🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-02-1444 ᴴ | 06-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-02-1444 ᴴ | 06-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍2❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
08-02-1444 ᴴ | 06-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
08-02-1444 ᴴ | 06-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
حضرت سیدنا شاہ میر ابو العلاء اکبر آبادی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
خاندانی حالات:
آپ کے دادا حضرت خواجہ امیر عبد السلام مع اہل و عیال کے سمرقند سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے اور نریلہ میں جو دہلی سے کچھ دور واقع ہے۔ قیام فرمایا، حرمین شریف کی زیارت کے قصد سے وہ نریلہ سے مع متعلقین فتح پور سیکری آئے، یہاں سے آگے جانا چاہتے تھےکہ شہنشاہ اکبر نے ان سے فتح پورسیکری میں رہنےکی درخواست کی، وہ راضی ہو گئے اور فتح پورسیکری میں رہنے لگے۔ کچھ عرصے فتح پورسیکری میں قیام فرما کر وہ حج کے لئے روانہ ہو گئے، وہیں ان کا وصال ہوا۔
والد ماجد:
آپ کے پدر بزرگوار کا نام امیر ابو الوفا ہے، بعارضہ درد قولنج ان کا وصال فتح پور سیکری میں ہوا اور دہلی میں ان کو سپرد خاک کیا گیا ۔ ۱؎
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت خواجہ محمد فیض المعروف بہ خواجہ فیض کی دختر نیک اختر تھیں۔حضرت خواجہ محمد فیض بردوان میں ناظم کے عہدے پر فائز تھے۔
حسب و نسب:
آپ والد ماجد کی طرف سے حسینی اور والدہ ماجدہ کی طرف سے احراری ہیں۔
پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت نریلہ میں ۹۹۰ھ میں ہوئی۔۲؎
آپ کا نام:
آپ کا نام نامی اسم گرامی امیر ابو العلیٰ ہے ۔
بچپن کے صدمات:
ابھی کم سن ہی تھےکہ آپ کے والد ماجد کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا ۔ آپ اپنے شفیق دادا حضرت امیر عبدالسلام کی شفقت سے بھی محروم ہوئے۔ آپ کے دادا حرمین شریف کی زیارت کے لئے گئے تھے، وہیں ان کا وصال ہوا۔
تعلیم و تربیت:
آپ کے دادا نے بیت اللہ شریف جاتے وقت آپ کو حضرت خواجہ محمد فیض کے سپرد فرمایا تھا۔ حضرت فیض بردوان میں ناظم تھے ۔ وہ آپ کواپنےہمراہ بردوان لےگئے،انہیں کی نگرانی میں آپ کی تعلیم وتربیت ہوئی۔ آپ بہت جلد تحصیل علوم و فنون سےفارغ ہوئے۔جملہ علوم ظاہری و کمالات باطنی میں ماہرہوئے۔ فن سپہ گری میں بےمثل ثابت ہوئے۔
نانا کا وصال:
ابھی آپ جملہ علوم و فنون متداولہ سے فارغ ہی ہوئےتھےکہ آپ کےناناحضرت محمدفیض المعروف بہ خواجہ فیضی نےایک مہم میں جام شہادت نوش فرمایا۔ عہدہ نظامت: آپ کےناناحضرت خواجہ فیضی کےکوئی لڑکانہیں تھا۔راجہ مان سنگھ نےآپ کی یگانگت، مناسبت، لیاقت دیکھ کرآپ کےناناکےعہدےپرآپ کاتقرر کرکےبادشاہ سےپروانہ تقرری حاصل کرلیا۔ اب آپ اپنےناناکےبجائےعہدہ نظامت پرمتمکن ہوئے۔منصب سہ ہزاری ذات و سوارسے ممتاز ہوئے۔
اشارت پر بشارت:
ایک شب آپ نےتین بزرگوں کوخواب میں دیکھاکہ فرماتےہیں۔۳؎ "اےسیدابوالعلی!یہ کیاوضع اختیارکی ہے،اس کو قطع کرچھوڑو۔ہماری طرح اختیارکرو،اگرفکر معیشت ہے تو اَللّٰہُ نُورُالسَّمٰوَاتِ وَالاَرضَ (اللہ روشن کرنےوالاہے،آسمان اورزمین کو) کوسمجھو،کوئی خطرہ یا اندیشہ دل میں نہ لاؤ" اس کےبعدان بزرگوں میں سےایک نےاسترہ لیااورآپ کےسرکےبال تراشے۔ دوسرے بزرگ نےآپ کوکفنی پہنائی اورتیسرے بزرگ نےآپ کےسرپرعمامہ رکھا۔
کایا پلٹ:
دوسرے دن صبح کوآپ نےحجام کوبلاکرسرکےبال ترشوائے۔پیرہن پہنا،دنیاسےاپنےآپ کوبیزار پایا،کسی کام میں آپ کاجی نہیں لگتاتھا۔اب آپ نےعہدہ نظامت سےسبکدوش ہوناچاہا۔ راجہ مان سنگھ نےآپ کا استعفیٰ منظورنہیں کیا۔راجہ مان سنگھ نےآپ سےکہاکہ چونکہ ایک مہم در پیش ہے،اس لئےان کا استعفاءاس کاحفظ ماتقدم وپس وپیش ہے۔راجہ مان سنگھ نےآپ کویہ بھی یقین دلایاکہ اگروہ ترقی چاہتےہیں توترقی بھی ممکن ہے اوراگراضافہ منصب چاہتےہیں تووہ بھی کچھ دشوارنہیں۔
مہم میں شرکت:
آپ راجہ مان سنگھ کا بہت خیال فرماتےتھے،چونکہ وہ آپ ناناکےپرانےرفقاءدوستوں میں سے تھے، آپ امیرلشکر ہوکرجنگ میں شریک ہوئے۔میناپورکےمیدان میں گھمسان کی لڑائی ہوئی، آپ کی فتح ہوئی۔۴؎ دوسراخواب: کامیاب وکامران آپ بردوان پہنچے۔بردوان پہنچ کرآپ نےایک بارپھرخواب میں آپ چار بزرگوں کی زیارت سےمشرف ہوئے۔ان چاربزرگوں میں تین بزرگ تووہی تھے،جن کو آپ نے پہلےخواب میں دیکھاتھا، چوتھےبزرگ جن کواس مرتبہ آپ نےدیکھا،پیکرنورتھے۔ان کاچہرہ مبارک آفتاب سےزیادہ روشن اورماہتاب سےزیادہ منورتھا۔ان بزرگوں نےآپ سے فرمایاکہ۔ ۵؎ "اےفرزنددل بند،نوربصربلنداختر،اپناطریقہ آبائی اختیارکرو"۔ آپ ان بزرگوں کےنام جن کو آپ نےپہلےاوردوسرےخواب میں دیکھا۔خاص خاص لوگوں کے علاوہ اورکسی سےظاہرنہیں کرتےتھے،آپ فرماتےتھےکہ۔ "جن کی زیارت بیشترخواب میں حاصل ہوئی۔