🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-03-1444 ᴴ | 29-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-03-1444 ᴴ | 29-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-03-1444 ᴴ | 29-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-03-1444 ᴴ | 29-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
🕯ام المؤمنین حضرت سیدہ ام سلمہ رضی اللّٰه عنہا🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اسم گرامی: رملہ یا ہند۔
لقب: ام المؤمنین۔
کنیت: ام سلمہ۔
سلسلہ نسب: سیدہ ام سلمہ بنت ابو امیہ حذیفہ ( بعض مؤرخین کے نزدیک سہیل ہے) بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم بن لقیظہ بن مُرہ بن کعب تھا۔ قریش کی ایک شاخ ’’بنو مخزوم‘‘ سے تعلق تھا۔
مکے کے دولت مند لوگوں میں سے تھے۔ جو بڑے مخیر اور فیاض تھے سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے اسی لئے آپ کا لقب ’’زاد الراکب‘‘ مشہور تھا۔
والدہ کا سلسلہ نسب: ام سلسلہ بنتِ عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک۔ سیدہ والد اور والدہ دونوں طرف سے’’قریشی‘‘ تھیں۔ بعض تذکرہ نگاروں نے آپ کی والدہ عاتکہ کو جناب عبدالمطلب کی بیٹی اور سید عالمﷺ کی پھوپھی تحریر کیا ہے۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ [1]
قبولِ اسلام: آپ رضی اللہ عنہا قدیم الاسلام تھیں۔
پہلا نکاح: ان کا نکاح پہلے حضرت ابوسلمہ عبدﷲ بن عبدالاسد سے ہوا تھا جو حضورﷺ کے رضاعی بھائی اور پھوپھی زاد تھے۔ حضورﷺ کی پھوپھی برہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔ یہ دونوں میاں بیوی اعلانِ نبوت کے بعد جلد ہی دامن اسلام میں آگئے تھے اور سب سے پہلے ان دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر یہ دونوں حبشہ سے مکہ مکرمہ آگئے اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کئے۔
دورِ ابتلاء: شروعِ اسلام میں دیگر حضرات کی طرح یہ بھی کفار مکہ کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ جب حضرت ابو سلمہ نے مدینۃ المنورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا اور اونٹ پر کجاوہ باندھا اور حضرت بی بی اُمِ سلمہ اور اپنے فرزند سلمہ کو کجاوہ میں سوار کر دیا مگر جب اونٹ کی نکیل پکڑ کر حضرت ابوسلمہ روانہ ہوئے تو حضرت اُمِ سلمہ کے میکے والے بنو مغیرہ دوڑ پڑے اور ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم اپنے خاندان کی اس لڑکی کو ہرگز ہرگز مدینہ نہیں جانے دیں گے اور زبردستی ان کو اونٹ سے اتار لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوسلمہ کے خاندانی لوگوں کو بھی طیش آگیا اور ان لوگوں نے غضب ناک ہو کر کہا کہ تم لوگ اُمِ سلمہ کو محض اس بنا پر روکتے ہو کہ یہ تمہارے خاندان کی لڑکی ہے تو ہم اس کے بچہ ’’سلمہ‘‘ کو ہرگز ہرگز تمہارے پاس نہیں رہنے دیں گے اس لئے کہ یہ بچہ ہمارے خاندان کا ایک فرد ہے۔ یہ کہہ کر ان لوگوں نے بچہ کو اس کی ماں کی گود سے چھین لیا مگر حضرت ابوسلمہ نے ہجرت کا ارادہ ترک نہیں کیا بلکہ بیوی اور بچہ دونوں کو چھوڑ کر تنہا مدینہ منورہ چلے گئے۔
حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا اپنے شوہر اور بچے کی جدائی پر صبح سے شام تک مکہ کی پتھریلی زمین میں کسی چٹان پر بیٹھی ہوئی تقریباً سات دنوں تک زار و قطار روتی رہیں ان کا یہ حال دیکھ کر ان کے ایک چچا زاد بھائی کو ان پر رحم آگیا اور اس نے بنو مغیرہ کو سمجھا بجھا کر یہ کہا کہ آخر اس مسکینہ کو تم لوگوں نے اس کے شوہر اور بچے سے کیوں جدا کر رکھا ہے؟ تم لوگ کیوں نہیں اس کو اجازت دے دیتے کہ وہ اپنے بچہ کو ساتھ لے کر اپنے شوہر کے پاس چلی جائے۔ بالآخر بنو مغیرہ اس پر رضامند ہوگئے کہ یہ مدینہ چلی جائے۔ پھر حضرت ابوسلمہ کے خاندان والے بنو عبدالاسد نے بھی بچے کو حضرت اُمِ سلمہ کے سپرد کر دیا اور حضرت اُمِ سلمہ رضی ﷲ عنہا بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پر سوار ہو گئیں اور اکیلی مدینہ کو چل پڑیں مگر جب مقام ’’تنعیم‘‘ میں پہنچیں تو عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہوگئی جو مکہ کا مانا ہوا ایک نہایت ہی شریف انسان تھا اس نے پوچھا کہ اے اُمِ سلمہ! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنے شوہر کے پاس مدینہ جارہی ہوں۔ اس نے کہا کہ کیا تمہارے ساتھ کوئی دوسرا نہیں ہے؟ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا نے درد بھری آواز میں جواب دیا کہ نہیں میرے ساتھ ﷲ اور میرے اس بچہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ یہ سن کر عثمان بن طلحہ کی رگ شرافت پھڑک اُٹھی اور اس نے کہا کہ خدا کی قسم! میرے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ تمہاری جیسی ایک شریف زادی اور ایک شریف انسان کی بیوی کو تنہا چھوڑ دوں۔ یہ کہہ کر اس نے اونٹ کی مہار اپنے ہاتھ میں لے لی اور پیدل چلنے لگا حضرت اُمِ سلمہ رضی ﷲ عنہا کا بیان ہے کہ خدا کی قسم! میں نے عثمان بن طلحہ سے زیادہ شریف کسی عرب کو نہیں پایا۔ جب ہم کسی منزل پر اترتے تو وہ الگ کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتا اور میں اپنے اونٹ کے پاس سو رہتی۔ پھر روانگی کے وقت جب میں اپنے بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پر سوار ہو جاتی تو وہ اونٹ کی مہار پکڑ کر چلنے لگتا۔ اسی طرح اس نے مجھے قبا تک پہنچا دیا اور وہاں سے وہ یہ کہہ کر مکہ چلا گیا کہ اب تم چلی جاؤ تمہارا شوہر اسی گاؤں میں ہے۔
چنانچہ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا اس طرح بخیریت مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔ یہ دونوں میاں بیوی عافیت کے ساتھ مدینہ منورہ میں رہنے لگے مگر 4 ہجری میں ان کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی ﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ [2]
••────────••⊰۩۞۩⊱••───────••
🕯ام المؤمنین حضرت سیدہ ام سلمہ رضی اللّٰه عنہا🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
اسم گرامی: رملہ یا ہند۔
لقب: ام المؤمنین۔
کنیت: ام سلمہ۔
سلسلہ نسب: سیدہ ام سلمہ بنت ابو امیہ حذیفہ ( بعض مؤرخین کے نزدیک سہیل ہے) بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم بن لقیظہ بن مُرہ بن کعب تھا۔ قریش کی ایک شاخ ’’بنو مخزوم‘‘ سے تعلق تھا۔
مکے کے دولت مند لوگوں میں سے تھے۔ جو بڑے مخیر اور فیاض تھے سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے اسی لئے آپ کا لقب ’’زاد الراکب‘‘ مشہور تھا۔
والدہ کا سلسلہ نسب: ام سلسلہ بنتِ عاتکہ بنت عامر بن ربیعہ بن مالک۔ سیدہ والد اور والدہ دونوں طرف سے’’قریشی‘‘ تھیں۔ بعض تذکرہ نگاروں نے آپ کی والدہ عاتکہ کو جناب عبدالمطلب کی بیٹی اور سید عالمﷺ کی پھوپھی تحریر کیا ہے۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ [1]
قبولِ اسلام: آپ رضی اللہ عنہا قدیم الاسلام تھیں۔
پہلا نکاح: ان کا نکاح پہلے حضرت ابوسلمہ عبدﷲ بن عبدالاسد سے ہوا تھا جو حضورﷺ کے رضاعی بھائی اور پھوپھی زاد تھے۔ حضورﷺ کی پھوپھی برہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔ یہ دونوں میاں بیوی اعلانِ نبوت کے بعد جلد ہی دامن اسلام میں آگئے تھے اور سب سے پہلے ان دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر یہ دونوں حبشہ سے مکہ مکرمہ آگئے اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کئے۔
