🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-02-1444 ᴴ | 02-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-02-1444 ᴴ | 02-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
04-02-1444 ᴴ | 02-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
04-02-1444 ᴴ | 02-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
اللہ پاک کو نا پسند 3 باتیں:
حدیث شریف اور اس کی شرح
مولانا ابو الحسان عطاری مدنی
حُضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا : قِيلَ وَقَالَ وَاِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ
یعنی اللہ پاک تمہارے لئے 3 باتوں کو نا پسند فرماتا ہے : (1) قِیل و قَال (2) مال ضائع کرنا (3) کثرت سے سوال کرنا ۔ [1]
حضرت سیّدُنا امیر معاویہ رضی اللہُ عنہ نے حضرت سیّدُنا مُغیرہ بن شُعبہ رضی اللہُ عنہ کی طرف خط کے ذریعے پیغام بھیجا کہ کوئی ایسی حدیثِ پاک لکھ کر میری طرف روانہ کریں جو آپ نے خود سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سنی ہو۔
حضرت سیّدُنا مُغیرہ بن شُعبہ رضی اللہُ عنہ نے جواباً تحریر فرمایا کہ میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، پھر مذکورہ حدیثِ پاک بیان کی۔
اے عاشقانِ رسول! اس فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں جن 3 باتوں کو اللہ پاک کا نا پسندیدہ قرار دیا گیا ہے ان کی مختصر وضاحت ملاحظہ فرمائیے:
(1) قِیل و قَال :* قِیل و قَال کی ممانعت سے مراد یہ ہے کہ سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بے فائدہ گفتگو کی کثرت سے منع فرمایا۔
اس ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ بے فائدہ گفتگو کی کثرت کرنے والا اپنی گفتگو میں خطا اور غلطی سے نہیں بچ سکتا۔ [2] نیز اس طرح کی فُضول گفتگو سے دل سخت اور وقت ضائع ہوتا ہے۔ [3]
فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جس شخص کی گفتگو زیادہ ہو اس کی غَلَطیاں زِیادہ ہوتی ہیں، جس کی غَلَطیاں زیادہ ہوں اُس کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں اور جس کے گناہ زیادہ ہوں وہ دوزخ کے زیادہ لائق ہے۔ [4]
(زبان کی احتیاطیں جاننے اور سمجھنے نیز خاموشی کے فوائد جاننے کے لئے ان رسائل کو ضرور پڑھئے ـ ”خاموش شہزادہ “ ـ ”جنّت کی دو چابیاں“ ـ ”ایک چُپ سو سُکھ“ )
(2) مال ضائع کرنا : مال ضائع کرنے کی بے شمار صورتیں ہیں: اس كی حفاظت نہ کرنا، مال بڑھانے کی کوشش نہ کرنا، جو موجود ہے اسی کو بیٹھے بیٹھے کھانا، فضول خرچی کرنا، گناہوں میں خرچ کرنا، اپنی حیثیت سے زیادہ انعام و اکرام پیش کرنا، جن چیزوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے انہیں پھینک دینا وغیرہ وغیرہ۔ [5]
(3) کثرتِ سوال : بکثرت سوال کرنے کی ممانعت میں شرعی اجازت کے بغیر دوسروں سے مال وغیرہ مانگنا اور علمائے کرام سے غیر ضروری و فضول سوالات کرنا دونوں شامل ہیں۔ [6]
مال کے سوال کا وبال: فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: آدمی (مال کا) سوال کرتا رہے گا، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اُس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہوگا۔ [7] یعنی نہایت بے آبرو (بے عزت) ہو کر (آئے گا)۔ [8]
(مانگنے کی مذمت و نحوست پر تفصیل جاننے کے لئے “ ماہنامہ فیضانِ مدینہ “ شوال 1438 تا ذوالقعدۃ الحرام 1438 کا مضمون “ بھیک اور بھکاری “ پڑھئے۔ یہ ماہنامہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ )
غیر ضروری علمی سوالات نہ کئے جائیں: ایک مسلمان کے لئےضروری مسائل کا علم حاصل کرنا اور علمائے کرام سے شرعی راہنمائی لینا ضروری ہے۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ( فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ (۴۳) ترجمۂ کنز العرفان: اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔ [9]
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
https://alqurankarim.net/ur/surah-an-nahl/ayat-43/translation/tafsir
لیکن بلا ضرورت ایسے فُضول سوالات کرنے سے بچنا چاہئے جن کا تعلق نہ تو عقیدے سے ہو اور نہ ہی عمل سے۔ غیر ضروری اور فضول سوالات کرنے والے کی نیت اگر علمائے کرام سے بحث مباحثہ کرنے، سوالات کے ذریعے علم حاصل کرکے عوام کو پریشان کرنے اور شہرت حاصل کرنے کی ہو تو اسے اس فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر غور کرکے ڈرنا چاہئے:
جو اس لئے علم طلب کرے تاکہ اس کے ذریعے علماء سے مقابلہ کرے، جاہلوں سے جھگڑے یا لوگوں کی توجہ حاصل کرے تو اللہ پاک اسے دوزخ میں داخل فرمائے گا۔ [10]
مفتی احمد یا ر خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: جو (شخص) دینی علم دین کے لئے نہ سیکھے بلکہ عزت یا مال حاصل کرنے یا دین میں فساد پھیلانے کے لئے سیکھے تو (وہ) اوّل درجہ کا جہنمی ہے۔ [11]
غیر ضروری سوالات کی مثالیں:
خاتَمُ المُحَقِّقِیْن حضرت علّامہ سیّد محمد امین ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انسان کو چاہئے کہ اس چیز کے بارے میں سوال نہ کرے جس کی اسے ضرورت نہیں،
حدیث شریف اور اس کی شرح
مولانا ابو الحسان عطاری مدنی
حُضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا : قِيلَ وَقَالَ وَاِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ
یعنی اللہ پاک تمہارے لئے 3 باتوں کو نا پسند فرماتا ہے : (1) قِیل و قَال (2) مال ضائع کرنا (3) کثرت سے سوال کرنا ۔ [1]
حضرت سیّدُنا امیر معاویہ رضی اللہُ عنہ نے حضرت سیّدُنا مُغیرہ بن شُعبہ رضی اللہُ عنہ کی طرف خط کے ذریعے پیغام بھیجا کہ کوئی ایسی حدیثِ پاک لکھ کر میری طرف روانہ کریں جو آپ نے خود سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے سنی ہو۔
حضرت سیّدُنا مُغیرہ بن شُعبہ رضی اللہُ عنہ نے جواباً تحریر فرمایا کہ میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، پھر مذکورہ حدیثِ پاک بیان کی۔
اے عاشقانِ رسول! اس فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں جن 3 باتوں کو اللہ پاک کا نا پسندیدہ قرار دیا گیا ہے ان کی مختصر وضاحت ملاحظہ فرمائیے:
(1) قِیل و قَال :* قِیل و قَال کی ممانعت سے مراد یہ ہے کہ سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بے فائدہ گفتگو کی کثرت سے منع فرمایا۔
اس ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ بے فائدہ گفتگو کی کثرت کرنے والا اپنی گفتگو میں خطا اور غلطی سے نہیں بچ سکتا۔ [2] نیز اس طرح کی فُضول گفتگو سے دل سخت اور وقت ضائع ہوتا ہے۔ [3]
فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جس شخص کی گفتگو زیادہ ہو اس کی غَلَطیاں زِیادہ ہوتی ہیں، جس کی غَلَطیاں زیادہ ہوں اُس کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں اور جس کے گناہ زیادہ ہوں وہ دوزخ کے زیادہ لائق ہے۔ [4]
(زبان کی احتیاطیں جاننے اور سمجھنے نیز خاموشی کے فوائد جاننے کے لئے ان رسائل کو ضرور پڑھئے ـ ”خاموش شہزادہ “ ـ ”جنّت کی دو چابیاں“ ـ ”ایک چُپ سو سُکھ“ )
