شیخُ الاسلام حضرت خواجہ بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسمِ گرامی: بہاؤالدین زکریا ۔ کنیت: ابو محمد، ابو البرکات ۔ القاب: شیخ الاسلام، الشیخ الکبیر، غوث العالمین، بھاؤالحق والدّین، اسدی ہاشمی، قرشی، ملتانی ۔
آپ کا پُورا نام اس طرح ہے:
شیخ الاسلام غوث العالمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا ملتانی بن شیخ وجیہ الدین بن کمال الدین، بن جلال الدین، بن علی قاضی، بن شمس الدین، بن شیخ حسین خوارزمی ، بن مطوف، بن حزیمہ، بن تاج الدین المطوف، بن عبد الرحیم، بن عبد الرحمن، بن ھباء ، بن اسد، بن ہاشم، بن عبدِ مناف ۔ الیٰ آخرہِ ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ قریشی ہاشمی ہیں ۔
والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب مولا علی تک منتہی ہوتا ہے۔
آپ کے اجداد مکۃ المکرمہ سے ہند تشریف لائے تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت شبِ قدر، شبِ جمعہ،/27 رمضان المبارک 566ھ، مطابق جون /1171ء ، کو "کوٹ کروڑ" موجودہ "کروڑ لعل عیسن" (ضلع لیہ، پنجاب، پاکستان) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
سات سال کی کم عمر میں قرآنِ مجید قرأتِ سبعہ عشرہ سے حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد درسی کتب کی طرف متوجہ ہوئے۔ 12 سال کی عمر میں والدِ ماجد کا انتقال ہو گیا۔ لیکن آپ نے تعلیم کا سلسلہ نہ روکا ۔ مزید حصولِ علم کے لئے آپ خراسان ، نجف اشرف، بغداد، مکہ المکرمہ تشریف لے گئے ۔ وہاں سات سال درس و تدریس میں مشغول رہے،
بعد ازاں بخارا آ گئے اور وہاں علم کی تکمیل کی، وہاں آپ "بہاء الدین فرشتہ" کے نام سے مشہور ہوئے۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ نے شیخ کمال الدین محمد یمنی سے جن کا شمار محدثین کبارمیں تھا، درس حدیث لیا اور اجازت نامہ بھی حاصل کیا ۔ آپ نے مدینہ منورہ میں پانچ سال عبادت و ریاضت میں گزارے۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے اکابر علماء و فقہاء و محدثین و مفسرین میں ہوتا تھا ۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "تکمیلِ علوم کے بعد پندرہ سال تک تدریس کرتے رہے۔روزانہ ستر عالم و فاضل (مختلف علوم وفنون میں) آپ سے علمی پیاس بجھاتے تھے ۔ (نفحات الانس: 436)
بیعت و خلافت:
آپ شیخ المشائخ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ سترہ روز کے مجاہدہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کےحکم سے خرقۂ خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام والمسلمین، غوث العالمین، بہاؤالحق والدین ، قطب الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، تاجدارِ ملتان، حضرت غوث بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ مادر زاد ولی تھے۔ آپ کے والدِ ماجد جب قرآن شریف پڑھتے اور آپ آواز سنتے تو آپ فوراً دودھ پینا چھوڑ دیتے تھے اور قرآن شریف سننے میں محو ہو جاتے تھے ۔ آپ نے اسلام کی اشاعت کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں اشاعتِ اسلام کا سہرا صوفیاء کرام کے سر ہے جن کی مساعیِ جمیلہ سے کفر و شرک کے مستحکم قلعے نیست و نابود ہو گئے ۔
