🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-01-1444 ᴴ | 26-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-01-1444 ᴴ | 26-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤3👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-01-1444 ᴴ | 26-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-01-1444 ᴴ | 26-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤4👍2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤3👍2
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰شان محمدالمصباحی القادری✰)
باپ بیٹوں کو جائداد سے بے دخل نہیں کر سکتا
السلام علیکم ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
سوال: زید کے تین لڑکے ہیں جن میں دو لڑکے بے ادب ہیں گالی دیتے ہیں بات نہیں کرتے خرچ کے لیے پیسہ نہیں دیتے تو زید انہیں اپنی پروپٹی سے بےدخل کر سکتا ہے شرعا پکڑ تو نہیں ہو گی؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
الجواب- جس طرح اولاد پر والد کے کچھ حقوق شریعت نے مقرر فرماے اسی طرح والد پر اولاد کے بھی کچھ حقوق مقرر فرماے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا کہ ابن نجار نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں"باپ کے ذمہ بھی اولاد کے حقوق ہیں جس طرح اولاد کے ذمہ باپ کے حقوق ہیں"(کنز العمال, کتاب النکاح,ج۱۶,ص۱۸۴ )
اب ان حقوق کی سلسلہ میں فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرمائیں
۱ طبرانی نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اپنی اولاد کو برابر دو اگر میں کسی کو فضیلت دیتا تو لڑکیوں کو فضیلت دیتا (المعجم الکبیر,ج۱۱,ص۲۸۰)
۲ طبرانی نے نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کہ عطیہ میں اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو جس طرح تم خود یہ چاہتے ہو کہ وہ سب تمہارے ساتھ احسان ومہربانی میں عدل کریں"(کنز العمال,ج۱۶,ص۱۸۴)
۳ ابن نجار نے نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"اللہ تعالی اسکو پسند فرماتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو یہاں تک کہ بوسہ لینے میں"(المرجع السابق)
اسی طرح ان حقوق کے سلسلہ میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے ایک رسالہ بنام 'مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد' تحریر فرمایا جس میں صحیح احادیث سے ۸۰ حقوق ذکر فرماے
من جملہ "اپنے چند بچے ہوں تو انہیں کوئی چیز دے تو سب کو برابر دے ایک کو دوسرے پر بے فضیلت دینی ترجیح نہ دے"
"انہیں میراث سے محروم نہ کرے"
"اپنے بعد مرگ بھی انکی فکر رکھے یعنی دو تہائی ترکہ چھوڑ جاے ثلث سے زیادہ خیرات نہ کرے"
آخر میں فرماتے ہیں "ان میں اکثر تو مستحبات ہیں جن کے چھوڑنے پر اصلا مواخذہ نہیں اور بعض آخرت میں مطالبہ ہوں مگر دنیا میں بیٹے کے لے باپ پر جبر وگرفت نہیں نہ بیٹے کو جائز کہ باپ سے جدال ونزاع کرے سوا چند حقوق کے"(ج٢٤،ص٤٥٧)-
