🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-02-1444 ᴴ | 03-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-02-1444 ᴴ | 04-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
3👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
06-02-1444 ᴴ | 04-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
06-02-1444 ᴴ | 04-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
3👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍2
📚 عرسِ اعلیٰ حضرت پر نوری مشن اور اعلیٰ حضرت ریسرچ سینٹر مالیگاؤں کی پیشکش 📚

اہلِ سنّت کی کتابیں رعایتی ہدیہ میں
تفسیر، فتاویٰ، اسلامی تعلیمات و عقائد پر مشتمل 6 طرز کے سیٹ
(تفصیل امیج میں ملاحظہ فرمائیں-)

مکمل سیٹ (78 جلدیں): 41200₹
مکمل سیٹ رعایتی ہدیہ: 14750₹
نوٹ: ترسیل کے اخراجات بذمہ خریدار
ترسیل: نوری مشن مالیگاؤں

https://www.facebook.com/107640804524449/posts/pfbid0WVtqqeqxoCGxiUkVTmmhkJV1maMjfUTPGsSUuEYAmDpo6z1xKFQvUYTD4SDeiycRl/
3👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍2
حضرت امام  موسی کاظم

نام و نسب:
اسم گرامی: موسیٰ ۔ کنیت: ابو الحسن ، ابو ابراہیم ، اور ابو علی ہے ۔ لقب: کاظم ، صالح اور صابر ہے۔

سلسلہ نسب اسطرح ہے:
حضرت امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین )۔

آپ کی والدہ ماجدہ کا اسمِ گرامی امِ ولد حمیدہ بربریہ تھا۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز اتوار، 7 صفر المظفر 128 ھ بمقامِ ابواء (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام جہاں سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کی قبرِ انور ہے) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
خاندانی روایت کے مطابق آپ نے تمام علومِ ظاہری و باطنی اپنے والدِ گرامی سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے حاصل کیے۔

تمام علوم میں مہارتِ تامہ حاصل کی ، یہاں تک کہ اپنے وقت کے جید علماء کی صف میں شامل ہو گئے ۔بلکہ تمام اعلیٰ نسبتوں اور فضیلتوں اور علم وتقویٰ کی بدولت تمام پر سبقت لے گئے۔

سیرت و خصائص:
ساداتِ بنی ہاشم کے نیرِ اعظم ، علم و تقویٰ کے مہرِ کامل، سرورِ عالم ﷺ کے علم و اوصاف، شریعت و طریقت اور خاندانی عظمت و شرافت کے امین ،مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی علمی و خاندانی وراثت کے وارثِ کامل سیدنا ابو الحسن امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ۔

آپ اللہ تعالیٰ کے ولیِ کامل تھے۔ تمام علوم اور تمام زبانوں سے واقف تھے ۔

مراۃ الاسرار میں ہے:
کہ ایک دن امام موصوف کی خدمت میں ایک شخص نےحاضر ہوکر طیور (پرندوں) کی زبان میں باتیں کرنا شروع کر دیں کیں اور امام صاحب بھی اسی زبان میں جواب دیتے رہے۔ جب وہ چلا گیا تو کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ کون سی زبان تھی ہم نے تو اس قسم کی زبان نہیں سنی۔ آپ نےفرمایا کہ یہ جنات کی ایک قومی زبان ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ کو تمام مخلوقات کی زبانوں کا علم عطا فرمایا تھا۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وعلم آدم الاسماء کلہا ۔ مستجاب الدّعوات ایسے کہ لوگ آپ کو بارگاہِ صمدیت میں وسیلہ گردانتے اور اِن سے دعا کر واکر مقصود کو پہنچتے، اسی سبب سے اہلِ عراق آپ کو باب قضاء الحوائج کہتے تھے۔ آپ بڑے عابد، زاہد، قائم اللیل، صائم النہار تھے۔ بسبب کثرت عبادات و اجتہادات اور شب بیداری کے عبد الصالح کے لقب سے پکارے جاتے۔ خفیہ طور پر راتوں میں لوگوں کو حاجات کے موافق روپیہ اشرفی پہنچایا کرتے۔

