Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اب یہی بات بطرزِ دِگر عرض کرتا ہوں۔ مٹی کے برتن استعمال کرنے، زمین پر بیٹھ کر کھانے، لمبا سفید لباس پہننے وغیرہ چیزوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ عرب کا کلچر ہے اور ہم عربی نہیں ہیں تو کیوں ان چیزوں پر عمل کا کہا جاتا ہے۔ ایسی تمام چیزوں کے بارے میں ہمیشہ یاد رکھیں کہ ان کا درجہ فرض و واجب نہیں ہیں لہٰذا کوئی ان پر عمل نہیں کرتا تو بالکل گناہگار نہیں ہے اور عمل نہ کرنے والوں کو طعن و تشنیع کرنا مذموم ہے لیکن اِن پر عمل کرنے والوں پر طنز کے تیر برسانا زیادہ قابلِ مذمت ہے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتوں پر عمل کرنے والوں کو اُن کے عمل کی وجہ سے طنز کا نشانہ بنایا جارہا ہے جو کسی مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔
مذہبی لوگوں کے ان چیزوں کو اپنانے کی بڑی ہی پیاری وجہ ہے اور وہ یہ کہ جب آدمی کسی کو اپنا پسندیدہ (Favorite) فیورٹ قرار دیتا ہے تو اپنے کلچر کی بیسیوں چیزیں چھوڑ کر وہی کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کی فیورٹ(Favorite) شخصیت کر رہی ہوتی ہے مثلا کسی پاکستانی کو یورپ یا انڈیا کا کوئی ہیرو یا گلوکاریا کھلاڑی پسند آجائے تو وہ ویسا ہی بالوں کا اسٹائل بنائے گا، اسی جیسا لباس پہنے گا حتی کہ بولنے کے اسٹائل میں بھی کوشش کرے گا کہ اسی طرح بولے، اسی کی طرح ہاتھوں کا اشارہ کرے نیز جو وہ کھاتا پیتا ہے وہی کھانا شروع کر دے گا تو جہاں Favoritism، پسند اور محبت کی بات آتی ہے وہاں آدمی اپنا کلچر پیچھے کر دیتاہے اور اپنی پسندیدہ شخصیت کا کلچر اپنا لیتا ہے۔ اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی فیشن اِن (in) ہوتا ہے تو جس مشہور شخصیت کا وہ فیشن ہوتا ہے اس کے پیروکاروں (Followers and fan club) میں وہ فیشن بہت تیزی سے سرایت کر جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی بندہ لوگوں کی نظر میں پسندیدہ ہوتا ہے تو اس کے Fans اور Followers وہی چیزیں کرنا شروع کردیتے ہیں جو اس پسندیدہ شخصیت کی معمول ہیں خواہ شخصیت کا تعلق اپنے ملک سے ہو یا یورپ ، امریکہ سے اور Fan کسی دور دراز گمنام علاقے کا رہنے والا ہو۔ بلا تشبیہ عرض ہے کہ ساری دنیا کی اوپر بیان کردہ پسندیدہ ہستیاں ہمارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قدموں کی خاک پر قربان۔ بلاشک و شبہ مسلمانوں کی سب سے محبوب ہستی نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ مبارک ہے اور یہ محبت اہل ِ محبت کے دلوں کو مجبور کردیتی ہے کہ وہ اپنے Favorite، اپنے محبوب اور پسندیدہ ہستی کے کلچر کی چیزیں اختیار کرے چنانچہ یہ حتی الامکان اسی طرح لباس پہننے، اسی طریقے سے کھانے، اسی انداز میں چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے، گفتگو کرنے اور سونے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا طریقہ ہے اور یہ چیز محبت میں بہت عام ہے جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے، آپ نے نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو لوکی شریف کے ٹکڑے تلاش کر کر کے تناول فرماتے دیکھا۔ فرماتے ہیں کہ اس دن سے مجھے لوکی سے محبت ہو گئی۔ (بخاری،ج 3،ص537، حدیث: 5436) آخر لوکی میں ایسی کیا تبدیلی آئی اور طبیعت میں ایسا کیا انقلاب آگیا کہ پہلے لوکی ایک نارمل سبزی تھی لیکن اب اسپیشل ہوکر محبوب ہو گئی۔ وجہ یہ تھی کہ وہ محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رغبت سے کھائی تھی ۔
حرف ِ آخر یہ کہ معمولات ِ زندگی کی جن چیزوں کا نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےحکم دیا یا ترغیب دی ان پر تو عمل کیا ہی جائے گا اور جن کو صرف اختیار کیا ہے ان میں اہل ِ محبت کا طریقہ حتی الامکان اپنانا ہی ہوتا ہے اگرچہ بہت سے طریقوں میں وہ اپنے علاقے یا زمانے یا ضرورت یا اہم فائدے کے اعتبار سے دوسرا طرزِ عمل بھی اختیار کرتے ہیں جیسے شلوار پہننا، تیزرفتار سواریوں پر سفر کرنا، گندم کھانا وغیرہا اور ان چیزوں پر کوئی اعتراض و کلام نہیں لیکن عمل کرنے والوں کےلئے امر ِ ترغیبی یہ ہے کہ مسلمانوں کی نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ایک جذباتی محبت جو اصلِ ایمان،جانِ ایمان اور روحِ ایمان ہے اور یہی محبت معمولاتِ زندگی کی سنتوں پر عمل کرنے کی طرف لے آتی ہے، جسے بہت سی جگہ سنت کے لفظ سے تعبیرکیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہمارے محبوب نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ادائیں ہیں ، اس لئے ہم انہیں اپناتے ہیں۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلــم✍🏻 مفــتی محمــد قـاسم عطــاری۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
