Forwarded from Abde Mustafa Organisation
فقہی مہارت کے تین اصول
اگر آپ لوگوں کو فقہی مسائل بیان کرتے ہیں تو پہلے اچھی طرح سمجھ بوجھ لیں کہ آپ اس کے "اہل" ہیں یا نہیں، اگر آپ خود سے گمان کر بیٹھے ہیں کہ آپ اس لائق ہیں تو یہ خوش فہمی کہ سوا کچھ نہیں ہے، اس کام کے لیے فقہ میں ماہر ہونا ضروری ہے اور مہارت فقط دو چار کتابوں کو پڑھ لینے سے حاصل نہیں ہوتی، اس کے لیے بہت کچھ درکار ہوتا ہے۔
مفتی فضیل عطاری (رکن مجلس تحقیقاتِ شرعیہ، دعوت اسلامی) لکھتے ہیں کہ شامی میں بحر کے حوالے سے ہے :
انہ لا یحصل الا بکثرۃ المراجعۃ و تتبع عبارتھم والاخذ عن الاشیاخ
یعنی علم فقہ (1) کثرت مراجعت، (2) تتبعِ عباراتِ فقہا اور (3) ماہرِ شیوخ سے باقاعدہ سیکھے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔
(رد المحتار علی در المختار، 2/173)
(دیکھیے فقہ، افتا اور احتیاط)
اگر آپ نے امہات الکتب کی طرف کثرت سے چھوڑیے، کبھی رجوع ہی نہیں کیا اور تتبعِ عبارات فقہا کا الف بھی آپ کو نہیں پتہ اور پھر شیوخ سے باقاعدہ یہ علم حاصل بھی نہیں کیا پھر افتا کرنے کی جسارت آپ کیسے کر سکتے ہیں؟
عبد مصطفی آفیشل
اگر آپ لوگوں کو فقہی مسائل بیان کرتے ہیں تو پہلے اچھی طرح سمجھ بوجھ لیں کہ آپ اس کے "اہل" ہیں یا نہیں، اگر آپ خود سے گمان کر بیٹھے ہیں کہ آپ اس لائق ہیں تو یہ خوش فہمی کہ سوا کچھ نہیں ہے، اس کام کے لیے فقہ میں ماہر ہونا ضروری ہے اور مہارت فقط دو چار کتابوں کو پڑھ لینے سے حاصل نہیں ہوتی، اس کے لیے بہت کچھ درکار ہوتا ہے۔
مفتی فضیل عطاری (رکن مجلس تحقیقاتِ شرعیہ، دعوت اسلامی) لکھتے ہیں کہ شامی میں بحر کے حوالے سے ہے :
انہ لا یحصل الا بکثرۃ المراجعۃ و تتبع عبارتھم والاخذ عن الاشیاخ
یعنی علم فقہ (1) کثرت مراجعت، (2) تتبعِ عباراتِ فقہا اور (3) ماہرِ شیوخ سے باقاعدہ سیکھے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔
(رد المحتار علی در المختار، 2/173)
(دیکھیے فقہ، افتا اور احتیاط)
اگر آپ نے امہات الکتب کی طرف کثرت سے چھوڑیے، کبھی رجوع ہی نہیں کیا اور تتبعِ عبارات فقہا کا الف بھی آپ کو نہیں پتہ اور پھر شیوخ سے باقاعدہ یہ علم حاصل بھی نہیں کیا پھر افتا کرنے کی جسارت آپ کیسے کر سکتے ہیں؟
عبد مصطفی آفیشل
❤2👍1
حضرت مولانا شاہ محمد محی الدین بدایونی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ محمد محی الدین ۔ بدایوں کی نسبت سے " بدایونی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ محمد محی الدین بدایونی بن سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی بن شاہ عبد المجید بدایونی ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
بروز ہفتہ، 17 صفر المظفر 1243ھ، بمطابق 8 ستمبر 1827ء کو پیدا ہوئے ۔ " مظہرِ محمود " تاریخی نام ہے ۔
تحصیلِ علم:
تمام علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والدِ گرامی سے ہوئی، اور اپنے ہم عصروں سے علمی اعتبار سے ممتاز ہو گئے ۔
بیعت و خلافت:
اپنے دادا مولانا شاہ عبد المجید بدایونی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور اپنے والدِ گرامی حضرت سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت عطاء فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
قاطعِ وہابیت و نجدیت، جامع المنقولِ والمعقول، عالمِ ربانی، خلف الرشید حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ حضرت علامہ مولانا شاہ محمد محی الدین بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ بچپن ہی سے آثار بزرگی چہرے سے ظاہر تھے، والد ماجد سے علوم و فنون کا تکملہ کیا، آپ احیائے سنت میں مستعد اور وہابیوں کے حق میں برق خاطف تھے ۔
