگر کا انتظام بارہ سال تک بڑے منظم طریقے سے سنبھالا ہو، اور جس کے حسنِ اخلاق، اور صبر و قناعت، توکل و احسان کی بدولت ’’صابر‘‘ کا لقب عطاء
1👍1
کیا گیا ہو۔ وہ اپنی ذات کےلیے یہ کام کیسے کر سکتا ہے۔

*تاریخِ وصال:* 13/ ربیع الاول690ھ مطابق 1291ء کو واصل بااللہ ہوئے۔ آپ کا مزار پر انوار کلیر شریف ضلع سہارنپور (ہند) میں مرجعِ خلائق ہے۔

*ماخذ و مراجع:* تذکرہ اولیائے پاک و ہند۔ سیر الاقطاب۔ خزینۃ الاصفیاء۔ اقتباس الانوار۔ تذکرہ علاء الدین علی احمد صابر کلیری۔


*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
1👍1