🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-02-1444 ᴴ | 02-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-02-1444 ᴴ | 02-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
اللہ پاک کو نا پسند 3 باتیں:
حدیث شریف اور اس کی شرح
مولانا ابو الحسان عطاری مدنی
حُضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا : قِيلَ وَقَالَ وَاِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ
یعنی اللہ پاک تمہارے لئے 3 باتوں کو نا پسند فرماتا ہے : (1) قِیل و قَال (2) مال ضائع کرنا (3) کثرت سے سوال کرنا ۔ [1]
حضرت سیّدُنا امیر معاویہ رضی اللہُ عنہ نے حضرت سیّدُنا مُغیرہ بن شُعبہ رضی اللہُ عنہ کی طرف خط کے ذریعے پیغام بھیجا کہ کوئی ایسی حدیثِ پاک لکھ کر میری طرف روانہ کریں جو آپ نے خود سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سنی ہو۔
حضرت سیّدُنا مُغیرہ بن شُعبہ رضی اللہُ عنہ نے جواباً تحریر فرمایا کہ میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، پھر مذکورہ حدیثِ پاک بیان کی۔
اے عاشقانِ رسول! اس فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں جن 3 باتوں کو اللہ پاک کا نا پسندیدہ قرار دیا گیا ہے ان کی مختصر وضاحت ملاحظہ فرمائیے:
(1) قِیل و قَال :* قِیل و قَال کی ممانعت سے مراد یہ ہے کہ سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بے فائدہ گفتگو کی کثرت سے منع فرمایا۔
اس ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ بے فائدہ گفتگو کی کثرت کرنے والا اپنی گفتگو میں خطا اور غلطی سے نہیں بچ سکتا۔ [2] نیز اس طرح کی فُضول گفتگو سے دل سخت اور وقت ضائع ہوتا ہے۔ [3]
فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جس شخص کی گفتگو زیادہ ہو اس کی غَلَطیاں زِیادہ ہوتی ہیں، جس کی غَلَطیاں زیادہ ہوں اُس کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں اور جس کے گناہ زیادہ ہوں وہ دوزخ کے زیادہ لائق ہے۔ [4]
(زبان کی احتیاطیں جاننے اور سمجھنے نیز خاموشی کے فوائد جاننے کے لئے ان رسائل کو ضرور پڑھئے ـ ”خاموش شہزادہ “ ـ ”جنّت کی دو چابیاں“ ـ ”ایک چُپ سو سُکھ“ )
(2) مال ضائع کرنا : مال ضائع کرنے کی بے شمار صورتیں ہیں: اس كی حفاظت نہ کرنا، مال بڑھانے کی کوشش نہ کرنا، جو موجود ہے اسی کو بیٹھے بیٹھے کھانا، فضول خرچی کرنا، گناہوں میں خرچ کرنا، اپنی حیثیت سے زیادہ انعام و اکرام پیش کرنا، جن چیزوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے انہیں پھینک دینا وغیرہ وغیرہ۔ [5]
(3) کثرتِ سوال : بکثرت سوال کرنے کی ممانعت میں شرعی اجازت کے بغیر دوسروں سے مال وغیرہ مانگنا اور علمائے کرام سے غیر ضروری و فضول سوالات کرنا دونوں شامل ہیں۔ [6]
مال کے سوال کا وبال: فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: آدمی (مال کا) سوال کرتا رہے گا، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اُس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہوگا۔ [7] یعنی نہایت بے آبرو (بے عزت) ہو کر (آئے گا)۔ [8]
(مانگنے کی مذمت و نحوست پر تفصیل جاننے کے لئے “ ماہنامہ فیضانِ مدینہ “ شوال 1438 تا ذوالقعدۃ الحرام 1438 کا مضمون “ بھیک اور بھکاری “ پڑھئے۔ یہ ماہنامہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ )
غیر ضروری علمی سوالات نہ کئے جائیں: ایک مسلمان کے لئےضروری مسائل کا علم حاصل کرنا اور علمائے کرام سے شرعی راہنمائی لینا ضروری ہے۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ( فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ (۴۳) ترجمۂ کنز العرفان: اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔ [9]
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
https://alqurankarim.net/ur/surah-an-nahl/ayat-43/translation/tafsir
لیکن بلا ضرورت ایسے فُضول سوالات کرنے سے بچنا چاہئے جن کا تعلق نہ تو عقیدے سے ہو اور نہ ہی عمل سے۔ غیر ضروری اور فضول سوالات کرنے والے کی نیت اگر علمائے کرام سے بحث مباحثہ کرنے، سوالات کے ذریعے علم حاصل کرکے عوام کو پریشان کرنے اور شہرت حاصل کرنے کی ہو تو اسے اس فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر غور کرکے ڈرنا چاہئے:
جو اس لئے علم طلب کرے تاکہ اس کے ذریعے علماء سے مقابلہ کرے، جاہلوں سے جھگڑے یا لوگوں کی توجہ حاصل کرے تو اللہ پاک اسے دوزخ میں داخل فرمائے گا۔ [10]
مفتی احمد یا ر خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: جو (شخص) دینی علم دین کے لئے نہ سیکھے بلکہ عزت یا مال حاصل کرنے یا دین میں فساد پھیلانے کے لئے سیکھے تو (وہ) اوّل درجہ کا جہنمی ہے۔ [11]
غیر ضروری سوالات کی مثالیں:
خاتَمُ المُحَقِّقِیْن حضرت علّامہ سیّد محمد امین ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انسان کو چاہئے کہ اس چیز کے بارے میں سوال نہ کرے جس کی اسے ضرورت نہیں،
حدیث شریف اور اس کی شرح
مولانا ابو الحسان عطاری مدنی
حُضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا : قِيلَ وَقَالَ وَاِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ
یعنی اللہ پاک تمہارے لئے 3 باتوں کو نا پسند فرماتا ہے : (1) قِیل و قَال (2) مال ضائع کرنا (3) کثرت سے سوال کرنا ۔ [1]
حضرت سیّدُنا امیر معاویہ رضی اللہُ عنہ نے حضرت سیّدُنا مُغیرہ بن شُعبہ رضی اللہُ عنہ کی طرف خط کے ذریعے پیغام بھیجا کہ کوئی ایسی حدیثِ پاک لکھ کر میری طرف روانہ کریں جو آپ نے خود سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سنی ہو۔
حضرت سیّدُنا مُغیرہ بن شُعبہ رضی اللہُ عنہ نے جواباً تحریر فرمایا کہ میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، پھر مذکورہ حدیثِ پاک بیان کی۔
