🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-02-1444 ᴴ | 16-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ فتاویٰ تاج الشریعہ 10 جلدوں میں
19-02-1444 ᴴ | 17-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
19-02-1444 ᴴ | 17-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
19-02-1444 ᴴ | 17-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
Forwarded from ◆❍ نقوشِ حدیث ❍◆ (محمد ریحان رضا النوری)
#کثیر_کتابیں_لکھنے_والے_علمائے_کرام
#از_قـلـم : #احـمـدرضـا_مـغـل
فقیہ ملّت حضرت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللّٰہ علیہ اپنی کتاب " فضائل علم و علماء " میں تصنیف کی فضیلت کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
ان مما یلحق المؤمن من عملہ و حسناتہ بعد موته علما علمه و نشرہ وولدا صالحا ترکه او مصحفا ورثه او مسجدا بناہ او بیتا لابن السبیل او نھرا اجراہ او صدقة اخرجه من ماله فی صحته و حیاته تلحقه من بعد موته رواہ ابن ماجه و البیہقی
جو اعمال و نیکیاں مؤمن کو بعدموت بھی پہنچتی رہتی ہیں ان میں سے وہ علم ہے جسے سیکھا گیا اور پھیلایا گیا ، اور نیک اولاد جو چھوڑ گیا ،یا قرآن شریف جس کا وارث بنا گیا،یا مسجد یا مسافر خانہ جو بنا گیا ،یا نہر جو جاری کرگیا یا خیرات جسے اپنے مال سے اپنی تندرستی و زندگی میں نکال گیا، کہ یہ چیزیں اسے مرنے کے بعد بھی پہنچتی رہتی ہیں۔
(ابن ماجہ،بیہقی فی شعب الایمان)
فائدہ : ان تمام چیزوں کا اور اسی طرح دینی کتابیں وراثت میں چھوڑنے، ان کو وقف کرنے اور مدرسہ و خانقاہیں بنوانے کا ثواب بھی مؤمن کو قبر میں ملتا رہے گا جب تک کہ وہ دنیا میں باقی رہیں گی۔ ان میں تعلیم دینے کا ثواب زیادہ دنوں تک ملتا رہے گا بشرطیکہ شاگردوں کو قابل بنائے اور ان سے درس و تدریس کا سلسلہ چل پڑے اور سب سے زیادہ ثواب بہترین دینی کتابوں کی تصنیفات کا ملے گا کہ وہ پوری دنیا میں پھیل جاتی ہیں اور قیامت تک باقی رہیں گی جن سے مسلمان اپنے ایمان و عمل سنوارتے رہیں گے ۔
( فضائلِ علم و عُلماء ص 88 )
٭ حضرت امام عبد الرحمن الجوزی رحمۃ الله علیہ نے ابو الوفاء بن عقیل رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے " #الفنون " نامی ایک کتاب لکھی جو آٹھ سو (800) جلدوں میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں لکھی جانے والی کتابوں میں یہ سب سے بڑی کتاب ہے۔ ( المنتظم ج 9 ص 96 )
٭ خود امام ابن الجوزی رحمۃ الله علیہ نے دینی علوم و فنون میں سے تقریبا ہر فن پر کوئی نہ کوئی تصنیف چھوڑی ہے ۔
مشہور ہے کہ ان کےآخری غسل کے واسطے پانی گرم کرنے کے لئے قلم کا وہ تراشہ کافی ہوگیا جو صرف احادیث لکھتے ہوئے قلم کے تراشنے میں جمع ہوگیا تھا ۔( قیمۃ الزمن ص 21 )
٭ امام جوزی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے مدرسہ نظامیہ کے پورے کتب خانے کا مطالعہ کیا جس میں چھ ہزار (6000) کتابیں تھیں اسی طرح بغداد کے مشہور کتب خانے کتب خانہ الحنفیہ، کتب خانہ حمیدی ،کتب خانہ عبد الوھاب، کتب خانہ ابو محمد وغیرھا جتنے کتب خانے میری دسترس میں تھے، سب کا مطالعہ کرڈالا۔ ایک دفعہ برسر منبر فرمایا میں نے اپنے ہاتھ سے #دو_ہزار ( 2000 ) جلدیں تحریر کی ہیں۔
( قیمۃ الزمن ص 21 )
