Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍2❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-01-1444 ᴴ | 28-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
29-01-1444 ᴴ | 28-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2👍1
حضرت روز بہان بقلی شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
آپ کا اسم گرامی:
ابو محمد بن ابی البقراء البقلی الشیرازی تھا ـ
تعارف:
آپ سلطان الفقراء برہان العلماء اور قدوۃ العشاق کے خطابات سے مشہور تھے آپ عراق شام حجاز کے سفر کیے شیخ ابو النجیب سہروردی کے سکندریہ کے دار العلوم میں بخاری شریف کے درس میں ہم سبق تھے آپ کو شیخ سراج الدین محمود بن خلیفہ بن عبد السّلام بن احمد بن سال سے خرقۂ خلافت ملا شیراز کے اطراف میں ریاضت کرتے رہے آپ ان ریاضات کے دوران صاحب شوق و وجد و سماع ہوئے ـ
تصنیفات:
آپ بہت سی تصانیف کے مالک ہیں تفسیر عرائس البیان آپ کی معروف اور مشہور تفسیر ہے شرح شطحیات ابن عربی کتاب الانوارنی شرح الاسرار بھی دنیائے تصوّف میں معروف کتابیں آپ کی تصنیف ہیں ـ
خدمات:
آپ نے شیراز کے جامع عتیق میں پچاس سال درس و وعظ کیا حضرت شیخ ابوالحسن فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت بقلی نے مشائخ کو دعوت دی، مَیں بھی اس دعوت میں شریک تھا میں آپ سے متعارف نہیں تھا مگر میرے دل میں یہ بات تھی کہ میں بہان بقلی سے علم و فضل میں بلند تر ہوں میرے پاس ہی ایک روشن ضمیر بزرگ تشریف فرماتے تھے وہ میرے قلبی خیالات کو تاڑ گئے اور فرمانے لگے ابو الحسن، یہ خیال دل سے نکال دو۔ اس زمانے میں بہان بقلی سے زیادہ عالم اور صاحب حال کوئی بھی نہیں ہے آپ تو یگانۂ زمانہ ہیں۔
شوقِ تلاوت قرآن:
شیخ ابوبکر طاہر حضرت شیخ بہان بقلی کے احباب میں سے تھے وہ فرماتے ہیں کہ میں اور روز بہان ہر سحری کو باری باری قرآن کریم پڑھا کرتے تھے آپ کا انتقال ہوا تو میرے لیے دنیا تنگ ہو گئی میں رات کے آخرین حصہ میں اٹھا نماز پڑھی اور حضرت روز بہان بقلی کے مزار پر چلا گیا ۔ قبر کے پاس بیٹھ کر میں نے قرآن پاک پڑھنا شروع کر دیا ۔ میں اپنے اس دوست کے فراق میں تلاوت قرآن کے دوران رونے لگا میرے دل میں بار بار خیال آتا کہ آج میں اس بھری دنیا میں تنہا رہ گیا ہوں میں نے دس سپارے پڑھے ہی تھے کہ قبر سے قرآن پڑھنے کی آواز آنے لگی۔ آپ نے حسبِ معمول دس پارے پڑھے اور میں سنتا گیا صبح ہوئی تو دوسرے احباب بھی آنے شروع ہوئے تو قبر سے یہ آواز خاموش ہوگئی۔
وصال:
آپ کی وفات ۶۰۶ھ میں ماہ محرم الحرام میں ہوئی۔ جناب روز بہان الشیخ ذیجاہ نوشتم پیر ہادی عارف پاک ۶۰۶ھ کہ بُد راغب بحق مرغوب شیراز بسال وصل آن مطلوب شیراز ۶۰۶ھ (خزینۃ الاصفیاء)
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-roz-bahan-baqli-sherazi
Copyright © Zia-e-Taiba
آپ کا اسم گرامی:
