🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
05-02-1444 ᴴ | 03-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
05-02-1444 ᴴ | 03-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍2
Forwarded from چینل صدائے حق
امام اہل سنت فرماتے ہیں:
تاریخ کسی کی تصنیف ہو مدار عقیدہ نہیں ہوسکتی، مورخ رطب، یابس، مسند، مرسل، مقطوع، معضل سب کچھ بھر دیتے ہیں۔
(رضویہ 26/428)
تاریخ کسی کی تصنیف ہو مدار عقیدہ نہیں ہوسکتی، مورخ رطب، یابس، مسند، مرسل، مقطوع، معضل سب کچھ بھر دیتے ہیں۔
(رضویہ 26/428)
❤3👍2
Forwarded from چینل صدائے حق
سیدنا مولا علی کو شیخین پر افضل اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو فاسق کہنے والے کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے فتاوی نوریہ جلد اول ص 320
❤3👍2
Forwarded from چینل صدائے حق
شیخین کریمین انبیاء و رسل کے بعد افضل البشر ہیں فتوی نوریہ جلد اول ص 320
❤3👍2
Forwarded from چینل صدائے حق
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں اور واجب الاحترام ہیں فتوی نوریہ جلد اول ص 320
❤3👍2
Forwarded from چینل صدائے حق
حضرت عقیل رضی اللہ عنہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ کا روضہ بنایا فتاوی نوریہ جلد اول 645
❤3👍2
Forwarded from چینل صدائے حق
یہودیوں نے شیخ ابن عربی کی کتابوں میں تحریف کی ہے فتاوی نوریہ جلد پنجم ص 118
❤2👍2😢1
Forwarded from چینل صدائے حق
پانی کاانسان یہ ایک قسم کی دریائی مخلوق ہے جس کی شکل انسان کے مشابہ ہوتی ہے فرق صرف یہ ہے کہ پانی کے انسان کی دم بھی ہوتی ہے۔ (حیاۃالحیوان الکبری ،ج۱،ص۶۹)
❤3👍2
Forwarded from چینل صدائے حق
سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کا گستاخ تمام اولیاء اور آقا علیہ السلام کا گستاخ ہے فتاوی نوریہ جلد سوم ص 611
❤3👍2
Forwarded from چینل صدائے حق
اعلی حضرت کی شان میں کلمات بے ادبی بولنا خبث باطنی کی دلیل ہے فتاوی نوریہ جلد اول ص 319
❤3👍2
Forwarded from چینل صدائے حق
امام اہلسنت کی شان میں بے ادبی کرنے والے کے پیچھے نماز جائز نہیں فتاوی نوریہ جلد اول بالامامۃ ص 319
❤3👍2
حضرت بابا بھلے شاہ رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید عبد اللہ شاہ ۔ لقب: بلھے شاہ ۔ اسی سے شہرت دوام حاصل ہوئی ، اصل نام بہت کم افراد کو معلوم ہے ۔
والد کا اسمِ گرامی:
سید سخی درویش محمد رحمۃ اللہ علیہ ۔ سید صاحب متقی عالمِ دین اور امام مسجد تھے ۔ آپ کا تعلق "اوچ شریف " کے ساداتِ گیلانیہ سے ہے ۔ چند واسطوں سے سلسلہ نسب امام الاولیاء حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی تاریخِ پیدائش میں اختلاف ہے، لیکن جو قریبِ قیاس ہے وہ 1680ء/1091ھ ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد اپنے زمانے کے ایک بہترین عالم تھے ۔ عربی فارسی میں ان کو دستگاہ حاصل تھی ۔ چنانچہ آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد کی نگرانی میں ہوئی ۔ قرآنِ مجید انہیں سے پڑھا ۔ پھر قصور پہنچ کر حافظ غلام مرتضٰی صدیقی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ان سے مزید تعلیم حاصل کی۔ منقول ہے کہ حضرت وارث شاہ رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کے شاگرد تھے، اور دونوں شاگرد عظیم شاعر بنے ۔ آپ ان دونوں پر فخر کیا کرتے تھے ۔ حضرت بلھے شاہ علیہ الرحمہ نے اس وقت کے تمام مروجہ علوم میں مہارت حاصل کی، آپ کاشمار اپنے وقت کے جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ امام الموحدین حضرت شاہ عنایت اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ، اور منازلِ سلوک طے کرنے کے بعد خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت و خصائص:
سید العاشقین، زبدۃ العارفین، امام الکاملین، سند الواصلین حضرت سید عبد اللہ شاہ المعروف حضرت بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ ۔ اللہ جل شانہ نے آپ کو شہرتِ دوام عطاء فرمائی ہے ۔ آپ علم و عمل ، زہد و تقویٰ صدق و اخلاص ، کے پیکر تھے ۔
آپ کے نزدیک علم بغیر عمل اور تقویٰ بغیر خلوص کے بےسود ہے ۔ آپ نے اپنی شاعری میں اسی چیز کو اجاگر کیا ہے ۔
آپ فرماتے ہیں: ؏:
پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں نام رکھ لیا قاضی
ہتھ وچ پھڑ کے تلوار نام رکھ لیا غازی
مکے مدینے گھوم آیا تے نام رکھ لیا حاجی
او بلھیا! حاصل کی کیتا؟ جے توں رب نا کیتا راضی
اس وقت "قصور" میں ایک پٹھان حکمران تھا، جو ہر وقت عیاشی میں لگا رہتا تھا ۔ مرشد نے حضرت بلھے شاہ علیہ الرحمہ کو " قصور"جا نے کی ہدایت فرمائی ۔ آپ کو قصور بھیجنے میں بہت سی مصلحتیں مد نظر تھیں ۔ قصور کے لوگ بے دین و عیاش اور سر کش قسم کے تھے ۔ دینداری و پرہیزگاری نام کی کوئی چیز ان کے ہاں نہ تھی ۔ قصور بے اعتدالی اور لا قانو نیت کا مر کز بن چکا تھا ۔ وہاں کے لوگ ظالم اور کسی سائل کو صد قہ و خیرات تک نہ دیتے تھے ۔ ان کی اصلا ح اشد ضروری تھی ۔ اس کے علاوہ شیخ آپ کو مقاماتِ سلوک طے کرانا چاہتے تھے ۔ لوگوں کو تبلیغ، وعظ و نصیحت، اور پھر ان کی طرف سے جور وغیرہ برداشت کرنا ۔
آپ جب قصور تشریف لائے تو ہر وقت تلاوت، ذکر و اذکار، میں مستغرق رہنے لگے ۔ لوگ آپ کے پاس دعا کے لئے حاضر ہوتے اور اپنی مرادیں حاصل کرتے ۔ رفتہ رفتہ آپ نے تبلیغ شروع کر دی، آپ کی تبلیغ سے قصور میں دینداری کی بہاریں نظر آنے لگیں ۔ لوگ فسق و فجور چھوڑ کر عملِ صالح کی طرف راغب ہونے لگے ۔
آپ نے سینکڑوں اشعار کہے ۔ آپ کے کلام کی سب سے بڑی خصو صیت یہ ہے کہ اس سے تعلیم یا فتہ طبقہ بھی لطف اندوز ہوتا ہے، اور نا خواندہ بھی، آپ کے اشعار میں حقیقت سچائی اور خوب صورتی جا بجا عیاں ہے، آج بھی لوگ حضرت بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کو پڑھتے اور سر دھنتے ہیں ۔
حضرت خواجہ سلیمان تونسو ی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشادات اور ملفو ظات کے مجموعہ " نافع السالکین " میں ہے: "حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے " مسئلہ و حدت الو جود " کو صوفیاء کی اصطلاحات کے پردہ میں بیان کیا ہے ۔ اصلطلاحاتِ صوفیاء کے جانے بغیر حافظ کا کلام سمجھ میں نہیں آ سکتا ۔ نیز فرمایا کہ بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ شمشیرِ برہنہ کی مانند ہیں کہ انہوں نے مسئلہ و حدت الوجود کو بے پردہ بیان کیا ہے، دوسرے عارفین نے مسئلہ مذکور کو عر بی یا فارسی زبان میں بیان کیا ہے لیکن بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے ہندی میں بیان کیا ہے، ہندی سے آپ کی مراد پنجاب کے عوام کی زبان آپ کی شاعری میں پیار محبت امن روا داری اور اطاعت کا پیغام ملتا ہے، آپ کے کلام میں سوچ، رس سوز اور تڑپ، لطافت سادگی اور پاکیزگی پائی جاتی ہے ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید عبد اللہ شاہ ۔ لقب: بلھے شاہ ۔ اسی سے شہرت دوام حاصل ہوئی ، اصل نام بہت کم افراد کو معلوم ہے ۔
والد کا اسمِ گرامی:
سید سخی درویش محمد رحمۃ اللہ علیہ ۔ سید صاحب متقی عالمِ دین اور امام مسجد تھے ۔ آپ کا تعلق "اوچ شریف " کے ساداتِ گیلانیہ سے ہے ۔ چند واسطوں سے سلسلہ نسب امام الاولیاء حضرت غوث الاعظم سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی بغدادی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی تاریخِ پیدائش میں اختلاف ہے، لیکن جو قریبِ قیاس ہے وہ 1680ء/1091ھ ہے ۔
تحصیلِ علم:
آپ کے والد ماجد اپنے زمانے کے ایک بہترین عالم تھے ۔ عربی فارسی میں ان کو دستگاہ حاصل تھی ۔ چنانچہ آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد کی نگرانی میں ہوئی ۔ قرآنِ مجید انہیں سے پڑھا ۔ پھر قصور پہنچ کر حافظ غلام مرتضٰی صدیقی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ ان سے مزید تعلیم حاصل کی۔ منقول ہے کہ حضرت وارث شاہ رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کے شاگرد تھے، اور دونوں شاگرد عظیم شاعر بنے ۔ آپ ان دونوں پر فخر کیا کرتے تھے ۔ حضرت بلھے شاہ علیہ الرحمہ نے اس وقت کے تمام مروجہ علوم میں مہارت حاصل کی، آپ کاشمار اپنے وقت کے جید علماء کرام میں ہوتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ امام الموحدین حضرت شاہ عنایت اللہ قادری رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے ، اور منازلِ سلوک طے کرنے کے بعد خلافت سے نوازے گئے ۔
سیرت و خصائص:
سید العاشقین، زبدۃ العارفین، امام الکاملین، سند الواصلین حضرت سید عبد اللہ شاہ المعروف حضرت بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ ۔ اللہ جل شانہ نے آپ کو شہرتِ دوام عطاء فرمائی ہے ۔ آپ علم و عمل ، زہد و تقویٰ صدق و اخلاص ، کے پیکر تھے ۔
آپ کے نزدیک علم بغیر عمل اور تقویٰ بغیر خلوص کے بےسود ہے ۔ آپ نے اپنی شاعری میں اسی چیز کو اجاگر کیا ہے ۔
آپ فرماتے ہیں: ؏:
پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں نام رکھ لیا قاضی
ہتھ وچ پھڑ کے تلوار نام رکھ لیا غازی
مکے مدینے گھوم آیا تے نام رکھ لیا حاجی
او بلھیا! حاصل کی کیتا؟ جے توں رب نا کیتا راضی
اس وقت "قصور" میں ایک پٹھان حکمران تھا، جو ہر وقت عیاشی میں لگا رہتا تھا ۔ مرشد نے حضرت بلھے شاہ علیہ الرحمہ کو " قصور"جا نے کی ہدایت فرمائی ۔ آپ کو قصور بھیجنے میں بہت سی مصلحتیں مد نظر تھیں ۔ قصور کے لوگ بے دین و عیاش اور سر کش قسم کے تھے ۔ دینداری و پرہیزگاری نام کی کوئی چیز ان کے ہاں نہ تھی ۔ قصور بے اعتدالی اور لا قانو نیت کا مر کز بن چکا تھا ۔ وہاں کے لوگ ظالم اور کسی سائل کو صد قہ و خیرات تک نہ دیتے تھے ۔ ان کی اصلا ح اشد ضروری تھی ۔ اس کے علاوہ شیخ آپ کو مقاماتِ سلوک طے کرانا چاہتے تھے ۔ لوگوں کو تبلیغ، وعظ و نصیحت، اور پھر ان کی طرف سے جور وغیرہ برداشت کرنا ۔
آپ جب قصور تشریف لائے تو ہر وقت تلاوت، ذکر و اذکار، میں مستغرق رہنے لگے ۔ لوگ آپ کے پاس دعا کے لئے حاضر ہوتے اور اپنی مرادیں حاصل کرتے ۔ رفتہ رفتہ آپ نے تبلیغ شروع کر دی، آپ کی تبلیغ سے قصور میں دینداری کی بہاریں نظر آنے لگیں ۔ لوگ فسق و فجور چھوڑ کر عملِ صالح کی طرف راغب ہونے لگے ۔
آپ نے سینکڑوں اشعار کہے ۔ آپ کے کلام کی سب سے بڑی خصو صیت یہ ہے کہ اس سے تعلیم یا فتہ طبقہ بھی لطف اندوز ہوتا ہے، اور نا خواندہ بھی، آپ کے اشعار میں حقیقت سچائی اور خوب صورتی جا بجا عیاں ہے، آج بھی لوگ حضرت بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے کلام کو پڑھتے اور سر دھنتے ہیں ۔
حضرت خواجہ سلیمان تونسو ی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشادات اور ملفو ظات کے مجموعہ " نافع السالکین " میں ہے: "حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے " مسئلہ و حدت الو جود " کو صوفیاء کی اصطلاحات کے پردہ میں بیان کیا ہے ۔ اصلطلاحاتِ صوفیاء کے جانے بغیر حافظ کا کلام سمجھ میں نہیں آ سکتا ۔ نیز فرمایا کہ بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ شمشیرِ برہنہ کی مانند ہیں کہ انہوں نے مسئلہ و حدت الوجود کو بے پردہ بیان کیا ہے، دوسرے عارفین نے مسئلہ مذکور کو عر بی یا فارسی زبان میں بیان کیا ہے لیکن بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے ہندی میں بیان کیا ہے، ہندی سے آپ کی مراد پنجاب کے عوام کی زبان آپ کی شاعری میں پیار محبت امن روا داری اور اطاعت کا پیغام ملتا ہے، آپ کے کلام میں سوچ، رس سوز اور تڑپ، لطافت سادگی اور پاکیزگی پائی جاتی ہے ۔
❤2👍2