Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍2
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کیا اسلام کے اوائل دور میں لونڈیوں سے بغیر شادی کے جماع کی اجازت تھی ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل : محمد یاسین گورے گاؤں پریم نگر ویسٹ ممبئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* باندیوں کے ساتھ بلا نکاح صحبت کرنا شرعاً جائز ہے اور خود نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے ثابت ہے اور اس سے مراد وہ کافر عورتیں ہیں جو شرعی جہاد کے دوران گرفتار ہو اور مسلمان مجاہدین کے تقسیم کے درمیان حصے میں آئیں ہو لیکن آج کے دور میں ایک عالمی معاہدے کے نتیجہ میں عملاً اس کا وجود نہیں الله تعالی کا ارشاد ہے کہ " إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ففَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ " اھ یعنی سوائے اپنی بیویوں کے یا ان باندیوں کے جو ان کے ہاتھوں کی مملوک ہیں ، بیشک ( احکام شرع کے مطابق ان کے پاس جانے سے ) ان پر کوئی ملامت نہیں ۔ پھر جو شخص ان ( حلال عورتوں ) کے سوا کسی اور کا خواہش مند ہوا تو ایسے لوگ ہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں " اھ ( پ 29 سورہ معارج آیت 30 ) اس آیت کے تحت کنز الایمان تفسیر نور العرفان میں ہے کہ " معلوم ہوا کہ اپنی منکوحہ بیوی اور وہ مملوکہ لونڈی جس سے صحبت حلال ہے ، ان سے پردہ نہیں ، ایک دوسرے کا بدن دیکھ سکتے ہیں جس لونڈی سے صحبت حرام ہے اس کا ستر دیکھنا بھی حرام ہے " اھ ( کنز الایمان تفسیر نور العرفان ص 909 ) اور تعالی دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے کہ " وَ الْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " اھ یعنی اور شوہر والی عورتیں ( بھی تم پر حرام ہیں ) سوائے ان ( جنگی قیدی عورتوں ) کے جو تمہاری مِلک میں آ جائیں " اھ ( پ 5 سورۃ النساء آیت 24 ) اور اس آیت کے تحت الجامع لاحکام القرآن میں ہے کہ " أی هن محرمات الا ما ملکت اليمين بالسبی من أرض الحرب فان تلك حلال للذی تقع فی سمهه و ان کان له زوج ...... أی فهن لکم حلال اذا انقضت عدتهن ....... و به قال مالك و ابو حنيفة و اصحابه و الشافعى و احمد و اسحاق و ابو ثور وهو الصحيح " اھ یعنی شوہر والیاں تم پر حرام ہیں مگر وہ باندیاں خواہ شوہر والی ہوں جو دار الحرب سے قید ہو کر تمہاری ملکیت میں آ گئیں کہ وہ جس کے حصہ میں آہیں ۔۔۔۔۔ اس کے لئے حلال ہیں ۔ اگرچہ ان کے خاوند ( دار الحرب میں ہوں ) یعنی وہ تمہارے لئے حلال ہیں جب ان کی عدت گزر جائے ۔۔۔۔۔۔یہی امام مالک ، امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، احمد وغیرہم کا مذہب ہے " اھ ( الجامع لاحکام القرآن ج 3 ص 85 سورۃ النساء تفسیر الاية ٢٤ : دار الفکر بیروت ) اور فتاوی شامی میں ہے کہ " و من المعلوم فی زماننا أن كل من وصلت يده من العسكر إلى شيء يأخذه و لا يعطی خمسه ، فينبغی أن يكون العقد واجبا إذا علم أنها مأخوذة من الغنيمة ، و لذا قال بعض الشافعية إن وطء السراری اللاتي يجلبن اليوم من الروم و الهند و الترك حرام " اھ ( فتاوی شامی ج 3 ص 44 ) اور فتح الملهم میں ہے کہ " نادی الإسلام بأنه لا یجوز استرقاق ٲحد ٳلا فی جھاد شرعی " اھ ( فتح الملھم ج 1 ص 264 ) اور اسی میں ہے کہ " إن أکثر ٲقوام العالم قد أحدثت الیوم معاھدۃ فیما بینھا و قررت أنه لا تسترق أسیرا من ٲساری الحروب ، و ٲکثر البلاد الإسلامية من شرکاء ھذہ المعاھدۃ ، و لاسیما ٲعضاء " الإمم المتحدو " فلا یجوز لمملكة ٳسلامية الیوم ٲن تسترق ٲسیرا مادامت ھذہ المعاھدة باقية " اھ ( فتح الملھم ج 1 ص 272 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کیا اسلام کے اوائل