آپ کے والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے کہ یہ میرے تمام فرزندوں میں بہترین فرزند ہے، اور اللہ تعالیٰ کے موتیوں سے ایک موتی ہے۔

امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
کہ قبرِ امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اجابتِ دعا کے لیے تریاق مجرب کا حکم رکھتی ہے۔

امام خلال حنبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: مجھے جب بھی کوئی معاملہ درپیش ہوتاہے ،میں امام موسیٰ کاظم بن جعفر رضی اللہ عنہما کے مزار پر حاضر ہوکر آپ کا وسیلہ پیش کرتاہوں ۔ اللہ تعالیٰ میری مشکل کو آسان کر کے میری مرادمجھے عطا فرمادیتاہے ۔(تاریخِ بغداد،باب ماذکر فی مقابر البغداد)

وصال:
55 برس کی عمر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بادشاہِ وقت کے حکم پر کھجور میں زہر ملا کر دیا گیا ۔کھجور کھاتے ہی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ دشمنوں نے مجھے زہر دیا ہے تین دن کے بعد میری وفات ہوگی۔ جیسا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ۔یوں 25رجب المرجب 183ھ کوآپ مرتبۂ شہادت پر فا ئض ہوئے۔

مزار شریف:
آپ کا مزارِ پراَنوار بغدادِ معلی میں کاظمین شریف کے مقام پر واقع ہے ۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-musa-kazim-bin-imam-jafar-sadiq
Copyright © Zia-e-Taiba
2👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍2
حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: خواجہ شاہ محمد سلیمان ۔ القاب: غوثِ زمان ، پیر پٹھان، شہبازِ چشت اہلِ بہشت ۔

سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی بن محمد زکریا بن عبد الوہاب بن عمر خاں۔ (علیہم الرحمہ)۔

خاندانی طور پر آپ کا تعلق پٹھانوں کے قبیلہ " جعفر " سے تھا ، جو علم و عبادت اور حیاء و شرافت میں نہایت ممتاز تھا ۔ بچپن ہی میں والد ماجد کا انتقال ہو گیا، والدہ ماجدہ نے آپ کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا کیونکہ انہوں نے آپ کی ولادت سےقبل خواب میں دیکھا تھا کہ آفتاب آسمان سے اتر کر ان کی آغوش میں آگیا ہے اور سینکڑوں لوگ مبارک باد دے رہے ہیں۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1184ھ، مطابق 1770ء ،میں کوہِ سلیمان، بمقام "گڑگوجی" جوتونسہ شریف سے جانبِ مغرب میں واقع ہے ،میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
چار سال کی عمرمیں مولانا یوسف جعفر کے پاس قرآن کریم پڑھنے کے لئے بٹھائے گئے،ان سے پندرہ پارے حفظ کئے بعد ازاں بگی مسجد (یہ مسجد 1274ھ، میں سنگھڑ رودکوہی کے سیلابی پانی سے منہدم ہو گئی) تونسہ شریف میں میاں حسن علی کے پاس جاکر قرآن کریم کی تکمیل کی اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔

مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے دشوار گزرا راستوں کو طے کرتے ہوئے کوٹ مٹھن پہنچے جہاں حضرت مولاناقاضی محمد عاقل قدس سرہ کے مدرسہ میں علو م دینیہ کی تحصیل و تکمیل تصوف اخلاق کی تعلیم قبلۂ عالم حضرت خواجہ نورمحمد مہاروی  قدس سرہ سے حاصل فرمائی۔

آپ علیہ الرحمہ شیخِ کامل کے ساتھ اپنے وقت کے  جید عالمِ دین  بھی تھے۔قرآن وحدیث اورفقہ پر مکمل عبور حاصل تھا۔ صحیح مسلم، عوارف المعارف ، فتوحاتِ مکیہ اور فصوص الحکم کا درس مشہور تھا۔

