حضرت مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رام پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین ۔ لقب: نبراس العلماء ، سراج الفقہاء ، قطب الارشاد وغیرہ ۔رامپور کی نسبت سے "رامپوری" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا ارشاد حسین بن مولانا حکیم احمد حسین بن غلام محی الدین بن فیض احمد بن شاہ کمال الدین بن شیخ زین العابدین عرف میاں فقیر اللہ بن حضرت خواجہ محمد یحیٰ بن امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 صفر المظفر 1248ھ، مطابق نومبر 1832ء کو محلہ پیلا تالاب شہر مصطفیٰ آباد عرف رام پور (انڈیا) میں ہوئی ۔
قبلِ ولادت بشارت:
عارف باللہ حضرت حاجی محمدی علیہ الرحمہ (جن کا مزار شریف پاک توپ خانہ روڈ رامپور میں مرجعِ خلائق ہے) نے حضرت مولانا حافظ عنایت اللہ خان رامپوری سے ان کے اصرارِ بیعت پر ایک دن فرمایا: "تم ابھی تعلیم حاصل کرو، ایک قطبِ وقت کا ظہور ہونے والا ہے، ان سےتمہیں نصیبِ کامل ملےگا" ۔ (حیات مولانا ارشاد حسین رام پوری: ص:14) ـ
تحصیلِ علم:
مولانا محمد ارشادحسین رامپوری علیہ الرحمہ نے فارسی کی ابتدائی کتب اپنے والد ماجد اور برادر مولانا امداد حسین رامپوری، شیخ احمد علی اور شیخ واجد علی سے پڑھیں ۔ اس کے بعد دیگر فنون کی تعلیم مولانا حافظ غلام نبی، مولانا جلال الدین، اور مولانا نصیر الدین خان سے حاصل کی ۔ اس کے بعد علومِ نقلیہ کی تکمیل کی ۔ معقولات کا درس علامۂ زماں مولانا محمد نواب خان افغانی نقشبندی سے لیا ۔
حِفظِ قرآن:
آپ نے عارف باللہ مولانا عبد الکریم عرف ملا فقیر اخوند قادری چشتی کی خانقاہ کے حجرے میں دورانِ قیام نو ماہ میں قرآنِ کریم حفظ کیا ۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی سے مرید ہوئے، اور محبوبیت و مرادیت کا مقامِ بلند پایا، اجازت و خلافت سے سر فراز کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
حافظِ آیاتِ قرآنی، واقفِ اسرارِ ربانی، مفسرِ کلامِ ربِ العلمین، محدثِ حدیثِ سید المرسلین، مدرسِ فقہ واصول، جامع المنقولِ والمعقول ، مجمع البحرین، تاج المحدثین، سراج الفقہاء والمتکلمین، جامع شریعت و طریقت، نبراس العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار اکابرین علماء اہلسنت میں ہوتا ہے ۔ آپ خاندانی شرافت و نجابت کے ساتھ علم و تقویٰ میں بھی بے مثال تھے ۔ رامپور ہمیشہ سے علم و فن کا گہوارہ رہا ہے ۔ خاص طور پر علماء و مشایخ، ادباء و شعراء، صوفیاء و حکماء کو اس شہر میں امتیاز حاصل رہا ہے ۔
انہیں نابغۂ روز گار اور باکمال ہستیوں میں جو علمی بالا دستی اور عظمت حضرت مولانا ارشاد حسین کے حصے میں آئی ہے، وہ آپ کا ہی خاصہ ہے ۔ آپ کا شمار ہندوستان کے ان برگزیدہ علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے مشکل وقت میں چمن زار اہل سنت کی آبیاری اپنے قلم، علم و فضل، تقویٰ و طہارت، اور قول و فعل کی یکسانیت سے کی ہے ۔
انہوں نے مسلکِ حق کی ترویج و اشاعت میں امام احمد بن حنبل، امام اعظم ابو حنیفہ، اور حسینی کردار کو اپنے سامنے رکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت سے لے کر آج تک علماء اہلسنت انہیں اپنا مقتداء و پیشوا مانتے ہیں ۔ امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ آپ کے علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے بڑے مداح تھے ۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں اکثر مقامات پر بڑے ادب و احترام کے ساتھ آپ کا تذکرہ کیا ہے ۔
