حضرت امام موسی کاظم
نام و نسب:
اسم گرامی: موسیٰ ۔ کنیت: ابو الحسن ، ابو ابراہیم ، اور ابو علی ہے ۔ لقب: کاظم ، صالح اور صابر ہے۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے:
حضرت امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین )۔
آپ کی والدہ ماجدہ کا اسمِ گرامی امِ ولد حمیدہ بربریہ تھا۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز اتوار، 7 صفر المظفر 128 ھ بمقامِ ابواء (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام جہاں سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کی قبرِ انور ہے) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
خاندانی روایت کے مطابق آپ نے تمام علومِ ظاہری و باطنی اپنے والدِ گرامی سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے حاصل کیے۔
تمام علوم میں مہارتِ تامہ حاصل کی ، یہاں تک کہ اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہو گئے ۔بلکہ تمام اعلیٰ نسبتوں اور فضیلتوں اور علم وتقویٰ کی بدولت تمام پر سبقت لے گئے۔
سیرت و خصائص:
ساداتِ بنی ہاشم کے نیرِ اعظم ، علم و تقویٰ کے مہرِ کامل، سرورِ عالم ﷺ کے علم و اوصاف، شریعت و طریقت اور خاندانی عظمت و شرافت کے امین ،مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی علمی و خاندانی وراثت کے وارثِ کامل سیدنا ابو الحسن امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ۔
آپ اللہ تعالیٰ کے ولیِ کامل تھے۔ تمام علوم اور تمام زبانوں سے واقف تھے ۔
مراۃ الاسرار میں ہے:
کہ ایک دن امام موصوف کی خدمت میں ایک شخص نےحاضر ہوکر طیور (پرندوں) کی زبان میں باتیں کرنا شروع کر دیں کیں اور امام صاحب بھی اسی زبان میں جواب دیتے رہے۔ جب وہ چلا گیا تو کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ کون سی زبان تھی ہم نے تو اس قسم کی زبان نہیں سنی۔ آپ نےفرمایا کہ یہ جنات کی ایک قومی زبان ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ کو تمام مخلوقات کی زبانوں کا علم عطا فرمایا تھا۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وعلم آدم الاسماء کلہا ۔ مستجاب الدّعوات ایسے کہ لوگ آپ کو بارگاہِ صمدیت میں وسیلہ گردانتے اور اِن سے دعا کر واکر مقصود کو پہنچتے، اسی سبب سے اہلِ عراق آپ کو باب قضاء الحوائج کہتے تھے۔ آپ بڑے عابد، زاہد، قائم اللیل، صائم النہار تھے۔ بسبب کثرت عبادات و اجتہادات اور شب بیداری کے عبد الصالح کے لقب سے پکارے جاتے۔ خفیہ طور پر راتوں میں لوگوں کو حاجات کے موافق روپیہ اشرفی پہنچایا کرتے۔
آپ کے والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے کہ یہ میرے تمام فرزندوں میں بہترین فرزند ہے، اور اللہ تعالیٰ کے موتیوں سے ایک موتی ہے۔
امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
کہ قبرِ امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اجابتِ دعا کے لیے تریاق مجرب کا حکم رکھتی ہے۔
امام خلال حنبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: مجھے جب بھی کوئی معاملہ درپیش ہوتاہے ،میں امام موسیٰ کاظم بن جعفر رضی اللہ عنہما کے مزار پر حاضر ہوکر آپ کا وسیلہ پیش کرتاہوں ۔ اللہ تعالیٰ میری مشکل کو آسان کر کے میری مرادمجھے عطا فرمادیتاہے ۔(تاریخِ بغداد،باب ماذکر فی مقابر البغداد)
وصال:
55 برس کی عمر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بادشاہِ وقت کے حکم پر کھجور میں زہر ملا کر دیا گیا ۔کھجور کھاتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ دشمنوں نے مجھے زہر دیا ہے تین دن کے بعد میری وفات ہوگی۔ جیسا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ۔یوں 25رجب المرجب 183ھ کوآپ مرتبۂ شہادت پر فا ئض ہوئے۔
مزار شریف:
آپ کا مزارِ پراَنوار بغدادِ معلی میں کاظمین شریف کے مقام پر واقع ہے ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-musa-kazim-bin-imam-jafar-sadiq
Copyright © Zia-e-Taiba
نام و نسب:
اسم گرامی: موسیٰ ۔ کنیت: ابو الحسن ، ابو ابراہیم ، اور ابو علی ہے ۔ لقب: کاظم ، صالح اور صابر ہے۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے:
حضرت امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین )۔
آپ کی والدہ ماجدہ کا اسمِ گرامی امِ ولد حمیدہ بربریہ تھا۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز اتوار، 7 صفر المظفر 128 ھ بمقامِ ابواء (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام جہاں سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کی قبرِ انور ہے) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
خاندانی روایت کے مطابق آپ نے تمام علومِ ظاہری و باطنی اپنے والدِ گرامی سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے حاصل کیے۔
تمام علوم میں مہارتِ تامہ حاصل کی ، یہاں تک کہ اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہو گئے ۔بلکہ تمام اعلیٰ نسبتوں اور فضیلتوں اور علم وتقویٰ کی بدولت تمام پر سبقت لے گئے۔
سیرت و خصائص:
ساداتِ بنی ہاشم کے نیرِ اعظم ، علم و تقویٰ کے مہرِ کامل، سرورِ عالم ﷺ کے علم و اوصاف، شریعت و طریقت اور خاندانی عظمت و شرافت کے امین ،مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی علمی و خاندانی وراثت کے وارثِ کامل سیدنا ابو الحسن امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ۔
آپ اللہ تعالیٰ کے ولیِ کامل تھے۔ تمام علوم اور تمام زبانوں سے واقف تھے ۔
مراۃ الاسرار میں ہے:
کہ ایک دن امام موصوف کی خدمت میں ایک شخص نےحاضر ہوکر طیور (پرندوں) کی زبان میں باتیں کرنا شروع کر دیں کیں اور امام صاحب بھی اسی زبان میں جواب دیتے رہے۔ جب وہ چلا گیا تو کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ کون سی زبان تھی ہم نے تو اس قسم کی زبان نہیں سنی۔ آپ نےفرمایا کہ یہ جنات کی ایک قومی زبان ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ کو تمام مخلوقات کی زبانوں کا علم عطا فرمایا تھا۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وعلم آدم الاسماء کلہا ۔ مستجاب الدّعوات ایسے کہ لوگ آپ کو بارگاہِ صمدیت میں وسیلہ گردانتے اور اِن سے دعا کر واکر مقصود کو پہنچتے، اسی سبب سے اہلِ عراق آپ کو باب قضاء الحوائج کہتے تھے۔ آپ بڑے عابد، زاہد، قائم اللیل، صائم النہار تھے۔ بسبب کثرت عبادات و اجتہادات اور شب بیداری کے عبد الصالح کے لقب سے پکارے جاتے۔ خفیہ طور پر راتوں میں لوگوں کو حاجات کے موافق روپیہ اشرفی پہنچایا کرتے۔