میں ان سےبےعلم تھا،ہاں دوبارہ جب زیارت سے فیض یاب ومشرف ہواتوآگاہ ہواکہ جن بزرگ کاچہرہ مبارک نورانی،آفتاب سےزیادہ مجلیٰ اور ماہتاب سےزیادہ منورتھا،وہ لاریب جناب رسالت مآب سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم تھےاوروہ تین بزرگ جوخواب اول و دوئم میں تشریف لائے،ان میں سےجن بزرگ نےمیرے سرکےبال تراشےوہ امام الاولیاءحضرت علی کرم اللہ وجہہ تھےاوردوصاحب زادگان حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماشہیدکربلاتھے۔ تبدیلی: اس خواب کےبعدآپ دنیاسےبہت دل برداشتہ ہوگئے،آپ عہدہ نظامت سےسبک دوش ہونا چاہتے
خاندانی حالات:
آپ کے دادا حضرت خواجہ امیر عبد السلام مع اہل و عیال کے سمرقند سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے اور نریلہ میں جو دہلی سے کچھ دور واقع ہے۔ قیام فرمایا، حرمین شریف کی زیارت کے قصد سے وہ نریلہ سے مع متعلقین فتح پور سیکری آئے، یہاں سے آگے جانا چاہتے تھےکہ شہنشاہ اکبر نے ان سے فتح پورسیکری میں رہنےکی درخواست کی، وہ راضی ہو گئے اور فتح پورسیکری میں رہنے لگے۔ کچھ عرصے فتح پورسیکری میں قیام فرما کر وہ حج کے لئے روانہ ہو گئے، وہیں ان کا وصال ہوا۔
والد ماجد:
آپ کے پدر بزرگوار کا نام امیر ابو الوفا ہے، بعارضہ درد قولنج ان کا وصال فتح پور سیکری میں ہوا اور دہلی میں ان کو سپرد خاک کیا گیا ۔ ۱؎
والدہ ماجدہ:
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت خواجہ محمد فیض المعروف بہ خواجہ فیض کی دختر نیک اختر تھیں۔حضرت خواجہ محمد فیض بردوان میں ناظم کے عہدے پر فائز تھے۔
حسب و نسب:
آپ والد ماجد کی طرف سے حسینی اور والدہ ماجدہ کی طرف سے احراری ہیں۔
پیدائش:
آپ کی ولادت باسعادت نریلہ میں ۹۹۰ھ میں ہوئی۔۲؎
آپ کا نام:
آپ کا نام نامی اسم گرامی امیر ابو العلیٰ ہے ۔
بچپن کے صدمات:
ابھی کم سن ہی تھےکہ آپ کے والد ماجد کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا ۔ آپ اپنے شفیق دادا حضرت امیر عبدالسلام کی شفقت سے بھی محروم ہوئے۔ آپ کے دادا حرمین شریف کی زیارت کے لئے گئے تھے، وہیں ان کا وصال ہوا۔
تعلیم و تربیت:
آپ کے دادا نے بیت اللہ شریف جاتے وقت آپ کو حضرت خواجہ محمد فیض کے سپرد فرمایا تھا۔ حضرت فیض بردوان میں ناظم تھے ۔ وہ آپ کواپنےہمراہ بردوان لےگئے،انہیں کی نگرانی میں آپ کی تعلیم وتربیت ہوئی۔ آپ بہت جلد تحصیل علوم و فنون سےفارغ ہوئے۔جملہ علوم ظاہری و کمالات باطنی میں ماہرہوئے۔ فن سپہ گری میں بےمثل ثابت ہوئے۔
نانا کا وصال:
ابھی آپ جملہ علوم و فنون متداولہ سے فارغ ہی ہوئےتھےکہ آپ کےناناحضرت محمدفیض المعروف بہ خواجہ فیضی نےایک مہم میں جام شہادت نوش فرمایا۔ عہدہ نظامت: آپ کےناناحضرت خواجہ فیضی کےکوئی لڑکانہیں تھا۔راجہ مان سنگھ نےآپ کی یگانگت، مناسبت، لیاقت دیکھ کرآپ کےناناکےعہدےپرآپ کاتقرر کرکےبادشاہ سےپروانہ تقرری حاصل کرلیا۔ اب آپ اپنےناناکےبجائےعہدہ نظامت پرمتمکن ہوئے۔منصب سہ ہزاری ذات و سوارسے ممتاز ہوئے۔
اشارت پر بشارت:
ایک شب آپ نےتین بزرگوں کوخواب میں دیکھاکہ فرماتےہیں۔۳؎ "اےسیدابوالعلی!یہ کیاوضع اختیارکی ہے،اس کو قطع کرچھوڑو۔ہماری طرح اختیارکرو،اگرفکر معیشت ہے تو اَللّٰہُ نُورُالسَّمٰوَاتِ وَالاَرضَ (اللہ روشن کرنےوالاہے،آسمان اورزمین کو) کوسمجھو،کوئی خطرہ یا اندیشہ دل میں نہ لاؤ" اس کےبعدان بزرگوں میں سےایک نےاسترہ لیااورآپ کےسرکےبال تراشے۔ دوسرے بزرگ نےآپ کوکفنی پہنائی اورتیسرے بزرگ نےآپ کےسرپرعمامہ رکھا۔
کایا پلٹ:
دوسرے دن صبح کوآپ نےحجام کوبلاکرسرکےبال ترشوائے۔پیرہن پہنا،دنیاسےاپنےآپ کوبیزار پایا،کسی کام میں آپ کاجی نہیں لگتاتھا۔اب آپ نےعہدہ نظامت سےسبکدوش ہوناچاہا۔ راجہ مان سنگھ نےآپ کا استعفیٰ منظورنہیں کیا۔راجہ مان سنگھ نےآپ سےکہاکہ چونکہ ایک مہم در پیش ہے،اس لئےان کا استعفاءاس کاحفظ ماتقدم وپس وپیش ہے۔راجہ مان سنگھ نےآپ کویہ بھی یقین دلایاکہ اگروہ ترقی چاہتےہیں توترقی بھی ممکن ہے اوراگراضافہ منصب چاہتےہیں تووہ بھی کچھ دشوارنہیں۔
مہم میں شرکت:
آپ راجہ مان سنگھ کا بہت خیال فرماتےتھے،چونکہ وہ آپ ناناکےپرانےرفقاءدوستوں میں سے تھے، آپ امیرلشکر ہوکرجنگ میں شریک ہوئے۔میناپورکےمیدان میں گھمسان کی لڑائی ہوئی، آپ کی فتح ہوئی۔۴؎ دوسراخواب: کامیاب وکامران آپ بردوان پہنچے۔بردوان پہنچ کرآپ نےایک بارپھرخواب میں آپ چار بزرگوں کی زیارت سےمشرف ہوئے۔ان چاربزرگوں میں تین بزرگ تووہی تھے،جن کو آپ نے پہلےخواب میں دیکھاتھا، چوتھےبزرگ جن کواس مرتبہ آپ نےدیکھا،پیکرنورتھے۔ان کاچہرہ مبارک آفتاب سےزیادہ روشن اورماہتاب سےزیادہ منورتھا۔ان بزرگوں نےآپ سے فرمایاکہ۔ ۵؎ "اےفرزنددل بند،نوربصربلنداختر،اپناطریقہ آبائی اختیارکرو"۔ آپ ان بزرگوں کےنام جن کو آپ نےپہلےاوردوسرےخواب میں دیکھا۔خاص خاص لوگوں کے علاوہ اورکسی سےظاہرنہیں کرتےتھے،آپ فرماتےتھےکہ۔ "جن کی زیارت بیشترخواب میں حاصل ہوئی۔میں ان سےبےعلم تھا،ہاں دوبارہ جب زیارت سے فیض یاب ومشرف ہواتوآگاہ ہواکہ جن بزرگ کاچہرہ مبارک نورانی،آفتاب سےزیادہ مجلیٰ اور ماہتاب سےزیادہ منورتھا،وہ لاریب جناب رسالت مآب سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم تھےاوروہ تین بزرگ جوخواب اول و دوئم میں تشریف لائے،ان میں سےجن بزرگ نےمیرے سرکےبال تراشےوہ امام الاولیاءحضرت علی کرم اللہ وجہہ تھےاوردوصاحب زادگان حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماشہیدکربلاتھے۔ تبدیلی: اس خواب کےبعدآپ دنیاسےبہت دل برداشتہ ہوگئے،آپ عہدہ نظامت سےسبک دوش ہونا چاہتے