ابو محمد بن ابی البقراء البقلی الشیرازی تھا ـ
تعارف:
آپ سلطان الفقراء برہان العلماء اور قدوۃ العشاق کے خطابات سے مشہور تھے آپ عراق شام حجاز کے سفر کیے شیخ ابو النجیب سہروردی کے سکندریہ کے دار العلوم میں بخاری شریف کے درس میں ہم سبق تھے آپ کو شیخ سراج الدین محمود بن خلیفہ بن عبد السّلام بن احمد بن سال سے خرقۂ خلافت ملا شیراز کے اطراف میں ریاضت کرتے رہے آپ ان ریاضات کے دوران صاحب شوق و وجد و سماع ہوئے ـ
تصنیفات:
آپ بہت سی تصانیف کے مالک ہیں تفسیر عرائس البیان آپ کی معروف اور مشہور تفسیر ہے شرح شطحیات ابن عربی کتاب الانوارنی شرح الاسرار بھی دنیائے تصوّف میں معروف کتابیں آپ کی تصنیف ہیں ـ
خدمات:
آپ نے شیراز کے جامع عتیق میں پچاس سال درس و وعظ کیا حضرت شیخ ابوالحسن فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت بقلی نے مشائخ کو دعوت دی، مَیں بھی اس دعوت میں شریک تھا میں آپ سے متعارف نہیں تھا مگر میرے دل میں یہ بات تھی کہ میں بہان بقلی سے علم و فضل میں بلند تر ہوں میرے پاس ہی ایک روشن ضمیر بزرگ تشریف فرماتے تھے وہ میرے قلبی خیالات کو تاڑ گئے اور فرمانے لگے ابو الحسن، یہ خیال دل سے نکال دو۔ اس زمانے میں بہان بقلی سے زیادہ عالم اور صاحب حال کوئی بھی نہیں ہے آپ تو یگانۂ زمانہ ہیں۔
شوقِ تلاوت قرآن:
شیخ ابوبکر طاہر حضرت شیخ بہان بقلی کے احباب میں سے تھے وہ فرماتے ہیں کہ میں اور روز بہان ہر سحری کو باری باری قرآن کریم پڑھا کرتے تھے آپ کا انتقال ہوا تو میرے لیے دنیا تنگ ہو گئی میں رات کے آخرین حصہ میں اٹھا نماز پڑھی اور حضرت روز بہان بقلی کے مزار پر چلا گیا ۔ قبر کے پاس بیٹھ کر میں نے قرآن پاک پڑھنا شروع کر دیا ۔ میں اپنے اس دوست کے فراق میں تلاوت قرآن کے دوران رونے لگا میرے دل میں بار بار خیال آتا کہ آج میں اس بھری دنیا میں تنہا رہ گیا ہوں میں نے دس سپارے پڑھے ہی تھے کہ قبر سے قرآن پڑھنے کی آواز آنے لگی۔ آپ نے حسبِ معمول دس پارے پڑھے اور میں سنتا گیا صبح ہوئی تو دوسرے احباب بھی آنے شروع ہوئے تو قبر سے یہ آواز خاموش ہوگئی۔
وصال:
آپ کی وفات ۶۰۶ھ میں ماہ محرم الحرام میں ہوئی۔ جناب روز بہان الشیخ ذیجاہ نوشتم پیر ہادی عارف پاک ۶۰۶ھ کہ بُد راغب بحق مرغوب شیراز بسال وصل آن مطلوب شیراز ۶۰۶ھ (خزینۃ الاصفیاء)
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-roz-bahan-baqli-sherazi
Copyright © Zia-e-Taiba
❤2👍2
حضرت حاجی وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حاجی وارث علی شاہ ۔
والد کا اسمِ گرامی:
سید قربان علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ۔
خاندانی حالات:
وہ دیوا ضلع بارہ بنکی (یوپی) میں رہتے تھے، اور وہاں کے رئیسوں میں ان کا شمار ہوتا تھا ۔ آپ کے خاندان کے بزرگ نیشاپور کے رہنے والے تھے ۔ نیشاپور سے سکونت ترک کرکے ہندوستان آئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1232ھ، مطابق 1817ء کو دیوا شریف (ضلع بارہ بنکی، اتر پردیش، اِنڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
