🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-02-1444 ᴴ | 13-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-02-1444 ᴴ | 13-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-02-1444 ᴴ | 13-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-02-1444 ᴴ | 13-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
گیان واپی مسجد کے سلسلہ میں...
ज्ञान वापी मस्जिद के बारे में ...
مدارس کا سروے ¹⁰Sep سے ¹⁵Oct
نامۂ اعمال میں استغفار خوشخبری
مسلمان ہونے سے دونوں جہان میں
دنیوی لالچ کی بنا پر مجلس میں
اچھا سوال کرنا نصف علم ہے ❤️
رات میں سفر کرنا لازم ہے ... زمیں
अ़वाम पर उ़ल्मा का अदब बाप से
عوام پر علماء کا ادب باپ سے زیادہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
फ़रमाने अअ़्ला ह़ज़रत علیہالرحمہ
उ़ल्मा ए किराम का अदब अ़वाम पर बाप से ज़्यादह फ़र्ज़ है! [फ़तावा रज़विया, जि²⁵, स़²¹⁶]
فرمانِ اعلیٰ حضرت علیہالرحمہ:
علمائے کرام کا ادب عوام پر باپ سے زیادہ فرض ہے ـ [فتاویٰ رضویہ، جِـ²⁵، صَـ²¹⁶]
Farmane A'ala Hazrat:
Ulamaa e Kiram Ka Adab Awaam Par Baap Se Ziyaada Farz Hai. [Fatãwã Razaviyyah, J²⁵, P²¹⁶]
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
گیان واپی مسجد کے سلسلہ میں...
ज्ञान वापी मस्जिद के बारे में ...
مدارس کا سروے ¹⁰Sep سے ¹⁵Oct
نامۂ اعمال میں استغفار خوشخبری
مسلمان ہونے سے دونوں جہان میں
دنیوی لالچ کی بنا پر مجلس میں
اچھا سوال کرنا نصف علم ہے ❤️
رات میں سفر کرنا لازم ہے ... زمیں
अ़वाम पर उ़ल्मा का अदब बाप से
عوام پر علماء کا ادب باپ سے زیادہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
फ़रमाने अअ़्ला ह़ज़रत علیہالرحمہ
उ़ल्मा ए किराम का अदब अ़वाम पर बाप से ज़्यादह फ़र्ज़ है! [फ़तावा रज़विया, जि²⁵, स़²¹⁶]
فرمانِ اعلیٰ حضرت علیہالرحمہ:
علمائے کرام کا ادب عوام پر باپ سے زیادہ فرض ہے ـ [فتاویٰ رضویہ، جِـ²⁵، صَـ²¹⁶]
Farmane A'ala Hazrat:
Ulamaa e Kiram Ka Adab Awaam Par Baap Se Ziyaada Farz Hai. [Fatãwã Razaviyyah, J²⁵, P²¹⁶]
👍3❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯فکر معاش کے سبب مذہب کی تباہی🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
مبسملا وحامدا : ومصلیا ومسلما
📬 قریباً پندرہ سولہ سال سے یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ رد بدمذہبیت کو علماے کرام کی اکثریت نے ترک کر دیا ہے ۔ حالاں کہ رد بدمذہبیت واجبات دینیہ میں سے ہے۔
رد و ابطال کو ترک کرنا مذہب کی تباہی ہے۔اس کا نتیجہ آنکھوں کے سامنے ہے کہ روز بروز سنیوں کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔
اس کی بھرپائی کے لئے لوگوں نے یہ غلط نظریہ ایجاد کر لیا ہے کہ دیوبندی,وہابی اور مودودی عوام سنی ہیں۔عوام کو کچھ معلوم نہیں۔
دوسری جانب بدمذہبوں نے خود کو سنی کہنا شروع کر دیا ہے اور سنی حضرات کو بریلوی اور ایک گمراہ جماعت باور کرانے میں بہت حد تک کام یاب ہو گئے۔
وہ افعال شنیعہ جو ہمارے یہاں بھی ناجائز ہیں,بدمذہبوں نے ان افعال قبیحہ کو ہماری طرف منسوب کر کے عوام الناس کو یہ یقین دہانی کرا دی ہے کہ بریلوی ایک بدعتی اور قبر پرست جماعت ہے۔
بدمذہبوں کے چند مشہور الزامات درج ذیل ہیں:
۔1-بریلوی لوگ قبروں کا سجدہ کرتے ہیں۔
۔2-بریلوی عورتیں عرسوں میں شرکت کرتی ہیں جہاں عورتوں اور مردوں کا خلط ملط ہوتا ہے۔
۔3-بریلوی لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا رتبہ اللہ تعالی سے بھی زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔
اس قسم کے متعدد غلط الزامات عائد کر کے عام مسلمانوں کو مذہب اہل سنت وجماعت سے بر گشتہ کر دیتے ہیں۔
عہد ماضی میں بھی مختلف قسم کے الزامات ہمارے سر تھوپے گئے۔ہمارے علمائے کرام ایسے غلط الزامات کی تردید کرتے رہے,بد مذہبوں کے کفریات کلامیہ اور کفریات فقہیہ قوم کو بتاتے رہے اور قوم کی اصلاح کرتے رہے
لیکن قریبا پندرہ بیس سال سے لوگوں نے اپنی زبانوں پر تالا لگا لیا ہے۔ایسے لوگوں کو حدیث شریف میں گونگا شیطان کہا گیا ہے۔
دل نشیں اسلوب کے ساتھ بدمذہبوں کے کفریات کلامیہ وکفریات فقہیہ کو اجاگر کیا جائے,ورنہ روافض کے علاوہ دیگر تمام فرق باطلہ اپنے کو سنی باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور سنیوں کو گمراہ اور بدمذہب جماعت ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے,بلکہ ایک حد تک وہ کامیاب ہو چکے ہیں۔
زبان پر تالا بندی کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں:
بہت سی مساجد میں مسجد کمیٹی کی جانب سے ائمہ کرام پر پابندی عائد رہتی ہے کہ وہ کسی بدمذہب کا رد نہیں کریں گے۔روزی روٹی کا سوال ہے۔ائمہ مساجد اس سبب سے خاموش رہتے ہیں۔
2-بہت سے مقررین کو یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر ہم نے رد وابطال کو مشغلہ بنایا تو کوئی ہمیں اپنے جلسوں میں دعوت نہیں دے گا اور ہماری روزی روٹی بند ہو جائے گی۔
3-بہت سے اہل مدارس اپنے اسٹیجوں پر رد وابطال کی اجازت نہیں دیتے کہ ان کے چندہ پر اثر آئے گا۔
ہر جماعت میں بہت سے دانشور قسم کے موجود ہوتے ہیں۔اہل سنت وجماعت میں بھی دانشوروں کی تعداد کم نہیں۔اس کا حل نکالیں۔ہماری تعلیمی,تعمیری,رفاہی و سماجی خدمات وسیع ہوتی جا رہی ہیں اور اہل مذہب کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔
حضرت علامہ ارشد القادری اور حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی علیہما الرحمہ جہاں کہیں تقریر کرتے۔ان حضرات کی تقریروں کے سبب انقلابی کیفیت رونما ہو جاتی۔بدمذہب اپنی بدمذہبیت سے تائب ہو جاتے۔
حضور محدث اعظم ہند قدس سرہ القوی کے شہزادگان اور حشمتی برادران کی اکثر تقاریر رد و ابطال پر مشتمل ہوتیں۔
رد و ابطال اس قدر دل نشیں انداز میں ہو کہ مجمع سے کوئی بھاگنے بھی نہ پائے اور تقریر سن لینے والا بہکنے بھی نہ پائے۔
کیا عہد حاضر کے خطبا و مقررین اپنے اندر کچھ تبدیلی لانا چاہیں گے یا ساحل عافیت میں گوشہ نشیں رہیں گے؟؟؟
ان شاء اللہ تعالی میں حتی المقدور کوشش کروں گا۔
در حقیقت میں جس قدر مذہب کے موافق تحریر لاؤں گا یا تقریر سناؤں گا۔امید قوی ہے کہ میرا خدا مجھے نوازتا جائے گا۔ من کان للہ کان اللہ لہ
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 طارق انور مصباحی، مدیر : ماہنامہ پیغام شریعت دہلی۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*🕯فکر معاش کے سبب مذہب کی تباہی🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
مبسملا وحامدا : ومصلیا ومسلما
📬 قریباً پندرہ سولہ سال سے یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ رد بدمذہبیت کو علماے کرام کی اکثریت نے ترک کر دیا ہے ۔ حالاں کہ رد بدمذہبیت واجبات دینیہ میں سے ہے۔
رد و ابطال کو ترک کرنا مذہب کی تباہی ہے۔اس کا نتیجہ آنکھوں کے سامنے ہے کہ روز بروز سنیوں کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔
اس کی بھرپائی کے لئے لوگوں نے یہ غلط نظریہ ایجاد کر لیا ہے کہ دیوبندی,وہابی اور مودودی عوام سنی ہیں۔عوام کو کچھ معلوم نہیں۔