بیعت و خلافت:
حضرت مولانا فخر الدین فخرجہاں دہلوی  علیہ الرحمہ نے حضرت خواجہ نور محمد مہاروی کو حکم دیا تھا "کہ "کوہ سلیمان " کی چوٹیوں پر ایک بلند پرواز شہباز رہتا ہے، اسے تلاش کر کے اپنے حلقہ میں داخل کرنا کہ اس سے سلسلۂ عالیہ چشتیہ نظامیہ کو تبلیغ و اشاعت کے چار چاند لگ جائیں گے"۔

چنانچہ حضرت خواجۂ مہاروی اس بلند آشیاں شہباز کی تلاش میں ان علاقوں  کا سفرکیا کرتے تھے، آخر ایک دن اوچ شریف میں وہ شہباز حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی کی صورت میں مل گیا جسے دیکھتے ہی آپ نے فرمایا: "جو ہمارا مقصود تھا وہ ہمیں مل گیا ہے" ۔ اس کے بعد قبلۂ عالم کبھی ان علاقوں میں تشریف نہیں لے گئے۔

حضرت جلال الدین سرخ بخاری علیہ الرحمہ کے مزار شریف پر آپ کو بیعت فرمایا۔ چھ سال قبلۂ عالم کی تربیت میں رہے، 22 سال کی عمر میں خلافت سے مشرف ہوئے۔ شیخ نے " تونسہ " میں قیام کی ہدایت فرمائی ۔پھر آخرعمر تک اسی علاقے میں  مصروفِ عمل رہے۔

سیرت و خصائص:
امام الواصلین، حجۃ الکاملین، رئیس المتوکلین، نائبِ حضرت خواجہ معین الدین، شہبازِ لامکانی، محبوبِ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی، شاہ شاہاں، فخر ِدوراں، غوثِ زماں، پیر پٹھان حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ االلہ علیہ۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کاشمار ان اولیاء کاملین میں سے ہوتا ہے جنہوں نے دینِ متین کی بہت خدمات سر انجام دی ہیں،اور مشکل وقت میں امت کی رہبری کا فریضہ ادا کیا ہے۔ آپ اپنے وقت  کے ایک عظیم مصلح اور رسول اللہ ﷺ کے سچے نائب تھے۔آپ کی تبلیغ اور دینی حمیت و غیرت کا اثر وقت کے جابروں تک تھا۔خلافِ شرع کاموں پر حکمرانوں کی خوب خبرلیتے تھے۔ آپ کی برکت سے پنجاب کے اس گمنام اور بنجر علاقے کا شہرہ پوری دنیا میں ہونے لگا۔

رفتہ رفتہ جب رشد و ہدایت کا چرچا ہوا تو دور دور سےلوگ شرف ِبیعت حاصل کرنے کیلئے حاضر ِدربار ہونے لگے،نواب بہاول خان  والی ِ ریاست بہاول پور ،اور افغانستان سے شاہ شجاع بھی حلقۂ خدام میں داخل ہو گئے۔آپ نے تونسہ شریف میں قیام کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ وہاں دینی تعلیم عام کرنے کے لئے مدرسہ جاری کیا اور پھر اس کام نے اس قدر ترقی کی کہ ہر طرف قال اللہ وقال الرسول ﷺ کی صدائیں فضا ءمیں بلند ہونے لگیں اور تونسہ شریف دبستان علم و عرفان بن گیا، اس دور میں تونسہ شریف علوم دینیہ کی وہ عظیم الشان "یو نیورسٹی "تھی  جس میں تقریباً دو ہزار طلباء تعلیم حاصل کرتے تھے اور 50 مدرسین تعلیم دین کا فریضہ انجام دیتے تھے۔

تمام علماء طلباء اورخدام کے لئے قیام و طعام اور لباس کا انتظام مدرسہ کی طرف سے تھا۔ شاہ ِشاہاں حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی قدس سرہ نے تبلیغ دین اور رشد و ہدایت کو ہمہ گیر طریقے سے عوام الناس تک پہنچایا۔آپ کے روحانی فیض سے نہ صرف بر صغیر پاک و ہند بلکہ افغانستان، ایران، سری لنکا،عدن اور ترکمانستان کےعوام و خواص مستفید ہوئے۔
👍32