🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-01-1444 ᴴ | 29-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-01-1444 ᴴ | 29-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
3👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-01-1444 ᴴ | 29-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
وارثیہ سلسلہ میں مرید ہونا کیسا ہے؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/6290

سلسلۂ وارثیہ میں بیعت ہونا کیسا ہے؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/6292

موجودہ مداریہ اور ان کے نظریات اہلسنت سے متصادم ہیں
https://t.me/islaamic_Knowledge/6279

🌹 امام احمد رضا خان عَلَیۡہِ‌الرَّحۡمَہۡ
کو اعلیٰ حضرت کا لقب کس نے دیا؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/6285

حضرت سیدنا وارث پاک سے امام اہل سنت فاضل بریلوی کی ملاقات اور لقب اعلیٰ حضرت، مجدد مائۃ حاضرہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/6287

حضرت زندہ شاہ مدار عَلَیۡہِ‌الرَّحۡمَہۡ
نے کسی کو خلافت نہیں دیا تھا...
سبع سنابل شریف صفحہ ¹¹²-¹¹⁵
https://t.me/islaamic_Knowledge/6294?single

سلسلۂ مداریہ وَ وارثیہ منسوخ ہیں
حوالہ فتاویٰ فقیہ ملت جِـ² صـ⁴¹²
https://t.me/islaamic_Knowledge/6298

سلسلۂ وارثیہ وَ مداریہ منسوخ ہیں
فتاویٰ شارح بخاری 📖 ج² ص²⁴⁴
https://t.me/islaamic_Knowledge/6299
3👍3
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍43
حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم خیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی:
حضرت خواجہ خدا بخش ۔ لقب: ملتان شریف کی نسبت سے "ملتانی" مرشد کے حکم سے خیر پور تشریف لائے تو "خیرپوری" کہلائے ۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا خدا بخش بن مولانا جان محمد بن مولانا عنایت اللہ بن مولانا حسن علی بن مولانا محمود جیو بن مولانا محمد اسحاق بن مولانا علاؤ الدین ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔

آپ کے بزرگوں میں سے مولانا محمود جیو علیہ الرحمہ کو بخاری زبانی یاد تھی، اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔آپ کے والد ماجد مولانا قاضی جان محمد علیہ الرحمہ عالم باعمل اور صاحب زہد و تقویٰ بزرگ تھے ۔ قصبہ "تلمبہ" میں رہتے تھے ۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1150ھ، مطابق 1737ء کو "قصبہ تلمبہ" (ضلع خانیوال کا ایک تاریخی قصبہ،ملتان سے سو کلو میٹر دور ہے) میں ہوئی ۔

تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی پھر ذرا بڑا ہونے پر مزید تعلیم کے لیے والد ماجد کے کہنے پر دہلی میں تشریف لے گئے اور " مدرسہ رحیمیہ دہلی " میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی شاگردی اختیار کی ۔ ا ور ان سے دینی علوم کی تکمیل کی دہلی میں قیام کے دوران تحصیل علم کے ساتھ ساتھ آپ نے چند دیگر مشائخ سے روحانی استفادہ بھی کیا ۔

بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ حافظ محمد جمال اللہ ملتانی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔

سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، سراج الواصلین، فخر العاشقین، سند العارفین، حجۃ الکاملین، امام العلماء الراسخین، محبوب اللہ حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم الخیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔

آپ اپنے وقت کے جید عالم اور ولیِ کامل تھے ۔ علم حاصل کرنے کے بعد واپس تلمبہ تشریف لائے اور والد گرامی کے زیر سایہ وہیں زندگی کے شب و روز گزارنے لگے کچھ عرصہ کے بعد یہاں سے نقل مکانی کر کے ملتان میں سکونت پذیر ہو گئے ملتان کےمحلہ " کمہار پورہ " (حسین آگاہی اور دولت گیٹ کے درمیان میں واقع ہے) میں آپ کی رہائش تھی ۔

