🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-03-1444 ᴴ | 03-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-03-1444 ᴴ | 03-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-03-1444 ᴴ | 03-10-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-03-1444 ᴴ | 03-10-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 pinned «شرعی عدالت (میلاد النبی اسپیشل) (اس پیغام کو صرف فاروڈ کریں کاپی پیسٹ نہیں) شرعی عدالت مجلس شوری کی طرف سے آپ تمام سنی بھائیوں بہنوں کو یہ ماہ مبارک یعنی آقا ﷺ کی پیدائش کا مہینہ بہت بہت مبارک ہو . اللهﷻ آپ تمام کے لئے یہ ماہ خوشیوں، رحمتوں اور برکتوں…»
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰ندیم ابن علیم المصبور العینی✰)
💥 بدعت کی تعریف 💥



⚡️ بدعت کی دو اقسام ہیں؛
١. بدعت حسنہ: اسے بدعت لغویہ بھی کہتے ہیں.
٢. بدعت سیئہ: اسے بدعت شریعہ بھی کہتے ہیں.

⚡️ بدعت لغویہ (حسنہ) کی تعریف:
⚡️علامہ بدر الدین محمد بن عبدالله زرکشی  بدعت لغویہ اور بدعت شرعیہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فأما في الشرع فموضوعة للحادث المذموم، و إذا أريد الممدوح قُيّدَتْ و يکون ذالک مجازًا شرعياً حقيقة لغوية. (المنثور في القواعد، 217/1)
یعنی شرع میں عام طور پر لفظ بدعت، محدثہ مذمومہ کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن جب بدعت ممدوحہ مراد ہو تو اسے مقید کیا جائے گا لہٰذا یہ بدعت ممدوحہ مجازاً شرعی ہوگی اور حقیقتاً لغوی ہوگی.

⚡️ علامہ ابن رجب حنبلی المتوفی لکھتے ہیں: المراد بالبدعة ما أحدث مما لا أصل له فی الشريعة يدلّ عليه، وأما ما کان له أصل من الشرع يدلّ عليه فليس ببدعة شرعاً وإن کان بدعة لغة. (جامع العلوم والحکم، 252/1)
یعنی بدعت سے مراد ہر وہ نیا کام ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہ ہو جو اس پر دلالت کرے لیکن ہر وہ معاملہ جس کی اصل شریعت میں موجود ہو وہ شرعاً بدعت نہیں اگرچہ وہ لغوی اعتبار سے بدعت ہوگا.

⚡️ ابن کثیر اپنی تفسیر ’’تفسیر القرآن العظیم‘‘ میں بدعت کی تقسیم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: والبدعة علي قسمين تارة تکون بدعة شرعية کقوله [فإن کل محدثة بدعة و کل بدعة ضلالة] و تارة تکون بدعة لغوية کقول أمير المؤمنين عمر بن الخطاب عن جمعه إيّاهم علي صلاة التراويح واستمرارهم : نعمت البدعة هذه. (تفسير القرآن العظيم، ١٦١/١)
یعنی بدعت کی دو قسمیں ہیں بعض اوقات یہ بدعت شرعیۃ ہوتی ہے جیسا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ [فان کل محدثة بدعة و کل بدعة ضلالة] اور بعض اوقات یہ بدعت لغویہ ہوتی ہے جیسا کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق کا لوگوں کو نماز تراویح پر جمع کرتے اور دوام کی ترغیب دیتے وقت فرمان ’’نعمت البدعة هذہ‘‘ ہے۔


⚡️ بدعت شرعیہ (سیئہ) کی تعریف:
⚡️بدعت شرعیہ: اختراع شدہ وہ امر جو سنت ثابتہ کے خلاف ہو اور اس کی اصل شرع میں ثابت نہ ہو.