دورِ ابتلاء: شروعِ اسلام میں دیگر حضرات کی طرح یہ بھی کفار مکہ کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ جب حضرت ابو سلمہ نے مدینۃ المنورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا اور اونٹ پر کجاوہ باندھا اور حضرت بی بی اُمِ سلمہ اور اپنے فرزند سلمہ کو کجاوہ میں سوار کر دیا مگر جب اونٹ کی نکیل پکڑ کر حضرت ابوسلمہ روانہ ہوئے تو حضرت اُمِ سلمہ کے میکے والے بنو مغیرہ دوڑ پڑے اور ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم اپنے خاندان کی اس لڑکی کو ہرگز ہرگز مدینہ نہیں جانے دیں گے اور زبردستی ان کو اونٹ سے اتار لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابوسلمہ کے خاندانی لوگوں کو بھی طیش آگیا اور ان لوگوں نے غضب ناک ہو کر کہا کہ تم لوگ اُمِ سلمہ کو محض اس بنا پر روکتے ہو کہ یہ تمہارے خاندان کی لڑکی ہے تو ہم اس کے بچہ ’’سلمہ‘‘ کو ہرگز ہرگز تمہارے پاس نہیں رہنے دیں گے اس لئے کہ یہ بچہ ہمارے خاندان کا ایک فرد ہے۔ یہ کہہ کر ان لوگوں نے بچہ کو اس کی ماں کی گود سے چھین لیا مگر حضرت ابوسلمہ نے ہجرت کا ارادہ ترک نہیں کیا بلکہ بیوی اور بچہ دونوں کو چھوڑ کر تنہا مدینہ منورہ چلے گئے۔
حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا اپنے شوہر اور بچے کی جدائی پر صبح سے شام تک مکہ کی پتھریلی زمین میں کسی چٹان پر بیٹھی ہوئی تقریباً سات دنوں تک زار و قطار روتی رہیں ان کا یہ حال دیکھ کر ان کے ایک چچا زاد بھائی کو ان پر رحم آگیا اور اس نے بنو مغیرہ کو سمجھا بجھا کر یہ کہا کہ آخر اس مسکینہ کو تم لوگوں نے اس کے شوہر اور بچے سے کیوں جدا کر رکھا ہے؟ تم لوگ کیوں نہیں اس کو اجازت دے دیتے کہ وہ اپنے بچہ کو ساتھ لے کر اپنے شوہر کے پاس چلی جائے۔ بالآخر بنو مغیرہ اس پر رضامند ہوگئے کہ یہ مدینہ چلی جائے۔ پھر حضرت ابوسلمہ کے خاندان والے بنو عبدالاسد نے بھی بچے کو حضرت اُمِ سلمہ کے سپرد کر دیا اور حضرت اُمِ سلمہ رضی ﷲ عنہا بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پر سوار ہو گئیں اور اکیلی مدینہ کو چل پڑیں مگر جب مقام ’’تنعیم‘‘ میں پہنچیں تو عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہوگئی جو مکہ کا مانا ہوا ایک نہایت ہی شریف انسان تھا اس نے پوچھا کہ اے اُمِ سلمہ! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنے شوہر کے پاس مدینہ جارہی ہوں۔ اس نے کہا کہ کیا تمہارے ساتھ کوئی دوسرا نہیں ہے؟ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا نے درد بھری آواز میں جواب دیا کہ نہیں میرے ساتھ ﷲ اور میرے اس بچہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ یہ سن کر عثمان بن طلحہ کی رگ شرافت پھڑک اُٹھی اور اس نے کہا کہ خدا کی قسم! میرے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ تمہاری جیسی ایک شریف زادی اور ایک شریف انسان کی بیوی کو تنہا چھوڑ دوں۔ یہ کہہ کر اس نے اونٹ کی مہار اپنے ہاتھ میں لے لی اور پیدل چلنے لگا حضرت اُمِ سلمہ رضی ﷲ عنہا کا بیان ہے کہ خدا کی قسم! میں نے عثمان بن طلحہ سے زیادہ شریف کسی عرب کو نہیں پایا۔ جب ہم کسی منزل پر اترتے تو وہ الگ کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتا اور میں اپنے اونٹ کے پاس سو رہتی۔ پھر روانگی کے وقت جب میں اپنے بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پر سوار ہو جاتی تو وہ اونٹ کی مہار پکڑ کر چلنے لگتا۔ اسی طرح اس نے مجھے قبا تک پہنچا دیا اور وہاں سے وہ یہ کہہ کر مکہ چلا گیا کہ اب تم چلی جاؤ تمہارا شوہر اسی گاؤں میں ہے۔
چنانچہ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ عنہا اس طرح بخیریت مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔ یہ دونوں میاں بیوی عافیت کے ساتھ مدینہ منورہ میں رہنے لگے مگر 4 ہجری میں ان کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی ﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ [2]
❤1👍1