❤1👍1
تھےاوردنیاسے کنارہ کش۔
آگرہ کوروانگی:
ابھی آپ بردوان ہی میں تھےکہ شہنشاہ اکبرکےانتقال کی خبرپہنچی۔جہانگیرنےتخت پربیٹھتےہی یہ فرمان جاری کیاکہ سب امراءوناظم دربارمیں حاضر ہوں،تاکہ ان کی قابلیت،لیاقت ووجاہت کااندازہ ہوسکے۔آپ تو خودہی بردوان سےجاناچاہتےتھے،اس شاہی فرمان کوتائیدغیبی سمجھااورآگرہ روانہ ہوگئے۔ راستےمیں میسری پڑتاتھا،آپ نےمیسری میں کچھ دن قیام کیا،وہاں ایک بزرگ رہتےتھے،جو حضرت یحییٰ میسری رحمتہ اللہ علیہ کی اولادسےتھےان بزرگ نےآپ کودیکھتےہی فرمایا۔۶؎ "آؤ شاہ اعلیٰ آؤ،جزاک اللہ،یہ تم نےخوب کیاکہ دنیاکوچھوڑدیا۔ الدنیاجیفۃ وطالبھاکلاب (دنیامردارہےاوراس کےطالب کتے) پہلےتوجیفہ پرگوشت بھی تھااوراب سوکھی ہڈی باقی ہے"۔ میسری سےروانہ ہوکرآگرہ پہنچے۔شہنشاہ جہانگیرسےملاقات ہوئی۔جہانگیرآپ کےجمال وکمال سے بہت متاثر ہوا۔
آپ بلاروک ٹوک شاہی دربارمیں آنےجانےلگے۔ ایک واقعہ: ایک دن کاواقعہ ہےکہ ساقی نےشہنشاہ جہانگیرکوجام پیش کیا۔جہانگیرنےاپنےہاتھ سےوہ جام آپ کو دیا،آپ نےبہ پاس ادب جام لےتولیا،لیکن وہیں پھینک دیا۔جہانگیرنےدوسراجام آپ کودیا، آپ نےلےکرپھرپہلےکی طرح پھینک یدا۔جہانگیرتاب نہ لاسکا،نشہ کی حالت میں آپ سے مخاطب ہوکرکہنےلگا: "یہ خودنمائی،یہ بےاعتنائی،اوہ،کیاتم غضب سلطانی سےنہیں ڈرتے"۔ آپ نےشہنشاہ جہانگیرکوجواب دیا۔ "غضب سلطانی سےنہیں ڈرتا،قہرربانی سےڈرتاہوں"۔ ترک دنیا: آپ اپنےمکان پرتشریف لائے،اپنامال ومتاع تقسیم کردیا،نقدوجنس میں سے اپنےپاس کچھ نہیں رکھا۔جہانگیرنےہرچندآپ کوبلایا،لیکن آپ نہیں گئے۔ شرف زیارت: اسی دن جب آپ مراقبہ میں تھے،آپ نےدیکھاکہ امام الاولیاءحضرت علی کرم اللہ وجہہ بصورت مثالی تشریف لائے ہیں اورآپ سےفرماتےہیں۔۷؎ "اےفرزندارجمند!کشودکارتمہاراحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سے مقدرہے،یہ تساہل اس قدرکیوں ہے،اٹھو،اجمیرجاؤ،دیرنہ لگاؤ،حصہ اپناپاؤ"۔ دربارغریب نوازمیں: اس فرمان کےپاتےہی آپ نےجوکچھ باقی مال ومتاع آپ کےپاس تھا،اس کو بھی راہ خدامیں لٹادیا، چادراوڑھ کراورسفیدتہہ بندباندھ کراجمیرروانہ ہوئے،دہلی پہنچ کرقطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیارکاکی رحمتہ اللہ علیہ کی اورحضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ کےمزارات پر حاضرہوئےاوران بزرگان کےروحانی فیوض سےمستفیدہوئے،دہلی سےاجمیرپہنچے۔