🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-02-1444 ᴴ | 09-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-02-1444 ᴴ | 09-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
11-02-1444 ᴴ | 09-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
11-02-1444 ᴴ | 09-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2❤1
حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی
تاریخِ پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت 1102ھ، مطابق 1689ء کو قصبہ " قندر " قریب ہالہ ،سندھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، دیگر اساتذہ کے ساتھ خصوصاً مولانا میاں نور محمد بھٹو کا نام آتا ہے آپ اپنے استاد کی بڑی قدر کرتے تھے بھٹ شاہ میں اپنے استادِ محترم کو ایک گھر بنواکر دیا تھا ـ
بیعت و خلافت:
شاہ صاحب اپنے والدِ گرامی حضرت سید حبیب شاہ کے دست حق پرست پرسلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ـ
سیرت و خصائص:
آپ کے پاکیزہ نغموں سے سندھ کے گاؤں گاؤں اور گلی کوچے آج بھی گونج رہے ہیں۔ آپ کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیّت یہ ہے کہ اُس سے تعلیم یافتہ طبقہ بھی لطف اندوز ہوتا ہے اور ناخواندہ طبقہ بھی ان کے اشعار میں ایک لذّت محسوس کر رہے ہیں۔ آج بھی عورتیں گھروں میں، کسان کھیتوں میں، اور بچے گلیوں میں، صوفیا خانقاہوں میں اور واعظ محافلِ و عظ میں شاہ صاحب کے کلام کو پڑھتے ہیں ۔
تبلیغ کے سلسلے میں آپ روزانہ کئی کئی میل پیدل سفر کرتے اور راستے میں جتنے گاؤں آتے، قافلے ملتے یا کوئی بھی شخص ملتا اُس کو دین کی دعوت دیتے تھے ۔
آپ نے سندھ کا سارا علاقہ پیدل گھوما اور لوگوں میں ایمان کے زر و جواہر لٹائے ۔ آپ کا سفر " سفرِ و سیلۂ ظفر " تھا ۔ عمر بھر آپ کے توسّل سے نیکی اعتماد اور پاکیزگی کی دولت لوگوں میں تقسیم ہوتی رہی ۔ شاہ صاحب نے قرآنی تعلیمات کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں ۔ سندھی زبان سے آپ نے اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کا کام لے کر اس زبان کو غیر معمولی بنا دیا ۔
زبدۃ العارفین قدوۃ السالکین حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی علیہ الرحمہ مذہباً سنی، مسلکاً حنفی اور مشرباً قادری تھے۔ انسانوں کی ہدایت پر ساری عمر صرف کردی تھی۔ سرکشوں کو اللہ کے قریب کیا، گمراہوں کو راہِ رست پر لگایا بے دینوں کو دین کا فلسفہ سمجھایا، دنیا کی محبت، حرص، لالچ، حسد، کینہ، بغض، وغیرہ جیسی گندی خصلتوں سے مسلمانوں کے من کو صاف کیا۔ بحیثیت انسان شاہ صاحب ایک سادہ طبیعت کے مالک تھے ۔ آپ کی طینت میں حلم، صبر، شکر، قناعت اور منکسرالمزاجی قدرت کی طرف سے ودیعت کردی گئی تھی۔ ہمدردی وایثار، بے لوث روادرای، مشفقانہ رحمدلی اور متعدد اوصافِ حسنہ کے مالک تھے ۔
قرآن وسنت پر خود سختی سے عمل پیرا رہتے تھے اور مسلمانوں کو اس پرعمل کی تلقین کرتے تھے ۔ شاہ صاحب ظاہری عبادت کو لازمی سمجھتے تھے اور اسے ہی قربِ خداوندی کاذریعہ سمجھتے تھے ۔ اپنے مریدین و متوسلین کو کم کھانا ،کم سونا، خود غرضی سے بچنے اور دوسروں ہمدردی، راضی برضا رہنے اور ذکروفکر میں مشغول رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ ہر قسم کی نشہ آور اور حرام چیزوں سے سختی سے منع کرتے تھے ۔ مسلمانوں کی بقاء رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ سرورِ عالم ﷺ کی محبت مسلمانوں کا سرمایۂ حیات ہے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ جل شانہ کی محبت کا درس دیا ہے۔آپ کے دیوان کا نام " شاہ جو رسالو " ہے ۔ جو مقبولِ عام و خاص ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-latif-bhitai