(2) مال ضائع کرنا : مال ضائع کرنے کی بے شمار صورتیں ہیں: اس كی حفاظت نہ کرنا، مال بڑھانے کی کوشش نہ کرنا، جو موجود ہے اسی کو بیٹھے بیٹھے کھانا، فضول خرچی کرنا، گناہوں میں خرچ کرنا، اپنی حیثیت سے زیادہ انعام و اکرام پیش کرنا، جن چیزوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے انہیں پھینک دینا وغیرہ وغیرہ۔ [5]
(3) کثرتِ سوال : بکثرت سوال کرنے کی ممانعت میں شرعی اجازت کے بغیر دوسروں سے مال وغیرہ مانگنا اور علمائے کرام سے غیر ضروری و فضول سوالات کرنا دونوں شامل ہیں۔ [6]
مال کے سوال کا وبال: فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: آدمی (مال کا) سوال کرتا رہے گا، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اُس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہوگا۔ [7] یعنی نہایت بے آبرو (بے عزت) ہو کر (آئے گا)۔ [8]
(مانگنے کی مذمت و نحوست پر تفصیل جاننے کے لئے “ ماہنامہ فیضانِ مدینہ “ شوال 1438 تا ذوالقعدۃ الحرام 1438 کا مضمون “ بھیک اور بھکاری “ پڑھئے۔ یہ ماہنامہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ )
غیر ضروری علمی سوالات نہ کئے جائیں: ایک مسلمان کے لئےضروری مسائل کا علم حاصل کرنا اور علمائے کرام سے شرعی راہنمائی لینا ضروری ہے۔ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: ( فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ (۴۳) ترجمۂ کنز العرفان: اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔ [9]
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
https://alqurankarim.net/ur/surah-an-nahl/ayat-43/translation/tafsir
لیکن بلا ضرورت ایسے فُضول سوالات کرنے سے بچنا چاہئے جن کا تعلق نہ تو عقیدے سے ہو اور نہ ہی عمل سے۔ غیر ضروری اور فضول سوالات کرنے والے کی نیت اگر علمائے کرام سے بحث مباحثہ کرنے، سوالات کے ذریعے علم حاصل کرکے عوام کو پریشان کرنے اور شہرت حاصل کرنے کی ہو تو اسے اس فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر غور کرکے ڈرنا چاہئے:
جو اس لئے علم طلب کرے تاکہ اس کے ذریعے علماء سے مقابلہ کرے، جاہلوں سے جھگڑے یا لوگوں کی توجہ حاصل کرے تو اللہ پاک اسے دوزخ میں داخل فرمائے گا۔ [10]
مفتی احمد یا ر خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: جو (شخص) دینی علم دین کے لئے نہ سیکھے بلکہ عزت یا مال حاصل کرنے یا دین میں فساد پھیلانے کے لئے سیکھے تو (وہ) اوّل درجہ کا جہنمی ہے۔ [11]
غیر ضروری سوالات کی مثالیں:
خاتَمُ المُحَقِّقِیْن حضرت علّامہ سیّد محمد امین ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انسان کو چاہئے کہ اس چیز کے بارے میں سوال نہ کرے جس کی اسے ضرورت نہیں،
❤1👍1
مثلاً حضرت سیّدُنا جبریلِ امین علیہ الصّلوٰۃ والسّلام زمین پر کس طرح اترتے تھے اور سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم انہیں کس صورت میں دیکھتے تھے؟ حُضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب انہیں بَشری صورت میں دیکھتے تھے اس وقت وہ فرشتے ہوتے تھے یا نہیں؟ اور اسی طرح کی دیگر باتیں جن کا جاننا ضروری نہیں ہے، اور شریعت نے ہمیں ان باتوں کا علم حاصل کرنے کا پابند نہیں بنایا۔ [12]