چنانچہ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیفِ لطیف " کفل الفقیہ الفاہم " میں آپ کا ذکر ان القاب و آداب سے کیا ہے ۔ " اقضیٰ علیہ ناس من کبار العلماء الہند کا الفاضل الکامل محمد ارشاد حسین الرامفوری رحمہ اللہ تعالی وغیرہ " ۔ (تذکرہ علماء اہلسنت ص:25 / فتاویٰ رضویہ ج:7 ص:161)
صدر الافاضل بدر المماثل حضرت مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ نے " سنی کی تعریف " ان الفاظ میں کی ہے: "سنی وہ ہے جو ما انا علیہ و اصحابی کا مصداق ہو ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خلفائے راشدین، آئمہ دین، مُسلَّم مشایخِ طریقت، اور متأخرین علماء کرام میں سے حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی، ملک العلماء، حضرت بحر العلوم فرنگی محلی، حضرت مولانا فضل حق خیر آبادی، حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی، حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین رامپوری اور حضرت مولانا مفتی شاہ احمد رضا خاں بریلوی کے مسلک پر ہوں ۔ رحمہم اللہ تعالیٰ ۔ " (الفقیہ امرتسر 21 / اگست 1945ء، ص9)
تاج الفقہاء حضرت مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رام پوری رحمۃ اللہ علیہ خوش لباسی، خوش اخلاقی، اور خوش اوقاتی سے زندگی بسر کرتے تھے ۔ ہر شخص سے اچھا برتاؤ کرتے، عہد کو پورا کرتے، محتاجوں کی دستگیری فرماتے، امیروں سے بے نیاز رہتے تھے ۔ ہم عقیدہ مسلمانوں پر شفقت و عنایت فرماتے اور باطل پرستوں بدمذہبوں سے شدید نفرت کرتے تھے ۔ آپ کا ریاستِ رام پور میں خاص اثر تھا ۔ (تذکرہ علماء اہلسنت ص:25) ـ
نام و نسب:
اسم گرامی: حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین ۔ لقب: نبراس العلماء ، سراج الفقہاء ، قطب الارشاد وغیرہ ۔رامپور کی نسبت سے "رامپوری" کہلاتے ہیں ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا ارشاد حسین بن مولانا حکیم احمد حسین بن غلام محی الدین بن فیض احمد بن شاہ کمال الدین بن شیخ زین العابدین عرف میاں فقیر اللہ بن حضرت خواجہ محمد یحیٰ بن امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان ـ
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 14 صفر المظفر 1248ھ، مطابق نومبر 1832ء کو محلہ پیلا تالاب شہر مصطفیٰ آباد عرف رام پور (انڈیا) میں ہوئی ۔
قبلِ ولادت بشارت:
عارف باللہ حضرت حاجی محمدی علیہ الرحمہ (جن کا مزار شریف پاک توپ خانہ روڈ رامپور میں مرجعِ خلائق ہے) نے حضرت مولانا حافظ عنایت اللہ خان رامپوری سے ان کے اصرارِ بیعت پر ایک دن فرمایا: "تم ابھی تعلیم حاصل کرو، ایک قطبِ وقت کا ظہور ہونے والا ہے، ان سےتمہیں نصیبِ کامل ملےگا" ۔ (حیات مولانا ارشاد حسین رام پوری: ص:14) ـ
تحصیلِ علم:
مولانا محمد ارشادحسین رامپوری علیہ الرحمہ نے فارسی کی ابتدائی کتب اپنے والد ماجد اور برادر مولانا امداد حسین رامپوری، شیخ احمد علی اور شیخ واجد علی سے پڑھیں ۔ اس کے بعد دیگر فنون کی تعلیم مولانا حافظ غلام نبی، مولانا جلال الدین، اور مولانا نصیر الدین خان سے حاصل کی ۔ اس کے بعد علومِ نقلیہ کی تکمیل کی ۔ معقولات کا درس علامۂ زماں مولانا محمد نواب خان افغانی نقشبندی سے لیا ۔
حِفظِ قرآن:
آپ نے عارف باللہ مولانا عبد الکریم عرف ملا فقیر اخوند قادری چشتی کی خانقاہ کے حجرے میں دورانِ قیام نو ماہ میں قرآنِ کریم حفظ کیا ۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا شاہ احمد سعید مجددی سے مرید ہوئے، اور محبوبیت و مرادیت کا مقامِ بلند پایا، اجازت و خلافت سے سر فراز کیے گئے ۔
سیرت و خصائص:
حافظِ آیاتِ قرآنی، واقفِ اسرارِ ربانی، مفسرِ کلامِ ربِ العلمین، محدثِ حدیثِ سید المرسلین، مدرسِ فقہ واصول، جامع المنقولِ والمعقول ، مجمع البحرین، تاج المحدثین، سراج الفقہاء والمتکلمین، جامع شریعت و طریقت، نبراس العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ کا شمار اکابرین علماء اہلسنت میں ہوتا ہے ۔ آپ خاندانی شرافت و نجابت کے ساتھ علم و تقویٰ میں بھی بے مثال تھے ۔ رامپور ہمیشہ سے علم و فن کا گہوارہ رہا ہے ۔ خاص طور پر علماء و مشایخ، ادباء و شعراء، صوفیاء و حکماء کو اس شہر میں امتیاز حاصل رہا ہے ۔
انہیں نابغۂ روز گار اور باکمال ہستیوں میں جو علمی بالا دستی اور عظمت حضرت مولانا ارشاد حسین کے حصے میں آئی ہے، وہ آپ کا ہی خاصہ ہے ۔ آپ کا شمار ہندوستان کے ان برگزیدہ علماء میں ہوتا ہے جنہوں نے مشکل وقت میں چمن زار اہل سنت کی آبیاری اپنے قلم، علم و فضل، تقویٰ و طہارت، اور قول و فعل کی یکسانیت سے کی ہے ۔
انہوں نے مسلکِ حق کی ترویج و اشاعت میں امام احمد بن حنبل، امام اعظم ابو حنیفہ، اور حسینی کردار کو اپنے سامنے رکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت سے لے کر آج تک علماء اہلسنت انہیں اپنا مقتداء و پیشوا مانتے ہیں ۔ امام اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ آپ کے علم و فضل اور زہد و تقویٰ کے بڑے مداح تھے ۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں اکثر مقامات پر بڑے ادب و احترام کے ساتھ آپ کا تذکرہ کیا ہے ۔
چنانچہ اپنی مشہورِ زمانہ تصنیفِ لطیف " کفل الفقیہ الفاہم " میں آپ کا ذکر ان القاب و آداب سے کیا ہے ۔ " اقضیٰ علیہ ناس من کبار العلماء الہند کا الفاضل الکامل محمد ارشاد حسین الرامفوری رحمہ اللہ تعالی وغیرہ " ۔ (تذکرہ علماء اہلسنت ص:25 / فتاویٰ رضویہ ج:7 ص:161)
صدر الافاضل بدر المماثل حضرت مولانا مفتی محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ نے " سنی کی تعریف " ان الفاظ میں کی ہے: "سنی وہ ہے جو ما انا علیہ و اصحابی کا مصداق ہو ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خلفائے راشدین، آئمہ دین، مُسلَّم مشایخِ طریقت، اور متأخرین علماء کرام میں سے حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی، ملک العلماء، حضرت بحر العلوم فرنگی محلی، حضرت مولانا فضل حق خیر آبادی، حضرت مولانا شاہ فضل رسول بدایونی، حضرت مولانا مفتی ارشاد حسین رامپوری اور حضرت مولانا مفتی شاہ احمد رضا خاں بریلوی کے مسلک پر ہوں ۔ رحمہم اللہ تعالیٰ ۔ " (الفقیہ امرتسر 21 / اگست 1945ء، ص9)
تاج الفقہاء حضرت مولانا مفتی شاہ ارشاد حسین رام پوری رحمۃ اللہ علیہ خوش لباسی، خوش اخلاقی، اور خوش اوقاتی سے زندگی بسر کرتے تھے ۔ ہر شخص سے اچھا برتاؤ کرتے، عہد کو پورا کرتے، محتاجوں کی دستگیری فرماتے، امیروں سے بے نیاز رہتے تھے ۔ ہم عقیدہ مسلمانوں پر شفقت و عنایت فرماتے اور باطل پرستوں بدمذہبوں سے شدید نفرت کرتے تھے ۔ آپ کا ریاستِ رام پور میں خاص اثر تھا ۔ (تذکرہ علماء اہلسنت ص:25) ـ
👍1
