Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰ندیم ابن علیم المصبور العینی✰)
💫 شرح حدیث ”کل بدعة ضلالة“ 💫
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
اکثر احمق، وہابیہ میں سے یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: کل بدعة ضلالة. یعنی ہر بدعت گمراہی ہے لہذا کوئی بھی بدعت حسنہ نہیں. (نعوذ بالله)
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
اس حدیث میں بدعت سے مراد شرعی بدعت یعنی بدعت سیئہ ہے. حدیث کا مفہوم ہوگا ہر بدعت سیئہ گمراہی ہے یعنی دین میں ہر وہ نیا امر جو کسی سنت کے خلاف ہو گمراہی ہے.
کسی نئے کام کے شرعی بدعت ہونے کی شرط ہے کہ وہ امر قرآن و سنت واجماع کے مخالفت کرتا ہو یا اس سے سنت ترک ہو ورنہ وہ اپنی اصل میں شرعی بدعت نہیں بلکہ بدعت لغویہ ہے. اور بدعت لغویہ مباح بھی ہوتی مستحب بھی، مندوب بھی کبھی حرام اور بعض دفعہ واجب بھی. اس کی دلیل یہ ہے کہ اس حدیث میں حضور نے اپنی سنت، خلفاء کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے کی ترغیب دی، فرمایا: فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين المھدیین. اگر ہر نیا کام مطلقا بدعت ہی ہوتا تو اس کے مقابلے میں سنت کی پیروی کی ترغیب نہیں دی جاتی. سنت پر مضبوطی کی ترغیب تو تب ہی ہے جب اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا عمل پیدا کر لیا جائے اور یہی ترغیب ثابت کرتی ہے کہ بدعت وہ امر ہے جو سنت کے مخالف ہو. اس کی توضیح میں ابن حبان رحمہ الله نے بھی یہی کہا: ولم یعرج علی غیرھا من لاراء، یعنی اس سنت کے علاوہ دوسری آراء کو آگے نہیں کرے گا. لہذا بدعت وہ عمل ہے جو کسی سنت کے خلاف ہو.
علامہ ابن اثیر جزری فرماتے ہیں: وعلی ھذا التاویل یحمل الحدیث الآخر کل محدثة بدعة انما يريد ما خالف اصول الشریعة و يوافق السنة. (النہایہ فی غریب الحدیث والاثر، 106/1)
یعنی ان دلائل کے بناء پر حدیث "کل محدثة بدعة" کی وضاحت یوں ہوگی کہ اس سے مراد وہ نیا کام ہوگا جو اصول شریعت کے خلاف ہو اور سنت سے کوئی مطابقت نہ رکھتا ہو.
اِمام ملا علی قاری حدیث مبارکہ کل بدعة ضلالة کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: أی کل بدعة سيئة ضلالة، لقوله عليه الصلوة والسلام : من سن فی الاسلام سنّة حسنة فله اجرها وأجر من عمل بها وجمع أبوبکر وعمر القرآن و کتبه زيد فی المصحف وجدد فی عهد عثمان. (مرقاة المفاتيح شرح مشکاة المصابيح، 216/1)
یعنی ہر بری بدعت گمراہی ہے کیوں کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : ’’جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اس عمل کا اور اس پر عمل کرنے والے کا اجر ملے گا.“ اور یہ کہ حضرت شیخین ابوبکر رضی الله عنہ اور عمر رضی الله عنہ نے قرآن کریم کو جمع کیا اور حصرت زید رضی الله عنہ نے اس کو صحیفہ میں لکھا اور عہد عثمانی میں اس کی تجدید کی گئی.