نیز اسی میں ہے"رہا باپ کا اولاد کو اپنی میراث سے محروم کرنا وہ اگر یوں ہو کہ زبان سے لاکھ بار کہے کہ میں نے اسے محروم الارث کر دیا یا میرے مال میں اس کا کچھ حق نہیں یا میرے ترکہ سے اسے کچھ حصہ نہ دیا جائے یا خیال جہال کا وہ لفظ بے اصل کہ میں نے اسے عاق کیا یا انہیں مضامین کی لاکھ تحریریں لکھے رجسٹریاں کرائے یا اپنا کل مال اپنے فلاں وارث یا کسی غیر کو ملنے کی وصیت کر جائے ایسی ہزار تدبیریں ہوں کچھ کارگر نہیں نہ ہرگز وہ ان وجوہ سے محروم الارث ہو سکے کہ میراث حق مقرر فرمودہ رب العزت جل وعلا ہے جو خود لینے والے کے اسقاط سے ساقط نہیں ہو سکتا بلکہ جبراً دلایا جائے گا اگرچہ وہ لاکھ کہتا رہے کہ مجھے اپنی وراثت منظور نہیں۔ میں حصہ کا مالک نہیں بنتا میں نے اپنا حق ساقط کیا پھر دوسرا کیوں کر ساقط کر سکتا ہے۔ قال اللّٰہ تعالٰی: یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْق لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِج۔ اشباہ میں ہے: لوقال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقہ غرض بالقصد محروم کرنے کی کوئی سبیل نہیں۔ ہاں! اگر حالت صحت میں اپنا مال اپنی ملک سے زائل کر دے تو وارث کچھ نہ پائے گا کہ جب ترکہ ہی نہیں تو میراث کا ہے کی جاری ہو مگر اس قصد ناپاک سے جو فعل کرے گا عنداللہ گنہگار و ماخوذ رہے گا حدیث شریف میں ہے حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: من فرمن میراث وارثہ قطع اللّٰہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ۔ جو اپنے وارث کو اپنا ترکہ پہنچانے سے بھاگے اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرما دے گا۔ رواہ ابن ماجہ عن انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد ہفتم ص ۳۲۵)
لہذا باپ کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بیٹے کو میراث سے محروم کردے وہ بھی سزا کے طور پر کہ اس پر جنت سے محرومی کی وعید آئی ہے اور اگر کرے تو اس کے محروم کرنے سے محروم نہ ہوگا۔
البتہ باپ کی توہیں کرنے والے فاسق وفاجر عاق سخت عذاب وغضب الہی کے مستحق ہیں جب تک باپ کو راضی نہ کریں ان کا کوئی فرض,نفل اور نیک عمل اصلا قبول نہیں عذاب آخرت کے سوا دنیا ہی میں سخت بلا نازل ہوگی اور مرتے وقت معاذاللہ کلمہ نہ نصیب ہونے کا خوف ہے مگر اس کے سبب باپ کو جائز نہیں کہ گناہ کا کام کرے ایسا ہی اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں محقق مسائل جدیدہ مفتی نظام الدین صاحب رضوی نے فرمایا-
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٥ ستمبر ٢٠١٨
السلام علیکم ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
سوال: زید کے تین لڑکے ہیں جن میں دو لڑکے بے ادب ہیں گالی دیتے ہیں بات نہیں کرتے خرچ کے لیے پیسہ نہیں دیتے تو زید انہیں اپنی پروپٹی سے بےدخل کر سکتا ہے شرعا پکڑ تو نہیں ہو گی؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
الجواب- جس طرح اولاد پر والد کے کچھ حقوق شریعت نے مقرر فرماے اسی طرح والد پر اولاد کے بھی کچھ حقوق مقرر فرماے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا کہ ابن نجار نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں"باپ کے ذمہ بھی اولاد کے حقوق ہیں جس طرح اولاد کے ذمہ باپ کے حقوق ہیں"(کنز العمال, کتاب النکاح,ج۱۶,ص۱۸۴ )
اب ان حقوق کی سلسلہ میں فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرمائیں
۱ طبرانی نے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اپنی اولاد کو برابر دو اگر میں کسی کو فضیلت دیتا تو لڑکیوں کو فضیلت دیتا (المعجم الکبیر,ج۱۱,ص۲۸۰)
۲ طبرانی نے نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کہ عطیہ میں اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو جس طرح تم خود یہ چاہتے ہو کہ وہ سب تمہارے ساتھ احسان ومہربانی میں عدل کریں"(کنز العمال,ج۱۶,ص۱۸۴)