شارحِ بخاری مفتی شریفُ الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فضول سوالات کی مثال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وہ باتیں جن کے جاننے کے ہم مُکَلَّف (یعنی پابند) نہیں، جیسے: حضرت آدم ( علیہ السّلام ) نے جنّت میں سب سے پہلے کیا کھایا تھا؟ دنیا میں آکر سب سے پہلے کیا کھایا؟ حضرت حوا (رضی اللہُ عنہا) سے (آپ کی) ملاقات ہوئی تو پہلی گفتگو کیا ہوئی؟ حضرت اسماعیل (علیہ السّلام) کے فدیے کے گوشت کا کیا ہوا؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ (سوالات) ممنوع ہیں اور اسی کثرتِ سوالات میں داخل ہیں۔ [13]
ایک مقام پر شارحِ بخاری فرشتوں کی داڑھی سے متعلق سوال کرنے والے کو سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں: ہم اس کے مُکَلَّف (یعنی پابند) نہیں کہ یہ بھی ایمان رکھیں کہ فرشتوں کی کیا شکل ہے؟ انہیں داڑھی ہے یا نہیں؟ اس لیے اس کے کُرید (یعنی جستجو) میں رہنا، نامناسب ہے۔ [14]
اے ہمارے پیارے پیارے اللہ کریم! ہمیں اس حدیثِ پاک میں بیان کردہ تینوں باتوں سے مکمل طور پر بچنے کی توفیق عطا فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃُ المدینہ
ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی
[1] بخاری، 1 / 498، حدیث: 1477
[2] فتح الباری ، 12 / 260
[3] لمعات التنقیح ، 8 / 210
[4] حلیۃ الاولیاء، 3 / 88 ، رقم: 3278
[5] نزہۃ القاری ، 2 / 959 تسہیلاً
[6] نزہۃ القاری ، 2 / 959 مفہوماً
[7] بخاری، 1 / 497 ، حدیث: 1474
[8] بہارِ شریعت ، 1 / 941
[9] پ : 14 ، سورۃ النحل : 43
[10] ترمذی، 4 / 297، حدیث: 2663
[11] مراٰۃ المناجیح ، 1 / 204
[12] ردالمحتار ، 10 / 520 ملخصاً
[13] نزہۃ القاری ، 2 / 959تسہیلاً
[14] فتاویٰ شارح بخاری ، 1 /
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/hadees-shareef-aur-iski-sharah/na-pasand-batein
شارحِ بخاری مفتی شریفُ الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فضول سوالات کی مثال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وہ باتیں جن کے جاننے کے ہم مُکَلَّف (یعنی پابند) نہیں، جیسے: حضرت آدم ( علیہ السّلام ) نے جنّت میں سب سے پہلے کیا کھایا تھا؟ دنیا میں آکر سب سے پہلے کیا کھایا؟ حضرت حوا (رضی اللہُ عنہا) سے (آپ کی) ملاقات ہوئی تو پہلی گفتگو کیا ہوئی؟ حضرت اسماعیل (علیہ السّلام) کے فدیے کے گوشت کا کیا ہوا؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ (سوالات) ممنوع ہیں اور اسی کثرتِ سوالات میں داخل ہیں۔ [13]
ایک مقام پر شارحِ بخاری فرشتوں کی داڑھی سے متعلق سوال کرنے والے کو سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں: ہم اس کے مُکَلَّف (یعنی پابند) نہیں کہ یہ بھی ایمان رکھیں کہ فرشتوں کی کیا شکل ہے؟ انہیں داڑھی ہے یا نہیں؟ اس لیے اس کے کُرید (یعنی جستجو) میں رہنا، نامناسب ہے۔ [14]
اے ہمارے پیارے پیارے اللہ کریم! ہمیں اس حدیثِ پاک میں بیان کردہ تینوں باتوں سے مکمل طور پر بچنے کی توفیق عطا فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃُ المدینہ
ماہنامہ فیضان مدینہ کراچی
[1] بخاری، 1 / 498، حدیث: 1477
[2] فتح الباری ، 12 / 260
[3] لمعات التنقیح ، 8 / 210
[4] حلیۃ الاولیاء، 3 / 88 ، رقم: 3278
[5] نزہۃ القاری ، 2 / 959 تسہیلاً
[6] نزہۃ القاری ، 2 / 959 مفہوماً
[7] بخاری، 1 / 497 ، حدیث: 1474
[8] بہارِ شریعت ، 1 / 941
[9] پ : 14 ، سورۃ النحل : 43
[10] ترمذی، 4 / 297، حدیث: 2663
[11] مراٰۃ المناجیح ، 1 / 204
[12] ردالمحتار ، 10 / 520 ملخصاً
[13] نزہۃ القاری ، 2 / 959تسہیلاً
[14] فتاویٰ شارح بخاری ، 1 /
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/hadees-shareef-aur-iski-sharah/na-pasand-batein
❤1👍1