اے عاشقانِ رسول! اس فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں جن 3 باتوں کو اللہ پاک کا نا پسندیدہ قرار دیا گیا ہے ان کی مختصر وضاحت ملاحظہ فرمائیے:
(1) قِیل و قَال :* قِیل و قَال کی ممانعت سے مراد یہ ہے کہ سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بے فائدہ گفتگو کی کثرت سے منع فرمایا۔
اس ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ بے فائدہ گفتگو کی کثرت کرنے والا اپنی گفتگو میں خطا اور غلطی سے نہیں بچ سکتا۔ [2] نیز اس طرح کی فُضول گفتگو سے دل سخت اور وقت ضائع ہوتا ہے۔ [3]
فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جس شخص کی گفتگو زیادہ ہو اس کی غَلَطیاں زِیادہ ہوتی ہیں، جس کی غَلَطیاں زیادہ ہوں اُس کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں اور جس کے گناہ زیادہ ہوں وہ دوزخ کے زیادہ لائق ہے۔ [4]
(زبان کی احتیاطیں جاننے اور سمجھنے نیز خاموشی کے فوائد جاننے کے لئے ان رسائل کو ضرور پڑھئے ـ ”خاموش شہزادہ “ ـ ”جنّت کی دو چابیاں“ ـ ”ایک چُپ سو سُکھ“ )
(2) مال ضائع کرنا : مال ضائع کرنے کی بے شمار صورتیں ہیں: اس كی حفاظت نہ کرنا، مال بڑھانے کی کوشش نہ کرنا، جو موجود ہے اسی کو بیٹھے بیٹھے کھانا، فضول خرچی کرنا، گناہوں میں خرچ کرنا، اپنی حیثیت سے زیادہ انعام و اکرام پیش کرنا، جن چیزوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے انہیں پھینک دینا وغیرہ وغیرہ۔ [5]
(3) کثرتِ سوال : بکثرت سوال کرنے کی ممانعت میں شرعی اجازت کے بغیر دوسروں سے مال وغیرہ مانگنا اور علمائے کرام سے غیر ضروری و فضول سوالات کرنا دونوں شامل ہیں۔ [6]
مال کے سوال کا وبال: فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: آدمی (مال کا) سوال کرتا رہے گا، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اُس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہوگا۔ [7] یعنی نہایت بے آبرو (بے عزت) ہو کر (آئے گا)۔ [8]
(مانگنے کی مذمت و نحوست پر تفصیل جاننے کے لئے “ ماہنامہ فیضانِ مدینہ “ شوال 1438 تا ذوالقعدۃ الحرام 1438 کا مضمون “ بھیک اور بھکاری “ پڑھئے۔ یہ ماہنامہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ )
غیر ضروری علمی سوالات نہ کئے جائیں: ایک مسلمان کے لئےضروری مسائل کا علم حاصل کرنا اور علمائے کرام سے شرعی راہنمائی لینا ضروری ہے۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ( فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ (۴۳) ترجمۂ کنز العرفان: اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔ [9]
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
https://alqurankarim.net/ur/surah-an-nahl/ayat-43/translation/tafsir
لیکن بلا ضرورت ایسے فُضول سوالات کرنے سے بچنا چاہئے جن کا تعلق نہ تو عقیدے سے ہو اور نہ ہی عمل سے۔ غیر ضروری اور فضول سوالات کرنے والے کی نیت اگر علمائے کرام سے بحث مباحثہ کرنے، سوالات کے ذریعے علم حاصل کرکے عوام کو پریشان کرنے اور شہرت حاصل کرنے کی ہو تو اسے اس فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر غور کرکے ڈرنا چاہئے:
جو اس لئے علم طلب کرے تاکہ اس کے ذریعے علماء سے مقابلہ کرے، جاہلوں سے جھگڑے یا لوگوں کی توجہ حاصل کرے تو اللہ پاک اسے دوزخ میں داخل فرمائے گا۔ [10]
مفتی احمد یا ر خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: جو (شخص) دینی علم دین کے لئے نہ سیکھے بلکہ عزت یا مال حاصل کرنے یا دین میں فساد پھیلانے کے لئے سیکھے تو (وہ) اوّل درجہ کا جہنمی ہے۔ [11]
غیر ضروری سوالات کی مثالیں:
خاتَمُ المُحَقِّقِیْن حضرت علّامہ سیّد محمد امین ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انسان کو چاہئے کہ اس چیز کے بارے میں سوال نہ کرے جس کی اسے ضرورت نہیں،
❤1👍1
مثلاً حضرت سیّدُنا جبریلِ امین علیہ الصّلوٰۃ والسّلام زمین پر کس طرح اترتے تھے اور سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم انہیں کس صورت میں دیکھتے تھے؟ حُضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب انہیں بَشری صورت میں دیکھتے تھے اس وقت وہ فرشتے ہوتے تھے یا نہیں؟ اور اسی طرح کی دیگر باتیں جن کا جاننا ضروری نہیں ہے، اور شریعت نے ہمیں ان باتوں کا علم حاصل کرنے کا پابند نہیں بنایا۔ [12]
شارحِ بخاری مفتی شریفُ الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فضول سوالات کی مثال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وہ باتیں جن کے جاننے کے ہم مُکَلَّف (یعنی پابند) نہیں، جیسے: حضرت آدم ( علیہ السّلام ) نے جنّت میں سب سے پہلے کیا کھایا تھا؟ دنیا میں آکر سب سے پہلے کیا کھایا؟ حضرت حوا (رضی اللہُ عنہا) سے (آپ کی) ملاقات ہوئی تو پہلی گفتگو کیا ہوئی؟ حضرت اسماعیل (علیہ السّلام) کے فدیے کے گوشت کا کیا ہوا؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ (سوالات) ممنوع ہیں اور اسی کثرتِ سوالات میں داخل ہیں۔ [13]
ایک مقام پر شارحِ بخاری فرشتوں کی داڑھی سے متعلق سوال کرنے والے کو سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں: ہم اس کے مُکَلَّف (یعنی پابند) نہیں کہ یہ بھی ایمان رکھیں کہ فرشتوں کی کیا شکل ہے؟ انہیں داڑھی ہے یا نہیں؟ اس لیے اس کے کُرید (یعنی جستجو) میں رہنا، نامناسب ہے۔ [14]
اے ہمارے پیارے پیارے اللہ کریم! ہمیں اس حدیثِ پاک میں بیان کردہ تینوں باتوں سے مکمل طور پر بچنے کی توفیق عطا فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃُ المدینہ
ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی
[1] بخاری، 1 / 498، حدیث: 1477
[2] فتح الباری ، 12 / 260