۳ ابن نجار نے نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"اللہ تعالی اسکو پسند فرماتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو یہاں تک کہ بوسہ لینے میں"(المرجع السابق)
اسی طرح ان حقوق کے سلسلہ میں اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے ایک رسالہ بنام 'مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد' تحریر فرمایا جس میں صحیح احادیث سے ۸۰ حقوق ذکر فرماے
من جملہ "اپنے چند بچے ہوں تو انہیں کوئی چیز دے تو سب کو برابر دے ایک کو دوسرے پر بے فضیلت دینی ترجیح نہ دے"
"انہیں میراث سے محروم نہ کرے"
"اپنے بعد مرگ بھی انکی فکر رکھے یعنی دو تہائی ترکہ چھوڑ جاے ثلث سے زیادہ خیرات نہ کرے"
آخر میں فرماتے ہیں "ان میں اکثر تو مستحبات ہیں جن کے چھوڑنے پر اصلا مواخذہ نہیں اور بعض آخرت میں مطالبہ ہوں مگر دنیا میں بیٹے کے لے باپ پر جبر وگرفت نہیں نہ بیٹے کو جائز کہ باپ سے جدال ونزاع کرے سوا چند حقوق کے"(ج٢٤،ص٤٥٧)-
نیز اسی میں ہے"رہا باپ کا اولاد کو اپنی میراث سے محروم کرنا وہ اگر یوں ہو کہ زبان سے لاکھ بار کہے کہ میں نے اسے محروم الارث کر دیا یا میرے مال میں اس کا کچھ حق نہیں یا میرے ترکہ سے اسے کچھ حصہ نہ دیا جائے یا خیال جہال کا وہ لفظ بے اصل کہ میں نے اسے عاق کیا یا انہیں مضامین کی لاکھ تحریریں لکھے رجسٹریاں کرائے یا اپنا کل مال اپنے فلاں وارث یا کسی غیر کو ملنے کی وصیت کر جائے ایسی ہزار تدبیریں ہوں کچھ کارگر نہیں نہ ہرگز وہ ان وجوہ سے محروم الارث ہو سکے کہ میراث حق مقرر فرمودہ رب العزت جل وعلا ہے جو خود لینے والے کے اسقاط سے ساقط نہیں ہو سکتا بلکہ جبراً دلایا جائے گا اگرچہ وہ لاکھ کہتا رہے کہ مجھے اپنی وراثت منظور نہیں۔ میں حصہ کا مالک نہیں بنتا میں نے اپنا حق ساقط کیا پھر دوسرا کیوں کر ساقط کر سکتا ہے۔ قال اللّٰہ تعالٰی: یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْق لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِج۔ اشباہ میں ہے: لوقال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقہ غرض بالقصد محروم کرنے کی کوئی سبیل نہیں۔ ہاں! اگر حالت صحت میں اپنا مال اپنی ملک سے زائل کر دے تو وارث کچھ نہ پائے گا کہ جب ترکہ ہی نہیں تو میراث کا ہے کی جاری ہو مگر اس قصد ناپاک سے جو فعل کرے گا عنداللہ گنہگار و ماخوذ رہے گا حدیث شریف میں ہے حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: من فرمن میراث وارثہ قطع اللّٰہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ۔ جو اپنے وارث کو اپنا ترکہ پہنچانے سے بھاگے اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی میراث جنت سے قطع فرما دے گا۔ رواہ ابن ماجہ عن انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد ہفتم ص ۳۲۵)
لہذا باپ کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بیٹے کو میراث سے محروم کردے وہ بھی سزا کے طور پر کہ اس پر جنت سے محرومی کی وعید آئی ہے اور اگر کرے تو اس کے محروم کرنے سے محروم نہ ہوگا۔
البتہ باپ کی توہیں کرنے والے فاسق وفاجر عاق سخت عذاب وغضب الہی کے مستحق ہیں جب تک باپ کو راضی نہ کریں ان کا کوئی فرض,نفل اور نیک عمل اصلا قبول نہیں عذاب آخرت کے سوا دنیا ہی میں سخت بلا نازل ہوگی اور مرتے وقت معاذاللہ کلمہ نہ نصیب ہونے کا خوف ہے مگر اس کے سبب باپ کو جائز نہیں کہ گناہ کا کام کرے ایسا ہی اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں محقق مسائل جدیدہ مفتی نظام الدین صاحب رضوی نے فرمایا-
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
٥ ستمبر ٢٠١٨