آپ کے والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے کہ یہ میرے تمام فرزندوں میں بہترین فرزند ہے، اور اللہ تعالیٰ کے موتیوں سے ایک موتی ہے۔
امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
کہ قبرِ امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اجابتِ دعا کے لیے تریاق مجرب کا حکم رکھتی ہے۔
امام خلال حنبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: مجھے جب بھی کوئی معاملہ درپیش ہوتاہے ،میں امام موسیٰ کاظم بن جعفر رضی اللہ عنہما کے مزار پر حاضر ہوکر آپ کا وسیلہ پیش کرتاہوں ۔ اللہ تعالیٰ میری مشکل کو آسان کر کے میری مرادمجھے عطا فرمادیتاہے ۔(تاریخِ بغداد،باب ماذکر فی مقابر البغداد)
وصال:
55 برس کی عمر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بادشاہِ وقت کے حکم پر کھجور میں زہر ملا کر دیا گیا ۔کھجور کھاتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ دشمنوں نے مجھے زہر دیا ہے تین دن کے بعد میری وفات ہوگی۔ جیسا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ۔یوں 25رجب المرجب 183ھ کوآپ مرتبۂ شہادت پر فا ئض ہوئے۔
مزار شریف:
آپ کا مزارِ پراَنوار بغدادِ معلی میں کاظمین شریف کے مقام پر واقع ہے ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-musa-kazim-bin-imam-jafar-sadiq
Copyright © Zia-e-Taiba
❤2👍2
حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ شاہ محمد سلیمان ۔ القاب: غوثِ زمان ، پیر پٹھان، شہبازِ چشت اہلِ بہشت ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی بن محمد زکریا بن عبد الوہاب بن عمر خاں۔ (علیہم الرحمہ)۔
خاندانی طور پر آپ کا تعلق پٹھانوں کے قبیلہ " جعفر " سے تھا ، جو علم و عبادت اور حیاء و شرافت میں نہایت ممتاز تھا ۔ بچپن ہی میں والد ماجد کا انتقال ہو گیا، والدہ ماجدہ نے آپ کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا کیونکہ انہوں نے آپ کی ولادت سےقبل خواب میں دیکھا تھا کہ آفتاب آسمان سے اتر کر ان کی آغوش میں آگیا ہے اور سینکڑوں لوگ مبارک باد دے رہے ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1184ھ، مطابق 1770ء ،میں کوہِ سلیمان، بمقام "گڑگوجی" جوتونسہ شریف سے جانبِ مغرب میں واقع ہے ،میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
چار سال کی عمرمیں مولانا یوسف جعفر کے پاس قرآن کریم پڑھنے کے لئے بٹھائے گئے،ان سے پندرہ پارے حفظ کئے بعد ازاں بگی مسجد (یہ مسجد 1274ھ، میں سنگھڑ رودکوہی کے سیلابی پانی سے منہدم ہو گئی) تونسہ شریف میں میاں حسن علی کے پاس جاکر قرآن کریم کی تکمیل کی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔
مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے دشوار گزرا راستوں کو طے کرتے ہوئے کوٹ مٹھن پہنچے جہاں حضرت مولاناقاضی محمد عاقل قدس سرہ کے مدرسہ میں علو م دینیہ کی تحصیل و تکمیل تصوف اخلاق کی تعلیم قبلۂ عالم حضرت خواجہ نورمحمد مہاروی قدس سرہ سے حاصل فرمائی۔
آپ علیہ الرحمہ شیخِ کامل کے ساتھ اپنے وقت کے جید عالمِ دین بھی تھے۔قرآن وحدیث اورفقہ پر مکمل عبور حاصل تھا۔ صحیح مسلم، عوارف المعارف ، فتوحاتِ مکیہ اور فصوص الحکم کا درس مشہور تھا۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ نے حضرت خواجہ نور محمد مہاروی کو حکم دیا تھا "کہ "کوہ سلیمان " کی چوٹیوں پر ایک بلند پرواز شہباز رہتا ہے، اسے تلاش کر کے اپنے حلقہ میں داخل کرنا کہ اس سے سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ کو تبلیغ و اشاعت کے چار چاند لگ جائیں گے"۔
چنانچہ حضرت خواجۂ مہاروی اس بلند آشیاں شہباز کی تلاش میں ان علاقوں کا سفرکیا کرتے تھے، آخر ایک دن اوچ شریف میں وہ شہباز حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی کی صورت میں مل گیا جسے دیکھتے ہی آپ نے فرمایا: "جو ہمارا مقصود تھا وہ ہمیں مل گیا ہے" ۔ اس کے بعد قبلۂ عالم کبھی ان علاقوں میں تشریف نہیں لے گئے۔
حضرت جلال الدین سرخ بخاری علیہ الرحمہ کے مزار شریف پر آپ کو بیعت فرمایا۔ چھ سال قبلۂ عالم کی تربیت میں رہے، 22 سال کی عمر میں خلافت سے مشرف ہوئے۔ شیخ نے " تونسہ " میں قیام کی ہدایت فرمائی ۔پھر آخرعمر تک اسی علاقے میں مصروفِ عمل رہے۔
سیرت و خصائص:
امام الواصلین، حجۃ الکاملین، رئیس المتوکلین، نائبِ حضرت خواجہ معین الدین، شہبازِ لامکانی، محبوبِ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی، شاہ شاہاں، فخر ِدوراں، غوثِ زماں، پیر پٹھان حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ االلہ علیہ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کاشمار ان اولیاء کاملین میں سے ہوتا ہے جنہوں نے دینِ متین کی بہت خدمات سر انجام دی ہیں،اور مشکل وقت میں امت کی رہبری کا فریضہ ادا کیا ہے۔ آپ اپنے وقت کے ایک عظیم مصلح اور رسول اللہ ﷺ کے سچے نائب تھے۔آپ کی تبلیغ اور دینی حمیت و غیرت کا اثر وقت کے جابروں تک تھا۔خلافِ شرع کاموں پر حکمرانوں کی خوب خبرلیتے تھے۔ آپ کی برکت سے پنجاب کے اس گمنام اور بنجر علاقے کا شہرہ پوری دنیا میں ہونے لگا۔
رفتہ رفتہ جب رشد و ہدایت کا چرچا ہوا تو دور دور سےلوگ شرف ِبیعت حاصل کرنے کیلئے حاضر ِدربار ہونے لگے،نواب بہاول خان والی ِ ریاست بہاول پور ،اور افغانستان سے شاہ شجاع بھی حلقۂ خدام میں داخل ہو گئے۔آپ نے تونسہ شریف میں قیام کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ وہاں دینی تعلیم عام کرنے کے لئے مدرسہ جاری کیا اور پھر اس کام نے اس قدر ترقی کی کہ ہر طرف قال اللہ وقال الرسول ﷺ کی صدائیں فضا ءمیں بلند ہونے لگیں اور تونسہ شریف دبستان علم و عرفان بن گیا، اس دور میں تونسہ شریف علوم دینیہ کی وہ عظیم الشان "یو نیورسٹی "تھی جس میں تقریباً دو ہزار طلباء تعلیم حاصل کرتے تھے اور 50 مدرسین تعلیم دین کا فریضہ انجام دیتے تھے۔