[3] لمعات التنقیح ، 8 / 210
[4] حلیۃ الاولیاء، 3 / 88 ، رقم: 3278
[5] نزہۃ القاری ، 2 / 959 تسہیلاً
[6] نزہۃ القاری ، 2 / 959 مفہوماً
[7] بخاری، 1 / 497 ، حدیث: 1474
[8] بہارِ شریعت ، 1 / 941
[9] پ : 14 ، سورۃ النحل : 43
[10] ترمذی، 4 / 297، حدیث: 2663
[11] مراٰۃ المناجیح ، 1 / 204
[12] ردالمحتار ، 10 / 520 ملخصاً
[13] نزہۃ القاری ، 2 / 959تسہیلاً
[14] فتاویٰ شارح بخاری ، 1 /
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/hadees-shareef-aur-iski-sharah/na-pasand-batein
شارحِ بخاری مفتی شریفُ الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فضول سوالات کی مثال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وہ باتیں جن کے جاننے کے ہم مُکَلَّف (یعنی پابند) نہیں، جیسے: حضرت آدم ( علیہ السّلام ) نے جنّت میں سب سے پہلے کیا کھایا تھا؟ دنیا میں آکر سب سے پہلے کیا کھایا؟ حضرت حوا (رضی اللہُ عنہا) سے (آپ کی) ملاقات ہوئی تو پہلی گفتگو کیا ہوئی؟ حضرت اسماعیل (علیہ السّلام) کے فدیے کے گوشت کا کیا ہوا؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ (سوالات) ممنوع ہیں اور اسی کثرتِ سوالات میں داخل ہیں۔ [13]
ایک مقام پر شارحِ بخاری فرشتوں کی داڑھی سے متعلق سوال کرنے والے کو سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں: ہم اس کے مُکَلَّف (یعنی پابند) نہیں کہ یہ بھی ایمان رکھیں کہ فرشتوں کی کیا شکل ہے؟ انہیں داڑھی ہے یا نہیں؟ اس لیے اس کے کُرید (یعنی جستجو) میں رہنا، نامناسب ہے۔ [14]
اے ہمارے پیارے پیارے اللہ کریم! ہمیں اس حدیثِ پاک میں بیان کردہ تینوں باتوں سے مکمل طور پر بچنے کی توفیق عطا فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃُ المدینہ
ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی
[1] بخاری، 1 / 498، حدیث: 1477
[2] فتح الباری ، 12 / 260
[3] لمعات التنقیح ، 8 / 210
[4] حلیۃ الاولیاء، 3 / 88 ، رقم: 3278
[5] نزہۃ القاری ، 2 / 959 تسہیلاً
[6] نزہۃ القاری ، 2 / 959 مفہوماً
[7] بخاری، 1 / 497 ، حدیث: 1474
[8] بہارِ شریعت ، 1 / 941
[9] پ : 14 ، سورۃ النحل : 43
[10] ترمذی، 4 / 297، حدیث: 2663
[11] مراٰۃ المناجیح ، 1 / 204
[12] ردالمحتار ، 10 / 520 ملخصاً
[13] نزہۃ القاری ، 2 / 959تسہیلاً
[14] فتاویٰ شارح بخاری ، 1 /
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/hadees-shareef-aur-iski-sharah/na-pasand-batein
❤1👍1
حضرت مولانا حسنین رضا خان بریلوی
یوم وصال 05 صفر المظفر 1401
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حسنین رضا خان ۔
والد کا اسمِ گرامی:
استاذِ زمن ، شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے:
مولانا حسنین رضان بن مولانا حسن رضا خان بن مولانا نقی علی خان بن مولانا رضا علی خان،بن حافظ کاظم علی خان۔(علیہم الرحمۃ والرضوان)
تاریخِ ولادت:
حضرت مولانا حسنین رضا خان 1310ھ / 2189ء کو بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا حسنین رضا خاں علیہ الرحمہ حضور مفتی اعظم ہند شاہ محمد مصطفے رضا خان علیہ الرحمہ سے صرف چھ ماہ بڑے تھے اور علوم دینیہ کی تحصیل میں دونوں عم زاد ہم سبق رہے ہیں۔ رسم بسم اللہ خوانی کے بعد گھر ہی میں حصولِ تعلیم میں مصروف و مشغول ہوئے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنے فرزند اصغر مفتی اعظم کو پڑھانے کے ساتھ مولانا حضرت حسنین رضا علیہ الرحمہ کو بھی پڑھانا شروع کیا، اور جب دونوں کی عمریں بارہ برس ہو گئیں، تو اعلیٰ حضرت کثیر البرکت نے 1322ھ / 1904ء میں دارالعلوم منظر اسلام قائم فرمایا، تو اس دارالعلوم میں ان دونوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حضرت کے تین تلامذہ مزید، ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدین بہاری اور مولانا عبد الرشید عظیم آبادی اور مولانا نواب مرزا، پانچوں تلامذہ سے دارالعلوم منظر اسلام کا آغاز ہوا۔
جامعہ رضویہ منظر اسلام کی طلباء کی استعداد و قابلیت علیٰ وجہ البصیرت نہایت ارفع و اعلیٰ ہواکرتی تھیں۔ خانوادۂ اعلیٰ حضرت کے دو طالب علم حضرت مفتیِ اعظم ہند جبکہ دوسرے شہزادے مولانا حسنین رضا خان۔ ان دونوں کے امتحان کے حوالے سے ممتحن کی رائے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ "طلباء نے امتحان بہت عمدہ و اعلیٰ درجہ کا دیا، کل نظم و نسق مدرسہ اور طرز تعلیم و طریقۂ درس و تدریس نہایت فائق و شائستہ ہے۔ اور مدرسین طلباء ہر طرح پر قابل آفرین و تحسین ہیں۔
فارسی کتب درسیہ اور ہدایۃ النحو، کافیہ، شرح جامی، ایسا غوجی، شرح تہذیب، قطبی، ملا حسن، حمدللہ، شرح وقایہ، ہدایہ، نور الانوار، شفاء شریف وغیرہا کتب زیر درس میں جو مقام طلباء کے سامنے امتحاناً پیش کیے گئے۔ عبارتیں صحیح پڑھ کر مقاصد کتاب و مطالب عبارات کو بعض طلباء نے معاً بعض نے تاملاً معقول طور پر اچھی طرح بیان کیا خصوصاً میاں مولوی مصطفیٰ رضا خاں اور میاں مولوی حسنین رضا خاں نے جس عمدگی اور خوبی اورخوش اسلوبی کے ساتھ نہایت بلند مرتبہ کا شاید وباید محققانہ امتحان دیا۔ حق تو یہ ہے کہ وہ انہیں کا حصہ تھا۔ بارک اللہ فی علمھما وفہمھما۔ اتنی قلیل مدت میں اس مدرسہ کا ایسا نمایاں عالی مفاد اور طلباء کاکافی استعداد آپ ہی اپنا نظیر اور روشن دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ خیروبرکت اور روز افزوں ترقی عطا فرمائے۔آمین۔ (ممتحن: حضرت عید الاسلام علامہ عبد السلام جبلپوری رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت علامہ حسنین رضا خاں صاحب نے معقولات کی چند کتب، مناظر اہلسنت حضرت علامہ ہدایت رسول صاحب رامپوری سے بھی رامپور جاکر پڑھیں۔ نیز قطب الارشاد حضرت علامہ مفتی ارشاد حسین رامپوری کے درس میں بھی شریک ہوکر مستفاد ہوئے۔ بیعت وخلافت: اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کے مرید وخلیفہ تھے۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، سند الفقہاء، رئیس الصوفیاء، شہزادۂ برادرِ اعلیٰ حضرت ،حضرت علامہ مولانا حسنین رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان۔
