Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت ابو الولید ہشام اول رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بن عبد الرحمٰن الداخل الاموی (خلیفۂ اسپین)
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی ہشام بن عبد الرحمن ۔ کنیت: ابو الولید تھی ۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
ابو الولید ہشام بن عبد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہما کی ولادت 139 ء میں ، قرطبہ ، اسپین میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
ہشام بن عبد الرحمن الداخل رحمۃ اللہ علیہ بہت بہادر، جواد، کریم اور عادل حاکم تھے۔ آپ کی ہر وقت یہی کوشش رہتی کہ کوئی مسلمان کافر کی قید میں نہ ہو چنانچہ اگر کوئی کافر کی قید میں ہوتا تو زرِ کثیر دے کر مسلمانوں کو چھڑواتے ۔ اور اگر کوئی سپاہی دورانِ جہاد شہید ہو جاتا تو اس شہید کے بچوں اور گھر والوں کی کفالت حکومت کے ذمہ لگاتے ۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تا دمِ حیات حاکمِ اسپین رہے اور عدل و انصاف کی ایک نئی تاریخ رقم فرمائی حتیٰ کہ اہلِ اسپین آپ کو عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کا مثل قرار دیتے ۔
آپ اپنے مسلح افواج کے ساتھ اپنی رعایا کے پاس خود جاتے اور مظلوموں کی فریاد رسی کرتے ۔ راتوں کو اپنے علاقے کی گلیوں میں گشت کرکے نادار اور مفلس مسلمانوں کے یہاں راشن فراہم کرنا اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا آپ کی صفتِ فاروقی تھی ۔
آپ کے عدل و انصاف کی وجہ سے اہل اسپین آپ سے بے حد محبت کرتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
حضرت کا وصال 19 صفر المظفر 180 ء کو اسپین میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: الاعلام للزرکلی
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/abul-waleed-hasham-awal
Copyright © Zia-e-Taiba
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی ہشام بن عبد الرحمن ۔ کنیت: ابو الولید تھی ۔
تاریخ و مقامِ ولادت:
ابو الولید ہشام بن عبد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہما کی ولادت 139 ء میں ، قرطبہ ، اسپین میں ہوئی ۔
سیرت و خصائص:
ہشام بن عبد الرحمن الداخل رحمۃ اللہ علیہ بہت بہادر، جواد، کریم اور عادل حاکم تھے۔ آپ کی ہر وقت یہی کوشش رہتی کہ کوئی مسلمان کافر کی قید میں نہ ہو چنانچہ اگر کوئی کافر کی قید میں ہوتا تو زرِ کثیر دے کر مسلمانوں کو چھڑواتے ۔ اور اگر کوئی سپاہی دورانِ جہاد شہید ہو جاتا تو اس شہید کے بچوں اور گھر والوں کی کفالت حکومت کے ذمہ لگاتے ۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تا دمِ حیات حاکمِ اسپین رہے اور عدل و انصاف کی ایک نئی تاریخ رقم فرمائی حتیٰ کہ اہلِ اسپین آپ کو عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کا مثل قرار دیتے ۔
آپ اپنے مسلح افواج کے ساتھ اپنی رعایا کے پاس خود جاتے اور مظلوموں کی فریاد رسی کرتے ۔ راتوں کو اپنے علاقے کی گلیوں میں گشت کرکے نادار اور مفلس مسلمانوں کے یہاں راشن فراہم کرنا اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا آپ کی صفتِ فاروقی تھی ۔
آپ کے عدل و انصاف کی وجہ سے اہل اسپین آپ سے بے حد محبت کرتے تھے ۔
تاریخِ وصال:
حضرت کا وصال 19 صفر المظفر 180 ء کو اسپین میں ہوا ۔
ماخذ و مراجع: الاعلام للزرکلی
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/abul-waleed-hasham-awal