تمام علماء طلباء اورخدام کے لئے قیام و طعام اور لباس کا انتظام مدرسہ کی طرف سے تھا۔ شاہ ِشاہاں حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی قدس سرہ نے تبلیغ دین اور رشد و ہدایت کو ہمہ گیر طریقے سے عوام الناس تک پہنچایا۔آپ کے روحانی فیض سے نہ صرف بر صغیر پاک و ہند بلکہ افغانستان، ایران، سری لنکا،عدن اور ترکمانستان کےعوام و خواص مستفید ہوئے۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ شاہ محمد سلیمان ۔ القاب: غوثِ زمان ، پیر پٹھان، شہبازِ چشت اہلِ بہشت ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی بن محمد زکریا بن عبد الوہاب بن عمر خاں۔ (علیہم الرحمہ)۔
خاندانی طور پر آپ کا تعلق پٹھانوں کے قبیلہ " جعفر " سے تھا ، جو علم و عبادت اور حیاء و شرافت میں نہایت ممتاز تھا ۔ بچپن ہی میں والد ماجد کا انتقال ہو گیا، والدہ ماجدہ نے آپ کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا کیونکہ انہوں نے آپ کی ولادت سےقبل خواب میں دیکھا تھا کہ آفتاب آسمان سے اتر کر ان کی آغوش میں آگیا ہے اور سینکڑوں لوگ مبارک باد دے رہے ہیں۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1184ھ، مطابق 1770ء ،میں کوہِ سلیمان، بمقام "گڑگوجی" جوتونسہ شریف سے جانبِ مغرب میں واقع ہے ،میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
چار سال کی عمرمیں مولانا یوسف جعفر کے پاس قرآن کریم پڑھنے کے لئے بٹھائے گئے،ان سے پندرہ پارے حفظ کئے بعد ازاں بگی مسجد (یہ مسجد 1274ھ، میں سنگھڑ رودکوہی کے سیلابی پانی سے منہدم ہو گئی) تونسہ شریف میں میاں حسن علی کے پاس جاکر قرآن کریم کی تکمیل کی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔
مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے دشوار گزرا راستوں کو طے کرتے ہوئے کوٹ مٹھن پہنچے جہاں حضرت مولاناقاضی محمد عاقل قدس سرہ کے مدرسہ میں علو م دینیہ کی تحصیل و تکمیل تصوف اخلاق کی تعلیم قبلۂ عالم حضرت خواجہ نورمحمد مہاروی قدس سرہ سے حاصل فرمائی۔
آپ علیہ الرحمہ شیخِ کامل کے ساتھ اپنے وقت کے جید عالمِ دین بھی تھے۔قرآن وحدیث اورفقہ پر مکمل عبور حاصل تھا۔ صحیح مسلم، عوارف المعارف ، فتوحاتِ مکیہ اور فصوص الحکم کا درس مشہور تھا۔
بیعت و خلافت:
حضرت مولانا فخر الدین فخرجہاں دہلوی علیہ الرحمہ نے حضرت خواجہ نور محمد مہاروی کو حکم دیا تھا "کہ "کوہ سلیمان " کی چوٹیوں پر ایک بلند پرواز شہباز رہتا ہے، اسے تلاش کر کے اپنے حلقہ میں داخل کرنا کہ اس سے سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ کو تبلیغ و اشاعت کے چار چاند لگ جائیں گے"۔
چنانچہ حضرت خواجۂ مہاروی اس بلند آشیاں شہباز کی تلاش میں ان علاقوں کا سفرکیا کرتے تھے، آخر ایک دن اوچ شریف میں وہ شہباز حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی کی صورت میں مل گیا جسے دیکھتے ہی آپ نے فرمایا: "جو ہمارا مقصود تھا وہ ہمیں مل گیا ہے" ۔ اس کے بعد قبلۂ عالم کبھی ان علاقوں میں تشریف نہیں لے گئے۔
حضرت جلال الدین سرخ بخاری علیہ الرحمہ کے مزار شریف پر آپ کو بیعت فرمایا۔ چھ سال قبلۂ عالم کی تربیت میں رہے، 22 سال کی عمر میں خلافت سے مشرف ہوئے۔ شیخ نے " تونسہ " میں قیام کی ہدایت فرمائی ۔پھر آخرعمر تک اسی علاقے میں مصروفِ عمل رہے۔
سیرت و خصائص:
امام الواصلین، حجۃ الکاملین، رئیس المتوکلین، نائبِ حضرت خواجہ معین الدین، شہبازِ لامکانی، محبوبِ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی، شاہ شاہاں، فخر ِدوراں، غوثِ زماں، پیر پٹھان حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ االلہ علیہ۔
آپ رحمۃ اللہ علیہ کاشمار ان اولیاء کاملین میں سے ہوتا ہے جنہوں نے دینِ متین کی بہت خدمات سر انجام دی ہیں،اور مشکل وقت میں امت کی رہبری کا فریضہ ادا کیا ہے۔ آپ اپنے وقت کے ایک عظیم مصلح اور رسول اللہ ﷺ کے سچے نائب تھے۔آپ کی تبلیغ اور دینی حمیت و غیرت کا اثر وقت کے جابروں تک تھا۔خلافِ شرع کاموں پر حکمرانوں کی خوب خبرلیتے تھے۔ آپ کی برکت سے پنجاب کے اس گمنام اور بنجر علاقے کا شہرہ پوری دنیا میں ہونے لگا۔
رفتہ رفتہ جب رشد و ہدایت کا چرچا ہوا تو دور دور سےلوگ شرف ِبیعت حاصل کرنے کیلئے حاضر ِدربار ہونے لگے،نواب بہاول خان والی ِ ریاست بہاول پور ،اور افغانستان سے شاہ شجاع بھی حلقۂ خدام میں داخل ہو گئے۔آپ نے تونسہ شریف میں قیام کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ وہاں دینی تعلیم عام کرنے کے لئے مدرسہ جاری کیا اور پھر اس کام نے اس قدر ترقی کی کہ ہر طرف قال اللہ وقال الرسول ﷺ کی صدائیں فضا ءمیں بلند ہونے لگیں اور تونسہ شریف دبستان علم و عرفان بن گیا، اس دور میں تونسہ شریف علوم دینیہ کی وہ عظیم الشان "یو نیورسٹی "تھی جس میں تقریباً دو ہزار طلباء تعلیم حاصل کرتے تھے اور 50 مدرسین تعلیم دین کا فریضہ انجام دیتے تھے۔
تمام علماء طلباء اورخدام کے لئے قیام و طعام اور لباس کا انتظام مدرسہ کی طرف سے تھا۔ شاہ ِشاہاں حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی قدس سرہ نے تبلیغ دین اور رشد و ہدایت کو ہمہ گیر طریقے سے عوام الناس تک پہنچایا۔آپ کے روحانی فیض سے نہ صرف بر صغیر پاک و ہند بلکہ افغانستان، ایران، سری لنکا،عدن اور ترکمانستان کےعوام و خواص مستفید ہوئے۔
👍3❤2
حضرت خواجہ شمس العارفین سیالوی قدس سرہ فرماتے ہیں۔"ولایت اور بیعت میں حضرت خواجہ مہاروی کی اتنی شہرت نہیں ہوئی جتنی شہرت حضرت خواجہ تونسوی کی ہے چنانچہ بلخ،بخارا، ایران،ہرات، ہند،سندھ اور حرمین شریفین کے لوگ اپنی استعداد کے مطابق ان سے مستفیض ہوئے"۔
سرسید احمد خان (آپ کا ہم عصر تھا)ل کھتا ہے:
" کہ شاہ صاحب کی شہرت قاف سے قاف تک ہے، دہلی جو انحطاط کے زمانے میں بھی علم و فضل کا مرکز تھا،لوگ یہاں سے علم حاصل کرنے کے لئےان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔(آثار الصنادید۔بحوالہ تذکرہ اولیائے پاکستان:331)