جن کی مادرِ علمی منظرِ اسلام ہو،اور تربیت گاہ مجددِ اسلام کی آغوش ہو،اس کے علم وفضل کاکیا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔آپ بے شمار صلاحیتوں کے مالک تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت کی عالمِ اسلام کی عظیم دینی درسگاہ،منظرِ اسلام میں بحیثیت مدرس خدمت سر انجام دیتے رہے، بحیثیت مدرس تقرر کے لیے سفارش اعلیٰ حضرت قدس سرہ نےفرمائی تھی اور تقرر حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خاں نے فرمایا ۔
جامعہ رضویہ منظر اسلام میں تدریسی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے ساتھ ساتھ بریلی شریف سے ایک ماہنامہ "الرضا"جاری کیا۔ یہ ماہوار جریدہ بہت معروف ہوا، اعلیٰ حضرت کی حیات میں اس کے متعدد شمارے شائع ہوئے۔ حسنی پریس کی نگرانی اور اعلیٰ حضرت کی تصنیفات کی اشاعت کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرتے تھے، نیز حالت حاضرہ کے تحت مختلف فتنوں (تحریک ترک موالات، تحریک ہجرت، متحدہ قومیت، ندوہ تحریک، مرزائیت و قادیانیت، فتنہ وہابیت) کی بیخ کنی کے لیے اور اسلامیان ہند کے ایمان و عقائد کو بچانے کے لیے پمفلٹ، رسائل اور کتابچے شائع کرکے مفت تقسیم کرتے تھے
حضرت مولانا حسنین رضا خاں بریلوی کے فرزند ارجمند حضرت مولانا سبطین رضا اپنے والد کے کارناموں کو اختصار و اجمال سے یوں بیان کرتے ہیں:"جماعت رضائے مصطفےٰ بریلی کی شاندار خدمات میں آپ کا نمایاں حصہ تھا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ جس میں علماء و مشائخ کے علاوہ شہر و بیرون شہر کے بہت سے روسأ و وکلاء اور بیرسٹران نیز سیاسی لیڈر حکام اور اعلیٰ افسران، امیر و غریب
یوم وصال 05 صفر المظفر 1401
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حسنین رضا خان ۔
والد کا اسمِ گرامی:
استاذِ زمن ، شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے:
مولانا حسنین رضان بن مولانا حسن رضا خان بن مولانا نقی علی خان بن مولانا رضا علی خان،بن حافظ کاظم علی خان۔(علیہم الرحمۃ والرضوان)
تاریخِ ولادت:
حضرت مولانا حسنین رضا خان 1310ھ / 2189ء کو بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا حسنین رضا خاں علیہ الرحمہ حضور مفتی اعظم ہند شاہ محمد مصطفے رضا خان علیہ الرحمہ سے صرف چھ ماہ بڑے تھے اور علوم دینیہ کی تحصیل میں دونوں عم زاد ہم سبق رہے ہیں۔ رسم بسم اللہ خوانی کے بعد گھر ہی میں حصولِ تعلیم میں مصروف و مشغول ہوئے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنے فرزند اصغر مفتی اعظم کو پڑھانے کے ساتھ مولانا حضرت حسنین رضا علیہ الرحمہ کو بھی پڑھانا شروع کیا، اور جب دونوں کی عمریں بارہ برس ہو گئیں، تو اعلیٰ حضرت کثیر البرکت نے 1322ھ / 1904ء میں دارالعلوم منظر اسلام قائم فرمایا، تو اس دارالعلوم میں ان دونوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حضرت کے تین تلامذہ مزید، ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدین بہاری اور مولانا عبد الرشید عظیم آبادی اور مولانا نواب مرزا، پانچوں تلامذہ سے دارالعلوم منظر اسلام کا آغاز ہوا۔
جامعہ رضویہ منظر اسلام کی طلباء کی استعداد و قابلیت علیٰ وجہ البصیرت نہایت ارفع و اعلیٰ ہواکرتی تھیں۔ خانوادۂ اعلیٰ حضرت کے دو طالب علم حضرت مفتیِ اعظم ہند جبکہ دوسرے شہزادے مولانا حسنین رضا خان۔ ان دونوں کے امتحان کے حوالے سے ممتحن کی رائے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ "طلباء نے امتحان بہت عمدہ و اعلیٰ درجہ کا دیا، کل نظم و نسق مدرسہ اور طرز تعلیم و طریقۂ درس و تدریس نہایت فائق و شائستہ ہے۔ اور مدرسین طلباء ہر طرح پر قابل آفرین و تحسین ہیں۔
فارسی کتب درسیہ اور ہدایۃ النحو، کافیہ، شرح جامی، ایسا غوجی، شرح تہذیب، قطبی، ملا حسن، حمدللہ، شرح وقایہ، ہدایہ، نور الانوار، شفاء شریف وغیرہا کتب زیر درس میں جو مقام طلباء کے سامنے امتحاناً پیش کیے گئے۔ عبارتیں صحیح پڑھ کر مقاصد کتاب و مطالب عبارات کو بعض طلباء نے معاً بعض نے تاملاً معقول طور پر اچھی طرح بیان کیا خصوصاً میاں مولوی مصطفیٰ رضا خاں اور میاں مولوی حسنین رضا خاں نے جس عمدگی اور خوبی اورخوش اسلوبی کے ساتھ نہایت بلند مرتبہ کا شاید وباید محققانہ امتحان دیا۔ حق تو یہ ہے کہ وہ انہیں کا حصہ تھا۔ بارک اللہ فی علمھما وفہمھما۔ اتنی قلیل مدت میں اس مدرسہ کا ایسا نمایاں عالی مفاد اور طلباء کاکافی استعداد آپ ہی اپنا نظیر اور روشن دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ خیروبرکت اور روز افزوں ترقی عطا فرمائے۔آمین۔ (ممتحن: حضرت عید الاسلام علامہ عبد السلام جبلپوری رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت علامہ حسنین رضا خاں صاحب نے معقولات کی چند کتب، مناظر اہلسنت حضرت علامہ ہدایت رسول صاحب رامپوری سے بھی رامپور جاکر پڑھیں۔ نیز قطب الارشاد حضرت علامہ مفتی ارشاد حسین رامپوری کے درس میں بھی شریک ہوکر مستفاد ہوئے۔ بیعت وخلافت: اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کے مرید وخلیفہ تھے۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، سند الفقہاء، رئیس الصوفیاء، شہزادۂ برادرِ اعلیٰ حضرت ،حضرت علامہ مولانا حسنین رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان۔