آپ علیہ الرحمہ کا حلقۂ درس بہت وسیع تھا ۔ دور دراز علاقوں سے سفر کرکے لوگ آپ کے پاس آ کر علمی پیاس بجھاتے تھے ۔ تمام علوم و فنون پر یکساں مہارت حاصل تھی ۔ تقریباً تیس برس تدریس فرمائی اسی حالت میں واصل باللہ ہوئے
۔ اسی طرح افتاء میں آپ کا ایک نام تھا ۔ درس و تدریس اور افتاء وغیرہ سےوقت نکال کروقت کےتقاضوں کے مطابق تالیف میں مشغول رہتے تھے ۔ ہر جمعہ کو بعد نماز جمعہ اپنی مسجد میں قرآن کریم کی تفسیر بقدر ایک رکوع اسرار و نکات کے ساتھ بیان فرماتے تھے ۔ یہ مجلسِ خیر عصر کے قریب تک قائم رہتی ۔ سامعین کی یہ حالت ہوتی کہ گریہ و بکاء، اور سکتہ کی کیفیت طاری رہتی ۔ بعض حضرات بے خود ہو کر اپنا سر در و دیوار پر مارتے تھے ۔ تیس سال میں دو مرتبہ آپ نے قرآن مجید کی اول تا آخر مکمل تفسیر بیان فرمائی ۔ (حیات مولانا ارشاد حسین رامپوری ص:22) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال پیر کا دن گزار کر بوقتِ صبحِ کاذب، 15 جمادی الاخریٰ 1311ھ، مطابق 25 دسمبر 1893ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار، رام پور (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ حیات مولانا ارشاد حسین رام پوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-irshad-hussain-rampuri
۔ اسی طرح افتاء میں آپ کا ایک نام تھا ۔ درس و تدریس اور افتاء وغیرہ سےوقت نکال کروقت کےتقاضوں کے مطابق تالیف میں مشغول رہتے تھے ۔ ہر جمعہ کو بعد نماز جمعہ اپنی مسجد میں قرآن کریم کی تفسیر بقدر ایک رکوع اسرار و نکات کے ساتھ بیان فرماتے تھے ۔ یہ مجلسِ خیر عصر کے قریب تک قائم رہتی ۔ سامعین کی یہ حالت ہوتی کہ گریہ و بکاء، اور سکتہ کی کیفیت طاری رہتی ۔ بعض حضرات بے خود ہو کر اپنا سر در و دیوار پر مارتے تھے ۔ تیس سال میں دو مرتبہ آپ نے قرآن مجید کی اول تا آخر مکمل تفسیر بیان فرمائی ۔ (حیات مولانا ارشاد حسین رامپوری ص:22) ـ
تاریخِ وصال:
آپ کا وصال پیر کا دن گزار کر بوقتِ صبحِ کاذب، 15 جمادی الاخریٰ 1311ھ، مطابق 25 دسمبر 1893ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار، رام پور (انڈیا) میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ علمائے اہل سنت ۔ حیات مولانا ارشاد حسین رام پوری ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-shah-irshad-hussain-rampuri
scholars.pk
Hazrat Molana Shah Irshad Hussain Rampuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤2👍1
*وقارالدین قادری، علامہ مفتی محمد، علیہ الرحمہ*
*تاریخِ پیدائش*
آپ کی پیدائش بروز جمعۃ المبارک، 14/صفر المظفر 1333ھ مطابق یکم جنوری/1915ء کو قصبہ’’کھمریہ‘‘ ضلع پیلی بھیت (انڈیا) میں ہوئی
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-muhammad-waqaruddin
Copyright © Zia-e-Taiba
*سیرت و خصائص*
جامع المنقول والمعقول، حاوی الفروع والاصول، فقیہ العصر، مفتیِ اعظم پاکستان، وقار الملت والدین حضرت علامہ مولانا مفتی وقار الدین۔