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
حضرت سید احمد کالپوی علیہ الرحمہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت میر سید احمد ۔ لقب: کالپی شریف کی نسبت سے ’’کالپوی‘‘ کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
میر سید احمد کالپوی بن میر سید محمد کالپوی بن حضرت ابو سعید بن بہاء الدین بن عماد الدین بن اللہ بخش بن سیف الدین بن مجید الدین بن شمس الدین بن شہاب الدین بن عمر بن حامد بن احمد الزاہد الحسینی الترمذی ثم الکالپوی ـ علیہم الرحمہ ـ
حضرت میر سید احمد کالپوی علیہ الرحمہ کے والد گرامی حضرت سید محمد کالپوی علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ کے عظیم شیخِ طریقت اور تیسویں امام تھے ۔ آپ کے جدِّ امجد حضرت ابو سعید علیہ الرحمہ آپ کے والدِ گرامی کی ولادت سے قبل ہی محبت فی اللہ میں شہر دکن کی جانب تشریف لے گئے اور مفقود الخبر ہو گئے ۔
آپ کا آبائی وطن ترمذ تھا، آپ کے آباؤ اجداد ترمذ سے ہجرت کر کے جالندھر تشریف لائے ۔ آپ کے جد امجد سید ابو سعید علیہ الرحمہ نے وہاں سے کالپی کو اپنا وطن بنایا ۔ آپ ترمذی سادات کرام سے ہیں ۔ آپ کاخاندان علماء و صلحاء اتقیاء کا خاندان ہے ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص: 315)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت کالپی شریف (ہند) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ نے ابتدائی کتب اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں، اس کے بعد آپ کے والد محترم نے آپ کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنے مرید و خلیفہ حضرت شاہ افضل بن عبد الرحمن الہ آبادی علیہ الرحمہ کو منتخب فرمایا۔جن کی خدمت میں آپ نے حسامی سے بیضاوی تک جملہ علوم متداولہ کی تکمیل فرمائی ۔
استاذِ گرامی آپ کی علمی صلاحیت و قابلیت کی بنیاد پر آپ سے بے انتہاء محبت فرماتے تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ عربی و فارسی ادب کے ماہر کامل اور علومِ منقولات و معقولات کے بے بدل عالمِ دین اور اپنے وقت کے بے مثال مدرس و مصنف تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ نے علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد اپنے والدِ معظم سے بیعت کا شرف حاصل کیا، اور صرف 24 سال کی عمر میں مسندِ والد ماجد پر رونق افروز ہوئے، اور تلقین و ارشاد کی محفل کو رونق عطاء کی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، واقفِ اسرار حقائق، وارثِ علومِ نبوت، آفتابِ ہدایت، ماہتابِ ولایت، حضرت شیخ سید میر احمد کالپوی علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے اکتیسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں ۔ آپ جامع علومِ ظاہر و باطن اور شناورِ بحارِ حقیقت و معرفت تھے ۔ زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت میں ماہرِ کامل تھے ۔ اخلاق و عادات میں نبیِ مکرم ﷺ کی تعلیم کی تصویرِ مجسم تھے ۔ علوم و معارف آپ کی نوکِ زبان پر جاری رہتے ۔ کشف و کرامات اخفاء کے باوجود کثرت سے ظاہر ہو جاتیں ۔ نورِ ہدایت و معرفت آپ کی روشن پیشانی سے عیاں تھا ۔
اللہ جل شانہ نے آپ کو کمالِ معنوی کے ساتھ جمال صوری سے بھی خوب نوازا تھا ۔ چنانچہ حضرت شاہ خوب اللہ الہ آبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’میرے شیخ نے مجھے فرمایا کہ پہلی بار جب میں حضرت شیخ کی ملاقات سے مشرف ہوا ۔ تو ان کے اندر سرخیِ جمال و عشقِ حقیقی کو مجتمع پایا، اور اس کی وجہ سے جو شعاع نورانی ہو یدا ہوتی، اس کو دیکھنے سے میری نگاہ خیرہ ہو جاتی‘‘ ۔ (ایضا: 325)