آپ اعلیٰ درجہ کے طبیب تھے۔ مریض ہر وقت گھیرے رکھتے ۔ درس و تدریس اور تصنیف کا خاص ذوق رکھتے تھے ۔ مولوی سراج سہسوانی مدرسہ عالیہ قادریہ کے تعلیم یافتہ تھے، مگر شامتِ اعمال سے ترک تقلید کے قائل، سودائے نجدیت سے سرشار تھے ۔ نجدی عقائد میں اُن کی تالیف "سراج الایمان" چھپ کر شائع ہوئی تو اس محی السنۃ نے حمایت حق میں "شمس الایمان" لکھ کر چراغ بے دینیت کو گلُ کر دیا، اور احقاقِ حق اور ردِ باطل میں اپنے والدِ گرامی کی یاد تازہ کر دی ۔ آپ ساری زندگی دینِ متین کے فروغ کیلئے کوشاں رہے۔
وصال:
بروز ہفتہ 6 ذیقعدہ 1270ھ، بمطابق 30 جولائی 1854ء کو وصال فرمایا ۔
حضرت شیخ نور قادری (از اولاد امجاد حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ جو عالمگیری عہد کے عظیم بزرگ تھے) کےآستانہ سہارن پور (انڈیا) میں جانب شمال مدفون ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-muhammad-mohiuddin-badayuni
نام و نسب:
اسمِ گرامی: شاہ محمد محی الدین ۔ بدایوں کی نسبت سے " بدایونی " کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا شاہ محمد محی الدین بدایونی بن سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول بدایونی بن شاہ عبد المجید بدایونی ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخِ ولادت:
بروز ہفتہ، 17 صفر المظفر 1243ھ، بمطابق 8 ستمبر 1827ء کو پیدا ہوئے ۔ " مظہرِ محمود " تاریخی نام ہے ۔
تحصیلِ علم:
تمام علومِ نقلیہ و عقلیہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والدِ گرامی سے ہوئی، اور اپنے ہم عصروں سے علمی اعتبار سے ممتاز ہو گئے ۔
بیعت و خلافت:
اپنے دادا مولانا شاہ عبد المجید بدایونی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئے، اور اپنے والدِ گرامی حضرت سیف اللہ المسلول شاہ فضلِ رسول رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت عطاء فرمائی ۔
سیرت و خصائص:
قاطعِ وہابیت و نجدیت، جامع المنقولِ والمعقول، عالمِ ربانی، خلف الرشید حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ حضرت علامہ مولانا شاہ محمد محی الدین بدایونی رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ علیہ الرحمہ حضرت شاہ فضلِ رسول بدایونی علیہ الرحمہ کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں ۔ بچپن ہی سے آثار بزرگی چہرے سے ظاہر تھے، والد ماجد سے علوم و فنون کا تکملہ کیا، آپ احیائے سنت میں مستعد اور وہابیوں کے حق میں برق خاطف تھے ۔
آپ اعلیٰ درجہ کے طبیب تھے۔ مریض ہر وقت گھیرے رکھتے ۔ درس و تدریس اور تصنیف کا خاص ذوق رکھتے تھے ۔ مولوی سراج سہسوانی مدرسہ عالیہ قادریہ کے تعلیم یافتہ تھے، مگر شامتِ اعمال سے ترک تقلید کے قائل، سودائے نجدیت سے سرشار تھے ۔ نجدی عقائد میں اُن کی تالیف "سراج الایمان" چھپ کر شائع ہوئی تو اس محی السنۃ نے حمایت حق میں "شمس الایمان" لکھ کر چراغ بے دینیت کو گلُ کر دیا، اور احقاقِ حق اور ردِ باطل میں اپنے والدِ گرامی کی یاد تازہ کر دی ۔ آپ ساری زندگی دینِ متین کے فروغ کیلئے کوشاں رہے۔
وصال:
بروز ہفتہ 6 ذیقعدہ 1270ھ، بمطابق 30 جولائی 1854ء کو وصال فرمایا ۔
حضرت شیخ نور قادری (از اولاد امجاد حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ جو عالمگیری عہد کے عظیم بزرگ تھے) کےآستانہ سہارن پور (انڈیا) میں جانب شمال مدفون ہیں ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-muhammad-mohiuddin-badayuni
