🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-03-1444 ᴴ | 29-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-03-1444 ᴴ | 29-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-03-1444 ᴴ | 29-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-03-1444 ᴴ | 29-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
🕯ام المؤمنین حضرت سیدہ ام سلمہ رضی اللّٰه عنہا🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اسم گرامی: رملہ یا ہند۔
لقب: ام المؤمنین۔
کنیت: ام سلمہ۔
سلسلہ نسب: سیدہ ام سلمہ بنت ابو امیہ حذیفہ ( بعض مؤرخین کے نزدیک سہیل ہے) بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم بن لقیظہ بن مُرہ بن کعب تھا۔ قریش کی ایک شاخ ’’بنو مخزوم‘‘ سے تعلق تھا۔
مکے کے دولت مند لوگوں میں سے تھے۔ جو بڑے مخیر اور فیاض تھے سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے اسی لئے آپ کا لقب ’’زاد الراکب‘‘ مشہور تھا۔
والدہ کا سلسلہ نسب: ام سلسلہ بنتِ عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک۔ سیدہ والد اور والدہ دونوں طرف سے’’قریشی‘‘ تھیں۔ بعض تذکرہ نگاروں نے آپ کی والدہ عاتکہ کو جناب عبدالمطلب کی بیٹی اور سید عالمﷺ کی پھوپھی تحریر کیا ہے۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ [1]
قبولِ اسلام: آپ رضی اللہ عنہا قدیم الاسلام تھیں۔
پہلا نکاح: ان کا نکاح پہلے حضرت ابوسلمہ عبدﷲ بن عبدالاسد سے ہوا تھا جو حضورﷺ کے رضاعی بھائی اور پھوپھی زاد تھے۔ حضورﷺ کی پھوپھی برہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔ یہ دونوں میاں بیوی اعلانِ نبوت کے بعد جلد ہی دامن اسلام میں آگئے تھے اور سب سے پہلے ان دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر یہ دونوں حبشہ سے مکہ مکرمہ آگئے اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کئے۔
دورِ ابتلاء: شروعِ اسلام میں دیگر حضرات کی طرح یہ بھی کفار مکہ کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ جب حضرت ابو سلمہ نے مدینۃ المنورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا اور اونٹ پر کجاوہ باندھا اور حضرت بی بی اُمِ سلمہ اور اپنے فرزند سلمہ کو کجاوہ میں سوار کر دیا مگر جب اونٹ کی نکیل پکڑ کر حضرت ابوسلمہ روانہ ہوئے تو حضرت اُمِ سلمہ کے میکے والے بنو مغیرہ دوڑ پڑے اور ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم اپنے خاندان کی اس لڑکی کو ہرگز ہرگز مدینہ نہیں جانے دیں گے اور زبردستی ان کو اونٹ سے اتار لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوسلمہ کے خاندانی لوگوں کو بھی طیش آگیا اور ان لوگوں نے غضب ناک ہو کر کہا کہ تم لوگ اُمِ سلمہ کو محض اس بنا پر روکتے ہو کہ یہ تمہارے خاندان کی لڑکی ہے تو ہم اس کے بچہ ’’سلمہ‘‘ کو ہرگز ہرگز تمہارے پاس نہیں رہنے دیں گے اس لئے کہ یہ بچہ ہمارے خاندان کا ایک فرد ہے۔ یہ کہہ کر ان لوگوں نے بچہ کو اس کی ماں کی گود سے چھین لیا مگر حضرت ابوسلمہ نے ہجرت کا ارادہ ترک نہیں کیا بلکہ بیوی اور بچہ دونوں کو چھوڑ کر تنہا مدینہ منورہ چلے گئے۔
حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا اپنے شوہر اور بچے کی جدائی پر صبح سے شام تک مکہ کی پتھریلی زمین میں کسی چٹان پر بیٹھی ہوئی تقریباً سات دنوں تک زار و قطار روتی رہیں ان کا یہ حال دیکھ کر ان کے ایک چچا زاد بھائی کو ان پر رحم آگیا اور اس نے بنو مغیرہ کو سمجھا بجھا کر یہ کہا کہ آخر اس مسکینہ کو تم لوگوں نے اس کے شوہر اور بچے سے کیوں جدا کر رکھا ہے؟ تم لوگ کیوں نہیں اس کو اجازت دے دیتے کہ وہ اپنے بچہ کو ساتھ لے کر اپنے شوہر کے پاس چلی جائے۔ بالآخر بنو مغیرہ اس پر رضامند ہوگئے کہ یہ مدینہ چلی جائے۔ پھر حضرت ابوسلمہ کے خاندان والے بنو عبدالاسد نے بھی بچے کو حضرت اُمِ سلمہ کے سپرد کر دیا اور حضرت اُمِ سلمہ رضی ﷲ عنہا بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پر سوار ہو گئیں اور اکیلی مدینہ کو چل پڑیں مگر جب مقام ’’تنعیم‘‘ میں پہنچیں تو عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہوگئی جو مکہ کا مانا ہوا ایک نہایت ہی شریف انسان تھا اس نے پوچھا کہ اے اُمِ سلمہ! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنے شوہر کے پاس مدینہ جارہی ہوں۔ اس نے کہا کہ کیا تمہارے ساتھ کوئی دوسرا نہیں ہے؟ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا نے درد بھری آواز میں جواب دیا کہ نہیں میرے ساتھ ﷲ اور میرے اس بچہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ یہ سن کر عثمان بن طلحہ کی رگ شرافت پھڑک اُٹھی اور اس نے کہا کہ خدا کی قسم! میرے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ تمہاری جیسی ایک شریف زادی اور ایک شریف انسان کی بیوی کو تنہا چھوڑ دوں۔ یہ کہہ کر اس نے اونٹ کی مہار اپنے ہاتھ میں لے لی اور پیدل چلنے لگا حضرت اُمِ سلمہ رضی ﷲ عنہا کا بیان ہے کہ خدا کی قسم! میں نے عثمان بن طلحہ سے زیادہ شریف کسی عرب کو نہیں پایا۔ جب ہم کسی منزل پر اترتے تو وہ الگ کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتا اور میں اپنے اونٹ کے پاس سو رہتی۔ پھر روانگی کے وقت جب میں اپنے بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پر سوار ہو جاتی تو وہ اونٹ کی مہار پکڑ کر چلنے لگتا۔ اسی طرح اس نے مجھے قبا تک پہنچا دیا اور وہاں سے وہ یہ کہہ کر مکہ چلا گیا کہ اب تم چلی جاؤ تمہارا شوہر اسی گاؤں میں ہے۔
چنانچہ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا اس طرح بخیریت مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔ یہ دونوں میاں بیوی عافیت کے ساتھ مدینہ منورہ میں رہنے لگے مگر 4 ہجری میں ان کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی ﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ [2]
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
🕯ام المؤمنین حضرت سیدہ ام سلمہ رضی اللّٰه عنہا🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اسم گرامی: رملہ یا ہند۔
لقب: ام المؤمنین۔
کنیت: ام سلمہ۔
سلسلہ نسب: سیدہ ام سلمہ بنت ابو امیہ حذیفہ ( بعض مؤرخین کے نزدیک سہیل ہے) بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم بن لقیظہ بن مُرہ بن کعب تھا۔ قریش کی ایک شاخ ’’بنو مخزوم‘‘ سے تعلق تھا۔
مکے کے دولت مند لوگوں میں سے تھے۔ جو بڑے مخیر اور فیاض تھے سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے اسی لئے آپ کا لقب ’’زاد الراکب‘‘ مشہور تھا۔
والدہ کا سلسلہ نسب: ام سلسلہ بنتِ عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک۔ سیدہ والد اور والدہ دونوں طرف سے’’قریشی‘‘ تھیں۔ بعض تذکرہ نگاروں نے آپ کی والدہ عاتکہ کو جناب عبدالمطلب کی بیٹی اور سید عالمﷺ کی پھوپھی تحریر کیا ہے۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ [1]
قبولِ اسلام: آپ رضی اللہ عنہا قدیم الاسلام تھیں۔
پہلا نکاح: ان کا نکاح پہلے حضرت ابوسلمہ عبدﷲ بن عبدالاسد سے ہوا تھا جو حضورﷺ کے رضاعی بھائی اور پھوپھی زاد تھے۔ حضورﷺ کی پھوپھی برہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔ یہ دونوں میاں بیوی اعلانِ نبوت کے بعد جلد ہی دامن اسلام میں آگئے تھے اور سب سے پہلے ان دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر یہ دونوں حبشہ سے مکہ مکرمہ آگئے اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کئے۔
