🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-02-1444 ᴴ | 31-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-02-1444 ᴴ | 31-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
5👍3
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
6👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
02-02-1444 ᴴ | 31-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-02-1444 ᴴ | 31-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
5👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
5👍2
حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی الله عنه

نام و نسب:
اسمِ گرامی: سیدامام محمد ۔ (آپ کا نام جد امجد سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نامِ نامی اسمِ گرامی پر رکھا گیا) ـ کنیت: ابو جعفر ۔لقب: باقر، شاکر، ہادی ۔

سلسلہ نسب اس طرح ہے:
حضرت امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن سیدنا امام حسین بن علی المرتضی ۔

آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی سیدہ فاطمہ بنت سیدنا امام حسن تھا۔

یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہیں کہ آپ کا سلسلۂ نسب دونوں طرف سے سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچتا ہے۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)

باقر کی وجہ تسمیہ:
باقر، بقرہ سے مشتق ہے اور اسی کا اسم فاعل بھی ہے ۔اس کے معنی شق کرنے اور وسعت دینے کے ہیں (المنجد) ۔ حضرت امام محمد باقر کو اس لقب سے اس لیے ملقب کیا گیا تھا کہ آپ نے علوم و معارف کو نمایاں فرمایا اور حقائق احکام و حکمت و لطائف کے وہ سر بستہ خزانے ظاہر فرما دئیے جو لوگوں پر ظاہر و ہویدا نہ تھے ۔ (صواعق محرقہ، شواہد النبوت)

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت بروز جمعہ 3 / صفرالمظفر 57ھ، بمطابق 15 / دسمبر 676ء کو اپنے دادا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے تین سال پہلے مدینہ منورہ میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
اپنے والدِ گرامی اور فقہاء مدینۃ المنورہ سے علم حاصل کیا۔ طبقات الحفاظ میں ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد، اور جد امجد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ایک طائفہ صحابہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور اِن سے اِن کے صاحبزادے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ و عطاء رضی اللہ عنہ و ابن جریج رضی اللہ عنہ و امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ و اوزاعی رضی اللہ عنہ و زُہری رضی اللہ عنہ وغیرہ نے حدیث کو لیا ہے، اور ابن شہاب زہری رضی اللہ عنہ جنہوں نے سب سے پہلے حدیث کی تدوین کی ہے اِن کو حدیث میں ثقہ لکھا ہے، اور امام نسائی رضی اللہ عنہ نے اہلِ مدینہ کے فقہائے تابعین میں اِن کا ذکر کیا ہے۔ علم احادیث، علم سنن اور تفسیر قرآن وعلم السیرت و دیگر علوم وفنون کے ذخیرے جس قدرامام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے ظاہر ہوئے اتنے حسنین کریمین کی اولاد میں سے کسی سے ظاہرنہیں ہوئے ۔

بیعت و خلافت:
آپ اپنے والدِ گرامی کےجانشین ہوئے،اور آئمہ اہل بیت میں سے پانچویں امام ہیں۔

سیرت و خصائص:
کاشفِ اسرار، مطلعِ انوار، آثارِ سید المرسلین ﷺ وارثِ حسن وحسین حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے اوراس کی شہرت عامہ ہے کہ آپ علم وزہد اورشرف وفضیلت میں بے مثال شخصیت کے مالک تھے۔ آپ علم القرآن، علم الآثار،علم السنن اورہرقسم کے علوم ، حکم،آداب وغیرہ کے جامع تھے۔بڑے بڑے تابعین،اورعظیم القدرفقہاء آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے رہے۔

عطاء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
کہ میں نے علمائے کرام کو ازروئے علم کے کسی کے پاس اس قدر اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا کہ اِن کے رو برو دیکھا۔ علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں: کہ حضرت امام محمد باقررضی اللہ عنہ کے علمی فیوض وبرکات اورکمالات واحسانات سے اس شخص کے علاوہ جس کی بصیرت زائل ہوگئی ہو، جس کا دماغ خراب ہو گیا ہواورجس کی طینت وطبیعت فاسد ہوگئی ہو،کوئی شخص انکارنہیں کرسکتا،اسی وجہ سے آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ "باقرالعلوم" علم کے پھیلانے والے اورجامع العلوم ہیں۔آپ کا دل صاف، علم وعمل روشن و تابندہ ، اورخلقت شریف تھی۔ آپ کے کل اوقات اطاعت خداوندی میں بسر ہوتے تھے۔عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اورگہرے نشانات نمایاں ہو گئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اورعاجز و ماندہ ہیں ۔ آپ کے ہدایات وکلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا احصاء اس کتاب میں ناممکن ہے (صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔

علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں:
کہ امام محمد باقرعلامہ زمان اور سردار کبیرالشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحراور وسیع الاطلاق تھے (وفیات الاعیان)۔

علامہ ذہبی لکھتے ہیں :
کہ آپ بنی ہاشم کے سرداراورمتبحر علمی کی وجہ سے باقرمشہورتھے ۔ آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اورآپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا (تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱) ۔

آپ اپنےآباؤاجدادکی طرح بے پناہ عبادت کرتے تھے ۔ساری رات نمازپڑھنا، اورسارا دن روزہ سے گزارناآپ کی عادت تھی ۔آپ کی زندگی زاہدانہ تھی۔آپ بڑے عابد، زاہد، خاشعِ، خاضع، پاک طینت اور بزرگ نفس تھے، تمام اوقات کو عبادت و طاعتِ الٰہی سے معمور رکھتے، آدھی رات کو رویا کرتے، اور بارگاہِ الٰہی میں نہایت عاجزی سے مناجات کیا کرتے تھے۔ ہدایاجوآتے تھے اسے فقراء ومساکین پرتقسیم کردیتے تھے غریبوں پربے حدشفقت فرماتے تھے تواضع اور فروتنی ، صبرو شکر غلام نوازی صلہ رحمی وغیرہ میں اپنی نظیرآپ تھے۔آپ فقیروں کی بڑی عزت کرتے تھے اورانہیں اچھے نام سے یادکرتے تھے (کشف الغمہ )۔
1👍1
سیدالمرسلین ﷺ کا سلام بھیجنا:
حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضرہوا اور ان کو سلام کیا۔ اس وقت وہ نابینا ہوچکے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں۔ میں نےکہا محمد بن علی بن حسین ہوں۔ یہ سنتے ہی فرمایا:اے میرے بیٹے آگے آؤ! جب میں آگے ہوا تو آپ نے میرے ہاتھ پر بوسہ دیا ،اس کے بعد میرے پاؤں پر بوسہ دینا چاہا کہ میں دور ہوگیا۔ آپ نے کہا :"رسول اللہ ﷺ نے آپ کوسلام بھیجا ہے"۔میں نے جواب دیا: اللہ کے حبیب ﷺ پر بھی صلوۃ وسلام ہواور اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمتیں اوربرکتیں ہوں۔ میں نے پوچھا کہ حضرت یہ واقعہ کس طرح ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا :کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا تھا کہ اے جابر!شاید تم میرے ایک فرزند کے آنے تک زندہ رہوگے۔ اور اس سے ملاقات کروگے۔ اس کا نام محمد بن علی بن حسین ہوگا۔ خدا تعالیٰ ان کو نورو حکمت عطا کرے گا میرا اس کو سلام پہنچادینا۔ (بارہ امام :مولانا جامی)

وصال:
آپ کا وصال 7 / ذوالحجہ 114ھ، بمطابق جنوری/733ء کو 57 سال کی عمر میں ہوا۔ آپ کی قبرِ انور امام حسن مجتبیٰ اور حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہماکےساتھ (جنت البقیع،مدینۃ المنورہ) میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
خزینۃ الاصفیا ۔ الصواعق المحرقہ ۔ اقتبا س الانوار ۔ بارہ امام ۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-imam-baqir-bin-zain-ul-abideen
Copyright © Zia-e-Taiba
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
عارف کامل حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ جلال پوری رحمۃ اللہ علیہ

نام و نسب:
حضرت پیر سید غلام حیدر علی شاہ بن سید جمعہ شاہ بن سید کاظم شاہ بن سید سخی شاہ (علیہم الرحمہ)

تاریخ ولادت:
۳ صفر / ۲۶ اپریل (۱۲۵۴ھ؍۱۸۳۸ء) کو جلال پور میں پیدا ہوئے ۔

تعلیم و تربیت:
جب آپ نے ہوش سنبھالا تو قرآن پاک کی تعلیم کے لئے آپ کو میاں خان محمد اعظم پوری کے سپرد کیا انہوں نے قرآن مجید پڑھانا شروع کیا جس کی تکمیل آپ کے چچا سید امام شاہ نے فرمائی ۔ اس کے بعد میاں عبد اللہ چکروی سے فارسی اور اردو کی درسی کتب پڑھیں پھر جلال پور سے پانچ کوس کے فاصلہ پر قاضی محمد کامل کی خدمت میں نین وال تشریف لے گئے اور ان سے کتب فقہ کا درس لیا، اپنے علاقے کے مشہور عالم مفتی غلام محی الدین سے استفادہ کیا اور کنز الدقائق پڑھی، اس سے زیادہ آپ نے ظاہری علم با قاعدگی سے نہیں پڑھا اور حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ سے مرقع اور کشکول کا درس لیا ۔

بیعت و خلافت:
تلاش مرشد میں سید غلام شاہ کی خدمت میں ہرن پور پہنچے اور بیعت کی درخواست کی، انہوں نے سیال شریف جانے کا مشورہ دیا بلکہ خود ساتھ لے گئے ۔

حضرت خواجہ شمس العارفین قدس سرہ نے انہیں دیکھا تو کھڑے ہو گئے، مزاج پوچھا اور بیٹھنے کا حکم دیا چنانچہ آپ ۷ رجب ۱۲۷۱ھ کو ان کے دست حق پرست پر بیعت ہو گئے ۔

بیعت کے بعد ہر ماہ دو تین مرتبہ شیخ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور شیخ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ ان کے سامنے بولنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی،  جب چھٹی مرتبہ حاضر ہوئے تو حضرت شیخ نے خرقۂ خلافت اور اجازت سے سرفراز فرمایا ۔

سیرت و خصائص:
آپ کی والدہ ماجدہ بڑی عبادت گزار اور صالحہ خاتون تھیں ۔ جنہوں نے ابتداء ہی سے اپنے لخت جگر کو نماز روزہ کا پابند بنا دیا تھا ۔ آپ منکسر المزاج اور بلند اخلاق کے مالک تھے، آپ کو خود پسندی چھو کر بھی نہیں گزری تھی ۔ نہایت نرم دل اور سراپا شفقت و عنایت تھے ۔ غرباء کی دلجوئی آپ کا خاص وصف تھا ۔ اعمال میں نہایت محتاط اور پابند شریعت تھے ۔ آپ حد درجہ خوبصورت تھے، دراز قامت، دلکش آنکھیں، شانوں پر زلفیں، کلاہ چہار ترکی سر پر ، آپ حسن مجسم معلوم ہوتے تھے ۔

وصال:
6 جمادی الاخریٰ ، 7 جولائی (۱۳۲۶ھ/۱۹۰۸ء) کو آپ کا وصال ہوا اور جلال پور شریف میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے ۔

https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-ghulam-hyder-ali-shah
1👍1