جن کی مادرِ علمی منظرِ اسلام ہو،اور تربیت گاہ مجددِ اسلام کی آغوش ہو،اس کے علم وفضل کاکیا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔آپ بے شمار صلاحیتوں کے مالک تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت کی عالمِ اسلام کی عظیم دینی درسگاہ،منظرِ اسلام میں بحیثیت مدرس خدمت سر انجام دیتے رہے، بحیثیت مدرس تقرر کے لیے سفارش اعلیٰ حضرت قدس سرہ نےفرمائی تھی اور تقرر حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خاں نے فرمایا ۔
جامعہ رضویہ منظر اسلام میں تدریسی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے ساتھ ساتھ بریلی شریف سے ایک ماہنامہ "الرضا"جاری کیا۔ یہ ماہوار جریدہ بہت معروف ہوا، اعلیٰ حضرت کی حیات میں اس کے متعدد شمارے شائع ہوئے۔ حسنی پریس کی نگرانی اور اعلیٰ حضرت کی تصنیفات کی اشاعت کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرتے تھے، نیز حالت حاضرہ کے تحت مختلف فتنوں (تحریک ترک موالات، تحریک ہجرت، متحدہ قومیت، ندوہ تحریک، مرزائیت و قادیانیت، فتنہ وہابیت) کی بیخ کنی کے لیے اور اسلامیان ہند کے ایمان و عقائد کو بچانے کے لیے پمفلٹ، رسائل اور کتابچے شائع کرکے مفت تقسیم کرتے تھے
حضرت مولانا حسنین رضا خاں بریلوی کے فرزند ارجمند حضرت مولانا سبطین رضا اپنے والد کے کارناموں کو اختصار و اجمال سے یوں بیان کرتے ہیں:"جماعت رضائے مصطفےٰ بریلی کی شاندار خدمات میں آپ کا نمایاں حصہ تھا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ جس میں علماء و مشائخ کے علاوہ شہر و بیرون شہر کے بہت سے روسأ و وکلاء اور بیرسٹران نیز سیاسی لیڈر حکام اور اعلیٰ افسران، امیر و غریب
❤1👍1
غرض یہ کہ ہر طبقے کے لوگ شامل تھے جو آپ کے علم و فضل کے دل سے معترف تھے اور آپ کا ادب و احترام پوری طرح ملحوظ رکھتے تھے، ان کی نشست گاہ پر صبح سے لے کر شام تک مقامی و بیرونی لوگوں کی آمدو رفت کا تانتا بندھا رہتا تھا"۔
آپ کی مجالس :
آپ سے ملنے والوں میں ذاتی احباب کے علاوہ ضرورت مند بھی کثیر تعداد میں ہوتے تھے۔ ہمہ وقت مجلس گرم رہتی مختلف موضوعات پرگفتگو ہوتی ۔مہذب و شائستہ گفتگو فرماتے انداز گفتگو پیارا اور دلپذیر ہوتا اور بات اتنی ٹھوس فرماتے کہ مخاطب کے دل میں اتر جاتی اور وہ مطمئن ہوجاتا، طبیعت اتنی مرنجان مرنج اور شگفتہ پائی تھی کہ کیسا ہی مغموم و متفکر انسان آپ کے پاس آتا لیکن تھوڑی ہی دیر میں سارا رنج و غم بھول جاتا۔ ہر ماحول میں اپنے لیے گنجائش پیدا کرلینا اور بر وقت و برجستہ دماغ سے ایسی بات نکالنا کہ جو پورے ماحول پر اثر انداز ہو اس میں کمال حاصل تھا۔ غرض یہ کہ برمحل گفتگو حاضر دماغی اور ذہانت بلا کی پائی تھی۔
سماجی خدمات:
مسلمانوں اور بالخصوص غریب مسلمانوں سے آپ کو ہمیشہ قلبی تعلق اور گہرا لگاؤ رہا۔ جہاں امرأ و روسأ آپ کی محفل میں ہوتے وہاں بہت سے ضرورت مند غریب بھی بیٹھے نظر آتے، کسی کو نوکری کی تلاش ہے، کسی کو امداد چاہیے، کوئی اپنے مقدمہ میں آپ کی سفارش کا طلبگار ہے، کسی کو اسکول یا کالج میں بچے کی فیس معاف کرانا ہے، غرض یہ کہ ہر قسم کی ضرورتیں لے کر لوگ آپ کی خدمت میں آتے رہتے اور کوئی ضرورت مند کسی وقت بھی آجاتا، آپ اپنے تمام ضروری کاموں کو پس پشت ڈال دیتے، پہلے اس کی سرگذشت سنتے اور اس کا کام کرنے کو تیار ہوجاتے۔
شہر اور اس کے نواح میں تمام سرکاری و نیم سرکاری، محکموں کچہریوں، اسکولوں، کالجوں میں آپ کے جاننے والے آپ سے عقیدت و محبت رکھنے والے بے شمار لوگ موجود تھے، لہٰذا کسی کے نام سفارشی خط لکھ دیا، ضرورت محسوس کرتے، تو بہ نفس نفیس تشریف لے جاتے۔ ضرورت مند نے اگر سواری کا انتظام کرلیا ہے، تو فبہا! ورنہ اپنی جیب خاص سے کرایہ کی ادائیگی کرکے خود ہی سواری کا انتظام کرکے حاجتمند کو ساتھ لے گئے۔کبھی ایسا بھی ہو تاکہ ضعیف العمری کے باوجود پیدل تشریف لے جاتے۔
حاجتمندوں کے کام آنا، زندگی کا بہترین مشغلہ تھا، جو اس وقت تک جاری رہا، جب تک قویٰ میں توانائی باقی رہی۔ بلا مبالغہ سینکڑوں افراد کو ملازمتیں دلوادیں۔ناحق گرفتار ملزمان کو رہا کروادیا۔ جبکہ بعض کی سزائیں معاف کروادیں یا بعض کی سزائیں کم کروادیں۔ مسلمانوں کے آپس میں رنجشیں یا تنازعات و اختلافات میں صلح کرانے کے عملِ حَسن میں صبح تا نصف شب مشغول رہتے۔ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت میں گھر کا قیمتی سامان بھی ایثار کرنے سے گریزاں نہیں ہوتے تھے۔
کوئی عاریتاً بھی سامان لیتا اور بعد استعمال واپس نہیں کرتا، تو آپ کبھی تقاضا نہیں کرتے تھے اور نہ ہی اشارتاًیا کنایتاً بھی توجہ نہیں دلواتے تھے۔ اس ضمن میں بقول مولانا سبطین رضا خاں!کہ میری والدہ (اپنی اہلیہ) کا زیور، ایک صاحب کے عرض کرنے پر اُن کی اہلیہ کے استعمال کے لیے مستعار دیدیا، انھوں نے تاحیات واپس نہیں کیا، جبکہ آپ نے کبھی اُن سے تقاضا نہیں کیا۔ اس سے بہتر آج کی دنیا میں ایثار و قربانی کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے ۔
احباب میں سےکبھی کسی کی معمولی سی دلشکنی گوارا نہ فرمائی۔جماعت رضائے مصطفےٰ کے پلیٹ فارم سے حضور مفتی اعظم کے شانہ سے شانہ ملاکر اور مفتی سیّد نعیم الدین مرادآبادی کے قدم سے قدم ملاکر شدھی تحریک کے انسداد میں سر دھڑ کی بازی لگادی۔ ہزاروں مسلمانوں کے ایمان کو بچایا۔ اور ان کی مدد کے لیے "جماعت انصار الاسلام" قائم فرمائی۔
وصال :
اکیانوے برس کی عمر شریف میں، 5/صفر 1401ھ/ 14دسمبر 1980ء کو بروز اتوار وصال پر ملال فرمایا۔ دوران غسل بآواز بلند، زبان سے اسم جلالت "اللہ" ادا فرمایا۔
ماخذ و مراجع:
معراجِ جسمانی ۔ مطبوعہ انجمن ضیاء طیبہ
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/khalifa-e-ala-hazrat-allama-hasnain-raza-khan-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
آپ کی مجالس :