دوسری جانب بدمذہبوں نے خود کو سنی کہنا شروع کر دیا ہے اور سنی حضرات کو بریلوی اور ایک گمراہ جماعت باور کرانے میں بہت حد تک کام یاب ہو گئے۔
وہ افعال شنیعہ جو ہمارے یہاں بھی ناجائز ہیں,بدمذہبوں نے ان افعال قبیحہ کو ہماری طرف منسوب کر کے عوام الناس کو یہ یقین دہانی کرا دی ہے کہ بریلوی ایک بدعتی اور قبر پرست جماعت ہے۔
بدمذہبوں کے چند مشہور الزامات درج ذیل ہیں:
۔1-بریلوی لوگ قبروں کا سجدہ کرتے ہیں۔
۔2-بریلوی عورتیں عرسوں میں شرکت کرتی ہیں جہاں عورتوں اور مردوں کا خلط ملط ہوتا ہے۔
۔3-بریلوی لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا رتبہ اللہ تعالی سے بھی زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔
اس قسم کے متعدد غلط الزامات عائد کر کے عام مسلمانوں کو مذہب اہل سنت وجماعت سے بر گشتہ کر دیتے ہیں۔
عہد ماضی میں بھی مختلف قسم کے الزامات ہمارے سر تھوپے گئے۔ہمارے علمائے کرام ایسے غلط الزامات کی تردید کرتے رہے,بد مذہبوں کے کفریات کلامیہ اور کفریات فقہیہ قوم کو بتاتے رہے اور قوم کی اصلاح کرتے رہے
لیکن قریبا پندرہ بیس سال سے لوگوں نے اپنی زبانوں پر تالا لگا لیا ہے۔ایسے لوگوں کو حدیث شریف میں گونگا شیطان کہا گیا ہے۔
دل نشیں اسلوب کے ساتھ بدمذہبوں کے کفریات کلامیہ وکفریات فقہیہ کو اجاگر کیا جائے,ورنہ روافض کے علاوہ دیگر تمام فرق باطلہ اپنے کو سنی باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور سنیوں کو گمراہ اور بدمذہب جماعت ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے,بلکہ ایک حد تک وہ کامیاب ہو چکے ہیں۔
زبان پر تالا بندی کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں:
بہت سی مساجد میں مسجد کمیٹی کی جانب سے ائمہ کرام پر پابندی عائد رہتی ہے کہ وہ کسی بدمذہب کا رد نہیں کریں گے۔روزی روٹی کا سوال ہے۔ائمہ مساجد اس سبب سے خاموش رہتے ہیں۔
2-بہت سے مقررین کو یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر ہم نے رد وابطال کو مشغلہ بنایا تو کوئی ہمیں اپنے جلسوں میں دعوت نہیں دے گا اور ہماری روزی روٹی بند ہو جائے گی۔
3-بہت سے اہل مدارس اپنے اسٹیجوں پر رد وابطال کی اجازت نہیں دیتے کہ ان کے چندہ پر اثر آئے گا۔
ہر جماعت میں بہت سے دانشور قسم کے موجود ہوتے ہیں۔اہل سنت وجماعت میں بھی دانشوروں کی تعداد کم نہیں۔اس کا حل نکالیں۔ہماری تعلیمی,تعمیری,رفاہی و سماجی خدمات وسیع ہوتی جا رہی ہیں اور اہل مذہب کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔
حضرت علامہ ارشد القادری اور حضرت علامہ مشتاق احمد نظامی علیہما الرحمہ جہاں کہیں تقریر کرتے۔ان حضرات کی تقریروں کے سبب انقلابی کیفیت رونما ہو جاتی۔بدمذہب اپنی بدمذہبیت سے تائب ہو جاتے۔
حضور محدث اعظم ہند قدس سرہ القوی کے شہزادگان اور حشمتی برادران کی اکثر تقاریر رد و ابطال پر مشتمل ہوتیں۔
رد و ابطال اس قدر دل نشیں انداز میں ہو کہ مجمع سے کوئی بھاگنے بھی نہ پائے اور تقریر سن لینے والا بہکنے بھی نہ پائے۔
کیا عہد حاضر کے خطبا و مقررین اپنے اندر کچھ تبدیلی لانا چاہیں گے یا ساحل عافیت میں گوشہ نشیں رہیں گے؟؟؟
ان شاء اللہ تعالی میں حتی المقدور کوشش کروں گا۔
در حقیقت میں جس قدر مذہب کے موافق تحریر لاؤں گا یا تقریر سناؤں گا۔امید قوی ہے کہ میرا خدا مجھے نوازتا جائے گا۔ من کان للہ کان اللہ لہ
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 طارق انور مصباحی، مدیر : ماہنامہ پیغام شریعت دہلی۔*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
👍2❤1
