🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت خواجہ شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ـ صاحب تذکرۃ الاولیاء

وطن:
آپ موضع کدکن کے رہنے والے تھے۔ یہ گاؤں نیشا پور کے نزدیک تھا ۔

بیعت:
آپ نے شیخ مجدد الدین بغدادی سے بیعت کی ۔

توبہ:
شیخ رکن الدین اکاف کے ہاتھ پر توبہ کی اور وقت کے مشہور مشائخ اور بزرگان دین کی صحبت میں بیٹھتے بڑے صاحب وجد و تواجد بزرگ تھے سماع سے شغف رکھتے تھے۔ بعض صوفیاء لکھتے ہیں کہ آپ حسین بن منصور کے اویسی تھے ـ

حضرت مولانا جلال الدین رومی لکھتے ہیں کہ حضرت حسین منصور حلّاج کی روح نے ڈیڑھ سو سال بعد حضرت عطار پر اثر کیا تھا اس طرح حضرت عطار آپ کے زیر اثر آئے ـ حضرت مولانا حاجی نفحات الانس میں تحریر فرماتے ہیں کہ توحید و اسرار کے جتنے معارف حضرت فرید الدین عطار﷫ کی مثنویوں اور غزلیات میں پائے جاتے ہیں کسی دوسرے صوفی شاعر کے ہاں نہیں ملتے ـ

آپ کی مشہور کتابیں:
پند نامہ ـ تذکرۃ الاولیاء ۔ الٰہی نامہ ۔ شتر نامہ ۔ منطق الطّیر وغیرہ بہت مشہور ہیں ۔

مولانا جلال الدین رومی حضرت عطار کو ان الفاظ میں وادِ تحسین پیش کرتے ہیں ۔

ہفت شہر عشق راعطار گشت
ماہنوز اندر خم یک کوچۂ ایم

(حضرت فریدالدین عطار نے عشق کے سات شہروں کی سیر کی ہے مگر ہم ابھی تک کوچۂ عشق کا ایک گوشہ بھی طے کرنے نہیں پائے) ـ

آپ کی توبہ اور تارک الدّنیا ہونے کا ایک واقعہ عام تذکرہ نگاروں نے درج کیا ہے۔ آپ اپنے شفاء خانہ کے دروازے پر بیٹھے تھے ایک درویش آیا چند بار شفاء اللہ کہا حضرت نے اُس درویش کی طرف توجہ نہ فرمائی درویش نے کہا خواجہ آپ کو موت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا جب تمہیں آئے گی۔ درویش نے سنتے ہی کہا میری طرح مرنا چاہتے ہو۔ آپ نے فرمایا ہاں! درویش نے اپنا لکڑی کا پیالہ سرہانے رکھا۔ زمین پر لیٹا اور داعی اَجل کو لبّیک کہا حضرت عطار درویش کا یہ واقعہ دیکھ کر دنیاوی کاموں سے دست بردار ہوگئے سارا شفاخانہ اور دوسرے اسباب دنیا کے لوگوں کو لٹا دیا اور عشق الٰہی کی دوکان پر آبیٹھے۔

شیخ محمد صادق شیبانی اپنی کتاب مناقب غوثیہ میں لکھتے ہیں۔ کہ شیخ فریدالدّین حضرت صنعان کے مرید تھے جس وقت حضرت صنعان کی زبان سے جناب غوث الاعظم کے متعلق جب گستاخانہ کلمات نکلے تو حضرت عطّار آپ کے پاس موجود تھے۔

ولادت:
حضرت شیخ فرید الدین عطار کی ولادت شعبان ۵۱۳ھ میں ہوئی ـ

وصال:
وفات ۶۲۸ھ یا ۶۲۷ھ میں ہوئی صاحب مخبرالواصلین نے سالِ وفات ۶۲۶ھ لکھا ہے ـ

شہادت:
آپ تاتاری کافروں کے ہاتھوں شہید ہوئے شہادت کے وقت آپ کی عمر ایک سو چودہ سال تھی ـ

مزار شریف:
آپ کا مزار نیشا پور میں واقع ہے۔

شہ عالم فریدالدین عطار
فریدالدین ولی محبوب ہادی
بگو مہدی فرید الدین مقبول

وحیدالعصر صوفی مصفا
بخواں تولید آں شاہ معلّی
کہ گرد و سال عقل از نقل پیدا

( خزینۃ الاصفیاء )

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-sheikh-fariduddin-attar
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
رئیس القلم، ملک التحریر، محسن اہلسنت، حضرت مولانا غلام رشید المعروف علامہ ارشد القادری رضوی مصباحی بلیاوی رضی اللہ عنہ کی ولادت 1343ه‍ میں سید پور، ضلع بَلیا، اترپردیش، ہندستان میں ہوئی۔ آپ مرید صدر الشریعہ، خلیفۂ مفتی اعظم، تلمیذ حافظِ ملت، استاذ العلماء، مناظرِ اہل سنت، مفکرِ اسلام، ملک و بیرونِ ملک کئی تنظیمات و مدارس کے بانی، مصنف کتب اور اکابر علمائے اہل سنت سے تھے۔ آپ کی بیسیوں تصانیف میں زلزلہ، زیر و زبر، زلف و زنجیر وغیرہ اپنی مثال آپ ہیں۔ شبانہ مصروفیات کے باوجود اوراد و وظائف کے پابند تھے، روزانہ دلائل الخیرات شریف مکمل تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ 15 صفر المظفر 1423ه‍ مطابق 29 اپریل 2002ء کو وصال فرمایا، مزار مبارک قائم کردہ دار العلوم فیض العلوم جمشید پور، جھار کھنڈ، ہندستان میں مرجع خواص و عوام ہے۔ (مفتی اعظم اور ان کے خلفاء، سیرت صدر الشریعہ)

Ra’ees al-Qalam, Malik al-Tahreer, Benefactor of Ahl as-Sunnah, Mawlana Ghulam Rasheed alias Allamah Arshad-ul-Qadiri Ridawi Misbahi Balliawi (RadiyAllahu Anhu) was born in 1343 AH in Sayyid Pur, District Ballia, U.P., India. He was a murid of Sadr al-Shari’ah, Khalifah of Mufti-e-Azam, Student of Hafiz-e-Millat, teacher of scholars, debater, intellectual, founder of many local and international Islamic institutions and organizations, author of books, and one of the great scholars of Ahl as-Sunnah. Among his remarkable books, Zalzalah, Zayr-o-Zabar, Zulf wa Zajeer, etc. are exemplary. In spite of being busy day and night, he would regularly recite the daily rituals and litanies, along with the complete recitation of Dalail al-Khayrat. He passed away on 15th Safar 1423 AH (29 April 2002 CE) and was laid to rest in Dar al-Uloom Fayz al-Uloom Jamshedpur, Jharkhand, India, which he established. [Mufti-e-Azam Aur Unke Khulafa, Seerat-e-Sadrush Shariah]

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid025WnmA43UuUBGPvR5VRsy9S7yhW3p9k2goGXnPAnA3bM2rB32XBpfapMyxGHtWiUFl&id=100050689590519
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
14-02-1444 ᴴ | 12-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-02-1444 ᴴ | 13-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
15-02-1444 ᴴ | 13-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
15-02-1444 ᴴ | 13-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1