عارف کامل حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ جلال پوری رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ بن سید جمعہ شاہ بن سید کاظم شاہ بن سید سخی شاہ (علیہم الرحمہ)
تاریخ ولادت:
۳ صفر / ۲۶ اپریل (۱۲۵۴ھ؍۱۸۳۸ء) کو جلال پور میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
جب آپ نے ہوش سنبھالا تو قرآن پاک کی تعلیم کے لئے آپ کو میاں خان محمد اعظم پوری کے سپرد کیا انہوں نے قرآن مجید پڑھانا شروع کیا جس کی تکمیل آپ کے چچا سید امام شاہ نے فرمائی ۔ اس کے بعد میاں عبد اللہ چکروی سے فارسی اور اردو کی درسی کتب پڑھیں پھر جلال پور سے پانچ کوس کے فاصلہ پر قاضی محمد کامل کی خدمت میں نین وال تشریف لے گئے اور ان سے کتب فقہ کا درس لیا، اپنے علاقے کے مشہور عالم مفتی غلام محی الدین سے استفادہ کیا اور کنز الدقائق پڑھی، اس سے زیادہ آپ نے ظاہری علم با قاعدگی سے نہیں پڑھا اور حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ سے مرقع اور کشکول کا درس لیا ۔
بیعت و خلافت:
تلاش مرشد میں سید غلام شاہ کی خدمت میں ہرن پور پہنچے اور بیعت کی درخواست کی، انہوں نے سیال شریف جانے کا مشورہ دیا بلکہ خود ساتھ لے گئے ۔
حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ نے انہیں دیکھا تو کھڑے ہو گئے، مزاج پوچھا اور بیٹھنے کا حکم دیا چنانچہ آپ ۷ رجب ۱۲۷۱ھ کو ان کے دست حق پرست پر بیعت ہو گئے ۔
بیعت کے بعد ہر ماہ دو تین مرتبہ شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور شیخ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ ان کے سامنے بولنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی، جب چھٹی مرتبہ حاضر ہوئے تو حضرت شیخ نے خرقۂ خلافت اور اجازت سے سرفراز فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
آپ کی والدہ ماجدہ بڑی عبادت گزار اور صالحہ خاتون تھیں ۔ جنہوں نے ابتداء ہی سے اپنے لخت جگر کو نماز روزہ کا پابند بنا دیا تھا ۔ آپ منکسر المزاج اور بلند اخلاق کے مالک تھے، آپ کو خود پسندی چھو کر بھی نہیں گزری تھی ۔ نہایت نرم دل اور سراپا شفقت و عنایت تھے ۔ غرباء کی دلجوئی آپ کا خاص وصف تھا ۔ اعمال میں نہایت محتاط اور پابند شریعت تھے ۔ آپ حد درجہ خوبصورت تھے، دراز قامت، دلکش آنکھیں، شانوں پر زلفیں، کلاہ چہار ترکی سر پر ، آپ حسن مجسم معلوم ہوتے تھے ۔
وصال:
6 جمادی الاخریٰ ، 7 جولائی (۱۳۲۶ھ/۱۹۰۸ء) کو آپ کا وصال ہوا اور جلال پور شریف میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ghulam-hyder-ali-shah
نام و نسب:
حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ بن سید جمعہ شاہ بن سید کاظم شاہ بن سید سخی شاہ (علیہم الرحمہ)
تاریخ ولادت:
۳ صفر / ۲۶ اپریل (۱۲۵۴ھ؍۱۸۳۸ء) کو جلال پور میں پیدا ہوئے ۔
تعلیم و تربیت:
جب آپ نے ہوش سنبھالا تو قرآن پاک کی تعلیم کے لئے آپ کو میاں خان محمد اعظم پوری کے سپرد کیا انہوں نے قرآن مجید پڑھانا شروع کیا جس کی تکمیل آپ کے چچا سید امام شاہ نے فرمائی ۔ اس کے بعد میاں عبد اللہ چکروی سے فارسی اور اردو کی درسی کتب پڑھیں پھر جلال پور سے پانچ کوس کے فاصلہ پر قاضی محمد کامل کی خدمت میں نین وال تشریف لے گئے اور ان سے کتب فقہ کا درس لیا، اپنے علاقے کے مشہور عالم مفتی غلام محی الدین سے استفادہ کیا اور کنز الدقائق پڑھی، اس سے زیادہ آپ نے ظاہری علم با قاعدگی سے نہیں پڑھا اور حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ سے مرقع اور کشکول کا درس لیا ۔
بیعت و خلافت:
تلاش مرشد میں سید غلام شاہ کی خدمت میں ہرن پور پہنچے اور بیعت کی درخواست کی، انہوں نے سیال شریف جانے کا مشورہ دیا بلکہ خود ساتھ لے گئے ۔
حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ نے انہیں دیکھا تو کھڑے ہو گئے، مزاج پوچھا اور بیٹھنے کا حکم دیا چنانچہ آپ ۷ رجب ۱۲۷۱ھ کو ان کے دست حق پرست پر بیعت ہو گئے ۔