دور میں لونڈیوں سے بغیر شادی کے جماع کی اجازت تھی ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل : محمد یاسین گورے گاؤں پریم نگر ویسٹ ممبئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* باندیوں کے ساتھ بلا نکاح صحبت کرنا شرعاً جائز ہے اور خود نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے ثابت ہے اور اس سے مراد وہ کافر عورتیں ہیں جو شرعی جہاد کے دوران گرفتار ہو اور مسلمان مجاہدین کے تقسیم کے درمیان حصے میں آئیں ہو لیکن آج کے دور میں ایک عالمی معاہدے کے نتیجہ میں عملاً اس کا وجود نہیں الله تعالی کا ارشاد ہے کہ " إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ففَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ " اھ یعنی سوائے اپنی بیویوں کے یا ان باندیوں کے جو ان کے ہاتھوں کی مملوک ہیں ، بیشک ( احکام شرع کے مطابق ان کے پاس جانے سے ) ان پر کوئی ملامت نہیں ۔ پھر جو شخص ان ( حلال عورتوں ) کے سوا کسی اور کا خواہش مند ہوا تو ایسے لوگ ہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں " اھ ( پ 29 سورہ معارج آیت 30 ) اس آیت کے تحت کنز الایمان تفسیر نور العرفان میں ہے کہ " معلوم ہوا کہ اپنی منکوحہ بیوی اور وہ مملوکہ لونڈی جس سے صحبت حلال ہے ، ان سے پردہ نہیں ، ایک دوسرے کا بدن دیکھ سکتے ہیں جس لونڈی سے صحبت حرام ہے اس کا ستر دیکھنا بھی حرام ہے " اھ ( کنز الایمان تفسیر نور العرفان ص 909 ) اور تعالی دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے کہ " وَ الْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " اھ یعنی اور شوہر والی عورتیں ( بھی تم پر حرام ہیں ) سوائے ان ( جنگی قیدی عورتوں ) کے جو تمہاری مِلک میں آ جائیں " اھ ( پ 5 سورۃ النساء آیت 24 ) اور اس آیت کے تحت الجامع لاحکام القرآن میں ہے کہ " أی هن محرمات الا ما ملکت اليمين بالسبی من أرض الحرب فان تلك حلال للذی تقع فی سمهه و ان کان له زوج ...... أی فهن لکم حلال اذا انقضت عدتهن ....... و به قال مالك و ابو حنيفة و اصحابه و الشافعى و احمد و اسحاق و ابو ثور وهو الصحيح " اھ یعنی شوہر والیاں تم پر حرام ہیں مگر وہ باندیاں خواہ شوہر والی ہوں جو دار الحرب سے قید ہو کر تمہاری ملکیت میں آ گئیں کہ وہ جس کے حصہ میں آہیں ۔۔۔۔۔ اس کے لئے حلال ہیں ۔ اگرچہ ان کے خاوند ( دار الحرب میں ہوں ) یعنی وہ تمہارے لئے حلال ہیں جب ان کی عدت گزر جائے ۔۔۔۔۔۔یہی امام مالک ، امام ابو حنیفہ ، امام شافعی ، احمد وغیرہم کا مذہب ہے " اھ ( الجامع لاحکام القرآن ج 3 ص 85 سورۃ النساء تفسیر الاية ٢٤ : دار الفکر بیروت ) اور فتاوی شامی میں ہے کہ " و من المعلوم فی زماننا أن كل من وصلت يده من العسكر إلى شيء يأخذه و لا يعطی خمسه ، فينبغی أن يكون العقد واجبا إذا علم أنها مأخوذة من الغنيمة ، و لذا قال بعض الشافعية إن وطء السراری اللاتي يجلبن اليوم من الروم و الهند و الترك حرام " اھ ( فتاوی شامی ج 3 ص 44 ) اور فتح الملهم میں ہے کہ " نادی الإسلام بأنه لا یجوز استرقاق ٲحد ٳلا فی جھاد شرعی " اھ ( فتح الملھم ج 1 ص 264 ) اور اسی میں ہے کہ " إن أکثر ٲقوام العالم قد أحدثت الیوم معاھدۃ فیما بینھا و قررت أنه لا تسترق أسیرا من ٲساری الحروب ، و ٲکثر البلاد الإسلامية من شرکاء ھذہ المعاھدۃ ، و لاسیما ٲعضاء " الإمم المتحدو " فلا یجوز لمملكة ٳسلامية الیوم ٲن تسترق ٲسیرا مادامت ھذہ المعاھدة باقية " اھ ( فتح الملھم ج 1 ص 272 )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
18-02-1444 ᴴ | 16-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ فتاویٰ تاج الشریعہ 10 جلدوں میں
19-02-1444 ᴴ | 17-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1