⚡️ امام بیہقی اپنی سند کے ساتھ امام شافعی رحمہ الله کا قول بیان فرماتے ہیں: المحدثات من الأمور ضربان: أحدهما ما أحدث مما يخالف کتاباً أوسنة أو اثرًا أو إجماعاً فهذه البدعة ضلالة، و الثانية ما أحدث من الخير لا خلاف فيه لواحد من هذا فهذه محدثة غير مذمومة. (بيهقي، المدخل الي السنن الکبري، 206/1؛ سير أعلام النبلاء، 408/8؛ تهذيب الاسماء واللغات، 21/3)
یعنی محدثات میں دو قسم کے امور پر مشتمل ہیں: پہلی قسم میں وہ نئے امور شامل ہیں جو قرآن و سنت یا اثریا اجماع امت کے خلاف ہوں وہ بدعت ضلالہ ہے، اور دوسری قسم میں وہ نئے امور شامل ہیں جن کو بھلائی کے لیے ایجاد کیا گیا ہو اور ان میں سے کوئی کسی ادلہ شرعی کی مخالفت نہ کرتا ہو پس یہ امور یعنی نئے کام محدثہ غیر مذمومہ ہیں.

⚡️ امام غزالی فرماتے ہیں: فلیس کل ما ابدع منھیا بل المنھی بدعة تضاد سنة ثابتة وترفع امرا من الشرع بقاء علته. (احیاء العلوم دین، 3/2)
یعنی ہر بدعت منع نہیں ہوتی بلکہ منع صرف وہی بدعت ہوتی ہے جو سنت ثابتہ کی الٹ ہو اور سنت کی علت کے ہوتے ہوئے امر شریعت کو ختم کر دے.

⚡️ ابن حزم اندلسی بدعت کی تعریف اور تقسیم بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: والبدعة کل ما قيل أو فعل مما ليس له أصل فيما نسب إليه صلي الله عليه وآله وسلم و هو في الدين کل مالم يأت في القرآن ولا عن رسول الله ﷺ إلا أن منها ما يؤجر عليه صاحبه و يعذر بما قصد إليه من الخير و منها ما يؤجر عليه صاحبه و يکون حسنا و هو ماکان أصله الإباحة. (الاحکام في اُصول الاحکام، 47/1)
یعنی بدعت ہر اس قول اور فعل کو کہتے ہیں جس کی دین میں کوئی اصل یا دلیل نہ ہو اور اس کی نسبت حضور نبی اکرم ﷺ کی طرف کی جائے لہٰذا دین میں ہر وہ بات بدعت ہے جس کی بنیاد کتاب و سنت پر نہ ہو مگر جس نئے کام کی بنیاد خیر پر ہو تو اس کے کرنے والے کو اس کے اِرادہء خیر کی وجہ سے اَجر دیا جاتا ہے اور یہ بدعتِ حسنہ ہوتی ہے اور یہ ایسی بدعت ہے جس کی اصل اباحت ہے۔

⚡️ علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں: أن البدعة هی الفعلة المخترعة فی الدين علی خلاف ما کان عليه النبی ﷺ وکانت عليه الصحابة والتابعون. (تفسير روح البيان، 24/9)
یعنی بدعت اس فعل کو کہا جاتا ہے جو نبی ﷺ کی سنت کے خلاف گھڑا جائے ایسے ہی وہ عمل صحابہ و تابعین رضی اللہ عنہم کے طریقے کے بھی مخالف ہو.

⚡️ سر فراز خان دیوبندی لکھتا ہے: آپ ﷺ کے اس بہترین اسوہ اور ہدی و سیرت کی اتباع کا نام سنت اور خلاف ورزی کا نام بدعت ہے....آپ ﷺ کے سیرت و نمونہ کے خلاف جو کچھ ایجاد کیا جائے گا بدعت ہے (راہ سنت، ص: 70)


🌷 کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰ندیم ابن علیم المصبور العینی✰)
🌷🌷 اقسام بدعت 🌷🌷



🌷 بدعات کو دو درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے، بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ. بدعت واجبہ، بدعت مباحہ، مندوب یہ بدعت حسنہ کی ضمنی قسمیں ہیں. اسی طرح بدعت مکروہہ اور حرام بدعتیں، یہ تقسیم بدعات سئیہ میں داخل ہیں.