دورِ ابتلاء: شروعِ اسلام میں دیگر حضرات کی طرح یہ بھی کفار مکہ کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ جب حضرت ابو سلمہ نے مدینۃ المنورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا اور اونٹ پر کجاوہ باندھا اور حضرت بی بی اُمِ سلمہ اور اپنے فرزند سلمہ کو کجاوہ میں سوار کر دیا مگر جب اونٹ کی نکیل پکڑ کر حضرت ابوسلمہ روانہ ہوئے تو حضرت اُمِ سلمہ کے میکے والے بنو مغیرہ دوڑ پڑے اور ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم اپنے خاندان کی اس لڑکی کو ہرگز ہرگز مدینہ نہیں جانے دیں گے اور زبردستی ان کو اونٹ سے اتار لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوسلمہ کے خاندانی لوگوں کو بھی طیش آگیا اور ان لوگوں نے غضب ناک ہو کر کہا کہ تم لوگ اُمِ سلمہ کو محض اس بنا پر روکتے ہو کہ یہ تمہارے خاندان کی لڑکی ہے تو ہم اس کے بچہ ’’سلمہ‘‘ کو ہرگز ہرگز تمہارے پاس نہیں رہنے دیں گے اس لئے کہ یہ بچہ ہمارے خاندان کا ایک فرد ہے۔ یہ کہہ کر ان لوگوں نے بچہ کو اس کی ماں کی گود سے چھین لیا مگر حضرت ابوسلمہ نے ہجرت کا ارادہ ترک نہیں کیا بلکہ بیوی اور بچہ دونوں کو چھوڑ کر تنہا مدینہ منورہ چلے گئے۔
حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا اپنے شوہر اور بچے کی جدائی پر صبح سے شام تک مکہ کی پتھریلی زمین میں کسی چٹان پر بیٹھی ہوئی تقریباً سات دنوں تک زار و قطار روتی رہیں ان کا یہ حال دیکھ کر ان کے ایک چچا زاد بھائی کو ان پر رحم آگیا اور اس نے بنو مغیرہ کو سمجھا بجھا کر یہ کہا کہ آخر اس مسکینہ کو تم لوگوں نے اس کے شوہر اور بچے سے کیوں جدا کر رکھا ہے؟ تم لوگ کیوں نہیں اس کو اجازت دے دیتے کہ وہ اپنے بچہ کو ساتھ لے کر اپنے شوہر کے پاس چلی جائے۔ بالآخر بنو مغیرہ اس پر رضامند ہوگئے کہ یہ مدینہ چلی جائے۔ پھر حضرت ابوسلمہ کے خاندان والے بنو عبدالاسد نے بھی بچے کو حضرت اُمِ سلمہ کے سپرد کر دیا اور حضرت اُمِ سلمہ رضی ﷲ عنہا بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پر سوار ہو گئیں اور اکیلی مدینہ کو چل پڑیں مگر جب مقام ’’تنعیم‘‘ میں پہنچیں تو عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہوگئی جو مکہ کا مانا ہوا ایک نہایت ہی شریف انسان تھا اس نے پوچھا کہ اے اُمِ سلمہ! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنے شوہر کے پاس مدینہ جارہی ہوں۔ اس نے کہا کہ کیا تمہارے ساتھ کوئی دوسرا نہیں ہے؟ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا نے درد بھری آواز میں جواب دیا کہ نہیں میرے ساتھ ﷲ اور میرے اس بچہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ یہ سن کر عثمان بن طلحہ کی رگ شرافت پھڑک اُٹھی اور اس نے کہا کہ خدا کی قسم! میرے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ تمہاری جیسی ایک شریف زادی اور ایک شریف انسان کی بیوی کو تنہا چھوڑ دوں۔ یہ کہہ کر اس نے اونٹ کی مہار اپنے ہاتھ میں لے لی اور پیدل چلنے لگا حضرت اُمِ سلمہ رضی ﷲ عنہا کا بیان ہے کہ خدا کی قسم! میں نے عثمان بن طلحہ سے زیادہ شریف کسی عرب کو نہیں پایا۔ جب ہم کسی منزل پر اترتے تو وہ الگ کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتا اور میں اپنے اونٹ کے پاس سو رہتی۔ پھر روانگی کے وقت جب میں اپنے بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پر سوار ہو جاتی تو وہ اونٹ کی مہار پکڑ کر چلنے لگتا۔ اسی طرح اس نے مجھے قبا تک پہنچا دیا اور وہاں سے وہ یہ کہہ کر مکہ چلا گیا کہ اب تم چلی جاؤ تمہارا شوہر اسی گاؤں میں ہے۔