ہند کے بُت کدوں کی رونق ماند پڑنے لگی ۔ شمعِ توحید فروزاں ہونے سے کفر کی تاریکی چھٹ گئی اور دیارِ ہند میں ہر سو صدائے لا الٰہ الا اللہ گونجنے لگی ۔ اس خطۂ ارض میں قدم رنجہ فرمانے والے صوفیاء عظام نے اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعے یہاں کے باسیوں کے دل موہ لیے اور وہ جوق در جوق دولتِ اسلام سے بہرہ ور ہونے لگے ۔ یہ انہیں بزرگانِ دین کے قُدوم میمنت لزوم کا اثر ہے کہ آج یہاں کروڑوں مسلمان موجود ہیں ۔
حضرت شیخ الاسلام نے اپنی زندگی تبلیغِ اسلام کے لئے وقف کر دی تھی ۔ آپ جب ملتان تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا ۔ جو صدیوں سے ہنود کا مرکز تھی ۔ وہ قلعہ کہنہ قاسم باغ پر واقع بر صغیر کے تاریخی مندر "پر ہلاد جی " کے سامنے تھی۔ جو ہندو بھی پوجا پاٹ کر کے مندر سے نکلتا اور آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتا تو ضرور متأثر ہوتا اور آپ کی پر کشش شخصیت، آپ کے اعلیٰ اخلاق اور آپ کی دل موہ لینے والی گفتار کے باعث حلقہ بگوشِ اسلام ہو جاتا۔
آہستہ آہستہ مندر کی رونقیں ماندپڑگئیں۔بالآخر ویران ہی ہوگیا،اور آج کل اس کے چند آثار کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا۔قریب ہی حضرت کا مزار اور مسجد ہے،اور مسجد کی دیوار تو مندر کی دیوار سے بالکل متصل ہے ،جہاں ہر وقت قال اللہ اور قال رسول ﷺکی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ بر صغیر میں اسلام کی نشر و اشاعت کرنے والی اولیاء اللہ کی پاکیزہ جماعت ہے۔ آپ نے اس جگہ "مدرسہ بہائیہ" کی بنیاد رکھی ۔ جس میں اس وقت تمام مروجہ علوم کی تعلیم دی جاتی تھی ۔ ساتھ دنیا کی اہم زبانیں بھی سکھائی جاتی تھیں ۔ جس علاقے میں مبلغین کو بھیجنا مقصود ہوتا تھا پہلے اس کو اس علاقے کی زبان و ثقافت کی مکمل تعلیم دی جاتی تھی، پھر اس علاقے کی طرف تاجر کی صورت میں روانہ کر دیا جاتا تھا ۔ سامانِ تجارت ،اور مکمل سفری اخراجات، اور ان کی
نام ونسب:
اسمِ گرامی: بہاؤالدین زکریا ۔ کنیت: ابو محمد، ابو البرکات ۔ القاب: شیخ الاسلام، الشیخ الکبیر، غوث العالمین، بھاؤالحق والدّین، اسدی ہاشمی، قرشی، ملتانی ۔
آپ کا پُورا نام اس طرح ہے:
شیخ الاسلام غوث العالمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا ملتانی بن شیخ وجیہ الدین بن کمال الدین، بن جلال الدین، بن علی قاضی، بن شمس الدین، بن شیخ حسین خوارزمی ، بن مطوف، بن حزیمہ، بن تاج الدین المطوف، بن عبد الرحیم، بن عبد الرحمن، بن ھباء ، بن اسد، بن ہاشم، بن عبدِ مناف ۔ الیٰ آخرہِ ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ قریشی ہاشمی ہیں ۔
والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب مولا علی تک منتہی ہوتا ہے۔
آپ کے اجداد مکۃ المکرمہ سے ہند تشریف لائے تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت شبِ قدر، شبِ جمعہ،/27 رمضان المبارک 566ھ، مطابق جون /1171ء ، کو "کوٹ کروڑ" موجودہ "کروڑ لعل عیسن" (ضلع لیہ، پنجاب، پاکستان) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
سات سال کی کم عمر میں قرآنِ مجید قرأتِ سبعہ عشرہ سے حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد درسی کتب کی طرف متوجہ ہوئے۔ 12 سال کی عمر میں والدِ ماجد کا انتقال ہو گیا۔ لیکن آپ نے تعلیم کا سلسلہ نہ روکا ۔ مزید حصولِ علم کے لئے آپ خراسان ، نجف اشرف، بغداد، مکہ المکرمہ تشریف لے گئے ۔ وہاں سات سال درس و تدریس میں مشغول رہے،