عادات و خصائل:
آپ علیہ الرحمہ عبادت و ریاضت میں کامل اور بڑے متبعِ سنت تھے ۔ اس کے علاوہ آپ کا بہترین مشغلہ رسائلِ توحید اور مقالاتِ شیخ محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کی تشریح بیان کرنا، اور ہر نماز کے بعد سلام سے متصل نو مرتبہ کلمۂ طیبہ کا ورد بآواز بلند کرتے تھے ۔ مسئلہ توحیدِ باری کی تشریح پر اگر کوئی معترض ہوتا تو اس سے مناظرے بھی کرتے تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت شیخِ اکبر علیہ الرحمہ کے محبین میں سے تھے، اور آپ ان کے نظریات کا دفاع کرتے تھے ۔
خواجہ غریب نواز سے عقیدت:
آپ علیہ الرحمہ کو سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ سے خاص عقیدت و محبت تھی ۔ چنانچہ ایک مرتبہ اپنے والدِ ماجد حضرت سید میر محمد علیہ الرحمہ کے ہمراہ روضہ مبارکہ پر حاضر ہوئے، اور آپ کو بارگاہِ خواجہ سے روحانی فیض حاصل ہوا ۔
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت میر سید احمد ۔ لقب: کالپی شریف کی نسبت سے ’’کالپوی‘‘ کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
میر سید احمد کالپوی بن میر سید محمد کالپوی بن حضرت ابو سعید بن بہاء الدین بن عماد الدین بن اللہ بخش بن سیف الدین بن مجید الدین بن شمس الدین بن شہاب الدین بن عمر بن حامد بن احمد الزاہد الحسینی الترمذی ثم الکالپوی ـ علیہم الرحمہ ـ
حضرت میر سید احمد کالپوی علیہ الرحمہ کے والد گرامی حضرت سید محمد کالپوی علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ کے عظیم شیخِ طریقت اور تیسویں امام تھے ۔ آپ کے جدِّ امجد حضرت ابو سعید علیہ الرحمہ آپ کے والدِ گرامی کی ولادت سے قبل ہی محبت فی اللہ میں شہر دکن کی جانب تشریف لے گئے اور مفقود الخبر ہو گئے ۔
آپ کا آبائی وطن ترمذ تھا، آپ کے آباؤ اجداد ترمذ سے ہجرت کر کے جالندھر تشریف لائے ۔ آپ کے جد امجد سید ابو سعید علیہ الرحمہ نے وہاں سے کالپی کو اپنا وطن بنایا ۔ آپ ترمذی سادات کرام سے ہیں ۔ آپ کاخاندان علماء و صلحاء اتقیاء کا خاندان ہے ۔ (تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ ص: 315)
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت با سعادت کالپی شریف (ہند) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
آپ علیہ الرحمہ نے ابتدائی کتب اپنے والدِ ماجد سے پڑھیں، اس کے بعد آپ کے والد محترم نے آپ کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنے مرید و خلیفہ حضرت شاہ افضل بن عبد الرحمن الہ آبادی علیہ الرحمہ کو منتخب فرمایا۔جن کی خدمت میں آپ نے حسامی سے بیضاوی تک جملہ علوم متداولہ کی تکمیل فرمائی ۔
استاذِ گرامی آپ کی علمی صلاحیت و قابلیت کی بنیاد پر آپ سے بے انتہاء محبت فرماتے تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ عربی و فارسی ادب کے ماہر کامل اور علومِ منقولات و معقولات کے بے بدل عالمِ دین اور اپنے وقت کے بے مثال مدرس و مصنف تھے ۔
بیعت و خلافت:
آپ علیہ الرحمہ نے علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد اپنے والدِ معظم سے بیعت کا شرف حاصل کیا، اور صرف 24 سال کی عمر میں مسندِ والد ماجد پر رونق افروز ہوئے، اور تلقین و ارشاد کی محفل کو رونق عطاء کی ۔
سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، واقفِ اسرار حقائق، وارثِ علومِ نبوت، آفتابِ ہدایت، ماہتابِ ولایت، حضرت شیخ سید میر احمد کالپوی علیہ الرحمہ ۔