آپ سے ملنے والوں میں ذاتی احباب کے علاوہ ضرورت مند بھی کثیر تعداد میں ہوتے تھے۔ ہمہ وقت مجلس گرم رہتی مختلف موضوعات پرگفتگو ہوتی ۔مہذب و شائستہ گفتگو فرماتے انداز گفتگو پیارا اور دلپذیر ہوتا اور بات اتنی ٹھوس فرماتے کہ مخاطب کے دل میں اتر جاتی اور وہ مطمئن ہوجاتا، طبیعت اتنی مرنجان مرنج اور شگفتہ پائی تھی کہ کیسا ہی مغموم و متفکر انسان آپ کے پاس آتا لیکن تھوڑی ہی دیر میں سارا رنج و غم بھول جاتا۔ ہر ماحول میں اپنے لیے گنجائش پیدا کرلینا اور بر وقت و برجستہ دماغ سے ایسی بات نکالنا کہ جو پورے ماحول پر اثر انداز ہو اس میں کمال حاصل تھا۔ غرض یہ کہ برمحل گفتگو حاضر دماغی اور ذہانت بلا کی پائی تھی۔
سماجی خدمات:
مسلمانوں اور بالخصوص غریب مسلمانوں سے آپ کو ہمیشہ قلبی تعلق اور گہرا لگاؤ رہا۔ جہاں امرأ و روسأ آپ کی محفل میں ہوتے وہاں بہت سے ضرورت مند غریب بھی بیٹھے نظر آتے، کسی کو نوکری کی تلاش ہے، کسی کو امداد چاہیے، کوئی اپنے مقدمہ میں آپ کی سفارش کا طلبگار ہے، کسی کو اسکول یا کالج میں بچے کی فیس معاف کرانا ہے، غرض یہ کہ ہر قسم کی ضرورتیں لے کر لوگ آپ کی خدمت میں آتے رہتے اور کوئی ضرورت مند کسی وقت بھی آجاتا، آپ اپنے تمام ضروری کاموں کو پس پشت ڈال دیتے، پہلے اس کی سرگذشت سنتے اور اس کا کام کرنے کو تیار ہوجاتے۔
شہر اور اس کے نواح میں تمام سرکاری و نیم سرکاری، محکموں کچہریوں، اسکولوں، کالجوں میں آپ کے جاننے والے آپ سے عقیدت و محبت رکھنے والے بے شمار لوگ موجود تھے، لہٰذا کسی کے نام سفارشی خط لکھ دیا، ضرورت محسوس کرتے، تو بہ نفس نفیس تشریف لے جاتے۔ ضرورت مند نے اگر سواری کا انتظام کرلیا ہے، تو فبہا! ورنہ اپنی جیب خاص سے کرایہ کی ادائیگی کرکے خود ہی سواری کا انتظام کرکے حاجتمند کو ساتھ لے گئے۔کبھی ایسا بھی ہو تاکہ ضعیف العمری کے باوجود پیدل تشریف لے جاتے۔
حاجتمندوں کے کام آنا، زندگی کا بہترین مشغلہ تھا، جو اس وقت تک جاری رہا، جب تک قویٰ میں توانائی باقی رہی۔ بلا مبالغہ سینکڑوں افراد کو ملازمتیں دلوادیں۔ناحق گرفتار ملزمان کو رہا کروادیا۔ جبکہ بعض کی سزائیں معاف کروادیں یا بعض کی سزائیں کم کروادیں۔ مسلمانوں کے آپس میں رنجشیں یا تنازعات و اختلافات میں صلح کرانے کے عملِ حَسن میں صبح تا نصف شب مشغول رہتے۔ مخلوق خدا کی بے لوث خدمت میں گھر کا قیمتی سامان بھی ایثار کرنے سے گریزاں نہیں ہوتے تھے۔
کوئی عاریتاً بھی سامان لیتا اور بعد استعمال واپس نہیں کرتا، تو آپ کبھی تقاضا نہیں کرتے تھے اور نہ ہی اشارتاًیا کنایتاً بھی توجہ نہیں دلواتے تھے۔ اس ضمن میں بقول مولانا سبطین رضا خاں!کہ میری والدہ (اپنی اہلیہ) کا زیور، ایک صاحب کے عرض کرنے پر اُن کی اہلیہ کے استعمال کے لیے مستعار دیدیا، انھوں نے تاحیات واپس نہیں کیا، جبکہ آپ نے کبھی اُن سے تقاضا نہیں کیا۔ اس سے بہتر آج کی دنیا میں ایثار و قربانی کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے ۔
احباب میں سےکبھی کسی کی معمولی سی دلشکنی گوارا نہ فرمائی۔جماعت رضائے مصطفےٰ کے پلیٹ فارم سے حضور مفتی اعظم کے شانہ سے شانہ ملاکر اور مفتی سیّد نعیم الدین مرادآبادی کے قدم سے قدم ملاکر شدھی تحریک کے انسداد میں سر دھڑ کی بازی لگادی۔ ہزاروں مسلمانوں کے ایمان کو بچایا۔ اور ان کی مدد کے لیے "جماعت انصار الاسلام" قائم فرمائی۔
وصال :
اکیانوے برس کی عمر شریف میں، 5/صفر 1401ھ/ 14دسمبر 1980ء کو بروز اتوار وصال پر ملال فرمایا۔ دوران غسل بآواز بلند، زبان سے اسم جلالت "اللہ" ادا فرمایا۔
ماخذ و مراجع:
معراجِ جسمانی ۔ مطبوعہ انجمن ضیاء طیبہ
Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/khalifa-e-ala-hazrat-allama-hasnain-raza-khan-barelvi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
حضرت امُ المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
نام و نسب:
اسمِ گرامی: آپ کا نام بَرّہ تھا ۔ آپ ﷺ نے میمونہ رکھا۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے:
میمونہ بنتِ حارث بن خزن بن بجیر بن ھرم بن رویبہ بن عبد اللہ بن ہلال بن عامر بن صعصعہ بن معاویہ بن بکر بن ہوازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان بن مضر بن نزار ۔
والدہ:
والدہ کا نام ہند بنت عوف تھا۔ حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی والدہ ""ہند بنت عوف"" کے بارے میں عام طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ دامادوں کے اعتبار سے روئے زمین پر کوئی بڑھیا ان سے زیادہ خوش نصیب نہیں ہوئی کیونکہ ان کے دامادوں کی فہرست میں مندرجہ ذیل ہستیاں ہیں۔ (۱) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم (۲) حضرت ابوبکر (۳) حضرت علی(۴)حضرت حمزہ(۵) حضرت عباس(۶)حضرت شداد بن الہاد ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم
یہ سب کے سب بزرگوار ""ہند بنت عوف"" رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے داماد ہیں۔ ھند بنت عوف کی دوسری خوش قسمتی یہ ہے کہ ان کی دوبیٹیاں یکے بعد دیگرے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے عقد میں رہیں۔ (1) (زرقانی جلد۳ ص۲۵۱ و مدارج جلد۲ ص۴۸۴)
شرفِ نکاح:
حضور ﷺ 7 ھ میں عمرۃ القضاء کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو یہ بیوہ ہو چکی تھیں حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کے بارے میں حضور ﷺ سے گفتگو کی اور آپ نے ان سے نکاح فرما لیا اور عمرۃ القضاء سے واپسی پر مقام ""سرف"" میں ان کو اپنی صحبت سے سرفراز فرمایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی طرف سے انہیں نکاح کا پیام ملا وہ اونٹ پر سوار تھیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا: اونٹ اورجواس پرہے اللہ اوراس کے رسول ﷺ کے لئے ہے۔ (التفسیر القرطبی،الجزء الرابع عشر، الاحزاب:۵۰،ج۷،ص۱۵۴)
