🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
آپ علیہ الرحمہ کا حلقۂ درس بہت وسیع تھا ۔ دور دراز علاقوں سے سفر کرکے لوگ آپ کے پاس آ کر علمی پیاس بجھاتے تھے ۔ تمام علوم و فنون پر یکساں مہارت حاصل تھی ۔ تقریباً تیس برس تدریس فرمائی اسی حالت میں واصل باللہ ہوئے
۔ اسی طرح افتاء میں آپ کا ایک نام تھا ۔ درس و تدریس اور افتاء وغیرہ سےوقت نکال کروقت کےتقاضوں کے مطابق تالیف میں مشغول رہتے تھے ۔ ہر جمعہ کو بعد نماز جمعہ اپنی مسجد میں قرآن کریم کی تفسیر بقدر ایک رکوع اسرار و نکات کے ساتھ بیان فرماتے تھے ۔ یہ مجلسِ خیر عصر کے قریب تک قائم رہتی ۔ سامعین کی یہ حالت ہوتی کہ گریہ و بکاء، اور سکتہ کی کیفیت طاری رہتی ۔ بعض حضرات بے خود ہو کر اپنا سر در و دیوار پر مارتے تھے ۔ تیس سال میں دو مرتبہ آپ نے قرآن مجید کی اول تا آخر مکمل تفسیر بیان فرمائی ۔ (حیات مولانا ارشاد حسین رامپوری ص:22) ـ

تاریخِ وصال:
آپ کا وصال پیر کا دن گزار کر بوقتِ صبحِ کاذب، 15 جمادی الاخریٰ 1311ھ، مطابق 25 دسمبر 1893ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار، رام پور (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ حیات مولانا ارشاد حسین رام پوری ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-irshad-hussain-rampuri
2👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
*وقارالدین قادری، علامہ مفتی محمد، علیہ الرحمہ*

*تاریخِ پیدائش*

آپ کی پیدائش بروز جمعۃ المبارک، 14/صفر المظفر 1333ھ مطابق یکم جنوری/1915ء کو قصبہ’’کھمریہ‘‘ ضلع پیلی بھیت (انڈیا) میں ہوئی

Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-muhammad-waqaruddin
Copyright © Zia-e-Taiba

*سیرت و خصائص*

جامع المنقول والمعقول، حاوی الفروع والاصول، فقیہ العصر، مفتیِ اعظم پاکستان، وقار الملت والدین حضرت علامہ مولانا مفتی وقار الدین۔
مفتی صاحب علماء اہل سنت میں ایک علمی مقام رکھتے ہیں، آپ کی تدریسی، تصنیفی، قومی و ملی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ آپ تمام علوم و فنون پر کامل مہارت رکھتےتھے۔ بالخصوص فقہ میں تو فقیہ العصر اور اپنے وقت کے مفتیِ اعظم پاکستان تھے۔ یہ سب کچھ آپ کی زمانۂ طالب علمی کی محنت،اور خداد صلاحیت، اور حضرت صدرالشریعہ کی تربیت و محنت کی بدولت تھا۔ دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف کے پرنور ماحول میں طلباء کی ایسی ہی تربیت ہوا کرتی تھی کہ ان کو دین و مسلک اور ملک و ملت کا درد ملتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دار العلوم کے فیض یافتگان کی فہرست پر نظر کریں کہ ایک ایک طالب علم یہاں سے ایسا منور ہوا، کہ اس نے پھر ایک جہان کو منور کردیا۔ مفتی صاحب بھی منظر اسلام کے خوشہ چیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت اور ملک وملت کی خدمت میں گزری
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت علامہ وکیل احمد سکندر پوری حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

شاہ محمد عبد العلیم آسی رشیدی قدس سرہٗ کے برادر عم زاد، وکیل احمد نام نامی ۔

ولادت:
۹ ذی الحجہ ۱۲۵۸ھ میں اپنے گاؤں سکندر پور ضلع بلیا میں پیدا ہوئے ـ

تعلیم:
ابتدائی تعلیم وطن میں پائی، حضرت مولانا عبد الحلیم فرنگی کا شہرہ سُن کر جون پور پہونچے، نور الاونار کا مشہور حاشیہ ‘‘ قمر الاقمار ’’ مولانائے فرنگی محلی نے آپ ہی کے لیے لکھا، ۱۲۷۶ھ میں درسیات تمام کیں، لکھنؤ میں حکیم نور کریم لکھنوی سے طب پڑھی، کچھ عرصہ مطب بھی کیا ـ

۱۲۸۳ھ میں حیدر آباد دکن گئے، سرکار آصفیہ کے صوبہ شرقی کے نائب مقرر ہوئے ۔ مولانا عبد الحئی لکھنوی (آپ کے اُستاذ زادہ) اور نواب صدیق حسن قنوجی بھوپالی کے درمیان جب مشہور تحریری مناظرہ دربارۂ تقلید و مفتیان ائمہ ہوا تو آپ اُستاذ زادہ کے دوش بدوش تھے، اور نواب کے رسالۂ نظم کا جواب نظم میں بعنوان دیوان حنفی اور نثر کا جواب نثر میں دیا ـ

آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے صاحبِ تصنیف اور اکابر علمائے اہل سنت میں سے تھے حضرت مولانا شاہ احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے خاص تعلقات تھے ـ

بیعت:
سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت مولانا شاہ میر اشرف علی ابن مولانا میر سلطان علی قدس سرہما کے مرید تھے ـ

وصال:
آپ علیہ الرحمہ کا ۱۳۲۲ھ / ۱۹۰۴ء میں بمقام حیدر آباد انتقال ہوا ۔ (نذر مقبول) ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-wakeel-ahmad-sikandarpuri-hanafi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قاضی ابو المحاسن بہاؤ الدین یوسف بن رافع اسدی المعروف بہ ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ

اسمِ گرامی:
يوسف بن رافع بن تمیم بن عتبہ اسدی موصلی ۔ کنیت: ابو المحاسن ۔ لقب: بہاؤ الدین تھی ۔ اور آپ ابنِ شداد کے نام سے مشہور و معروف ہوئے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت 10 رمضان المبارک 539 ھ کو عراق کے شہر موصل میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:
آپ نے بچپن میں ہی قرآنِ پاک حفظ کر لیا تھا ۔ موصل میں جلیل القدر شیوخ کے پاس حدیث، فقہ، تفسیر ، قراءت اور ادب کی کتابیں پڑھیں نیز اکتسابِ علم کے لئے آپ نے مختلف ممالک کا سفر بھی کیا ۔

سیرت و خصائص:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ ایک مایہ ناز مورخ، بہترین فقیہ اور عمدہ قاضی تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاد تھے اور سلطان آپ کی طرزِ تحریر کو بہت پسند بھی کرتے تھے ۔ آپ کی خدا داد صلاحیتوں کی بناء پر سلطان نے آپ کو عہدۂ قضاء سپرد کیا اور آپ نے اس عہدے کو خوش دلی سے قبول بھی کیا اور خوش اسلوبی سے ادا بھی کیا ۔

آپ کے زمانے کے کثیر علماء نے آپ کی مدح و تعریف کے پل باندھے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ ابنِ شداد اپنے وقت کے امام اور ثقہ عالم و فاضل تھے ۔ دین اور دنیا دونوں کی کامل معرفت رکھتے تھے ۔آپ کے عدل و انصاف کے فیصلے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی طرح تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی آخری عمر تک درس و تدریس، افتاء و تصنیف میں مشغول رہے ۔

تاریخِ وصال:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ نے 14 صفر المظفر 632 ھ / بمطابق نومبر 1234 ء میں انتقال فرمایا ۔

ماخذ و مراجع: سیر اعلام النبلاء ـ

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-abul-mahasin-yousuf-bin-rafay-al-asadi
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
حضرت مالک بن دینار علیہ الرحمہ

تحصیلِ علم:
مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ نے صحابیٔ رسول ﷺ انس بن مالک اور مشہور تابعی حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہما سے اکتسابِ علم کیا ـ

سیرت وخصائص:
حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ اخیار اور صالحین تابعین میں سے تھے ـ آپ خواجہ حسن بصری کے ہم مجلس اور محب تھے صوفیاء میں ممتاز مقام رکھتے ہیں آپ اگرچہ غلام زادے تھے مگر دو جہان کی خواہشات سے آزاد تھے اور صرف اپنے ہاتھوں کی کمائی ہی سے کھاتے تھے ـ آپ رحمۃ اللہ علیہ جس طرح عبادت و ریاضت میں مشہور تھے اسی مذہبِ اسلام اور اہلسنت کی ترویج و اشاعت میں بھی معروف تھے حتی کہ اس سلسلہ میں آپ نے مناظرے بھی کئے
ایک دفعہ حضرت مالک بن دینار ایک دہریے سے مناظرہ کرنے لگے یہ مناظرہ طویل ہوا تو حکامِ وقت نے فیصلہ کیا کہ دونوں کا ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ کے ساتھ باندھ دیا جائے اور دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے جو جل جائے وہ جھوٹا ہے ایسا ہی کیا گیا دونوں میں سے کسی ایک کو کوئی تکلیف نہ پہنچی حتی کہ آگ ٹھنڈی ہو گئی ـ حضرت مالک بڑے افسردہ ہوئے گھر گئے سجدہ میں سر رکھ کر روئے کہ اللہ میں اس دہریے بے دین کے برابر ہو گیا آواز آئی کہ اس بات سے افسردہ خاطر نہ ہونا، در اصل دہریے کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں تھا، جس کی وجہ سے آگ ٹھنڈی ہو گئی اگر وہ اکیلا آگ میں آتا تو جل کر خاک ہو جاتا ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedina-malik-bin-dinar

تاریخِ وصال:

آپ کی وفات 14 صفر المظفر 128ھ /بمطابق نومبر 745ء میں ہوئی ـ

ماخذ و مراجع:
الثقات لابن حبان ـ تاریخِ دمشق ۔ خزینۃ الاصفیاء ـ
👍21
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-02-1444 ᴴ | 11-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-02-1444 ᴴ | 12-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1