بعد ازاں بخارا آ گئے اور وہاں علم کی تکمیل کی، وہاں آپ "بہاء الدین فرشتہ" کے نام سے مشہور ہوئے۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ نے شیخ کمال الدین محمد یمنی سے جن کا شمار محدثین کبارمیں تھا، درس حدیث لیا اور اجازت نامہ بھی حاصل کیا ۔ آپ نے مدینہ منورہ میں پانچ سال عبادت و ریاضت میں گزارے۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے اکابر علماء و فقہاء و محدثین و مفسرین میں ہوتا تھا ۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "تکمیلِ علوم کے بعد پندرہ سال تک تدریس کرتے رہے۔روزانہ ستر عالم و فاضل (مختلف علوم وفنون میں) آپ سے علمی پیاس بجھاتے تھے ۔ (نفحات الانس: 436)
بیعت و خلافت:
آپ شیخ المشائخ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ سترہ روز کے مجاہدہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کےحکم سے خرقۂ خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام والمسلمین، غوث العالمین، بہاؤالحق والدین ، قطب الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، تاجدارِ ملتان، حضرت غوث بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ مادر زاد ولی تھے۔ آپ کے والدِ ماجد جب قرآن شریف پڑھتے اور آپ آواز سنتے تو آپ فوراً دودھ پینا چھوڑ دیتے تھے اور قرآن شریف سننے میں محو ہو جاتے تھے ۔ آپ نے اسلام کی اشاعت کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں اشاعتِ اسلام کا سہرا صوفیاء کرام کے سر ہے جن کی مساعیِ جمیلہ سے کفر و شرک کے مستحکم قلعے نیست و نابود ہو گئے ۔
ہند کے بُت کدوں کی رونق ماند پڑنے لگی ۔ شمعِ توحید فروزاں ہونے سے کفر کی تاریکی چھٹ گئی اور دیارِ ہند میں ہر سو صدائے لا الٰہ الا اللہ گونجنے لگی ۔ اس خطۂ ارض میں قدم رنجہ فرمانے والے صوفیاء عظام نے اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعے یہاں کے باسیوں کے دل موہ لیے اور وہ جوق در جوق دولتِ اسلام سے بہرہ ور ہونے لگے ۔ یہ انہیں بزرگانِ دین کے قُدوم میمنت لزوم کا اثر ہے کہ آج یہاں کروڑوں مسلمان موجود ہیں ۔
حضرت شیخ الاسلام نے اپنی زندگی تبلیغِ اسلام کے لئے وقف کر دی تھی ۔ آپ جب ملتان تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا ۔ جو صدیوں سے ہنود کا مرکز تھی ۔ وہ قلعہ کہنہ قاسم باغ پر واقع بر صغیر کے تاریخی مندر "پر ہلاد جی " کے سامنے تھی۔ جو ہندو بھی پوجا پاٹ کر کے مندر سے نکلتا اور آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتا تو ضرور متأثر ہوتا اور آپ کی پر کشش شخصیت، آپ کے اعلیٰ اخلاق اور آپ کی دل موہ لینے والی گفتار کے باعث حلقہ بگوشِ اسلام ہو جاتا۔
آہستہ آہستہ مندر کی رونقیں ماندپڑگئیں۔بالآخر ویران ہی ہوگیا،اور آج کل اس کے چند آثار کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا۔قریب ہی حضرت کا مزار اور مسجد ہے،اور مسجد کی دیوار تو مندر کی دیوار سے بالکل متصل ہے ،جہاں ہر وقت قال اللہ اور قال رسول ﷺکی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ بر صغیر میں اسلام کی نشر و اشاعت کرنے والی اولیاء اللہ کی پاکیزہ جماعت ہے۔ آپ نے اس جگہ "مدرسہ بہائیہ" کی بنیاد رکھی ۔ جس میں اس وقت تمام مروجہ علوم کی تعلیم دی جاتی تھی ۔ ساتھ دنیا کی اہم زبانیں بھی سکھائی جاتی تھیں ۔ جس علاقے میں مبلغین کو بھیجنا مقصود ہوتا تھا پہلے اس کو اس علاقے کی زبان و ثقافت کی مکمل تعلیم دی جاتی تھی، پھر اس علاقے کی طرف تاجر کی صورت میں روانہ کر دیا جاتا تھا ۔ سامانِ تجارت ،اور مکمل سفری اخراجات، اور ان کی