حضرت بی بی میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے کل چھہتر حدیثیں مروی ہیں جن میں سے سات حدیثیں ایسی ہیں جو بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں مذکور ہیں اور ایک حدیث صرف بخاری میں ہے اور ایک ایسی حدیث ہے جو صرف مسلم میں ہے اور باقی حدیثیں احادیث کی دوسری کتابوں میں مذکور ہیں۔یہ حضور ﷺ کی آخری زو جہ مبارکہ ہیں ان کے بعد حضورِ اقدس ﷺ نے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں فرمایا ان کے انتقال کے سال میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ مگر قول مشہور یہ ہے کہ انہوں نے 51 ھ میں بمقام ""سرف"" وفات پائی جہاں رسول اﷲ ﷺ نے ان سے زفاف فرمایا تھا۔ ابن سعد نے واقدی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے 61ھ میں وفات پائی اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ 63ھ ان کے انتقال کا سال ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔
ان کی وفات کے وقت ان کے بھانجے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما موجود تھے اور انہوں ہی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو قبر میں اتارا، محدث عطا ء کا بیان ہے کہ ہم لوگ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے ساتھ حضرت بی بی میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے جنازہ میں شریک تھے۔ جب جنازہ اٹھایا گیا تو حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے بہ آواز بلند فرمایا کہ اے لوگو!یہ رسول اﷲﷺ کی بیوی ہیں۔ تم لوگ ان کے جنازہ کو بہت آہستہ آہستہ لے کر چلو اور ان کی مقدس لاش کو نہ جھنجھوڑو۔
عجیب اتفاق:
یہ عجیب اتفاق ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح، زفاف اور وصال ایک ہی مقام پر واقع ہوا جسے "سرف" کہتے ہیں اور یہ مکہ مکرمہ سے دس میل کے فاصلہ پر ہے۔مسجِدِ تنعیم کے بالکل قریب ہے۔
ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ـ جنتی زیور ۔ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-hazrat-maimoona
Copyright © Zia-e-Taiba
نام و نسب:
اسمِ گرامی: آپ کا نام بَرّہ تھا ۔ آپ ﷺ نے میمونہ رکھا۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے:
میمونہ بنتِ حارث بن خزن بن بجیر بن ھرم بن رویبہ بن عبد اللہ بن ہلال بن عامر بن صعصعہ بن معاویہ بن بکر بن ہوازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان بن مضر بن نزار ۔
والدہ:
والدہ کا نام ہند بنت عوف تھا۔ حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی والدہ ""ہند بنت عوف"" کے بارے میں عام طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ دامادوں کے اعتبار سے روئے زمین پر کوئی بڑھیا ان سے زیادہ خوش نصیب نہیں ہوئی کیونکہ ان کے دامادوں کی فہرست میں مندرجہ ذیل ہستیاں ہیں۔ (۱) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم (۲) حضرت ابوبکر (۳) حضرت علی(۴)حضرت حمزہ(۵) حضرت عباس(۶)حضرت شداد بن الہاد ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم
یہ سب کے سب بزرگوار ""ہند بنت عوف"" رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے داماد ہیں۔ ھند بنت عوف کی دوسری خوش قسمتی یہ ہے کہ ان کی دوبیٹیاں یکے بعد دیگرے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے عقد میں رہیں۔ (1) (زرقانی جلد۳ ص۲۵۱ و مدارج جلد۲ ص۴۸۴)
شرفِ نکاح:
حضور ﷺ 7 ھ میں عمرۃ القضاء کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو یہ بیوہ ہو چکی تھیں حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کے بارے میں حضور ﷺ سے گفتگو کی اور آپ نے ان سے نکاح فرما لیا اور عمرۃ القضاء سے واپسی پر مقام ""سرف"" میں ان کو اپنی صحبت سے سرفراز فرمایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی طرف سے انہیں نکاح کا پیام ملا وہ اونٹ پر سوار تھیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا: اونٹ اورجواس پرہے اللہ اوراس کے رسول ﷺ کے لئے ہے۔ (التفسیر القرطبی،الجزء الرابع عشر، الاحزاب:۵۰،ج۷،ص۱۵۴)
حضرت بی بی میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے کل چھہتر حدیثیں مروی ہیں جن میں سے سات حدیثیں ایسی ہیں جو بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں مذکور ہیں اور ایک حدیث صرف بخاری میں ہے اور ایک ایسی حدیث ہے جو صرف مسلم میں ہے اور باقی حدیثیں احادیث کی دوسری کتابوں میں مذکور ہیں۔یہ حضور ﷺ کی آخری زو جہ مبارکہ ہیں ان کے بعد حضورِ اقدس ﷺ نے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں فرمایا ان کے انتقال کے سال میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ مگر قول مشہور یہ ہے کہ انہوں نے 51 ھ میں بمقام ""سرف"" وفات پائی جہاں رسول اﷲ ﷺ نے ان سے زفاف فرمایا تھا۔ ابن سعد نے واقدی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے 61ھ میں وفات پائی اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ 63ھ ان کے انتقال کا سال ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔
ان کی وفات کے وقت ان کے بھانجے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما موجود تھے اور انہوں ہی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو قبر میں اتارا، محدث عطا ء کا بیان ہے کہ ہم لوگ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے ساتھ حضرت بی بی میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے جنازہ میں شریک تھے۔ جب جنازہ اٹھایا گیا تو حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے بہ آواز بلند فرمایا کہ اے لوگو!یہ رسول اﷲﷺ کی بیوی ہیں۔ تم لوگ ان کے جنازہ کو بہت آہستہ آہستہ لے کر چلو اور ان کی مقدس لاش کو نہ جھنجھوڑو۔