یہیں آپ نے درس و تدریس کا آغاز کیا تھوڑے عرصہ میں آپ کے درس کی شہرت گردو نواح میں پھیل گئی اور طالب علم دور دور سے آپ کے پاس آنے لگے۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے چالیس سال تک ملتان میں قرآن و حدیث کا درس دیا اور ہزاروں لوگ آپ کے علمی فیض سے مستفید ہوئے۔ کمہاروں کی اس مسجد کا نام ہی "درس والی مسجد" مشہور ہو گیا ۔ جوابھی تک اسی نام سے مشہور ہے۔ (اس وقت اس مسجد میں میرے استادِ محترم غزالی زمان علیہ الرحمہ کے شاگردِ رشید، فقیہ العصر، مفتیِ اعظم ملتان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شفیع چشتی گولڑی مدظلہ العالی، کافی عرصے سے دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اور قرآن و حدیث کے نور سے عوام کے دلوں کو منور کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ درازیِ عمر عطاء فرمائے ۔ آمین (تونسوی غفرلہ) ـ

ایک مرتبہ حضرت خواجہ فخرالدین دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں اس طرح تذکرہ ہواکہ شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین زکریا رحمۃ اللہ علیہ کاتصرف بعدازوصال اسی طرح عیاں ہے ،آپ کی مرضی کے بغیر کوئی بھی اہل اللہ ملتان میں نہیں رہ سکتا ہے۔