آپ علیہ الرحمہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے اکتیسویں امام اور شیخِ طریقت ہیں ۔ آپ جامع علومِ ظاہر و باطن اور شناورِ بحارِ حقیقت و معرفت تھے ۔ زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت میں ماہرِ کامل تھے ۔ اخلاق و عادات میں نبیِ مکرم ﷺ کی تعلیم کی تصویرِ مجسم تھے ۔ علوم و معارف آپ کی نوکِ زبان پر جاری رہتے ۔ کشف و کرامات اخفاء کے باوجود کثرت سے ظاہر ہو جاتیں ۔ نورِ ہدایت و معرفت آپ کی روشن پیشانی سے عیاں تھا ۔
اللہ جل شانہ نے آپ کو کمالِ معنوی کے ساتھ جمال صوری سے بھی خوب نوازا تھا ۔ چنانچہ حضرت شاہ خوب اللہ الہ آبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’میرے شیخ نے مجھے فرمایا کہ پہلی بار جب میں حضرت شیخ کی ملاقات سے مشرف ہوا ۔ تو ان کے اندر سرخیِ جمال و عشقِ حقیقی کو مجتمع پایا، اور اس کی وجہ سے جو شعاع نورانی ہو یدا ہوتی، اس کو دیکھنے سے میری نگاہ خیرہ ہو جاتی‘‘ ۔ (ایضا: 325)
عادات و خصائل:
آپ علیہ الرحمہ عبادت و ریاضت میں کامل اور بڑے متبعِ سنت تھے ۔ اس کے علاوہ آپ کا بہترین مشغلہ رسائلِ توحید اور مقالاتِ شیخ محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ کی تشریح بیان کرنا، اور ہر نماز کے بعد سلام سے متصل نو مرتبہ کلمۂ طیبہ کا ورد بآواز بلند کرتے تھے ۔ مسئلہ توحیدِ باری کی تشریح پر اگر کوئی معترض ہوتا تو اس سے مناظرے بھی کرتے تھے ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت شیخِ اکبر علیہ الرحمہ کے محبین میں سے تھے، اور آپ ان کے نظریات کا دفاع کرتے تھے ۔
خواجہ غریب نواز سے عقیدت:
آپ علیہ الرحمہ کو سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ سے خاص عقیدت و محبت تھی ۔ چنانچہ ایک مرتبہ اپنے والدِ ماجد حضرت سید میر محمد علیہ الرحمہ کے ہمراہ روضہ مبارکہ پر حاضر ہوئے، اور آپ کو بارگاہِ خواجہ سے روحانی فیض حاصل ہوا ۔
👍2
توجہ کی تاثیر:
آپ علیہ الرحمہ کے کشف و توجہ میں غضب کی تاثیر تھی ۔ جس شخص پر توجہ کی نظر کرتے، وہ بے خود ہو کر گر پڑتا ۔ چنانچہ حضرت شاہ خوب اللہ الہ آبادی علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں: ایک شخص آپ علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’ حضور ! میرے دل کی سختی اور تنگی اپنے شباب پر ہے، میرا کوئی قریبی رشتے دار یا لڑکا بھی وصال کر جائے تو حالتِ گریہ نہیں آ سکتی ۔ اس لئے حضور سے التماس ہے کہ میری اس حالتِ زار پر توجہ فرمائیں‘‘۔آپ علیہ الرحمہ نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑ کر ہلایا مگر اس کی کیفیت بدستور باقی رہی، یہاں تک کہ تیسری بار میں اس پر رقّت کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ آہ و بُکا کرنے لگا۔ اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ جب اسے افاقہ ہوا تو اِس عظیم کرامت کو دیکھ کر آپ علیہ الرحمہ کے دستِ مبارک پر بیعت ہوا اور عقیدت مندوں میں داخل ہو گیا ۔ (ایضا: 326)
ذوقِ شاعری:
آپ علیہ الرحمہ ہندی و فارسی کے قادر الکلام شاعر تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ نے بہت اشعار تحریر فرمائے، جو آپ کے علمی و ادبی ذوق پر شاہد ہیں ۔ آپ کے اشعار کے مجموعے کا نام ’’دیوانِ شعر‘‘ ہے ۔
علمی و تصنیفی خدمات:
آپ صاحبِ تصنیف بزرگ تھے ۔ مختلف موضوعات پر آپ کی عمدہ تصانیف موجود ہیں۔
1جامع الکلم فارسی ۔
2 شرح اسماء الحسنیٰ ۔
3 شرح بسیط علیٰ عقائد النسفیہ ۔