🌷امام نووی فرماتے ہیں کہ بنیادی طور پر بدعت کی دو اقسام ہیں:
البدعة فی الشرع هی إحداث ما لم يکن فی عهد رسول الله ﷺ وهی منقسمة إلی حسنة و قبيحة. (تهذيب الأسماء واللغات، 22/3؛ المنهاج، 286/1؛ حسن المقصد فی عمل المولد، ص: 51)
یعنی شریعت میں بدعت سے مراد وہ نئے اُمور ہیں جو حضور نبی اکرم صلی الله علیہ وآله وسلم کے زمانے میں نہ تھے، اور یہ بدعت، حسنہ اور قبیحہ میں تقسیم ہوتی ہے۔

براعته ابو محمد عبدالعزيز بن عبدالسلام فی آخر ”کتاب القواعد“ البدعة منقسمة إلی واجبة و محرمة و مندوبة و مکروهة و مباحة قال والطريق فی ذلک أن تعرض البدعة علی قواعد الشريعة فان دخلت فی قواعد الايجاب فهی واجبة و إن دخلت فی قواعد التحريم فهی محرمة و إن دخلت فی قواعد المندوب فهی مندوبه و ان دخلت فی قواعد المکروه فهی مکروهة و ان دخلت فی قواعد المباح فهی مباحة. (تهذيب الأسماء واللغات، 22/3)
یعنی شیخ عبدالعزیز بن عبدالسلام ”کتاب القواعد“ میں فرماتے ہیں۔ بدعت کو بدعت واجبہ، محرمہ، مندوبہ، مکروہہ اور مباحہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس کے جاننے کا طریقہ یہ ہے کہ بدعت کا قواعدِ شرعیہ سے موازنہ کیا جائے، اگر وہ بدعت قواعد ایجاب کے تحت داخل ہے تو واجب ہے اور اگر قواعدِ تحریم کے تحت داخل ہے تو حرام ہے اور اگر قواعدِ استحباب کے تحت داخل ہے تو مستحب ہے اور اگر کراھت کے قاعدہ کے تحت داخل ہے تو مکروہ اور اگر اباحت کے قاعدہ میں داخل ہے تو مباح ہے۔

🌷شرح مسلم میں فرماتے ہیں:
قال العلماء: البدعة خمسة أقسام واجبة ومندوبة ومحرمة ومکروهة ومباحة فمن الواجبة نظم أدلة المتکلمين للرد علی الملاحدة والمبتدعين وشبه ذلک ومن المندوبة تصنيف کتب العلم و بناء المدارس والربط و غير ذلک و من المباح التبسط في ألوان الأطعمة و غير ذلک والحرام والمکروه ظاهران. (المنهاج بشرح صحيح مسلم بن الحجاج، 154/7)
یعنی علماء نے بدعت کی پانچ اقسام بدعت واجبہ، مندوبہ، محرمہ، مکروہہ اور مباحہ بیان کی ہیں۔ بدعت واجبہ کی مثال متکلمین کے دلائل کو ملحدین، مبتدعین اور اس جیسے دیگر اُمور کے رد کے لئے استعمال کرنا ہے اور بدعتِ مستحبہ کی مثال جیسے کتب تصنیف کرنا، مدارس، سرائے اور اس جیسی دیگر چیزیں تعمیر کرنا۔ بدعتِ مباح کی مثال یہ ہے کہ مختلف انواع کے کھانے اور اس جیسی چیزوں کو اپنانا ہے جبکہ بدعت حرام اور مکروہ واضح ہیں.

🌷علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: والبدعة أصلها ما أحدث علی غير مثال سابق، وتطلق فی الشرع فی مقابل السنة فتکون مذمومة، والتحقيق أنها إن کانت مما تندرج تحت مستحسن فی الشرع فهی حسنة، وإن کانت مما تندرج مستقبح فی الشرع فهی مستقبحة، وإلَّا فهی من قسم المباح. (فتح الباری شرح صحیح البخاری، 253/4)
یعنی بدعت سے مراد ایسے نئے اُمور کا پیدا کیا جانا ہے جن کی مثال سابقہ دور میں نہ ملے اور ان اُمور کا اطلاق شریعت میں سنت کے خلاف ہو پس یہ ناپسندیدہ عمل ہے، اور بالتحقیق اگر وہ بدعت شریعت میں مستحسن ہو تو وہ بدعت حسنہ ہے اور اگر وہ بدعت شریعت میں ناپسندیدہ ہو تو وہ بدعت مستقبحہ یعنی بری بدعت کہلائے گی اور اگر ایسی نہ ہو تو اس کا شمار بدعت مباحہ میں ہوگا۔