امام ابن حجر مکی فرماتے ہیں:
المراد من قوله صلی الله تعالی عليه وآله وسلم من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه ماینا فیه اولا یشھد له قواعد الشرع والادلة العامة. (مجموعہ فتاوٰی، کتاب الحظر والاباحة، 2/9)
یعنی حدیث کی مراد یہ ہے کہ وہی نو پیدا چیز بدعت سیئہ ہے جو دین وسنت کا رد کرے یا شریعت کے قواعد اطلاق ودلائل عموم تک اس کی گواہی نہ دیں۔
وفی الحديث کل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار وهو محمول علی المحرمة لا غير. (الفتاوی الحديثيه، ص: 130)
یعنی حدیث میں ہے کہ ’’ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جائے گی“ اس حدیث کو بدعتِ محرمہ پر محمول کیا گیا ہے، اس کے علاوہ اور کسی پر نہیں۔
محمد بن علوی المالکی فرماتے ہیں: ان المراد بذلك بدعة السیئة التی لاتدخل تحت اصل شرعی. (مفاھیم یجب ان تصحح، ص: 102)
یعنی اس سے مراد وہ بدعت سیئہ ہے جو اصول شرعی کے تحت داخل نہ ہو.
مولوی شبیر احمد عثمانی دیوبندی لکھتے ہیں: قال علی قاری قال فی الازھار أی کل بدعة سیئة ضلالة لقوله علیه الصلوۃ والسلام [من سن فی الاسلام سنة حسنة فله اجرها واجر من عمل بها] (فتح الملھم، 406/2)
یعنی ملا علی قاری الازھار میں بیان فرماتے ہیں "کل بدعة ضلالة“ سے ہر بدعت سئیہ کا گمراہی ہونا مراد ہے اس پر حضور ﷺ کا یہ قول دلیل ہے [جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اپنے ایجاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور جو اس طریقے پرعمل کریں گے ان کا اجر بھی اسے ملے گا۔
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
🌷 کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
اکثر احمق، وہابیہ میں سے یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: کل بدعة ضلالة. یعنی ہر بدعت گمراہی ہے لہذا کوئی بھی بدعت حسنہ نہیں. (نعوذ بالله)
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
اس حدیث میں بدعت سے مراد شرعی بدعت یعنی بدعت سیئہ ہے. حدیث کا مفہوم ہوگا ہر بدعت سیئہ گمراہی ہے یعنی دین میں ہر وہ نیا امر جو کسی سنت کے خلاف ہو گمراہی ہے.
کسی نئے کام کے شرعی بدعت ہونے کی شرط ہے کہ وہ امر قرآن و سنت واجماع کے مخالفت کرتا ہو یا اس سے سنت ترک ہو ورنہ وہ اپنی اصل میں شرعی بدعت نہیں بلکہ بدعت لغویہ ہے. اور بدعت لغویہ مباح بھی ہوتی مستحب بھی، مندوب بھی کبھی حرام اور بعض دفعہ واجب بھی. اس کی دلیل یہ ہے کہ اس حدیث میں حضور نے اپنی سنت، خلفاء کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے کی ترغیب دی، فرمایا: فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين المھدیین. اگر ہر نیا کام مطلقا بدعت ہی ہوتا تو اس کے مقابلے میں سنت کی پیروی کی ترغیب نہیں دی جاتی. سنت پر مضبوطی کی ترغیب تو تب ہی ہے جب اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا عمل پیدا کر لیا جائے اور یہی ترغیب ثابت کرتی ہے کہ بدعت وہ امر ہے جو سنت کے مخالف ہو. اس کی توضیح میں ابن حبان رحمہ الله نے بھی یہی کہا: ولم یعرج علی غیرھا من لاراء، یعنی اس سنت کے علاوہ دوسری آراء کو آگے نہیں کرے گا. لہذا بدعت وہ عمل ہے جو کسی سنت کے خلاف ہو.
علامہ ابن اثیر جزری فرماتے ہیں: وعلی ھذا التاویل یحمل الحدیث الآخر کل محدثة بدعة انما يريد ما خالف اصول الشریعة و يوافق السنة. (النہایہ فی غریب الحدیث والاثر، 106/1)
یعنی ان دلائل کے بناء پر حدیث "کل محدثة بدعة" کی وضاحت یوں ہوگی کہ اس سے مراد وہ نیا کام ہوگا جو اصول شریعت کے خلاف ہو اور سنت سے کوئی مطابقت نہ رکھتا ہو.