جب آپ کی عمر پانچ سال کی ہوئی تو آپ کی تعلیم باقاعدہ شروع ہوئی ۔ مکتب جانے لگے ۔ آپ نے قرآن مجید سات سال کی عمر میں حفظ کر لیا ۔ ساتھ ہی ساتھ ضروری دینی مسائل بھی سیکھ لیے تھے ۔
عشق و محبت کے جذبات بچپن ہی سے جنگلوں اور ویرانوں میں لئے پھرتے تھے ۔ آپ کا دل شہر میں نہیں لگتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ قادریہ میں اپنے بہنوئی حضرت سید خادم علی شاہ لکھنوی کے مرید اور خلیفہ ہیں ۔ آپ کے پیر و مرشد کا قیام لکھنؤ میں تھا ۔
سیرت و خصائص:
قدوۃ السالکین، زبدۃ العارفین، سلطان الطریقت، بانیِ سلسلۂ عالیہ وارثیہ، امام الاولیاء، حاجی الحرمین شریفین، آل سید الشہداء امامِ حسین حضرت حاجی حافظ سید وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔ آپ " سیر و فی الارض " پر عمل پیرا تھے ۔ خوب سیر و سیاحت کی ۔ آپ جنگلوں، بیابانوں اور پہاڑوں میں گھومتے اور قدرتِ خدا وندی کا مشاہدہ کرتے رہتے تھے ۔
اجمیر شریف سے ممبئی تشریف لے گئے ۔ ممبئی سے جدہ گئے ۔ 29 شعبان 1253ھ کو مکہ معظمہ پہنچے ۔ حج کا فریضہ ادا کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئے ۔ کچھ دن وہاں رہے، پھر رخت سفر باندھا ۔ بیت المقدس، دمشق، بیروت، بغداد، کاظمین، نجف اشرف، کربلائے معلیٰ، ایران، قسطنطنیہ کی سیاحت کرکے اور دُرویشوں سے مل کر پھر مکہ پہنچے ۔ حج سے فارغ ہُو کر افریقہ تشریف لے گئے ۔
واپسی:
وطن واپس آ کر آپ نے دیکھا کہ مکان شکستہ ہو چکا ہے اور آپ کے ساز و سامان پر آپ کے رشتہ دار قابض ہیں ۔ ان کو یہ فکر ہوئی شاید آپ جائیداد وغیرہ واپس لے لیںگے اور ممکن ہے عدالتی کارروائی کریں، ان لوگوں کی بے اعتنائی اور بے رخی سے آپ کو تکلیف پہنچی، آپ نے وطن میں زیادہ قیام کرنا مناسب نہیں سمجھا ۔ آپ نے شادی نہیں کی ۔ آپ جائیداد، مکان، ساز و سامان وغیرہ سے بے نیاز تھے ۔ فقر میں بادشاہی کرتے تھے ۔ صابر، شاکر اور مستغنی تھے ۔ روپئے پیسے کو ہاتھ نہ لگاتے تھے ۔ اگر کوئی شخص آپ کو کوئی تحفہ پیش کرتا تو آپ اس سے بہتر چیز اس کو عطا فرماتے تھے، عفو و کرم آپ کا شعار تھا، آپ کسی قِسم کی سواری پسند نہیں کرتے تھے ۔ تانگے، بگھی، یَکّے میں نہیں بیٹھتے تھے ۔ ریل اور جہاز میں نہیں بیٹھتے تھے، کمزوری کے باعث پالکی میں بادل ناخواستہ بیٹھتے تھے ۔ سنت کے سخت پابند تھے ۔ خوراک بہت کم تھی، مدتوں ہفتہ میں ایک بار کھانا کھایا، پھر تیسرے روز کھانا، کھانا شروع کیا ۔ کمزوری کے باعث روز یا دوسرے دن تھوڑا سا کھا لیتے تھے ۔ ثرید بہت شوق سے کھاتے تھے ۔ کھانے کے بعد خلال کرتے اور پھر ہاتھ دھوتے ۔ آپ نے جب سے احرام باندھنا شروع کیا، پھر اتارا نہیں، کربلا پہنچ کر آپ نے یہ طے کیا کہ تخت یا پلنگ پر نہ سوئیں گے، تمام عمر اس پر کار بند رہے ۔