scholars.pk
Hazrat Shah Muhammad Mohiuddin Badayuni
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1
حضرت مولانا حامد علی خان رامپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی حامد علی خان تھا اور آپ کے والد ماجد کا اسمِ گرامی شہید علی خان بن مہدی علی خان تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہم)
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ غالباً 1906ء میں مصطفیٰ آباد (عرف رامپور، یوپی، ہند)کے محلہ حلقہ والی زیارت کے مقام پر پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے حافظ حمایت اللہ خان صاحب سے شرح جامی اور اور قطبی تک تمام اسباق انہی سے پڑھے ، پھر مدرسہ عالیہ رامپور جو ہندوستان کی منفرد علمی درس گاہ ہے، میں داخلہ لیا اوروہاں کے کورس کے مطابق تعلیم حاصل کی۔حضرت نے 1930ء میں مدرسہ عالیہ رامپور سے سند فراغت حاصل کی اور تمام مدرسہ میں اول آئے۔
بیعت:
مولانا حامد علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے شاہ عنایت رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت کی۔
سیرت و خصائص:
حضرت مولانا حامد علی خان رامپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مایہ ناز عالم، بلند پایہ مفتی اور کامل شیخ طریقت تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ زمانہ طالب علمی سے اور اد و وظائف کے پابند تھے، دونوں وقت خانقاہ عنایت میں ختم خواجگان اور حلقہ ذکر میں حاضری دیتے۔
بیعت کے بعد 5 سال مرشد کی خدمت میں رہ کر منازل سلوک طے کیں اور کارسلوک، ‘‘حقیقت ابراہیمی’’تک پہنچا ، شیخ کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے مولانا حمایت اللہ سجادہ نشین ہوئے تو ان کے فیض حاصل کیا ، انہی دنوں روہتک سے قاری خورشید صاحب رام پور آئے اور عرض کی کہ ہمیں ایک مدرس چاہیے چناں چہ مفتی حمایت اللہ صاحب نے آپ کو ان کے سپرد کر دیا، چناں چہ آپ نے 1932ء میں خیر لمعاد روہتک کا انتظام سنبھالا، آپ کی آمد سے اس مدرسہ کو چار چاند لگ گئے۔
شروع میں اپ بیعت فرمانے سے انکار کرتے تھے مگر بعد میں حضرت مولانا محمد اللہ خان صاحب سجادہ نشین خانقاہ عنایتہ کے حکم پر بیعت کرنا شروع کر دیا ۔
حضرت نے 1932ء سے 1947ء تک روہتک میں قیام فرمایا 1940ء سے 1947ء تک زمانہ روہتک کے مسلمانوں کے لیے بڑا صبر آزما تھا، کاروبار پر ہندو چھائے ہوئے تھے وہ غلہ کی دکانیں بند کردیتے تھے ، اور مسلمانوں کو فاقوں کی نوبت آتی تھی، حضرت نے یہ صورت حال دیکھ کر مدرسہ خیرالمعاد میں عمائدین شہر کا ایک اجلاس طلب کیا اور غذا کی قلت کو دور کرنے کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کیں،
چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلم ٹریڈرز کے نام سے ایک کمپنی کا اجراء کیا جائے، آپ کی کوششوں سے 5 لاکھ کے سرمایہ سے کمپنی نے کام شروع کیا یہ کمپنی مسلمانوں کو غلہ سپلائی کرتی تھی ۔
اس طرح مسلمان بھوک کی مصیبت سے محفوظ ہوئے۔ حضرت نے شروع ہی میں مسلم لیگ کا ساتھ دیا ایک مرتبہ روہتک میں فیروز خان نون تشریف لائے تو حضرت نے روہتک کی مساجد اور اہم مقامات دکھائے اور ۵ ہزار روپیہ مسلم لیگ کے فنڈ میں عطا کیا جب روہتک میں فسادات زائد ہونے لگے تو آپ رام پور تشریف لائے یہاں مدرسہ عالیہ رام پور میں شیخ التفسیر بنادیئے گئے، مگر حضرت کے روہتکی مریدین کی ایک بڑی جماعت ہجرت کر کے ملتان آگئی تھی اس کا اصرار تھا کہ آپ پاکستان تشریف لائیں چناں چہ آپ ملتان تشریف لائے اور یہاں مدرسہ خیر المعاد کا نظام سنبھالا،