حضرت مولانا حسنین رضا خان بریلوی
یوم وصال 05 صفر المظفر 1401
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حسنین رضا خان ۔
والد کا اسمِ گرامی:
استاذِ زمن ، شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے:
مولانا حسنین رضان بن مولانا حسن رضا خان بن مولانا نقی علی خان بن مولانا رضا علی خان،بن حافظ کاظم علی خان۔(علیہم الرحمۃ والرضوان)
تاریخِ ولادت:
حضرت مولانا حسنین رضا خان 1310ھ / 2189ء کو بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا حسنین رضا خاں علیہ الرحمہ حضور مفتی اعظم ہند شاہ محمد مصطفے رضا خان علیہ الرحمہ سے صرف چھ ماہ بڑے تھے اور علوم دینیہ کی تحصیل میں دونوں عم زاد ہم سبق رہے ہیں۔ رسم بسم اللہ خوانی کے بعد گھر ہی میں حصولِ تعلیم میں مصروف و مشغول ہوئے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنے فرزند اصغر مفتی اعظم کو پڑھانے کے ساتھ مولانا حضرت حسنین رضا علیہ الرحمہ کو بھی پڑھانا شروع کیا، اور جب دونوں کی عمریں بارہ برس ہو گئیں، تو اعلیٰ حضرت کثیر البرکت نے 1322ھ / 1904ء میں دارالعلوم منظر اسلام قائم فرمایا، تو اس دارالعلوم میں ان دونوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حضرت کے تین تلامذہ مزید، ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدین بہاری اور مولانا عبد الرشید عظیم آبادی اور مولانا نواب مرزا، پانچوں تلامذہ سے دارالعلوم منظر اسلام کا آغاز ہوا۔
جامعہ رضویہ منظر اسلام کی طلباء کی استعداد و قابلیت علیٰ وجہ البصیرت نہایت ارفع و اعلیٰ ہواکرتی تھیں۔ خانوادۂ اعلیٰ حضرت کے دو طالب علم حضرت مفتیِ اعظم ہند جبکہ دوسرے شہزادے مولانا حسنین رضا خان۔ ان دونوں کے امتحان کے حوالے سے ممتحن کی رائے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ "طلباء نے امتحان بہت عمدہ و اعلیٰ درجہ کا دیا، کل نظم و نسق مدرسہ اور طرز تعلیم و طریقۂ درس و تدریس نہایت فائق و شائستہ ہے۔ اور مدرسین طلباء ہر طرح پر قابل آفرین و تحسین ہیں۔
فارسی کتب درسیہ اور ہدایۃ النحو، کافیہ، شرح جامی، ایسا غوجی، شرح تہذیب، قطبی، ملا حسن، حمدللہ، شرح وقایہ، ہدایہ، نور الانوار، شفاء شریف وغیرہا کتب زیر درس میں جو مقام طلباء کے سامنے امتحاناً پیش کیے گئے۔ عبارتیں صحیح پڑھ کر مقاصد کتاب و مطالب عبارات کو بعض طلباء نے معاً بعض نے تاملاً معقول طور پر اچھی طرح بیان کیا خصوصاً میاں مولوی مصطفیٰ رضا خاں اور میاں مولوی حسنین رضا خاں نے جس عمدگی اور خوبی اورخوش اسلوبی کے ساتھ نہایت بلند مرتبہ کا شاید وباید محققانہ امتحان دیا۔ حق تو یہ ہے کہ وہ انہیں کا حصہ تھا۔ بارک اللہ فی علمھما وفہمھما۔ اتنی قلیل مدت میں اس مدرسہ کا ایسا نمایاں عالی مفاد اور طلباء کاکافی استعداد آپ ہی اپنا نظیر اور روشن دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ خیروبرکت اور روز افزوں ترقی عطا فرمائے۔آمین۔ (ممتحن: حضرت عید الاسلام علامہ عبد السلام جبلپوری رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت علامہ حسنین رضا خاں صاحب نے معقولات کی چند کتب، مناظر اہلسنت حضرت علامہ ہدایت رسول صاحب رامپوری سے بھی رامپور جاکر پڑھیں۔ نیز قطب الارشاد حضرت علامہ مفتی ارشاد حسین رامپوری کے درس میں بھی شریک ہوکر مستفاد ہوئے۔ بیعت وخلافت: اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کے مرید وخلیفہ تھے۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، سند الفقہاء، رئیس الصوفیاء، شہزادۂ برادرِ اعلیٰ حضرت ،حضرت علامہ مولانا حسنین رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان۔