اِمام ملا علی قاری حدیث مبارکہ کل بدعة ضلالة کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: أی کل بدعة سيئة ضلالة، لقوله عليه الصلوة والسلام : من سن فی الاسلام سنّة حسنة فله اجرها وأجر من عمل بها وجمع أبوبکر وعمر القرآن و کتبه زيد فی المصحف وجدد فی عهد عثمان. (مرقاة المفاتيح شرح مشکاة المصابيح، 216/1)
یعنی ہر بری بدعت گمراہی ہے کیوں کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : ’’جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اس عمل کا اور اس پر عمل کرنے والے کا اجر ملے گا.“ اور یہ کہ حضرت شیخین ابوبکر رضی الله عنہ اور عمر رضی الله عنہ نے قرآن کریم کو جمع کیا اور حصرت زید رضی الله عنہ نے اس کو صحیفہ میں لکھا اور عہد عثمانی میں اس کی تجدید کی گئی.
امام ابن حجر مکی فرماتے ہیں:
المراد من قوله صلی الله تعالی عليه وآله وسلم من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه ماینا فیه اولا یشھد له قواعد الشرع والادلة العامة. (مجموعہ فتاوٰی، کتاب الحظر والاباحة، 2/9)
یعنی حدیث کی مراد یہ ہے کہ وہی نو پیدا چیز بدعت سیئہ ہے جو دین وسنت کا رد کرے یا شریعت کے قواعد اطلاق ودلائل عموم تک اس کی گواہی نہ دیں۔
وفی الحديث کل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار وهو محمول علی المحرمة لا غير. (الفتاوی الحديثيه، ص: 130)
یعنی حدیث میں ہے کہ ’’ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جائے گی“ اس حدیث کو بدعتِ محرمہ پر محمول کیا گیا ہے، اس کے علاوہ اور کسی پر نہیں۔
محمد بن علوی المالکی فرماتے ہیں: ان المراد بذلك بدعة السیئة التی لاتدخل تحت اصل شرعی. (مفاھیم یجب ان تصحح، ص: 102)
یعنی اس سے مراد وہ بدعت سیئہ ہے جو اصول شرعی کے تحت داخل نہ ہو.
مولوی شبیر احمد عثمانی دیوبندی لکھتے ہیں: قال علی قاری قال فی الازھار أی کل بدعة سیئة ضلالة لقوله علیه الصلوۃ والسلام [من سن فی الاسلام سنة حسنة فله اجرها واجر من عمل بها] (فتح الملھم، 406/2)
یعنی ملا علی قاری الازھار میں بیان فرماتے ہیں "کل بدعة ضلالة“ سے ہر بدعت سئیہ کا گمراہی ہونا مراد ہے اس پر حضور ﷺ کا یہ قول دلیل ہے [جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اپنے ایجاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور جو اس طریقے پرعمل کریں گے ان کا اجر بھی اسے ملے گا۔
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
🌷 کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
❤1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰ندیم ابن علیم المصبور العینی✰)
💥 کیا ہر بدعت گمراہی ہے؟ 💥
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ
من سن سنة حسنة فله اجرھا واجر من عمل بھا. (صحیح مسلم، کتاب العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ، 341/2)
جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اپنے ایجاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور جو اس طریقے پرعمل کریں گے ان کا اجر بھی اسے ملے گا۔
معلوم ہوا دین مین اچھا کام ایجاد کرنے کا ثواب بھی ہے اور اسے پھیلانا بھی ثواب ہے.
روی ابن مسعودرضی ﷲ تعالٰی عنہ مرفوعاً وموقوفاً ماراٰہ المسلمون حسنًا فھو عند ﷲ حسن. (المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، 78/3)
حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی الله تعالى عنہ نے نبی ﷺ کے ارشاد اورخود ان کے قول سے مروی ہوئی کہ: اہل اسلام جس چیز کو نیک جانیں وہ خدا کے نزدیک بھی نیک ہے ۔
معلوم ہوا جس کام کو اہل اسلام نیک جانیں وہ خدا کے نزدیک بھی نیک ہے.