خواجہ غریب نواز کےمزارمبارک پرحاضرہوئے،حضرت خواجہ غریب نوازبصورت مثالی آپ سے مخاطب ہوئے۔آپ کوسامنےبٹھاکرآپ کوتوجہ عینی فرمائی۔ ایک دن کا واقعہ ہےکہ آپ مزارپرانوارکاطواف کررہےتھےکہ حضرت خواجہ غریب نواز بصورت مثالی جلوہ گرہوئےاورآپ کوایک سرخ رنگ کی گولی جو تسبیح کےدانےکےبرابرتھی،عطا فرمائی۔وہ گولی کھاتےہی آپ کاقلب روشن ہوا۔آپ کاکام پوراہوا۔خواجہ غریب نوازنےآپ کو آگرہ واپس جانے کی تاکیدفرمائی۔آپ نےبیعت کی درخواست کی،خواجہ غریب نواز نے فرمایا۔ "تمہارےچچاامیرعبداللہ ماشاءاللہ عبادت گزارموجود ہیں،انہیں سےبیعت مناسب اوران ہی کی صاحب زادی سے مناکحت واجب ہے"۔
بیعت و خلافت:
حسب فرمان خواجہ غریب نوازآپ حضرت امیرعبداللہ سےبیعت ہوئے،آپ کے پیر و مرشد حضرت امیرعبداللہ نےاپنےہاتھ سے انگوٹھی اتارکرآپ کوپہنادی،بعدازاں آپ کےپیرومرشد نےآپ کوخرقہ خلافت سے سرفرازفرمایا۔
ازواج واولاد:
خواجہ غریب نوازکےحکم کےمطابق آپ نےاپنےچچااورپیرومرشدحضرت امیرعبداللہ کی صاحب زادی سے شادی کی،آپ کے دونوں لڑکے،حضرت امیرفیض اللہ اورحضرت امیرنورالعلیٰ زہد، متقی و پرہیزگاراورصاحب مقامات عالیہ تھے۔
وفات:
آپ ۹ صفر ۱۰۶۱ھ کو جوار رحمت میں داخل ہوئے۔
مزار فیض آثار آگرہ میں مرجع خاص و عام ہے،
عمر:
بوقت وفات آپ کی عمر ۷۱ سال کی تھی۔۸؎
خلفاء:
آپ کی وفات کےبعدآپ کےچھوٹےصاحب زادےحضرت امیرنورالعلیٰ آپ کےسجادہ نشین ہوئے۔ آپ کےمقتدرخلفاء حسب ذیل ہیں۔ آپ کےبڑے صاحب زادےحضرت امیرفیض اللہ اورآپ کےچھوٹے صاحب زادے حضرت امیر نورالعلیٰ۔ حضرت خواجہ محمدی عرف خواجہ فولاد،حضرت ملاولی محمد،حضرت لاڈ خاں،حضرت میر سید کالپوری، حضرت سیددوست محمدبرہان پوری۔ سیرت مقدس: آپ صاحب نسبت اورصاحب کرامت بزرگ تھے۔ عبادت، ریاضات، مجاہدات، ترک و تجرید، صبروتحمل،فقروفاقہ،عفودرگزر،قناعت و توکل میں یگانہ روزگارتھے۔سخاوت،عطاوبخشش کےلئے مشہورتھے۔کمالات صوی سےآراستہ تھے۔علم ظاہروباطن میں دستگاہ حاصل تھی۔"رسالہ فناوبقا" آپ کی علمی یادگارہے۔ تعلیمات: آپ کی تعلیمات تصوف کابیش بہاخزانہ ہیں۔ فنافی الافعال: "سالک کااپنےاختیارسے،تمام عالم کےاختیارسے باہرآناہےاوراس سےغرض یہ ہے کہ ایسےتمام حرکات وسکنات وافعال کہ جن کووہ اس سےپہلےاپنےاوردوسروں کی طرف نسبت کرتاتھااوران کو اپنی طرف سےاورنیزدوسروں کی طرف سےجانتاتھا،ان سب کو وہ حق کی طرف نسبت کرےاور سب کوحق تعالیٰ کی طرف سےجانےاوراپنےتمام افعال کوحق کی طرف ایسےخیال کرے،جس طرح کنجی کی حرکت کوہاتھ کےساتھ نسبت