بیعت کے بعد ہر ماہ دو تین مرتبہ شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور شیخ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ ان کے سامنے بولنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی، جب چھٹی مرتبہ حاضر ہوئے تو حضرت شیخ نے خرقۂ خلافت اور اجازت سے سرفراز فرمایا ۔
سیرت و خصائص:
آپ کی والدہ ماجدہ بڑی عبادت گزار اور صالحہ خاتون تھیں ۔ جنہوں نے ابتداء ہی سے اپنے لخت جگر کو نماز روزہ کا پابند بنا دیا تھا ۔ آپ منکسر المزاج اور بلند اخلاق کے مالک تھے، آپ کو خود پسندی چھو کر بھی نہیں گزری تھی ۔ نہایت نرم دل اور سراپا شفقت و عنایت تھے ۔ غرباء کی دلجوئی آپ کا خاص وصف تھا ۔ اعمال میں نہایت محتاط اور پابند شریعت تھے ۔ آپ حد درجہ خوبصورت تھے، دراز قامت، دلکش آنکھیں، شانوں پر زلفیں، کلاہ چہار ترکی سر پر ، آپ حسن مجسم معلوم ہوتے تھے ۔
وصال:
6 جمادی الاخریٰ ، 7 جولائی (۱۳۲۶ھ/۱۹۰۸ء) کو آپ کا وصال ہوا اور جلال پور شریف میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے ۔
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ghulam-hyder-ali-shah
❤1👍1
حضرت سید جلال الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کا لقب مخدوم جہانیاں تھا۔ بڑے عالم، ولی اور شیخ تھے، شیخ الاسلام شیخ رکن الدین ابوالفتح قریشی کے مرید اور شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے خلیفہ تھے، مکہ معظمہ میں امام عبداللہ یافعی سے آپ کو مصاحبت نصیب ہوئی، آپ نے اپنے ملفوظات ’’خزانہ جلالی‘‘ میں امام یافعی کا بکثرت ذکر کیا ہے۔ آپ نے بے انتہا سیر و تفریح کی اور بہت سے اولیائے کرام سے نعمتیں اور برکتیں حاصل کیں۔ آپ کے متعلق یہ بھی مشہور ہے کہ آپ جس سے معانقہ کرتے اور گلے ملتے، اس سے اس کی کرامتیں چھین لیتے یعنی اس پر اتنی توجہ ڈالتے اور خدمت کرتے کہ اس کے پاس جتنی نعمتیں اور برکتیں ہوتیں وہ بے اختیار آپ کو دے دیتے۔ تاریخ محمدی میں ہے کہ آپ نے ابتداً اپنے چچا شیخ صدرالدین بخاری سے خرقہ پہنا، پھر حرم شریف کے شیخ الاسلام امام المحدثین شیخ عفیف الدین عبداللہ المطری سے کلاہ ارادت اور خرقہ تبرک حاصل کیا اور متواتر دو سال تک شب و روز ان کی خدمت میں رہے اور معرفت و سلوک کی کچھ کتابیں بھی انہیں سے پڑھیں اسی طرح علم طریقت اور ذکراللہ کا طریقہ بھی انہیں سے حاصل کیا، اس کے بعد شیخ عفیف الدین نے آپ سے فرمایا کہ تمہارے لیے علم کا حاصل کرنا موقوف ہے۔ گازرون میں۔ جب آپ گازرون پہنچے تو انہیں شیخ امین الدین مرحوم کے بھائی شیخ امام الدین نے کہا کہ مجھے شیخ امین الدین مرحوم نے بوقت انتقال یہ فرمایا تھا کہ میری ملاقات کے لیے سید جلال الدین اوچی ملتان کے راستہ سے آ رہے تھے کہ شیطان نے ان سے راستہ میں جھوٹ بولا اور کہا کہ شیخ امین الدین اس دار فانی سے منتقل ہوکر دارالقرار میں چلے گئے ہیں۔ اور وہ میری جائے نماز اور قینچی دے کر میرا خلیفہ مجاز بنا دینا، چنانچہ شیخ امام الدین نے اپنے بھائی کی وصیت کے مطابق کیا۔ سید السادات سید جلال الدین نے اس بزرگ سے بہت فائدہ حاصل کیا اور پھر وہاں سے واپس آکر سید رکن الدین سے خرقہ تبرک حاصل کیا اور پھر سلطان محمد تغلق کے زمانہ میں شیخ الاسلام کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ سیوسیان اور اس کے اردگرد کا علاقہ آپ کی جاگیر قرار دیا گیا، وہاں آپ نے ایک خانقاہ تعمیر کرائی جس کا نام ’’خانقاہِ محمدی‘‘ رکھا پھر چند دنوں کے بعد سب کچھ چھوڑ کر حجاز چلے گئے، آپ چودہ خانوادوں کے خلیفہ تھے (پھر حجاز سے واپس آئے) تو سلطان فیروز کے دور حکومت میں کئی مرتبہ اوچ سے دہلی تشریف لائے، سلطان فیروز بڑی عقیدت اور خلوص کے ساتھ آپ سے ملا کرتا تھا، مخدوم جہانیاں کو سلسلہ قادریہ کے ساتھ والہانہ محبت تھی، آپ اپنے ملفوظات’’خزانہ جلالی‘‘ میں حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ مقولہ نقل کرتے ہیں کہ جنابِ غوث پاک نے فرمایا کہ خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے میرے دیکھنے والے کو دیکھا، اسی طرح خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے میرے دیکھنے والے کو دیکھا، اس کے بعد فرماتے ہیں کہ چونکہ شیخ عبدالقادر جیلانی اپنے وقت کے قطب اور بات کے سچے تھے اس لیے مجھے امید ہے کہ ان کی اس بات کے وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم و کرم کرے گا۔ اس کے بعد اس سلسلہ میں ایک ہی واسطہ سے شیخ شہاب الدین سہروردی کے حوالہ سے جس میں شیخ بہاؤ الدین زکریا کے واسطہ کا بھی ذکر نہیں بیان کرتے ہیں کہ میں نے فلاں شخص کو دیکھا ہے جس نے شیخ سہروردی کو دیکھا تھا اور ان کو شیخ محی الدین عبدالقادر کی صحبت نصیب ہوئی ہے۔ ایک روز آپ جس جگہ تشریف فرما تھے وہاں آگ لگ گئی آپ نے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور اس پر بلند آواز سے پیران پیر رضی اللہ علیہ کا نام لے کر آگ پر پھینک دیا، چنانچہ آگ اسی وقت ختم ہوگئی۔ قسم ہے کہ مشکل کو مشکل نہ پایا کہا میں نے جس وقت یا غوثِ اعظم ہمارے دیار میں ایک کتاب جو ’’تکملہ فارسی‘‘ کے نام سے مشہور ہے یہ آپ کے ایک مرید کی لکھی ہوئی ہے جو اصل میں امام عبداللہ یافعی کی کتاب روض الریاحین کے تکملہ کا ترجمہ ہے۔
مخدوم جہانیاں شبِ برأت 707ھ پیدا ہوئے اور 78 برس کی عمر میں عیداضحیٰ کے دن 785ھ میں انتقال فرمایا،
نیز ایک بات اس طرح بھی سننے میں آئی ہے کہ ایک مرتبہ میر سید علی ہمدانی بغرض ملاقات آپ کے پاس گئے اور ان کے کمرے کے باہر بیٹھ گئے، خادم نے مخدوم جہانیاں کو اطلاع دی کہ میر سید علی ہمدانی آپ کی ملاقات کی غرض سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ غیب کو جاننے والا اللہ کے سوا اور کوئی نہیں (مطلب یہ تھا کہ وہ جو باہر بیٹھ گئے ہیں اور مجھے اطلاع تک نہیں دی تو یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میں غیب داں ہوں اور مجھے بغیر اطلاع کے معلوم ہوجاتا ہے کہ باہر کون آیا ہے۔ اس وجہ سے انہیں اندر نہیں بلایا، اس بات سے میر سید علی ہمدانی کو سخت کوفت اور صدمہ ہوا۔ پھر سید علی ہمدانی نے اس تقریب پر ایک رسالہ ہمدان کی حقیقت پر لکھا ہے جس میں ایسی باتیں لکھی گئی ہیں جو سید جلال الدین مخدوم جہانیاں کی عظمت اور جلال کے لائق نہیں۔ واللہ اعلم۔ اخبار الاخیار
آپ کا لقب مخدوم جہانیاں تھا۔ بڑے عالم، ولی اور شیخ تھے، شیخ الاسلام شیخ رکن الدین ابوالفتح قریشی کے مرید اور شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے خلیفہ تھے، مکہ معظمہ میں امام عبداللہ یافعی سے آپ کو مصاحبت نصیب ہوئی، آپ نے اپنے ملفوظات ’’خزانہ جلالی‘‘ میں امام یافعی کا بکثرت ذکر کیا ہے۔ آپ نے بے انتہا سیر و تفریح کی اور بہت سے اولیائے کرام سے نعمتیں اور برکتیں حاصل کیں۔ آپ کے متعلق یہ بھی مشہور ہے کہ آپ جس سے معانقہ کرتے اور گلے ملتے، اس سے اس کی کرامتیں چھین لیتے یعنی اس پر اتنی توجہ ڈالتے اور خدمت کرتے کہ اس کے پاس جتنی نعمتیں اور برکتیں ہوتیں وہ بے اختیار آپ کو دے دیتے۔ تاریخ محمدی میں ہے کہ آپ نے ابتداً اپنے چچا شیخ صدرالدین بخاری سے خرقہ پہنا، پھر حرم شریف کے شیخ الاسلام امام المحدثین شیخ عفیف الدین عبداللہ المطری سے کلاہ ارادت اور خرقہ تبرک حاصل کیا اور متواتر دو سال تک شب و روز ان کی خدمت میں رہے اور معرفت و سلوک کی کچھ کتابیں بھی انہیں سے پڑھیں اسی طرح علم طریقت اور ذکراللہ کا طریقہ بھی انہیں سے حاصل کیا، اس کے بعد شیخ عفیف الدین نے آپ سے فرمایا کہ تمہارے لیے علم کا حاصل کرنا موقوف ہے۔ گازرون میں۔ جب آپ گازرون پہنچے تو انہیں شیخ امین الدین مرحوم کے بھائی شیخ امام الدین نے کہا کہ مجھے شیخ امین الدین مرحوم نے بوقت انتقال یہ فرمایا تھا کہ میری ملاقات کے لیے سید جلال الدین اوچی ملتان کے راستہ سے آ رہے تھے کہ شیطان نے ان سے راستہ میں جھوٹ بولا اور کہا کہ شیخ امین الدین اس دار فانی سے منتقل ہوکر دارالقرار میں چلے گئے ہیں۔ اور وہ میری جائے نماز اور قینچی دے کر میرا خلیفہ مجاز بنا دینا، چنانچہ شیخ امام الدین نے اپنے بھائی کی وصیت کے مطابق کیا۔ سید السادات سید جلال الدین نے اس بزرگ سے بہت فائدہ حاصل کیا اور پھر وہاں سے واپس آکر سید رکن الدین سے خرقہ تبرک حاصل کیا اور پھر سلطان محمد تغلق کے زمانہ میں شیخ الاسلام کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ سیوسیان اور اس کے اردگرد کا علاقہ آپ کی جاگیر قرار دیا گیا، وہاں آپ نے ایک خانقاہ تعمیر کرائی جس کا نام ’’خانقاہِ محمدی‘‘ رکھا پھر چند دنوں کے بعد سب کچھ چھوڑ کر حجاز چلے گئے، آپ چودہ خانوادوں کے خلیفہ تھے (پھر حجاز سے واپس آئے) تو سلطان فیروز کے دور حکومت میں کئی مرتبہ اوچ سے دہلی تشریف لائے، سلطان فیروز بڑی عقیدت اور خلوص کے ساتھ آپ سے ملا کرتا تھا، مخدوم جہانیاں کو سلسلہ قادریہ کے ساتھ والہانہ محبت تھی، آپ اپنے ملفوظات’’خزانہ جلالی‘‘ میں حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ مقولہ نقل کرتے ہیں کہ جنابِ غوث پاک نے فرمایا کہ خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے میرے دیکھنے والے کو دیکھا، اسی طرح خوشخبری ہے اس کے لیے جس نے میرے دیکھنے والے کو دیکھا، اس کے بعد فرماتے ہیں کہ چونکہ شیخ عبدالقادر جیلانی اپنے وقت کے قطب اور بات کے سچے تھے اس لیے مجھے امید ہے کہ ان کی اس بات کے وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھ پر رحم و کرم کرے گا۔ اس کے بعد اس سلسلہ میں ایک ہی واسطہ سے شیخ شہاب الدین سہروردی کے حوالہ سے جس میں شیخ بہاؤ الدین زکریا کے واسطہ کا بھی ذکر نہیں بیان کرتے ہیں کہ میں نے فلاں شخص کو دیکھا ہے جس نے شیخ سہروردی کو دیکھا تھا اور ان کو شیخ محی الدین عبدالقادر کی صحبت نصیب ہوئی ہے۔ ایک روز آپ جس جگہ تشریف فرما تھے وہاں آگ لگ گئی آپ نے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور اس پر بلند آواز سے پیران پیر رضی اللہ علیہ کا نام لے کر آگ پر پھینک دیا، چنانچہ آگ اسی وقت ختم ہوگئی۔ قسم ہے کہ مشکل کو مشکل نہ پایا کہا میں نے جس وقت یا غوثِ اعظم ہمارے دیار میں ایک کتاب جو ’’تکملہ فارسی‘‘ کے نام سے مشہور ہے یہ آپ کے ایک مرید کی لکھی ہوئی ہے جو اصل میں امام عبداللہ یافعی کی کتاب روض الریاحین کے تکملہ کا ترجمہ ہے۔
مخدوم جہانیاں شبِ برأت 707ھ پیدا ہوئے اور 78 برس کی عمر میں عیداضحیٰ کے دن 785ھ میں انتقال فرمایا،
نیز ایک بات اس طرح بھی سننے میں آئی ہے کہ ایک مرتبہ میر سید علی ہمدانی بغرض ملاقات آپ کے پاس گئے اور ان کے کمرے کے باہر بیٹھ گئے، خادم نے مخدوم جہانیاں کو اطلاع دی کہ میر سید علی ہمدانی آپ کی ملاقات کی غرض سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ غیب کو جاننے والا اللہ کے سوا اور کوئی نہیں (مطلب یہ تھا کہ وہ جو باہر بیٹھ گئے ہیں اور مجھے اطلاع تک نہیں دی تو یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میں غیب داں ہوں اور مجھے بغیر اطلاع کے معلوم ہوجاتا ہے کہ باہر کون آیا ہے۔ اس وجہ سے انہیں اندر نہیں بلایا، اس بات سے میر سید علی ہمدانی کو سخت کوفت اور صدمہ ہوا۔ پھر سید علی ہمدانی نے اس تقریب پر ایک رسالہ ہمدان کی حقیقت پر لکھا ہے جس میں ایسی باتیں لکھی گئی ہیں جو سید جلال الدین مخدوم جہانیاں کی عظمت اور جلال کے لائق نہیں۔ واللہ اعلم۔ اخبار الاخیار
❤1👍1
❤1👍1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مفتی محمود جان قادری رضوی جودھپوری رحمۃ اللہ علیہ
وِصَال: 3 / صفر المظفر 1370 ھِ
مُطابِق نومبر 1950ءِ عُمر¹¹⁵سَال
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمودجان ۔ لقب: قادری، رضوی۔علاقہ، جام جودھپور کی نسبت سے"جام جودھپوری" کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب: مفتی محمود جان بن مولانا حافظ غلام رسول بن محمد صدیق بن عمر بن رمضان بن صبوربن حاجی محمد اکبر بن مولانا حمیدالدین بن مولانا شہباز بن خوش حال بن گوہر بن رحمت اللہ بن خواجہ عبیداللہ۔(علیہم الرحمہ)۔