حضور رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی ارشد القادری تھا ۔ آپ کے والد ماجد بحر الاسرار حضرت شاہ عبد العلیم آسی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور سلسلۂ رشیدیہ کے سالک تھے، اسی وجہ سے آپ کا نام غلام رشید تجویز فرمایا۔ اور بعد میں ارشد القادری سے مشہور ہوئے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخ و مقامِ ولادت:
اردو کے مشہور انشاء پر دراز رئیس التحریر حضرت علامہ ارشد القادری رضوی موضع سید پور، ضلع بلیا میں 1924ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے ضلع کے مدارس اسلامیہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا سفر کیا اور وہاں پر حضور حافظِ ملت مولانا عبد العزیز رضوی مراد آبادی کے مخصوص شاگرد رہے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت علامہ ارشد القادری رضوی کو ارادت اور خلافت کا شرف حضور مفتئ اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خاں نوری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل ہے ۔ اور حضرت مولانا حبیب الرحمٰن رضوی نے اجازت سے نوازا۔
سیرت و خصائص:
رئیس القلم، مناظرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ ایک با وقار شخصیت کے حامل اور دین کا درد رکھنے والوں میں سے تھے ۔ تکمیل درس کے بعد مختلف مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔ کچھ عرصہ ناگپور میں بسلسلۂِ تدریس مقیم رہے۔ فیض العلوم، ادارۂ شریعہ بہار کا قیام حضرت علامہ ارشد القادری نے تقریباً 1954ء میں کیا ۔
جمشید پور میں مشہور دیوبندی مولوی عبد اللطیف اعظمی سے کامیاب مناظرہ کیا، اور پورے جمشید پُور پر چھا گئے ۔ ٹاٹا کمپنی سے زمین حاصل کر کے عظیم الشان فیض العلوم قائم کیا ۔
اور 1388ھ میں سیوان، ضلع چھیرہ، صوبہ بہار میں صوبائی کانفرنس کا انعقاد اور اجلاس کے بطن سے پیدا شدہ ادارۂ شریعہ بہار علامہ ارشد القادری کی زندگی کا اہم کار نامہ ہے، ایک مست و سرشارِ بادۂِ حُبِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے پورے بِہار کے سنی مسلمانوں کو ہوشیار و فرزانہ بنادیا ہے ۔
1990ء ؍ 1410ھ میں بھاگلپور کا فساد اور اس کثیر تعداد میں مسلمانوں کی ہلاکت، اس موقع پر ادارۂ شریعہ بِہار کی خدمات ہندوستان کے باشندوں پر روشن ہیں۔
علامہ ارشد القادری نے تَن مَن دَھن کی بازی لگا کر مسلمانوں کے ساتھ وہ تعاوُن کیا جس کی نظیر دوبارہ مِلنا مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے گھر اور اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آرام گاہ کا دیدار بھی کرا دیا ۔ سینکڑوں چھوٹے بڑے مدارس اور انجمنیں ان کی فعال اور متحرک ذہنیت کا زندہ ثبوت ہیں۔
جامِ کوثر اور جامِ نور علامہ ارشد القادری قوت عمل میں اپنی نظیر رکھتے ہیں ۔ جامِ کوثر پندرہ روزہ اخبار کلکتہ سے نکالا، اس کے بعد جامِ نور جاری کیا ۔ آپ منفرد اسلوب تحریر کے مالک ہیں، بلا مبالغہ آپ کو صاحبِ طرز انشاء پرداز کہا جا سکتا ہے۔
علامہ ارشد القادری کی ادیبانہ تحریر نے جامِ نور کو جو مقام دیا وہ مقام آج کل کے رسالوں میں نہیں پایا جاتا، مگر کچھ نا موافق حالات کی بنا پر جامِ نور بند ہو گیا۔
تاریخِ وِصال:
علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 16 صفر المظفر 1423ھ ، مطابق 29 اپریل 2002ء کو ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ علمائے اہلِ سنت
https://scholars.pk/ur/scholar/raees-ul-qalam-hazrat-allama-molana-arshadul-qadri
اسمِ گرامی:
آپ کا اسمِ گرامی ارشد القادری تھا ۔ آپ کے والد ماجد بحر الاسرار حضرت شاہ عبد العلیم آسی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اور سلسلۂ رشیدیہ کے سالک تھے، اسی وجہ سے آپ کا نام غلام رشید تجویز فرمایا۔ اور بعد میں ارشد القادری سے مشہور ہوئے ۔ (علیہم الرحمہ) ـ