آگرہ کوروانگی:
ابھی آپ بردوان ہی میں تھےکہ شہنشاہ اکبرکےانتقال کی خبرپہنچی۔جہانگیرنےتخت پربیٹھتےہی یہ فرمان جاری کیاکہ سب امراءوناظم دربارمیں حاضر ہوں،تاکہ ان کی قابلیت،لیاقت ووجاہت کااندازہ ہوسکے۔آپ تو خودہی بردوان سےجاناچاہتےتھے،اس شاہی فرمان کوتائیدغیبی سمجھااورآگرہ روانہ ہوگئے۔ راستےمیں میسری پڑتاتھا،آپ نےمیسری میں کچھ دن قیام کیا،وہاں ایک بزرگ رہتےتھے،جو حضرت یحییٰ میسری رحمتہ اللہ علیہ کی اولادسےتھےان بزرگ نےآپ کودیکھتےہی فرمایا۔۶؎ "آؤ شاہ اعلیٰ آؤ،جزاک اللہ،یہ تم نےخوب کیاکہ دنیاکوچھوڑدیا۔ الدنیاجیفۃ وطالبھاکلاب (دنیامردارہےاوراس کےطالب کتے) پہلےتوجیفہ پرگوشت بھی تھااوراب سوکھی ہڈی باقی ہے"۔ میسری سےروانہ ہوکرآگرہ پہنچے۔شہنشاہ جہانگیرسےملاقات ہوئی۔جہانگیرآپ کےجمال وکمال سے بہت متاثر ہوا۔
آپ بلاروک ٹوک شاہی دربارمیں آنےجانےلگے۔ ایک واقعہ: ایک دن کاواقعہ ہےکہ ساقی نےشہنشاہ جہانگیرکوجام پیش کیا۔جہانگیرنےاپنےہاتھ سےوہ جام آپ کو دیا،آپ نےبہ پاس ادب جام لےتولیا،لیکن وہیں پھینک دیا۔جہانگیرنےدوسراجام آپ کودیا، آپ نےلےکرپھرپہلےکی طرح پھینک یدا۔جہانگیرتاب نہ لاسکا،نشہ کی حالت میں آپ سے مخاطب ہوکرکہنےلگا: "یہ خودنمائی،یہ بےاعتنائی،اوہ،کیاتم غضب سلطانی سےنہیں ڈرتے"۔ آپ نےشہنشاہ جہانگیرکوجواب دیا۔ "غضب سلطانی سےنہیں ڈرتا،قہرربانی سےڈرتاہوں"۔ ترک دنیا: آپ اپنےمکان پرتشریف لائے،اپنامال ومتاع تقسیم کردیا،نقدوجنس میں سے اپنےپاس کچھ نہیں رکھا۔جہانگیرنےہرچندآپ کوبلایا،لیکن آپ نہیں گئے۔ شرف زیارت: اسی دن جب آپ مراقبہ میں تھے،آپ نےدیکھاکہ امام الاولیاءحضرت علی کرم اللہ وجہہ بصورت مثالی تشریف لائے ہیں اورآپ سےفرماتےہیں۔۷؎ "اےفرزندارجمند!کشودکارتمہاراحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سے مقدرہے،یہ تساہل اس قدرکیوں ہے،اٹھو،اجمیرجاؤ،دیرنہ لگاؤ،حصہ اپناپاؤ"۔ دربارغریب نوازمیں: اس فرمان کےپاتےہی آپ نےجوکچھ باقی مال ومتاع آپ کےپاس تھا،اس کو بھی راہ خدامیں لٹادیا، چادراوڑھ کراورسفیدتہہ بندباندھ کراجمیرروانہ ہوئے،دہلی پہنچ کرقطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیارکاکی رحمتہ اللہ علیہ کی اورحضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ کےمزارات پر حاضرہوئےاوران بزرگان کےروحانی فیوض سےمستفیدہوئے،دہلی سےاجمیرپہنچے۔