Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
شرفِ ام المؤمنین: حضرت ابوسلمہ کے انتقال کے بعد ماہ شوال 4 ہجری میں حضورﷺ نے ان سے نکاح فرما لیا اور یہ اپنے بچوں کے ساتھ کاشانہ نبوت میں رہنے لگیں اور ام المؤمنین کے معزز لقب سے سرفراز ہوگئیں۔ [3]
سیرت و خصائص: حضرت بی بی ام سلمہ رضی ﷲ عنہا حسن و جمال کے ساتھ ساتھ عقل و فہم کے کمال کا بھی ایک بے مثال نمونہ تھیں۔ امام الحرمین کا بیان ہے کہ میں حضرت ام سلمہ کے سوا کسی عورت کو نہیں جانتا کہ اس کی رائے ہمیشہ درست ثابت ہوئی ہو۔ صلح حدیبیہ کے دن جب رسول ﷲﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی قربانیاں کرکے سب لوگ احرام کھول دیں اور بغیر عمرہ ادا کئے سب لوگ مدینہ واپس چلے جائیں کیونکہ اسی شرط پر صلح حدیبیہ ہوئی ہے۔ تو لوگ اس قدر رنج و غم میں تھے کہ ایک شخص بھی قربانی کے لئے تیار نہیں تھا۔حضورِ اقدسﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس طرزِ عمل سے روحانی کوفت ہوئی اور آپ نے معاملہ کا حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ رائے دی کہ یارسول ﷲ!ﷺ آپ کسی سے کچھ بھی نہ فرمائیں اور خود اپنی قربانی ذبح کرکے اپنا احرام اتار دیں۔
چنانچہ حضورﷺ نے ایسا ہی کیا یہ دیکھ کر کہ حضورﷺ نے احرام کھول دیا ہے سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مایوس ہوگئے کہ اب حضورﷺ صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو ہرگز ہرگز نہ بدلیں گے اس لئے سب صحابہ نے بھی اپنی اپنی قربانیاں کرکے احرام اتار دیا اور سب لوگ مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔
حسن و جمال اور عقل و رائے کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث میں بھی ان کی مہارت خصوصی طور پر ممتاز تھی۔ تین سو اٹھتر حدیثیں انہوں نے رسول ﷲﷺ سے روایت کی ہیں اور بہت سے صحابہ و تابعین حدیث میں ان کے شاگرد ہیں اور ان کے شاگردوں میں حضرت عبدﷲ بن عباس اور حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہم بھی شامل ہیں۔
ایک بار جبرئیل علیہ السلام دحیہ کلبی کی صورت میں نبی مکرمﷺ سے ملنے آئے۔ حضرت ام سلمہ پاس تھیں۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ رخصت ہوئے تو آپ نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا: یہ کون تھے؟ ان کا جواب تھا: دحیہ۔ فرماتی ہیں: مجھے بالکل ایسا ہی لگا تھا، لیکن جب آپ نے ان سے ہونے والی گفتگو کو جبریل علیہ السلام کے حوالے سے بیان کیا تو مجھے معلوم ہوا۔ [4]
حضرت ام سلمہ کے بیٹے عمر جو آپﷺ کے پاس رہتے تھے، بیان کرتے ہیں: جب ﷲ کا یہ فرمان "اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ لِیُـذْھِبَ عَنۡکُمُ الرِّجْسَ اَہۡلَ الْبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیۡرًا "
ترجمہ کنزالایمان: اللّٰہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔ (سورت الاحزاب:33)
حضرت ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوا تو رسول ﷲﷺ نے حضرت فاطمہ، حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین کو بلاکر ان پر چادر اوڑھائی۔ حضرت علی پیچھے کھڑے تھے، ان پر بھی چادر ڈالی۔
پھر فرمایا:اے ﷲ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔ اے ﷲ، ان سے آلودگی دور کر کے انھیں خوب پاک کر دے۔ حضرت ام سلمہ نے کہا: ﷲ کے نبی، میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کو بھی چادر میں داخل کر لیا۔ [5]