تعلیمات:
آپ فرماتے ہیں "جس عورت کا خاوند موجود ہو اور اس کے پاس رہتا ہو، اسے کھانے پینے اور ضروریات کی پرواہ نہیں ہوتی ۔ خاوند خود بخود اس کا انتظام کرتا ہے ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اقرب الیہ من حبل الورید ہے (شہ رگ سے زیادہ قریب ہے) تو انسان اپنی روزی کے متعلق کیوں پریشان ہوتا ہے"۔
ایک مرتبہ یہ ذکر ہو رہا تھا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ تہتر فرقوں میں سے بہتر ناری (دوزخی) ہیں اور ایک ناجی، جب آپ سے اس فرقے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے دریافت کیا کہ حسد کے کتنے عدد ہیں، حاضرین نے عرض کیا کہ حسد کے عدد 72 ہیں، یہ سن کر آپ نے فرمایا "پس جو فرقہ حسد سے باہر ہے وہ ناجی ہے"۔ (رافضیوں میں بغضِ صحابہ، اور خارجیوں میں بغضِ رسول، اہلِ بیت و اولیاء ہے ۔ اس لئے یہ ناری ہیں ۔ اہلسنت تمام کے غلام ہیں) ـ
وصال:
آپ کا وصال 30 محرم الحرام 1323ھ، مطابق 7 اپریل 1905ء کو ہوا ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار دیوا شریف ضلع بارہ بنکی یوپی اِنڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ج:6
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-haji-waris-ali-shah
نام و نسب:
اسمِ گرامی: حاجی وارث علی شاہ ۔
والد کا اسمِ گرامی:
سید قربان علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ۔
خاندانی حالات:
وہ دیوا ضلع بارہ بنکی (یوپی) میں رہتے تھے، اور وہاں کے رئیسوں میں ان کا شمار ہوتا تھا ۔ آپ کے خاندان کے بزرگ نیشاپور کے رہنے والے تھے ۔ نیشاپور سے سکونت ترک کرکے ہندوستان آئے ۔
تاریخِ ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 1232ھ، مطابق 1817ء کو دیوا شریف (ضلع بارہ بنکی، اتر پردیش، اِنڈیا) میں پیدا ہوئے ۔
تحصیلِ علم:
جب آپ کی عمر پانچ سال کی ہوئی تو آپ کی تعلیم باقاعدہ شروع ہوئی ۔ مکتب جانے لگے ۔ آپ نے قرآن مجید سات سال کی عمر میں حفظ کر لیا ۔ ساتھ ہی ساتھ ضروری دینی مسائل بھی سیکھ لیے تھے ۔
عشق و محبت کے جذبات بچپن ہی سے جنگلوں اور ویرانوں میں لئے پھرتے تھے ۔ آپ کا دل شہر میں نہیں لگتا تھا ۔
بیعت و خلافت:
آپ سلسلۂ عالیہ چشتیہ قادریہ میں اپنے بہنوئی حضرت سید خادم علی شاہ لکھنوی کے مرید اور خلیفہ ہیں ۔ آپ کے پیر و مرشد کا قیام لکھنؤ میں تھا ۔
سیرت و خصائص:
قدوۃ السالکین، زبدۃ العارفین، سلطان الطریقت، بانیِ سلسلۂ عالیہ وارثیہ، امام الاولیاء، حاجی الحرمین شریفین، آل سید الشہداء امامِ حسین حضرت حاجی حافظ سید وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ ۔
آپ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے ۔ آپ " سیر و فی الارض " پر عمل پیرا تھے ۔ خوب سیر و سیاحت کی ۔ آپ جنگلوں، بیابانوں اور پہاڑوں میں گھومتے اور قدرتِ خدا وندی کا مشاہدہ کرتے رہتے تھے ۔