آپ کے والدِ گرامی حضرت علامہ مولانا حافظ غلام رسول رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں طالب علم دوردراز کاسفر کرکےعلمی پیاس بجھانے کےلئے حاضر ہوتےتھے۔ان کا سب سےبڑاکارنامہ یہ ہےکہ انہوں نےاس وقت"افغانستان"میں "فتنۂ وہابیہ اسماعیلیہ"کاخاتمہ کیا تھا۔جب لوگ ان کےعقائد پرمطلع ہوئے، تو وہ وہابیوں کےخلاف ہوگئے ۔ بہت سے وہابی جہنم رسید ہوئے اور جو بچ گئے وہ افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت کاسن 1835ء بتایا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق "مردان" کے افغانی قبیلے"میرملک زئی" سے ہے۔
تحصیلِ علم:
آپ نے بنیادی تعلیم اپنے والد ماجد کی زیر سر پرستی میں حاصل کی ۔ پھر "دارالعلوم امینیہ دہلی" میں تکمیل ہوئی۔اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعدآپ نے" کا ٹھیاواڑ" جام جودہ پور (ضلع گجرات) کی طرف ہجرت فرمائی۔آپ ابتداء سے ہی اپنی مناظرانہ صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور تھے،اور کئی عیسائی رہنماؤں کو مناظرہ میں شکست فاش دے چکے تھے۔پھر اعلیٰ حضرت امام ِ اہلسنت کی خدمت میں پہنچ کر مزید اپنی علمی وروحانی پیاس بجھاکر کامل ہوئے۔
بیعت و خلافت:
حضرت مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ خود اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں: "طویل عرصہ سے میرے دل میں یہ خیال تھا کہ جب تک میں ایک کامل اور بلندپایہ پیر کو نہ پالو میں مرید نہیں بنوں گا۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب میں نے حضرت مولانا محمود و ضیاء الدین صاحب پیلی بھیتی (رحمۃ اللہ) کا مرتب دیا ہوا اور اسلامی رسالہ پڑھنا شروع کیا تھا جو کہ علم و دانش کےجواہر سے پر تھا۔
اسی میں میں نے سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بارے میں پڑھا۔ فوری طور پر میرے دل نے کہا کہ اس دور میں اتنی عظیم ہستی کا پانا کوئی عام بات نہیں۔ خدائی رہنمائی کے ذریعہ میں نے بریلی شریف کا سفر اختیار کیا۔ جہاں میں نے اپنے آپ کو اعلیٰ حضرت کی رحمت بھری عدالت میں پیش کیا، جس وقت میں نے ان کے نورانی چہرے کو دیکھا، میرا دل پگھل گیا، میرا ایمان تازہ ہوگیا اور میرا دل کھل اُٹھا کہ ایسا اس سے پہلے کبھی نہ ہواتھا۔میں ایک ایسا عظیم پیر پاچکا تھا کہ جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا،
میں نے داخل سلسلہ ہونے کی درخواست کی اور میرے مرشد نے مجھے اپنے مرید کی حیثیت سے قبول کیا، فوری طور پر مجھے اجازت و خلافت سے نوازا، پھر اپنے گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ اس وقت انہوں نے جو لباس زیب تن کیا ہوا تھاوہ مجھے عطا کیا۔اس میں کرتا، پاجامہ، عمامہ،اور صدری (واسکوٹ) تھی۔ بحر سخاوت کی طرف سے یہ بڑی عطا تھی انہوں نے اپنے اس عاجز خادم کو سلسلہ عالیہ قادریہ ، برکاتیہ، رضویہ ، چشتیہ سہروردیہ ،نقشبندیہ اور دیگر سلاسل میں تاج خلافت سے نوازا۔انہوں نے میرے لیے انتہائی محبت اور عزت کا اظہار فرمایا، اور اس دوران انہوں نے مجھے کئی القابات سے نوازا، اور مجھ سے اتنی محبت کا اظہار فرمایا کہ میں زندگی بھر اس کو نہیں بھلا سکتا "۔
سیرت و خصائص:
عالم و عارف، عابد و زاہد، صاحبِ صفاتِ محمودہ، ذی الفضل والجاہ، حامی السنن، ماحی الفتن، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، محب و محبوبِ امامِ اہلسنت، حضرت علامہ مفتی محمود جان قادری رضوی جودھپوری رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ کا تعلق ایک بہت ہی دیندار علمی گھرانے سے تھا۔امت مسلمہ کی خدمت وراہنمائی ان کے آباؤ اجداد کی خوبیوں میں سے ایک تھی۔ان کے والد گرامی کے بارے میں مختصر پہلے تحریر کرچکے ہیں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ آپ پرخصوصی شفقت فرماتے تھے۔
مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وصال سے نو یا دس ماہ قبل ، آپ نے مجھے ایک "رحمت بھرا خط" لکھا جس میں آپ نے فرمایا: "کہ میں نے اپنی کتاب " الاستمداد " میں اپنے تمام خلفاء کے نام درج کئے ہیں اور تمھارا نامِ نامی غیر ارادی طور پر چھپ نے سے رہ گیا ہے ۔ میری انتہائی مصروفیات اور ذمہ داریوں کی وجہ سے مجھ سے آپ کا نام غیر ارادی طور پر رہ گیا جو کہ " قصیدہ الاستمداد " کے آخر میں میرے خیر خواہوں اور مددگاروں کی فہرست میں سنہری حروف سے کندہ ہونا چاہئے تھا ۔ مجھے اس کا احساس اس وقت ہوا جب وہ چھپ چکی تھی ، اور مجھے ابھی تک اس کا افسوس ہے"۔
حضرت مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیر پَر کامل یقین رکھتے تھے، اور اپنے پیر کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ وہ ذاتی طور پر ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے پیر کتنا کامل یقین رکھتے تھے ۔
وِصَال: 3 / صفر المظفر 1370 ھِ
مُطابِق نومبر 1950ءِ عُمر¹¹⁵سَال
نام و نسب:
اسمِ گرامی: مفتی محمودجان ۔ لقب: قادری، رضوی۔علاقہ، جام جودھپور کی نسبت سے"جام جودھپوری" کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب: مفتی محمود جان بن مولانا حافظ غلام رسول بن محمد صدیق بن عمر بن رمضان بن صبوربن حاجی محمد اکبر بن مولانا حمیدالدین بن مولانا شہباز بن خوش حال بن گوہر بن رحمت اللہ بن خواجہ عبیداللہ۔(علیہم الرحمہ)۔
آپ کے والدِ گرامی حضرت علامہ مولانا حافظ غلام رسول رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں طالب علم دوردراز کاسفر کرکےعلمی پیاس بجھانے کےلئے حاضر ہوتےتھے۔ان کا سب سےبڑاکارنامہ یہ ہےکہ انہوں نےاس وقت"افغانستان"میں "فتنۂ وہابیہ اسماعیلیہ"کاخاتمہ کیا تھا۔جب لوگ ان کےعقائد پرمطلع ہوئے، تو وہ وہابیوں کےخلاف ہوگئے ۔ بہت سے وہابی جہنم رسید ہوئے اور جو بچ گئے وہ افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت کاسن 1835ء بتایا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق "مردان" کے افغانی قبیلے"میرملک زئی" سے ہے۔
تحصیلِ علم:
آپ نے بنیادی تعلیم اپنے والد ماجد کی زیر سر پرستی میں حاصل کی ۔ پھر "دارالعلوم امینیہ دہلی" میں تکمیل ہوئی۔اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعدآپ نے" کا ٹھیاواڑ" جام جودہ پور (ضلع گجرات) کی طرف ہجرت فرمائی۔آپ ابتداء سے ہی اپنی مناظرانہ صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور تھے،اور کئی عیسائی رہنماؤں کو مناظرہ میں شکست فاش دے چکے تھے۔پھر اعلیٰ حضرت امام ِ اہلسنت کی خدمت میں پہنچ کر مزید اپنی علمی وروحانی پیاس بجھاکر کامل ہوئے۔
بیعت و خلافت:
حضرت مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ خود اس واقعہ کو بیان کرتے ہیں: "طویل عرصہ سے میرے دل میں یہ خیال تھا کہ جب تک میں ایک کامل اور بلندپایہ پیر کو نہ پالو میں مرید نہیں بنوں گا۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب میں نے حضرت مولانا محمود و ضیاء الدین صاحب پیلی بھیتی (رحمۃ اللہ) کا مرتب دیا ہوا اور اسلامی رسالہ پڑھنا شروع کیا تھا جو کہ علم و دانش کےجواہر سے پر تھا۔
اسی میں میں نے سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے بارے میں پڑھا۔ فوری طور پر میرے دل نے کہا کہ اس دور میں اتنی عظیم ہستی کا پانا کوئی عام بات نہیں۔ خدائی رہنمائی کے ذریعہ میں نے بریلی شریف کا سفر اختیار کیا۔ جہاں میں نے اپنے آپ کو اعلیٰ حضرت کی رحمت بھری عدالت میں پیش کیا، جس وقت میں نے ان کے نورانی چہرے کو دیکھا، میرا دل پگھل گیا، میرا ایمان تازہ ہوگیا اور میرا دل کھل اُٹھا کہ ایسا اس سے پہلے کبھی نہ ہواتھا۔میں ایک ایسا عظیم پیر پاچکا تھا کہ جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا،
میں نے داخل سلسلہ ہونے کی درخواست کی اور میرے مرشد نے مجھے اپنے مرید کی حیثیت سے قبول کیا، فوری طور پر مجھے اجازت و خلافت سے نوازا، پھر اپنے گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ اس وقت انہوں نے جو لباس زیب تن کیا ہوا تھاوہ مجھے عطا کیا۔اس میں کرتا، پاجامہ، عمامہ،اور صدری (واسکوٹ) تھی۔ بحر سخاوت کی طرف سے یہ بڑی عطا تھی انہوں نے اپنے اس عاجز خادم کو سلسلہ عالیہ قادریہ ، برکاتیہ، رضویہ ، چشتیہ سہروردیہ ،نقشبندیہ اور دیگر سلاسل میں تاج خلافت سے نوازا۔انہوں نے میرے لیے انتہائی محبت اور عزت کا اظہار فرمایا، اور اس دوران انہوں نے مجھے کئی القابات سے نوازا، اور مجھ سے اتنی محبت کا اظہار فرمایا کہ میں زندگی بھر اس کو نہیں بھلا سکتا "۔