حضرت حسن بصری سیدہ کے رضاعی بیٹے: آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اِس لیے آپ نے بھی ان کو آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، حالتِ شیر خوارگی میں اگر کبھی آپ کی والدہ صاحبہ کسی کام میں ہوتیں تو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے پستانِ مبارک آپ کے منہ میں دے دیتیں، بقدرتِ خدا ان سے چند قطرات دودھ کے آپ کے حلق مبارک میں گرتے اور آپ کی تسلّی و تسکین ہوجاتی۔ [6]
اسی طرح سیف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰه عنہ آپ کے چچا زاد بھائی تھے۔ [7]
وصال: امہات المومنین میں سے حضرت ام سلمہ نے سب سے آخر میں نوے (یا چوراسی) سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی تاریخ وفات شوال یا رمضان 59ھ بھی بتائی گئی ہے، تاہم عام خیال یہی ہے کہ آپ 3 ربیع الاول 61 یا 62ھ میں فوت ہوئیں جب سیدنا امام حسین رضی ﷲ عنہ کی شہادت کی خبر آچکی تھی اور یزید نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ مدینہ کی گورنری مروان بن حکم (یا ولید بن عتبہ) کے پاس تھی۔
ذہبی کہتے ہیں کہ سیدنا حسین کی شہادت کی خبر سن کر حضرت ام سلمہ پر غشی طاری ہوگئی۔ انھوں نے قاتلین حضرت حسین پر لعنت ملامت کی پھر وہ مغموم رہنے لگیں اور اسی کیفیت میں ان کی وفات ہوئی۔
حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ حضرت ام سلمہ کے بیٹے حضرت سلمہ، حضرت عمر اور ان کے بھتیجے حضرت عبدﷲ بن عبدﷲ قبر میں اترے۔
ماخذ و مراجع: [1]ضیائے ازواج مطہرات: 402۔ سیرتِ مصطفیٰ: 664۔ [2]زرقانی جلد3 ص 239۔ [3]امہات المؤمنین:41۔ [4]بخاری، رقم3634۔ [5]مسند امام احمد : 26550۔ [6]مسالک السّالکین جلد اوّل ص 271۔ [7]ضیائے ازاوج مطہرات:414۔ مدارج النبوت۔ ضیائے ازواج النبی۔ حدائق الاصفیاء۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
◈◈⊰──────⊱◈◈◈⊰──────⊱◈◈
سیرت و خصائص: حضرت بی بی ام سلمہ رضی ﷲ عنہا حسن و جمال کے ساتھ ساتھ عقل و فہم کے کمال کا بھی ایک بے مثال نمونہ تھیں۔ امام الحرمین کا بیان ہے کہ میں حضرت ام سلمہ کے سوا کسی عورت کو نہیں جانتا کہ اس کی رائے ہمیشہ درست ثابت ہوئی ہو۔ صلح حدیبیہ کے دن جب رسول ﷲﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی قربانیاں کرکے سب لوگ احرام کھول دیں اور بغیر عمرہ ادا کئے سب لوگ مدینہ واپس چلے جائیں کیونکہ اسی شرط پر صلح حدیبیہ ہوئی ہے۔ تو لوگ اس قدر رنج و غم میں تھے کہ ایک شخص بھی قربانی کے لئے تیار نہیں تھا۔حضورِ اقدسﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس طرزِ عمل سے روحانی کوفت ہوئی اور آپ نے معاملہ کا حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ رائے دی کہ یارسول ﷲ!ﷺ آپ کسی سے کچھ بھی نہ فرمائیں اور خود اپنی قربانی ذبح کرکے اپنا احرام اتار دیں۔
چنانچہ حضورﷺ نے ایسا ہی کیا یہ دیکھ کر کہ حضورﷺ نے احرام کھول دیا ہے سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مایوس ہوگئے کہ اب حضورﷺ صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو ہرگز ہرگز نہ بدلیں گے اس لئے سب صحابہ نے بھی اپنی اپنی قربانیاں کرکے احرام اتار دیا اور سب لوگ مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔
حسن و جمال اور عقل و رائے کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث میں بھی ان کی مہارت خصوصی طور پر ممتاز تھی۔ تین سو اٹھتر حدیثیں انہوں نے رسول ﷲﷺ سے روایت کی ہیں اور بہت سے صحابہ و تابعین حدیث میں ان کے شاگرد ہیں اور ان کے شاگردوں میں حضرت عبدﷲ بن عباس اور حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہم بھی شامل ہیں۔