🌷حضرت امام شافعی سے روایت ہے:
المحدثات من الامور ضربان احدھما احدث مما یخالف کتاباً اوسنةً اواثراً اواجماعاً فھٰذہ البدعة ضالة والثانی ما احدث من الخیر ولاخلاف فیه لواحد من ھذا وھی غیر مذمومة. (القول المفید للشوکانی، 78/1)
نوپیدا باتیں دوقسم کی ہیں، ایک وہ ہیں کہ قرآن یا احادیث یا آثار اجماع کے خلاف نکالی جائیں یہ تو بدعت وگمراہی ہے، دوسرے وہ اچھی بات کہ احداث کی جائے اوراس میں ان چیزوں کاخلاف نہ ہو تو وہ بری نہیں.

🌷علامہ جمال الدین ابن منظور افریقی، علامہ ابن اثیر جزری کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: البدعة بدعتان : بدعة هدًي، و بدعة ضلال، فما کان في خلاف ما أمر الله به ورسوله ﷺ فهو في حيز الذّم والإنکار، وما کان واقعا تحت عموم ما ندب ﷲ إليه و حض عليه الله أو رسوله فهو في حيز المدح، وما لم يکن له مثال موجود کنوع من الجود والسّخاء و فعل المعروف فهو من الأفعال المحمودة، ولا يجوز أن يکون ذلک في خلاف ما ورد الشرع به؛ لأن النبي ﷺ قد جعل له في ذلک ثوابا فقال : [من سنّ سُنة حسنة کان له أجرها و أجر من عمل بها] وقال في ضده: [من سنّ سنة سيّئة کان عليه وزرُها ووِزرُ من عمل بها] وذلک إذا کان في خلاف ما أمر الله به ورسوله ﷺ ، قال : ومن هذا النوع قول عمر رضی الله عنه : نعمت البدعة هذه، لمَّا کانت من أفعال الخير وداخلة في حيز المدح سماها بدعة ومدحها. (لسان العرب، 6/8)
Read more
1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰ندیم ابن علیم المصبور العینی✰)
💫 شرح حدیث ”کل بدعة ضلالة“ 💫

⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️

اکثر احمق، وہابیہ میں سے یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
کل بدعة ضلالة. یعنی ہر بدعت گمراہی ہے لہذا کوئی بھی بدعت حسنہ نہیں. (نعوذ بالله)
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️

اس حدیث میں بدعت سے مراد شرعی بدعت یعنی بدعت سیئہ ہے. حدیث کا مفہوم ہوگا ہر بدعت سیئہ گمراہی ہے یعنی دین میں ہر وہ نیا امر جو کسی سنت کے خلاف ہو گمراہی ہے.
کسی نئے کام کے شرعی بدعت ہونے کی شرط ہے کہ وہ امر قرآن و سنت واجماع کے مخالفت کرتا ہو یا اس سے سنت ترک ہو ورنہ وہ اپنی اصل میں شرعی بدعت نہیں بلکہ بدعت لغویہ ہے. اور بدعت لغویہ مباح بھی ہوتی مستحب بھی، مندوب بھی کبھی حرام اور بعض دفعہ واجب بھی. اس کی دلیل یہ ہے کہ اس حدیث میں حضور نے اپنی سنت، خلفاء کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے کی ترغیب دی، فرمایا:
فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين المھدیین. اگر ہر نیا کام مطلقا بدعت ہی ہوتا تو اس کے مقابلے میں سنت کی پیروی کی ترغیب نہیں دی جاتی. سنت پر مضبوطی کی ترغیب تو تب ہی ہے جب اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا عمل پیدا کر لیا جائے اور یہی ترغیب ثابت کرتی ہے کہ بدعت وہ امر ہے جو سنت کے مخالف ہو. اس کی توضیح میں ابن حبان رحمہ الله نے بھی یہی کہا: ولم یعرج علی غیرھا من لاراء، یعنی اس سنت کے علاوہ دوسری آراء کو آگے نہیں کرے گا. لہذا بدعت وہ عمل ہے جو کسی سنت کے خلاف ہو.