مفتی صاحب علماء اہل سنت میں ایک علمی مقام رکھتے ہیں، آپ کی تدریسی، تصنیفی، قومی و ملی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ آپ تمام علوم و فنون پر کامل مہارت رکھتےتھے۔ بالخصوص فقہ میں تو فقیہ العصر اور اپنے وقت کے مفتیِ اعظم پاکستان تھے۔ یہ سب کچھ آپ کی زمانۂ طالب علمی کی محنت،اور خداد صلاحیت، اور حضرت صدرالشریعہ کی تربیت و محنت کی بدولت تھا۔ دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف کے پرنور ماحول میں طلباء کی ایسی ہی تربیت ہوا کرتی تھی کہ ان کو دین و مسلک اور ملک و ملت کا درد ملتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دار العلوم کے فیض یافتگان کی فہرست پر نظر کریں کہ ایک ایک طالب علم یہاں سے ایسا منور ہوا، کہ اس نے پھر ایک جہان کو منور کردیا۔ مفتی صاحب بھی منظر اسلام کے خوشہ چیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت اور ملک وملت کی خدمت میں گزری
*تاریخِ پیدائش*
آپ کی پیدائش بروز جمعۃ المبارک، 14/صفر المظفر 1333ھ مطابق یکم جنوری/1915ء کو قصبہ’’کھمریہ‘‘ ضلع پیلی بھیت (انڈیا) میں ہوئی
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-muhammad-waqaruddin
Copyright © Zia-e-Taiba
*سیرت و خصائص*
جامع المنقول والمعقول، حاوی الفروع والاصول، فقیہ العصر، مفتیِ اعظم پاکستان، وقار الملت والدین حضرت علامہ مولانا مفتی وقار الدین۔
مفتی صاحب علماء اہل سنت میں ایک علمی مقام رکھتے ہیں، آپ کی تدریسی، تصنیفی، قومی و ملی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ آپ تمام علوم و فنون پر کامل مہارت رکھتےتھے۔ بالخصوص فقہ میں تو فقیہ العصر اور اپنے وقت کے مفتیِ اعظم پاکستان تھے۔ یہ سب کچھ آپ کی زمانۂ طالب علمی کی محنت،اور خداد صلاحیت، اور حضرت صدرالشریعہ کی تربیت و محنت کی بدولت تھا۔ دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف کے پرنور ماحول میں طلباء کی ایسی ہی تربیت ہوا کرتی تھی کہ ان کو دین و مسلک اور ملک و ملت کا درد ملتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دار العلوم کے فیض یافتگان کی فہرست پر نظر کریں کہ ایک ایک طالب علم یہاں سے ایسا منور ہوا، کہ اس نے پھر ایک جہان کو منور کردیا۔ مفتی صاحب بھی منظر اسلام کے خوشہ چیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف، وعظ و نصیحت اور ملک وملت کی خدمت میں گزری
❤1👍1
حضرت علامہ وکیل احمد سکندر پوری حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
شاہ محمد عبد العلیم آسی رشیدی قدس سرہٗ کے برادر عم زاد، وکیل احمد نام نامی ۔
ولادت:
۹ ذی الحجہ ۱۲۵۸ھ میں اپنے گاؤں سکندر پور ضلع بلیا میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
ابتدائی تعلیم وطن میں پائی، حضرت مولانا عبد الحلیم فرنگی کا شہرہ سُن کر جون پور پہونچے، نور الاونار کا مشہور حاشیہ ‘‘ قمر الاقمار ’’ مولانائے فرنگی محلی نے آپ ہی کے لیے لکھا، ۱۲۷۶ھ میں درسیات تمام کیں، لکھنؤ میں حکیم نور کریم لکھنوی سے طب پڑھی، کچھ عرصہ مطب بھی کیا ـ
۱۲۸۳ھ میں حیدر آباد دکن گئے، سرکار آصفیہ کے صوبہ شرقی کے نائب مقرر ہوئے ۔ مولانا عبد الحئی لکھنوی (آپ کے اُستاذ زادہ) اور نواب صدیق حسن قنوجی بھوپالی کے درمیان جب مشہور تحریری مناظرہ دربارۂ تقلید و مفتیان ائمہ ہوا تو آپ اُستاذ زادہ کے دوش بدوش تھے، اور نواب کے رسالۂ نظم کا جواب نظم میں بعنوان دیوان حنفی اور نثر کا جواب نثر میں دیا ـ
آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے صاحبِ تصنیف اور اکابر علمائے اہل سنت میں سے تھے حضرت مولانا شاہ احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے خاص تعلقات تھے ـ
بیعت:
سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت مولانا شاہ میر اشرف علی ابن مولانا میر سلطان علی قدس سرہما کے مرید تھے ـ