👍3❤2
حفاظت کا مکمل بند و بست حضرت شیخ الاسلام خود کرتے تھے ۔
اور آپ ان کو روانہ کرتے وقت یہ نصیحتیں کرتے تھے۔ "سامان کم منافع پر فروخت کرنا۔ لین دین میں اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھنا ۔ ناقص چیزوں کو فروخت نہ کرنا ، بلکہ فقراء اور مساکین کو مفت دے دینا ۔ خریداروں سے خندہ پیشانی سے پیش آنا۔ جب تک لوگوں کا اعتماد حاصل نہ ہو، ان پر اسلام پیش نہ کرنا۔ "اس طرح علمائے ربانیین سوداگروں کے لباس میں سامانِ تجارت لے کر روانہ ہوتے اور انڈونیشیا، ملائیشیا، جاوا، سماٹرا، فلپائن، برما، سندھ، افغانستان دکن، بنگال، بلوچستان، کشمیر، اور چین وغیرہ تک پہنچ کر دوکانیں کھولتے اور دیانتداری سے لین دین کرتے اور ساتھ ہی لوگوں پر اسلام پیش کرتے جس کا خاطر خواہ نتیجہ نکلتا اور لوگ ان کے حسنِ اخلاق ، ان کی خدا ترسی، دینداری، دیانت داری اور معاملات میں صفائی ستھرائی دیکھ کر گرویدہ ہو جاتے اوربالآخر اسلام قبول کر لیتے ۔
آج مشرقِ بعیدکے چھوٹے چھوٹے جزیروں میں جو کروڑوں مسلمان نظر آتے ہیں، یہ انہی تاجر مبلغین کی سعیِ مشکور کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح سیاست سے گہری دلچسپی تھی۔تمام معاملات پر نظر رکھتے تھے۔آپ کے زمانے میں ملتان پر اسماعیلیوں اور قرامطہ کی حکومت تھی۔لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف راغب کرتے تھے۔مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کے خیرخواہ تھے۔حضرت شیخ الاسلام نے ان کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا۔بالآخر نتیجہ ان کے اقتدار ختم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا،اور اسلامی حکومت کی راہ ہموار ہوئی۔
الغرض حضرت شیخ الاسلام کےتبلیغی کام کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ آپ کا معمول تھا عصر کی اذان سنتے ہی مسجد میں تشریف لا کر عصر باجماعت ادا فرماتے تھے۔ اس کے بعد منبر پر تشریف لے جاتے۔ قرآن وحدیث کا وعظ فرماتے ۔ اس موقعہ پر دور ونزدیک کے لوگ کام چھوڑ کر جوق در جوق آتے اور وعظ سنتے ۔ تاثیر اس قدر تھی کہ اگر غیر مسلم شریکِ درس ہوتا توبغیر اسلام قبول کیے نہ رہتا۔اور مسلمان سنتا ، ضرور متأثر ہوتا تھا اور برے کاموں کو چھوڑ کر زہد و تقویٰ اور نیک اعمال اختیار کرتا تھا۔
حضرت شیخ الاسلام ہمیشہ لوگوں کو یہ وصیت فرماتے تھے: "ہرآدمی پر لازم ہے کہ وہ مکمل سچائی اورخلوص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ،ہرماسواکاخیال دل سے نکال دے۔اللہ تعالیٰ سے رسائی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کہ اپنے حال کو درست کر لو ۔ اپنے اقوال وافعال کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ سے مزین کرلو۔تمام معاملات میں بارگاہِ صمد جل جلالہ سے استعانت حاصل کرو ۔ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو۔تاکہ تمہیں نیک اعمال کرنے کی توفیق حاصل ہو"۔
وصال:
بروز منگل 7 / صفر المظفر 661ھ، مطابق دسمبر /1262ء، کو سجدے کی حالت میں ہوا۔
مزار شریف:
آپ کا مزار مدینۃ الاولیاء ملتان میں منبعِ انوار و برکات ہے۔