4 رسالہ معارف ۔
5 مشاہدات الصوفیہ ۔
6 دیوان شعر ۔
اولادِ امجاد:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین فرزند عطا فرمائے۔
جو نہایت ہی عابد و زاہد اور متقی و پرہیزگار تھے
حضرت سید شاہ فضل اللہ کالپوی ۔
حـضـرت سـید شاہ سلطان مقصود ـ
حـضـرت سـید شاہ سلطان محمود ـ
علیہم الرحمہ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 10؍صفر المظفر، بروز پنجشبہ (جمعرات)، بوقتِ شام، 1084ھ، مطابق 25؍ مئی 673ء کو ہوا۔
مزار شریف:
آپ کا مزار مبارک کالپی شریف (ہند) میں مرجع خلائق ہے ۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
دے محمد کے لئے روزی کر احمد کے لئے
خوانِ فضل اللہ سے حصہ گدا کے واسطے
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
اے بنامت شیرۂ جاں شد نباتِ کالپی
احمد انوشیں لبا، شیریں ادا امداد کن
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-ahmad-kalpwi
آپ علیہ الرحمہ کے کشف و توجہ میں غضب کی تاثیر تھی ۔ جس شخص پر توجہ کی نظر کرتے، وہ بے خود ہو کر گر پڑتا ۔ چنانچہ حضرت شاہ خوب اللہ الہ آبادی علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں: ایک شخص آپ علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’ حضور ! میرے دل کی سختی اور تنگی اپنے شباب پر ہے، میرا کوئی قریبی رشتے دار یا لڑکا بھی وصال کر جائے تو حالتِ گریہ نہیں آ سکتی ۔ اس لئے حضور سے التماس ہے کہ میری اس حالتِ زار پر توجہ فرمائیں‘‘۔آپ علیہ الرحمہ نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑ کر ہلایا مگر اس کی کیفیت بدستور باقی رہی، یہاں تک کہ تیسری بار میں اس پر رقّت کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ آہ و بُکا کرنے لگا۔ اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ جب اسے افاقہ ہوا تو اِس عظیم کرامت کو دیکھ کر آپ علیہ الرحمہ کے دستِ مبارک پر بیعت ہوا اور عقیدت مندوں میں داخل ہو گیا ۔ (ایضا: 326)
ذوقِ شاعری:
آپ علیہ الرحمہ ہندی و فارسی کے قادر الکلام شاعر تھے ۔ آپ علیہ الرحمہ نے بہت اشعار تحریر فرمائے، جو آپ کے علمی و ادبی ذوق پر شاہد ہیں ۔ آپ کے اشعار کے مجموعے کا نام ’’دیوانِ شعر‘‘ ہے ۔
علمی و تصنیفی خدمات:
آپ صاحبِ تصنیف بزرگ تھے ۔ مختلف موضوعات پر آپ کی عمدہ تصانیف موجود ہیں۔
1جامع الکلم فارسی ۔
2 شرح اسماء الحسنیٰ ۔
3 شرح بسیط علیٰ عقائد النسفیہ ۔
4 رسالہ معارف ۔
5 مشاہدات الصوفیہ ۔
6 دیوان شعر ۔
اولادِ امجاد:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین فرزند عطا فرمائے۔
جو نہایت ہی عابد و زاہد اور متقی و پرہیزگار تھے
حضرت سید شاہ فضل اللہ کالپوی ۔
حـضـرت سـید شاہ سلطان مقصود ـ
حـضـرت سـید شاہ سلطان محمود ـ
علیہم الرحمہ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال 10؍صفر المظفر، بروز پنجشبہ (جمعرات)، بوقتِ شام، 1084ھ، مطابق 25؍ مئی 673ء کو ہوا۔
مزار شریف:
آپ کا مزار مبارک کالپی شریف (ہند) میں مرجع خلائق ہے ۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
دے محمد کے لئے روزی کر احمد کے لئے
خوانِ فضل اللہ سے حصہ گدا کے واسطے
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
اے بنامت شیرۂ جاں شد نباتِ کالپی
احمد انوشیں لبا، شیریں ادا امداد کن
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-meer-syed-ahmad-kalpwi
scholars.pk
Hazrat Meer Syed Ahmad Kalpwi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1