وصال:
آپ علیہ الرحمہ کا ۱۳۲۲ھ / ۱۹۰۴ء میں بمقام حیدر آباد انتقال ہوا ۔ (نذر مقبول) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-wakeel-ahmad-sikandarpuri-hanafi
شاہ محمد عبد العلیم آسی رشیدی قدس سرہٗ کے برادر عم زاد، وکیل احمد نام نامی ۔
ولادت:
۹ ذی الحجہ ۱۲۵۸ھ میں اپنے گاؤں سکندر پور ضلع بلیا میں پیدا ہوئے ـ
تعلیم:
ابتدائی تعلیم وطن میں پائی، حضرت مولانا عبد الحلیم فرنگی کا شہرہ سُن کر جون پور پہونچے، نور الاونار کا مشہور حاشیہ ‘‘ قمر الاقمار ’’ مولانائے فرنگی محلی نے آپ ہی کے لیے لکھا، ۱۲۷۶ھ میں درسیات تمام کیں، لکھنؤ میں حکیم نور کریم لکھنوی سے طب پڑھی، کچھ عرصہ مطب بھی کیا ـ
۱۲۸۳ھ میں حیدر آباد دکن گئے، سرکار آصفیہ کے صوبہ شرقی کے نائب مقرر ہوئے ۔ مولانا عبد الحئی لکھنوی (آپ کے اُستاذ زادہ) اور نواب صدیق حسن قنوجی بھوپالی کے درمیان جب مشہور تحریری مناظرہ دربارۂ تقلید و مفتیان ائمہ ہوا تو آپ اُستاذ زادہ کے دوش بدوش تھے، اور نواب کے رسالۂ نظم کا جواب نظم میں بعنوان دیوان حنفی اور نثر کا جواب نثر میں دیا ـ
آپ علیہ الرحمہ اپنے زمانہ کے صاحبِ تصنیف اور اکابر علمائے اہل سنت میں سے تھے حضرت مولانا شاہ احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہٗ سے خاص تعلقات تھے ـ
بیعت:
سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ میں حضرت مولانا شاہ میر اشرف علی ابن مولانا میر سلطان علی قدس سرہما کے مرید تھے ـ
وصال:
آپ علیہ الرحمہ کا ۱۳۲۲ھ / ۱۹۰۴ء میں بمقام حیدر آباد انتقال ہوا ۔ (نذر مقبول) ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-wakeel-ahmad-sikandarpuri-hanafi
scholars.pk
Hazrat Allama Wakeel Ahmad Sikandarpuri Hanafi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
قاضی ابو المحاسن بہاؤ الدین یوسف بن رافع اسدی المعروف بہ ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ
اسمِ گرامی:
يوسف بن رافع بن تمیم بن عتبہ اسدی موصلی ۔ کنیت: ابو المحاسن ۔ لقب: بہاؤ الدین تھی ۔ اور آپ ابنِ شداد کے نام سے مشہور و معروف ہوئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت 10 رمضان المبارک 539 ھ کو عراق کے شہر موصل میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے بچپن میں ہی قرآنِ پاک حفظ کر لیا تھا ۔ موصل میں جلیل القدر شیوخ کے پاس حدیث، فقہ، تفسیر ، قراءت اور ادب کی کتابیں پڑھیں نیز اکتسابِ علم کے لئے آپ نے مختلف ممالک کا سفر بھی کیا ۔
سیرت و خصائص:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ ایک مایہ ناز مورخ، بہترین فقیہ اور عمدہ قاضی تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاد تھے اور سلطان آپ کی طرزِ تحریر کو بہت پسند بھی کرتے تھے ۔ آپ کی خدا داد صلاحیتوں کی بناء پر سلطان نے آپ کو عہدۂ قضاء سپرد کیا اور آپ نے اس عہدے کو خوش دلی سے قبول بھی کیا اور خوش اسلوبی سے ادا بھی کیا ۔
آپ کے زمانے کے کثیر علماء نے آپ کی مدح و تعریف کے پل باندھے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ ابنِ شداد اپنے وقت کے امام اور ثقہ عالم و فاضل تھے ۔ دین اور دنیا دونوں کی کامل معرفت رکھتے تھے ۔آپ کے عدل و انصاف کے فیصلے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی طرح تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی آخری عمر تک درس و تدریس، افتاء و تصنیف میں مشغول رہے ۔