ایک بار جبرئیل علیہ السلام دحیہ کلبی کی صورت میں نبی مکرمﷺ سے ملنے آئے۔ حضرت ام سلمہ پاس تھیں۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ رخصت ہوئے تو آپ نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا: یہ کون تھے؟ ان کا جواب تھا: دحیہ۔ فرماتی ہیں: مجھے بالکل ایسا ہی لگا تھا، لیکن جب آپ نے ان سے ہونے والی گفتگو کو جبریل علیہ السلام کے حوالے سے بیان کیا تو مجھے معلوم ہوا۔ [4]
حضرت ام سلمہ کے بیٹے عمر جو آپﷺ کے پاس رہتے تھے، بیان کرتے ہیں: جب ﷲ کا یہ فرمان "اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ لِیُـذْھِبَ عَنۡکُمُ الرِّجْسَ اَہۡلَ الْبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیۡرًا "
ترجمہ کنزالایمان: اللّٰہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔ (سورت الاحزاب:33)
حضرت ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوا تو رسول ﷲﷺ نے حضرت فاطمہ، حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین کو بلاکر ان پر چادر اوڑھائی۔ حضرت علی پیچھے کھڑے تھے، ان پر بھی چادر ڈالی۔
پھر فرمایا:اے ﷲ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔ اے ﷲ، ان سے آلودگی دور کر کے انھیں خوب پاک کر دے۔ حضرت ام سلمہ نے کہا: ﷲ کے نبی، میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کو بھی چادر میں داخل کر لیا۔ [5]
حضرت حسن بصری سیدہ کے رضاعی بیٹے: آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اِس لیے آپ نے بھی ان کو آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، حالتِ شیر خوارگی میں اگر کبھی آپ کی والدہ صاحبہ کسی کام میں ہوتیں تو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے پستانِ مبارک آپ کے منہ میں دے دیتیں، بقدرتِ خدا ان سے چند قطرات دودھ کے آپ کے حلق مبارک میں گرتے اور آپ کی تسلّی و تسکین ہوجاتی۔ [6]
اسی طرح سیف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰه عنہ آپ کے چچا زاد بھائی تھے۔ [7]
وصال: امہات المومنین میں سے حضرت ام سلمہ نے سب سے آخر میں نوے (یا چوراسی) سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی تاریخ وفات شوال یا رمضان 59ھ بھی بتائی گئی ہے، تاہم عام خیال یہی ہے کہ آپ 3 ربیع الاول 61 یا 62ھ میں فوت ہوئیں جب سیدنا امام حسین رضی ﷲ عنہ کی شہادت کی خبر آچکی تھی اور یزید نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ مدینہ کی گورنری مروان بن حکم (یا ولید بن عتبہ) کے پاس تھی۔
ذہبی کہتے ہیں کہ سیدنا حسین کی شہادت کی خبر سن کر حضرت ام سلمہ پر غشی طاری ہوگئی۔ انھوں نے قاتلین حضرت حسین پر لعنت ملامت کی پھر وہ مغموم رہنے لگیں اور اسی کیفیت میں ان کی وفات ہوئی۔
حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ حضرت ام سلمہ کے بیٹے حضرت سلمہ، حضرت عمر اور ان کے بھتیجے حضرت عبدﷲ بن عبدﷲ قبر میں اترے۔
ماخذ و مراجع: [1]ضیائے ازواج مطہرات: 402۔ سیرتِ مصطفیٰ: 664۔ [2]زرقانی جلد3 ص 239۔ [3]امہات المؤمنین:41۔ [4]بخاری، رقم3634۔ [5]مسند امام احمد : 26550۔ [6]مسالک السّالکین جلد اوّل ص 271۔ [7]ضیائے ازاوج مطہرات:414۔ مدارج النبوت۔ ضیائے ازواج النبی۔ حدائق الاصفیاء۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
◈◈⊰──────⊱◈◈◈⊰──────⊱◈◈
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-03-1444 ᴴ | 29-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-03-1444 ᴴ | 30-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-03-1444 ᴴ | 30-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-03-1444 ᴴ | 30-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1