مذہبی لوگوں کے ان چیزوں کو اپنانے کی بڑی ہی پیاری وجہ ہے اور وہ یہ کہ جب آدمی کسی کو اپنا پسندیدہ (Favorite) فیورٹ قرار دیتا ہے تو اپنے کلچر کی بیسیوں چیزیں چھوڑ کر وہی کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کی فیورٹ(Favorite) شخصیت کر رہی ہوتی ہے مثلا کسی پاکستانی کو یورپ یا انڈیا کا کوئی ہیرو یا گلوکاریا کھلاڑی پسند آجائے تو وہ ویسا ہی بالوں کا اسٹائل بنائے گا، اسی جیسا لباس پہنے گا حتی کہ بولنے کے اسٹائل میں بھی کوشش کرے گا کہ اسی طرح بولے، اسی کی طرح ہاتھوں کا اشارہ کرے نیز جو وہ کھاتا پیتا ہے وہی کھانا شروع کر دے گا تو جہاں Favoritism، پسند اور محبت کی بات آتی ہے وہاں آدمی اپنا کلچر پیچھے کر دیتاہے اور اپنی پسندیدہ شخصیت کا کلچر اپنا لیتا ہے۔ اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی فیشن اِن (in) ہوتا ہے تو جس مشہور شخصیت کا وہ فیشن ہوتا ہے اس کے پیروکاروں (Followers and fan club) میں وہ فیشن بہت تیزی سے سرایت کر جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی بندہ لوگوں کی نظر میں پسندیدہ ہوتا ہے تو اس کے Fans اور Followers وہی چیزیں کرنا شروع کردیتے ہیں جو اس پسندیدہ شخصیت کی معمول ہیں خواہ شخصیت کا تعلق اپنے ملک سے ہو یا یورپ ، امریکہ سے اور Fan کسی دور دراز گمنام علاقے کا رہنے والا ہو۔ بلا تشبیہ عرض ہے کہ ساری دنیا کی اوپر بیان کردہ پسندیدہ ہستیاں ہمارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قدموں کی خاک پر قربان۔ بلاشک و شبہ مسلمانوں کی سب سے محبوب ہستی نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذاتِ مبارک ہے اور یہ محبت اہل ِ محبت کے دلوں کو مجبور کردیتی ہے کہ وہ اپنے Favorite، اپنے محبوب اور پسندیدہ ہستی کے کلچر کی چیزیں اختیار کرے چنانچہ یہ حتی الامکان اسی طرح لباس پہننے، اسی طریقے سے کھانے، اسی انداز میں چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے، گفتگو کرنے اور سونے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا طریقہ ہے اور یہ چیز محبت میں بہت عام ہے جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے، آپ نے نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو لوکی شریف کے ٹکڑے تلاش کر کر کے تناول فرماتے دیکھا۔ فرماتے ہیں کہ اس دن سے مجھے لوکی سے محبت ہو گئی۔ (بخاری،ج 3،ص537، حدیث: 5436) آخر لوکی میں ایسی کیا تبدیلی آئی اور طبیعت میں ایسا کیا انقلاب آگیا کہ پہلے لوکی ایک نارمل سبزی تھی لیکن اب اسپیشل ہوکر محبوب ہو گئی۔ وجہ یہ تھی کہ وہ محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رغبت سے کھائی تھی ۔
حرف ِ آخر یہ کہ معمولات ِ زندگی کی جن چیزوں کا نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےحکم دیا یا ترغیب دی ان پر تو عمل کیا ہی جائے گا اور جن کو صرف اختیار کیا ہے ان میں اہل ِ محبت کا طریقہ حتی الامکان اپنانا ہی ہوتا ہے اگرچہ بہت سے طریقوں میں وہ اپنے علاقے یا زمانے یا ضرورت یا اہم فائدے کے اعتبار سے دوسرا طرزِ عمل بھی اختیار کرتے ہیں جیسے شلوار پہننا، تیزرفتار سواریوں پر سفر کرنا، گندم کھانا وغیرہا اور ان چیزوں پر کوئی اعتراض و کلام نہیں لیکن عمل کرنے والوں کےلئے امر ِ ترغیبی یہ ہے کہ مسلمانوں کی نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ایک جذباتی محبت جو اصلِ ایمان،جانِ ایمان اور روحِ ایمان ہے اور یہی محبت معمولاتِ زندگی کی سنتوں پر عمل کرنے کی طرف لے آتی ہے، جسے بہت سی جگہ سنت کے لفظ سے تعبیرکیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہمارے محبوب نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ادائیں ہیں ، اس لئے ہم انہیں اپناتے ہیں۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلــم✍🏻 مفــتی محمــد قـاسم عطــاری۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-03-1444 ᴴ | 04-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-03-1444 ᴴ | 05-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-03-1444 ᴴ | 05-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-03-1444 ᴴ | 05-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1