تعلیم الاخلاق:
جب کسی قوم کا سیاسی زوال شروع ہوتا ہے تو اس کے افکار واعمال، عادات واطوار،بھی انحطاط پذیر ہونے لگتے ہیں۔ اخلاقی زوال کے اثراتِ بد سیاسی زوال سے کہیں زیادہ مہلک ہوتے ہیں۔کیونکہ اس کے بعد تجدید و احیاء کی سب راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔ وعظ و نصیحت بے اثر ہو جاتا ہے۔ شاہ صاحب کے زمانے میں سیاسی زوال شروع ہو چکا تھا، سیاسی زوال کے پسِ پشت اخلاقی زوال کا اثر تھا، تو آپ نے اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار پر پہرہ دیا، جس کی وجہ سے یہاں دینِ اسلام کی ہر طرف بہاریں نظر آنے لگیں۔چنانچہ ایک شخص جس نے بڑی سیاحت کی تھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "میں نے ہندوستان، خراسان، وغیرہ کی سیاحت کی ہے، جیسے نخارا، اورتونسہ میں دین داری دیکھی ہے ایسی دین داری کہیں نہیں دیکھی"۔ یہ وہ دور تھا جب پنجاب پرسکھوں کا تسلط تھا اور انگریزی اقتدار بڑی سرعت سے پھیل رہا تھا،آپ نے واشگاف الفاظ میں مسلمانوں کو احساس دلایا کہ تمہاری کامیابی کا راز کتاب و سنت کی پیروی اور اخلاق و کردارکو سنت مبارکہ کے سانچے میں ڈھالنے سے ہے،آپ نے واضح طور پر فرمایا:"چونکہ مسلمانوں نےحضور ﷺکی پیروی ترک کردی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ان پر مسلط کردیا ہے"۔(تذکرہ اکابرِ اہلسنت:472)
صوفیاء کی اصلاح:
جب کسی قوم پر زوال آتاہے توتمام شعبہ جات میں زوال کے اثرات ہوتے ہیں۔ آپ کے زمانہ میں بھی صوفیاء مختلف اعتقادی اور عملی بیماریوں کا شکار تھے۔ اعمال و وظائف میں حد سے زیادہ اعتقاد تھا اور سارا وقت اسی میں صرف کرتےتھے۔امت فسق وفجور میں مبتلا ہے،اور حکمران عیاشیوں میں مصروف میں ہیں، اور یہ حضرات تسبیح لے کر جنگلوں اور غاروں میں بیٹھے ہیں، ایسی عبادت کا کیا فائدہ؟۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ "سالک را باید کہ غمِ دین خورد کہ مقصودِ دارین است" کہ صوفیا ءکو چاہئے کہ دین کا غم پیداکریں کیونکہ مقصودِ دارین یہی ہے۔(نافع السالکین:74)
علماء کو تنبیہ:
حضرت نائبِ غوث الاعظم نے جس طبقے میں بے راہ روی دیکھی اس کی طرف فوراً توجہ کی۔ "علماء" کی بے راہ روی دیکھی توکانپ اٹھے اور فرمایا "اصلاح العالِم اصلاح العالم، فساد العالمِ فسادالعالم" اور فرمایا! "علماء نہ توجنت میں تنہا جاتے ہیں اور نہ ہی دوزخ میں،دونوں جگہ کثیر جماعت ان کے ساتھ ہوتی ہے"۔
آپ فرماتے ہیں:
"علم بغیر عمل اورعمل بغیرعقیدۂ اہل سنت و جماعت کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔ شریعت کی ظاہری اور باطنی طور پر اتباع کے بغیر کمال انسانی کا حصول نا ممکن ہے "۔آپ نے تمام عمر ملت اسلامی میں نئی روح پھونکنے میں صرف کی اور سینکڑوں ایسے افراد تیار کئے جو عظمت اسلام کے علمبردار اور صحیح معنوں میں ملت اسلامیہ کے نقیب تھے۔لاکھوں افراد آپ کی ہدایت سے حیات جاودانی کے راز سے آشنا ہوئے اور بیسیوں اجازت و خلافت سے مشرف ہو کر رہبر خلائق بنے۔
وصال:
آپ کا وصال 7 / صفر المظفر 1267ھ، مطابق 13/دسمبر 1850ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار "تونسہ شریف" ضلع ڈیرہ خان (پنجاب،پاکستان) میں مرجعِ خلائق ہے۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-shah-muhammad-suleman-taunsvi
Copyright © Zia-e-Taiba
سرسید احمد خان (آپ کا ہم عصر تھا)ل کھتا ہے:
" کہ شاہ صاحب کی شہرت قاف سے قاف تک ہے، دہلی جو انحطاط کے زمانے میں بھی علم و فضل کا مرکز تھا،لوگ یہاں سے علم حاصل کرنے کے لئےان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔(آثار الصنادید۔بحوالہ تذکرہ اولیائے پاکستان:331)
تعلیم الاخلاق:
جب کسی قوم کا سیاسی زوال شروع ہوتا ہے تو اس کے افکار واعمال، عادات واطوار،بھی انحطاط پذیر ہونے لگتے ہیں۔ اخلاقی زوال کے اثراتِ بد سیاسی زوال سے کہیں زیادہ مہلک ہوتے ہیں۔کیونکہ اس کے بعد تجدید و احیاء کی سب راہیں مسدود ہوجاتی ہیں۔ وعظ و نصیحت بے اثر ہو جاتا ہے۔ شاہ صاحب کے زمانے میں سیاسی زوال شروع ہو چکا تھا، سیاسی زوال کے پسِ پشت اخلاقی زوال کا اثر تھا، تو آپ نے اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار پر پہرہ دیا، جس کی وجہ سے یہاں دینِ اسلام کی ہر طرف بہاریں نظر آنے لگیں۔چنانچہ ایک شخص جس نے بڑی سیاحت کی تھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "میں نے ہندوستان، خراسان، وغیرہ کی سیاحت کی ہے، جیسے نخارا، اورتونسہ میں دین داری دیکھی ہے ایسی دین داری کہیں نہیں دیکھی"۔ یہ وہ دور تھا جب پنجاب پرسکھوں کا تسلط تھا اور انگریزی اقتدار بڑی سرعت سے پھیل رہا تھا،آپ نے واشگاف الفاظ میں مسلمانوں کو احساس دلایا کہ تمہاری کامیابی کا راز کتاب و سنت کی پیروی اور اخلاق و کردارکو سنت مبارکہ کے سانچے میں ڈھالنے سے ہے،آپ نے واضح طور پر فرمایا:"چونکہ مسلمانوں نےحضور ﷺکی پیروی ترک کردی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ان پر مسلط کردیا ہے"۔(تذکرہ اکابرِ اہلسنت:472)
صوفیاء کی اصلاح:
جب کسی قوم پر زوال آتاہے توتمام شعبہ جات میں زوال کے اثرات ہوتے ہیں۔ آپ کے زمانہ میں بھی صوفیاء مختلف اعتقادی اور عملی بیماریوں کا شکار تھے۔ اعمال و وظائف میں حد سے زیادہ اعتقاد تھا اور سارا وقت اسی میں صرف کرتےتھے۔امت فسق وفجور میں مبتلا ہے،اور حکمران عیاشیوں میں مصروف میں ہیں، اور یہ حضرات تسبیح لے کر جنگلوں اور غاروں میں بیٹھے ہیں، ایسی عبادت کا کیا فائدہ؟۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ "سالک را باید کہ غمِ دین خورد کہ مقصودِ دارین است" کہ صوفیا ءکو چاہئے کہ دین کا غم پیداکریں کیونکہ مقصودِ دارین یہی ہے۔(نافع السالکین:74)
علماء کو تنبیہ:
حضرت نائبِ غوث الاعظم نے جس طبقے میں بے راہ روی دیکھی اس کی طرف فوراً توجہ کی۔ "علماء" کی بے راہ روی دیکھی توکانپ اٹھے اور فرمایا "اصلاح العالِم اصلاح العالم، فساد العالمِ فسادالعالم" اور فرمایا! "علماء نہ توجنت میں تنہا جاتے ہیں اور نہ ہی دوزخ میں،دونوں جگہ کثیر جماعت ان کے ساتھ ہوتی ہے"۔