یہاں کمیونزم اور سوشلزم کے خلاف جس ہمت مردانہ اور شجاعت قلندرانہ کا مظاہرہ کیا اس سے نہ تو کوئی پاکستانی بے خبر ہوگا اور نہ ہی اس کا منکر ہوگا، جب مسٹر بھٹو سابق وزیر اعظم پاکستان کے مقابلہ میں مسلمانوں نے کسی نمائندہ کو انتخابات کے لیے کھڑا کرنے کی ضرورت محسوس کی تو صرف آپ ہی کی ذات ایسی نظر آئی جس پر تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیاں بیک زبان متفق ہوگئیں۔ پھر حضرت نے پورے وقار اور متانت کے ساتھ ملکی سیاست میں تادم زیست بھر پور حصہ لیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ 17 صفر 1400ھ بروز پیر دوپہر کے وقت اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔
حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمہ اللہ نے نماز جنازہ پڑھائی آپ کو قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان میں حضرت پیر دربر دھلوی کے پہلو دفن کیا گیا۔
آپ کے مزار پر عظیم الشان قبہ ہے اور متصل عربی کا مدرسہ اور مسجد ہے۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اولیاءِ سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hamid-ali-khan-rampuri
اسمِ گرامی:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی حامد علی خان تھا اور آپ کے والد ماجد کا اسمِ گرامی شہید علی خان بن مہدی علی خان تھا ۔ (رحمۃ اللہ علیہم)
تاریخ و مقامِ ولادت:
آپ غالباً 1906ء میں مصطفیٰ آباد (عرف رامپور، یوپی، ہند)کے محلہ حلقہ والی زیارت کے مقام پر پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے حافظ حمایت اللہ خان صاحب سے شرح جامی اور اور قطبی تک تمام اسباق انہی سے پڑھے ، پھر مدرسہ عالیہ رامپور جو ہندوستان کی منفرد علمی درس گاہ ہے، میں داخلہ لیا اوروہاں کے کورس کے مطابق تعلیم حاصل کی۔حضرت نے 1930ء میں مدرسہ عالیہ رامپور سے سند فراغت حاصل کی اور تمام مدرسہ میں اول آئے۔
بیعت:
مولانا حامد علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے شاہ عنایت رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت کی۔
سیرت و خصائص:
حضرت مولانا حامد علی خان رامپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مایہ ناز عالم، بلند پایہ مفتی اور کامل شیخ طریقت تھے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ زمانہ طالب علمی سے اور اد و وظائف کے پابند تھے، دونوں وقت خانقاہ عنایت میں ختم خواجگان اور حلقہ ذکر میں حاضری دیتے۔
بیعت کے بعد 5 سال مرشد کی خدمت میں رہ کر منازل سلوک طے کیں اور کارسلوک، ‘‘حقیقت ابراہیمی’’تک پہنچا ، شیخ کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے مولانا حمایت اللہ سجادہ نشین ہوئے تو ان کے فیض حاصل کیا ، انہی دنوں روہتک سے قاری خورشید صاحب رام پور آئے اور عرض کی کہ ہمیں ایک مدرس چاہیے چناں چہ مفتی حمایت اللہ صاحب نے آپ کو ان کے سپرد کر دیا، چناں چہ آپ نے 1932ء میں خیر لمعاد روہتک کا انتظام سنبھالا، آپ کی آمد سے اس مدرسہ کو چار چاند لگ گئے۔
شروع میں اپ بیعت فرمانے سے انکار کرتے تھے مگر بعد میں حضرت مولانا محمد اللہ خان صاحب سجادہ نشین خانقاہ عنایتہ کے حکم پر بیعت کرنا شروع کر دیا ۔
حضرت نے 1932ء سے 1947ء تک روہتک میں قیام فرمایا 1940ء سے 1947ء تک زمانہ روہتک کے مسلمانوں کے لیے بڑا صبر آزما تھا، کاروبار پر ہندو چھائے ہوئے تھے وہ غلہ کی دکانیں بند کردیتے تھے ، اور مسلمانوں کو فاقوں کی نوبت آتی تھی، حضرت نے یہ صورت حال دیکھ کر مدرسہ خیرالمعاد میں عمائدین شہر کا ایک اجلاس طلب کیا اور غذا کی قلت کو دور کرنے کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کیں،
چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلم ٹریڈرز کے نام سے ایک کمپنی کا اجراء کیا جائے، آپ کی کوششوں سے 5 لاکھ کے سرمایہ سے کمپنی نے کام شروع کیا یہ کمپنی مسلمانوں کو غلہ سپلائی کرتی تھی ۔
اس طرح مسلمان بھوک کی مصیبت سے محفوظ ہوئے۔ حضرت نے شروع ہی میں مسلم لیگ کا ساتھ دیا ایک مرتبہ روہتک میں فیروز خان نون تشریف لائے تو حضرت نے روہتک کی مساجد اور اہم مقامات دکھائے اور ۵ ہزار روپیہ مسلم لیگ کے فنڈ میں عطا کیا جب روہتک میں فسادات زائد ہونے لگے تو آپ رام پور تشریف لائے یہاں مدرسہ عالیہ رام پور میں شیخ التفسیر بنادیئے گئے، مگر حضرت کے روہتکی مریدین کی ایک بڑی جماعت ہجرت کر کے ملتان آگئی تھی اس کا اصرار تھا کہ آپ پاکستان تشریف لائیں چناں چہ آپ ملتان تشریف لائے اور یہاں مدرسہ خیر المعاد کا نظام سنبھالا،
یہاں کمیونزم اور سوشلزم کے خلاف جس ہمت مردانہ اور شجاعت قلندرانہ کا مظاہرہ کیا اس سے نہ تو کوئی پاکستانی بے خبر ہوگا اور نہ ہی اس کا منکر ہوگا، جب مسٹر بھٹو سابق وزیر اعظم پاکستان کے مقابلہ میں مسلمانوں نے کسی نمائندہ کو انتخابات کے لیے کھڑا کرنے کی ضرورت محسوس کی تو صرف آپ ہی کی ذات ایسی نظر آئی جس پر تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیاں بیک زبان متفق ہوگئیں۔ پھر حضرت نے پورے وقار اور متانت کے ساتھ ملکی سیاست میں تادم زیست بھر پور حصہ لیا ۔
تاریخِ وصال:
آپ 17 صفر 1400ھ بروز پیر دوپہر کے وقت اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔
حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمہ اللہ نے نماز جنازہ پڑھائی آپ کو قلعہ کہنہ قاسم باغ ملتان میں حضرت پیر دربر دھلوی کے پہلو دفن کیا گیا۔
آپ کے مزار پر عظیم الشان قبہ ہے اور متصل عربی کا مدرسہ اور مسجد ہے۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ اولیاءِ سندھ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-hamid-ali-khan-rampuri
scholars.pk
Hazrat Molana Hamid Ali Khan Rampuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1
نشہ : ابلیس کا سب سے کامیاب وار
ایک نیک شخص کو شیطان دکھائی دیا تواس سے کہا:
"میں تجھ سے کچھ پوچھنا چاہتاہوں"
شیطان کہنے لگا:
"پوچھو! کیاپوچھنا چاہتے ہو؟"
نیک شخص نے پوچھا:
"انسان کو ہلاک و برباد کرنے میں تمہارے لیے سب سے زیادہ مددگار شے کیا ہے؟"
ابلیس نے کہا:
"نشہ ہمارا سب سے کامیاب وار ہے کیوں کہ جب کوئی شخص نشے میں ہوتا ہے تو وہ ہم سے بچ نہیں سکتا ہم جو چاہتے ہیں اس سے کرواتے ہیں ہم اُس سے ایسے کھیلتے ہیں جیسے بچے گیند سے کھیلتے ہیں۔"
( عیون الحکایات، ص 400 ملخصاً)
نشے کے ناسور نے ہمارے مُعاشَرے کی ایک تعداد بالخصوص نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ موجودہ دور میں جس طرح آسانی سے پیزا (Pizza) اور برگر دستیاب ہے، اسی طرح نشہ آور چیزیں بھی لوگوں کی پہنچ میں ہیں۔ والدین اور سرپرستوں کی ذمے داری ہے کہ اپنے بچوں پر توجہ دیں۔
.... مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0wCr3i9gFgqRziAPfwqvWXTcbUyv1i2TtrMtQzojSHE3jY9qUHhZQVXb9SU9R5iDfl&id=100003875890529
ایک نیک شخص کو شیطان دکھائی دیا تواس سے کہا:
"میں تجھ سے کچھ پوچھنا چاہتاہوں"
شیطان کہنے لگا:
"پوچھو! کیاپوچھنا چاہتے ہو؟"