جن کی مادرِ علمی منظرِ اسلام ہو،اور تربیت گاہ مجددِ اسلام کی آغوش ہو،اس کے علم وفضل کاکیا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔آپ بے شمار صلاحیتوں کے مالک تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت کی عالمِ اسلام کی عظیم دینی درسگاہ،منظرِ اسلام میں بحیثیت مدرس خدمت سر انجام دیتے رہے، بحیثیت مدرس تقرر کے لیے سفارش اعلیٰ حضرت قدس سرہ نےفرمائی تھی اور تقرر حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خاں نے فرمایا ۔
جامعہ رضویہ منظر اسلام میں تدریسی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے ساتھ ساتھ بریلی شریف سے ایک ماہنامہ "الرضا"جاری کیا۔ یہ ماہوار جریدہ بہت معروف ہوا، اعلیٰ حضرت کی حیات میں اس کے متعدد شمارے شائع ہوئے۔ حسنی پریس کی نگرانی اور اعلیٰ حضرت کی تصنیفات کی اشاعت کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرتے تھے، نیز حالت حاضرہ کے تحت مختلف فتنوں (تحریک ترک موالات، تحریک ہجرت، متحدہ قومیت، ندوہ تحریک، مرزائیت و قادیانیت، فتنہ وہابیت) کی بیخ کنی کے لیے اور اسلامیان ہند کے ایمان و عقائد کو بچانے کے لیے پمفلٹ، رسائل اور کتابچے شائع کرکے مفت تقسیم کرتے تھے
حضرت مولانا حسنین رضا خاں بریلوی کے فرزند ارجمند حضرت مولانا سبطین رضا اپنے والد کے کارناموں کو اختصار و اجمال سے یوں بیان کرتے ہیں:"جماعت رضائے مصطفےٰ بریلی کی شاندار خدمات میں آپ کا نمایاں حصہ تھا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ جس میں علماء و مشائخ کے علاوہ شہر و بیرون شہر کے بہت سے روسأ و وکلاء اور بیرسٹران نیز سیاسی لیڈر حکام اور اعلیٰ افسران، امیر و غریب
یوم وصال 05 صفر المظفر 1401
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مولانا حسنین رضا خان ۔
والد کا اسمِ گرامی:
استاذِ زمن ، شہنشاہِ سخن مولانا حسن رضا خان رحمۃ اللہ علیہ۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے:
مولانا حسنین رضان بن مولانا حسن رضا خان بن مولانا نقی علی خان بن مولانا رضا علی خان،بن حافظ کاظم علی خان۔(علیہم الرحمۃ والرضوان)
تاریخِ ولادت:
حضرت مولانا حسنین رضا خان 1310ھ / 2189ء کو بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم:
حضرت مولانا حسنین رضا خاں علیہ الرحمہ حضور مفتی اعظم ہند شاہ محمد مصطفے رضا خان علیہ الرحمہ سے صرف چھ ماہ بڑے تھے اور علوم دینیہ کی تحصیل میں دونوں عم زاد ہم سبق رہے ہیں۔ رسم بسم اللہ خوانی کے بعد گھر ہی میں حصولِ تعلیم میں مصروف و مشغول ہوئے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنے فرزند اصغر مفتی اعظم کو پڑھانے کے ساتھ مولانا حضرت حسنین رضا علیہ الرحمہ کو بھی پڑھانا شروع کیا، اور جب دونوں کی عمریں بارہ برس ہو گئیں، تو اعلیٰ حضرت کثیر البرکت نے 1322ھ / 1904ء میں دارالعلوم منظر اسلام قائم فرمایا، تو اس دارالعلوم میں ان دونوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ حضرت کے تین تلامذہ مزید، ملک العلماء حضرت علامہ ظفر الدین بہاری اور مولانا عبد الرشید عظیم آبادی اور مولانا نواب مرزا، پانچوں تلامذہ سے دارالعلوم منظر اسلام کا آغاز ہوا۔