٭حافظ الحدیث حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ الله علیہ نے #چھ_سو ( 600 ) سے زائد کتب تصنیف فرمائیں۔ جن میں تفسیر دُرِّ منثور، البدور السافرة اور شرح الصدور مشہور ہیں۔
٭ استاذ المحدثین حضرت یحییٰ بن مَعِیْن رحمۃ الله علیہ کا بیان ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے #دس_لاکھ (1000000) احادیث مبارکہ تحریر کیں۔
( سیر اعلام النبلاء ج 11 ص 85 )
٭ عظیم صوفی بزرگ حضرت امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ الله علیہ نے #اٹھتر (78) اصلاحی ، علمی اور تحقیقی کتابیں لکھیں جن میں صرف ”یاقوت التاویل “ #چالیس (40) جلدوں میں ہے ۔
( علم اور علماء اہمیت ص 20 )
٭ معروف محدث حضرت امام ابن شاہین رحمۃ الله علیہ نے صرف روشنائی اتنی استعمال کی کہ اس کی قیمت سات سو درھم بنتی تھی ۔
( علم اور علماء کی اہمیت ص 21 )
٭ فقہ حنفی کے امام حضرت امام محمد رحمۃ الله علیہ کی تالیفات #ایک_ہزار (1000) کے قریب ہیں۔
( علم اور علماء کی اہمیت ص 21 )
٭ حضرت ابن جریر طبری رحمۃ الله علیہ نے اپنی زندگی میں تین لاکھ اٹھاون ہزار (358000) اوراق لکھے جس میں تین ہزار (3000) اوراق تو آپ کی کتاب " تفسیر طبری " کی ہیں جو تیس (30) جلدوں پر ہے مزید آپ کی ایک کتاب " تاریخ الامم و الملوك " ہے جو اکیس (21 ) جلدوں پر ہے۔
( تاریخ بغداد ج 2 ص 163 )
٭ حضرت علامہ باقلانی رحمۃ الله علیہ نے صرف معتزلہ کے رد میں ستر ہزار (70000) اوراق لکھے ۔
( علم اور علماء اہمیت ص 20 )
٭ مشہور محدث حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ الله علیہ نے
”فتح الباری “چودہ (14) جلدوں میں
”تہذیب التہذیب “ چار ( 4 )جلدوں میں
" الاصابہ فی تمییز الصحابہ " نو (9) جلدوں میں
" لسان المیزان " آٹھ( 8 ) جلدوں میں
" تغلیق التغلیق " پانچ ( 5 )جلدوں میں اور دیگر کتب ورسائل کی تعداد #ڈیڑھ_سو ( 150 ) سے زائد ہیں ۔ ( علم اور علماء اہمیت ص 20 )
٭ حافظ الحدیث حضرت امام عساکر رحمۃ الله علیہ نے " تاریخ دمشق " اَسِّی ( 80 ) جلدوں میں لکھی۔
#از_قـلـم : #احـمـدرضـا_مـغـل
فقیہ ملّت حضرت مفتی جلال الدین امجدی رحمۃ اللّٰہ علیہ اپنی کتاب " فضائل علم و علماء " میں تصنیف کی فضیلت کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
ان مما یلحق المؤمن من عملہ و حسناتہ بعد موته علما علمه و نشرہ وولدا صالحا ترکه او مصحفا ورثه او مسجدا بناہ او بیتا لابن السبیل او نھرا اجراہ او صدقة اخرجه من ماله فی صحته و حیاته تلحقه من بعد موته رواہ ابن ماجه و البیہقی
جو اعمال و نیکیاں مؤمن کو بعدموت بھی پہنچتی رہتی ہیں ان میں سے وہ علم ہے جسے سیکھا گیا اور پھیلایا گیا ، اور نیک اولاد جو چھوڑ گیا ،یا قرآن شریف جس کا وارث بنا گیا،یا مسجد یا مسافر خانہ جو بنا گیا ،یا نہر جو جاری کرگیا یا خیرات جسے اپنے مال سے اپنی تندرستی و زندگی میں نکال گیا، کہ یہ چیزیں اسے مرنے کے بعد بھی پہنچتی رہتی ہیں۔
(ابن ماجہ،بیہقی فی شعب الایمان)
فائدہ : ان تمام چیزوں کا اور اسی طرح دینی کتابیں وراثت میں چھوڑنے، ان کو وقف کرنے اور مدرسہ و خانقاہیں بنوانے کا ثواب بھی مؤمن کو قبر میں ملتا رہے گا جب تک کہ وہ دنیا میں باقی رہیں گی۔ ان میں تعلیم دینے کا ثواب زیادہ دنوں تک ملتا رہے گا بشرطیکہ شاگردوں کو قابل بنائے اور ان سے درس و تدریس کا سلسلہ چل پڑے اور سب سے زیادہ ثواب بہترین دینی کتابوں کی تصنیفات کا ملے گا کہ وہ پوری دنیا میں پھیل جاتی ہیں اور قیامت تک باقی رہیں گی جن سے مسلمان اپنے ایمان و عمل سنوارتے رہیں گے ۔