آپ فرماتے ہیں:
"علم بغیر عمل اورعمل بغیرعقیدۂ اہل سنت و جماعت کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔ شریعت کی ظاہری اور باطنی طور پر اتباع کے بغیر کمال انسانی کا حصول نا ممکن ہے "۔آپ نے تمام عمر ملت اسلامی میں نئی روح پھونکنے میں صرف کی اور سینکڑوں ایسے افراد تیار کئے جو عظمت اسلام کے علمبردار اور صحیح معنوں میں ملت اسلامیہ کے نقیب تھے۔لاکھوں افراد آپ کی ہدایت سے حیات جاودانی کے راز سے آشنا ہوئے اور بیسیوں اجازت و خلافت سے مشرف ہو کر رہبر خلائق بنے۔
وصال:
آپ کا وصال 7 / صفر المظفر 1267ھ، مطابق 13/دسمبر 1850ء کو ہوا ۔ آپ کا مزار پر انوار "تونسہ شریف" ضلع ڈیرہ خان (پنجاب،پاکستان) میں مرجعِ خلائق ہے۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-shah-muhammad-suleman-taunsvi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤2👍2
شیخُ الاسلام حضرت خواجہ بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ
نام ونسب:
اسمِ گرامی: بہاؤالدین زکریا ۔ کنیت: ابو محمد، ابو البرکات ۔ القاب: شیخ الاسلام، الشیخ الکبیر، غوث العالمین، بھاؤالحق والدّین، اسدی ہاشمی، قرشی، ملتانی ۔
آپ کا پُورا نام اس طرح ہے:
شیخ الاسلام غوث العالمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا ملتانی بن شیخ وجیہ الدین بن کمال الدین، بن جلال الدین، بن علی قاضی، بن شمس الدین، بن شیخ حسین خوارزمی ، بن مطوف، بن حزیمہ، بن تاج الدین المطوف، بن عبد الرحیم، بن عبد الرحمن، بن ھباء ، بن اسد، بن ہاشم، بن عبدِ مناف ۔ الیٰ آخرہِ ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ قریشی ہاشمی ہیں ۔
والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب مولا علی تک منتہی ہوتا ہے۔
آپ کے اجداد مکۃ المکرمہ سے ہند تشریف لائے تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت شبِ قدر، شبِ جمعہ،/27 رمضان المبارک 566ھ، مطابق جون /1171ء ، کو "کوٹ کروڑ" موجودہ "کروڑ لعل عیسن" (ضلع لیہ، پنجاب، پاکستان) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
سات سال کی کم عمر میں قرآنِ مجید قرأتِ سبعہ عشرہ سے حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد درسی کتب کی طرف متوجہ ہوئے۔ 12 سال کی عمر میں والدِ ماجد کا انتقال ہو گیا۔ لیکن آپ نے تعلیم کا سلسلہ نہ روکا ۔ مزید حصولِ علم کے لئے آپ خراسان ، نجف اشرف، بغداد، مکہ المکرمہ تشریف لے گئے ۔ وہاں سات سال درس و تدریس میں مشغول رہے،
بعد ازاں بخارا آ گئے اور وہاں علم کی تکمیل کی، وہاں آپ "بہاء الدین فرشتہ" کے نام سے مشہور ہوئے۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ نے شیخ کمال الدین محمد یمنی سے جن کا شمار محدثین کبارمیں تھا، درس حدیث لیا اور اجازت نامہ بھی حاصل کیا ۔ آپ نے مدینہ منورہ میں پانچ سال عبادت و ریاضت میں گزارے۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے اکابر علماء و فقہاء و محدثین و مفسرین میں ہوتا تھا ۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "تکمیلِ علوم کے بعد پندرہ سال تک تدریس کرتے رہے۔روزانہ ستر عالم و فاضل (مختلف علوم وفنون میں) آپ سے علمی پیاس بجھاتے تھے ۔ (نفحات الانس: 436)
بیعت و خلافت:
آپ شیخ المشائخ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ سترہ روز کے مجاہدہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کےحکم سے خرقۂ خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام والمسلمین، غوث العالمین، بہاؤالحق والدین ، قطب الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، تاجدارِ ملتان، حضرت غوث بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ مادر زاد ولی تھے۔ آپ کے والدِ ماجد جب قرآن شریف پڑھتے اور آپ آواز سنتے تو آپ فوراً دودھ پینا چھوڑ دیتے تھے اور قرآن شریف سننے میں محو ہو جاتے تھے ۔ آپ نے اسلام کی اشاعت کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں اشاعتِ اسلام کا سہرا صوفیاء کرام کے سر ہے جن کی مساعیِ جمیلہ سے کفر و شرک کے مستحکم قلعے نیست و نابود ہو گئے ۔
ہند کے بُت کدوں کی رونق ماند پڑنے لگی ۔ شمعِ توحید فروزاں ہونے سے کفر کی تاریکی چھٹ گئی اور دیارِ ہند میں ہر سو صدائے لا الٰہ الا اللہ گونجنے لگی ۔ اس خطۂ ارض میں قدم رنجہ فرمانے والے صوفیاء عظام نے اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعے یہاں کے باسیوں کے دل موہ لیے اور وہ جوق در جوق دولتِ اسلام سے بہرہ ور ہونے لگے ۔ یہ انہیں بزرگانِ دین کے قُدوم میمنت لزوم کا اثر ہے کہ آج یہاں کروڑوں مسلمان موجود ہیں ۔
حضرت شیخ الاسلام نے اپنی زندگی تبلیغِ اسلام کے لئے وقف کر دی تھی ۔ آپ جب ملتان تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا ۔ جو صدیوں سے ہنود کا مرکز تھی ۔ وہ قلعہ کہنہ قاسم باغ پر واقع بر صغیر کے تاریخی مندر "پر ہلاد جی " کے سامنے تھی۔ جو ہندو بھی پوجا پاٹ کر کے مندر سے نکلتا اور آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتا تو ضرور متأثر ہوتا اور آپ کی پر کشش شخصیت، آپ کے اعلیٰ اخلاق اور آپ کی دل موہ لینے والی گفتار کے باعث حلقہ بگوشِ اسلام ہو جاتا۔
آہستہ آہستہ مندر کی رونقیں ماندپڑگئیں۔بالآخر ویران ہی ہوگیا،اور آج کل اس کے چند آثار کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا۔قریب ہی حضرت کا مزار اور مسجد ہے،اور مسجد کی دیوار تو مندر کی دیوار سے بالکل متصل ہے ،جہاں ہر وقت قال اللہ اور قال رسول ﷺکی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ بر صغیر میں اسلام کی نشر و اشاعت کرنے والی اولیاء اللہ کی پاکیزہ جماعت ہے۔ آپ نے اس جگہ "مدرسہ بہائیہ" کی بنیاد رکھی ۔ جس میں اس وقت تمام مروجہ علوم کی تعلیم دی جاتی تھی ۔ ساتھ دنیا کی اہم زبانیں بھی سکھائی جاتی تھیں ۔ جس علاقے میں مبلغین کو بھیجنا مقصود ہوتا تھا پہلے اس کو اس علاقے کی زبان و ثقافت کی مکمل تعلیم دی جاتی تھی، پھر اس علاقے کی طرف تاجر کی صورت میں روانہ کر دیا جاتا تھا ۔ سامانِ تجارت ،اور مکمل سفری اخراجات، اور ان کی
