🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-01-1444 ᴴ | 29-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
30-01-1444 ᴴ | 29-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-01-1444 ᴴ | 29-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
وارثیہ سلسلہ میں مرید ہونا کیسا ہے؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/6290
سلسلۂ وارثیہ میں بیعت ہونا کیسا ہے؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/6292
موجودہ مداریہ اور ان کے نظریات اہلسنت سے متصادم ہیں
https://t.me/islaamic_Knowledge/6279
🌹 امام احمد رضا خان عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡ
کو اعلیٰ حضرت کا لقب کس نے دیا؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/6285
حضرت سیدنا وارث پاک سے امام اہل سنت فاضل بریلوی کی ملاقات اور لقب اعلیٰ حضرت، مجدد مائۃ حاضرہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/6287
حضرت زندہ شاہ مدار عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡ
نے کسی کو خلافت نہیں دیا تھا...
سبع سنابل شریف صفحہ ¹¹²-¹¹⁵
https://t.me/islaamic_Knowledge/6294?single
سلسلۂ مداریہ وَ وارثیہ منسوخ ہیں
حوالہ فتاویٰ فقیہ ملت جِـ² صـ⁴¹²
https://t.me/islaamic_Knowledge/6298
سلسلۂ وارثیہ وَ مداریہ منسوخ ہیں
فتاویٰ شارح بخاری 📖 ج² ص²⁴⁴
https://t.me/islaamic_Knowledge/6299
https://t.me/islaamic_Knowledge/6290
سلسلۂ وارثیہ میں بیعت ہونا کیسا ہے؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/6292
موجودہ مداریہ اور ان کے نظریات اہلسنت سے متصادم ہیں
https://t.me/islaamic_Knowledge/6279
🌹 امام احمد رضا خان عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡ
کو اعلیٰ حضرت کا لقب کس نے دیا؟
https://t.me/islaamic_Knowledge/6285
حضرت سیدنا وارث پاک سے امام اہل سنت فاضل بریلوی کی ملاقات اور لقب اعلیٰ حضرت، مجدد مائۃ حاضرہ
https://t.me/islaamic_Knowledge/6287
حضرت زندہ شاہ مدار عَلَیۡہِالرَّحۡمَہۡ
نے کسی کو خلافت نہیں دیا تھا...
سبع سنابل شریف صفحہ ¹¹²-¹¹⁵
https://t.me/islaamic_Knowledge/6294?single
سلسلۂ مداریہ وَ وارثیہ منسوخ ہیں
حوالہ فتاویٰ فقیہ ملت جِـ² صـ⁴¹²
https://t.me/islaamic_Knowledge/6298
سلسلۂ وارثیہ وَ مداریہ منسوخ ہیں
فتاویٰ شارح بخاری 📖 ج² ص²⁴⁴
https://t.me/islaamic_Knowledge/6299
❤3👍3
حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم خیر پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ خدا بخش ۔ لقب: ملتان شریف کی نسبت سے "ملتانی" مرشد کے حکم سے خیر پور تشریف لائے تو "خیرپوری" کہلائے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا خدا بخش بن مولانا جان محمد بن مولانا عنایت اللہ بن مولانا حسن علی بن مولانا محمود جیو بن مولانا محمد اسحاق بن مولانا علاؤ الدین ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔
آپ کے بزرگوں میں سے مولانا محمود جیو علیہ الرحمہ کو بخاری زبانی یاد تھی، اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔آپ کے والد ماجد مولانا قاضی جان محمد علیہ الرحمہ عالم باعمل اور صاحب زہد و تقویٰ بزرگ تھے ۔ قصبہ "تلمبہ" میں رہتے تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1150ھ، مطابق 1737ء کو "قصبہ تلمبہ" (ضلع خانیوال کا ایک تاریخی قصبہ،ملتان سے سو کلو میٹر دور ہے) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی پھر ذرا بڑا ہونے پر مزید تعلیم کے لیے والد ماجد کے کہنے پر دہلی میں تشریف لے گئے اور " مدرسہ رحیمیہ دہلی " میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی شاگردی اختیار کی ۔ ا ور ان سے دینی علوم کی تکمیل کی دہلی میں قیام کے دوران تحصیل علم کے ساتھ ساتھ آپ نے چند دیگر مشائخ سے روحانی استفادہ بھی کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ حافظ محمد جمال اللہ ملتانی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، سراج الواصلین، فخر العاشقین، سند العارفین، حجۃ الکاملین، امام العلماء الراسخین، محبوب اللہ حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم الخیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کے جید عالم اور ولیِ کامل تھے ۔ علم حاصل کرنے کے بعد واپس تلمبہ تشریف لائے اور والد گرامی کے زیر سایہ وہیں زندگی کے شب و روز گزارنے لگے کچھ عرصہ کے بعد یہاں سے نقل مکانی کر کے ملتان میں سکونت پذیر ہو گئے ملتان کےمحلہ " کمہار پورہ " (حسین آگاہی اور دولت گیٹ کے درمیان میں واقع ہے) میں آپ کی رہائش تھی ۔
یہیں آپ نے درس و تدریس کا آغاز کیا تھوڑے عرصہ میں آپ کے درس کی شہرت گردو نواح میں پھیل گئی اور طالب علم دور دور سے آپ کے پاس آنے لگے۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے چالیس سال تک ملتان میں قرآن و حدیث کا درس دیا اور ہزاروں لوگ آپ کے علمی فیض سے مستفید ہوئے۔ کمہاروں کی اس مسجد کا نام ہی "درس والی مسجد" مشہور ہو گیا ۔ جوابھی تک اسی نام سے مشہور ہے۔ (اس وقت اس مسجد میں میرے استادِ محترم غزالی زمان علیہ الرحمہ کے شاگردِ رشید، فقیہ العصر، مفتیِ اعظم ملتان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شفیع چشتی گولڑی مدظلہ العالی، کافی عرصے سے دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اور قرآن و حدیث کے نور سے عوام کے دلوں کو منور کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ درازیِ عمر عطاء فرمائے ۔ آمین (تونسوی غفرلہ) ـ
ایک مرتبہ حضرت خواجہ فخرالدین دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں اس طرح تذکرہ ہواکہ شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین زکریا رحمۃ اللہ علیہ کاتصرف بعدازوصال اسی طرح عیاں ہے ،آپ کی مرضی کے بغیر کوئی بھی اہل اللہ ملتان میں نہیں رہ سکتا ہے۔