اجمیر شریف سے ممبئی تشریف لے گئے ۔ ممبئی سے جدہ گئے ۔ 29 شعبان 1253ھ کو مکہ معظمہ پہنچے ۔ حج کا فریضہ ادا کرکے مدینہ منورہ حاضر ہوئے ۔ کچھ دن وہاں رہے، پھر رخت سفر باندھا ۔ بیت المقدس، دمشق، بیروت، بغداد، کاظمین، نجف اشرف، کربلائے معلیٰ، ایران، قسطنطنیہ کی سیاحت کرکے اور دُرویشوں سے مل کر پھر مکہ پہنچے ۔ حج سے فارغ ہُو کر افریقہ تشریف لے گئے ۔
واپسی:
وطن واپس آ کر آپ نے دیکھا کہ مکان شکستہ ہو چکا ہے اور آپ کے ساز و سامان پر آپ کے رشتہ دار قابض ہیں ۔ ان کو یہ فکر ہوئی شاید آپ جائیداد وغیرہ واپس لے لیںگے اور ممکن ہے عدالتی کارروائی کریں، ان لوگوں کی بے اعتنائی اور بے رخی سے آپ کو تکلیف پہنچی، آپ نے وطن میں زیادہ قیام کرنا مناسب نہیں سمجھا ۔ آپ نے شادی نہیں کی ۔ آپ جائیداد، مکان، ساز و سامان وغیرہ سے بے نیاز تھے ۔ فقر میں بادشاہی کرتے تھے ۔ صابر، شاکر اور مستغنی تھے ۔ روپئے پیسے کو ہاتھ نہ لگاتے تھے ۔ اگر کوئی شخص آپ کو کوئی تحفہ پیش کرتا تو آپ اس سے بہتر چیز اس کو عطا فرماتے تھے، عفو و کرم آپ کا شعار تھا، آپ کسی قِسم کی سواری پسند نہیں کرتے تھے ۔ تانگے، بگھی، یَکّے میں نہیں بیٹھتے تھے ۔ ریل اور جہاز میں نہیں بیٹھتے تھے، کمزوری کے باعث پالکی میں بادل ناخواستہ بیٹھتے تھے ۔ سنت کے سخت پابند تھے ۔ خوراک بہت کم تھی، مدتوں ہفتہ میں ایک بار کھانا کھایا، پھر تیسرے روز کھانا، کھانا شروع کیا ۔ کمزوری کے باعث روز یا دوسرے دن تھوڑا سا کھا لیتے تھے ۔ ثرید بہت شوق سے کھاتے تھے ۔ کھانے کے بعد خلال کرتے اور پھر ہاتھ دھوتے ۔ آپ نے جب سے احرام باندھنا شروع کیا، پھر اتارا نہیں، کربلا پہنچ کر آپ نے یہ طے کیا کہ تخت یا پلنگ پر نہ سوئیں گے، تمام عمر اس پر کار بند رہے ۔
تعلیمات:
آپ فرماتے ہیں "جس عورت کا خاوند موجود ہو اور اس کے پاس رہتا ہو، اسے کھانے پینے اور ضروریات کی پرواہ نہیں ہوتی ۔ خاوند خود بخود اس کا انتظام کرتا ہے ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اقرب الیہ من حبل الورید ہے (شہ رگ سے زیادہ قریب ہے) تو انسان اپنی روزی کے متعلق کیوں پریشان ہوتا ہے"۔
ایک مرتبہ یہ ذکر ہو رہا تھا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ تہتر فرقوں میں سے بہتر ناری (دوزخی) ہیں اور ایک ناجی، جب آپ سے اس فرقے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے دریافت کیا کہ حسد کے کتنے عدد ہیں، حاضرین نے عرض کیا کہ حسد کے عدد 72 ہیں، یہ سن کر آپ نے فرمایا "پس جو فرقہ حسد سے باہر ہے وہ ناجی ہے"۔ (رافضیوں میں بغضِ صحابہ، اور خارجیوں میں بغضِ رسول، اہلِ بیت و اولیاء ہے ۔ اس لئے یہ ناری ہیں ۔ اہلسنت تمام کے غلام ہیں) ـ
وصال:
آپ کا وصال 30 محرم الحرام 1323ھ، مطابق 7 اپریل 1905ء کو ہوا ۔
مزار شریف:
آپ کا مزار دیوا شریف ضلع بارہ بنکی یوپی اِنڈیا میں مرجعِ خلائق ہے ۔