خواجہ غریب نواز کےمزارمبارک پرحاضرہوئے،حضرت خواجہ غریب نوازبصورت مثالی آپ سے مخاطب ہوئے۔آپ کوسامنےبٹھاکرآپ کوتوجہ عینی فرمائی۔ ایک دن کا واقعہ ہےکہ آپ مزارپرانوارکاطواف کررہےتھےکہ حضرت خواجہ غریب نواز بصورت مثالی جلوہ گرہوئےاورآپ کوایک سرخ رنگ کی گولی جو تسبیح کےدانےکےبرابرتھی،عطا فرمائی۔وہ گولی کھاتےہی آپ کاقلب روشن ہوا۔آپ کاکام پوراہوا۔خواجہ غریب نوازنےآپ کو آگرہ واپس جانے کی تاکیدفرمائی۔آپ نےبیعت کی درخواست کی،خواجہ غریب نواز نے فرمایا۔ "تمہارےچچاامیرعبداللہ ماشاءاللہ عبادت گزارموجود ہیں،انہیں سےبیعت مناسب اوران ہی کی صاحب زادی سے مناکحت واجب ہے"۔
بیعت و خلافت:
حسب فرمان خواجہ غریب نوازآپ حضرت امیرعبداللہ سےبیعت ہوئے،آپ کے پیر و مرشد حضرت امیرعبداللہ نےاپنےہاتھ سے انگوٹھی اتارکرآپ کوپہنادی،بعدازاں آپ کےپیرومرشد نےآپ کوخرقہ خلافت سے سرفرازفرمایا۔
ازواج واولاد:
خواجہ غریب نوازکےحکم کےمطابق آپ نےاپنےچچااورپیرومرشدحضرت امیرعبداللہ کی صاحب زادی سے شادی کی،آپ کے دونوں لڑکے،حضرت امیرفیض اللہ اورحضرت امیرنورالعلیٰ زہد، متقی و پرہیزگاراورصاحب مقامات عالیہ تھے۔
وفات:
آپ ۹ صفر ۱۰۶۱ھ کو جوار رحمت میں داخل ہوئے۔
مزار فیض آثار آگرہ میں مرجع خاص و عام ہے،
عمر:
بوقت وفات آپ کی عمر ۷۱ سال کی تھی۔۸؎
خلفاء:
آپ کی وفات کےبعدآپ کےچھوٹےصاحب زادےحضرت امیرنورالعلیٰ آپ کےسجادہ نشین ہوئے۔ آپ کےمقتدرخلفاء حسب ذیل ہیں۔ آپ کےبڑے صاحب زادےحضرت امیرفیض اللہ اورآپ کےچھوٹے صاحب زادے حضرت امیر نورالعلیٰ۔ حضرت خواجہ محمدی عرف خواجہ فولاد،حضرت ملاولی محمد،حضرت لاڈ خاں،حضرت میر سید کالپوری، حضرت سیددوست محمدبرہان پوری۔ سیرت مقدس: آپ صاحب نسبت اورصاحب کرامت بزرگ تھے۔ عبادت، ریاضات، مجاہدات، ترک و تجرید، صبروتحمل،فقروفاقہ،عفودرگزر،قناعت و توکل میں یگانہ روزگارتھے۔سخاوت،عطاوبخشش کےلئے مشہورتھے۔کمالات صوی سےآراستہ تھے۔علم ظاہروباطن میں دستگاہ حاصل تھی۔"رسالہ فناوبقا" آپ کی علمی یادگارہے۔ تعلیمات: آپ کی تعلیمات تصوف کابیش بہاخزانہ ہیں۔ فنافی الافعال: "سالک کااپنےاختیارسے،تمام عالم کےاختیارسے باہرآناہےاوراس سےغرض یہ ہے کہ ایسےتمام حرکات وسکنات وافعال کہ جن کووہ اس سےپہلےاپنےاوردوسروں کی طرف نسبت کرتاتھااوران کو اپنی طرف سےاورنیزدوسروں کی طرف سےجانتاتھا،ان سب کو وہ حق کی طرف نسبت کرےاور سب کوحق تعالیٰ کی طرف سےجانےاوراپنےتمام افعال کوحق کی طرف ایسےخیال کرے،جس طرح کنجی کی حرکت کوہاتھ کےساتھ نسبت
❤1👍1