ماخذ و مراجع:
صوفیائے پنجاب ۔ الاوراد ۔ نفحات الانس ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-bahauddin-zakariya-multani-soharwardi
Copyright © Zia-e-Taiba
اور آپ ان کو روانہ کرتے وقت یہ نصیحتیں کرتے تھے۔ "سامان کم منافع پر فروخت کرنا۔ لین دین میں اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھنا ۔ ناقص چیزوں کو فروخت نہ کرنا ، بلکہ فقراء اور مساکین کو مفت دے دینا ۔ خریداروں سے خندہ پیشانی سے پیش آنا۔ جب تک لوگوں کا اعتماد حاصل نہ ہو، ان پر اسلام پیش نہ کرنا۔ "اس طرح علمائے ربانیین سوداگروں کے لباس میں سامانِ تجارت لے کر روانہ ہوتے اور انڈونیشیا، ملائیشیا، جاوا، سماٹرا، فلپائن، برما، سندھ، افغانستان دکن، بنگال، بلوچستان، کشمیر، اور چین وغیرہ تک پہنچ کر دوکانیں کھولتے اور دیانتداری سے لین دین کرتے اور ساتھ ہی لوگوں پر اسلام پیش کرتے جس کا خاطر خواہ نتیجہ نکلتا اور لوگ ان کے حسنِ اخلاق ، ان کی خدا ترسی، دینداری، دیانت داری اور معاملات میں صفائی ستھرائی دیکھ کر گرویدہ ہو جاتے اوربالآخر اسلام قبول کر لیتے ۔
آج مشرقِ بعیدکے چھوٹے چھوٹے جزیروں میں جو کروڑوں مسلمان نظر آتے ہیں، یہ انہی تاجر مبلغین کی سعیِ مشکور کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح سیاست سے گہری دلچسپی تھی۔تمام معاملات پر نظر رکھتے تھے۔آپ کے زمانے میں ملتان پر اسماعیلیوں اور قرامطہ کی حکومت تھی۔لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف راغب کرتے تھے۔مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کے خیرخواہ تھے۔حضرت شیخ الاسلام نے ان کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا۔بالآخر نتیجہ ان کے اقتدار ختم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا،اور اسلامی حکومت کی راہ ہموار ہوئی۔
الغرض حضرت شیخ الاسلام کےتبلیغی کام کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ آپ کا معمول تھا عصر کی اذان سنتے ہی مسجد میں تشریف لا کر عصر باجماعت ادا فرماتے تھے۔ اس کے بعد منبر پر تشریف لے جاتے۔ قرآن وحدیث کا وعظ فرماتے ۔ اس موقعہ پر دور ونزدیک کے لوگ کام چھوڑ کر جوق در جوق آتے اور وعظ سنتے ۔ تاثیر اس قدر تھی کہ اگر غیر مسلم شریکِ درس ہوتا توبغیر اسلام قبول کیے نہ رہتا۔اور مسلمان سنتا ، ضرور متأثر ہوتا تھا اور برے کاموں کو چھوڑ کر زہد و تقویٰ اور نیک اعمال اختیار کرتا تھا۔
حضرت شیخ الاسلام ہمیشہ لوگوں کو یہ وصیت فرماتے تھے: "ہرآدمی پر لازم ہے کہ وہ مکمل سچائی اورخلوص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ،ہرماسواکاخیال دل سے نکال دے۔اللہ تعالیٰ سے رسائی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کہ اپنے حال کو درست کر لو ۔ اپنے اقوال وافعال کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ سے مزین کرلو۔تمام معاملات میں بارگاہِ صمد جل جلالہ سے استعانت حاصل کرو ۔ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو۔تاکہ تمہیں نیک اعمال کرنے کی توفیق حاصل ہو"۔
وصال:
بروز منگل 7 / صفر المظفر 661ھ، مطابق دسمبر /1262ء، کو سجدے کی حالت میں ہوا۔
مزار شریف:
آپ کا مزار مدینۃ الاولیاء ملتان میں منبعِ انوار و برکات ہے۔
ماخذ و مراجع:
صوفیائے پنجاب ۔ الاوراد ۔ نفحات الانس ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-bahauddin-zakariya-multani-soharwardi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤2👍2
پیر پٹھان، غوث زمان، حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی چشتی نظامی رضی اللہ عنہ کی ولادت 1174ھ گڑگوجی ضلع لورالائی، بلوچستان، پاکستان میں ہوئی۔ آپ ہم شبیہ غوث اعظم، مرید و خلیفہ خواجہ نور محمد مہاروی، عالم باعمل، متبع سنت، خیر خواہ امت، منکسر المزاج، سخی، فیاض، مہمان نواز، اور مقبول انام تھے۔ زندگی بھر علوم و معارِف کی تروِیج و ترقی کے لیے مصروف عمل رہے۔ دینِ اسلام کی اشاعت کے لیے جس کو اہل پایا اسے خلافت عطا فرما کر فیضانِ اسلام عام کرنے لیے مختلف مقامات پر روانہ فرمایا۔ 7 صفر 1267ھ کو وصال فرمایا۔ عالیشان مزار مبارک تونسہ شریف، ضلع ڈیرہ غازی خان، پاکستان میں دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔ (مناقب المحبوبین، نافع السالکین)
Peer Pathan, Ghaus of Era, Khwajah Muhammad Sulayman Taunsawi Chishti Nizami (RadiyAllahu Anhu) was born in 1174 AH in Garrgoji, Loralai district, Balochistan, Pakistan. He was a manifestation of Ghous al-Azam, murid and khalifah of Khwajah Noor Muhammad Maharavi, pious practicing scholar, follower of Sunnah, benefactor of Ummah, very generous and hospitable, and a beloved personality. He remained engaged in the promotion of sacred knowledge throughout his life. Whoever he found qualified, he honored them with his caliphate and sent them to various places to spread the message of Islam. He passed away on 7 Safar 1267 AH. His glorious mausoleum in Taunsa Sharif, District, Dera Ghazi Khan, Pakistan is a place of the acceptance of prayers. [Manaqib al-Mahbubain, Nafi’ as-Salikeen]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid02D8Kc3rQC514DxukWfUz9iAfRaQAFDGKJ6fEXd87cdLoYnJHjBMEcgVVDw2JNTGoXl/
Peer Pathan, Ghaus of Era, Khwajah Muhammad Sulayman Taunsawi Chishti Nizami (RadiyAllahu Anhu) was born in 1174 AH in Garrgoji, Loralai district, Balochistan, Pakistan. He was a manifestation of Ghous al-Azam, murid and khalifah of Khwajah Noor Muhammad Maharavi, pious practicing scholar, follower of Sunnah, benefactor of Ummah, very generous and hospitable, and a beloved personality. He remained engaged in the promotion of sacred knowledge throughout his life. Whoever he found qualified, he honored them with his caliphate and sent them to various places to spread the message of Islam. He passed away on 7 Safar 1267 AH. His glorious mausoleum in Taunsa Sharif, District, Dera Ghazi Khan, Pakistan is a place of the acceptance of prayers. [Manaqib al-Mahbubain, Nafi’ as-Salikeen]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid02D8Kc3rQC514DxukWfUz9iAfRaQAFDGKJ6fEXd87cdLoYnJHjBMEcgVVDw2JNTGoXl/
❤2👍2