سیرت و خصائص:
عالم و عارف، عابد و زاہد، صاحبِ صفاتِ محمودہ، ذی الفضل والجاہ، حامی السنن، ماحی الفتن، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، محب و محبوبِ امامِ اہلسنت، حضرت علامہ مفتی محمود جان قادری رضوی جودھپوری رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ کا تعلق ایک بہت ہی دیندار علمی گھرانے سے تھا۔امت مسلمہ کی خدمت وراہنمائی ان کے آباؤ اجداد کی خوبیوں میں سے ایک تھی۔ان کے والد گرامی کے بارے میں مختصر پہلے تحریر کرچکے ہیں۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ آپ پرخصوصی شفقت فرماتے تھے۔
مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وصال سے نو یا دس ماہ قبل ، آپ نے مجھے ایک "رحمت بھرا خط" لکھا جس میں آپ نے فرمایا: "کہ میں نے اپنی کتاب " الاستمداد " میں اپنے تمام خلفاء کے نام درج کئے ہیں اور تمھارا نامِ نامی غیر ارادی طور پر چھپ نے سے رہ گیا ہے ۔ میری انتہائی مصروفیات اور ذمہ داریوں کی وجہ سے مجھ سے آپ کا نام غیر ارادی طور پر رہ گیا جو کہ " قصیدہ الاستمداد " کے آخر میں میرے خیر خواہوں اور مددگاروں کی فہرست میں سنہری حروف سے کندہ ہونا چاہئے تھا ۔ مجھے اس کا احساس اس وقت ہوا جب وہ چھپ چکی تھی ، اور مجھے ابھی تک اس کا افسوس ہے"۔
حضرت مفتی محمود جان رحمۃ اللہ علیہ اپنے پیر پَر کامل یقین رکھتے تھے، اور اپنے پیر کی محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ وہ ذاتی طور پر ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے پیر کتنا کامل یقین رکھتے تھے ۔
❤1👍1
آپ فرماتے ہیں:
"میں نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے چالیس روزہ ختم کے دوران اپنے مرشد کے مزار پُر انوار پر حاضری دی اور بارگاہ الٰہی میں اس کے منتخب بندے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وسیلے سے بیٹے کی درخواست کی۔
الحمدللہ! اُسی سال کے دوران اللہ تبارک و تعالیٰ نےمجھے ایک بیٹا عطاء کیا جس کا نام میں نے " احمد رضا " رکھا ۔ آپ کی عظیم دینی خدمات ہیں۔ جب ماہنامہ "الفقیہ"جاری ہوا، تو " کاٹھیاواڑ " میں اس کی ہر گھر میں ترسیل فرماتے تھے۔ اس کے ساتھ آپ اپنی طرف سے اس کی اشاعت میں کثیر رقم خرچ فرماتے تھے۔پورے علاقے میں آپ نے دینِ اسلام کو چار چاند لگادئےتھے۔
سب سے پہلے آپ نےہی اعلیٰ علیہ الرحمہ کی منظوم سوانح حیات " ذکرِ رضا " کے نام سے شائع فرمائی تھی۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے مزار کا نقشہ بھی آپ کا ڈیزائن کیا ہوا ہے ۔
حضرت مولانا محمود جان نے اجازت و خلافت کے باوجود کسی کو داخلِ بیعت نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو خلافت دی مگر ان کے عقیدت مندوں کی تعداد پاک و ہند بنگلہ دیش افریقہ تک کے ممالک میں ہے۔
آپ نے جام جودھ پور کی جامع مسجد میں تقریباً 80 برس امامت و خطابت اور تبلیغ و تدریس فرمائی ۔
دینی خدمات بلا معاوضہ سر انجام دیں اور ذریعہ معاش تجارت رکھا۔
مہمان نوازی اور اہلِ علم کی خاطر داری میں مشہور تھے۔حق کی راہ میں تمام عمر مردِ میداں رہے۔
مولانا مستجاب الدعوات تھے۔ مہلک زخم پر لعاب دہن لگا دیتے تو مریض شفا یاب یاب ہو جاتا۔ آپ نے اپنے علاقے سے غلط رسومات کا خاتمہ کرکے رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کا نفاذ فرمایاـ
حضرت صدر الافاضل فرماتے ہیں:
کہ میں نےخلفائے اعلیٰ حضرت میں مولانا محمود جیسا فنافی الشیخ کسی کو نہیں دیکھا۔ اعلیٰ حضرت کی شان میں فرماتے ہیں: ؏:
ہم نے کیا "احمد رضا" دیکھا تجھے
۔۔۔ سر ذاتِ مصطفیٰ دیکھا تجھے
حق تعالیٰ کی قسم اے"احمدرضا"۔۔۔
نائبِ خیرالوریٰ دیکھاتجھے
