🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مفتی محمود جان قادری رضوی جودھپوری رحمۃ اللہ علیہ

وِصَال: 3 / صفر المظفر 1370 ھِ
مُطابِق نومبر 1950ءِ عُمر¹¹⁵سَال

نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمودجان ۔ لقب: قادری، رضوی۔علاقہ، جام جودھپور کی نسبت سے"جام جودھپوری" کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب: مفتی محمود جان بن مولانا حافظ غلام رسول بن محمد صدیق بن عمر بن رمضان بن صبوربن حاجی محمد اکبر بن مولانا حمیدالدین بن مولانا شہباز بن خوش حال بن گوہر بن رحمت اللہ بن خواجہ عبیداللہ۔(علیہم الرحمہ)۔

آپ کے والدِ گرامی حضرت علامہ مولانا حافظ غلام رسول رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں طالب علم دوردراز کاسفر کرکےعلمی پیاس بجھانے کےلئے حاضر ہوتےتھے۔ان کا سب سےبڑاکارنامہ یہ ہےکہ انہوں نےاس وقت"افغانستان"میں "فتنۂ وہابیہ اسماعیلیہ"کاخاتمہ کیا تھا۔جب لوگ ان کےعقائد پرمطلع ہوئے، تو وہ وہابیوں کےخلاف ہوگئے ۔ بہت سے وہابی جہنم رسید ہوئے اور جو بچ گئے وہ افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت کاسن 1835ء بتایا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق "مردان" کے افغانی قبیلے"میرملک زئی" سے ہے۔

تحصیلِ علم:
آپ نے بنیادی تعلیم اپنے والد ماجد کی زیر سر پرستی میں حاصل کی ۔ پھر "دارالعلوم امینیہ دہلی" میں تکمیل ہوئی۔اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعدآپ نے" کا ٹھیاواڑ" جام جودہ پور (ضلع گجرات) کی طرف ہجرت فرمائی۔آپ ابتداء سے ہی اپنی مناظرانہ صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور تھے،اور کئی عیسائی رہنماؤں کو مناظرہ میں شکست فاش دے چکے تھے۔پھر اعلیٰ حضرت امام ِ اہلسنت کی خدمت میں پہنچ کر مزید اپنی علمی وروحانی پیاس بجھاکر کامل ہوئے۔

بیعت و خلافت:
حضرت مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ خود اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں: "طویل عرصہ سے میرے دل میں یہ خیال تھا کہ جب تک میں ایک کامل اور بلندپایہ پیر کو نہ پالو میں مرید نہیں بنوں گا۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب میں نے حضرت مولانا محمود و ضیاء الدین صاحب پیلی بھیتی (رحمۃ اللہ) کا مرتب دیا ہوا اور اسلامی رسالہ پڑھنا شروع کیا تھا جو کہ علم و دانش کےجواہر سے پر تھا۔

اسی میں میں نے سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بارے میں پڑھا۔ فوری طور پر میرے دل نے کہا کہ اس دور میں اتنی عظیم ہستی کا پانا کوئی عام بات نہیں۔ خدائی رہنمائی کے ذریعہ میں نے بریلی شریف کا سفر اختیار کیا۔ جہاں میں نے اپنے آپ کو اعلیٰ حضرت کی رحمت بھری عدالت میں پیش کیا، جس وقت میں نے ان کے نورانی چہرے کو دیکھا، میرا دل پگھل گیا، میرا ایمان تازہ ہوگیا اور میرا دل کھل اُٹھا کہ ایسا اس سے پہلے کبھی نہ ہواتھا۔میں ایک ایسا عظیم پیر پاچکا تھا کہ جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا،

میں نے داخل سلسلہ ہونے کی درخواست کی اور میرے مرشد نے مجھے اپنے مرید کی حیثیت سے قبول کیا، فوری طور پر مجھے اجازت و خلافت سے نوازا، پھر اپنے گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ اس وقت انہوں نے جو لباس زیب تن کیا ہوا تھاوہ مجھے عطا کیا۔اس میں کرتا، پاجامہ، عمامہ،اور صدری (واسکوٹ) تھی۔ بحر سخاوت کی طرف سے یہ بڑی عطا تھی انہوں نے اپنے اس عاجز خادم کو سلسلہ عالیہ قادریہ ، برکاتیہ، رضویہ ، چشتیہ سہروردیہ ،نقشبندیہ اور دیگر سلاسل میں تاج خلافت سے نوازا۔انہوں نے میرے لیے انتہائی محبت اور عزت کا اظہار فرمایا، اور اس دوران انہوں نے مجھے کئی القابات سے نوازا، اور مجھ سے اتنی محبت کا اظہار فرمایا کہ میں زندگی بھر اس کو نہیں بھلا سکتا ‎"۔

سیرت و خصائص:
عالم و عارف، عابد و زاہد، صاحبِ صفاتِ محمودہ، ذی الفضل والجاہ، حامی السنن، ماحی الفتن، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، محب و محبوبِ امامِ اہلسنت، حضرت علامہ مفتی محمود جان قادری رضوی جودھپوری رحمۃ اللہ علیہ۔