نام ونسب:
اسمِ گرامی: بہاؤالدین زکریا ۔ کنیت: ابو محمد، ابو البرکات ۔ القاب: شیخ الاسلام، الشیخ الکبیر، غوث العالمین، بھاؤالحق والدّین، اسدی ہاشمی، قرشی، ملتانی ۔
آپ کا پُورا نام اس طرح ہے:
شیخ الاسلام غوث العالمین حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت شیخ الاسلام بہاؤالدین زکریا ملتانی بن شیخ وجیہ الدین بن کمال الدین، بن جلال الدین، بن علی قاضی، بن شمس الدین، بن شیخ حسین خوارزمی ، بن مطوف، بن حزیمہ، بن تاج الدین المطوف، بن عبد الرحیم، بن عبد الرحمن، بن ھباء ، بن اسد، بن ہاشم، بن عبدِ مناف ۔ الیٰ آخرہِ ۔ علیہم الرحمۃ والرضوان۔
آپ قریشی ہاشمی ہیں ۔
والدہ کی طرف سے سلسلۂ نسب مولا علی تک منتہی ہوتا ہے۔
آپ کے اجداد مکۃ المکرمہ سے ہند تشریف لائے تھے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت شبِ قدر، شبِ جمعہ،/27 رمضان المبارک 566ھ، مطابق جون /1171ء ، کو "کوٹ کروڑ" موجودہ "کروڑ لعل عیسن" (ضلع لیہ، پنجاب، پاکستان) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم:
سات سال کی کم عمر میں قرآنِ مجید قرأتِ سبعہ عشرہ سے حفظ کر لیا ۔ اس کے بعد درسی کتب کی طرف متوجہ ہوئے۔ 12 سال کی عمر میں والدِ ماجد کا انتقال ہو گیا۔ لیکن آپ نے تعلیم کا سلسلہ نہ روکا ۔ مزید حصولِ علم کے لئے آپ خراسان ، نجف اشرف، بغداد، مکہ المکرمہ تشریف لے گئے ۔ وہاں سات سال درس و تدریس میں مشغول رہے،
بعد ازاں بخارا آ گئے اور وہاں علم کی تکمیل کی، وہاں آپ "بہاء الدین فرشتہ" کے نام سے مشہور ہوئے۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ نے شیخ کمال الدین محمد یمنی سے جن کا شمار محدثین کبارمیں تھا، درس حدیث لیا اور اجازت نامہ بھی حاصل کیا ۔ آپ نے مدینہ منورہ میں پانچ سال عبادت و ریاضت میں گزارے۔ آپ کا شمار اپنے وقت کے اکابر علماء و فقہاء و محدثین و مفسرین میں ہوتا تھا ۔ مولانا جامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "تکمیلِ علوم کے بعد پندرہ سال تک تدریس کرتے رہے۔روزانہ ستر عالم و فاضل (مختلف علوم وفنون میں) آپ سے علمی پیاس بجھاتے تھے ۔ (نفحات الانس: 436)
بیعت و خلافت:
آپ شیخ المشائخ شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ۔ سترہ روز کے مجاہدہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کےحکم سے خرقۂ خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ الاسلام والمسلمین، غوث العالمین، بہاؤالحق والدین ، قطب الاولیاء، قدوۃ الصلحاء، تاجدارِ ملتان، حضرت غوث بہاؤالدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ مادر زاد ولی تھے۔ آپ کے والدِ ماجد جب قرآن شریف پڑھتے اور آپ آواز سنتے تو آپ فوراً دودھ پینا چھوڑ دیتے تھے اور قرآن شریف سننے میں محو ہو جاتے تھے ۔ آپ نے اسلام کی اشاعت کے لئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں اشاعتِ اسلام کا سہرا صوفیاء کرام کے سر ہے جن کی مساعیِ جمیلہ سے کفر و شرک کے مستحکم قلعے نیست و نابود ہو گئے ۔
ہند کے بُت کدوں کی رونق ماند پڑنے لگی ۔ شمعِ توحید فروزاں ہونے سے کفر کی تاریکی چھٹ گئی اور دیارِ ہند میں ہر سو صدائے لا الٰہ الا اللہ گونجنے لگی ۔ اس خطۂ ارض میں قدم رنجہ فرمانے والے صوفیاء عظام نے اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعے یہاں کے باسیوں کے دل موہ لیے اور وہ جوق در جوق دولتِ اسلام سے بہرہ ور ہونے لگے ۔ یہ انہیں بزرگانِ دین کے قُدوم میمنت لزوم کا اثر ہے کہ آج یہاں کروڑوں مسلمان موجود ہیں ۔
حضرت شیخ الاسلام نے اپنی زندگی تبلیغِ اسلام کے لئے وقف کر دی تھی ۔ آپ جب ملتان تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ نے ایسی جگہ کا انتخاب کیا ۔ جو صدیوں سے ہنود کا مرکز تھی ۔ وہ قلعہ کہنہ قاسم باغ پر واقع بر صغیر کے تاریخی مندر "پر ہلاد جی " کے سامنے تھی۔ جو ہندو بھی پوجا پاٹ کر کے مندر سے نکلتا اور آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتا تو ضرور متأثر ہوتا اور آپ کی پر کشش شخصیت، آپ کے اعلیٰ اخلاق اور آپ کی دل موہ لینے والی گفتار کے باعث حلقہ بگوشِ اسلام ہو جاتا۔
آہستہ آہستہ مندر کی رونقیں ماندپڑگئیں۔بالآخر ویران ہی ہوگیا،اور آج کل اس کے چند آثار کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا۔قریب ہی حضرت کا مزار اور مسجد ہے،اور مسجد کی دیوار تو مندر کی دیوار سے بالکل متصل ہے ،جہاں ہر وقت قال اللہ اور قال رسول ﷺکی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ بر صغیر میں اسلام کی نشر و اشاعت کرنے والی اولیاء اللہ کی پاکیزہ جماعت ہے۔ آپ نے اس جگہ "مدرسہ بہائیہ" کی بنیاد رکھی ۔ جس میں اس وقت تمام مروجہ علوم کی تعلیم دی جاتی تھی ۔ ساتھ دنیا کی اہم زبانیں بھی سکھائی جاتی تھیں ۔ جس علاقے میں مبلغین کو بھیجنا مقصود ہوتا تھا پہلے اس کو اس علاقے کی زبان و ثقافت کی مکمل تعلیم دی جاتی تھی، پھر اس علاقے کی طرف تاجر کی صورت میں روانہ کر دیا جاتا تھا ۔ سامانِ تجارت ،اور مکمل سفری اخراجات، اور ان کی
👍3❤2
حفاظت کا مکمل بند و بست حضرت شیخ الاسلام خود کرتے تھے ۔
اور آپ ان کو روانہ کرتے وقت یہ نصیحتیں کرتے تھے۔ "سامان کم منافع پر فروخت کرنا۔ لین دین میں اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھنا ۔ ناقص چیزوں کو فروخت نہ کرنا ، بلکہ فقراء اور مساکین کو مفت دے دینا ۔ خریداروں سے خندہ پیشانی سے پیش آنا۔ جب تک لوگوں کا اعتماد حاصل نہ ہو، ان پر اسلام پیش نہ کرنا۔ "اس طرح علمائے ربانیین سوداگروں کے لباس میں سامانِ تجارت لے کر روانہ ہوتے اور انڈونیشیا، ملائیشیا، جاوا، سماٹرا، فلپائن، برما، سندھ، افغانستان دکن، بنگال، بلوچستان، کشمیر، اور چین وغیرہ تک پہنچ کر دوکانیں کھولتے اور دیانتداری سے لین دین کرتے اور ساتھ ہی لوگوں پر اسلام پیش کرتے جس کا خاطر خواہ نتیجہ نکلتا اور لوگ ان کے حسنِ اخلاق ، ان کی خدا ترسی، دینداری، دیانت داری اور معاملات میں صفائی ستھرائی دیکھ کر گرویدہ ہو جاتے اوربالآخر اسلام قبول کر لیتے ۔