جامعہ رضویہ منظر اسلام کی طلباء کی استعداد و قابلیت علیٰ وجہ البصیرت نہایت ارفع و اعلیٰ ہواکرتی تھیں۔ خانوادۂ اعلیٰ حضرت کے دو طالب علم حضرت مفتیِ اعظم ہند جبکہ دوسرے شہزادے مولانا حسنین رضا خان۔ ان دونوں کے امتحان کے حوالے سے ممتحن کی رائے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ "طلباء نے امتحان بہت عمدہ و اعلیٰ درجہ کا دیا، کل نظم و نسق مدرسہ اور طرز تعلیم و طریقۂ درس و تدریس نہایت فائق و شائستہ ہے۔ اور مدرسین طلباء ہر طرح پر قابل آفرین و تحسین ہیں۔
فارسی کتب درسیہ اور ہدایۃ النحو، کافیہ، شرح جامی، ایسا غوجی، شرح تہذیب، قطبی، ملا حسن، حمدللہ، شرح وقایہ، ہدایہ، نور الانوار، شفاء شریف وغیرہا کتب زیر درس میں جو مقام طلباء کے سامنے امتحاناً پیش کیے گئے۔ عبارتیں صحیح پڑھ کر مقاصد کتاب و مطالب عبارات کو بعض طلباء نے معاً بعض نے تاملاً معقول طور پر اچھی طرح بیان کیا خصوصاً میاں مولوی مصطفیٰ رضا خاں اور میاں مولوی حسنین رضا خاں نے جس عمدگی اور خوبی اورخوش اسلوبی کے ساتھ نہایت بلند مرتبہ کا شاید وباید محققانہ امتحان دیا۔ حق تو یہ ہے کہ وہ انہیں کا حصہ تھا۔ بارک اللہ فی علمھما وفہمھما۔ اتنی قلیل مدت میں اس مدرسہ کا ایسا نمایاں عالی مفاد اور طلباء کاکافی استعداد آپ ہی اپنا نظیر اور روشن دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ خیروبرکت اور روز افزوں ترقی عطا فرمائے۔آمین۔ (ممتحن: حضرت عید الاسلام علامہ عبد السلام جبلپوری رحمۃ اللہ علیہ)
حضرت علامہ حسنین رضا خاں صاحب نے معقولات کی چند کتب، مناظر اہلسنت حضرت علامہ ہدایت رسول صاحب رامپوری سے بھی رامپور جاکر پڑھیں۔ نیز قطب الارشاد حضرت علامہ مفتی ارشاد حسین رامپوری کے درس میں بھی شریک ہوکر مستفاد ہوئے۔ بیعت وخلافت: اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کے مرید وخلیفہ تھے۔
سیرت و خصائص:
استاذ العلماء، سند الفقہاء، رئیس الصوفیاء، شہزادۂ برادرِ اعلیٰ حضرت ،حضرت علامہ مولانا حسنین رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان۔
جن کی مادرِ علمی منظرِ اسلام ہو،اور تربیت گاہ مجددِ اسلام کی آغوش ہو،اس کے علم وفضل کاکیا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔آپ بے شمار صلاحیتوں کے مالک تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت کی عالمِ اسلام کی عظیم دینی درسگاہ،منظرِ اسلام میں بحیثیت مدرس خدمت سر انجام دیتے رہے، بحیثیت مدرس تقرر کے لیے سفارش اعلیٰ حضرت قدس سرہ نےفرمائی تھی اور تقرر حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خاں نے فرمایا ۔
جامعہ رضویہ منظر اسلام میں تدریسی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے ساتھ ساتھ بریلی شریف سے ایک ماہنامہ "الرضا"جاری کیا۔ یہ ماہوار جریدہ بہت معروف ہوا، اعلیٰ حضرت کی حیات میں اس کے متعدد شمارے شائع ہوئے۔ حسنی پریس کی نگرانی اور اعلیٰ حضرت کی تصنیفات کی اشاعت کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرتے تھے، نیز حالت حاضرہ کے تحت مختلف فتنوں (تحریک ترک موالات، تحریک ہجرت، متحدہ قومیت، ندوہ تحریک، مرزائیت و قادیانیت، فتنہ وہابیت) کی بیخ کنی کے لیے اور اسلامیان ہند کے ایمان و عقائد کو بچانے کے لیے پمفلٹ، رسائل اور کتابچے شائع کرکے مفت تقسیم کرتے تھے
حضرت مولانا حسنین رضا خاں بریلوی کے فرزند ارجمند حضرت مولانا سبطین رضا اپنے والد کے کارناموں کو اختصار و اجمال سے یوں بیان کرتے ہیں:"جماعت رضائے مصطفےٰ بریلی کی شاندار خدمات میں آپ کا نمایاں حصہ تھا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ جس میں علماء و مشائخ کے علاوہ شہر و بیرون شہر کے بہت سے روسأ و وکلاء اور بیرسٹران نیز سیاسی لیڈر حکام اور اعلیٰ افسران، امیر و غریب
❤1👍1