علامہ ابن اثیر جزری فرماتے ہیں:
وعلی ھذا التاویل یحمل الحدیث الآخر کل محدثة بدعة انما يريد ما خالف اصول الشریعة و يوافق السنة. (النہایہ فی غریب الحدیث والاثر، 106/1)
یعنی ان دلائل کے بناء پر حدیث "کل محدثة بدعة" کی وضاحت یوں ہوگی کہ اس سے مراد وہ نیا کام ہوگا جو اصول شریعت کے خلاف ہو اور سنت سے کوئی مطابقت نہ رکھتا ہو.

اِمام ملا علی قاری حدیث مبارکہ کل بدعة ضلالة کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
أی کل بدعة سيئة ضلالة، لقوله عليه الصلوة والسلام : من سن فی الاسلام سنّة حسنة فله اجرها وأجر من عمل بها وجمع أبوبکر وعمر القرآن و کتبه زيد فی المصحف وجدد فی عهد عثمان. (مرقاة المفاتيح شرح مشکاة المصابيح، 216/1)
یعنی ہر بری بدعت گمراہی ہے کیوں کہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : ’’جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اس عمل کا اور اس پر عمل کرنے والے کا اجر ملے گا.“ اور یہ کہ حضرت شیخین ابوبکر رضی الله عنہ اور عمر رضی الله عنہ نے قرآن کریم کو جمع کیا اور حصرت زید رضی الله عنہ نے اس کو صحیفہ میں لکھا اور عہد عثمانی میں اس کی تجدید کی گئی.

امام ابن حجر مکی فرماتے ہیں:

المراد من قوله صلی الله تعالی عليه وآله وسلم من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه ماینا فیه اولا یشھد له قواعد الشرع والادلة العامة. (مجموعہ فتاوٰی، کتاب الحظر والاباحة، 2/9)
یعنی حدیث کی مراد یہ ہے کہ وہی نو پیدا چیز بدعت سیئہ ہے جو دین وسنت کا رد کرے یا شریعت کے قواعد اطلاق ودلائل عموم تک اس کی گواہی نہ دیں۔

وفی الحديث کل بدعة ضلالة وکل ضلالة فی النار وهو محمول علی المحرمة لا غير. (الفتاوی الحديثيه، ص: 130)
یعنی حدیث میں ہے کہ ’’ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جائے گی“ اس حدیث کو بدعتِ محرمہ پر محمول کیا گیا ہے، اس کے علاوہ اور کسی پر نہیں۔

محمد بن علوی المالکی فرماتے ہیں: ان المراد بذلك بدعة السیئة التی لاتدخل تحت اصل شرعی. (مفاھیم یجب ان تصحح، ص: 102)
یعنی اس سے مراد وہ بدعت سیئہ ہے جو اصول شرعی کے تحت داخل نہ ہو.

مولوی شبیر احمد عثمانی دیوبندی لکھتے ہیں:
قال علی قاری قال فی الازھار أی کل بدعة سیئة ضلالة لقوله علیه الصلوۃ والسلام [من سن فی الاسلام سنة حسنة فله اجرها واجر من عمل بها] (فتح الملھم، 406/2)
یعنی ملا علی قاری الازھار میں بیان فرماتے ہیں "کل بدعة ضلالة“ سے ہر بدعت سئیہ کا گمراہی ہونا مراد ہے اس پر حضور ﷺ کا یہ قول دلیل ہے [جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اپنے ایجاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور جو اس طریقے پرعمل کریں گے ان کا اجر بھی اسے ملے گا۔
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️

🌷 کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
🌷 گونڈی، ممبئی؛
🌷 ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰ندیم ابن علیم المصبور العینی✰)
💥 کیا ہر بدعت گمراہی ہے؟ 💥

⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️
رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ
من سن سنة حسنة فله اجرھا واجر من عمل بھا. (صحیح مسلم، کتاب العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ، 341/2)
جس نے اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کو اپنے ایجاد کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور جو اس طریقے پرعمل کریں گے ان کا اجر بھی اسے ملے گا۔