آج مشرقِ بعیدکے چھوٹے چھوٹے جزیروں میں جو کروڑوں مسلمان نظر آتے ہیں، یہ انہی تاجر مبلغین کی سعیِ مشکور کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح سیاست سے گہری دلچسپی تھی۔تمام معاملات پر نظر رکھتے تھے۔آپ کے زمانے میں ملتان پر اسماعیلیوں اور قرامطہ کی حکومت تھی۔لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف راغب کرتے تھے۔مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کے خیرخواہ تھے۔حضرت شیخ الاسلام نے ان کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا۔بالآخر نتیجہ ان کے اقتدار ختم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا،اور اسلامی حکومت کی راہ ہموار ہوئی۔
الغرض حضرت شیخ الاسلام کےتبلیغی کام کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ آپ کا معمول تھا عصر کی اذان سنتے ہی مسجد میں تشریف لا کر عصر باجماعت ادا فرماتے تھے۔ اس کے بعد منبر پر تشریف لے جاتے۔ قرآن وحدیث کا وعظ فرماتے ۔ اس موقعہ پر دور ونزدیک کے لوگ کام چھوڑ کر جوق در جوق آتے اور وعظ سنتے ۔ تاثیر اس قدر تھی کہ اگر غیر مسلم شریکِ درس ہوتا توبغیر اسلام قبول کیے نہ رہتا۔اور مسلمان سنتا ، ضرور متأثر ہوتا تھا اور برے کاموں کو چھوڑ کر زہد و تقویٰ اور نیک اعمال اختیار کرتا تھا۔
حضرت شیخ الاسلام ہمیشہ لوگوں کو یہ وصیت فرماتے تھے: "ہرآدمی پر لازم ہے کہ وہ مکمل سچائی اورخلوص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ،ہرماسواکاخیال دل سے نکال دے۔اللہ تعالیٰ سے رسائی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کہ اپنے حال کو درست کر لو ۔ اپنے اقوال وافعال کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ سے مزین کرلو۔تمام معاملات میں بارگاہِ صمد جل جلالہ سے استعانت حاصل کرو ۔ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو۔تاکہ تمہیں نیک اعمال کرنے کی توفیق حاصل ہو"۔
وصال:
بروز منگل 7 / صفر المظفر 661ھ، مطابق دسمبر /1262ء، کو سجدے کی حالت میں ہوا۔
مزار شریف:
آپ کا مزار مدینۃ الاولیاء ملتان میں منبعِ انوار و برکات ہے۔
ماخذ و مراجع:
صوفیائے پنجاب ۔ الاوراد ۔ نفحات الانس ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-bahauddin-zakariya-multani-soharwardi
Copyright © Zia-e-Taiba
اور آپ ان کو روانہ کرتے وقت یہ نصیحتیں کرتے تھے۔ "سامان کم منافع پر فروخت کرنا۔ لین دین میں اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھنا ۔ ناقص چیزوں کو فروخت نہ کرنا ، بلکہ فقراء اور مساکین کو مفت دے دینا ۔ خریداروں سے خندہ پیشانی سے پیش آنا۔ جب تک لوگوں کا اعتماد حاصل نہ ہو، ان پر اسلام پیش نہ کرنا۔ "اس طرح علمائے ربانیین سوداگروں کے لباس میں سامانِ تجارت لے کر روانہ ہوتے اور انڈونیشیا، ملائیشیا، جاوا، سماٹرا، فلپائن، برما، سندھ، افغانستان دکن، بنگال، بلوچستان، کشمیر، اور چین وغیرہ تک پہنچ کر دوکانیں کھولتے اور دیانتداری سے لین دین کرتے اور ساتھ ہی لوگوں پر اسلام پیش کرتے جس کا خاطر خواہ نتیجہ نکلتا اور لوگ ان کے حسنِ اخلاق ، ان کی خدا ترسی، دینداری، دیانت داری اور معاملات میں صفائی ستھرائی دیکھ کر گرویدہ ہو جاتے اوربالآخر اسلام قبول کر لیتے ۔
آج مشرقِ بعیدکے چھوٹے چھوٹے جزیروں میں جو کروڑوں مسلمان نظر آتے ہیں، یہ انہی تاجر مبلغین کی سعیِ مشکور کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح سیاست سے گہری دلچسپی تھی۔تمام معاملات پر نظر رکھتے تھے۔آپ کے زمانے میں ملتان پر اسماعیلیوں اور قرامطہ کی حکومت تھی۔لوگوں کو اپنے مذہب کی طرف راغب کرتے تھے۔مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کے خیرخواہ تھے۔حضرت شیخ الاسلام نے ان کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا۔بالآخر نتیجہ ان کے اقتدار ختم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا،اور اسلامی حکومت کی راہ ہموار ہوئی۔
الغرض حضرت شیخ الاسلام کےتبلیغی کام کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ آپ کا معمول تھا عصر کی اذان سنتے ہی مسجد میں تشریف لا کر عصر باجماعت ادا فرماتے تھے۔ اس کے بعد منبر پر تشریف لے جاتے۔ قرآن وحدیث کا وعظ فرماتے ۔ اس موقعہ پر دور ونزدیک کے لوگ کام چھوڑ کر جوق در جوق آتے اور وعظ سنتے ۔ تاثیر اس قدر تھی کہ اگر غیر مسلم شریکِ درس ہوتا توبغیر اسلام قبول کیے نہ رہتا۔اور مسلمان سنتا ، ضرور متأثر ہوتا تھا اور برے کاموں کو چھوڑ کر زہد و تقویٰ اور نیک اعمال اختیار کرتا تھا۔
حضرت شیخ الاسلام ہمیشہ لوگوں کو یہ وصیت فرماتے تھے: "ہرآدمی پر لازم ہے کہ وہ مکمل سچائی اورخلوص کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ،ہرماسواکاخیال دل سے نکال دے۔اللہ تعالیٰ سے رسائی کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کہ اپنے حال کو درست کر لو ۔ اپنے اقوال وافعال کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ سے مزین کرلو۔تمام معاملات میں بارگاہِ صمد جل جلالہ سے استعانت حاصل کرو ۔ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو۔تاکہ تمہیں نیک اعمال کرنے کی توفیق حاصل ہو"۔
وصال:
بروز منگل 7 / صفر المظفر 661ھ، مطابق دسمبر /1262ء، کو سجدے کی حالت میں ہوا۔
مزار شریف:
آپ کا مزار مدینۃ الاولیاء ملتان میں منبعِ انوار و برکات ہے۔
ماخذ و مراجع:
صوفیائے پنجاب ۔ الاوراد ۔ نفحات الانس ۔ تذکرہ علمائے ہند ۔ تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-sheikh-bahauddin-zakariya-multani-soharwardi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤2👍2
پیر پٹھان، غوث زمان، حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی چشتی نظامی رضی اللہ عنہ کی ولادت 1174ھ گڑگوجی ضلع لورالائی، بلوچستان، پاکستان میں ہوئی۔ آپ ہم شبیہ غوث اعظم، مرید و خلیفہ خواجہ نور محمد مہاروی، عالم باعمل، متبع سنت، خیر خواہ امت، منکسر المزاج، سخی، فیاض، مہمان نواز، اور مقبول انام تھے۔ زندگی بھر علوم و معارِف کی تروِیج و ترقی کے لیے مصروف عمل رہے۔ دینِ اسلام کی اشاعت کے لیے جس کو اہل پایا اسے خلافت عطا فرما کر فیضانِ اسلام عام کرنے لیے مختلف مقامات پر روانہ فرمایا۔ 7 صفر 1267ھ کو وصال فرمایا۔ عالیشان مزار مبارک تونسہ شریف، ضلع ڈیرہ غازی خان، پاکستان میں دعاؤں کی قبولیت کا مقام ہے۔ (مناقب المحبوبین، نافع السالکین)