وصال:
آپ کا وصال 14 صفرالمظفر 1165ھ مطابق دسمبر 1752ء کو 63 سال کی عمر میں ہوا ۔ آپ کامزار "بھٹ شاہ" سندھ پاکستان میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاءِ سندھ
حیات شاہ عبد اللطیف بھٹائی
تاریخِ پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت 1102ھ، مطابق 1689ء کو قصبہ " قندر " قریب ہالہ ،سندھ میں ہوئی ۔
تحصیلِ علم:
ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، دیگر اساتذہ کے ساتھ خصوصاً مولانا میاں نور محمد بھٹو کا نام آتا ہے آپ اپنے استاد کی بڑی قدر کرتے تھے بھٹ شاہ میں اپنے استادِ محترم کو ایک گھر بنواکر دیا تھا ـ
بیعت و خلافت:
شاہ صاحب اپنے والدِ گرامی حضرت سید حبیب شاہ کے دست حق پرست پرسلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے ـ
سیرت و خصائص:
آپ کے پاکیزہ نغموں سے سندھ کے گاؤں گاؤں اور گلی کوچے آج بھی گونج رہے ہیں۔ آپ کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیّت یہ ہے کہ اُس سے تعلیم یافتہ طبقہ بھی لطف اندوز ہوتا ہے اور ناخواندہ طبقہ بھی ان کے اشعار میں ایک لذّت محسوس کر رہے ہیں۔ آج بھی عورتیں گھروں میں، کسان کھیتوں میں، اور بچے گلیوں میں، صوفیا خانقاہوں میں اور واعظ محافلِ و عظ میں شاہ صاحب کے کلام کو پڑھتے ہیں ۔
تبلیغ کے سلسلے میں آپ روزانہ کئی کئی میل پیدل سفر کرتے اور راستے میں جتنے گاؤں آتے، قافلے ملتے یا کوئی بھی شخص ملتا اُس کو دین کی دعوت دیتے تھے ۔
آپ نے سندھ کا سارا علاقہ پیدل گھوما اور لوگوں میں ایمان کے زر و جواہر لٹائے ۔ آپ کا سفر " سفرِ و سیلۂ ظفر " تھا ۔ عمر بھر آپ کے توسّل سے نیکی اعتماد اور پاکیزگی کی دولت لوگوں میں تقسیم ہوتی رہی ۔ شاہ صاحب نے قرآنی تعلیمات کے فروغ کے لیے جو خدمات انجام دیں وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہیں ۔ سندھی زبان سے آپ نے اسلام کی تبلیغ اور قرآنی تعلیمات کے فروغ و اشاعت کا کام لے کر اس زبان کو غیر معمولی بنا دیا ۔
زبدۃ العارفین قدوۃ السالکین حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی علیہ الرحمہ مذہباً سنی، مسلکاً حنفی اور مشرباً قادری تھے۔ انسانوں کی ہدایت پر ساری عمر صرف کردی تھی۔ سرکشوں کو اللہ کے قریب کیا، گمراہوں کو راہِ رست پر لگایا بے دینوں کو دین کا فلسفہ سمجھایا، دنیا کی محبت، حرص، لالچ، حسد، کینہ، بغض، وغیرہ جیسی گندی خصلتوں سے مسلمانوں کے من کو صاف کیا۔ بحیثیت انسان شاہ صاحب ایک سادہ طبیعت کے مالک تھے ۔ آپ کی طینت میں حلم، صبر، شکر، قناعت اور منکسرالمزاجی قدرت کی طرف سے ودیعت کردی گئی تھی۔ ہمدردی وایثار، بے لوث روادرای، مشفقانہ رحمدلی اور متعدد اوصافِ حسنہ کے مالک تھے ۔
قرآن وسنت پر خود سختی سے عمل پیرا رہتے تھے اور مسلمانوں کو اس پرعمل کی تلقین کرتے تھے ۔ شاہ صاحب ظاہری عبادت کو لازمی سمجھتے تھے اور اسے ہی قربِ خداوندی کاذریعہ سمجھتے تھے ۔ اپنے مریدین و متوسلین کو کم کھانا ،کم سونا، خود غرضی سے بچنے اور دوسروں ہمدردی، راضی برضا رہنے اور ذکروفکر میں مشغول رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ ہر قسم کی نشہ آور اور حرام چیزوں سے سختی سے منع کرتے تھے ۔ مسلمانوں کی بقاء رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ سرورِ عالم ﷺ کی محبت مسلمانوں کا سرمایۂ حیات ہے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے اللہ جل شانہ کی محبت کا درس دیا ہے۔آپ کے دیوان کا نام " شاہ جو رسالو " ہے ۔ جو مقبولِ عام و خاص ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-shah-abdul-latif-bhitai