تاریخ و مقامِ ولادت:
اردو کے مشہور انشاء پر دراز رئیس التحریر حضرت علامہ ارشد القادری رضوی موضع سید پور، ضلع بلیا میں 1924ء کو پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے ضلع کے مدارس اسلامیہ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا سفر کیا اور وہاں پر حضور حافظِ ملت مولانا عبد العزیز رضوی مراد آبادی کے مخصوص شاگرد رہے ۔
بیعت و خلافت:
حضرت علامہ ارشد القادری رضوی کو ارادت اور خلافت کا شرف حضور مفتئ اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا خاں نوری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل ہے ۔ اور حضرت مولانا حبیب الرحمٰن رضوی نے اجازت سے نوازا۔
سیرت و خصائص:
رئیس القلم، مناظرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ ایک با وقار شخصیت کے حامل اور دین کا درد رکھنے والوں میں سے تھے ۔ تکمیل درس کے بعد مختلف مدارس میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔ کچھ عرصہ ناگپور میں بسلسلۂِ تدریس مقیم رہے۔ فیض العلوم، ادارۂ شریعہ بہار کا قیام حضرت علامہ ارشد القادری نے تقریباً 1954ء میں کیا ۔
جمشید پور میں مشہور دیوبندی مولوی عبد اللطیف اعظمی سے کامیاب مناظرہ کیا، اور پورے جمشید پُور پر چھا گئے ۔ ٹاٹا کمپنی سے زمین حاصل کر کے عظیم الشان فیض العلوم قائم کیا ۔
اور 1388ھ میں سیوان، ضلع چھیرہ، صوبہ بہار میں صوبائی کانفرنس کا انعقاد اور اجلاس کے بطن سے پیدا شدہ ادارۂ شریعہ بہار علامہ ارشد القادری کی زندگی کا اہم کار نامہ ہے، ایک مست و سرشارِ بادۂِ حُبِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے پورے بِہار کے سنی مسلمانوں کو ہوشیار و فرزانہ بنادیا ہے ۔
1990ء ؍ 1410ھ میں بھاگلپور کا فساد اور اس کثیر تعداد میں مسلمانوں کی ہلاکت، اس موقع پر ادارۂ شریعہ بِہار کی خدمات ہندوستان کے باشندوں پر روشن ہیں۔
علامہ ارشد القادری نے تَن مَن دَھن کی بازی لگا کر مسلمانوں کے ساتھ وہ تعاوُن کیا جس کی نظیر دوبارہ مِلنا مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے گھر اور اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آرام گاہ کا دیدار بھی کرا دیا ۔ سینکڑوں چھوٹے بڑے مدارس اور انجمنیں ان کی فعال اور متحرک ذہنیت کا زندہ ثبوت ہیں۔
جامِ کوثر اور جامِ نور علامہ ارشد القادری قوت عمل میں اپنی نظیر رکھتے ہیں ۔ جامِ کوثر پندرہ روزہ اخبار کلکتہ سے نکالا، اس کے بعد جامِ نور جاری کیا ۔ آپ منفرد اسلوب تحریر کے مالک ہیں، بلا مبالغہ آپ کو صاحبِ طرز انشاء پرداز کہا جا سکتا ہے۔
علامہ ارشد القادری کی ادیبانہ تحریر نے جامِ نور کو جو مقام دیا وہ مقام آج کل کے رسالوں میں نہیں پایا جاتا، مگر کچھ نا موافق حالات کی بنا پر جامِ نور بند ہو گیا۔
تاریخِ وِصال:
علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 16 صفر المظفر 1423ھ ، مطابق 29 اپریل 2002ء کو ہوا ۔
ماخذ و مراجع: تذکرہ علمائے اہلِ سنت
https://scholars.pk/ur/scholar/raees-ul-qalam-hazrat-allama-molana-arshadul-qadri
scholars.pk
Raees ul Qalam Hazrat Allama Molana Arshadul Qadri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
👍2❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-02-1444 ᴴ | 13-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
16-02-1444 ᴴ | 14-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍2❤1