🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-01-1444 ᴴ | 25-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
26-01-1444 ᴴ | 25-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍1
خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، حضرت علامہ شہاب الدین احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام و نسب:
آپ کے والد نے آپ کا نام احمد کویا رکھا شہاب الدین آپ کا پیارا لقب ہے اور کنیت ابوسعادات ہے آپ بسا اوقات اشعار بھی کہتے تھےاس مناسبت سے، ازہر یہ سے معروف و مقبولِ عام و خاص تھے۔

ولادتِ بابرکت:
آپ کی ولادت قریہ چالیم میں ۲۳؍جمادی الاخریٰ ۱۳۰۲ھ/ ۱۸۸۴ ء کو ہوئی۔

تعلیم و تربیت:
ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے والد صاحب سے حاصل کی مگر درسِ فخری کی بڑی کتابیں آپ نے فقیہِ عصر علامہ چالل اگت کنجی احمد حاجی مسلیار اور یگانہ روزگار صوفیِ باصفا مردِ مجاہد علی مسلیار سے پڑھیں۔بعد میں آپ نے اعلیٰ تعلیم کی غرض سے جامعہ لطیفیہ ویلور شریف میں داخلہ لیا۔

آپ تحصیلِ علمِ فقہِ حنفی کے لیے یوپی بریلی شریف روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے سرکار اعلیٰ حضرت بریلوی سے تمام علوم و فنون کی اجازت حاصل کی،

آپ کو بہ یک وقت سات فقہوں پر مکمل دسترس حاصل تھی۔

بیعت و خلافت:
مکۂ مکرمہ میں حضرت علامہ مفتیِ مکہ محمد حزب الدین سلیمان اعسکی کے ہاتھ سلسلۂ قادریہ میں بیعت ہوتے ہیں،

جیسا کہ پہلے مذکور ہوا کہ آپ نے فاضل بریلوی سے سلسلۂ رضویہ برکاتیہ میں بھی بیعت حاصل کی تھی۔

وصال:
یعنی ۱۳۷۴ھ ۲۷؍محرم بروز یک شنبہ آپ نے اس دارِ فانی کو خیر باد کہہ کر عالمِ بقا کا سفر اختیار کیا اور اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے۔

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-shahabuddin-ahmad
Copyright © Zia-e-Taiba
2👍2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2👍2
حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمتہ اللہ علیہ

نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید اشرف ۔ لقب: جہانگیر ، شاہِ سمنان ۔ آپ کے والد سلطان ابراہیم سمنان کے بادشاہ تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام خدیجہ بیگم تھا ۔ آپ سمنان کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔

ولادت باسعادت:
آپ نے 688ھ، میں اس عالم کو روشنی بخشی۔

ولادت کی پیشن گوئی:
آپ کی ولادت سے قبل حضرت خواجہ احمد یسوی کی روح پاک نے آپ کی والدہ ماجدہ کو مطلع کیا تھا کہ آپ  کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوگا، جو اپنے نورِ ولایت سے دنیا کو روشن کرےگا۔

تعلیم و تربیت:
آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد ماجد کے سایہ عاطفت میں ہوئی۔آپ نےسات سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کیا اور ساتھ ہی ساتھ قرأت بھی سیکھی۔

پھر علوم ظاہری کی طرف توجہ فرمائی۔ چودہ سال کی عمر میں تحصیل علوم ظاہری سے فراغت پائی۔

والد کا وصال:
ابھی آپ علوم ظاہری سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ آپ کے والد ماجد نے داعی اجل کو لبیک کہا۔

تخت نشینی:
والد کے انتقال کے بعد آپ تخت پر بیٹھے اور حکومت سنبھالی۔

بشارت:
آپ حضرت اویس قرنی کی زیارت سے خواب میں مشرف ہوئے۔ انہوں نےآپ کو ذکرِ اویسیہ تعلیم فرمایا

ایک دن حضرت خضر علیہ السلام نے تشریف لا کر آپ سے فرمایا کہ "اگر خدا کی طلب ہے تو دنیا کو چھوڑو، ہندوستان جاؤ اور شیخ علاؤالدین بنگالی سے اپنا حصہ لیں"۔

تخت سے دست برداری:
حضرت خضر علیہ السلام کی نصیحت آپ کی زندگی میں کایا پلٹ کا باعث ہوئی۔ آپ تاج وتخت سے دست بردار ہوئے۔ حکومت سلطان محمود کے سپرد فرمائی اور اپنی والدہ ماجدہ سے اجازت لے کر ہندوستان روانہ ہوئے۔

ہندوستان میں آمد:
اوچ پہنچ کر حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کے روحانی فیوض و برکات سے مستفید و مستفیض ہوئے، پھر دہلی سے بنگال روانہ ہوئے۔

بیعت و خلافت:
حضرت شیخ علاؤالدین بنگالی نے آپ کا شان دار استقبال کیا۔ آپ کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔ اپنے حلقۂ ارادت میں آپ کو داخل کیا۔

جہاں گیر کا لقب:
"جہاں گیر" کے لقب سے آپ کو ممتاز کیا اور خرقہ خلافت سے سر فراز کیا۔

سیرت مبارک:
آپ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔ آپ نے چار خانوادوں سے فیض حاصل کیا۔ آپ علم، عبادت، مجاہدہ، زہد و تقویٰ، حلم، جود و سخا، تحمل اور برد باری میں بے نظیر تھے۔

آپ صاحب کشف و کرامت بزرگ تھے۔
آپ فرماتے ہیں: "جب سالک عقائد و اصطلاح صوفیہ سے واقف ہو گیا تو اس کے لئےضروری ہے کہ زیادہ وقت محفل توحید میں صرف کرے اور مثل بگلے کے بیٹھا رہے ـ

"آپ سے پوچھا گیا کہ بگلے کی طرح بیٹھنے سے کیا مطلب ہے؟ آپ نےجواب دیا۔ "بغیر تلاش کے پانا، بغیر دیکھے ہوئے دیدار ہو جانا" ۔

ایک اور مقام پر آپ فرماتے ہیں:
بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ نوافل پڑھنا خدمت خلق سے بہتر ہے ان کا یہ خیال غلط ہے ۔ کیوں کہ خدمت کا جو اثر قلب پر پڑتا ہے، وہ ظاہر ہے ۔ دونوں کے نتیجے پر نظر کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے، کہ خدمت خلق نوافل پڑھنے سے بہتر ہے"ـ

وصال:
آپ نے 27 محرم 808ھ کو اس جہان فانی سے سفر دار آخرت فرمایا۔

مزار مبارک:
آپ کا مزار پر انوار کچھوچھ میں مرجع خاص و عام ہے۔

مآخذ:
تذکرہ اولیائے پاک و ہند : 125

Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-makhdoom-ashraf-jahangir-simnani
Copyright © Zia-e-Taiba
👍32
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
3👍2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-01-1444 ᴴ | 25-08-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
27-01-1444 ᴴ | 26-08-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
3👍2