❤1👍1
Forwarded from 🌹 شرعی عدالت چینل 🌸 (✰شان محمدالمصباحی القادری✰)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختار کل ہیں
نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا مختار ہونا یا مختار کل ہونا کیا ثابت ہے؟
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب - بنی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بعطاے الہی جملہ مخلوقات کے مختار کل ہیں تمام نعم الہیہ کے تقسیم فرمانے والے ہیں اور حدیث صحیح واللہ المعطی وانا القاسم اس پر دال ہے حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم جسے جو چاہیں عطا فرمائیں۔
حضور سید الانبیاء علیہ الصلاۃ والسلام کا مالک و مختار ہونا اور اس پر اعتقاد کثیر نصوص شرعیہ اور ادلہ قویہ سے ثابت و متحقق ہے۔
صحیح مسلم وغیرہ میں ہے "ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺭﺑﻴﻌﺔ ﺑﻦ ﻛﻌﺐ اﻷﺳﻠﻤﻲ ﻗﺎﻝ: ﻛﻨﺖ ﺃﺑﻴﺖ ﻣﻊ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﺄﺗﻴﺘﻪ ﺑﻮﺿﻮﺋﻪ ﻭﺣﺎﺟﺘﻪ ﻓﻘﺎﻝ ﻟﻲ: ﺳﻞ ﻓﻘﻠﺖ: ﺃﺳﺄﻟﻚ ﻣﺮاﻓﻘﺘﻚ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ ﻗﺎﻝ:ﺃﻭ ﻏﻴﺮ ﺫﻟﻚ ﻗﻠﺖ: ﻫﻮ ﺫاﻙ. ﻗﺎﻝ:ﻓﺄﻋﻨﻲ ﻋﻠﻰ ﻧﻔﺴﻚ ﺑﻜﺜﺮﺓ اﻟﺴﺠﻮﺩ"
(مسلم،ج١،ص٣٥٣،ش)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی شرح مشکوٰۃ شریف میں اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں"از اطلاق سوال کہ فرمود سل بخواہ وتخصیص نکرد بمطلوبی خاص معلوم میشود کہ کارہمہ بدست ہمت و کرامت اوست صلی تعالٰی علیہ وسلم ہرچہ خواہد وہرکرا خواہد باذن پروردگار خود بدہد فان من جودک الدنیا وضرتہاومن علومک علم اللوح والقلم"(اشعۃ اللمعات،کتاب الصلٰوۃ باب السجود وفضلہ، فصل اول،مکتبہ نبویہ رضویہ سکھر،ج١،ص۳۹۶)
شیخ عبدالحق محدث دھلوی علیہ الرحمہ کی اس عبارت نے فیصلہ فرمادیا کہ
نبی مختار کل ہیں جسے جو چاہیں عطاکردیں ع-
مذکورہ حدیث پاک کی تشریح میں ملا علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں "ﻭﻳﺆﺧﺬ ﻣﻦ ﺇﻃﻼﻗﻪ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺴﻼﻡ اﻷﻣﺮ ﺑﺎﻟﺴﺆاﻝ ﺃﻥ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻣﻜﻨﻪ ﻣﻦ ﺇﻋﻄﺎء ﻛﻞ ﻣﺎ ﺃﺭاﺩ ﻣﻦ ﺧﺰاﺋﻦ اﻟﺤﻖ، وﺫﻛﺮ اﺑﻦ ﺳﺒﻊ ﻓﻲ ﺧﺼﺎﺋﺼﻪ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﺃﻥ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﺃﻗﻄﻌﻪ ﺃﺭﺽ اﻟﺠﻨﺔ ﻳﻌﻄﻲ ﻣﻨﻬﺎ ﻣﺎ ﺷﺎء ﻟﻤﻦ ﻳﺸﺎء" ملتقطا(ج٢ص٧٢٣،ش)۔
اور سب کچھ عطا وہی کرسکتاہے جو مختار کل ہو۔
صحیح بخاری میں ایک لمبی حدیث کا آخری حصہ ہے "حضرت ابو بردہ( رضی اللہ عنہ )کھڑے ہوے اور یہ پہلے ہی ذبح کر چکے تھے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)میرے پاس بکری کا چھ ماہہ ایک بچہ ہے فرمایا تم اسے ذبح کر لو اور تمہارے سوا کسی کے لئے چھ ماہہ بچہ کفایت نہیں کرےگا"(کتاب الاضاحی ,ج۳,ص۵۷۱)
معلوم ہوا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احکام تکوینیہ کے ساتھ احکام تشریعیہ کا بھی اختیار رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ کثیر واقعات و روایات کتب حدیث میں موجود ہیں جو اس بات پر واضح دال ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مالک و مختار کل ہیں
ہمارے اکابرین کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مختار ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے استمداد بھی کی مثلا امام مذھب حنفی حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے قصیدہ نعمان میں فرمایا-