عجیب اتفاق:
یہ عجیب اتفاق ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح، زفاف اور وصال ایک ہی مقام پر واقع ہوا جسے "سرف" کہتے ہیں اور یہ مکہ مکرمہ سے دس میل کے فاصلہ پر ہے۔مسجِدِ تنعیم کے بالکل قریب ہے۔
ماخذ و مراجع:
شریف التواریخ ـ جنتی زیور ۔ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/wife-of-holy-prophet-muhammad-hazrat-maimoona
Copyright © Zia-e-Taiba
❤2👍1
خلیفہ خواجۂ نقشبند، مرشد خواجہ احرار، مفسر قرآن، حضرت علامہ خواجہ یعقوب بن عثمان چرخی نقشبندی رضی اللہ عنہ کی ولادت 762ھ میں چرخ نزد غزنی افغانستان میں ہوئی۔ آپ خلیفہ و مصاحب خواجہ بہاؤ الدین نقشبند، مرشد حضرت خواجہ عبید اللہ احرار، جید عالم دین، اور صاحب تصانیف ہیں۔ تفسیر چرخی اور شرح اسماء الحسنی آپ کی مطبوع کتب ہیں۔ 5 صفر 851ھ کو فرمایا۔ مزار مبارک موضع لنین کال خور، دو شنبہ، تاجکستان میں مرجع خلائق ہے۔ (تذکرہ مشائخ نقشبند، نفحات الانس)
Khalifah of Khwajah Naqshband, Murshid of Khwajah Ahrar, Exegetist of the Holy Quran, Allamah Khwajah Ya’qoob Charkhi Naqshbandi (RadiyAllahu Anhu) was born in the year 762 AH in Charkh near Ghazni, Afghanistan. He is the khalifah and companion of Khwajah Bahauddin Naqshband, Spiritual guide of Khwajah Ubaydullah Ahrar, acclaimed scholar, and an author. Tafsir Charkhi and Sharh Asma al-Husna are from his published works. He passed away on the 5th of Safar, 851 AH. His mausoleum is located in the area of Lenin Kaal Khaur, Dushanbah, Tajikistan. [Tazkirah Mashaikh Naqshband, Nafhat al-Uns]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02M2g7Nk6zv8DqumwagmccujsvnBwRmEoR28xxAbRhfJ7Y8WukU2RptPDo3ZmKUcMKl&id=100050689590519
Khalifah of Khwajah Naqshband, Murshid of Khwajah Ahrar, Exegetist of the Holy Quran, Allamah Khwajah Ya’qoob Charkhi Naqshbandi (RadiyAllahu Anhu) was born in the year 762 AH in Charkh near Ghazni, Afghanistan. He is the khalifah and companion of Khwajah Bahauddin Naqshband, Spiritual guide of Khwajah Ubaydullah Ahrar, acclaimed scholar, and an author. Tafsir Charkhi and Sharh Asma al-Husna are from his published works. He passed away on the 5th of Safar, 851 AH. His mausoleum is located in the area of Lenin Kaal Khaur, Dushanbah, Tajikistan. [Tazkirah Mashaikh Naqshband, Nafhat al-Uns]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid02M2g7Nk6zv8DqumwagmccujsvnBwRmEoR28xxAbRhfJ7Y8WukU2RptPDo3ZmKUcMKl&id=100050689590519
❤2👍1
ہادیٔ میسور، عمدۃ المحدثین، سید المحققین، حامی سنن، آئینہ ذات رضا، شمس العلماء، حضرت پیر سید مقبول احمد شاہ قادری سہروردی شامی کشمیری رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت ضلع بارہ مولہ، تحصیل سوپور، کشمیر میں 1312ھ میں ہوئی۔ آپ عظیم عاشق رسول، فاضل جامعہ ازھر، متبحر عالم دین، پابند شرع، مبلغ اسلام، بہترین مناظر، مدرس مدرسہ معینیہ عثمانیہ اجمیر شریف، اور صاحب کرامات ولی اللہ تھے۔ پوری عمر خدمت دین متین میں گزاری۔ 5 صفر المظفر 1390ھ مطابق 12 اپریل 1970ء بروز اتوار صبح 7 بجکر 20 منٹ پر وصال فرمایا۔ مزار مبارک ہانگل شریف، ضلع ہاویری، کرناٹک، ہندستان میں مرجع خاص و عام ہے۔ (سوانح مقبولی)
Spiritual Guide of Mysore, Leader of Hadith Experts and Researchers, Defender of Sunnah, Pir Sayyid Maqbool Ahmad Shah Qadiri Suhrawardi Shami Kashmiri (RadiyAllahu Anhu) was born in 1312 AH in Baramulla, Supur, Kashmir. He was an ardent devotee of the beloved Prophet ﷺ, skilled, pious, and practicing scholar; graduate of Jami'ah al-Azhar, staunch follower of Shariah, preacher of Islam, excellent debater, teacher at Madrissah Mueeniyah Usmaniyah Ajmer Sharif, and a man of saintly miracles. He spent all his life serving the religion of Islam. He passed away on Sunday, 5th Safar 1390 AH corresponding to 12th April 1970 CE at 07:20am. His blessed mausoleum in Hangal Sharif, Haveri, Karnataka, India, is visited frequently by the masses. [Sawaneh Maqbooli]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid024TjdWhqA2qk3vzf7DEfLMKxdwFMNvduUhDhgL39w7AFmjQd7UEtvA8tjCbPo97WEl&id=100050689590519
Spiritual Guide of Mysore, Leader of Hadith Experts and Researchers, Defender of Sunnah, Pir Sayyid Maqbool Ahmad Shah Qadiri Suhrawardi Shami Kashmiri (RadiyAllahu Anhu) was born in 1312 AH in Baramulla, Supur, Kashmir. He was an ardent devotee of the beloved Prophet ﷺ, skilled, pious, and practicing scholar; graduate of Jami'ah al-Azhar, staunch follower of Shariah, preacher of Islam, excellent debater, teacher at Madrissah Mueeniyah Usmaniyah Ajmer Sharif, and a man of saintly miracles. He spent all his life serving the religion of Islam. He passed away on Sunday, 5th Safar 1390 AH corresponding to 12th April 1970 CE at 07:20am. His blessed mausoleum in Hangal Sharif, Haveri, Karnataka, India, is visited frequently by the masses. [Sawaneh Maqbooli]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid024TjdWhqA2qk3vzf7DEfLMKxdwFMNvduUhDhgL39w7AFmjQd7UEtvA8tjCbPo97WEl&id=100050689590519
❤2👍1