حضرت خواجہ دہلوی نے یہ سن کرسکوت فرمایا۔ دوسرے دن آپ نے حضرت قبلۂ عالم کو حکم فرمایا کہ آج کی رات حضرت غوث العالمین تشریف لائےاور ملتان شریف ہمارے حوالے کردیا۔آپ حافظ جمال صاحب کو حکم فرمائیں کہ ملتان جا کر حضرت شیخ الاسلام کے مزار شریف کے سامنے بیٹھ کر بیعت کیاکریں۔حافظ جمال اللہ ملتانی علیہ الرحمہ نے سب سے پہلے مولانا خدابخش ملتانی علیہ الرحمہ کو بیعت فرمایا، اورروحانی نعمتوں سے مالامال فرمایا۔حضرت حافظ جمال اللہ ملتانی کی مرید اختیاری کرنے کے بعد سلوک کے مدارج طے کرنے شروع کیے۔بے حد ریاضت و عبادت کی رات دن اللہ کی یاد میں بسر کرنے لگے۔ مرشد سے صحبت کا غلبہ دن بدن بڑھتا چلا گیا آہستہ آہستہ آپ روحانیت کے مرتبہ کمال کو پہنچ گئے اور علم کی شہرت تو پہلے ہی تھی اور شیخِ کامل کی صحبت سے آپ کو شہرتِ دوام مل گئی۔ قبلۂ عالم کی خدمت اقدس میں: ایک مرتبہ حافظ جمال اللہ علیہ الرحمہ نےمہار شریف کا قصدکیا ، اور آپ کو بھی ساتھ لے لیا۔ ابھی مہار شریف نہ پہنچے تھے کہ قبلہ عالم دوستوں سے کہنے لگے کہ اس مرتبہ حافظ صاحب عجیب تحفہ لیے آرہے ہیں۔ سب نے سمجھا کہ ملتان کی کوئی بنی ہوئی چیز ہوگی۔ لیکن حضور نے فرمایا کہ نہیں یہ تحفہ مولانا صاحب کی ذات خاص ہے ۔ جسے حافظ صاحب میرے لیے لارہے ہیں۔ الغرض جب مولانا پہنچے اور زیارت سے مشرف ہوئے تو پہلی ہی صحبت میں منظور ہوگئے اور بارہا حضرت قبلہ عالم صاحب اپنی زبان فیض ترجمان سے مولانا صاحب کے اوصاف بیان فرماتے اور ان کی فطری قابلیت اور استعداد اظہار فرماتے تھے۔ علمی کمالات: جذب اور سکر آپ کے حال پر تنا غالب ہوا کہ چلتے چلتے راستہ بھول جاتے تھے۔ ایک دن جناب حافظ صاحب نے ان کی یہ کیفیت حضرت قبلہ ٔعالم کےگوش گزار کی ۔
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حضرت خواجہ خدا بخش ۔ لقب: ملتان شریف کی نسبت سے "ملتانی" مرشد کے حکم سے خیر پور تشریف لائے تو "خیرپوری" کہلائے ۔
سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
مولانا خدا بخش بن مولانا جان محمد بن مولانا عنایت اللہ بن مولانا حسن علی بن مولانا محمود جیو بن مولانا محمد اسحاق بن مولانا علاؤ الدین ۔ (علیہم الرحمۃ والرضوان) ۔
آپ کے بزرگوں میں سے مولانا محمود جیو علیہ الرحمہ کو بخاری زبانی یاد تھی، اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔آپ کے والد ماجد مولانا قاضی جان محمد علیہ الرحمہ عالم باعمل اور صاحب زہد و تقویٰ بزرگ تھے ۔ قصبہ "تلمبہ" میں رہتے تھے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1150ھ، مطابق 1737ء کو "قصبہ تلمبہ" (ضلع خانیوال کا ایک تاریخی قصبہ،ملتان سے سو کلو میٹر دور ہے) میں ہوئی ۔
تحصیل علم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی پھر ذرا بڑا ہونے پر مزید تعلیم کے لیے والد ماجد کے کہنے پر دہلی میں تشریف لے گئے اور " مدرسہ رحیمیہ دہلی " میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی شاگردی اختیار کی ۔ ا ور ان سے دینی علوم کی تکمیل کی دہلی میں قیام کے دوران تحصیل علم کے ساتھ ساتھ آپ نے چند دیگر مشائخ سے روحانی استفادہ بھی کیا ۔
بیعت و خلافت:
آپ حضرت خواجہ حافظ محمد جمال اللہ ملتانی علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔
سیرت و خصائص:
شیخ المشائخ، سراج الواصلین، فخر العاشقین، سند العارفین، حجۃ الکاملین، امام العلماء الراسخین، محبوب اللہ حضرت خواجہ خدا بخش ملتانی ثم الخیر پوری رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کے جید عالم اور ولیِ کامل تھے ۔ علم حاصل کرنے کے بعد واپس تلمبہ تشریف لائے اور والد گرامی کے زیر سایہ وہیں زندگی کے شب و روز گزارنے لگے کچھ عرصہ کے بعد یہاں سے نقل مکانی کر کے ملتان میں سکونت پذیر ہو گئے ملتان کےمحلہ " کمہار پورہ " (حسین آگاہی اور دولت گیٹ کے درمیان میں واقع ہے) میں آپ کی رہائش تھی ۔
یہیں آپ نے درس و تدریس کا آغاز کیا تھوڑے عرصہ میں آپ کے درس کی شہرت گردو نواح میں پھیل گئی اور طالب علم دور دور سے آپ کے پاس آنے لگے۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے چالیس سال تک ملتان میں قرآن و حدیث کا درس دیا اور ہزاروں لوگ آپ کے علمی فیض سے مستفید ہوئے۔ کمہاروں کی اس مسجد کا نام ہی "درس والی مسجد" مشہور ہو گیا ۔ جوابھی تک اسی نام سے مشہور ہے۔ (اس وقت اس مسجد میں میرے استادِ محترم غزالی زمان علیہ الرحمہ کے شاگردِ رشید، فقیہ العصر، مفتیِ اعظم ملتان حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شفیع چشتی گولڑی مدظلہ العالی، کافی عرصے سے دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اور قرآن و حدیث کے نور سے عوام کے دلوں کو منور کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ درازیِ عمر عطاء فرمائے ۔ آمین (تونسوی غفرلہ) ـ
ایک مرتبہ حضرت خواجہ فخرالدین دہلوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں اس طرح تذکرہ ہواکہ شیخ الاسلام حضرت بہاؤ الدین زکریا رحمۃ اللہ علیہ کاتصرف بعدازوصال اسی طرح عیاں ہے ،آپ کی مرضی کے بغیر کوئی بھی اہل اللہ ملتان میں نہیں رہ سکتا ہے۔
حضرت خواجہ دہلوی نے یہ سن کرسکوت فرمایا۔ دوسرے دن آپ نے حضرت قبلۂ عالم کو حکم فرمایا کہ آج کی رات حضرت غوث العالمین تشریف لائےاور ملتان شریف ہمارے حوالے کردیا۔آپ حافظ جمال صاحب کو حکم فرمائیں کہ ملتان جا کر حضرت شیخ الاسلام کے مزار شریف کے سامنے بیٹھ کر بیعت کیاکریں۔حافظ جمال اللہ ملتانی علیہ الرحمہ نے سب سے پہلے مولانا خدابخش ملتانی علیہ الرحمہ کو بیعت فرمایا، اورروحانی نعمتوں سے مالامال فرمایا۔حضرت حافظ جمال اللہ ملتانی کی مرید اختیاری کرنے کے بعد سلوک کے مدارج طے کرنے شروع کیے۔بے حد ریاضت و عبادت کی رات دن اللہ کی یاد میں بسر کرنے لگے۔ مرشد سے صحبت کا غلبہ دن بدن بڑھتا چلا گیا آہستہ آہستہ آپ روحانیت کے مرتبہ کمال کو پہنچ گئے اور علم کی شہرت تو پہلے ہی تھی اور شیخِ کامل کی صحبت سے آپ کو شہرتِ دوام مل گئی۔ قبلۂ عالم کی خدمت اقدس میں: ایک مرتبہ حافظ جمال اللہ علیہ الرحمہ نےمہار شریف کا قصدکیا ، اور آپ کو بھی ساتھ لے لیا۔ ابھی مہار شریف نہ پہنچے تھے کہ قبلہ عالم دوستوں سے کہنے لگے کہ اس مرتبہ حافظ صاحب عجیب تحفہ لیے آرہے ہیں۔ سب نے سمجھا کہ ملتان کی کوئی بنی ہوئی چیز ہوگی۔ لیکن حضور نے فرمایا کہ نہیں یہ تحفہ مولانا صاحب کی ذات خاص ہے ۔ جسے حافظ صاحب میرے لیے لارہے ہیں۔ الغرض جب مولانا پہنچے اور زیارت سے مشرف ہوئے تو پہلی ہی صحبت میں منظور ہوگئے اور بارہا حضرت قبلہ عالم صاحب اپنی زبان فیض ترجمان سے مولانا صاحب کے اوصاف بیان فرماتے اور ان کی فطری قابلیت اور استعداد اظہار فرماتے تھے۔ علمی کمالات: جذب اور سکر آپ کے حال پر تنا غالب ہوا کہ چلتے چلتے راستہ بھول جاتے تھے۔ ایک دن جناب حافظ صاحب نے ان کی یہ کیفیت حضرت قبلہ ٔعالم کےگوش گزار کی ۔