چنانچہ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا اس طرح بخیریت مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔ یہ دونوں میاں بیوی عافیت کے ساتھ مدینہ منورہ میں رہنے لگے مگر 4 ہجری میں ان کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی ﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ [2]
❤1👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
شرفِ ام المؤمنین: حضرت ابوسلمہ کے انتقال کے بعد ماہ شوال 4 ہجری میں حضورﷺ نے ان سے نکاح فرما لیا اور یہ اپنے بچوں کے ساتھ کاشانہ نبوت میں رہنے لگیں اور ام المؤمنین کے معزز لقب سے سرفراز ہوگئیں۔ [3]
سیرت و خصائص: حضرت بی بی ام سلمہ رضی ﷲ عنہا حسن و جمال کے ساتھ ساتھ عقل و فہم کے کمال کا بھی ایک بے مثال نمونہ تھیں۔ امام الحرمین کا بیان ہے کہ میں حضرت ام سلمہ کے سوا کسی عورت کو نہیں جانتا کہ اس کی رائے ہمیشہ درست ثابت ہوئی ہو۔ صلح حدیبیہ کے دن جب رسول ﷲﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی قربانیاں کرکے سب لوگ احرام کھول دیں اور بغیر عمرہ ادا کئے سب لوگ مدینہ واپس چلے جائیں کیونکہ اسی شرط پر صلح حدیبیہ ہوئی ہے۔ تو لوگ اس قدر رنج و غم میں تھے کہ ایک شخص بھی قربانی کے لئے تیار نہیں تھا۔حضورِ اقدسﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس طرزِ عمل سے روحانی کوفت ہوئی اور آپ نے معاملہ کا حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ رائے دی کہ یارسول ﷲ!ﷺ آپ کسی سے کچھ بھی نہ فرمائیں اور خود اپنی قربانی ذبح کرکے اپنا احرام اتار دیں۔
چنانچہ حضورﷺ نے ایسا ہی کیا یہ دیکھ کر کہ حضورﷺ نے احرام کھول دیا ہے سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مایوس ہوگئے کہ اب حضورﷺ صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو ہرگز ہرگز نہ بدلیں گے اس لئے سب صحابہ نے بھی اپنی اپنی قربانیاں کرکے احرام اتار دیا اور سب لوگ مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔
حسن و جمال اور عقل و رائے کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث میں بھی ان کی مہارت خصوصی طور پر ممتاز تھی۔ تین سو اٹھتر حدیثیں انہوں نے رسول ﷲﷺ سے روایت کی ہیں اور بہت سے صحابہ و تابعین حدیث میں ان کے شاگرد ہیں اور ان کے شاگردوں میں حضرت عبدﷲ بن عباس اور حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہم بھی شامل ہیں۔
ایک بار جبرئیل علیہ السلام دحیہ کلبی کی صورت میں نبی مکرمﷺ سے ملنے آئے۔ حضرت ام سلمہ پاس تھیں۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ رخصت ہوئے تو آپ نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا: یہ کون تھے؟ ان کا جواب تھا: دحیہ۔ فرماتی ہیں: مجھے بالکل ایسا ہی لگا تھا، لیکن جب آپ نے ان سے ہونے والی گفتگو کو جبریل علیہ السلام کے حوالے سے بیان کیا تو مجھے معلوم ہوا۔ [4]
حضرت ام سلمہ کے بیٹے عمر جو آپﷺ کے پاس رہتے تھے، بیان کرتے ہیں: جب ﷲ کا یہ فرمان "اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ لِیُـذْھِبَ عَنۡکُمُ الرِّجْسَ اَہۡلَ الْبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیۡرًا "
ترجمہ کنزالایمان: اللّٰہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔ (سورت الاحزاب:33)
حضرت ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوا تو رسول ﷲﷺ نے حضرت فاطمہ، حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین کو بلاکر ان پر چادر اوڑھائی۔ حضرت علی پیچھے کھڑے تھے، ان پر بھی چادر ڈالی۔