Peer Pathan, Ghaus of Era, Khwajah Muhammad Sulayman Taunsawi Chishti Nizami (RadiyAllahu Anhu) was born in 1174 AH in Garrgoji, Loralai district, Balochistan, Pakistan. He was a manifestation of Ghous al-Azam, murid and khalifah of Khwajah Noor Muhammad Maharavi, pious practicing scholar, follower of Sunnah, benefactor of Ummah, very generous and hospitable, and a beloved personality. He remained engaged in the promotion of sacred knowledge throughout his life. Whoever he found qualified, he honored them with his caliphate and sent them to various places to spread the message of Islam. He passed away on 7 Safar 1267 AH. His glorious mausoleum in Taunsa Sharif, District, Dera Ghazi Khan, Pakistan is a place of the acceptance of prayers. [Manaqib al-Mahbubain, Nafi’ as-Salikeen]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid02D8Kc3rQC514DxukWfUz9iAfRaQAFDGKJ6fEXd87cdLoYnJHjBMEcgVVDw2JNTGoXl/
Peer Pathan, Ghaus of Era, Khwajah Muhammad Sulayman Taunsawi Chishti Nizami (RadiyAllahu Anhu) was born in 1174 AH in Garrgoji, Loralai district, Balochistan, Pakistan. He was a manifestation of Ghous al-Azam, murid and khalifah of Khwajah Noor Muhammad Maharavi, pious practicing scholar, follower of Sunnah, benefactor of Ummah, very generous and hospitable, and a beloved personality. He remained engaged in the promotion of sacred knowledge throughout his life. Whoever he found qualified, he honored them with his caliphate and sent them to various places to spread the message of Islam. He passed away on 7 Safar 1267 AH. His glorious mausoleum in Taunsa Sharif, District, Dera Ghazi Khan, Pakistan is a place of the acceptance of prayers. [Manaqib al-Mahbubain, Nafi’ as-Salikeen]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid02D8Kc3rQC514DxukWfUz9iAfRaQAFDGKJ6fEXd87cdLoYnJHjBMEcgVVDw2JNTGoXl/
❤2👍2
مرید و خلیفہ سرکار سہرورد، ولی کامل، شیخ الاسلام، حضرت سیدنا شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی قریشی سہروردی رضی اللہ عنہ 27 رمضان 566ھ بروز جمعہ کوٹ کروڑ، ضلع لیہ، جنوبی پنجاب، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ آپ مادرزاد ولی، حافظ قرآن، عالم دین، شیخ طریقت اور امام سلسلۂ سہروردیہ فی الہند ہیں۔ آپ نے اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے ایک ادارہ قائم فرمایا جہاں صرف روایتی عالم نہیں بلکہ مالی طور پر مستحکم اور مختلف زبانوں میں ماہر اعلی تربتی یافتہ بہترین علماء، مبلغین اور تاجر تیار کیے جاتے تھے۔ 7 صفر 661ھ کو ملتان شریف، پنجاب، پاکستان میں بحالت سجدہ وصال فرمایا جہاں آپ کا مزار فائز الانوار مرجع خاص و عام ہے۔ (خزینۃ الاصفیاء، تذکرہ صوفیائے پنجاب، تذکرہ اولیائے پاک و ہند)
Murid and Khalifah of Sarkar Suhraward, Perfect Wali, Shaykh al-Islam, Sayyiduna Shaykh Bahauddin Zakariyya Multani Qurayshi Suhrawardi (RadiyAllahu Anhu) was born on Friday, 27th Ramadan 566 AH in Kot Karor, Layyah District, Southern Punjab, Pakistan. He was a born wali, hafiz of the Holy Quran, pious practicing scholar, spiritual guide, and the leader of the Suhrawardiyah Sufi order in the Indian Sub-continent. He established an institution for the propagation of Islam where not only traditional scholars but financially stable, experts in various languages, and highly trained excellent scholars, preachers, and traders were produced. He left this mundane world on 7 Safar 661 AH whilst in prostration in Multan, Punjab, Pakistan where his magnificent mausoleum is frequently visited by people from all walks of life. [Khazinat al-Asfiya, Tazkirah Sufiya-e-Punjab, Tazkirah Awliya-e Pak wa Hind]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0WLB8CrK81cdrfhCCaUtTRqZAcoeHybmHZdnvNSYrHzz9SJaF1kaqVsNXeyfNUcEfl/
Murid and Khalifah of Sarkar Suhraward, Perfect Wali, Shaykh al-Islam, Sayyiduna Shaykh Bahauddin Zakariyya Multani Qurayshi Suhrawardi (RadiyAllahu Anhu) was born on Friday, 27th Ramadan 566 AH in Kot Karor, Layyah District, Southern Punjab, Pakistan. He was a born wali, hafiz of the Holy Quran, pious practicing scholar, spiritual guide, and the leader of the Suhrawardiyah Sufi order in the Indian Sub-continent. He established an institution for the propagation of Islam where not only traditional scholars but financially stable, experts in various languages, and highly trained excellent scholars, preachers, and traders were produced. He left this mundane world on 7 Safar 661 AH whilst in prostration in Multan, Punjab, Pakistan where his magnificent mausoleum is frequently visited by people from all walks of life. [Khazinat al-Asfiya, Tazkirah Sufiya-e-Punjab, Tazkirah Awliya-e Pak wa Hind]
https://www.facebook.com/100050689590519/posts/pfbid0WLB8CrK81cdrfhCCaUtTRqZAcoeHybmHZdnvNSYrHzz9SJaF1kaqVsNXeyfNUcEfl/
👍4❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-02-1444 ᴴ | 04-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
07-02-1444 ᴴ | 05-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
👍3❤2