آپ علیہ الرحمہ کا تعلق ایک بہت ہی دیندار علمی گھرانے سے تھا۔امت مسلمہ کی خدمت وراہنمائی ان کے آباؤ اجداد کی خوبیوں میں سے ایک تھی۔ان کے والد گرامی کے بارے میں مختصر پہلے تحریر کرچکے ہیں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ آپ پرخصوصی شفقت فرماتے تھے۔

مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وصال سے نو یا دس ماہ قبل ، آپ نے مجھے ایک "رحمت بھرا خط" لکھا جس میں آپ نے فرمایا: "کہ میں نے اپنی کتاب " الاستمداد " میں اپنے تمام خلفاء کے نام درج کئے ہیں اور تمھارا نامِ نامی غیر ارادی طور پر چھپ نے سے رہ گیا ہے ۔ میری انتہائی مصروفیات اور ذمہ داریوں کی وجہ سے مجھ سے آپ کا نام غیر ارادی طور پر رہ گیا جو کہ " قصیدہ الاستمداد " کے آخر میں میرے خیر خواہوں اور مددگاروں کی فہرست میں سنہری حروف سے کندہ ہونا چاہئے تھا ۔ مجھے اس کا احساس اس وقت ہوا جب وہ چھپ چکی تھی ، اور مجھے ابھی تک اس کا افسوس ہے"۔

حضرت مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیر پَر کامل یقین رکھتے تھے، اور اپنے پیر کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ وہ ذاتی طور پر ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے پیر کتنا کامل یقین رکھتے تھے ۔
1👍1
آپ فرماتے ہیں:
"میں نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے چالیس روزہ ختم کے دوران اپنے مرشد کے مزار پُر انوار پر حاضری دی اور بارگاہ الٰہی میں اس کے منتخب بندے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وسیلے سے بیٹے کی درخواست کی۔

الحمدللہ! اُسی سال کے دوران اللہ تبارک و تعالیٰ نےمجھے ایک بیٹا عطاء کیا جس کا نام میں نے " احمد رضا " رکھا ۔ آپ کی عظیم دینی خدمات ہیں۔ جب ماہنامہ "الفقیہ"جاری ہوا، تو " کاٹھیاواڑ " میں اس کی ہر گھر میں ترسیل فرماتے تھے۔ اس کے ساتھ آپ اپنی طرف سے اس کی اشاعت میں کثیر رقم خرچ فرماتے تھے۔پورے علاقے میں آپ نے دینِ اسلام کو چار چاند لگادئےتھے۔

سب سے پہلے آپ نےہی اعلیٰ علیہ الرحمہ کی منظوم سوانح حیات " ذکرِ رضا " کے نام سے شائع فرمائی تھی۔

اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے مزار کا نقشہ بھی آپ کا ڈیزائن کیا ہوا ہے ۔

حضرت مولانا محمود جان نے اجازت و خلافت کے باوجود کسی کو داخلِ بیعت نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو خلافت دی مگر ان کے عقیدت مندوں کی تعداد پاک و ہند بنگلہ دیش افریقہ تک کے ممالک میں ہے۔

آپ نے جام جودھ پور کی جامع مسجد میں تقریباً 80 برس امامت و خطابت اور تبلیغ و تدریس فرمائی ۔

دینی خدمات بلا معاوضہ سر انجام دیں اور ذریعہ معاش تجارت رکھا۔

مہمان نوازی اور اہلِ علم کی خاطر داری میں مشہور تھے۔حق کی راہ میں تمام عمر مردِ میداں رہے۔

مولانا مستجاب الدعوات تھے۔ مہلک زخم پر لعاب دہن لگا دیتے تو مریض شفا یاب یاب ہو جاتا۔ آپ نے اپنے علاقے سے غلط رسومات کا خاتمہ کرکے رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کا نفاذ فرمایاـ

حضرت صدر الافاضل فرماتے ہیں:
کہ میں نےخلفائے اعلیٰ حضرت میں مولانا محمود جیسا فنافی الشیخ کسی کو نہیں دیکھا۔ اعلیٰ حضرت کی شان میں فرماتے ہیں: ؏:

ہم نے کیا "احمد رضا" دیکھا تجھے
۔۔۔ سر ذاتِ مصطفیٰ دیکھا تجھے
حق تعالیٰ کی قسم اے"احمدرضا"۔۔۔
نائبِ خیرالوریٰ دیکھاتجھے

وصال:
3/صفر المظفر1370ھ، مطابق نومبر /1950ء کو 115 سال کی عمر میں آپ کا وصال ہوا۔

مزار شریف:
آپ کا مزار جام جودھپور (گجرات، انڈیا) میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
ماہنامہ جہانِ رضا۔ (شمارہ: 123، فروری 2005ء)۔ذکرِرضا ۔ تذکرہ خلفاءِ اعلیٰ حضرت (مولانا صادق قصوری ـ

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-mehmood-jaan-qadri-jodh-puri
Copyright © Zia-e-Taiba
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-02-1444 ᴴ | 31-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-02-1444 ᴴ | 01-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
03-02-1444 ᴴ | 01-09-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-02-1444 ᴴ | 01-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1