پھر فرمایا:اے ﷲ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔ اے ﷲ، ان سے آلودگی دور کر کے انھیں خوب پاک کر دے۔ حضرت ام سلمہ نے کہا: ﷲ کے نبی، میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کو بھی چادر میں داخل کر لیا۔ [5]
حضرت حسن بصری سیدہ کے رضاعی بیٹے: آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اِس لیے آپ نے بھی ان کو آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، حالتِ شیر خوارگی میں اگر کبھی آپ کی والدہ صاحبہ کسی کام میں ہوتیں تو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے پستانِ مبارک آپ کے منہ میں دے دیتیں، بقدرتِ خدا ان سے چند قطرات دودھ کے آپ کے حلق مبارک میں گرتے اور آپ کی تسلّی و تسکین ہوجاتی۔ [6]
اسی طرح سیف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰه عنہ آپ کے چچا زاد بھائی تھے۔ [7]
وصال: امہات المومنین میں سے حضرت ام سلمہ نے سب سے آخر میں نوے (یا چوراسی) سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی تاریخ وفات شوال یا رمضان 59ھ بھی بتائی گئی ہے، تاہم عام خیال یہی ہے کہ آپ 3 ربیع الاول 61 یا 62ھ میں فوت ہوئیں جب سیدنا امام حسین رضی ﷲ عنہ کی شہادت کی خبر آچکی تھی اور یزید نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ مدینہ کی گورنری مروان بن حکم (یا ولید بن عتبہ) کے پاس تھی۔
ذہبی کہتے ہیں کہ سیدنا حسین کی شہادت کی خبر سن کر حضرت ام سلمہ پر غشی طاری ہوگئی۔ انھوں نے قاتلین حضرت حسین پر لعنت ملامت کی پھر وہ مغموم رہنے لگیں اور اسی کیفیت میں ان کی وفات ہوئی۔
حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ حضرت ام سلمہ کے بیٹے حضرت سلمہ، حضرت عمر اور ان کے بھتیجے حضرت عبدﷲ بن عبدﷲ قبر میں اترے۔
ماخذ و مراجع: [1]ضیائے ازواج مطہرات: 402۔ سیرتِ مصطفیٰ: 664۔ [2]زرقانی جلد3 ص 239۔ [3]امہات المؤمنین:41۔ [4]بخاری، رقم3634۔ [5]مسند امام احمد : 26550۔ [6]مسالک السّالکین جلد اوّل ص 271۔ [7]ضیائے ازاوج مطہرات:414۔ مدارج النبوت۔ ضیائے ازواج النبی۔ حدائق الاصفیاء۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
◈◈⊰──────⊱◈◈◈⊰──────⊱◈◈
سیرت و خصائص: حضرت بی بی ام سلمہ رضی ﷲ عنہا حسن و جمال کے ساتھ ساتھ عقل و فہم کے کمال کا بھی ایک بے مثال نمونہ تھیں۔ امام الحرمین کا بیان ہے کہ میں حضرت ام سلمہ کے سوا کسی عورت کو نہیں جانتا کہ اس کی رائے ہمیشہ درست ثابت ہوئی ہو۔ صلح حدیبیہ کے دن جب رسول ﷲﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی قربانیاں کرکے سب لوگ احرام کھول دیں اور بغیر عمرہ ادا کئے سب لوگ مدینہ واپس چلے جائیں کیونکہ اسی شرط پر صلح حدیبیہ ہوئی ہے۔ تو لوگ اس قدر رنج و غم میں تھے کہ ایک شخص بھی قربانی کے لئے تیار نہیں تھا۔حضورِ اقدسﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس طرزِ عمل سے روحانی کوفت ہوئی اور آپ نے معاملہ کا حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ رائے دی کہ یارسول ﷲ!ﷺ آپ کسی سے کچھ بھی نہ فرمائیں اور خود اپنی قربانی ذبح کرکے اپنا احرام اتار دیں۔
چنانچہ حضورﷺ نے ایسا ہی کیا یہ دیکھ کر کہ حضورﷺ نے احرام کھول دیا ہے سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مایوس ہوگئے کہ اب حضورﷺ صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو ہرگز ہرگز نہ بدلیں گے اس لئے سب صحابہ نے بھی اپنی اپنی قربانیاں کرکے احرام اتار دیا اور سب لوگ مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔
حسن و جمال اور عقل و رائے کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث میں بھی ان کی مہارت خصوصی طور پر ممتاز تھی۔ تین سو اٹھتر حدیثیں انہوں نے رسول ﷲﷺ سے روایت کی ہیں اور بہت سے صحابہ و تابعین حدیث میں ان کے شاگرد ہیں اور ان کے شاگردوں میں حضرت عبدﷲ بن عباس اور حضرت عائشہ رضی ﷲ عنہم بھی شامل ہیں۔