وصال:
3/صفر المظفر1370ھ، مطابق نومبر /1950ء کو 115 سال کی عمر میں آپ کا وصال ہوا۔
مزار شریف:
آپ کا مزار جام جودھپور (گجرات، انڈیا) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
ماہنامہ جہانِ رضا۔ (شمارہ: 123، فروری 2005ء)۔ذکرِرضا ۔ تذکرہ خلفاءِ اعلیٰ حضرت (مولانا صادق قصوری ـ
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-mehmood-jaan-qadri-jodh-puri
Copyright © Zia-e-Taiba
"میں نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے چالیس روزہ ختم کے دوران اپنے مرشد کے مزار پُر انوار پر حاضری دی اور بارگاہ الٰہی میں اس کے منتخب بندے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے وسیلے سے بیٹے کی درخواست کی۔
الحمدللہ! اُسی سال کے دوران اللہ تبارک و تعالیٰ نےمجھے ایک بیٹا عطاء کیا جس کا نام میں نے " احمد رضا " رکھا ۔ آپ کی عظیم دینی خدمات ہیں۔ جب ماہنامہ "الفقیہ"جاری ہوا، تو " کاٹھیاواڑ " میں اس کی ہر گھر میں ترسیل فرماتے تھے۔ اس کے ساتھ آپ اپنی طرف سے اس کی اشاعت میں کثیر رقم خرچ فرماتے تھے۔پورے علاقے میں آپ نے دینِ اسلام کو چار چاند لگادئےتھے۔
سب سے پہلے آپ نےہی اعلیٰ علیہ الرحمہ کی منظوم سوانح حیات " ذکرِ رضا " کے نام سے شائع فرمائی تھی۔
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے مزار کا نقشہ بھی آپ کا ڈیزائن کیا ہوا ہے ۔
حضرت مولانا محمود جان نے اجازت و خلافت کے باوجود کسی کو داخلِ بیعت نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو خلافت دی مگر ان کے عقیدت مندوں کی تعداد پاک و ہند بنگلہ دیش افریقہ تک کے ممالک میں ہے۔
آپ نے جام جودھ پور کی جامع مسجد میں تقریباً 80 برس امامت و خطابت اور تبلیغ و تدریس فرمائی ۔
دینی خدمات بلا معاوضہ سر انجام دیں اور ذریعہ معاش تجارت رکھا۔
مہمان نوازی اور اہلِ علم کی خاطر داری میں مشہور تھے۔حق کی راہ میں تمام عمر مردِ میداں رہے۔
مولانا مستجاب الدعوات تھے۔ مہلک زخم پر لعاب دہن لگا دیتے تو مریض شفا یاب یاب ہو جاتا۔ آپ نے اپنے علاقے سے غلط رسومات کا خاتمہ کرکے رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کا نفاذ فرمایاـ
حضرت صدر الافاضل فرماتے ہیں:
کہ میں نےخلفائے اعلیٰ حضرت میں مولانا محمود جیسا فنافی الشیخ کسی کو نہیں دیکھا۔ اعلیٰ حضرت کی شان میں فرماتے ہیں: ؏:
ہم نے کیا "احمد رضا" دیکھا تجھے
۔۔۔ سر ذاتِ مصطفیٰ دیکھا تجھے
حق تعالیٰ کی قسم اے"احمدرضا"۔۔۔
نائبِ خیرالوریٰ دیکھاتجھے
وصال:
3/صفر المظفر1370ھ، مطابق نومبر /1950ء کو 115 سال کی عمر میں آپ کا وصال ہوا۔
مزار شریف:
آپ کا مزار جام جودھپور (گجرات، انڈیا) میں ہے۔
ماخذ و مراجع:
ماہنامہ جہانِ رضا۔ (شمارہ: 123، فروری 2005ء)۔ذکرِرضا ۔ تذکرہ خلفاءِ اعلیٰ حضرت (مولانا صادق قصوری ـ
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/mufti-mehmood-jaan-qadri-jodh-puri
Copyright © Zia-e-Taiba
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مفتی محمود جان قادری رضوی جودھپوری رحمۃ اللہ علیہ وِصَال: 3 / صفر المظفر 1370 ھِ مُطابِق نومبر 1950ءِ عُمر¹¹⁵سَال نام و نسب: اسمِ گرامی: مفتی محمودجان ۔ لقب: قادری، رضوی۔علاقہ، جام جودھپور کی نسبت سے"جام جودھپوری" کہلاتے ہیں۔سلسلہ…
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ مفتی محمود جان قادری رضوی جودھپوری رحمۃ اللہ علیہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/37631
وِصَال: 3 / صفر المظفر 1370 ھِ
مُطابِق نومبر 1950ءِ عُمر¹¹⁵سَال
مزار: جام جودھپور، گجرات، انڈیا
https://t.me/islaamic_Knowledge/37631
وِصَال: 3 / صفر المظفر 1370 ھِ
مُطابِق نومبر 1950ءِ عُمر¹¹⁵سَال
مزار: جام جودھپور، گجرات، انڈیا
❤1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-02-1444 ᴴ | 31-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
03-02-1444 ᴴ | 01-09-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1👍1