حضرت خواجہ دہلوی نے یہ سن کرسکوت فرمایا۔ دوسرے دن آپ نے حضرت قبلۂ عالم کو حکم فرمایا کہ آج کی رات حضرت غوث العالمین تشریف لائےاور ملتان شریف ہمارے حوالے کردیا۔آپ حافظ جمال صاحب کو حکم فرمائیں کہ ملتان جا کر حضرت شیخ الاسلام کے مزار شریف کے سامنے بیٹھ کر بیعت کیاکریں۔حافظ جمال اللہ ملتانی علیہ الرحمہ نے سب سے پہلے مولانا خدابخش ملتانی علیہ الرحمہ کو بیعت فرمایا، اورروحانی نعمتوں سے مالامال فرمایا۔حضرت حافظ جمال اللہ ملتانی کی مرید اختیاری کرنے کے بعد سلوک کے مدارج طے کرنے شروع کیے۔بے حد ریاضت و عبادت کی رات دن اللہ کی یاد میں بسر کرنے لگے۔ مرشد سے صحبت کا غلبہ دن بدن بڑھتا چلا گیا آہستہ آہستہ آپ روحانیت کے مرتبہ کمال کو پہنچ گئے اور علم کی شہرت تو پہلے ہی تھی اور شیخِ کامل کی صحبت سے آپ کو شہرتِ دوام مل گئی۔ قبلۂ عالم کی خدمت اقدس میں: ایک مرتبہ حافظ جمال اللہ علیہ الرحمہ نےمہار شریف کا قصدکیا ، اور آپ کو بھی ساتھ لے لیا۔ ابھی مہار شریف نہ پہنچے تھے کہ قبلہ عالم دوستوں سے کہنے لگے کہ اس مرتبہ حافظ صاحب عجیب تحفہ لیے آرہے ہیں۔ سب نے سمجھا کہ ملتان کی کوئی بنی ہوئی چیز ہوگی۔ لیکن حضور نے فرمایا کہ نہیں یہ تحفہ مولانا صاحب کی ذات خاص ہے ۔ جسے حافظ صاحب میرے لیے لارہے ہیں۔ الغرض جب مولانا پہنچے اور زیارت سے مشرف ہوئے تو پہلی ہی صحبت میں منظور ہوگئے اور بارہا حضرت قبلہ عالم صاحب اپنی زبان فیض ترجمان سے مولانا صاحب کے اوصاف بیان فرماتے اور ان کی فطری قابلیت اور استعداد اظہار فرماتے تھے۔ علمی کمالات: جذب اور سکر آپ کے حال پر تنا غالب ہوا کہ چلتے چلتے راستہ بھول جاتے تھے۔ ایک دن جناب حافظ صاحب نے ان کی یہ کیفیت حضرت قبلہ ٔعالم کےگوش گزار کی ۔
👍2
فرمایا ان کےتمام اورادووظائف معطل کرا دو،صرف تدریس کے کام پر مامور کرو۔ جو ہر خاص و عام کے لیے بہرہ مندہے۔ اس لیے مولانا صاحب اپنے بزرگوں کی ہدایت کے مطابق علوم ظاہری کی تدریس میں مشغول ہوئے ۔ تفسیر ،حدیث،فقہ،عقائد ،علم ہیت، صرف و نحو، منطق و معانی ، بدیع و بیان وغیرہ جملہ علوم متعارفہ کی تعلیم دیتے تھے اور لوگوں کی فیض رسانی میں مشغول رہے اور آپ کے علمی کمالات کے چرچے خاص و عام میں پھیل گئے۔ عفوان شباب سے لےکر اخیر بڑھاپے تک لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور لوگوں کے فیض دینے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ان لوگوں کی تعداد بے شمار ہےجنہوں نے آپ کے مدرسہ سے فارغ ہوکر دستار فضیلت باندھی ، عام طالبعلموں کا تو شمار نہیں ۔آپ جو دو کرم اور فیض اتم کے ایک سمندر بے کنار تھے جن کے علوم کے سیلاب سے ہزاروں پیاسوں نے اپنی طلب اور شوق کی پیاس بجھائی۔ ان کے دل کا ایک ایک قطرہ درِ نایاب تھا۔ضعف بدنی کے باعث جب آپ میں درس و تدیس کی طاقت نہ رہی تواوراد و ظائف سے وقت بچاکر اپنی مشہور تصنیف "تو فیقیہ" کے لکھنے میں مصروف رہتے۔ یہ وہ کتا ب ہے جس میں شریعت کے احکام طریقت کے آدابِ حقیقت اور معرفت کے اسرا بیان کیے ہیں۔ کمال زہد:جب حضرت قبلہ عالم کا وصال ہوا ،اور جنازہ تیار ہوگیا تو صلحائے زمانہ نے یہ رائے پیش کی کہ امامت وہی شخص کرے کہ جس سے ساری عمر کوئی "مستحب "ترک نہ ہواہو۔ کسی کو اپنے تئیں بھروسہ نہ تھا۔آپ ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس شرف کے حامل تھے،اور حضرت قبلۂ عالم کی نمازِ جنازہ کی امامت کاشرف آپ کو حاصل ہوا۔

وصال:
آپ کاوصال بروزجمعررات،یکم صفرالمظفر 1250ھ،مطابق جون/1834ءکو ہوا۔آپ کامزار"خیرپورٹامیوالی"ضلع بہاولپورمیں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذ و مراجع:
سردلبراں۔ گلشنِ ابرار

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-khuda-bakhsh-multani-summa-khairpuri
Copyright © Zia-e-Taiba
1👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍21
ابوالقاسم حضرت شاہ اسماعیل حسن مارہروی رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب:
اسمِ گرامی: حضرت شاہ اسماعیل حسن ۔کنیت: ابوالقاسم۔ لقب:مارہرہ مطہرہ کی نسبت سے "مارہروی"کہلاتے ہیں۔سیدابوالقاسم،اور شاہ جی کے نام سے شہرت حاصل تھی۔

سلسلہ نسب اسطرح ہے:
حضرت ابوالقاسم مولانا سید شاہ اسماعیل حسن مارہروی بن حضرت سید محمد صادق بن حضرت سیداولاد رسول بن حضرت شاہ سید آل برکات ستھرے میاں بن حضرت سید شاہ حمزہ بن سید شاہ آل محمد بن سید شاہ برکت اللہ بن سید شاہ اویس بن سید شاہ عبدالجلیل بن سندالمحققین سید شاہ عبدالواحد بلگرامی۔الیٰ آخرہ۔۔(علیہم الرحمۃ والرضوان) آپ کاسلسلہ نسب چند واسطوں سے سیدالشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے توسط سے حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے۔

تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 3/محرم الحرام 1272ھ،مطابق ماہِ ستمبر/1855ءکو"مارہرہ مطہرہ"(اترپردیش،ہند ) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:
آپ نے حفظِ قرآن مجید اپنے شوق سے کیا۔آپ کے حفظ کے اساتذہ میں حافظ ولی داد خان مارہروی ،حافظ قادر علی لکھنوی، حافظ عبدالکریم ملکپوری ہیں۔مولانا شاہ عبدالشکور مہامی ،مولانا محمد حسن سنبھلی ،مولانا فضل اللہ فرنگی محلی،اور مولانا شاہ عبدالقادر بدایونی علیہم الرحمہ سے درسیات کی تکمیل کی۔

ان کے علاوہ تصوف واخلاق کی تعلیم اپنے والدِ ماجد کے علاوہ حضرت شاہ آلِ رسول، حضرت شاہ ابوالحسین نوری میاں، حضرت تاج الفحول بدایونی علیہم الرحمہ سے حاصل کی۔

بیعت و خلافت:
اپنے نانا حضرت شاہ غلام محی الدین قدس سرہ سےمرید ہوئے،اورخلافت کی دولت سےمالامال ہوئے۔ان کےعلاوہ والدِماجدقدس سرہ،حضرت شاہ نوری میاں،حضرت شاہ ظہور حسین ،اورحضرت تاج الفحول مولانا شاہ عبد القادر بد ایونی علیہم الرحمہ سےبھی اورادووظائف کی اجازت عطاہوئی تھی۔

سیرت و خصائص:
زبدۃ الکاملین، عمدۃ العارفین، شیخ الکاملین عارف باللہ،فنافی الرسول حضرت مولانا سید ابوالقاسم شاہ اسماعیل حسن مارہروی میاں رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ خاندانِ برکات کے ایسے نورانی چراغ ہیں، جس کے انوار سے ایک عالم منور ہوا۔جس وقت حضرت سیدنا شاہ ابو القاسم شاہ جی میاں مسند سجادگی پر رونق افروز ہوئے اس وقت آپ کو تیرہ سلاسل کی اجازت حاصل تھی لیکن سلسلہ قادریہ سے آپ کو خاندانی روایت کے مطابق بڑا گہرا لگاؤ تھا، اس لئے آپ نے اسی سلسلے کو فروغ بخشا، اسی کے فیوض و برکات سے مریدین و متوسلین کو مالا مال کیا اور رات دن اسی سلسلے کی اشاعت کی جدو جہد فرائی۔

بےشمار علما و مشائخ کو اسی سلسلے میں مرید کیا اور خلافت کی دولت سے بے بہا سرفراز فرمایا۔چونکہ آپ کے قول و فعل اور کردار و عمل میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار برکتیں ودیعت فرمائی تھیں۔اس لیے خلقت آپ کی طرف و الہانہ طور پر متوجہ ہوتی تھی۔ دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ آپ کی نظر کرم پڑتے ہی نہ جانے کتنے لوگوں کی دنیا بدل گئی، نہ جانے کتنے ویران دل آبادہوگئے اور نہ جانے کتنے کفر و شرک سے آلودولوں میں ایمان کا اجالا پھیل گیا۔ کتنے گمراہوں کو آپ کی ذات سے راہ ہدایت نصیب ہوئی۔الغرض آپ کی ذات بڑی با فیض تھی لیکن سب سے بڑی خوبی آپ میں یہ تھی "کہ آپ احیائے سنیت اور تصلب فی الدین کے معاملے میں آپ اپنے اسلاف کےسچے جانشین تھے۔ تذکرہ علمائے اہل سنت میں ہے:"(آپ)تصلب فی الدین میں بزرگان مارہرہ کے قدم بہ قدم تھے" ۔ (تذکرہ علمائے اہلسنت:29)۔