وصال:
آپ کا وصال 14 صفرالمظفر 1165ھ مطابق دسمبر 1752ء کو 63 سال کی عمر میں ہوا ۔ آپ کامزار "بھٹ شاہ" سندھ پاکستان میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیاءِ سندھ
حیات شاہ عبد اللطیف بھٹائی
scholars.pk
Hazrat Shah Abdul Latif Bhitai
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
Hazrat Shah Abdul Latif Bhittai
❤1👍1
مجاہد جنگ آزادی امام فضل حق خیرآبادی
مجاہدِ تحریک آزادی ، شیرِ خدا، بطل ِحریت، علوم و معارف کا بحر ِبیکراں،کشور ِعلم کا تاجدار،منقولات و معقولات کا امام علامہ فضل حق خیرآبادی، عمری، حنفی، ماتریدی، چشتی رحمۃ اللہ علیہ
آپ علیہ الرحمہ علم و فضل میں یگانۂ روزگار تھے۔
فنونِ حکمیہ اور علومِ عقلیہ کے مسلم الثبوت امام تھے، بلکہ مجتہد وامام تھے۔
بڑے ادیب، بڑے منطقی، نہایت ذہن، نہایت زکی، خلیق وذلیق، انتہائی صاحبِ تدقیق وتحقیق تھے۔
آپ معقولات کے تو امام تھے ہی لیکن حیرت کی بات ہے کہ عربی فارسی وغیرہ کے بہترین ناظم وناثربھی تھے۔
علامہ کی تصنیف "الثورۃ الہندیہ" اور "قصائدِ فتنۃ الہند" جنگِ آزادی1857ء کے نہایت قابلِ قدر ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں
وہ علم وفضل کے بحرِ بےکنار تھے۔
انہوں نے اپنی زندگی کا حق ادا کر دیا۔
سنتِ حسین پرعمل پیراہوکر اپنی جان قربان کردی لیکن باطل کے سامنے اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہوئے۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-fazal-haq-khairabadi
Copyright © Zia-e-Taiba
وصال:
جزیرہ انڈمان کی جیل میں ایک سال دس ماہ تیرہ دن اسیری میں رہ کر
12/صفرالمظفر 1278ھ،
مطابق 20/اگست 1861ء کو جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔
آج بھی آپ کی قبر "آزادی" کی آذانیں سنارہی ہے
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ
خیر آبادیات
تذکرہ علمائے ہند
دو قومی نظریہ اور علمائے اہلسنت
جنگِ آزدی میں علامہ فضلِ حق خیرآبادی کا کردار
مجاہدِ تحریک آزادی ، شیرِ خدا، بطل ِحریت، علوم و معارف کا بحر ِبیکراں،کشور ِعلم کا تاجدار،منقولات و معقولات کا امام علامہ فضل حق خیرآبادی، عمری، حنفی، ماتریدی، چشتی رحمۃ اللہ علیہ
آپ علیہ الرحمہ علم و فضل میں یگانۂ روزگار تھے۔
فنونِ حکمیہ اور علومِ عقلیہ کے مسلم الثبوت امام تھے، بلکہ مجتہد وامام تھے۔
بڑے ادیب، بڑے منطقی، نہایت ذہن، نہایت زکی، خلیق وذلیق، انتہائی صاحبِ تدقیق وتحقیق تھے۔
آپ معقولات کے تو امام تھے ہی لیکن حیرت کی بات ہے کہ عربی فارسی وغیرہ کے بہترین ناظم وناثربھی تھے۔
علامہ کی تصنیف "الثورۃ الہندیہ" اور "قصائدِ فتنۃ الہند" جنگِ آزادی1857ء کے نہایت قابلِ قدر ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں
وہ علم وفضل کے بحرِ بےکنار تھے۔
انہوں نے اپنی زندگی کا حق ادا کر دیا۔
سنتِ حسین پرعمل پیراہوکر اپنی جان قربان کردی لیکن باطل کے سامنے اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہوئے۔
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-molana-fazal-haq-khairabadi
Copyright © Zia-e-Taiba
وصال:
جزیرہ انڈمان کی جیل میں ایک سال دس ماہ تیرہ دن اسیری میں رہ کر
12/صفرالمظفر 1278ھ،
مطابق 20/اگست 1861ء کو جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔
آج بھی آپ کی قبر "آزادی" کی آذانیں سنارہی ہے
ماخذ و مراجع:
حدائق الحنفیہ
خیر آبادیات
تذکرہ علمائے ہند
دو قومی نظریہ اور علمائے اہلسنت
جنگِ آزدی میں علامہ فضلِ حق خیرآبادی کا کردار
❤1👍1