یا اکرم الثقلین یا کنزالوری
جدلی بجودک ارضنی برضاک
انا طامع بالجود منک لم یکن
لابی حنیفۃ فی الانام سواک
(ترجمہ) اے موجودات سے اکرم اور نعمت الہی کے خزانے اپنی جود و سخا سے مجھے بھی عطا فرمائے اور اپنی رضا سے مجھے راضی فرمائے
میں آپکی سخاوت کا امیدوار ہوں آپکے سوا ابو حنیفہ کا جہاں میں کوئی نہیں-
امام اعظم کا یہی عقیدہ ہے کہ نبی مختار ہیں جسے جو چاہیں عطا فرما دیتے ہیں اسی وجہ سے آپ نے نبی کریم سے مدد مانگی
اب اگر کوئی کہے مدد مانگنے سے مختار ہونا کہاں ثابت ہوتا ہے تو پھر دنیا میں اس سے بڑھ کر احمق کون کیونکہ مانگا اسی سے جاتا ہے جو عطا کرسکے نہ کہ اس سے جو خود محتاج ہو
اب ہم 'الفضل ما شھدت بہ الاعداء' کے طور پر مخالفین کے چند اقوال ذکر کرتے ہیں
۱ قصائد قاسمی میں مولوی قاسم فرماتے ہیں:
مدد کر اے کرم احمدی کہ تیرے سوا
نہیں ہے قاسم بیکس کاکوئی حامی کار
اس میں مولوی قاسم نے بنی کریم کو مختار کل تسلیم کر کے آپ سے مدد طلب کی-
اسی طرح مولوی محمد حسن ادلہ کاملہ صفحہ ۱۴ پر لکھتے ہیں "آپ اصل میں بعد خدا مالک عالم ہیں جمادات ہوں یا حیوانات بنی آدم ہوں یا غیر بنی آدم القصہ آپ اصل میں مالک ہیں اور یہی وجہ ہے کہ عدل ومہر آپ کے ذمہ واجب الادا نہ تھا"
اس کے علاوہ کثیر اقوال مخالفین اس بات پر دال ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختار کل ہیں جسے جو چاہیں عطا فرمائیں
ان کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے
مالک کل کہلاتے یہ ہیں۔
رب ہے معطی یہ ہیں قاسم
رزق اس کا ہے کھاتے یہ ہیں۔
مزید تفصیل کیلئے امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کی کا رسالہ مبارکہ سلطنت مصطفی فی ملکوت کل الوری ملاحظہ فرمائیں۔
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
خادم التدریس جامعہ مظہرالعلوم
گرسہاےگنج قنوج یوپی
٣ ستمبر ٢٠١٨
نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا مختار ہونا یا مختار کل ہونا کیا ثابت ہے؟
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب - بنی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بعطاے الہی جملہ مخلوقات کے مختار کل ہیں تمام نعم الہیہ کے تقسیم فرمانے والے ہیں اور حدیث صحیح واللہ المعطی وانا القاسم اس پر دال ہے حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم جسے جو چاہیں عطا فرمائیں۔
حضور سید الانبیاء علیہ الصلاۃ والسلام کا مالک و مختار ہونا اور اس پر اعتقاد کثیر نصوص شرعیہ اور ادلہ قویہ سے ثابت و متحقق ہے۔
صحیح مسلم وغیرہ میں ہے "ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺭﺑﻴﻌﺔ ﺑﻦ ﻛﻌﺐ اﻷﺳﻠﻤﻲ ﻗﺎﻝ: ﻛﻨﺖ ﺃﺑﻴﺖ ﻣﻊ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﺄﺗﻴﺘﻪ ﺑﻮﺿﻮﺋﻪ ﻭﺣﺎﺟﺘﻪ ﻓﻘﺎﻝ ﻟﻲ: ﺳﻞ ﻓﻘﻠﺖ: ﺃﺳﺄﻟﻚ ﻣﺮاﻓﻘﺘﻚ ﻓﻲ اﻟﺠﻨﺔ ﻗﺎﻝ:ﺃﻭ ﻏﻴﺮ ﺫﻟﻚ ﻗﻠﺖ: ﻫﻮ ﺫاﻙ. ﻗﺎﻝ:ﻓﺄﻋﻨﻲ ﻋﻠﻰ ﻧﻔﺴﻚ ﺑﻜﺜﺮﺓ اﻟﺴﺠﻮﺩ"
(مسلم،ج١،ص٣٥٣،ش)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی شرح مشکوٰۃ شریف میں اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں"از اطلاق سوال کہ فرمود سل بخواہ وتخصیص نکرد بمطلوبی خاص معلوم میشود کہ کارہمہ بدست ہمت و کرامت اوست صلی تعالٰی علیہ وسلم ہرچہ خواہد وہرکرا خواہد باذن پروردگار خود بدہد فان من جودک الدنیا وضرتہاومن علومک علم اللوح والقلم"(اشعۃ اللمعات،کتاب الصلٰوۃ باب السجود وفضلہ، فصل اول،مکتبہ نبویہ رضویہ سکھر،ج١،ص۳۹۶)
شیخ عبدالحق محدث دھلوی علیہ الرحمہ کی اس عبارت نے فیصلہ فرمادیا کہ
نبی مختار کل ہیں جسے جو چاہیں عطاکردیں ع-