مرید و خلیفہ سرکار سہرورد، ولی کامل، شیخ الاسلام، حضرت سیدنا شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی قریشی سہروردی رضی اللہ عنہ 27 رمضان 566ھ بروز جمعہ کوٹ کروڑ، ضلع لیہ، جنوبی پنجاب، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ آپ مادرزاد ولی، حافظ قرآن، عالم دین، شیخ طریقت اور امام سلسلۂ سہروردیہ فی الہند ہیں۔ آپ نے اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے ایک ادارہ قائم فرمایا جہاں صرف روایتی عالم نہیں بلکہ مالی طور پر مستحکم اور مختلف زبانوں میں ماہر اعلی تربتی یافتہ بہترین علماء، مبلغین اور تاجر تیار کیے جاتے تھے۔ 7 صفر 661ھ کو ملتان شریف، پنجاب، پاکستان میں بحالت سجدہ وصال فرمایا جہاں آپ کا مزار فائز الانوار مرجع خاص و عام ہے۔ (خزینۃ الاصفیاء، تذکرہ صوفیائے پنجاب، تذکرہ اولیائے پاک و ہند)
Murid and Khalifah of Sarkar Suhraward, Perfect Wali, Shaykh al-Islam, Sayyiduna Shaykh Bahauddin Zakariyya Multani Qurayshi Suhrawardi (RadiyAllahu Anhu) was born on Friday, 27th Ramadan 566 AH in Kot Karor, Layyah District, Southern Punjab, Pakistan. He was a born wali, hafiz of the Holy Quran, pious practicing scholar, spiritual guide, and the leader of the Suhrawardiyah Sufi order in the Indian Sub-continent. He established an institution for the propagation of Islam where not only traditional scholars but financially stable, experts in various languages, and highly trained excellent scholars, preachers, and traders were produced. He left this mundane world on 7 Safar 661 AH whilst in prostration in Multan, Punjab, Pakistan where his magnificent mausoleum is frequently visited by people from all walks of life. [Khazinat al-Asfiya, Tazkirah Sufiya-e-Punjab, Tazkirah Awliya-e Pak wa Hind]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0WLB8CrK81cdrfhCCaUtTRqZAcoeHybmHZdnvNSYrHzz9SJaF1kaqVsNXeyfNUcEfl/
Murid and Khalifah of Sarkar Suhraward, Perfect Wali, Shaykh al-Islam, Sayyiduna Shaykh Bahauddin Zakariyya Multani Qurayshi Suhrawardi (RadiyAllahu Anhu) was born on Friday, 27th Ramadan 566 AH in Kot Karor, Layyah District, Southern Punjab, Pakistan. He was a born wali, hafiz of the Holy Quran, pious practicing scholar, spiritual guide, and the leader of the Suhrawardiyah Sufi order in the Indian Sub-continent. He established an institution for the propagation of Islam where not only traditional scholars but financially stable, experts in various languages, and highly trained excellent scholars, preachers, and traders were produced. He left this mundane world on 7 Safar 661 AH whilst in prostration in Multan, Punjab, Pakistan where his magnificent mausoleum is frequently visited by people from all walks of life. [Khazinat al-Asfiya, Tazkirah Sufiya-e-Punjab, Tazkirah Awliya-e Pak wa Hind]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0WLB8CrK81cdrfhCCaUtTRqZAcoeHybmHZdnvNSYrHzz9SJaF1kaqVsNXeyfNUcEfl/
👍4❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-02-1444 ᴴ | 04-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-02-1444 ᴴ | 05-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍3❤2