( فضائلِ علم و عُلماء ص 88 )
٭ حضرت امام عبد الرحمن الجوزی رحمۃ الله علیہ نے ابو الوفاء بن عقیل رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے " #الفنون " نامی ایک کتاب لکھی جو آٹھ سو (800) جلدوں میں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں لکھی جانے والی کتابوں میں یہ سب سے بڑی کتاب ہے۔ ( المنتظم ج 9 ص 96 )
٭ خود امام ابن الجوزی رحمۃ الله علیہ نے دینی علوم و فنون میں سے تقریبا ہر فن پر کوئی نہ کوئی تصنیف چھوڑی ہے ۔
مشہور ہے کہ ان کےآخری غسل کے واسطے پانی گرم کرنے کے لئے قلم کا وہ تراشہ کافی ہوگیا جو صرف احادیث لکھتے ہوئے قلم کے تراشنے میں جمع ہوگیا تھا ۔( قیمۃ الزمن ص 21 )
٭ امام جوزی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے مدرسہ نظامیہ کے پورے کتب خانے کا مطالعہ کیا جس میں چھ ہزار (6000) کتابیں تھیں اسی طرح بغداد کے مشہور کتب خانے کتب خانہ الحنفیہ، کتب خانہ حمیدی ،کتب خانہ عبد الوھاب، کتب خانہ ابو محمد وغیرھا جتنے کتب خانے میری دسترس میں تھے، سب کا مطالعہ کرڈالا۔ ایک دفعہ برسر منبر فرمایا میں نے اپنے ہاتھ سے #دو_ہزار ( 2000 ) جلدیں تحریر کی ہیں۔
( قیمۃ الزمن ص 21 )
٭حافظ الحدیث حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃ الله علیہ نے #چھ_سو ( 600 ) سے زائد کتب تصنیف فرمائیں۔ جن میں تفسیر دُرِّ منثور، البدور السافرة اور شرح الصدور مشہور ہیں۔
٭ استاذ المحدثین حضرت یحییٰ بن مَعِیْن رحمۃ الله علیہ کا بیان ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے #دس_لاکھ (1000000) احادیث مبارکہ تحریر کیں۔
( سیر اعلام النبلاء ج 11 ص 85 )
٭ عظیم صوفی بزرگ حضرت امام محمد بن محمد غزالی رحمۃ الله علیہ نے #اٹھتر (78) اصلاحی ، علمی اور تحقیقی کتابیں لکھیں جن میں صرف ”یاقوت التاویل “ #چالیس (40) جلدوں میں ہے ۔
( علم اور علماء اہمیت ص 20 )
٭ معروف محدث حضرت امام ابن شاہین رحمۃ الله علیہ نے صرف روشنائی اتنی استعمال کی کہ اس کی قیمت سات سو درھم بنتی تھی ۔
( علم اور علماء کی اہمیت ص 21 )
٭ فقہ حنفی کے امام حضرت امام محمد رحمۃ الله علیہ کی تالیفات #ایک_ہزار (1000) کے قریب ہیں۔
( علم اور علماء کی اہمیت ص 21 )
٭ حضرت ابن جریر طبری رحمۃ الله علیہ نے اپنی زندگی میں تین لاکھ اٹھاون ہزار (358000) اوراق لکھے جس میں تین ہزار (3000) اوراق تو آپ کی کتاب " تفسیر طبری " کی ہیں جو تیس (30) جلدوں پر ہے مزید آپ کی ایک کتاب " تاریخ الامم و الملوك " ہے جو اکیس (21 ) جلدوں پر ہے۔
( تاریخ بغداد ج 2 ص 163 )
٭ حضرت علامہ باقلانی رحمۃ الله علیہ نے صرف معتزلہ کے رد میں ستر ہزار (70000) اوراق لکھے ۔
( علم اور علماء اہمیت ص 20 )
٭ مشہور محدث حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ الله علیہ نے
”فتح الباری “چودہ (14) جلدوں میں
”تہذیب التہذیب “ چار ( 4 )جلدوں میں
" الاصابہ فی تمییز الصحابہ " نو (9) جلدوں میں
" لسان المیزان " آٹھ( 8 ) جلدوں میں
" تغلیق التغلیق " پانچ ( 5 )جلدوں میں اور دیگر کتب ورسائل کی تعداد #ڈیڑھ_سو ( 150 ) سے زائد ہیں ۔ ( علم اور علماء اہمیت ص 20 )
٭ حافظ الحدیث حضرت امام عساکر رحمۃ الله علیہ نے " تاریخ دمشق " اَسِّی ( 80 ) جلدوں میں لکھی۔
👍2