مشائخ مارہرہ کا تصلب فی الدین کس طرح تھا، اس کی تائید درج ذیل عبارت سے حاصل کی جاسکتی ہے۔حضور تاج العلما فرماتے ہیں:"ہمارے اسلاف کرام اور ان کے اخلاف سب بحمدہ تعالیٰ ہمیشہ سے دین اسلام و مذہب مہذب اہل سنت و جماعت سے آراستہ و پیراستہ چلے آتے تھے اور خوب اپنے اس دین متین اور مذہب مہذب میں تعصب و تصلب کو مقبول و محمود جانتے اور مانتے اور بتاتے رہتے تھے"۔ تصلب فی الدین جو اس خانقاہ کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ان حضرات نے بلاخوف لومۃ لائم ہردور میں احقاق حق اور ابطال باطل کا اہم فریضہ انجام دیا۔

یہی وجہ ہے کہ یہ خانقاہ ہر دور میں مسلمانان ِاہل سنت کےلیے مرکز توجہ رہی یہ مشائخ خود بھی متصلب فی الدین تھے اور اپنے متعلقین و متوسلین کو بھی اسی پر عمل پیرارہنے کی ان لفظوں میں تلقین فرماتے:"مذہب اہل سنت و جماعت پر ایسے جمے ہوئے رہیں کہ دوسرے متعصب جانیں اور شریعت مطہرہ کو اپنا دستور العمل بنائیں ،

مذہب اہل سنت کے پھیلانے اور بدعت کو مٹانے اور بددینوں بے دینوں کے رد کو اپنا مقصود ٹھہرائیں ، خصوصاً وہابیہ، دیوبندیہ ،نجدیہ کا ردسب شریروں سے زائد گندے اور اسلام کو نقصان پہنچانے اور جڑ کو کھودنے میں بدترین کفار ہیں۔
👍21
اہل سنت کے جتنے مخالف مثلاً وہابی راضی ، ندوی، نیچری چکڑالوی ، غیر مقلد ، قادیانی اور گاندھوی وغیرہ ہیں ، ان سب کو اپنا دشمن جانیں ان کی بات نہ سنیں، ان کے پاس نہ بیٹھیں، ان کی کوئی تحریر نہ دیکھیں،دین و ایمان سب سے زیادہ عزیز چیز ہیں، ان کی محافظت میں حد سے زیادہ کوشش فرض ہے"۔

حضرت شاہ جی میاں اصولوں کے بہت پکے تھے۔غلط باتوں پر ہرایک کی سرزنش کرتے،اس میں دوست دشمن ،اپنا بیگانہ کی کوئی تمیز روانہ تھی۔آپ صرف گوشہ نشین صوفی نہ تھے ،بلکہ ملکی وبین الاقوامی حالات ومعاملات پر خوب نظر تھی۔ تحریکِ خلافت، تحریکِ پاکستان، تحریک ترکِ مولات، وغیرہ کے بارے میں وہی موقف تھا جواکابرِ اہلسنت کارہا ہے۔اُس وقت جب بھی سنیت کے خلاف کوئی مضمون وغیرہ اخبارات ورسائل میں شائع ہوتا تو فوراً نوٹس لیتے۔مصروفیات سے وقت بچاکر دینی کتب کے مطالعے میں مشغول رہتے تھے۔آپ کی تصنیفات وخطوط علم کا گنجینہ ہیں۔

وصال:
آپ کاوصال یکم صفرالمظفر1347ھ،مطابق جولائی /1928ءکو ہوا۔مرقدِ انور" مارہرہ مطہرہ "انڈیا میں ہے۔

ماخذ و مراجع:
تذکرہ علماءاہلسنت۔اہلسنت کی آوا۔ز1431ھ۔خاندانِ برکات۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-syed-shah-abul-qasim-muhammad-ismail-hasan-shah-qdri
Copyright © Zia-e-Taiba
3👍2