تاریخِ وصال:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ نے 14 صفر المظفر 632 ھ / بمطابق نومبر 1234 ء میں انتقال فرمایا ۔
ماخذ و مراجع: سیر اعلام النبلاء ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-abul-mahasin-yousuf-bin-rafay-al-asadi
اسمِ گرامی:
يوسف بن رافع بن تمیم بن عتبہ اسدی موصلی ۔ کنیت: ابو المحاسن ۔ لقب: بہاؤ الدین تھی ۔ اور آپ ابنِ شداد کے نام سے مشہور و معروف ہوئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ولادتِ باسعادت 10 رمضان المبارک 539 ھ کو عراق کے شہر موصل میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
آپ نے بچپن میں ہی قرآنِ پاک حفظ کر لیا تھا ۔ موصل میں جلیل القدر شیوخ کے پاس حدیث، فقہ، تفسیر ، قراءت اور ادب کی کتابیں پڑھیں نیز اکتسابِ علم کے لئے آپ نے مختلف ممالک کا سفر بھی کیا ۔
سیرت و خصائص:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ ایک مایہ ناز مورخ، بہترین فقیہ اور عمدہ قاضی تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاد تھے اور سلطان آپ کی طرزِ تحریر کو بہت پسند بھی کرتے تھے ۔ آپ کی خدا داد صلاحیتوں کی بناء پر سلطان نے آپ کو عہدۂ قضاء سپرد کیا اور آپ نے اس عہدے کو خوش دلی سے قبول بھی کیا اور خوش اسلوبی سے ادا بھی کیا ۔
آپ کے زمانے کے کثیر علماء نے آپ کی مدح و تعریف کے پل باندھے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ ابنِ شداد اپنے وقت کے امام اور ثقہ عالم و فاضل تھے ۔ دین اور دنیا دونوں کی کامل معرفت رکھتے تھے ۔آپ کے عدل و انصاف کے فیصلے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی طرح تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنی آخری عمر تک درس و تدریس، افتاء و تصنیف میں مشغول رہے ۔
تاریخِ وصال:
ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ نے 14 صفر المظفر 632 ھ / بمطابق نومبر 1234 ء میں انتقال فرمایا ۔
ماخذ و مراجع: سیر اعلام النبلاء ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-qazi-abul-mahasin-yousuf-bin-rafay-al-asadi
scholars.pk
Hazrat Qazi Abul Mahasin Yousuf Bin Rafay Al Asadi
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
قاضی ابو المحاسن بہاؤ الدین یوسف بن رافع اسدی المعروف بہ ابنِ شداد رحمۃ اللہ علیہ اسمِ گرامی: يوسف بن رافع بن تمیم بن عتبہ اسدی موصلی ۔ کنیت: ابو المحاسن ۔ لقب: بہاؤ الدین تھی ۔ اور آپ ابنِ شداد کے نام سے مشہور و معروف ہوئے ۔ تاریخِ ولادت: آپ رحمۃ اللہ…
سلطان صلاح الدین ایوبی کے استاذ گرامی
https://t.me/islaamic_Knowledge/38104
https://t.me/islaamic_Knowledge/38104
❤1👍1
حضرت مالک بن دینار علیہ الرحمہ
تحصیلِ علم:
مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ نے صحابیٔ رسول ﷺ انس بن مالک اور مشہور تابعی حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہما سے اکتسابِ علم کیا ـ
سیرت وخصائص:
حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ اخیار اور صالحین تابعین میں سے تھے ـ آپ خواجہ حسن بصری کے ہم مجلس اور محب تھے صوفیاء میں ممتاز مقام رکھتے ہیں آپ اگرچہ غلام زادے تھے مگر دو جہان کی خواہشات سے آزاد تھے اور صرف اپنے ہاتھوں کی کمائی ہی سے کھاتے تھے ـ آپ رحمۃ اللہ علیہ جس طرح عبادت و ریاضت میں مشہور تھے اسی مذہبِ اسلام اور اہلسنت کی ترویج و اشاعت میں بھی معروف تھے حتی کہ اس سلسلہ میں آپ نے مناظرے بھی کئے