مذکورہ حدیث پاک کی تشریح میں ملا علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں "ﻭﻳﺆﺧﺬ ﻣﻦ ﺇﻃﻼﻗﻪ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺴﻼﻡ اﻷﻣﺮ ﺑﺎﻟﺴﺆاﻝ ﺃﻥ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﻣﻜﻨﻪ ﻣﻦ ﺇﻋﻄﺎء ﻛﻞ ﻣﺎ ﺃﺭاﺩ ﻣﻦ ﺧﺰاﺋﻦ اﻟﺤﻖ، وﺫﻛﺮ اﺑﻦ ﺳﺒﻊ ﻓﻲ ﺧﺼﺎﺋﺼﻪ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﺃﻥ اﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ ﺃﻗﻄﻌﻪ ﺃﺭﺽ اﻟﺠﻨﺔ ﻳﻌﻄﻲ ﻣﻨﻬﺎ ﻣﺎ ﺷﺎء ﻟﻤﻦ ﻳﺸﺎء" ملتقطا(ج٢ص٧٢٣،ش)۔
اور سب کچھ عطا وہی کرسکتاہے جو مختار کل ہو۔
صحیح بخاری میں ایک لمبی حدیث کا آخری حصہ ہے "حضرت ابو بردہ( رضی اللہ عنہ )کھڑے ہوے اور یہ پہلے ہی ذبح کر چکے تھے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)میرے پاس بکری کا چھ ماہہ ایک بچہ ہے فرمایا تم اسے ذبح کر لو اور تمہارے سوا کسی کے لئے چھ ماہہ بچہ کفایت نہیں کرےگا"(کتاب الاضاحی ,ج۳,ص۵۷۱)
معلوم ہوا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احکام تکوینیہ کے ساتھ احکام تشریعیہ کا بھی اختیار رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ کثیر واقعات و روایات کتب حدیث میں موجود ہیں جو اس بات پر واضح دال ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مالک و مختار کل ہیں
ہمارے اکابرین کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مختار ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے استمداد بھی کی مثلا امام مذھب حنفی حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے قصیدہ نعمان میں فرمایا-
یا اکرم الثقلین یا کنزالوری
جدلی بجودک ارضنی برضاک
انا طامع بالجود منک لم یکن
لابی حنیفۃ فی الانام سواک
(ترجمہ) اے موجودات سے اکرم اور نعمت الہی کے خزانے اپنی جود و سخا سے مجھے بھی عطا فرمائے اور اپنی رضا سے مجھے راضی فرمائے
میں آپکی سخاوت کا امیدوار ہوں آپکے سوا ابو حنیفہ کا جہاں میں کوئی نہیں-
امام اعظم کا یہی عقیدہ ہے کہ نبی مختار ہیں جسے جو چاہیں عطا فرما دیتے ہیں اسی وجہ سے آپ نے نبی کریم سے مدد مانگی
اب اگر کوئی کہے مدد مانگنے سے مختار ہونا کہاں ثابت ہوتا ہے تو پھر دنیا میں اس سے بڑھ کر احمق کون کیونکہ مانگا اسی سے جاتا ہے جو عطا کرسکے نہ کہ اس سے جو خود محتاج ہو
اب ہم 'الفضل ما شھدت بہ الاعداء' کے طور پر مخالفین کے چند اقوال ذکر کرتے ہیں
۱ قصائد قاسمی میں مولوی قاسم فرماتے ہیں:
مدد کر اے کرم احمدی کہ تیرے سوا
نہیں ہے قاسم بیکس کاکوئی حامی کار
اس میں مولوی قاسم نے بنی کریم کو مختار کل تسلیم کر کے آپ سے مدد طلب کی-
اسی طرح مولوی محمد حسن ادلہ کاملہ صفحہ ۱۴ پر لکھتے ہیں "آپ اصل میں بعد خدا مالک عالم ہیں جمادات ہوں یا حیوانات بنی آدم ہوں یا غیر بنی آدم القصہ آپ اصل میں مالک ہیں اور یہی وجہ ہے کہ عدل ومہر آپ کے ذمہ واجب الادا نہ تھا"
اس کے علاوہ کثیر اقوال مخالفین اس بات پر دال ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختار کل ہیں جسے جو چاہیں عطا فرمائیں
ان کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے
مالک کل کہلاتے یہ ہیں۔
رب ہے معطی یہ ہیں قاسم
رزق اس کا ہے کھاتے یہ ہیں۔
مزید تفصیل کیلئے امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کی کا رسالہ مبارکہ سلطنت مصطفی فی ملکوت کل الوری ملاحظہ فرمائیں۔
واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
خادم التدریس جامعہ مظہرالعلوم
گرسہاےگنج قنوج یوپی
٣ ستمبر ٢٠١٨
👍2❤1