شریعت کا یہ قاعدہ ہے کو جس چیز کے متعلق شریعت میں منع نہ کیا گیا ہو وہ جائز و مباح ہے.
اور یہ وہابیہ کی خودساختہ شریعت ہے کہ جو قرآن و حدیث میں نہیں اس سے صاف انکار کردو (معاذ الله)
علامہ عینی شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
ان کانت مما یندرج تحت مستحسن فی الشرع فھی بدعة حسنة وان کانت مما یندرج تحت مستقبح فی الشرع فھی بدعۃ مستقبحة. (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب التراویح، 126/11)
اگر وہ بدعت شریعت کے پسندیدہ امورمیں داخل ہے تو وہ بدعت حسنہ ہوگی، اور اگر وہ شریعت کے ناپسندیدہ امورمیں داخل ہے تو وہ بدعت قبیحہ ہوگی.
امام غزالی فرماتے ہیں،
فلیس کل ما ابدع منھیابل المنھی بدعة تضاد سنة ثابتة و ترفع امرا من الشرع بقاء علته (احیاء العلوم دین،3/2)
ہر بدعت منع نہیں ہوتی بلکہ منع صرف وہی بدعت ہوتی ہے جو سنت ثابتہ کی الٹ ہو اور سنت کی علت کے ہوتے ہوئے امر شریعت کو ختم کر دے.
علامہ ابن اثیر جزری فرماتے ہیں،
وعلی ھذا التاویل یحمل الحدیث الآخر کل محدثة بدعة انما يريد ما خالف اصول الشریعة و يوافق السنة. (النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، 106/1)
ان دلائل کے بناء پر حدیث "کل محدثة بدعة" کی وضاحت یوں ہوگی کہ اس سے مراد وہ نیا کام ہوگا جو اصول شریعت کے خلاف ہو اور سنت سے کوئی مطابقت نہ رکھتا ہو.
ابن حجر مکی فرماتے ہیں،
المراد من قوله صلی الله تعالی عليه وآله وسلم من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه ماینا فیه اولا یشھد له قواعد الشرع والادلة العامة. (مجموعۃ فتاوٰی، کتاب الحظر والاباحة، 2/9)
یعنی حدیث کی مراد یہ ہے کہ وہی نو پیدا چیز بدعت سیئہ ہے جو دین وسنت کا رد کرے یا شریعت کے قواعد اطلاق ودلائل عموم تک اس کی گواہی نہ دیں۔
امام الوہابیہ مولوی وحیدالزماں لکھتے ہیں،
اما البدعة اللغویة فھی تنقسم الی مباحة ومکروھة وحسنة و سیئه. (ھدیۃ المھدی، ص: 117)
با اعتبار لغت بدعت کی درج ذیل اقسام ہیں، بدعت مباحہ، بدعت مکروہہ،بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ.
آگے حسن بھوپالی وہابی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں.
والتی لا ترفع شیئا منھا فلیست من البدعة بل ھی مباح الاصل (ھدیة المہدی، ص: ١١117٧)
جس بدعت سے کسی سنت کا رد نہ ہو وہ بدعت نہیں بلکہ وہ اپنی اصل میں مباح ہے.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
⚡️ کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
⚡️ گونڈی، ممبئی؛
⚡️ ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ
من سن سنة حسنة فله اجرھا واجر من عمل بھا. (صحیح مسلم، کتاب العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ، 341/2)
جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اپنے ایجاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور جو اس طریقے پرعمل کریں گے ان کا اجر بھی اسے ملے گا۔
معلوم ہوا دین مین اچھا کام ایجاد کرنے کا ثواب بھی ہے اور اسے پھیلانا بھی ثواب ہے.