👍2
فرمایا ان کےتمام اورادووظائف معطل کرا دو،صرف تدریس کے کام پر مامور کرو۔ جو ہر خاص و عام کے لیے بہرہ مندہے۔ اس لیے مولانا صاحب اپنے بزرگوں کی ہدایت کے مطابق علوم ظاہری کی تدریس میں مشغول ہوئے ۔ تفسیر ،حدیث،فقہ،عقائد ،علم ہیت، صرف و نحو، منطق و معانی ، بدیع و بیان وغیرہ جملہ علوم متعارفہ کی تعلیم دیتے تھے اور لوگوں کی فیض رسانی میں مشغول رہے اور آپ کے علمی کمالات کے چرچے خاص و عام میں پھیل گئے۔ عفوان شباب سے لےکر اخیر بڑھاپے تک لوگوں کو فائدہ پہنچانے اور لوگوں کے فیض دینے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ان لوگوں کی تعداد بے شمار ہےجنہوں نے آپ کے مدرسہ سے فارغ ہوکر دستار فضیلت باندھی ، عام طالبعلموں کا تو شمار نہیں ۔آپ جو دو کرم اور فیض اتم کے ایک سمندر بے کنار تھے جن کے علوم کے سیلاب سے ہزاروں پیاسوں نے اپنی طلب اور شوق کی پیاس بجھائی۔ ان کے دل کا ایک ایک قطرہ درِ نایاب تھا۔ضعف بدنی کے باعث جب آپ میں درس و تدیس کی طاقت نہ رہی تواوراد و ظائف سے وقت بچاکر اپنی مشہور تصنیف "تو فیقیہ" کے لکھنے میں مصروف رہتے۔ یہ وہ کتا ب ہے جس میں شریعت کے احکام طریقت کے آدابِ حقیقت اور معرفت کے اسرا بیان کیے ہیں۔ کمال زہد:جب حضرت قبلہ عالم کا وصال ہوا ،اور جنازہ تیار ہوگیا تو صلحائے زمانہ نے یہ رائے پیش کی کہ امامت وہی شخص کرے کہ جس سے ساری عمر کوئی "مستحب "ترک نہ ہواہو۔ کسی کو اپنے تئیں بھروسہ نہ تھا۔آپ ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس شرف کے حامل تھے،اور حضرت قبلۂ عالم کی نمازِ جنازہ کی امامت کاشرف آپ کو حاصل ہوا۔
وصال:
آپ کاوصال بروزجمعررات،یکم صفرالمظفر 1250ھ،مطابق جون/1834ءکو ہوا۔آپ کامزار"خیرپورٹامیوالی"ضلع بہاولپورمیں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
سردلبراں۔ گلشنِ ابرار
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-khuda-bakhsh-multani-summa-khairpuri
Copyright © Zia-e-Taiba
وصال:
آپ کاوصال بروزجمعررات،یکم صفرالمظفر 1250ھ،مطابق جون/1834ءکو ہوا۔آپ کامزار"خیرپورٹامیوالی"ضلع بہاولپورمیں مرجعِ خلائق ہے۔
ماخذ و مراجع:
سردلبراں۔ گلشنِ ابرار
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-khawaja-khuda-bakhsh-multani-summa-khairpuri
Copyright © Zia-e-Taiba
scholars.pk
Hazrat Khawaja Khuda Bakhsh Multani Summa Khairpuri
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
This web page contains authentic information about a Religious Islamic Personality (Celebrity / Scholar) Hazrat Khawaja Khuda Bakhsh Multani Summa Khairpuri.
❤1👍1