معلوم ہوا دین مین اچھا کام ایجاد کرنے کا ثواب بھی ہے اور اسے پھیلانا بھی ثواب ہے.
روی ابن مسعودرضی ﷲ تعالٰی عنہ مرفوعاً وموقوفاً ماراٰہ المسلمون حسنًا فھو عند ﷲ حسن. (المستدرک للحاکم، کتاب معرفۃ الصحابۃ، 78/3)
حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی الله تعالى عنہ نے نبی ﷺ کے ارشاد اورخود ان کے قول سے مروی ہوئی کہ: اہل اسلام جس چیز کو نیک جانیں وہ خدا کے نزدیک بھی نیک ہے ۔

معلوم ہوا جس کام کو اہل اسلام نیک جانیں وہ خدا کے نزدیک بھی نیک ہے.
شریعت کا یہ قاعدہ ہے کو جس چیز کے متعلق شریعت میں منع نہ کیا گیا ہو وہ جائز و مباح ہے.
اور یہ وہابیہ کی خودساختہ شریعت ہے کہ جو قرآن و حدیث میں نہیں اس سے صاف انکار کردو (معاذ الله)


علامہ عینی شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:
ان کانت مما یندرج تحت مستحسن فی الشرع فھی بدعة حسنة وان کانت مما یندرج تحت مستقبح فی الشرع فھی بدعۃ مستقبحة. (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب التراویح، 126/11)
اگر وہ بدعت شریعت کے پسندیدہ امورمیں داخل ہے تو وہ بدعت حسنہ ہوگی، اور اگر وہ شریعت کے ناپسندیدہ امورمیں داخل ہے تو وہ بدعت قبیحہ ہوگی.

امام غزالی فرماتے ہیں،
فلیس کل ما ابدع منھیابل المنھی بدعة تضاد سنة ثابتة و ترفع امرا من الشرع بقاء علته (احیاء العلوم دین،3/2)
ہر بدعت منع نہیں ہوتی بلکہ منع صرف وہی بدعت ہوتی ہے جو سنت ثابتہ کی الٹ ہو اور سنت کی علت کے ہوتے ہوئے امر شریعت کو ختم کر دے.

علامہ ابن اثیر جزری فرماتے ہیں،
وعلی ھذا التاویل یحمل الحدیث الآخر کل محدثة بدعة انما يريد ما خالف اصول الشریعة و يوافق السنة. (النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، 106/1)
ان دلائل کے بناء پر حدیث
"کل محدثة بدعة" کی وضاحت یوں ہوگی کہ اس سے مراد وہ نیا کام ہوگا جو اصول شریعت کے خلاف ہو اور سنت سے کوئی مطابقت نہ رکھتا ہو.

ابن حجر مکی فرماتے ہیں،

المراد من قوله صلی الله تعالی عليه وآله وسلم من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منه ماینا فیه اولا یشھد له قواعد الشرع والادلة العامة. (مجموعۃ فتاوٰی، کتاب الحظر والاباحة، 2/9)
یعنی حدیث کی مراد یہ ہے کہ وہی نو پیدا چیز بدعت سیئہ ہے جو دین وسنت کا رد کرے یا شریعت کے قواعد اطلاق ودلائل عموم تک اس کی گواہی نہ دیں۔

امام الوہابیہ مولوی وحیدالزماں لکھتے ہیں،
اما البدعة اللغویة فھی تنقسم الی مباحة ومکروھة وحسنة و سیئه. (ھدیۃ المھدی، ص: 117)
با اعتبار لغت بدعت کی درج ذیل اقسام ہیں، بدعت مباحہ، بدعت مکروہہ،بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ
.

آگے حسن بھوپالی وہابی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں.
والتی لا ترفع شیئا منھا فلیست من البدعة بل ھی مباح الاصل (ھدیة المہدی، ص: ١١117٧)
جس بدعت سے کسی سنت کا رد نہ ہو وہ بدعت نہیں بلکہ وہ اپنی اصل میں مباح ہے.
⚡️⚡️⚡️⚡️⚡️

⚡️ کتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
⚡️ گونڈی، ممبئی؛
⚡️ ٢/ ربیع الاول، ١٤٤٠؛
1