روی ابن مسعودرضی ﷲ تعالٰی عنہ مرفوعاً وموقوفاً ماراٰہ المسلمون حسنًا فھو عند ﷲ حسن. (المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، 78/3)
حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی الله تعالى عنہ نے نبی ﷺ کے ارشاد اورخود ان کے قول سے مروی ہوئی کہ: اہل اسلام جس چیز کو نیک جانیں وہ خدا کے نزدیک بھی نیک ہے ۔
معلوم ہوا جس کام کو اہل اسلام نیک جانیں وہ خدا کے نزدیک بھی نیک ہے.
شریعت کا یہ قاعدہ ہے کو جس چیز کے متعلق شریعت میں منع نہ کیا گیا ہو وہ جائز و مباح ہے.
اور یہ وہابیہ کی خودساختہ شریعت ہے کہ جو قرآن و حدیث میں نہیں اس سے صاف انکار کردو (معاذ الله)
علامہ عینی شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
ان کانت مما یندرج تحت مستحسن فی الشرع فھی بدعة حسنة وان کانت مما یندرج تحت مستقبح فی الشرع فھی بدعۃ مستقبحة. (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب التراویح، 126/11)
اگر وہ بدعت شریعت کے پسندیدہ امورمیں داخل ہے تو وہ بدعت حسنہ ہوگی، اور اگر وہ شریعت کے ناپسندیدہ امورمیں داخل ہے تو وہ بدعت قبیحہ ہوگی.
امام غزالی فرماتے ہیں،
فلیس کل ما ابدع منھیابل المنھی بدعة تضاد سنة ثابتة و ترفع امرا من الشرع بقاء علته (احیاء العلوم دین،3/2)
ہر بدعت منع نہیں ہوتی بلکہ منع صرف وہی بدعت ہوتی ہے جو سنت ثابتہ کی الٹ ہو اور سنت کی علت کے ہوتے ہوئے امر شریعت کو ختم کر دے.
علامہ ابن اثیر جزری فرماتے ہیں،
وعلی ھذا التاویل یحمل الحدیث الآخر کل محدثة بدعة انما يريد ما خالف اصول الشریعة و يوافق السنة. (النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، 106/1)
ان دلائل کے بناء پر حدیث "کل محدثة بدعة" کی وضاحت یوں ہوگی کہ اس سے مراد وہ نیا کام ہوگا جو اصول شریعت کے خلاف ہو اور سنت سے کوئی مطابقت نہ رکھتا ہو.
ابن حجر مکی فرماتے ہیں،
المراد من قوله صلی الله تعالی عليه وآله وسلم من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه ماینا فیه اولا یشھد له قواعد الشرع والادلة العامة. (مجموعۃ فتاوٰی، کتاب الحظر والاباحة، 2/9)
یعنی حدیث کی مراد یہ ہے کہ وہی نو پیدا چیز بدعت سیئہ ہے جو دین وسنت کا رد کرے یا شریعت کے قواعد اطلاق ودلائل عموم تک اس کی گواہی نہ دیں۔
امام الوہابیہ مولوی وحیدالزماں لکھتے ہیں،
اما البدعة اللغویة فھی تنقسم الی مباحة ومکروھة وحسنة و سیئه. (ھدیۃ المھدی، ص: 117)
با اعتبار لغت بدعت کی درج ذیل اقسام ہیں، بدعت مباحہ، بدعت مکروہہ،بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ.
آگے حسن بھوپالی وہابی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں.
والتی لا ترفع شیئا منھا فلیست من البدعة بل ھی مباح الاصل (ھدیة المہدی، ص: ١١117٧)
جس بدعت سے کسی سنت کا رد نہ ہو وہ بدعت نہیں بلکہ وہ اپنی اصل میں مباح ہے.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
⚡️ کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
⚡️ گونڈی، ممبئی؛
⚡️ ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-03-1444 ᴴ | 03-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-03-1444 ᴴ | 04-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
07-03-1444 ᴴ | 04-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-03-1444 ᴴ | 04-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1