ماخذ و مراجع:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند ۔
انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، ج:6
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-haji-waris-ali-shah
scholars.pk
Hazrat Haji Waris Ali Shah
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
| Scholars | Islamic | Encyclopedia | Book Libraray | Articles | Blogs
❤3👍3
سرکار وارث پاک، حضرت حافظ سید حاجی وارث علی شاہ چشتی قادری رضی اللہ عنہ کی ولادت 1238ھ کو دیوہ شریف ضلع بارہ بنکی میں ہوئی۔ آپ حافظ قرآن، قاری سبع قرأت، عربی فارسی اور پشتو زبانوں کے ماہر، صاحب کشف و کرامات، نہایت صابر، شاکر، متقی، اور عفو و درگزر فرمانے والے تھے۔ آپ جائداد مکان ساز و سامان سے بے نیاز تھے، فقر میں بادشاہی کرتے تھے۔ محرام الحرام کے آخری روز یا یکم صفر المظفر 1323ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک دیوہ شریف میں مرجع خاص و عام ہے۔ (آفتاب ولایت، انسائیکلوپیڈیا اولیائے کرام، تذکرہ اولیائے پاک و ہند)
Sarkar Waris Pak, Hafiz Sayyid Haji Waris Ali Shah (RadiyAllahu Anhu) was born in 1238 AH in Dewah Sharif, District Barabanki. He was a Hafiz of the Holy Qur’an, reciter in seven methods of Qirat, an expert in Arabic, Persian and Pashto Languages, a man of insight and marvels, extremely tolerant, grateful, pious, and forgiving personality. He was devoid of property and wealth and reigned in poverty. He passed away on the last day of Muharram or the 1st of Safar 1323 AH. His blessed mausoleum located in Dewa Sharif is visited by people from all walks of life. [Aftab-e-Wilayat, Encyclopedia Awliya-e-Kiram, Tazkirah Awliya-e Paak wa Hind]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=618810813151900&id=100050689590519
Sarkar Waris Pak, Hafiz Sayyid Haji Waris Ali Shah (RadiyAllahu Anhu) was born in 1238 AH in Dewah Sharif, District Barabanki. He was a Hafiz of the Holy Qur’an, reciter in seven methods of Qirat, an expert in Arabic, Persian and Pashto Languages, a man of insight and marvels, extremely tolerant, grateful, pious, and forgiving personality. He was devoid of property and wealth and reigned in poverty. He passed away on the last day of Muharram or the 1st of Safar 1323 AH. His blessed mausoleum located in Dewa Sharif is visited by people from all walks of life. [Aftab-e-Wilayat, Encyclopedia Awliya-e-Kiram, Tazkirah Awliya-e Paak wa Hind]
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=618810813151900&id=100050689590519
❤3👍2