🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-03-1444 ᴴ | 06-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-03-1444 ᴴ | 06-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
09-03-1444 ᴴ | 06-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
09-03-1444 ᴴ | 06-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
*🕯کیا علماء نے دین کو مشکل بنایا ہے؟🕯*


[قِسط نمبر 01]
📬 مشہور جملہ ہے کہ دین بہت مشکل ہے اور بعض تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ دین مشکل نہیں تھا لیکن مولویوں نے مشکل بنا دیا۔ کیا واقعی اسلام بہت مشکل دین ہے یا یہ ایک وسوسہ اور پروپیگنڈا ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ پست ہمت آدمی کے لئے معمولی سا کام بھی مشکل ہوتا ہے جبکہ باہمت کے لئے بھاری کام بھی آسان ہوتا ہے، جیسی نیت ویسی مراد۔ مومن کو باہمت ہونا چاہیے، حدیث میں ہے: اللہ تعالٰی بلند ہمتی والے کام پسند فرماتا ہے۔(معجم اوسط،ج 2،ص179، حدیث:2940)

اسلام کامعاملہ یہ ہے کہ انسان کی طاقت وقوت اور ہمت و حوصلہ کے اعتبار سے بنیادی طور پر اسلام آسان ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ- (پ3، البقرۃ:286) ”اللہ کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتا ہے۔“ اور فرمایا: (وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ-)(پ17، الحج:78) ”اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔“ اور فرمایا: (یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘-)(پ2، البقرۃ: 185) ’’اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔‘‘ اور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا: اِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ ” بےشک دین بہت آسان ہے۔“ (بخاری،ج1،ص36، حدیث:39)
مذکورہ آیات اور حدیث سے مجتہدین ِ کرام نے یہ اصول بنایا ہے: اَلْحَرَجُ مَدْفُوْعٌ ”حرج دور ہے یعنی اسے دور کیا جاتا ہے۔“ (المبسوط للسرخسی،ج 16،ص108) اور اَلْمَشَقَّۃُ تَجْلُبُ التَّیْسِیْرَ ”مشقت آسانی لاتی ہے۔“ (الاشباہ والنظائر،ص64) یعنی جہاں بہت مشقت آجائے تو وہاں شریعت آسانی پیدا کردیتی ہے۔

ان دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ حقیقت میں طاقت وہمت کے اعتبار سے شرعی احکام آسان ہیں اگرچہ بعض احکام دوسرے بعض کی نسبت یا بعض حالات میں مشکل ہوتے ہیں لیکن کبھی ایسے مشکل نہیں ہوتے کہ ناقابلِ برداشت ہوجائیں اور دنیا جہان کے اکثر کاموں میں حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ہرکام کے لئے کچھ نہ کچھ ہمت، کوشش اور مشقت تو کرنی ہی پڑتی ہے۔ اب رہا یہ کہ یہ کچھ نہ کچھ مشقت بھی بہت مشکل ہے تو اس کے متعلق عرض ہے کہ آخر یہ مشقت دین کے معاملے میں ہی کیوں یاد آتی اور محسوس ہوتی ہے۔ اس سے کہیں بڑھ کر مشقت کا سامنا زندگی کے اکثر ضروری معاملات میں کرنا پڑتا ہے۔ آئیے! ذرا ان معاملات پر نظر دوڑائیں:

بچپن اور تعلیم دیکھ لیں، بچہ پیدا ہوتا ہے تو پہلے بیٹھنا، کھڑا ہونا، چلنا اور دوڑنا سیکھتا ہے پھر چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اسکول جاتا، محنت سے پڑھائی کرتا، اسکول سے واپسی پر ٹیوشن پڑھتا، وہاں یا گھر پر ہوم ورک کرتا، اسباق سمجھتا، یاد کرتا اور دن رات ایک کرکے امتحانات کی تیاری کرتا ہے۔ محنت کا یہ سلسلہ عموماً 12، 14 یا 16 سال جاری رہتا ہے۔ پھر اِس تعلیم میں بھی اگر سائنس، میڈیکل، انجیئنرنگ وغیرہ کے اسٹوڈنٹس کو دیکھیں تو مشقت کا حقیقی معنی پتہ چل جاتا ہے کہ نہ دن کا پتہ اور نہ رات کی خبر، بندہ ہے اور کتابیں، کالج کی دوڑ ہے اور پاس ہونے کی فریادیں۔ کیا یہ مشقت دین پر عمل کی مشقت سے کم ہے؟ نہیں نہیں، بہت زیادہ ہے۔

اس کے بعد نوکری دیکھ لیں، تعلیم مکمل کرنے کے بعد گھر بیٹھے نوکری نہیں مل جاتی بلکہ اچھی نوکری کےلئے کئی جگہوں کے چکر لگانے اور دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ کبھی نوکری کی جگہ نہیں اور کبھی جگہ تو دس افراد کو رکھنے کی ہے لیکن انٹرویو کے لئے چار سو محنت مشقت سے پڑھے ہوئے امیدوار بیٹھے ہیں۔ انٹرویو کی بھرپور تیاری کے بعد بھی یا تو انٹرویو میں فیل ہو جاتے ہیں یا پاس ہونے کے باوجود ٹاپ ٹین میں نام نہ آنے کی وجہ سے نوکری سے باہر۔ اب دوبارہ وہی دفتروں کے چکر، افسروں کی خوشامدیں، رشوتوں کے لین دین پھر بھی لیلیٰ مقصود رسائی سے دور، قلب، محبوب نوکری کے عدمِ حصول سے مہجور اور صدموں سے چُورچُور۔ اگر پوچھیں کہ بھائی کیوں اتنی مشقت کرتے اور خواری اٹھاتے ہو تو جواب ملے گا کہ یہی ہے زمانے کا دستور۔ واہ! کہاں دین پر عمل کے لئے تھوڑی سی مشقت پر سینہ کوبی اور آہ و زاری اور کہاں نوکر بننے کی خاطر یہ ذوق شوق اور بےقراری۔ اب ہزار محنت اور کوشش کے باوجود نوکری مل بھی گئی تو کیا بیٹھے بٹھائے تنخواہ مل جاتی ہے؟ نہیں، وہاں بھی وقت کی پابندی، ماتحتوں کی کام چوری اور اوپر والوں کی سینہ زوری سب برداشت کر کے مطلوبہ نتیجہ دے کر ہی تنخواہ ملتی ہے ورنہ نوکری سے چھٹی۔
1