نیک شخص نے پوچھا:
"انسان کو ہلاک و برباد کرنے میں تمہارے لیے سب سے زیادہ مددگار شے کیا ہے؟"
ابلیس نے کہا:
"نشہ ہمارا سب سے کامیاب وار ہے کیوں کہ جب کوئی شخص نشے میں ہوتا ہے تو وہ ہم سے بچ نہیں سکتا ہم جو چاہتے ہیں اس سے کرواتے ہیں ہم اُس سے ایسے کھیلتے ہیں جیسے بچے گیند سے کھیلتے ہیں۔"
( عیون الحکایات، ص 400 ملخصاً)
نشے کے ناسور نے ہمارے مُعاشَرے کی ایک تعداد بالخصوص نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ موجودہ دور میں جس طرح آسانی سے پیزا (Pizza) اور برگر دستیاب ہے، اسی طرح نشہ آور چیزیں بھی لوگوں کی پہنچ میں ہیں۔ والدین اور سرپرستوں کی ذمے داری ہے کہ اپنے بچوں پر توجہ دیں۔
.... مشاہد رضوی بلاگر ٹیم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0wCr3i9gFgqRziAPfwqvWXTcbUyv1i2TtrMtQzojSHE3jY9qUHhZQVXb9SU9R5iDfl&id=100003875890529
❤2👍2
نشے کے عادی شخص کوطرح طرح کی بیماریاں گھیر لیتی ہیں، معدہ، جگر اور گُردے زیادہ متأثر ہوتے ہیں، اسےکھانے کی پروا نہیں رہتی، دھیرے دھیرے اس کا جسم کمزور اور کاہل ہوجاتا ہے۔ بالآخر وہ بسترِ مَرَض پر لیٹ جاتا ہے، اس کا مُستقِل علاج نہیں ہوپاتا کیوں کہ وہ نشہ چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتا، انجام کار بقیہ زندگی ’’زندہ لاش‘‘ بن کر گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0H588axRcBqpHxk5te4KDj91SUSdPfkUQfWFEnALWXRzMbFzTR7LUvjdfXbtjXrvKl&id=100003875890529
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0H588axRcBqpHxk5te4KDj91SUSdPfkUQfWFEnALWXRzMbFzTR7LUvjdfXbtjXrvKl&id=100003875890529
❤1👍1
نشے کی بدولت سُستی اور بے پروائی انسان پر غالب ہوجاتی ہے، وہ تھکن اور غُنودگی کا شکار رہتا ہے، نشہ مل گیا تو اس کے جسم میں کرنٹ دوڑ جاتا ہے نہ ملا تو اس کا جسم ٹوٹنے لگ جاتا ہے، ایسے میں وہ نوکری یا کاروبار کے قابل نہیں رہتا، بِالآخر کوڑی کوڑی کا محتاج ہوجاتا ہے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02iBSRP5Gzj6GscxkEcrPJD8D9v2pJqnNiaNDXYZj7Rp7mgCp8CWDeFbUVYR5Nc5y9l&id=100003875890529
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02iBSRP5Gzj6GscxkEcrPJD8D9v2pJqnNiaNDXYZj7Rp7mgCp8CWDeFbUVYR5Nc5y9l&id=100003875890529
❤1👍1
بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں جہاں دُوسری بہت سی بُرائیاں سر اُٹھارہی ہیں، وُہیں نشے نے بھی اپنی جڑیں انتہائی مضبوط کرلی ہیں، آج ایک کثیر تعداد ہے، جو نشے کی عادی ہے۔ مَرْد ہو یا عورت، بُوڑھا ہو یا جوان ہو یا نَو عمر لڑکا، امیر ہو یا غریب، افسر ہو یا مُلازم، تاجر ہو یا کسان، پڑھا لکھا ہو یا اَن پڑھ غرض مختلف پیشوں، طبقوں اور عُمروں سے تَعَلُّق رکھنے والے بے شُمار افراد جانے انجانے میں کسی نہ کسی طور پر نشے کی نحوست میں بُری طرح سے جکڑے ہوئے اپنے ہی ہاتھوں اپنی جان و مال اور عزت و آبرو برباد کیے جارہے ہیں۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02KM3mYZFCEAtqBKAzzcsqhkgF3FmZygzQMqcTc68BYss6XgnYWQ3gjP9sykLoqerZl&id=100003875890529
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02KM3mYZFCEAtqBKAzzcsqhkgF3FmZygzQMqcTc68BYss6XgnYWQ3gjP9sykLoqerZl&id=100003875890529
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-02-1444 ᴴ | 14-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
17-02-1444 ᴴ | 15-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1