ایک دفعہ حضرت مالک بن دینار ایک دہریے سے مناظرہ کرنے لگے یہ مناظرہ طویل ہوا تو حکامِ وقت نے فیصلہ کیا کہ دونوں کا ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ کے ساتھ باندھ دیا جائے اور دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے جو جل جائے وہ جھوٹا ہے ایسا ہی کیا گیا دونوں میں سے کسی ایک کو کوئی تکلیف نہ پہنچی حتی کہ آگ ٹھنڈی ہو گئی ـ حضرت مالک بڑے افسردہ ہوئے گھر گئے سجدہ میں سر رکھ کر روئے کہ اللہ میں اس دہریے بے دین کے برابر ہو گیا آواز آئی کہ اس بات سے افسردہ خاطر نہ ہونا، در اصل دہریے کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں تھا، جس کی وجہ سے آگ ٹھنڈی ہو گئی اگر وہ اکیلا آگ میں آتا تو جل کر خاک ہو جاتا ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedina-malik-bin-dinar
تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 14 صفر المظفر 128ھ /بمطابق نومبر 745ء میں ہوئی ـ
ماخذ و مراجع:
الثقات لابن حبان ـ تاریخِ دمشق ۔ خزینۃ الاصفیاء ـ
تحصیلِ علم:
مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ نے صحابیٔ رسول ﷺ انس بن مالک اور مشہور تابعی حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہما سے اکتسابِ علم کیا ـ
سیرت وخصائص:
حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ اخیار اور صالحین تابعین میں سے تھے ـ آپ خواجہ حسن بصری کے ہم مجلس اور محب تھے صوفیاء میں ممتاز مقام رکھتے ہیں آپ اگرچہ غلام زادے تھے مگر دو جہان کی خواہشات سے آزاد تھے اور صرف اپنے ہاتھوں کی کمائی ہی سے کھاتے تھے ـ آپ رحمۃ اللہ علیہ جس طرح عبادت و ریاضت میں مشہور تھے اسی مذہبِ اسلام اور اہلسنت کی ترویج و اشاعت میں بھی معروف تھے حتی کہ اس سلسلہ میں آپ نے مناظرے بھی کئے
ایک دفعہ حضرت مالک بن دینار ایک دہریے سے مناظرہ کرنے لگے یہ مناظرہ طویل ہوا تو حکامِ وقت نے فیصلہ کیا کہ دونوں کا ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ کے ساتھ باندھ دیا جائے اور دونوں کو آگ میں پھینک دیا جائے جو جل جائے وہ جھوٹا ہے ایسا ہی کیا گیا دونوں میں سے کسی ایک کو کوئی تکلیف نہ پہنچی حتی کہ آگ ٹھنڈی ہو گئی ـ حضرت مالک بڑے افسردہ ہوئے گھر گئے سجدہ میں سر رکھ کر روئے کہ اللہ میں اس دہریے بے دین کے برابر ہو گیا آواز آئی کہ اس بات سے افسردہ خاطر نہ ہونا، در اصل دہریے کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں تھا، جس کی وجہ سے آگ ٹھنڈی ہو گئی اگر وہ اکیلا آگ میں آتا تو جل کر خاک ہو جاتا ـ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syedina-malik-bin-dinar
تاریخِ وصال:
آپ کی وفات 14 صفر المظفر 128ھ /بمطابق نومبر 745ء میں ہوئی ـ
ماخذ و مراجع:
الثقات لابن حبان ـ تاریخِ دمشق ۔ خزینۃ الاصفیاء ـ
scholars.pk
Hazrat Syedina Malik Bin Dinar
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
👍2❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
13-02-1444 ᴴ | 11-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
14-02-1444 ᴴ | 12-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1