ایک بار جبرئیل علیہ السلام دحیہ کلبی کی صورت میں نبی مکرمﷺ سے ملنے آئے۔ حضرت ام سلمہ پاس تھیں۔ کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ رخصت ہوئے تو آپ نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا: یہ کون تھے؟ ان کا جواب تھا: دحیہ۔ فرماتی ہیں: مجھے بالکل ایسا ہی لگا تھا، لیکن جب آپ نے ان سے ہونے والی گفتگو کو جبریل علیہ السلام کے حوالے سے بیان کیا تو مجھے معلوم ہوا۔ [4]
حضرت ام سلمہ کے بیٹے عمر جو آپﷺ کے پاس رہتے تھے، بیان کرتے ہیں: جب ﷲ کا یہ فرمان "اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ لِیُـذْھِبَ عَنۡکُمُ الرِّجْسَ اَہۡلَ الْبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیۡرًا "
ترجمہ کنزالایمان: اللّٰہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔ (سورت الاحزاب:33)
حضرت ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوا تو رسول ﷲﷺ نے حضرت فاطمہ، حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین کو بلاکر ان پر چادر اوڑھائی۔ حضرت علی پیچھے کھڑے تھے، ان پر بھی چادر ڈالی۔
پھر فرمایا:اے ﷲ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔ اے ﷲ، ان سے آلودگی دور کر کے انھیں خوب پاک کر دے۔ حضرت ام سلمہ نے کہا: ﷲ کے نبی، میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کو بھی چادر میں داخل کر لیا۔ [5]
حضرت حسن بصری سیدہ کے رضاعی بیٹے: آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اِس لیے آپ نے بھی ان کو آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، حالتِ شیر خوارگی میں اگر کبھی آپ کی والدہ صاحبہ کسی کام میں ہوتیں تو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے پستانِ مبارک آپ کے منہ میں دے دیتیں، بقدرتِ خدا ان سے چند قطرات دودھ کے آپ کے حلق مبارک میں گرتے اور آپ کی تسلّی و تسکین ہوجاتی۔ [6]
اسی طرح سیف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰه عنہ آپ کے چچا زاد بھائی تھے۔ [7]
وصال: امہات المومنین میں سے حضرت ام سلمہ نے سب سے آخر میں نوے (یا چوراسی) سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی تاریخ وفات شوال یا رمضان 59ھ بھی بتائی گئی ہے، تاہم عام خیال یہی ہے کہ آپ 3 ربیع الاول 61 یا 62ھ میں فوت ہوئیں جب سیدنا امام حسین رضی ﷲ عنہ کی شہادت کی خبر آچکی تھی اور یزید نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ مدینہ کی گورنری مروان بن حکم (یا ولید بن عتبہ) کے پاس تھی۔
ذہبی کہتے ہیں کہ سیدنا حسین کی شہادت کی خبر سن کر حضرت ام سلمہ پر غشی طاری ہوگئی۔ انھوں نے قاتلین حضرت حسین پر لعنت ملامت کی پھر وہ مغموم رہنے لگیں اور اسی کیفیت میں ان کی وفات ہوئی۔
حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ حضرت ام سلمہ کے بیٹے حضرت سلمہ، حضرت عمر اور ان کے بھتیجے حضرت عبدﷲ بن عبدﷲ قبر میں اترے۔
ماخذ و مراجع: [1]ضیائے ازواج مطہرات: 402۔ سیرتِ مصطفیٰ: 664۔ [2]زرقانی جلد3 ص 239۔ [3]امہات المؤمنین:41۔ [4]بخاری، رقم3634۔ [5]مسند امام احمد : 26550۔ [6]مسالک السّالکین جلد اوّل ص 271۔ [7]ضیائے ازاوج مطہرات:414۔ مدارج النبوت۔ ضیائے ازواج النبی۔ حدائق الاصفیاء۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
◈◈⊰──────⊱◈◈◈⊰──────⊱◈◈
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-03-1444 ᴴ | 29-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-03-1444 ᴴ | 30-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1